Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟

    یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟

    یورپ کے خواب اور موت کے راستے، ذمہ دار کون؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    آج صبح جب ایک نیوز چینل کی ویب سائٹ کھولی تو صفحۂ اول پر ایک دلخراش خبر موجود تھی، جس کے مطابق یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 5 افراد ہلاک ، 40 لاپتہ ہو گئے اور اور 39 کو بچا لیا گیا ، کشتی میں سوار زیادہ تر افراد کا تعلق پاکستان سے تھاجو بہتر زندگی کے خواب دیکھتے ہوئے موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ حادثہ ان المناک کہانیوں کی ایک کڑی ہے جو ہر سال سینکڑوں پاکستانی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیتی ہیں۔

    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے گذشتہ سال بھی اٹلی کے قریب کشتی الٹنے کے المناک حادثے میں 30 سے زائد پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس حادثے کے بعد بھی پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد خطرناک راستے اختیار کرنے سے باز نہیں آئی۔ انسانی اسمگلنگ مافیا کے جھوٹے وعدے اور بہتر مستقبل کی جھوٹی امیدیں نوجوانوں کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہیں جو ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

    پاکستانی نوجوانوں کے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کے رجحان کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے ملک میں بے روزگاری کی شدت ہے۔ معیشت کی سست رفتاری اور روزگار کے محدود مواقع نوجوانوں کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح بہتر زندگی کی تلاش میں نکلیں۔ غربت اور معاشی بدحالی ان کے فیصلے پر مزید دباؤ ڈالتی ہیں کیونکہ خاندان کی کفالت کے لیے وہ کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

    تعلیم اور مہارت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مناسب تعلیم اور ہنر کی عدم موجودگی کی وجہ سے نوجوان قانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے میں ناکام رہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ہنر اور تعلیم کے بغیر کسی بھی ملک میں بہتر زندگی حاصل کرنا ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔

    یورپ کے بارے میں پھیلائے گئے غلط تصورات بھی اس المیہ کی ایک بڑی وجہ ہیں کیونکہ نوجوانوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یورپ میں سب کچھ آسان اور پرتعیش ہے۔ اس خیالی جنت کا خواب دیکھتے ہوئے وہ انسانی اسمگلنگ مافیا کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ اسمگلرز انہیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے انہیں یورپ پہنچا دیں گے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

    معاشرتی دباؤ بھی ان فیصلوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔ خاندان اور معاشرت کی جانب سے زیادہ پیسے کمانے اور معیارِ زندگی بلند کرنے کا دباؤ نوجوانوں کو ان خطرناک راستوں پر چلنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے علاوہ قانونی سفری ذرائع کی مشکلات اور کرپشن نوجوانوں کو غیر قانونی ذرائع اپنانے پر مجبور کرتی ہیں۔

    ملکی نظام پر عدم اعتماد اور سماجی مساوات کی کمی بھی اس مسئلے کو گمبھیر بناتی ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور امیر و غریب کے درمیان فرق نوجوانوں میں مایوسی کو بڑھا دیتا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور امن و امان کی خراب صورتحال نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان کے مسائل کا واحد حل بیرون ملک جانا ہے۔

    اس صورتحال کی شدت کا اندازہ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے حالیہ بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں 18 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صنعتی ترقی صفر فیصد ہے اور بیرونی سرمایہ کاری تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    ان وجوہات کے تدارک کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صنعتی اور تجارتی منصوبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ معیاری تعلیم اور مہارت کے پروگراموں کا انعقاد نوجوانوں کو قانونی طریقے سے آگے بڑھنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔

    قانونی سفری سہولیات کو آسان اور شفاف بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہمات چلائی جانی چاہییں۔ انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ایسے مافیا کے خلاف ایف آئی اے کو مزید متحرک کیا جائے۔

    معاشی مساوات کو فروغ دینے کے لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو اپنے ملک میں ہی بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سیاسی اور سماجی استحکام پر کام کرنا ہوگا۔ یہ سب اقدامات اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہمارے نوجوان اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی جانیں خطرے میں نہ ڈالیں۔

    یہ المناک حادثے اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاس ہیں، یورپ کے ان پرخطر راستوں پر چلنے والے نوجوانوں کے خوابوں کے پیچھے بے روزگاری، غربت اور ناکام حکومتی پالیسیاں ہیں جبکہ انسانی اسمگلنگ مافیا ان کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومت، معاشرہ اور خاندان مل کر اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کریں۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور قانونی مواقع فراہم کیے بغیر ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا ممکن نہیں۔

    اگرحکومت نے اس مسئلے کا حل تلاش نہ کیا تو یہ المیے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو مزید کمزور کریں گے۔ لہٰذا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کے نوجوانوں کے مسائل کو حل کرے اور نوجوانوں کو ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹرک اور گیس ٹینکر کا تصادم، ٹینکر الٹ گیا، گیس لیکیج سے اہلِ علاقہ کو شدید خطرہ

    ڈیرہ غازی خان: ٹرک اور گیس ٹینکر کا تصادم، ٹینکر الٹ گیا، گیس لیکیج سے اہلِ علاقہ کو شدید خطرہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی) ٹرک اور گیس ٹینکر کا تصادم، ٹینکر الٹ گیا، گیس لیکیج سے اہلِ علاقہ کو شدید خطرہ

    تفصیل کے مطابق پاکستان چوک گیدڑ والا شوریہ بائی پاس روڈ پر بستی ہبتانی اور بستی سرکانی کے قریب افسوس ناک حادثہ پیش آیا، جس میں گیس سے بھرا ٹینکر اور ٹرک آپس میں ٹکرا گئے۔ تصادم کے نتیجے میں ٹرک اور ٹینکر دونوں الٹ گئے، جبکہ گیس لیکج نے آس پاس کی آبادیوں کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق بستی ہبتانی اور بستی سرکانی کے رہائشیوں کو آگ جلانے سے منع کر دیا گیا ہے، تاہم بجلی کی بحالی نہ ہونے سے کسی بھی وقت چنگاری اٹھنے کا خطرہ موجود ہے جو قیمتی جانوں کے ضیاع اور کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

    اہلِ علاقہ نے انتظامیہ کی نااہلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بستی ہبتانی، بستی سرکانی اور دیگر قریبی علاقوں کے بجلی کنکشن فوری طور پر منقطع کیے جائیں اور ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے اور فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

  • گوجرہ: ماسٹر ہاکی ورلڈ کپ 2024ء میں الائنس انٹرنیشنل ٹیم نے سلور میڈل جیتا

    گوجرہ: ماسٹر ہاکی ورلڈ کپ 2024ء میں الائنس انٹرنیشنل ٹیم نے سلور میڈل جیتا

    گوجرہ (نامہ نگار باغی ٹی وی عبد الرحمن جٹ) ماسٹر ہاکی ورلڈ کپ 2024ء، الائنس انٹرنیشنل ٹیم کا شاندار کھیل، سلور میڈل حاصل

    نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں منعقدہ ماسٹر ہاکی ورلڈ کپ 2024ء کے فائنل میں آسٹریلیا نے الائنس انٹرنیشنل ہاکی ٹیم (مین 45 آئی ایم سی) کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا، جبکہ الائنس انٹرنیشنل ٹیم نے سلور میڈل جیت کر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    الائنس انٹرنیشنل ٹیم کے کپتان رانا محمد نواز اور دیگر کھلاڑیوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ ٹیم کی کوچنگ عالمی شہرت یافتہ سابق کپتان شہباز احمد کے ذمہ تھی۔

    رانا محمد نواز نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ماسٹر ہاکی ورلڈ کپ کے دوران ٹیم نے بھرپور محنت اور لگن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا:
    "یہ ہمارے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہم فائنل میں پہنچے اور سلور میڈل حاصل کیا۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی ہے، لیکن ہماری کارکردگی تسلی بخش رہی اور ہم دوسری پوزیشن پر فخر محسوس کرتے ہیں۔”

    الائنس انٹرنیشنل ٹیم کی اس کارکردگی نے نہ صرف ہاکی کے کھیل میں پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ ثابت کیا کہ ہاکی کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔

  • ننکانہ : بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کا اہم کردار، ICAD پر میڈیا بریفنگ

    ننکانہ : بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کا اہم کردار، ICAD پر میڈیا بریفنگ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) سنٹر فار پیس ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور سانجھ پریت آرگنائزیشن کے زیر اہتمام عالمی یوم انسداد بدعنوانی کے سلسلے میں ایک میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی صحافیوں کو بدعنوانی کے خلاف اقدامات، نوجوانوں کے کردار، اور عالمی معیارات پر روشنی ڈالی گئی۔

    عالمی یوم انسداد بدعنوانی ہر سال 9 دسمبر کو منایا جاتا ہے، اور اس سال کا موضوع "نوجوانوں کے ساتھ بدعنوانی کے خلاف اتحاد: مستقبل کی دیانت کی تشکیل” تھا۔ اس کا مقصد بدعنوانی کے خاتمے اور دیانتداری کو فروغ دینے میں نوجوانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

    پاکستان کی پیش رفت اور چیلنجز
    پاکستان نے بدعنوانی کے خلاف اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے حالیہ سالوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس (CPI) میں پاکستان کی درجہ بندی 2022 میں 140 ویں سے بہتر ہو کر 2023 میں 133 ویں ہو گئی ہے، جبکہ سی پی آئی اسکور 27 سے بڑھ کر 29 ہو چکا ہے۔

    جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن بھارت، نیپال اور بھوٹان سے کمزور، مگر افغانستان سے بہتر ہے۔ پاکستان میں عوامی شعبے کی بدعنوانی کے خلاف مختلف قوانین نافذ ہیں، جن میں انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 اور قومی احتساب آرڈیننس (NAO) شامل ہیں۔ حالیہ ترامیم کے تحت نیب کے دائرہ کار کو بڑے مقدمات تک محدود کر دیا گیا ہے، جن کی مالیت 50 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو۔

    بدعنوانی کے خلاف قومی اقدامات
    پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے قومی و صوبائی ادارے متحرک ہیں، جو بدعنوانی کی روک تھام اور عوامی اہلکاروں کی جوابدہی کے لیے سرگرم ہیں۔ ان میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے انسداد بدعنوانی ادارے شامل ہیں۔

    بدعنوانی کا خاتمہ: ایک اجتماعی ذمہ داری
    میڈیا بریفنگ میں مقررین نے زور دیا کہ بدعنوانی کا خاتمہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے عوامی شعور اور اجتماعی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ معلومات تک رسائی کے قوانین، مضبوط بلدیاتی حکومتوں، اور شفاف گورننس کے ذریعے بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ممکن ہے۔

    میڈیا کا کردار اور نوجوانوں کی اہمیت
    میڈیا کو بدعنوانی کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیار قرار دیتے ہوئے شفافیت کو فروغ دینے اور عوامی شعور بیدار کرنے پر زور دیا گیا۔ نوجوانوں کو بدعنوانی کے خلاف جدوجہد میں شامل کرنے اور ان کے کردار کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی بات کی گئی۔

    عالمی یوم انسداد بدعنوانی پر یہ عزم دہرایا گیا کہ پاکستان کو دیانت اور شفافیت پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔

  • سیالکوٹ: مستحق خاندانوں کی رجسٹریشن کیلئے خصوصی ڈیسک قائم

    سیالکوٹ: مستحق خاندانوں کی رجسٹریشن کیلئے خصوصی ڈیسک قائم

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( بیورو چیف شاہد ریاض) مستحق خاندانوں کی رجسٹریشن کیلئے خصوصی ڈیسک قائم

    ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری کے تحت ضلع سیالکوٹ کے مستحق خاندانوں کی رجسٹریشن یونین کونسل کی سطح پر کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ضلع کی تمام یونین کونسلز، ضلع کونسلز، اور میونسپل کارپوریشن کے دفاتر میں رجسٹریشن ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔

    یہ ڈیسک پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری کی خصوصی ایپ کے ذریعے مستحق خاندانوں کا ڈیٹا مرتب کریں گے، جس کی بدولت عوامی ریلیف کے لیے شفاف اور موثر منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق، اس اقدام سے حقیقی مستحقین تک حکومتی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

    یہ بات انہوں نے یونین کونسل ماڈل ٹاؤن سیالکوٹ میں منعقدہ اجلاس کے دوران کہی، جہاں ضلع بھر کے 178 رجسٹریشن ملازمین کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عمر امجد بیگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالجلیل بھٹہ، اور اسسٹنٹ محمد ارشد بھی موجود تھے۔

    قبل ازیں، ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے سیالکوٹ پبلک سکول پسرور روڈ پر منعقدہ فاؤنڈر ڈے کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے مختلف ہاؤسز کی پریڈ کا معائنہ کیا اور ننھے طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے ملی نغموں اور رنگا رنگ ٹیبلو کی پرفارمنس کو سراہا۔

    ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ مستحق خاندانوں کے لیے رجسٹریشن عمل کو صاف، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے تمام محکمے بھرپور تعاون کریں تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • فرینڈز آف پولیس

    فرینڈز آف پولیس

    فرینڈز آف پولیس
    تحریر: ملک امان شجاع

    صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ صوبائی حکومت نے محکمہ پولیس اور عوام کے درمیان بہتر تعلقات کے فروغ اور پولیس قوانین کی آگاہی کے لیے "فرینڈز آف پولیس” پروگرام کا اجراء کیا ہے، جس کے تحت پڑھے لکھے نوجوانوں کو پولیس قوانین و دیگر عوامل سے متعلق جامع تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں پنجاب پولیس کا مثبت چہرہ پیش کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پولیس پنجاب کے ویژن کو ڈی پی او اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان عملی جامہ پہناتے نظر آتے ہیں۔

    ان کی قیادت میں ڈی پی او آفس اٹک میں "فرینڈز آف پولیس” پروگرام کے تحت ٹریننگ کے متعدد سیشن مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ٹریننگ کے بعد تربیتی سرٹیفکیٹ فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ تربیت یافتہ نوجوان محکمہ پولیس کے دست و بازو بن کر مستقبل میں معاشرے کے لیے بہتر خدمات انجام دیں گے اور محکمہ پولیس کے معاون کا کردار ادا کریں گے۔

    گزشتہ دنوں بھی ڈی پی او اٹک کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں "فرینڈز آف پولیس سیمینار” کا انعقاد کیا گیا، جس میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج اٹک کے سٹاف، طلباء اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔ سینئر پروفیسر ملک ماجد خان کی قیادت میں طلبہ و طالبات نے سیمینار میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے قانونی معاملات، پولیسنگ میں استعمال ہونے والی جدید ایپس اور ٹیکنالوجی، کمیونٹی پولیسنگ، اور پولیس کی جانب سے عوام و الناس کو دی جانے والی سہولیات کے متعلق مؤثر معلومات حاصل کیں۔

    طلبہ و طالبات کو اقلیتوں، خواتین اور ٹرانس جینڈر کے حقوق کی پاسداری کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین سے آگاہی کے لیکچرز بھی دیے گئے اور سیف سٹی اٹک کا دورہ بھی کروایا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک، ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے تمام امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "فرینڈز آف پولیس” کا مقصد پولیسنگ کو سمجھنا اور اس سے آگاہی حاصل کرکے فائدہ اٹھانا ہے۔ آپ لوگ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پولیس کے مثبت امیج کو اجاگر کرکے عوام دوست ماحول قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر ڈی پی او اٹک نے امیدواروں کو "فرینڈز آف پولیس” کے بیجز لگائے اور ٹریننگ سرٹیفکیٹ بھی دیے۔ ڈی پی او اٹک نے اس موقع پر کہا کہ شہری اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محکمہ پولیس سے تعاون کریں تو جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

  • مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں

    آرمی چیف کا پیغام قوم کے نام…
    Never Ever Lose Hope (مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں)
    تحریر:شاہد نسیم چوہدری
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا یہ پیغام کہ "مایوسی گناہ ہے، امید کو زندہ رکھیں” نہ صرف موجودہ حالات میں قوم کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور ہماری قومی تاریخ کے مطابق بھی ایک اہم پیغام ہے۔ یہ پیغام قوم کے لیے روشنی کی کرن ہے، جو مشکل حالات میں اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔

    مایوسی ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے اندر موجود قوتِ عمل کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی ذاتی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر پوری قوم کو کمزور کر سکتی ہے۔ جب ایک قوم کے افراد مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ ترقی، اتحاد اور قربانی کے جذبے سے محروم ہو جاتے ہیں۔

    امید انسان کے اندر وہ طاقت پیدا کرتی ہے جو اسے مشکل سے مشکل حالات کا سامنا کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔ امید نہ صرف ذہنی سکون کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ انسان کو نئے مواقع تلاش کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر بھی مائل کرتی ہے۔

    اسلام میں امید کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ امید رکھو اور اس کے فضل کے طالب رہو۔”

    آج کے دور میں ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف سے منفی خبریں اور مایوسی کے پیغام سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اسلام میں گناہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کریں۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں تمہیں اپنے کیے پر ندامت ہو۔”
    (سورہ الحجرات: 6)
    یہ آیت ہمیں ایک سبق دیتی ہے کہ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں اور ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر بات کریں۔

    آرمی چیف سید عاصم منیر نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ
    آج پاکستان کو اتحاد کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاست اور اختلافات کے ذریعے تقسیم ہونے کی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اختلافِ رائے ضرور ہو سکتا ہے لیکن یہ اختلاف نفرت کا باعث نہ بنے۔ ہمیں اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

    پاکستانی عوام کو بچانے کے لیے ہمیں اپنے دلوں میں محبت اور قوم کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے اور اپنے کردار کے ذریعے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھے۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آزادیٔ اظہار کو قواعد و ضوابط کا پابند کیے بغیر استعمال کرنا معاشرتی اخلاقیات کی گراوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد صرف آزادی ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی ہے۔

    آزادیٔ اظہار ایک قیمتی نعمت ہے لیکن اگر اسے حدود اور اصولوں کے دائرے میں نہ رکھا جائے تو یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں۔

    آئیے، ہم سب مل کر اپنی اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو مضبوط کریں اور اپنی آزادیٔ اظہار کو معاشرے کی بہتری اور فلاح کے لیے استعمال کریں۔ یہی ایک مہذب اور پرامن معاشرے کی حقیقی پہچان ہے۔

    پاک فوج اپنے فرض پر پورا اُترتی ہے۔ پاک فوج قوم نے اس ملک کو مزید محفوظ بنانا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے۔ نوجوانوں کی انتھک محنت رنگ لائے گی اور پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگا۔

    پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں اپنے حوصلے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ 1965 کی جنگ میں، جب دشمن نے ہم پر حملہ کیا تو پوری قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ اسی طرح 2008 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب کے دوران عوام نے جس طرح مشکل حالات کا سامنا کیا وہ ہماری امید اور اتحاد کی بہترین مثالیں ہیں۔

    یہی امید کا جذبہ ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی کی جدوجہد میں بھی نظر آتا ہے۔ قائداعظم نے ہمیشہ قوم کو یقین دلایا کہ مسلمان ایک عظیم قوم ہیں اور انہیں اپنی منزل حاصل کرنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، نوجوان نسل کو تعلیم اور ترقی کی طرف راغب کریں اور اپنی قوت کو مثبت سمت میں استعمال کریں۔ آرمی چیف کے پیغام کو سمجھنے اور اپنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود کو اور اپنے ملک کو ایک بہتر مستقبل کے لیے تیار کریں۔

    مایوسی کے اندھیروں کو امید کی روشنی سے بدلیں، کیونکہ ہماری کوششیں ہی اس ملک کو کامیاب بنائیں گی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

  • سیالکوٹ: محمد منشاء اللہ بٹ کا یونین کونسل پکاگڑھا کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    سیالکوٹ: محمد منشاء اللہ بٹ کا یونین کونسل پکاگڑھا کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض) محمد منشاء اللہ بٹ کا یونین کونسل پکاگڑھا کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    تفصیل کے مطابق سیالکوٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے اپنے حلقہ انتخاب یونین کونسل پکاگڑھا کا دورہ کیا اور بونکن روڈ پر ٹف ٹائلز لگانے کے منصوبے کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سابق یوسی چیئرمین عمر بٹ، عبدالحمید قاسم، میونسپل کارپوریشن اور پنجاب انٹرسٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے مقامی حکام بھی موجود تھے۔

    رکن صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ نے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز پر اہل علاقہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی سیاست کا مقصد خلق خدا کی خدمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کا منشور عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔

    انہوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نے مشکل حالات کے باوجود ترقیاتی فنڈز فراہم کرکے مسلم لیگ ن کی خدمت کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی عوام کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں مریم نواز جیسی باصلاحیت وزیر اعلی ملی ہیں، جو دن رات عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    محمد منشاء اللہ بٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار کو یقینی بنایا جائے گا اور ہر پیسہ ایمانداری اور کفایت شعاری سے خرچ کیا جائے گا۔

  • میہڑ: دریائے سندھ سے 6 نہریں نکالنے کے خلاف سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا پیدل مارچ

    میہڑ: دریائے سندھ سے 6 نہریں نکالنے کے خلاف سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا پیدل مارچ

    میہڑ،باغی ٹی وی(نامہ نگار منظور علی جوئیہ) دریائے سندھ سے 6 نہریں نکالنے کے خلاف سندھ یونائیٹڈ پارٹی کا پیدل مارچ

    تفصیل کے مطابق میہڑ میں دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے سکندر سوڈھر کی قیادت میں پیدل مارچ کیا۔ مارچ کا آغاز میہڑ بائی پاس سے ہوا، جہاں سے مظاہرین 2 کلومیٹر پیدل چل کر مین گھنٹہ گھر چوک پر پہنچے۔

    مظاہرین نے سخت نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کو بنجر بنانے کی سازش ہے، جسے سندھ کی عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس منصوبے کو ختم کیا جائے تاکہ سندھ کے آبی وسائل کی حفاظت کی جا سکے۔

  • 16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی

    16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی

    16 دسمبر: سانحہ اے پی ایس کی دسویں برسی
    ضیاء الحق سرحدی، پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    پاکستان کی 76 سالہ تاریخ مختلف حادثات و سانحات سے بھری ہوئی ہے، لیکن کچھ واقعات ایسے ہیں جو ہم شاید کبھی نہ بھول سکیں۔ 16 دسمبر کا دن بھی انہی واقعات میں سے ایک ہے۔ جہاں ایک طرف 1971ء میں پاکستان کے دو لخت ہونے کا غم منایا جاتا ہے، وہیں سال 2014ء میں اسی روز ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

    16 دسمبر 2014ء کی صبح خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے طلبہ اور اساتذہ کو یرغمال بنانے کے بعد فائرنگ کرکے 140 سے زائد افراد کو شہید کر دیا۔ اس واقعے کے بعد پاک فوج نے جاری آپریشن ضرب عضب کو مزید تیز کر دیا۔

    اسی دوران اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کا اعلان کیا، جس پر تمام پارلیمانی جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد عمل درآمد شروع ہوا۔ حکومت نے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کیں اور سزائے موت پر عائد غیر اعلانیہ پابندی بھی ہٹا دی۔

    سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انصاف کے متلاشی شہدا کے لواحقین کا مطالبہ تھا کہ ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے سانحے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا، جس کے تحت 2018ء میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا گیا۔ کمیشن نے 2020ء میں اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی، جو 3 ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔

    سانحہ اے پی ایس کو دنیا کے بدترین دہشت گرد حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں 133 ننھے معصوم بچے شہید ہوئے جبکہ اسکول کی پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت عملے کے 9 ارکان بھی جان کی بازی ہار گئے۔

    یہ سانحہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے دل پر ایک گہرا زخم ہے، جس نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں، والدین کے لخت جگر چھین لیے اور کئی بہنوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے بھائیوں سے محروم کر دیا۔ یہ وہ دن ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    آرمی پبلک اسکول کے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نام سے صوبے کے 127 سرکاری اسکول اور پشاور کی کئی شاہراہیں منسوب کی گئیں۔ سانحہ کے مجرموں کو بھی انجام تک پہنچایا گیا، جنہیں فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی۔

    ہمیں یہ یقین ہے کہ ہمارے مسلح افواج اور موجودہ قیادت اس ملک کو دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے ہمیشہ محفوظ رکھیں گی۔ سانحہ اے پی ایس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر سال تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔

    "اگر ہے جذبہ تعمیر زندہ تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے”!