Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوچ شریف: انڈوں کی قیمتیں آسمان پر، مصنوعی قلت سے عوام پریشان

    اوچ شریف: انڈوں کی قیمتیں آسمان پر، مصنوعی قلت سے عوام پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) فارمی انڈوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ سرکاری ریٹ 322 روپے فی درجن مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں انڈے 30 سے 35 روپے فی انڈہ کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ اسٹاک مافیا نے وئیر ہاؤسز اور گوداموں میں انڈے ذخیرہ کر رکھے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی انڈوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں محمد عابد، شیر احمد، علی رضا اور دیگر نے بتایا کہ مہنگائی کی وجہ سے روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، سرمایہ داروں نے انڈوں کی پیٹیاں بڑی مقدار میں اسٹاک کر لی ہیں تاکہ مزید سردی میں مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانی قیمتوں پر فروخت کر سکیں۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی امید معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ، اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سرکاری نرخوں کے مطابق انڈوں کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے اور عوام کو لوٹ مار سے بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: چکن سوپ کے نام پر زہر فروخت، فوڈ اتھارٹی خاموش

    اوچ شریف: چکن سوپ کے نام پر زہر فروخت، فوڈ اتھارٹی خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) چکن سوپ کے نام پر برائلر مرغیوں کے پنجوں اور مضر صحت اجزاء سے تیار شدہ مصالحہ دار پانی عوام کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ شہریوں نے محکمہ صحت اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی غفلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی شہر بھر میں جگہ جگہ چکن سوپ کی ریڑھیاں لگ گئی ہیں، جن پر غیر معیاری اور مضر صحت اجزاء سے تیار کردہ سوپ فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سوپ میں اجینو موتو اور دیگر خطرناک کیمیکلز شامل کیے جاتے ہیں، جو فوری طور پر پیٹ اور دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

    مزید یہ کہ باسی مچھلیوں اور خشک میوہ جات کو تازہ ظاہر کرکے فروخت کیا جا رہا ہے، جو عوام کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی ہے۔ شہریوں محمد عابد، محمد عامر، یونس ارشاد، اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں چند نمائشی کارروائیوں کے بعد خاموش ہیں اور صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہیں۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی فوری ایکشن لے اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے تاکہ عوام کی صحت کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

  • سیاکوٹ: تعلیم و تربیت بہترین معاشرے کی بنیاد ہے: چوہدری سلیم یونس چیمہ

    سیاکوٹ: تعلیم و تربیت بہترین معاشرے کی بنیاد ہے: چوہدری سلیم یونس چیمہ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض) تعلیم و تربیت بہترین معاشرے کی بنیاد ہے: چوہدری سلیم یونس چیمہ

    پنجاب میں معیاری تعلیم فراہم کرنے والے ادارے اینجلز گروپ آف اسکول سسٹم ڈسکہ کے چیئرمین چوہدری سلیم یونس چیمہ نے کہا ہے کہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے افراد کی تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں کیا۔

    چوہدری سلیم یونس چیمہ کا کہنا تھا کہ تعلیم و تربیت اس نہج پر کی جانی چاہیے کہ افراد حاصل کردہ علم کو معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے استعمال کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ اور والدین کی مشترکہ محنت سے ایسے افراد تیار کیے جا سکتے ہیں جو ایک بہتر اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکیں۔

  • سیالکوٹ: برتن واپس کرنے پر جھگڑا، دکاندار کا بیٹا فائرنگ سے زخمی

    سیالکوٹ: برتن واپس کرنے پر جھگڑا، دکاندار کا بیٹا فائرنگ سے زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو یف شاہد ریاض) برتن واپس کرنے پر جھگڑا، دکاندار کا بیٹا فائرنگ سے زخمی

    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کے گنجان آباد علاقے بیری والا چوک میں برتن واپس کرنے کے تنازع پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں دکاندار کا بیٹا شدید زخمی ہو گیا۔

    موٹرسائیکل پر سوار دو افراد چند دن قبل دکان سے خریدے گئے برتن واپس کرنے آئے، جس پر دکاندار سے تلخ کلامی ہوگئی۔ جھگڑے کے دوران ایک گاہک نے پستول نکال کر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دکاندار کا بیٹا دانیال شدید زخمی ہوگیا۔

    فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں واقعہ کی سنگینی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس تھانہ کوتوالی نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • ٹھٹھہ: فش فارم مالکان کو سرکاری فیس کی وصولی کے نوٹسز جاری

    ٹھٹھہ: فش فارم مالکان کو سرکاری فیس کی وصولی کے نوٹسز جاری

    ٹھٹھہ، باغی ٹی وی (نامہ نگار بلاول سموں) فش فارم مالکان کو سرکاری فیس کی وصولی کے نوٹسز جاری

    تفصیلات کے مطابق محکمہ جنگلات ٹھٹھہ نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے گاڑھکو فاریسٹ رینج میں فش فارم مالکان کو ٹیکس اور لیز فیس کے نوٹسز جاری کر دیے۔

    گاڑھکو فاریسٹ رینج کی سرکاری زمین پر مچھلی کے تالاب چلانے والے فارمرز کو سرکاری فیس کی ادائیگی کے لیے فاریسٹر رحمت اللہ خشک کی جانب سے نوٹسز بھیجے گئے ہیں۔

    صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رحمت اللہ خشک نے کہا کہ جو فارمرز فیس جمع نہیں کروائیں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کے فش پانڈز خالی کروا دیے جائیں گے۔

    محکمہ جنگلات نے گھوڑا باڑی تھانہ کے حدود میں موجود قبضہ شدہ فش پانڈز خالی کروانے کے لیے بھی متعلقہ حکام کو خطوط جمع کروائے ہیں۔

  • انقلاب شام مثل پاکستان

    انقلاب شام مثل پاکستان

    انقلاب شام مثل پاکستان
    از قلم: غنی محمود قصوری

    اس وقت ارضِ انبیاء مملکتِ شام مکمل طور پر بشار الاسد کے قبضے سے نکل کر اپوزیشن کے عسکری ونگز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اسی باعث کچھ لوگ بڑے وثوق اور جوش سے مملکتِ شام کی مثال دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی شام جیسا انقلاب آنے والا ہے۔ ان لوگوں کا خالص مقصد صرف اپنی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا ہے۔

    یہ بات بظاہر کہنے میں بہت آسان اور سادہ لگتی ہے مگر حقیقت میں ایسا ہونا اللہ کے فضل سے ناممکن ہے۔ اس موضوع پر مزید بات کرنے سے پہلے مملکتِ شام کا تعارف ضروری ہے تاکہ شام اور پاکستان کا تقابل بہتر طور پر کیا جا سکے۔

    ارضِ شام میں 80 فیصد عرب، 10 فیصد کرد اور 10 فیصد دیگر اقوام آباد ہیں۔ ان میں سے 87 فیصد مسلمان ہیں، جن میں 74 فیصد اہلِ سنت اور 13 فیصد اہلِ تشیع شامل ہیں۔ باقی 10 فیصد عیسائی اور 3 فیصد دروز مذہب کے پیروکار ہیں۔

    مملکتِ شام جسے عربی میں السوریا کہا جاتا ہے، 1920 سے 1946 تک فرانس کے قبضے میں رہا۔ بعدازاں 1961 میں بعث پارٹی کے زیرِ اقتدار آ گیا اور 8 دسمبر 2024 تک بعث پارٹی کا تسلط برقرار رہا۔ یعنی 63 سال تک صرف ایک جماعت نے حکومت کی۔

    معزول صدر بشار الاسد جو بعث پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں نے 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا۔بشار الاسد اور اُن کے والد اہلِ تشیع مسلک کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے دورِ حکومت میں اپنے مسلک کے لوگوں کو ترجیح دی گئی۔ بعث پارٹی نے طاقت کے زور پر اپنا اقتدار قائم رکھا۔

    اس عرصے میں حکومت نے مخالف مسالک کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کا سختی سے خاتمہ کیا مگر روس اور دیگر ممالک کی حمایت کے باعث حکومت قائم رہی۔ بعث پارٹی کے دور میں شامی عوام کو نہ کوئی معاشی ترقی نصیب ہوئی اور نہ ہی ان کی زندگیوں میں فرانس کے راج کے مقابلے میں کوئی بہتری آئی۔

    بشار الاسد کے دور میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف قتل و غارت کا بازار گرم رہا۔ ریڈ زون جیلیں قائم کی گئیں، جہاں مخالفین کو قید کرکے موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا۔ اجتماعی قبریں میڈیا پر دکھائی گئیں، جہاں سینکڑوں افراد کو دفنایا گیا۔ یہ سب کچھ دیکھنا اور لکھنا تو آسان ہے، لیکن حقیقت میں یہ بہت تکلیف دہ تھا۔

    جو لوگ پاکستان میں شام جیسی صورتحال کی بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مملکتِ شام میں حقوق المسالک کی لڑائی ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں تمام مسالک آزاد ہیں۔ پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں ہر مسلک کے لوگ موجود ہیں۔ مذہبی جماعتیں بھی اپنے اجتماعات اور پروگرامز میں آزاد ہیں۔

    پاکستان میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں جن میں تمام جماعتیں حصہ لیتی ہیں۔ اس کے برعکس شام میں ایک ہی پارٹی کا تسلط تھا۔ پاکستان میں فوج اور حکومت میں بھی ہر مسلک کے لوگ اعلیٰ سے ادنیٰ عہدوں پر فائز ہیں جبکہ غیر مسلم اقلیتیں بھی اپنی عبادات اور سرکاری عہدوں میں محدود سطح پر موجود ہیں۔

    جو لوگ پاکستان میں شام جیسا انقلاب دیکھنے کے خواہاں ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے انفرادی اور مسلکی حقوق کو دیکھیں۔ پاکستان میں ہر جماعت کو آزادی حاصل ہے اور کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کسی چیز سے محروم نہیں۔ یہاں الیکشن ہارنے والا دھاندلی کا الزام لگاتا ہے اور جیتنے پر اسی نظام کو آئیڈیل قرار دیتا ہے۔

    نتیجے کے طور پر پاکستان میں شام جیسے حالات نہ پہلے تھے نہ ہیں اور ان شاء اللہ کبھی ہوں گے بھی نہیں۔ ہاں کچھ عناصر اس قسم کی کوششیں ضرور کرتے ہیں مگر رب کے فضل سے یہ ممکن نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ مستقبل کیا لے کر آئے گا لیکن ماضی اور حال گواہ ہیں کہ پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہیں اور یہاں انارکی پھیلانے کا کوئی جواز نہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: ریلوے اراضی پر فرضی بولیوں کے ذریعے کرپشن کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: ریلوے اراضی پر فرضی بولیوں کے ذریعے کرپشن کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) ریلوے اراضی پر فرضی بولیوں کے ذریعے کرپشن کا انکشاف،ریلوے افسران کی ملی بھگت سے زمینوں پر غیر قانونی قبضے کا سلسلہ جاری،بولی کے نام پر رشوت اور کمیشن کا دھندہ جاری،زمینداروں کا افسران پر شفافیت کے فقدان کا الزام،فرضی بولیوں میں من پسند افراد کو نوازگیا،متاثرین کا وزیراعظم اور نیب سے کرپشن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ،سرکاری زمین پر قبضے ختم کروا کر قومی خزانے میں رقوم جمع کرانے کا مطالبہ،ریلوے زمین کی بندر بانٹ روکنے، شفافیت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی اپیل،ریلوے افسران کی مبینہ کرپشن پر زمینداروں کا احتجاج، ریلوے زمین پر کرپشن کے خلاف عوام کا آواز بلند کرنے کا عزم

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں ریلوے میں فصلوں کے لیے سرکاری اراضی پر پہلے سے کاشت شدہ رقبوں پر قبضے دینے کے لیے فرضی بولی کا انعقاد کیا گیا۔ محکمہ ریلوے کے ڈی این ریحان نے سابقہ ای این شفیق کے ایڈیشنل چارج کے دوران آئی او ڈبلیو مبشر رحمان کی ملی بھگت سے کئی ایکڑ زمین مقامی زمینداروں کو بھاری کمیشن اور رشوت کے عوض بغیر لیز کے کاشت کے لیے دی ہوئی تھی۔

    ای این ریلوے شفیق نے فرضی کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس ریلوے یوسف لغاری کے احکامات پر زمین واگزار کروانے کا ڈرامہ رچایا۔ اس دوران گندم کی کھڑی فصل کو بیلداروں کے ذریعے تباہ کروایا گیا اور چند رسمی کارروائیاں کرکے زمین کو علامتی طور پر واگزار کروایا گیا، مگر بعد میں یہ افسران رفوچکر ہو گئے۔

    اب سروال نامی افسر، جو سیکشن پر تعینات ہیں، ای این ریلوے کی ملی بھگت سے 10 دسمبر 2024 کو ایک اور فرضی بولی منعقد کر رہے ہیں، جس کے ذریعے پہلے سے کاشت شدہ زمین کو فرنٹ مینوں اور من پسند زمینداروں کو الاٹ کرنے کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔

    کچھ زمینداروں نے انکشاف کیا کہ اس سے پہلے بھی بولی کا ڈرامہ کیا گیا تھا، جس میں بنک سی ڈی آرز کی رقم آئی او ڈبلیو مبشر رحمان نے ہڑپ کر لی اور رقم واپس نہیں کی گئی۔

    آج کی بولی کے دوران موجود افسران کا کہنا تھا کہ بولی قانون کے مطابق ہو رہی ہے اور شکایات درج کرنے کی صورت میں میرٹ پر کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، بولی میں شامل افراد نے اعتراض کیا کہ بولی کے ریٹس انہیں پہلے سے نہیں بتائے گئے۔ ریٹس اوپن ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی پہنچ سے باہر ہیں۔

    متاثرین نے الزام لگایا کہ بولی کے دوران ان کے ریٹس بھرنے کے بعد انہیں کہا گیا کہ چند دنوں میں فون پر اطلاع دی جائے گی، جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔ اسی دوران ای این ریلوے من پسند افراد کو کامیابی کی مبارکباد دیتا رہا۔

    کچھ افراد نے بولی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ ریٹس چھپائے گئے تھے اور بولی کے لیے جمع کروائی گئی سی ڈی آرز کے بعد ریٹس ظاہر کیے گئے۔ ان افراد نے مطالبہ کیا کہ یہ بولی منسوخ کی جائے اور شفاف طریقے سے دوبارہ منعقد کی جائے۔

    متاثرین نے وزیراعظم شہباز شریف، ڈی جی نیب، اور ڈی جی ایف آئی اے سے اپیل کی کہ محکمہ ریلوے میں جاری بدعنوانی کا نوٹس لیا جائے اور ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری زمینوں کو واگزار کروا کر قومی خزانے میں رقم جمع کروائی جائے اور کرپشن میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ملک کو فائدہ ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

  • ٹھٹھہ: کرپشن کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے سخت اقدامات کا مطالبہ

    ٹھٹھہ: کرپشن کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے سخت اقدامات کا مطالبہ

    ٹھٹھہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار بلاول سموں) سندھ سجاگ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر ابراہیم ہیجب نے عوامی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے فوری اور سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سماجی تنظیم CPD (سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹو) کے ساتھ مل کر کرپشن کے خلاف کام جاری ہے۔ ابراہیم ہیجب نے اس موقع پر عالمی یوم انسدادِ بدعنوانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف سرکاری محکموں میں بغیر رشوت قانونی کام کو یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ ٹھٹھہ میں کرپشن کے مکمل خاتمے کو یقینی بناتے ہوئے سرکاری محکموں میں شفافیت لائی جائے۔ اس موقع پر ضمیر سولنگی اور شبیر سموں بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

  • سیالکوٹ: کرسمس کے موقع پر غیر قانونی شراب اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ: کرسمس کے موقع پر غیر قانونی شراب اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض) کرسمس کے موقع پر غیر قانونی شراب اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    تفصیل کے مطابق تھانہ کینٹ اور تھانہ اگوکی پولیس نے کرسمس کے موقع پر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے شراب اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔

    تھانہ کینٹ پولیس نے کرسمس کے موقع پر سپلائی کی جانے والی 125 بوتل ولائتی شراب برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایچ او کینٹ نے واضح کیا کہ شراب کی سپلائی اور کشید کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب تھانہ اگوکی پولیس نے ڈی پی او سیالکوٹ عمر فاروق کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے تین بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی۔ ڈی پی او کی ہدایت پر علاقے میں منشیات کے دھندے کے خاتمے کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

    شہریوں نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پولیس کے یہ اقدامات علاقے کو جرائم سے پاک کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

  • سیالکوٹ: گیس لوڈشیڈنگ سے شہری مشکلات کا شکار

    سیالکوٹ: گیس لوڈشیڈنگ سے شہری مشکلات کا شکار

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض) گھوئینکی اور گردونواح کے شہری گیس لوڈشیڈنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ سردیوں میں گیس کی بندش کے باعث گھریلو امور متاثر ہو رہے ہیں، اور لوگ لکڑیوں یا مہنگے گیس سلینڈرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

    شہریوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ اور سیاستدانوں کی جانب سے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ ہر سال سردیوں میں احتجاج کے بعد عارضی طور پر گیس کا دباؤ بڑھا دیا جاتا ہے، لیکن کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں گیس کی کمی کا مسئلہ نظرانداز ہو جاتا ہے اور یہی سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔ عوام نے منتخب نمائندوں سے گیس بحران کا مستقل حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن افسوس کہ عوامی مشکلات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔