Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرہ: چوری و ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں پر تاجروں کا ایس ایچ او کے تبادلے کا مطالبہ

    گوجرہ: چوری و ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں پر تاجروں کا ایس ایچ او کے تبادلے کا مطالبہ

    گوجرہ (نامہ نگار ،عبدالرحمن جٹ کی رپورٹ) جنرل سیکرٹری انجمن تاجران شیخ امجد ضیا نے پولیس کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے تھانہ سٹی گوجرہ کے ایس ایچ او کے فوری تبادلے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی گوجرہ کی حدود میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مونگی روڈ پر فارمیسی میں فائرنگ کے بعد ملزمان قتل کر کے فرار ہو گئے، جبکہ پولیس ملزمان کو ٹریس کرنے میں ناکام رہی۔

    شیخ امجد ضیا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر جمعہ تک ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو مرکزی انجمن تاجران ہفتے کے روز پولیس کے خلاف احتجاج کرے گی۔ انہوں نے پولیس کی نااہلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شہریوں کی جان و مال غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جبکہ پولیس خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔

    اہلیان گوجرہ نے بھی اعلیٰ افسران سے فوری نوٹس لینے اور ایس ایچ او سٹی گوجرہ کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں نے پولیس کی موجودہ کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوامی تحفظ یقینی بنایا جائے اور ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔

  • سیالکوٹ: ٹریفک مسائل کے حل کے لیے خصوصی اسکواڈ تشکیل

    سیالکوٹ: ٹریفک مسائل کے حل کے لیے خصوصی اسکواڈ تشکیل

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض) شہرمیں ٹریفک کی روانی اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے جامع لائحہ عمل تشکیل دے دیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس، ٹرانسپورٹ اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن، اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے اشتراک سے خصوصی اسکواڈ بنایا جائے گا۔

    یہ فیصلہ اراکین پنجاب اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ، فیصل اکرام چودھری، ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال، اور ڈی پی او رانا عمر فاروق کی زیر صدارت ڈی سی آفس میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں کے افسران اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر ذوالقرنین لنگڑیال نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پانچ اہم شاہراہوں کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا، جبکہ مسلم بازار اور لہائی بازار میں واکنگ اسٹریٹس کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں دن کے اوقات میں گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔

    ڈی پی او رانا عمر فاروق نے کہا کہ رانگ پارکنگ اور ون وے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی، اور سیف سٹی پراجیکٹ سے مدد لی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 200 سے زائد ٹریفک وارڈنز بھرتی کیے گئے ہیں، جو جلد ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

    مزید یہ کہ ریلوے اسٹیشن پر پارکنگ پلازہ کی تعمیر اور کشمیر روڈ پر روڈ انجینئرنگ میں بہتری کے منصوبے زیر غور ہیں۔ شیل پیٹرول پمپ چوک پر ٹریفک سگنلز کی تنصیب جاری ہے، اور دیگر اہم چوکوں پر بھی سگنلز نصب کیے جائیں گے۔

    اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ شہری ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں تاکہ شہر میں ٹریفک مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔

  • ٹھٹھہ:سندھی ثقافت ہماری قدیم وراثت ہے اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں،ایس ایس پی

    ٹھٹھہ:سندھی ثقافت ہماری قدیم وراثت ہے اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں،ایس ایس پی

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار بلاول سموں) ثقافتی دن پر شاندار ریلی کا انعقاد،ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان کی سربراہی میں پولیس اور عوام کی بھرپور شرکت

    تفصیل کے مطابق سندھ کے ثقافتی دن کے موقع پر ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شاندار ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں پولیس افسران، اہلکاروں، سماجی رہنماؤں، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں نے اجرک پہنے جوش و خروش سے شرکت کی۔

    ریلی پولیس ہیڈکوارٹرز مکلی سے شروع ہو کر مکلی غلام اللہ روڈ سے ہوتی ہوئی پبلک پارک مکلی پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے قومی گیتوں پر رقص کیا اور اپنی ثقافت سے محبت کا بھرپور اظہار کیا۔

    ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "سندھی ثقافت کا دن ہمارے لیے عید کی مانند ہے۔ یہ 5 ہزار سال پرانی تہذیب ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔”

    ریلی کا انعقاد آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات کے مطابق کیا گیا، جس میں ضلع بھر سے عوام نے جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

  • سیالکوٹ میں ریونیو عوامی خدمت سروسز کورٹ کا انعقاد

    سیالکوٹ میں ریونیو عوامی خدمت سروسز کورٹ کا انعقاد

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہدریاض) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ محمد ذوالقرنین لنگڑیال کی زیر نگرانی ریسٹ ہاؤس پٹواریاں کے ہال میں ریونیو عوامی خدمت سروسز کورٹ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر انعم بابر، تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور دیگر ریونیو افسران شریک ہوئے۔

    ڈپٹی کمشنر نے محکمہ مال کے حکام کو ہدایت دی کہ ہر ماہ کے پہلے دو ورکنگ ڈیز میں چاروں تحصیل ہیڈکوارٹرز پر ریونیو عوامی خدمت کورٹ کا انعقاد کیا جائے، تاکہ شہریوں کی شکایات کا فوری حل ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شکایات کی رجسٹریشن کے بعد ان کے حل کے اقدامات سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو رپورٹ کیے جائیں گے۔

    اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر نے سائلین کے مسائل سنے اور فوری حل کے احکامات صادر کیے۔ عوامی ریونیو کورٹ کے انعقاد کا مقصد محکمہ مال سے متعلق مسائل کا فوری اور شفاف حل فراہم کرنا ہے۔

  • سرگودھا :کرائے کے قاتلوں کا نیٹ ورک کا انکشاف، عوام خوفزدہ

    سرگودھا :کرائے کے قاتلوں کا نیٹ ورک کا انکشاف، عوام خوفزدہ

    سرگودھا(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرادریس نواز چدھڑ)کرائے کے قاتلوں کا نیٹ ورک کا انکشاف، عوام خوفزدہ

    تفصیلات کے مطابق سرگودھا ضلع بھر میں قتل اور اقدام قتل کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع میں کرائے کے قاتلوں کا ایک منظم نیٹ ورک فعال ہے جو چند لاکھ روپے کے عوض کسی کو بھی جان سے مارنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ واردات کے بعد یہ قاتل روپوش ہو جاتے ہیں اور مقتول کے لواحقین اپنے مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروا دیتے ہیں۔

    اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ قتل کے اصل ذمہ دار یعنی قتل کروانے والے اور کرائے کے قاتل دونوں تفتیش کے دوران رعایت حاصل کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو پاتے اور جرائم میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

    پولیس کی کارکردگی صرف اتنا ہی ہے جو صرف مقدمات درج کرنے تک محدود رہتی ہے۔ بعض اوقات دشمنی والے افراد کے خلاف اسلحہ رکھنے کے باوجود مقدمات درج کر لیے جاتے ہیں، جس سے عام شہری اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار رکھنے سے بھی کتراتے ہیں اور اپنے مخالفین کے ہاتھوں آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں۔

    عدالتی نظام اور تفتیشی نقائص بھی ان واقعات میں اضافے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ قتل کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو رعایت دی جاتی ہے اور تفتیش کے دوران کرپشن کے معاملات بھی سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے ملزمان عدالت سے ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال متاثرین میں بدلے کے جذبات کو بڑھاتی ہے اور علاقہ مزید بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ کرائے کے قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم ہو سکے۔ قتل کے مقدمات کی غیر جانبدار تفتیش یقینی بنائی جائے اور ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں۔ پولیس افسران اور ایس ایچ اوز کو علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

    عوام کا کہنا ہے کہ انصاف کے فقدان اور سزاؤں کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی دشمنیوں کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہے ہیں، جس سے علاقہ بدامنی کا شکار ہو رہا ہے۔ عوام نے وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان مسائل کو فوری حل کیا جائے تاکہ علاقے میں امن بحال ہو سکے۔

  • سرگودھا:چک 54 شمالی میں گیس نایاب، عوام مشکلات کا شکار

    سرگودھا:چک 54 شمالی میں گیس نایاب، عوام مشکلات کا شکار

    سرگودھا (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرادریس نواز چدھڑ) سرگودھا کے نواحی علاقے چک 54 شمالی میں گیس کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جس سے عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بھاری بلوں کی ادائیگی کے باوجود گھروں میں گیس کی سہولت موجود نہیں اور وہ مہنگی لکڑیاں اور ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔

    علاقے کے رہائشیوں نے محکمہ سوئی گیس کے افسران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ان کی ناقص کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ گیس کی عدم موجودگی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اور اگر فوری طور پر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا۔

    عوام نے وزیراعظم پاکستان اور منتخب عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

  • ننکانہ: محکمہ صحت کا شرمناک کردار، 1200 کروناوارئر 2 سال سے معاوضے سے محروم

    ننکانہ: محکمہ صحت کا شرمناک کردار، 1200 کروناوارئر 2 سال سے معاوضے سے محروم

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی ،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز کی رپورٹ)محکمہ صحت کی مالی بے ضابطگیاں، 1200 ملازمین کی کرونا ڈیوٹی رقم دو سال سے ادا نہ ہو سکی

    تفصیل کے مطابق ننکانہ صاحب میں محکمہ صحت کے مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ دو سال گزرنے کے باوجود ریڈ کمپین تھری کرونا ویکسی نیشن کے دوران خدمات انجام دینے والے 1200 سے زائد ملازمین کو ان کی معاوضہ رقم ادا نہیں کی جا سکی۔ ڈی جی ہیلتھ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود سی ای او ہیلتھ ننکانہ صاحب کی جانب سے رقم کی منتقلی نہ ہونا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    ڈسٹرکٹ ایل ایچ ایس و ایل ایچ ڈبلیو کی صدر رخسانہ یاسمین نقوی نے انکشاف کیا کہ سی ای او ہیلتھ کے اکاؤنٹ میں رقم موجود ہونے کے باوجود اسے منتقل نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وبا کے دوران پیرا میڈیکل سٹاف، رضاکاروں، اور دیگر عملے نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر خدمات سرانجام دیں، مگر دو سال گزرنے کے باوجود انہیں ان کا حق نہیں دیا گیا۔

    رخسانہ نقوی نے بتایا کہ ڈی جی ہیلتھ پنجاب سے ملاقات کے بعد 22 اپریل 2024 کو دوبارہ احکامات جاری کیے گئے، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ، اور دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تاکہ ان ملازمین کو ان کا حق مل سکے اور مالی بے ضابطگیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف:حادثے میں سابق ایم این اے علی حسن گیلانی سمیت2 جاں بحق ،3 زخمی

    اوچ شریف:حادثے میں سابق ایم این اے علی حسن گیلانی سمیت2 جاں بحق ،3 زخمی

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان ) حادثے میں سابق ایم این اے علی حسن گیلانی سمیت2 جاں بحق ،3 زخمی

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف میں نبی پور کے قریب ٹریفک حادثے میں پاکستان پیپلز پارٹی بہاولپور ڈویژن کے جنرل سیکرٹری و سابق ایم این اے مخدوم سید علی حسن گیلانی سمیت دو افراد جاں بحق اور تین شدید زخمی ہو گئے۔ حادثہ مبینہ طور پر فارچونر گاڑی کے سڑک کنارے کھڑے لوڈر ڈالے سے ٹکرانے کے باعث پیش آیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سابق ایم این اے سید علی حسن گیلانی اور دنیا پور کے اکبر خان شامل ہیں۔سید علی حسن گیلانی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اوچ شریف جا رہے تھے۔ زخمیوں میں میاں سلطان، حنیف اور جند وڈا شامل ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈیڈ باڈیز اور زخمیوں کو فوری طور پرہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    سابق ایم این اے کی نماز جنازہ سہ پہر 4 بجے غوث الاعظم گراؤنڈ اوچ شریف میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مقامی اور غیر مقامی سیاستدانوں، پارٹی رہنماؤں اور عوام کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔ شہریوں نے اس جنازے کو اوچ شریف کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا ہے۔ متوفی کو دربار حضرت محبوب سبحانی کے اندر ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

  • ڈیرہ غازیخان :عدالتی احکامات نظرانداز،میونسپل کارپوریشن کا قبضہ،پریس کلب ڈی سیل نہ ہوسکا

    ڈیرہ غازیخان :عدالتی احکامات نظرانداز،میونسپل کارپوریشن کا قبضہ،پریس کلب ڈی سیل نہ ہوسکا

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی،نامہ نگارشہزادخان)عدالتی احکامات نظرانداز،میونسپل کارپوریشن کا قبضہ،پریس کلب ڈی سیل نہ ہوسکا

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں پریس کلب پر میونسپل کارپوریشن کا ناجائز قبضہ برقرار ہے، عدالتی احکامات کے باوجود پریس کلب کو ڈی سیل کرنے میں مسلسل تاخیری حربے جاری ہیں۔ عدالت نے چھ ماہ سے بند پریس کلب کو کھولنے کا حکم جاری کیا، لیکن میونسپل کارپوریشن کی عدم تعاون کی روش کے باعث عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا۔

    صدر پریس کلب شیر افگن بزدار کی درخواست پر سول جج جہانگیر سلطان شیخ نے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پریس کلب کو سیل کرنے کے حکم کو معطل کرتے ہوئے فوری ڈی سیل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پریس کلب کا رقبہ 60 سال قبل صوبائی حکومت نے باقاعدہ الاٹ کیا تھا اور میونسپل کارپوریشن کو اسے سیل کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔

    عدالت کے واضح فیصلے کے باوجود میونسپل کارپوریشن نے احکامات کو نظرانداز کر رکھا ہے اور پریس کلب پر اپنے عملے کو تعینات کر دیا ہے۔ اس رویے کے باعث صحافی برادری شدید مشکلات اور مایوسی کا شکار ہے۔

    گذشتہ روز صدر پریس کلب شیرافگن بزدار نے اپنی الیکٹڈ باڈی کے ہمراہ عدالتی احکامات کارپوریشن کے عملے کو پیش کیے، لیکن انتظامیہ نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ صحافی برادری نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ احکامات پر فوری عمل درآمد کے لیے عدالتی بیلف کے ذریعے کارروائی کی جائے اور اعلیٰ حکام اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔

  • اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت نے بنگلا دیش میں دو ہندو راہبوں کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے خلاف ایک منظم سفارتی محاذ کھول دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف بنگلا دیش کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے بلکہ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹا کر خطے میں اپنی برتری قائم رکھنا بھی ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی ایک جانب بنگلا دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری جانب اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر جھوٹا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف مظالم دنیا کے سامنے ہیں۔ مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنا، مسلمانوں کی جائیدادیں بلڈوز کرنا اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہمات جیسے "لو جہاد”، "لینڈ جہاد” اور "ریڑھی جہاد” بھارتی سماج میں روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت عالمی برادری کے سامنے اپنی تصویر کو اقلیتوں کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بنگلا دیش کی عبوری حکومت پر اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں کا الزام عائد کر رہا ہے۔

    بنگلا دیش میں حالیہ دنوں میں اِسک کون (ISKCON) کے دو ہندو راہبوں کی گرفتاری اور دیگر 17 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کا معاملہ بھارتی میڈیا اور انتہا پسند تنظیموں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اِسک کون کو بنگلا دیشی عدالت نے ایک بنیاد پرست تنظیم قرار دیا ہے جس کی سرگرمیاں معاشرتی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ تاہم بھارت میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر ہندو تنظیموں نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اچھالنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف دباؤ ڈالا جا سکے۔

    امریکا اور یورپ میں بھارت نواز لابیاں اس وقت سرگرم ہیں اور بنگلا دیش کی اقلیتوں پر مظالم کے الزامات لگا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہی ہیں۔ ہندو کمیونٹی کے مختلف گروپ امریکا اور یورپ میں یہ بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ بنگلا دیش میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ گروپ عبوری حکومت کے خلاف فضا ہموار کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بنگلا دیش کی عدالتوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بنیاد پرست تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

    بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے اِسک کون کے رہنما چنموئے کرشنا داس اور دیگر افراد کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عبوری حکومت اقلیتوں کے خلاف امتیازی نوعیت کی کارروائیاں کر رہی ہے، جس سے اقلیتیں خوفزدہ ہو رہی ہیں۔ شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش میں سیاسی عدم استحکام اور عبوری حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے اس پورے معاملے کو ہندو مخالف جذبات کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ بھارتی حکومت اس معاملے کو سفارتی طور پر اٹھا کر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    یہ واضح ہے کہ بھارت کی یہ مداخلت محض اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور بنگلا دیش کے داخلی معاملات کو بین الاقوامی رنگ دینا ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی ان چالوں کا نوٹس لے اور خطے میں استحکام کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔