Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لورالائی: 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    لورالائی: 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    لورالائی(باغی ٹی وی رپورٹ) 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    تفصیلات کے مطابق لورالائی میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کو 15 دن ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں کوئلے کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔ دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے نتیجے میں 50 سے زائد گاڑیاں نذرِ آتش کی جاچکی ہیں، جب کہ نصف درجن سے زائد ڈرائیور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ راڑہ شم کے علاقے میں سب سے زیادہ گاڑیاں جلائی گئیں، جن میں سے اکثر کوئلے کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں، جبکہ کچھ گاڑیاں فروٹ اور سبزیوں سے لدی ہوئی تھیں۔

    دکی، سنجاوی، ہرنائی اور شہ رگ کھوسٹ کے مقامات پر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری ہے۔ ہڑتال کے باعث لورالائی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی شاہراہ سمیت دیگر اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور مسافروں و مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کوئلے کی لوڈنگ گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے، جس کی وجہ سے دکی، ہرنائی، شہ رگ کھوسٹ اور چمالنگ سے پنجاب کے لیے کوئلے کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے۔

    ڈیرہ غازیخان میں موجود گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسلام ناصر اور جنرل سیکریٹری بلال لغاری نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئےحکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی توجہ صرف سگریٹ پکڑنے تک محدود ہے، جب کہ ڈرائیوروں اور مسافروں کو تحفظ فراہم کرنے پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل آخر کون حل کرے گا؟

    عبدالسلام ناصر اور بلال لغاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے فوری طور پر مذاکرات کرے، متاثرہ مالکان اور شہداء کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرے اور ہڑتال ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو بلوچستان بھر میں کوئلے کی لوڈنگ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائے گی۔

    ہڑتال کے باعث ٹرک مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں بھاری خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج اور ہڑتال جاری رہے گی۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گڈز ٹرانسپورٹ کا بحران ختم ہو سکے، اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

  • چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    چھٹیاں حل نہیں ،چھٹیوں کا حل نکالئے

    چھٹیاں حل نہیں چھٹیوں کا حل نکالئے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    اس وقت صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع شدید سموگ کی لپٹ میں ہیں جس کی بدولت سمارٹ لاک ڈاؤن ہے اور بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہیں یہ چھٹیاں 24 نومبر تک تھیں جنہیں موسم میں بہتری کے باعث ختم کر دیا گیا ہے اور سکول لاہور ملتان کے علاوہ دیگر اضلاع میں تعلیم کیلئے سکول کھول دیئے گئے ہیں کیونکہ لاہور اور ملتان میں سموگ کی شدت زیادہ ہے اس لئے وہاں سکول بدستور بند ہیں

    ایک سال میں 365 دن ہوتے ہیں جبکہ 52 ہفتے ہوتے ہیں،اس وقت پاکستان کے سرکاری سکولوں میں ہفتہ اور اتوار کی سرکاری چھٹی ہوتی ہےیعنی ایک سال میں بچوں کو 104 چھٹیاں سرکاری ہیں اس کے علاوہ 90 دن کی چھٹیاں پنجاب میں گرمیوں کی ہوتی ہیں مذید دسمبر میں 10 چھٹیاں ہوتی ہیں اس کے علاوہ ہر ضلع میں تقریباً 1 سرکاری چھٹی سالانہ ہوتی ہے جو کہ کسی عرس، تقریب وغیرہ پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی ہے،اس سب کے علاوہ بچوں کی صحت کے لحاظ سے کم از کم دو ماہ بعد ایک بچہ بوجہ بیماری بھی چھٹی کرتا ہے،نیز اس کے علاوہ بھی معاشرتی طرز زندگی کیلئے شادی بیاہ،فوتگی و دیگر امور کے باعث بھی چھٹی کرنی پڑتی ہے

    اگر جنرل طور پر دیکھا جائے تو سرکاری سکول کے بچے 365 دنوں میں سے بغیر کسی ناغے کے 160 دن سکول جاتے ہیں اگر بیماری و دیگر چھٹیوں کو ڈال لیا جائے تو بمشکل 150 دن بنتے ہیں ان میں سے اگر بیماری و دیگر چھٹیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے محض 150 دن ہی بمشکل سکول جاتے ہیں،جبکہ اس کے برعکس پرائیویٹ سکولوں میں ہفتہ کی صرف ایک چھٹی اتوار کو ہوتی ہے نیز سخت گرمی میں بھی باوجود گورنمنٹ کے حکم کے بچوں کو سادی کپڑوں میں سکول آنے کا پابند کیا جاتا ہے اور اسے اکیڈمی ٹائم کا نام دے کر پڑھایا جاتا ہے
    یعنی سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کی چھٹیوں میں زمین و آسمان سا فرق ہے.جس کے باعث بیشتر ماں باپ نا چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھاتے ہیں تاکہ ان کے جگر کے ٹکڑے حصول تعلیم بغیر ناغے کے جاری رکھیں بیشتر غریب ماں باپ بھی بہت تنگدستی میں قرض اٹھا کر اور اپنے کھانے پینے کے اخراجات کم کرکے اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے پر مجبور ہیں جس کی وجہ آئے روز کی چھٹیاں ہی ہیں

    ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کا شارٹ کٹ اور عارضی حل نکالتے ہیں مستقبل حل نہیں نکالتے جس کے باعث مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں پہلے موسم گرما و سرما کی چھٹیاں تھیں اب چند سالوں سے سموگ کی چھٹیاں الگ سے ہونے لگی ہیں

    ہم بات شروع کرتے ہیں موسم گرما کی چھٹیوں کی اگر بچوں کو 90 دن چھٹیاں کروانے کی بجائے ان دنوں صبح فجر کے بعد سکول ٹائم کو شروع کیا جائے اور ہر کلاس روم کو یو پی ایس و سولر سسٹم سے روم کولرز و ائیر کنڈیشنر سے ہوا دار کرکے ٹمپریچر لیول کنٹرول کیا جائے تو میرے خیال سے چھٹیاں کروانے کی نوبت ہی نا آئے گی،سوچا جائے تو اگر ہمارے ملک میں ایک 16 سکیل کے اکیلے آفیسر کے کمرے میں 2 ٹن کا اے سی چلتا ہے تو کیا وہاں 70 بچوں کی کلاس میں 3 ماہ ایک اے سی چلا کر بچوں کی پڑھائی کو جاری نہیں رکھا جا سکتا؟

    اسی طرح ہفتہ میں دو چھٹیوں کی سمجھ آج دن تک کسی کو نہیں آئی کہ اس میں کیا حکمت ہے اگر اس میں اتنی ہی خیر ہے تو پھر پرائیویٹ سکولوں میں ہر ہفتے دو چھٹیاں کیوں نہیں کروائی جاتیں؟ان دنوں سموگ کی چھٹیوں کو دیکھا جائے تو سموگ سے بچاؤ کی خاطر چھٹیاں کروا کر بچے گھروں میں قطعاً سموگ سے نہیں بچتے کیونکہ ہمارے ہاں سرکاری سکول کشادہ اور ہوا دار ہیں جبکہ اس مہنگائی کے دور میں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کے پاس رہنے کو چھوٹے چھوٹے مکان ہیں جن میں درخت نا ہونے کے برابر ہیں جبکہ اس کے برعکس ہر سرکاری دفتر میں وافر مقدار میں درخت موجود ہوتے ہیں جو ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاتے ہیں

    ہر سال سموگ سے بچاؤ کی خاطر چھٹیاں تو کی جاتی ہیں مگر سموگ کو کنٹرول کرنے کیلئے تدابیر نہیں کی جاتیں،جہاں سموگ سے بچنا ان بچوں کیلئے ضروری ہے وہاں 60 سال سے زائد عمر کے اس مزدور کے لئے بھی بچنا اتنا ہی ضروری ہے کہ جس کا لخت جگر اس کی دن رات کی کمائی سے سکول پڑھنے جاتا ہے،سموگ سے 16 سالہ میٹرک کا طالب علم تو بچنے کے طریقے جانتا ہے مگر اس کا 60 سے 70 سالہ بوڑھا اور کمزور باپ نہیں جانتا کہ کس طرح سموگ سے بچنا ہے وہ ہر چیز کی پرواہ کئے بغیر اپنے بچوں کی روزی روٹی اور تعلیم کی خاطر مزدوری کرتا ہے

    اگر ریاست کا فرض سموگ سے ان بچوں کو بچانا ہے تو پھر ان بزرگوں کو سموگ سے بچانا بھی ریاست کا فرض ہے سو اس لئے ضروری ہے کہ سموگ کی چھٹیاں کروانے کی بجائے سموگ کے بننے کے عمل کو روکا جائے،اگر دیکھا جائے تو سموگ پھیلانے میں پنجاب اربن یونٹ لاہور کی رپورٹ کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں فضائی آلودگی پھیلانے میں سب سے آگے ہیں،یعنی کہ شعبہ ٹرانسپورٹ کا فضائی آلودگی پھیلانے میں 83.15 فیصد کردار ہے اسی طرح صنعتی سرگرمیاں سموگ پھیلانے میں دوسرے نمبر پر ہیں یعنی انڈسٹریز کے دھوئیں کا سموگ میں حصہ 9.07 فیصد ہے، اسی طرح فضائی آلودگی پھیلانے میں زرعی فضلہ جلانے کا کردار 3.9 فیصد ہے اورکچرا جلانے کا حصہ سموگ میں 3.6 فیصد ہے
    کمرشل عمارتوں کی سرگرمیوں کا فضائی آلودگی میں کردار 0.14 فیصد ہےاور گھریلو سرگرمیاں 0.11 فیصد فضائی آلودگی یعنی سموگ میں حصہ ڈالتی ہیں
    یعنی کہ قصہ مختصر سموگ کی چھٹیوں کو ختم کرکے سموگ کے دن شروع ہونے سے پہلے ہی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے دھوئیں پر کنٹرول کیا جائے
    کچرا جلانے پر پابندی لگائی جائے اور لوگوں میں نجی سواری کی بجائے مشترکہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے پر آگاہی دی جائے
    نیز سموگ سے بچاؤ کیلئے گھر سے باہر نکلتے فیس ماسک لازم قرار دیا جائے

    کارخانوں کے دھوئیں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی سے کم آلودہ کیا جائے جس طرح بھٹہ خشت پر زگ زیگ سسٹم لازم ہے اسی طرح انڈسٹری میں بھی زگ زیگ کے بغیر انڈسٹری چلانے پر جرمانے کئے جائیں،ٹرانسپورٹ کو شمسی و بیٹری سسٹم پر منتقل کیا جائے تاکہ دھواں کم سے کم بنے
    سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سموگ سے متاثرہ لوگوں کی تعداد نا ہونے کے برابر ہے جبکہ دوسرے بڑے شہر لاہور میں سب سے زیادہ حالانکہ آبادی و صنعتی لحاظ سے کراچی بہت بڑا شہر ہے اور لاہور اس سے چھوٹا تو پھر کچھ تو کمی کوتاہی ہے نا کہ بڑا شہر سموگ سے متاثر نہیں اور اس سے چھوٹا شہر متاثر ہے

    گورنمنٹ کو چائیے کہ چھٹیاں ختم کرکے چھٹیوں کا حل نکالے تاکہ بچوں کے والدین سرکاری سکولوں پر اعتماد اور یقین کریں بجائے پرائیویٹ سکولوں کے پڑھانے کے اپنے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھائیں

  • سیالکوٹ: ناجائز اسلحہ اور ہوائی فائرنگ، تھانہ کوتوالی کا کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ: ناجائز اسلحہ اور ہوائی فائرنگ، تھانہ کوتوالی کا کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ کوتوالی کے ایس ایچ او سب انسپکٹر کاشف علی بٹ نے چارج سنبھالتے ہی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ رانا عمر فاروق کے کرائم کنٹرول میکنزم کے تحت کارروائیوں میں ناجائز اسلحہ رکھنے اور ہوائی فائرنگ کرنے والے متعدد ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

    ایس ایچ او کاشف بٹ نے اپنی پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے ایسے عناصر کو گرفتار کیا جو ہوائی فائرنگ کے ذریعے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے مرتکب تھے۔ ان کی اس کامیاب مہم پر شہری حلقوں کی جانب سے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ کاشف بٹ اس سے قبل تھانہ ہیڈ مرالہ میں ایس ایچ او کے طور پر امن و امان کے قیام میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی پی او سیالکوٹ کی جانب سے اس قابل افسر کی تھانہ کوتوالی میں تعیناتی کے بعد جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے، جس سے عوام میں تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

  • اوچ شریف: حضرت سید جلال الدین بخاری کے 755ویں عرس کی تقریبات اختتام پذیر

    اوچ شریف: حضرت سید جلال الدین بخاری کے 755ویں عرس کی تقریبات اختتام پذیر

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمت اللہ علیہ کے 755ویں سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات عقیدت و احترام سے مکمل ہو گئیں۔ دربار جلالیہ عالیہ میں ہونے والی ان تقریبات کی قیادت سجادہ نشین مخدوم سید زمرد حسن بخاری نے اپنے ولی عہد مخدوم سید حسن زمرد اور خاندان کے دیگر اراکین کے ہمراہ کی۔

    عرس کی اہم رسومات میں مزار کو عرقِ گلاب سے غسل دینے اور دعا کی محفل شامل تھیں، جن میں ملک بھر سے زائرین اور مریدین نے شرکت کی۔ محفل کے دوران عقیدت مندوں نے روحانی فیض حاصل کیا اور آپ کی تعلیمات کو یاد کیا۔

    زائرین کے قیام و طعام کے خصوصی انتظامات کیے گئے، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی کے لیے ڈی پی او بہاولپور اسد سرفراز کی زیر نگرانی سخت اقدامات کیے گئے، اور مقامی پولیس افسر لطیف احمد جھورڑ کی قیادت میں اہلکار تعینات رہے۔

    عرس مبارک حضرت جلال الدین بخاری کی تعلیمات اور روحانیت کے فروغ کا ایک عظیم مظہر تھا، جہاں لاکھوں عقیدت مندوں نے شرکت کر کے اپنے دلوں کو منور کیا۔

  • راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے

    راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے

    راجن پور میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری زون کا قیام وقت کی ضرورت ہے
    تحریر: ملک خلیل الرحمٰن واسنی حاجی پورشریف
    پاکستان کے صوبہ پنجاب کا پسماندہ ترین ضلع راجن پور، جو روجھان، راجن پور اور جام پور جیسی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کے باوجود ترقی کے مواقع سے محروم ہے۔ یہاں کی 70 فیصد سے زائد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے، لیکن ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث مالی نقصانات اٹھاتی ہے۔ اس صورتحال میں انڈسٹریل اسٹیٹ اور ٹیکس فری انڈسٹریل زون کا قیام علاقے کی اشد ترین ضرورت بن چکا ہے۔

    صنعتی ترقی سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ یہاں کے 25 لاکھ سے زائد افراد کا معیارِ زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان، جو فی الحال بے روزگار ہیں، اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی خدمت میں استعمال کر سکیں گے، جبکہ خواتین کو بھی روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی ترقی کا ضامن ہوگا بلکہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

    راجن پور میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے مناسب حکومتی منصوبہ بندی کا فقدان رہا ہے۔ اگر حکومت اور سرمایہ کار ادارے اس علاقے کی طرف توجہ دیں تو یہ خطہ صنعتی ترقی کے لیے ایک مثالی مقام بن سکتا ہے۔ پاکستان کے دوست ممالک اور نجی سرمایہ کار کمپنیاں اس علاقے میں صنعتوں کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقے بھی اس حوالے سے حکومت سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ مقامی سیاسی، سماجی اور تاجر تنظیمیں اس منصوبے کو حقیقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ضلع راجن پور کے موجودہ ڈپٹی کمشنر شفقت اللّٰہ مشتاق بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ حکومتی حکام کو فزیبلیٹی رپورٹ پیش کر کے اس منصوبے کی اہمیت اجاگر کریں اور اسے عملی جامہ پہنانے میں مددگار ثابت ہوں۔

    اس منصوبے کے لیے عوامی حمایت بھی ضروری ہے۔ عوام نے بارہا اپنی مشکلات کا ذکر کیا ہے، خاص طور پر بے روزگاری اور روزگار کی بہتر سہولیات کے فقدان کا۔ انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام ان تمام مسائل کا حل ہو سکتا ہے اور ایک بڑا معاشی گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

    صوبائی اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس منصوبے پر کام شروع کرے۔ سرمایہ کاری، مناسب پالیسیاں، اور مقامی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اس منصوبے کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف راجن پور کے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی آئے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ عوام کی نظریں اب حکومتی اقدامات پر مرکوز ہیں، اور وقت آ گیا ہے کہ ان توقعات کو پورا کیا جائے۔

  • اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا کی کامیاب کارروائی، اشتہاری گرفتار

    اوچ شریف:پٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا کی کامیاب کارروائی، اشتہاری گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) پٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اشتہاری ملزم ساجد ولد غلام فرید کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی محمد ساجد گھلیجہ ASI کی قیادت میں ناکہ بندی اور چیکنگ کے دوران عمل میں آئی۔

    ملزم ساجد جو مقدمہ نمبر 77/23 میں مطلوب تھا، کئی ماہ سے روپوش تھا اور قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق جدید ٹریکنگ سسٹم، سی سی ٹی وی نگرانی اور دیگر آلات کے ذریعے ملزم کی موجودگی کا سراغ لگا کر اسے خیرپور ڈاہا کے نواحی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

    ملزم پر سنگین جرائم کے الزامات ہیں اور اسے تفتیش کے لیے تھانہ دھوڑکوٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے اس کارروائی کو ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔

    پٹرولنگ پولیس کی اس کامیابی سے علاقے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ عوام نے بھی پولیس کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

  • گوجرہ: تھانہ پیر محل پولیس نے گمشدہ بچہ والدین کے حوالے کر دیا

    گوجرہ: تھانہ پیر محل پولیس نے گمشدہ بچہ والدین کے حوالے کر دیا

    گوجرہ (باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار کی قیادت میں پولیس عوام کی خدمت اور تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ تھانہ پیر محل کے علاقے سے گم ہونے والے 5 سالہ بچے، اضہان ولد محمد وقاص، کو چوکی انچارج پیر محل عمران غفور ASI اور ان کی ٹیم نے تلاش کرکے والدین کے سپرد کر دیا۔

    والدین کے لیے یہ لمحہ انتہائی خوشی کا باعث بنا، جبکہ پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت والدین کی اولین ذمہ داری ہے، اور ان کی نگرانی میں کسی قسم کی غفلت سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

    پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں کیونکہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • ننکانہ:چیئرپرسن انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    ننکانہ:چیئرپرسن انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) وزیراعلیٰ پنجاب انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ کے چیئرپرسن برگیڈئیر (ر) بابر علاءالدین نے ننکانہ صاحب کا طویل دورہ کیا۔ ان کے استقبال کے لیے ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر، ڈی پی او سید ندیم عباس اور دیگر ضلعی افسران موجود تھے۔

    چیئرپرسن کی زیر صدارت ڈی سی کمیٹی روم میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جہاں انہیں سی ایم انیشیٹوز، ترقیاتی منصوبوں، کسان کارڈ، ہمت کارڈ، گرین ٹریکٹر اسکیم اور دیگر حکومتی پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈی پی او دفتر میں ضلعی پولیس کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور نئی بلڈنگ کے تعمیراتی کام کا معائنہ کیا گیا۔

    چیئرپرسن نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں سے طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کے رویے کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے ہسپتال کے مختلف شعبہ جات اور ادویات کے اسٹاک کا بھی معائنہ کیا۔ اس کے علاوہ ماڈل ریڑھی بازار، بی ایچ یو کھیاڑے کلاں کی ری ویمپنگ اور ڈی سی پارک میں ستھرا پنجاب مہم کے تحت پودا لگایا گیا۔

    بابر علاءالدین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق پنجاب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے نوجوان افسران کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہم عہدوں پر نوجوانوں کی موجودگی خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کی نگرانی خود وزیراعلیٰ کرتی ہیں۔

    چیئرپرسن نے پولیس کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت دی اور کہا کہ شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کریں، عوامی مسائل حل کریں اور عوامی سہولت کے لیے اقدامات کریں۔

    چیئرپرسن نے کہا کہ پنجاب میں صحت کے شعبے میں پہلی بار ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام اضلاع میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے قیام سے صفائی کے معیار میں بہتری آئے گی۔

    آخر میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کی ترقی کے لیے حکومت کا ہر اقدام عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہے اور ان منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

  • ننکانہ: لائیو اسٹاک کارڈ کے تحت کسانوں کو مالی معاونت اور ونڈا ڈیلرز سے معاہدے

    ننکانہ: لائیو اسٹاک کارڈ کے تحت کسانوں کو مالی معاونت اور ونڈا ڈیلرز سے معاہدے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت ونڈا ڈیلرز اور کسانوں کے لیے اہم اقدامات

    تفصیل کے مطابق محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ننکانہ صاحب نے تحصیل کے 10 رجسٹرڈ ونڈا ڈیلرز اور پنجاب بینک کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں ونڈا ڈیلرز کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ رجسٹرڈ ڈیلرز کا تعلق ننکانہ، واربرٹن، منڈی فیض آباد، بچیکی اور سید والا سے ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک ڈاکٹر خورشید عالم نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب لائیو اسٹاک کارڈ کے ذریعے رجسٹرڈ کسان اب مقامی فیڈ ڈیلرز سے جانوروں کی خوراک، ونڈا، سائلیج، اور دیگر ضروریات خرید سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے تحصیل بھر میں رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، اور ہر لائیو اسٹاک دفتر میں سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں جہاں کسانوں کو رجسٹریشن اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈاکٹر خورشید عالم کے مطابق لائیو اسٹاک کارڈ کا مقصد مویشی پال کسانوں کی مالی معاونت، ان کے جانوروں کی صحت و خوراک کے لیے سبسڈی اور دیگر مراعات فراہم کرنا ہے۔ اس کارڈ کے تحت کسانوں کو صفر سود پر قرض دیا جائے گا۔ کم سے کم 5 بچھڑوں پر 27 ہزار روپے فی جانور جبکہ زیادہ سے زیادہ 10 بچھڑوں پر 2 لاکھ 70 ہزار روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ قرض کی رقم ماہانہ اقساط کی صورت میں فراہم کی جائے گی، اور یہ سکیم پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دستیاب ہوگی۔ رجسٹریشن کے لیے کسان اپنے قریبی ویٹرنری اسپتال یا سہولت ڈیسک سے رجوع کر سکتے ہیں، یا اپنے موبائل فون سے "PLC (سپیس) شناختی کارڈ نمبر” لکھ کر 8070 پر بھیج سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر خورشید عالم نے کہا کہ درخواست گزار کا محکمہ لائیو اسٹاک کے ڈیٹا بیس 9211 پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ مزید سہولت کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ایپلی کیشن پر آن لائن درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔

    یہ اقدامات کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہیں۔

  • سکھر: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا پاراچنار واقعے کے خلاف احتجاج

    سکھر: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا پاراچنار واقعے کے خلاف احتجاج

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری)سکھر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا پاراچنار واقعے کے خلاف احتجاج

    تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سکھر نے پاراچنار میں معصوم افراد کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    وکلاء جن میں قربان کلواڑ، ظہیر صوفی بابر، امتیاز شیخ، فرحان راجپوت، آصف علی سومرو، شاہد علی میمن، قربان شر، نورالدین چوہان، محمد علی چھدھر، وسیم پٹھان، محمد نواز سومرو سمیت دیگر شامل تھے نے مظاہرے کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور قانونی ورثاء کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    وکلاء نے کہا کہ معصوم جانوں کے ضیاع کا یہ واقعہ انتہائی قابلِ افسوس ہے اور حکومت کو اس پر فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ورثاء کو معاوضہ دینا چاہیے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پاراچنار کے شہداء کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انصاف کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا۔