Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • قصور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا حلقے کا دورہ

    قصور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا حلقے کا دورہ

    قصور (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نوید سندھو سے) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اپنے حلقے کا دورہ کیا اور حاجی سردار احمد دین ڈوگر کے ڈیرے پر پہنچ کر عوامی مسائل سنے۔ اس موقع پر انہوں نے فوری طور پر متعلقہ محکموں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے ہدایات جاری کیں۔ حلقے کے لوگوں نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

    دورے کے دوران ملک محمد احمد خان نے ملک مشتاق کی رہائش گاہ پر جا کر ان کے بھائی ملک عالم مرحوم کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

    بعد ازاں انہوں نے حاجی محمد حسن کے صاحبزادے کے ولیمہ کی تقریب میں شرکت کی اور ایم این اے ملک رشید احمد خان کے ہمراہ دولہا اور دلہن کو مبارکباد دی۔

  • بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست، ہندو دھرم پر نظریاتی حملے
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ہندوتوا کے نظریے کو 1920 کی دہائی میں ساورکر نے متعارف کرایا تھا اور اس کے بعد سے یہ بھارت کی سیاست میں ایک اہم قوت بن چکا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کا نظریہ ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے جس کا ہندو دھرم کے اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہندوتوا کو اکثر ہندو مت سے جوڑ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ ہندو دھرم جو دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں شمار ہوتا ہے، تنوع، شمولیت اور عدم تشدد پر مبنی ہے جبکہ ہندوتوا ایک قوم پرستانہ سیاسی نظریہ ہے جس کا مقصد ہندو مت کی مخصوص تشریح کو فروغ دینا اور بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنا ہے۔

    ہندو مت کے بنیادی اصول محبت، امن، ہم آہنگی اور ہر انسان کی روحانی آزادی پر مبنی ہیں۔ اس میں مختلف آرا اور روایات کے لیے کھلی گنجائش ہے، اور اہنسا (عدم تشدد)کو زندگی کے بنیادی اصول کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہندوتوا کی سیاست نے ہندو دھرم کو تعصب، نفرت اور عدم برداشت کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ہندوتوا کے پیروکار مذہب کو ایک سخت نظریاتی اصول کے تحت دیکھتے ہیں جو بھارت کی اقلیتوں خصوصا مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف شدید تعصب پر مبنی ہے۔ہندوتوا کے زیر اثر، تاریخی اور مذہبی کتب کی تشریحات کو محدود کر کے مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد بھارت میں ایک یکساں ہندو شناخت بنانا ہے، جس سے اقلیتوں اور مختلف روایات کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہندو مت کے تنوع اور برداشت کو پس پشت ڈال کر، ہندوتوا کے نظریے نے معاشرتی تفرقہ اور مذہبی کشیدگی کو ہوا دی ہے۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کی حکومت اور خاص طور پر نریندر مودی کے دور اقتدار میں ہندوتوا کے نظریے کو زیادہ شدت کے ساتھ فروغ دیا گیا۔ اس کی مثالیں گجرات کے فسادات، ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کے واقعات ہیں۔ مودی حکومت نے ہندوتوا کی سیاست کو عوامی حمایت کے لیے استعمال کیا، جس سے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا۔2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی تقاریر میں 62 فیصد اضافہ ہوا۔ ان واقعات میں نہ صرف مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ انہیں سیاسی مفادات کے لیے استعمال بھی کیا گیا۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہندوتوا کی سیاست نے عام شہریوں کے ذہنوں پر اثر ڈالا جس کے نتیجے میں بھارت کی سیکولر بنیادیں کمزور ہوئیں۔

    ہندوتوا کے نظریے نے بھارت میں جمہوری اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مذہب کو سیاست کا اکھاڑا بنا کر حکومت نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ ترک کر دیا ہے۔ گا ئورکشا، لو جہاد، اور تبدیلی مذہب کے نام پر تشدد کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی ادارے اور عدلیہ بھی ان واقعات میں اکثر خاموش تماشائی بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    بھارت میں ہندو انتہاپسندی کے بڑھتے رجحانات نے مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مسلمانوں کے کاروبار، جائیدادیں اور عبادت گاہیں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد سے مساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی ایک مخصوص مہم نے مسلمانوں کو مزید حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔مودی حکومت کے دور میں گجرات فسادات، دہلی کے حالیہ واقعات اور متعدد دیگر واقعات بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی مثالیں ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی تشویش کے باوجود، مودی حکومت کے اقدامات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ رویہ بھارت کی جمہوریت کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے اور اقلیتوں کی زندگیوں کو مزید مشکلات کا شکار کر رہا ہے۔

    بھارت میں ہندوتوا کی سیاست اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم، تنقیدی مکالمے اور سیکولر قدروں کی ترویج ضروری ہے۔ ہندو دھرم کے قدیم فلسفے کو اجاگر کرنا، جس میں تنوع اور برداشت کی قدریں شامل ہیں، ہندوتوا کے نظریے کی نفرت انگیزی سے نجات کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کو بھی اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے ساتھ مثر سفارتی اور اقتصادی دبا بڑھانے کی ضرورت ہے۔

  • سیالکوٹ: وفاقی وزیر کا گردوارہ بابے دی بیر صاحب کا دورہ، سکھ یاتریوں کو مبارکباد

    سیالکوٹ: وفاقی وزیر کا گردوارہ بابے دی بیر صاحب کا دورہ، سکھ یاتریوں کو مبارکباد

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرمدثر رتو) وفاقی وزیر دفاع کا گردوارہ بابے دی بیر صاحب کا دورہ، سکھ یاتریوں کو مبارکباد

    سیالکوٹ میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گردوارہ بابے دی بیر صاحب کا دورہ کیا اور بابا گرو نانک کے 555 ویں جنم دن کے موقع پر سکھ یاتریوں کو مبارکباد پیش کی۔

    وزیر دفاع کو کینیڈا سے آئے سردار جسبیر سنگھ بوپارائے اور سیوا دار سردار جسکرن سنگھ سدھو نے خوش آمدید کہا اور سنگت کی جانب سے سووینیر پیش کیا۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے کیے گئے بہترین انتظامات کو سراہا۔

    تقریب میں موجود سکھ برادری نے بابا گرو نانک کے جنم دن پر مذہبی رواداری کے فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ خواجہ آصف نے یاتریوں کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی اور ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • سیالکوٹ: حسد و نفرت کی انتہا، بہو کے قتل کا اعتراف، کردارکشی کے الزامات جھوٹے نکلے

    سیالکوٹ: حسد و نفرت کی انتہا، بہو کے قتل کا اعتراف، کردارکشی کے الزامات جھوٹے نکلے

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی،بیوروچیف شاہدریاض)ڈسکہ میں حسد اور نفرت کی بناء پر بہو زارا کے قتل میں ملوث خالہ صغراں بی بی نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس تفتیش کے دوران ملزمہ نے انکشاف کیا کہ بہو پر لگائے گئے کردارکشی کے الزامات جھوٹے تھے اور یہ سب حسد کی بنیاد پر کیا گیا۔ قتل کیس میں صغراں کی بیٹی صبا اور نواسہ قاسم کو بھی زیر حراست لیا گیا ہے جبکہ مقتولہ کے اغوا کی ایف آئی آر میں قتل سمیت مزید دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق صغراں نے اعترافی بیان میں کہا کہ حسد اور ذاتی دشمنی کے باعث اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر بہو کو قتل کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ،سب میرا قصور ہے، میری بیٹی اور نواسہ بھی اس جرم کی وجہ سے مصیبت میں پھنسے ہیں۔

    مقدمے میں اہم ملزم نوید کو بھی ڈیوٹی مجسٹریٹ حمیرا مظفرکی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم نوید کوایک روزہ جسمانی ریمانڈپرپولیس کےحوالے کردیا۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں اب تک چار ملزمان گرفتار جبکہ دو زیر حراست ہیں۔

    مقتولہ زارا کی شادی گوجرانوالہ کے رہائشی اے ایس آئی شبیر احمد کی بیٹی تھی، جس کی شادی چار سال قبل خالہ زاد قدیر سے ہوئی تھی۔ سعودی عرب میں مقیم قدیر زارا کو ساتھ لے گیا تھا لیکن زارا گاہے بگاہے پاکستان آتی رہتی تھی۔ پیسے قدیر کے ذریعہ زارا کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے سے ساس اور بہو کے درمیان جھگڑے شروع ہو گئے۔

    ملزمہ صغراں نے پہلے بہو کے کردار پر الزامات لگائے تاکہ طلاق دلوائی جا سکے۔ ناکامی کے بعد اس نے اپنی بیٹی یاسمین کے ساتھ مل کر قتل کا منصوبہ بنایا۔ زارا کے پاکستان آنے پر ملزمان نے لاہور سے نوید کو بھی اس سازش میں شامل کر لیا۔ زارا کو قتل کے بعد اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے شناخت چھپانے کی کوشش کی گئی اور نعش کو پانچ بوریوں میں ڈال کر نالے میں پھینک دیا گیا۔

    اس لرزہ خیز قتل نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور ملوث افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • میہڑ: گاؤں قادرپور میں مسلح افراد کا گھر پر حملہ، ایک شخص قتل

    میہڑ: گاؤں قادرپور میں مسلح افراد کا گھر پر حملہ، ایک شخص قتل

    میہڑ(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ) گاؤں قادرپور میں مسلح افراد کا گھر پر حملہ، ایک شخص قتل

    تفصیل کے مطابق میہڑ کے گاؤں قادرپور کلرائی کھوسہ میں مسلح افراد کے حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے گھر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں عاشق علی کھوسہ کو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر مقتول کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل اسپتال میہڑ منتقل کر دیا۔

    عاشق علی کھوسہ کے ورثا نے میڈیا کو بتایا کہ جلبانی اور شر برادری کے مابین دیرینہ دشمنی چل رہی تھی جس کے باعث جلبانی برادری کے افراد نے ان کے گھر پر بلاجواز حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ان کے نوجوان عاشق علی کو قتل کر دیا گیا۔

    پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور حملے کے ذمہ داران کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گاؤں میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور مقامی لوگوں نے حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

  • اوکاڑہ: جعلی پیر کی خنجر کے زور پر خاتون سے زیادتی، ملزم گرفتار

    اوکاڑہ: جعلی پیر کی خنجر کے زور پر خاتون سے زیادتی، ملزم گرفتار

    اوکاڑہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارملک ظفر) جعلی پیر کی خنجر کے زور پر خاتون سے زیادتی، ملزم گرفتار

    اوکاڑہ میں ایک جعلی پیر کے ہاتھوں خاتون کی مبینہ زیادتی کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے گھریلو تنازعے اور شوہر سے ناراضگی کے باعث تسلی و دم درود کے لیے جعلی پیر کے پاس گئی تھی۔ تاہم جعلی پیر نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خاتون کو خنجر دکھا کر دھمکایا اور مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    واقعہ اوکاڑہ کے قصبہ 53 ٹوایل میں پیش آیا، جہاں سے پولیس نے اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ تھانہ صدر میں ملزم کے خلاف زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کر لیا گیا ہے اور اسے طبی معائنے کے لیے ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ اس واقعے پر شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے جعلی پیروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جعلی پیروں کے ہاتھوں خواتین کی عزتیں لوٹنے اور دھوکہ دینے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سدباب کے لیے حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

    ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ اس طرح کی دیگر کتنی وارداتوں میں ملوث رہاہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جعلی پیروں اور عاملوں کے دھوکے سے بچنے کے لیے احتیاط برتیں اور ایسے معاملات کو فوری طور پر متعلقہ حکام کے نوٹس میں لائیں۔

  • مظفرآباد:حلقہ 7 سنگھڑ بلاسیٹھو،گندیگراں روڈ کی تعمیر میں کرپشن،عوام مشکلات کا شکار

    مظفرآباد:حلقہ 7 سنگھڑ بلاسیٹھو،گندیگراں روڈ کی تعمیر میں کرپشن،عوام مشکلات کا شکار

    مظفرآباد (باغی ٹی وی،نامہ نگار) حلقہ 7 پاہل کے گاؤں سنگھڑ شمالی سے گندیگراں تک جانے والی روڈ کی تعمیر عوام کے لیے مشکلات کا سبب بن گئی ہے۔ ضلع جہلم ویلی کے ٹھیکیدار فرید خان کو ایک کلومیٹر روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا تھا لیکن یہ منصوبہ صرف افتتاحی تختی لگانے تک محدود رہا۔ فرید خان نے یہ ٹھیکہ سب کنٹریکٹر چوہدری نزاکت ساکن نلئی کو دیا جنہوں نے مزید دو افراد سخاوت شاہ ساکن بلاسیٹھو اور چوہدری الطاف ساکن گندیگراں کو ذیلی ٹھیکے دے دیے۔

    ابتدائی طور پر تعمیراتی کام جوش و خروش سے شروع ہوا اور سخاوت شاہ کے حصے میں سولنگ کا کام بہترین انداز میں مکمل ہوا۔ تاہم، چوہدری الطاف کے حصے میں آنے والا کام نہایت غیر معیاری رہا، جس نے روڈ کی حالت کو مزید بگاڑ دیا۔ پہلے جہاں جیپ اور دیگر گاڑیاں آسانی سے گزر سکتی تھیں، وہاں اب پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

    چوہدری نزاکت کا کہنا ہے کہ مین کنٹریکٹر فرید خان کو فنڈز نہ ملنے کے باعث کام رکا ہوا ہے۔ اب جبکہ برفباری کا موسم قریب ہے، عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناتجربہ کار اور ناقص کام کرنے والے افراد نے کروڑوں روپے کے اس منصوبے کو ناقابلِ عمل بنا دیا ہے اور ترقیاتی کام کہیں نظر نہیں آتا۔

    علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقتدر حلقے فوری طور پر مداخلت کریں اور ٹھیکیدار فرید خان کو فنڈز فراہم کیے جائیں یا محکمہ لوکل گورنمنٹ خود اس منصوبے کی نگرانی کرے تاکہ روڈ کی تعمیر مکمل ہو سکے۔ حلقہ 7 کے وزیرِ تعلیم دیوان علی خان چغتائی کی کاوشوں سے آنے والے ترقیاتی منصوبے بدعنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں اور عوام کے لیے مشکلات کا سبب بنتے جارہےہیں۔

  • میہڑ: کھیل کے دوران 6 سالہ بچی پانی میں ڈوب کر جاں بحق

    میہڑ: کھیل کے دوران 6 سالہ بچی پانی میں ڈوب کر جاں بحق

    میہڑ(باغی ٹی وی،نامہ نگارمنظورعلی جوئیہ) کھیل کے دوران 6 سالہ بچی تالاب میں ڈوب کر جاں بحق، علاقے میں غم کی فضا

    میہڑ کے نواحی گاؤں بٹ سرائی میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں کھیل کے دوران پاؤں پھسلنے سے 6 سالہ معصوم بچی سومل پتافی تالاب میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق سومل اپنے دوستوں کے ساتھ گاؤں کے نزدیک کھیل رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ تالاب میں گر گئی۔ وہاں موجود بچوں نے فوری طور پر شور مچایا جس پر مقامی لوگ موقع پر پہنچے اور بچی کو تالاب سے نکال کر فوری طور پر تحصیل ہسپتال میہڑ منتقل کیا گیا۔

    ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے معصوم سومل پتافی کی موت کی تصدیق کردی۔ اس دلخراش واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں نے اس حادثے کو بےحد افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ گاؤں میں بچوں کی حفاظت کے حوالے سے مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

    یہ واقعہ مقامی انتظامیہ اور والدین کے لیے ایک یاددہانی ہے کہ بچوں کی حفاظت اور انہیں خطرناک مقامات سے دور رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ بچی کے انتقال پر علاقے بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور لوگ اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچنے لگے۔

  • گوجرانوالہ: پولیس یوتھ انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب

    گوجرانوالہ: پولیس یوتھ انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب

    گوجرانوالہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی): پنجاب پولیس یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے بیسویں بیج کی اختتامی تقریب

    گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس یوتھ انٹرن شپ پروگرام کے بیسویں بیج کی اختتامی تقریب سی پی او آفس میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر رضا تنویر سپرا نے شرکاء کو سرٹیفکیٹس اور فرینڈز آف پولیس کے بیجز تقسیم کیے۔ انٹرن شپ پروگرام کا مقصد پولیس کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے۔

    سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم کی ہدایت پر دو ہفتوں کے اس پروگرام میں طلبا و طالبات کو پولیسنگ، آپریشنز، انوسٹی گیشن، فرنٹ ڈیسک، ویمن انکلیو اور دیگر شعبوں سے متعلق تربیت دی گئی۔ ڈاکٹر رضا تنویر سپرا نے کہا کہ کمیونٹی پولیسنگ کو نوجوان نسل کے تعاون سے مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انٹرن شپ کے شرکا نے اس اقدام کو سراہا اور پولیس کے امن و خدمت کی کوششوں کو سراہا۔

  • گوجرانوالہ: خواتین کی دستکاریوں کے فروغ کے لیے نمائش کا انعقاد

    گوجرانوالہ: خواتین کی دستکاریوں کے فروغ کے لیے نمائش کا انعقاد

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی ،نامہ نگار محمدرمضان نوشاہی) کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی نے کہا ہے کہ پاکستانی خواتین ہنر اور مہارت میں دنیا کی کسی قوم سے کم نہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے گھریلو صنعتوں اور دستکاریوں کے فروغ کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے ضلعی انتظامیہ مکمل معاونت اور سرپرستی فراہم کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال گوجرانوالہ ڈویژن کے زیر اہتمام ایک روزہ "ہینڈی کرافٹ نمائش: میڈا ہنر میڈا گہنا” کی افتتاحی تقریب میں کیا۔

    کمشنر نوید حیدر شیرازی نے کہا کہ گوجرانوالہ ڈویژن کے اضلاع میں صنعت زار، انڈسٹریل ہومز اور سماجی تنظیموں سے وابستہ خواتین کی تیار کردہ مصنوعات عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ خواتین کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور جدید رجحانات کے مطابق تربیت و آگاہی فراہم کرنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

    تقریب میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد، ڈپٹی کمشنر گجرات صفدر حسین ورک، اے ڈی سی آر شبیر حسین بٹ، ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ارشاد وحید، مینیجر صنعت زار سمیرا اقبال اور دیگر سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت مختلف اضلاع کی خواتین نے بھرپور شرکت کی۔

    کمشنر نے کہا کہ خواتین کو ہنرمند بنا کر باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے خواتین کی مصنوعات کی سوشل میڈیا پر مارکیٹنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ تقریب کے دوران ڈپٹی کمشنر گجرات صفدر حسین ورک نے اپنی جیب سے خریداری بھی کی۔ نمائش کو شہریوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور خواتین نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ارشاد وحید نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔