Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پاکستانیوں کے لیے یو اے ای ویزا پابندی کی خبروں کی تردید

    پاکستانیوں کے لیے یو اے ای ویزا پابندی کی خبروں کی تردید

    امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستانیوں پر ویزا پابندیوں سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

    پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس میں کیے گئے دعوے حقائق کے برعکس ہیں،پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں حکومتیں سرکاری چینلز اور تعمیری بات چیت کے ذریعے باہمی تشویش کے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں، دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اماراتی حکام کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

    قبل ازیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پابندی کے فیصلے کے پیچھے سنگین وجوہات سامنے آئی ہیں، جن میں مجرمانہ سرگرمیوں، جعلسازی، اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید جیسے عوامل شامل ہیں۔ یہ بات یو اے ای کی جانب سے پاکستانی سفارت خانے کو فراہم کردہ دستاویزات میں تفصیلی طور پر بیان کی گئی ہے۔

    اماراتی حکام نے پاکستانی شہریوں پر مختلف نوعیت کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن کے مطابق پاکستانیوں کی بڑی تعداد ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ ان میں احتجاج، سوشل میڈیا پر یو اے ای حکومت کی پالیسیوں پر تنقید، اور آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ عمل یو اے ای کے مثبت امیج کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں اور دیگر قومیتوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کی شرح زیادہ ہے۔

    دستاویزات میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ کچھ پاکستانی شہری شناختی دستاویزات، جیسے پاسپورٹ اور شناختی کارڈز میں جعلسازی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ اس جعلسازی سے متعلق کئی واقعات نے یو اے ای کی سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جو ویزا پابندی کے فیصلے میں ایک اہم عنصر ثابت ہوا۔

    یو اے ای کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ پاکستانیوں میں مختلف مجرمانہ سرگرمیوں جیسے چوری، نوسربازی، گداگری، منشیات کی تجارت اور جسم فروشی میں ملوث ہونے کی شکایات موصول ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان جرائم کی شرح دیگر قومیتوں کے مقابلے میں پاکستانیوں میں زیادہ پائی گئی، جس سے سکیورٹی کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

    یو اے ای کے مقامی حکام نے ان تمام خدشات اور دستاویزی شواہد کو پاکستانی سفیر کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویزا پابندی کا فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں شکایات کے جائزے اور مجرمانہ سرگرمیوں کے شواہد پر تفصیلی غور کے بعد کیا گیا۔ یو اے ای حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ فیصلہ کسی مخصوص قوم کو نشانہ بنانے کے بجائے سکیورٹی اور قانون و نظم و ضبط کے تحفظ کے تحت کیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کو اس ویزا پابندی کی وجوہات پر سفارتی سطح پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور متعلقہ مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ یو اے ای کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات قائم رکھنے اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں کی بحالی کے لیے یہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

    یو اے ای کے اس اقدام نے پاکستانی کمیونٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے اور حکومت پاکستان کو اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے میڈیا پر زیر گردش ان خبروں کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اماراتی حکومت نے پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ ایک سرکاری دستاویزات شیئر کی جس میں پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں کی وجوہات درج تھیں.

  • غیر قانونی سفر،اٹلی جاتے ہوئے لیبیا میں حادثہ، 6 پاکستانی جاں بحق

    غیر قانونی سفر،اٹلی جاتے ہوئے لیبیا میں حادثہ، 6 پاکستانی جاں بحق

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،بیوروچیف شاہدریاض)لیبیا میں المناک حادثہ،6 پاکستانی نوجوان جل کر جاں بحق، سمبڑیال کے دو نوجوان شامل

    تفصیل کے مطابق لیبیا کے شہر زوارہ کے مشرقی علاقے میلیٹا میں ایک المناک حادثہ پیش آیا جس میں چھ پاکستانی نوجوان جل کر جاں بحق ہو گئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کی کار تیز رفتاری کے باعث سڑک لیول کرنے والی ایک موٹر گریڈر سے جا ٹکرائی۔ تصادم کے فوراً بعد کار میں آگ بھڑک اٹھی جس سے تمام مسافر جان کی بازی ہار گئے۔ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے نوجوانوں میں سے دو کا تعلق سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال کے نواحی گاؤں دوبرجی چندا سنگھ سے ہے، جن کی شناخت عمر اللہ رکھا اور ملک عادل رفیق کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    معلومات کے مطابق یہ نوجوان 31 اکتوبر کو فیصل آباد ایئرپورٹ سے سعودی عرب کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ سعودی عرب پہنچنے پر انہوں نے عمرہ کی سعادت حاصل کی اور کچھ دن وہاں قیام کے بعد لیبیا چلے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان نوجوانوں کا ارادہ غیر قانونی طور پر لیبیا سے اٹلی جانے کا تھا تاہم ان کا یہ سفر المناک حادثے کی وجہ سے ختم ہو گیا۔

    عمر اللہ رکھا اور ملک عادل رفیق کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک گئے تھے۔ ان کے اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں

    لیبیا میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں کے حوالے سے اس حادثے نے ایک بار پھر اس خطرناک راستے پر جانے والوں کی مشکلات کو نمایاں کر دیا ہے۔

  • کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟

    کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟

    کیا واقعی مہنگائی کم ہوگئی ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے وفد کے ساتھ ملاقاتوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے دعوی کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں اقتصادی استحکام کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد تک آ گئی ہے جبکہ شرحِ سود بھی 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آ گئی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شرحِ سود میں کمی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے پنجاب حکومت کی زرعی شعبے میں اصلاحات کی تعریف بھی کی۔
    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومتی دعوے زمینی حقائق سے میل کھاتے ہیں؟ آج کے دور میں عام آدمی کی زندگی شدید مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی، چینی، دالوں، واشنگ پاوڈر اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔ کیا وزیرِ اعظم نے کبھی خود بازار میں جا کر سبزی، گوشت یا بچوں کی اسکول کی سٹیشنری خریدی ہے؟ کیا انہوں نے عام آدمی کی طرح کسی سرکاری ہسپتال میں علاج کرایا ہے؟ یا وہاں کے مسائل کا سامنا کیا ہے؟

    وزیرِ اعظم کے یہ دعوے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے جو اس وقت جھوٹے اور خالی اعداد و شمار لگتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی جیسے مسائل نے عوام کو اذیت ناک حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ عوامی نمائندے اور حکومت اگر واقعی عوام کی بہتری کے خواہاں ہیں تو انہیں خالی باتوں اور بے بنیاد اعداد و شمار کے بجائے عملی اقدامات کی جانب بڑھنا ہوگا، ٹیکس چوروں اور ان کے معاونین کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی بھی حکومت کے ان وعدوں میں شامل ہے، جن کا عملی مظاہرہ عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ ملکی معیشت کی مضبوطی کا دعویٰ تب ہی حقیقت کا روپ دھارے گا جب حکومت عوام کو ریلیف دینے کے عملی اقدامات کرے گی۔

    حکومت کا دعوی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق معاشی اصلاحات کر رہی ہے لیکن ان اقدامات کے اثرات عوام پر براہِ راست منفی پڑ رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ معاشی پالیسیاں صرف معاشی اعداد و شمار کو بہتر بنانے کے لیے ہیں جبکہ عوام کے مسائل اور ان کی مشکلات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں وقتی تیزی کو عوامی فلاح سے جوڑنا شاید حقیقت سے دور ہے کیونکہ زمینی سطح پر معیشت کی بہتری کے اثرات عوام کو محسوس نہیں ہو رہے۔

    وزیرِ اعظم نے ٹیکس چوری کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا اور کہا کہ ٹیکس نادہندگان کو سزا دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ
    آیا یہ اقدامات صرف الفاظ تک محدود رہ جائیں گے یا حقیقی عمل بھی ہوگا؟ پاکستان میں ٹیکس نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے مگر اس کی کامیابی کے لیے بدعنوانی اور غیر منصفانہ ٹیکس نظام کو بھی ہدف بنانا ہوگا۔

    عوامی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ حکومت کی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کا شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ناقص سہولیات، مہنگی ادویات اور تعلیمی اخراجات نے متوسط طبقے کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔بازار میں سبزی، گوشت، بچوں کی سکول کی سٹیشنری اور دیگر اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوامی بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم سے سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے کبھی عوام کی طرح ان مسائل کا سامنا کیا ہے؟ اگر نہیں تو وہ ان کی مشکلات کو کیسے سمجھ سکیں گے؟

    وزیرِ اعظم اور ان کی ٹیم کو چاہیے کہ وہ محض اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو خوش کرنے کے بجائے حقیقی اور ٹھوس اقدامات کریں۔ معاشی پالیسیوں کا مقصد صرف بین الاقوامی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ مہنگائی کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے ہی عوامی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر حکومتی دعوے محض سیاسی نعروں کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔

  • ڈہرکی: تجاوزات کے خاتمے پر ریڑھی مزدوروں کا ساتویں روز بھی احتجاج

    ڈہرکی: تجاوزات کے خاتمے پر ریڑھی مزدوروں کا ساتویں روز بھی احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈہرکی میں تجاوزات کے خاتمے پر ریڑھی مزدوروں کا ساتویں روز بھی احتجاج،ریڑھی مزدوروں کو متبادل جگہ دی جائے، غیر قانونی دکانوں کے خلاف کارروائی کی جائے،شہری مزدور اتحاد کا مطالبہ

    ڈہرکی شہر میں تجاوزات اور انکروچمنٹ کے خاتمے کے حوالے سے شہری مزدور اتحاد کی جانب سے ساتویں روز بھی احتجاج جاری رہا۔ احتجاج کا مقصد غیرقانونی تجاوزات کو ہٹانا اور متاثرہ ریڑھی مزدوروں کو متبادل جگہ کی فراہمی ہے۔ یہ احتجاج ٹاؤن کمیٹی ڈہرکی کے دفتر کے سامنے منعقد کیا گیا۔

    شہری مزدور اتحاد ڈہرکی کے صدر محمد صادق لغاری نے مظاہرے کے دوران کہا کہ ان کی پرامن جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک ریڑھی مزدوروں کو ان کے حقوق نہیں مل جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈی ایم او اور چیئرمین ڈہرکی سے فون پر بات کی ہے، جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔

    مزدور رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ ریڑھی مزدوروں کو بے روزگار کر دیا گیا ہے، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ سکھر کے حکم کے مطابق ریڑھی مزدوروں کو متبادل مناسب جگہ فراہم کی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہر میں موجود دکانداروں کی جانب سے قائم کی جانے والی غیر قانونی دکانیں اصل انکروچمنٹ ہیں، اور جب تک ان کو ختم نہیں کیا جاتا، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

  • ٹھٹھہ: گٹکا گودام پر چھاپہ، مٹیریل فروش گرفتار، بھاری مقدار میں گٹکا برآمد

    ٹھٹھہ: گٹکا گودام پر چھاپہ، مٹیریل فروش گرفتار، بھاری مقدار میں گٹکا برآمد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار بلاول سموں کی رپورٹ) ٹھٹھہ پولیس نے منشیات اور غیر قانونی گٹکا فروشی کے خلاف جاری مہم کے دوران اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ انچارج سی آئی اے ٹھٹھہ انسپکٹر ممتاز علی بروہی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے خضرحیات مسجد کے قریب واقع محمود میمن کے گٹکا گودام پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی میں گٹکا مٹیریل فروش ملزم فیروز ولد شریف مگسی کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران 1340 پیکٹ تمباکو پتی، 24 کلو گٹکا مٹیریل اور 500 پیکٹ گٹکا ماوا برآمد کیے گئے۔ ملزم کے خلاف ٹھٹہ تھانے میں گٹکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    یہ کارروائی آئی جی پی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات کی روشنی میں ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات پر عمل میں لائی گئی۔ پولیس ترجمان کے مطابق منشیات، جرائم پیشہ عناصر، اور عادی مجرمان کے خلاف ٹھٹھہ پولیس کی کریک ڈاؤن مہم پوری قوت سے جاری ہے۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ نے کہا کہ علاقے کو جرائم سے پاک کرنا اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

    ملزم کی گرفتاری اور بھاری مقدار میں گٹکا برآمدگی کو منشیات کے کاروبار کے خلاف بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ گٹکا مافیا کے دیگر کارندوں تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس متحرک، ترجمان

    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس متحرک، ترجمان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس کی تفتیش جاری، ترجمان

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر الزمان اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہونے پر لاپتہ قرار دیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے اغواء کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اغواء کا مقدمہ درج کیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق مغوی کی بازیابی کے لیے جدید تکنیکی وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ CCTV کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ مغوی کے موبائل فون کے CDRs اور لوکیشن ڈیٹا کا تجزیہ بھی جاری ہے۔ مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔

    اس خبر کو بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج
    پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ ڈی پی او سید علی کی ہدایت پر ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مغوی کی تلاش میں مصروف عمل ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ  اغواء، مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ گدائی میں ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر الزمان کے اغواء کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کے بھائی مبشر الزمان کی درخواست پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا۔ مبشر الزمان نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بھائی، شیخ سکندر الزمان جو ڈیرہ غازی خان میں ایکسائز انسپکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، گزشتہ شب اپنی گاڑی ویگنار کار نمبر ANQ429 پر روانہ ہوئے تھے لیکن وہ واپس نہیں لوٹے۔

    مبشر الزمان نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی کا موبائل فون بند آ رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں تشویش ہوئی۔ انہوں نے متعدد بار مختلف نمبروں سے رابطہ کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران ریحان اکبر اور جاوید ستار بھی ان کی مدد کے لیے آئے اور مل کر شیخ سکندر الزمان کی تلاش کی گئی مگر ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا۔

    مبشر الزمان نے اس بات کا قومی شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بھائی کو اغواء کیا گیا ہے اور ان کی گمشدگی کے پیچھے نامعلوم افراد کی سازش ہو سکتی ہے۔ ان کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ان کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کے تحت مناسب اقدامات کیے جائیں۔

    پولیس نے اس معاملے کی ابتدائی تفتیش کی اور مقدمہ 365 کے تحت درج کر لیا ہے، جس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں "فکر اقبال” سیمینار اور تقریب رونمائی

    سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں "فکر اقبال” سیمینار اور تقریب رونمائی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض): سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں "فکر اقبال” سیمینار اور "تاریخ ادبیات سیالکوٹ” از ڈاکٹر نصیر احمد اسد کی کتاب کی رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ سیمینار کی صدارت صدر سیالکوٹ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری میاں محمد خلیل نے کی جس میں فکر اقبال سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد نعت رسول مقبول اور کلام اقبال پیش کیا گیا۔ ذیشان ساغر نے جب کلام اقبال پڑھا تو سامعین پر سحر طاری ہوگیا۔

    میاں محمد خلیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم صرف فکر اقبال پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے چیمبر کی جانب سے ہمیشہ اقبال کے افکار و نظریات کی ترویج کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا اور اس طرح کی تقریبات کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    تقریب کے مہمانان خصوصی میں کونسل وائس چیئر پرسن لائنز انٹرنیشنل ایل ایم ڈی 305 پاکستان، لائن شفقت خاور چوہدری، سیکنڈ وائس ڈسٹرکٹ گورنر لائن محمد سلیم، سینئر نائب صدر سیالکوٹ چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری محمد اعجاز غوری، چیئرمین ہلٹن سٹی سیالکوٹ ندیم مشتاق چوہدری، مدیر سٹی میگ خالد لطیف، چیئرپرسن اقبال چیئر جی سی خواتین یونیورسٹی سیالکوٹ ڈاکٹر سبینہ اویس اعوان، اور جنرل سیکرٹری پاکستان لٹریری فورم فریدالدین مسعود برہانی شامل تھے۔

  • سیالکوٹ: پنجاب کے تعلیمی ادارے کل سے کھولنے کا فیصلہ، احتیاطی تدابیر لازمی

    سیالکوٹ: پنجاب کے تعلیمی ادارے کل سے کھولنے کا فیصلہ، احتیاطی تدابیر لازمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر لاہور اور ملتان ڈویژن کے علاوہ باقی تمام اضلاع میں کل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    تمام سکولوں میں تدریسی عمل صبح پونے 9 بجے سے پہلے شروع نہیں ہوگا، اور تمام طالب علموں، اساتذہ اور عملے کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    مزید برآں، آؤٹ ڈور سپورٹس اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، اور مختلف جماعتوں کے لیے الگ الگ چھٹی کے اوقات مقرر کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک کا اژدہام نہ ہو۔

    بالائی علاقوں میں بارش کے باعث پنجاب کے بیشتر اضلاع میں فضائی معیار میں بہتری آئی ہے، جس کے بعد تعلیمی اداروں کی دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سکول انتظامیہ کو احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    ڈی جی ادارہ تحفظ ماحول پنجاب نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

  • کندھ کوٹ: ایم این اے میر علی جان خان مزاری کی مختیار احمد اعوان کے بھتیجے کی وفات پرتعزیت

    کندھ کوٹ: ایم این اے میر علی جان خان مزاری کی مختیار احمد اعوان کے بھتیجے کی وفات پرتعزیت

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی، نامہ نگار مختیار احمد اعوان) ایم این اے میر علی جان خان مزاری کا صحافی مختیار احمد اعوان کے بھتیجے کیوفات پر تعزیت

    تفصیل کے مطابق ایم این اے ضلع کشمور کندھ کوٹ سردار زادہ میر علی جان خان مزاری نے سینیئر صحافی مختیار احمد اعوان کے مرحوم بھتیجے کی تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچ کر لواحقین کے ساتھ دکھ کا اظہار کیا۔

    ایم این اے میر علی جان خان مزاری نے امتیاز احمد اعوان سمیت دیگر اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحوم کی مغفرت کی دعا کی۔ اس موقع پر سردار لیاقت خان ملک، لالا شمس الدین پٹھان، میر مشتاق خان بنگوار، مقدام شاہمور خان، میر مناف خان شہریانی، میر بقا محمد خان بنگوار سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔