Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ: بابا گرونانک کے 555ویں جنم دن کی تقریبات، گردوارہ بابے دی بیر صاحب میں یاتریوں کی آمد

    سیالکوٹ: بابا گرونانک کے 555ویں جنم دن کی تقریبات، گردوارہ بابے دی بیر صاحب میں یاتریوں کی آمد

    سیالکوٹ( باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر مدثر رتو )بابا گرونانک کے 555ویں جنم دن کی تقریبات، گردوارہ بابے دی بیر صاحب میں یاتریوں کی آمد

    تفصیل کے مطابق سیالکوٹ میں بابا گرونانک کے 555ویں یوم پیدائش کے موقع پر دنیا بھر سے سکھ یاتریوں اور سنگتوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جو تاریخی گردوارہ بابے دی بیر صاحب میں اپنے مذہبی پیشوا سے عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں اور مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل سیالکوٹ ایوب بخاری نے گردوارہ کا دورہ کیا اور سیوا دار سردار جسکرن سنگھ سدھو کے ہمراہ سیکیورٹی اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔

    حکومت پاکستان اور پنجاب نے اندرون اور بیرون ملک سے آنے والے یاتریوں کی سہولت اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ سردار جسکرن سنگھ سدھو نے بتایا کہ سکھ یاتریوں کو پرسکون اور محفوظ ماحول فراہم کیا گیا ہے اور مقامی انتظامیہ کا مکمل تعاون حاصل ہے۔

    انہوں نے سیکیورٹی کے بہترین انتظامات پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ یاتریوں کے لیے خصوصی عبادات کے ساتھ ساتھ وسیع لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

  • عمرکوٹ: دو معصوم بچوں کا قاتل سفاک چچا گرفتار

    عمرکوٹ: دو معصوم بچوں کا قاتل سفاک چچا گرفتار

    میرپور خاص (باغی ٹی وی،نامہ نگارشاہزیب شاہ) تحصیل عمرکوٹ کے نواحی گاؤں رانا جاگیر میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں دو معصوم بچوں، دو سالہ نریندر میگھواڑ اور ایک سالہ صندر میگھواڑ کو کلہاڑی کے وار سے بے دردی سے قتل کرنے والے ملزم سترام میگھواڑ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملزم مقتول بچوں کا چچا ہے۔

    مقتول بچوں کے والد، راجیش میگھواڑ کی مدعیت میں عمرکوٹ سٹی تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا، کرائم نمبر 217/2024 کے تحت مقدمہ دفعہ 302 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم سترام بچوں کو کھلانے کے بہانے گھر سے لے گیا تھا۔ کافی دیر تک واپس نہ آنے پر جب بچوں کی تلاش شروع کی گئی تو ملزم گاؤں کے قریب جھاڑیوں میں ملا، جس نے اعتراف کیا کہ اس نے بچوں کو قتل کر دیا ہے۔

    ملزم کی نشاندہی پر دونوں بچوں کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔ ایک بچے کی لاش کا دھڑ ہی ملا، بعد میں تلاش کے بعد سر بھی برآمد کر لیا گیا۔ مقتولین کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جا چکا ہے اور مزید قانونی کارروائی اور ملزم سے تفتیش جاری ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلی ،کوپ 29 کانفرنس،پاکستان کے لیے امید کی کرن؟

    موسمیاتی تبدیلی ،کوپ 29 کانفرنس،پاکستان کے لیے امید کی کرن؟

    موسمیاتی تبدیلی ، کوپ 29 کانفرنس،پاکستان کے لیے امید کی کرن؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    میں اپنی ای میلز چیک کر رہا تھا تو اس دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے ایک ای میل آئی، جس میں بتایا گیا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل ماضی میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اجلاسوں میں بھی شامل رہی ہے۔ انہوں نے وہاں مختلف پروگرامز منعقد کیے اور حکومتوں سے بات چیت کرکے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ اس سال بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دوسری تنظیمیں یہی کام کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں جب فیصلے کیے جائیں، تو لوگوں کے حقوق کو بھی اہمیت دی جائے۔

    اس میل کے ذریعے مجھے اقوامِ متحدہ کے تحت موسمیاتی تبدیلی پر 29ویں کانفرنس (COP29) جو کہ 11 سے 22 نومبر 2024 تک باکو آذربائیجان میں جاری رہے گی اور پاکستان کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق صورتحال کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لیے اس کانفرنس کی بہت اہمیت ہے۔ اس سال خاص طور پرکلائمیٹ چینج سے متعلق فنڈز پر توجہ دی جا رہی ہے اور اس میں وہ ممالک شامل ہیں جو موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

    پاکستان کو حالیہ برسوں میں شدید موسمیاتی آفات کا سامنا کرنا پڑا ہے جیسے کہ 2022 کا سیلاب ،جس میں تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور 1700 سے زائد افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی کی لہر، خشک سالی اور گلیشیئرز کا پگھلنا جیسے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جن سے نہ صرف ماحول بلکہ لوگوں کی زندگیوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کا اثر صرف ماحولیاتی بحران تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک سنگین ترقیاتی اور انسانی بحران بھی بن چکا ہے۔ لاکھوں افراد ان آفات کا شکار ہو کر بے گھر ہو گئے ہیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے ہیں اور صحت کے مسائل میں اضافے کی وجہ سے عوام کی حالت مزید ابتر ہو چکی ہے۔

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور جب بھی موسمیاتی آفات آتی ہیں اسے دوبارہ تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔COP29 کانفرنس میں پاکستان کو یہ امید ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے فنڈز کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک نے 2009 میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال 100 ارب ڈالر ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور ان کے تحفظاتی منصوبوں کے لیے فراہم کریں گے، لیکن ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا۔

    پاکستان کو اس مالی امداد کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی صلاحیت بڑھا سکے اور زرعی اصلاحات، پانی کے انتظام اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکے۔پاکستان کی توقعات صرف فنڈز کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے اس مالی امداد کو حاصل کرنے کا عمل بھی آسان بنایا جانا چاہیے۔ کلائمیٹ فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار پیچیدہ ہے اور بیوروکریسی کی تاخیر یا سخت شرائط کی وجہ سے اکثر وعدے پورے نہیں ہو پائے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ فنڈز کا درست اور شفاف استعمال ہواور ملنے والے فنڈز کرپشن کی بھینٹ نہ چرح جائیں بلکہ اس فنڈ کا فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔پاکستان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ نقصان اور تلافی کے فنڈ کے بارے میں عالمی سطح پر واضح اقدامات کیے جائیں تاکہ موسمیاتی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز کی بحالی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، روایتی قرضوں اور گرانٹس کے علاوہ جدید مالیاتی طریقے جیسے کلائمیٹ بانڈز اور عوامی و نجی شراکت داریوں کو بھی زیرِ غور لانا ہوگا۔ اس سے پاکستان کو کم قیمت پر وسائل فراہم کیے جا سکتے ہیں اور اس کا قرضوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں ہے بلکہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت بھی ہے تاکہ وہ پائیدار زراعت، پانی کے بہتر انتظام اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ماہرین کی مدد بھی پاکستان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ موسمیاتی بحران کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکے۔پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کلائمیٹ فنڈز کی فراہمی میں شفافیت ہو اور ان فنڈز کا استعمال عوامی فائدے کے لیے کیا جائے۔ موسمیاتی فنڈز کو درست طریقے سے استعمال کرنے کے لیے مئوثر نظام وضع کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کا فائدہ واقعی متاثرہ افراد تک پہنچے۔

    پاکستان کی COP29 میں شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات عالمی سطح پر ہیں اور کوئی بھی ملک اس بحران سے اکیلا نہیں نمٹ سکتا۔ اگر ترقی یافتہ ممالک اپنے وعدوں کو عملی طور پر پورا کریں اور اعلان کردہ فنڈز فراہم کریں اور پاکستان کے ساتھ حقیقی شراکت داری قائم کریں تو یہ کانفرنس ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا اور یہ وعدے صرف الفاظ تک محدود رہ گئے تو عالمی سطح پر عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور متاثرہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے لیے یہ وقت وعدوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے اور اس کو عالمی برادری کی حقیقی حمایت کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکے۔

  • بہاولپور: ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کے ملزمان گرفتار، بڑی رقم برآمد

    بہاولپور: ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کے ملزمان گرفتار، بڑی رقم برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور اسد سرفراز خان کے احکامات پر ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی، جس کے دوران پولیس نے بڑی مقدار میں ڈکیتی شدہ رقم اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کیا۔ ڈی پی او بہاولپور کا کہنا ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اولین ذمہ داری ہے اور جرائم پیشہ عناصر کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    ایس پی انویسٹی گیشن خالد محمود تبسم نے تھانہ کینٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی خصوصی ہدایات پر تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او طاہر اقبال اور ان کی ٹیم نے ایک بڑی ڈکیتی کی واردات کو ٹریس کیا۔ یہ واردات ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک کے ساتھ ہوئی تھی۔ جدید ٹیکنالوجی، CCTV فوٹیج، جیوفینسنگ، ہیومن ریسورس اور سائنسی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کی شناخت اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ملزمان سے 80 لاکھ روپے کی ڈکیتی شدہ رقم اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد ہوا۔

    ایس پی خالد محمود تبسم نے مزید بتایا کہ تھانہ سٹی احمدپور شرقیہ میں اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔ ڈی پی او بہاولپور نے تھانہ اوچ شریف کے ایس ایچ او محمد لطیف کو خصوصی ٹاسک دیا۔ پولیس نے قلیل وقت میں کارروائی کرتے ہوئے سپیشل ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے اغوا کاروں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کرلیا۔ ان سے 1 کروڑ 58 لاکھ روپے کی تاوان کی رقم، واردات میں استعمال ہونے والی گاڑیاں، موٹر سائیکل اور ناجائز اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور برآمد شدہ رقم ضروری کارروائی کے بعد اصل مالکان کو واپس کی جا رہی ہے۔ شہریوں نے اپنی رقم کی بحالی اور ملزمان کی فوری گرفتاری پر بہاولپور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈی پی او اسد سرفراز خان نے اس موقع پر بیان دیا کہ جرائم پیشہ افراد کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور انہیں قانونی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ میڈیا کے نمائندگان نے پولیس کی اس بہترین کارکردگی کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی عوام کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات جاری رہیں گے۔

  • ننکانہ صاحب: بھارت سے آئے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال

    ننکانہ صاحب: بھارت سے آئے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) بھارتی سکھ یاتریوں کو واہگہ بارڈر سے خصوصی بسوں میں فول پروف سیکیورٹی کے ساتھ ننکانہ صاحب پہنچایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید ندیم عباس نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بھارتی سکھ یاتریوں کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے اور ان پر منوں پھول نچھاور کیے گئے۔

    سکھ یاتریوں کے لیے رہائش، صحت، سیکیورٹی اور خوراک کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ یاتری ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منعقدہ صوفی نائٹ میں بھی شرکت کریں گے۔ بھارتی سکھ یاتریوں نے پاکستان میں ملنے والے پروٹوکول پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کا والہانہ استقبال اور محبت مثالی ہے۔ یاتریوں نے حکومت اور انتظامیہ کے شاندار انتظامات پر شکریہ ادا کیا۔

  • ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے ٹیچنگ ہسپتال میں علاج کروانا مریضوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ ہسپتال میں بے ترتیبی، اقربا پروری اور سفارش کلچر نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کی حالت دگرگوں ہوچکی ہے، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بیڈ گورننس اور سفارش کلچر کی وجہ سے ہسپتال میں مریضوں کا علاج مشکل ہوگیا ہے اور سسٹم میں موجود بدعنوانیوں نے مریضوں کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ہسپتال میں پرچی لائن میں مریضوں کو دو سے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مریض جب اپنی باری پر پرچی کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں تو کئی بار انہیں انتظار کے باوجود اپنی باری کے بجائے کسی سیکیورٹی گارڈ، نرس یا چپڑاسی کے ذریعے مخصوص افراد کی پرچیاں تیار ہوتے دیکھنا پڑتا ہے جو بغیر کسی اصول کے فوراََ علاج کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مریض جو اپنی باری کے منتظر ہوتے ہیں انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ میرٹ کی بات کرتے ہیں تو انہیں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پرچی کے حصول کے بعد مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے مزید گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے دی جانے والی دوائی لینے کے لیے مریضوں کو فارمیسی میں بھی طویل لائنوں کا سامنا ہوتا ہے جہاں کچھ دوائیاں فراہم کی جاتی ہیں لیکن باقی کا کہاجاتا ہے کہ وہ بازار سے خریدنی ہوں گی۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے عوام کا اعتماد حکومتی نظام پر سے اٹھ چکا ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    منتخب عوامی نمائندے اور ضلعی انتظامیہ صرف فوٹوشو ٹ و پروٹوکول انجوائے کر رہے ہیں اور ہسپتال کی حقیقت سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ ناقص نگرانی اور غیر مؤثر اقدامات کے باعث تمام وسائل دستیاب ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ہروقت میڈیا میں نظرآنے کی شوقین ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید مایوسی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہےاور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس سے ہسپتال کے نظام پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    اس بدانتظامی کے باعث شہریوں نے وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کی سروس ڈیلوری میں بہتری لائی جا سکے اور مریضوں کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • مہر جتوئی جھگڑےکا فیصلہ، 7 افراد کا قتل ثابت، 2 کروڑ 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    مہر جتوئی جھگڑےکا فیصلہ، 7 افراد کا قتل ثابت، 2 کروڑ 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    میرپور ماتھیلو(باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)سرکٹ ہاؤس سکھر میں منعقدہ اہم فیصلے میں پیپلز پارٹی کے رہنما علی گوہر مھر، غوث بخش مھر، ابراہیم جتوئی، میر عابد جتوئی اور دونوں برادریوں کے معززین نے شرکت کی۔ اس فیصلے کا اعلان فتویٰ کریم بخش بڈانی نے کیا۔

    فیصلے کے مطابق مھر اور جتوئی برادریوں کے درمیان سات خون ثابت ہوئے ہیں۔ مھر برادری کے پانچ قتل ثابت ہوئے، جن میں چار مردوں کی دیت ایک کروڑ روپے اور ایک خاتون کی دیت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی۔ مجموعی طور پر جتوئی برادری پر ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

    اسی طرح جتوئی برادری کے دو خون ثابت ہوئے، جن کی دیت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ ایک عورت کے اغوا پر 20 لاکھ روپے جرمانہ رکھا گیا جبکہ عورت کے قتل کی دیت مرد کے قتل سے دوگنی رکھی گئی ہے۔

    فیصلے میں یہ بھی طے کیا گیا کہ کسی بھی واردات میں مرنے والے چور کا کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے یا جھگڑے کا آغاز کرے تو اس پر 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ برادریوں کے درمیان جھگڑوں کو ختم کرنے اور امن و امان کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔

  • سرگودھا: پولیس لائنز، خواتین کانسٹیبل کی ہراسگی پر انسپکٹر آزر ندیم کو ضلع بدر کر دیا گیا

    سرگودھا: پولیس لائنز، خواتین کانسٹیبل کی ہراسگی پر انسپکٹر آزر ندیم کو ضلع بدر کر دیا گیا

    سرگودھا (باغی ٹی وی، نامہ نگار شاہنواز جالپ) پولیس لائنز، خواتین کانسٹیبل کی ہراسگی پر انسپکٹر آزر ندیم کو ضلع بدر کر دیا گیا،انسپکٹر آزر ندیم کے خلاف انکوائری میں کرپشن اور ناجائز عزائم کی تفصیلات سامنے آئیں، آئندہ کسی اہم عہدے پر تعیناتی پر پابندی

    تفصیل کے مطابق سرگودھا پولیس لائنز میں خواتین کانسٹیبل کے ساتھ ہراسگی کے معاملے میں پولیس کی اعلیٰ قیادت نے سخت کارروائی کی ہے۔ سیکورٹی انچارج انسپکٹر آزر ندیم کو ضلع بدر کر دیا گیا ہے اور ان کی آئندہ کسی بھی اہم عہدے پر تعیناتی پر واضح احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق دوران انکوائری یہ بات سامنے آئی کہ آر اے لیڈی کانسٹیبل انسپکٹر آزر ندیم کے ناجائز عزائم کی تکمیل میں سہولت کاری کرتی رہی۔ انسپکٹر آزر ندیم نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی لیکن اپنی صفائی میں کوئی ٹھوس ثبوت یا گواہ پیش نہ کر سکے۔

    انکوائری کے دوران یہ بھی پتا چلا کہ آزر ندیم کی شہرت اچھی نہیں ہے اور وہ محکمے کے لیے بڑی بدنامی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ریکارڈ چیک کرنے پر یہ بھی انکشاف ہوا کہ انسپکٹر آزر ندیم کو تین مرتبہ محکمہ سے ڈسمس کیا جا چکا ہے اور وہ کرپشن کے دو مقدمات میں بھی ملوث ہیں۔

    اس تمام صورتحال کے بعد پولیس لائنز کی خواتین کانسٹیبل نے ہراسگی کے حوالے سے آئی جی پنجاب کو خط لکھا تھا، جس کے بعد انکوائری کی گئی اور انسپکٹر آزر ندیم کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

  • گوجرہ: فوڈ اتھارٹی کا غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ، مضر صحت گوشت برآمد، دو ملزمان گرفتار

    گوجرہ: فوڈ اتھارٹی کا غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ، مضر صحت گوشت برآمد، دو ملزمان گرفتار

    گوجرہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارعبدالرحمن جٹ) فوڈ اتھارٹی کا غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ، مضر صحت گوشت برآمد، دو ملزمان گرفتار

    تفصیل کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی عدنان حیدر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گوجرہ کے محلہ نیو پلاٹ میں غیر قانونی نجی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ مارا، جس کے دوران 6 من (245 کلوگرام) مضر صحت گوشت برآمد کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے ٹی ایم سی کی جعلی سرکاری مہر بھی برآمد کی گئی۔

    فوڈ سیفٹی ٹیم نے ملزمان محمد عرفان ولد طفیل ضیاء اور احسان ولد طاہر علی کو گرفتار کر لیا۔ دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ سٹی پولیس نے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2011 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر عدنان حیدر کا کہنا تھا کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بیمار اور لاغر گوشت عوام کو بیچنے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • گھوٹکی پولیس کی بروقت کارروائی، بنوں کامغوی  بحفاظت بازیاب

    گھوٹکی پولیس کی بروقت کارروائی، بنوں کامغوی بحفاظت بازیاب

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس نے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر بنوں کے مغوی کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت بازیاب کر لیا۔ ایس ایس پی گھوٹکی ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی ہدایات پر پولیس نے اہم مقامات پر تعیناتی اور بروقت اطلاعات حاصل کرنے کے بعد فضل ربی ولد بازی خان پٹھان سکنہ بنوں خیبرپختونخواہ کو بازیاب کر لیا۔

    پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ اغواء کار مغوی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے والے ہیں۔ ایس ایچ او بمہ اسٹاف فوراً نشاندہی والی جگہ موٹر چوک نزد محبوب سیلرو گوٹھ کچہ ایریا پہنچے، جہاں اغواء کاروں نے پولیس کی آمد کو دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی، جس کے بعد اغواء کار مغوی کو چھوڑ کر کچہ کی طرف فرار ہو گئے۔

    ایس ایچ او نے مغوی کو بحفاظت اپنے ساتھ تھانہ شہید دین محمد لغاری منتقل کیا، جہاں قانونی کارروائی کے بعد اس کو اس کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے گا۔