Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد مریضوں کی بگڑتی ہوئی حالت اور بڑھتے ہوئے انفیکشنز نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ذرئع کے مطابق ہسپتال کے ٹراما سینٹر، گائنی، یورالوجی اور سرجیکل ڈیپارٹمنٹ میں کیے جانے والے آپریشنز کے بعد اکثر مریضوں کو صحتیاب ہونے کے بجائے شدید انفیکشن اور دیگر خطرناک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔آپریشنز کے بعد انفیکشنز بڑھنے کی متعدد وجوہات ہیں سامنے آئی ہیں جن میں سب سے اہم ناقص سٹرلائزیشن، غیر معیاری علاج اور بے دھیانی شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال کے مختلف آپریشن تھیٹرز میں استعمال ہونے والے آلات(انسٹرومنٹس)کو بروقت اور موثر طریقے سے جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ عموما آلات کو خالی پانی سے دھو کر دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے، جس سے انفیکشن پھیلنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔اسی طرح ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی بیشتر ادویات خاص طور پر اینٹی بائیوٹک انجیکشنز ناقص اور غیر معیاری ہیں۔ ان ادویات کی تاثیر نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے استعمال سے انفیکشن کنٹرول ہونے کے بجائے مزید پھیل رہے ہیں ،مختلف ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق ان ادویات کی لاگت میں کمی کی وجہ سے ایکسپائرڈ کیمیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری طرف ہسپتال میں اکثر نرسز اور طبی عملہ مناسب تربیت اور تجربے سے عاری ہے۔ آپریشن کے بعد مریضوں کی بروقت اور جراثیم سے پاک ڈریسنگ نہ ہونے کی وجہ سے زخم خراب ہوجاتے ہیں اور انفیکشن میں تیزی آتی ہے۔ ان میں سے بعض زخموں کو مناسب توجہ نہ ملنے کی وجہ سے پیچیدہ انفیکشنز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ساتھ ہی ہسپتال کے مختلف وارڈز اور آپریشن تھیٹرز میں صفائی کا فقدان ہے۔ آپریشن تھیٹرز میں موجود ساز و سامان کو باقاعدگی سے صاف نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہاں موجود بیکٹیریا اور دیگر جراثیم مریضوں کے زخموں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ہسپتال میں غفلت کی انتہا ہوگئی ہے کہ آپریشنز میں استعمال ہونے والے آلات کو بعض اوقات سٹرلائز کیے بغیر ایک سے دوسرے مریض پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ غیر پیشہ ورانہ عمل زخموں میں انفیکشن کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے، اس کے علاوہ انہتائی خطرناک بیماریاں جن میں ہیپاٹائٹس،ایڈز ودیگر موذی امراض شامل ہیں پھیل رہے ہیں،جن کے باعث مریض مزید سنگین مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق انفیکشن اور مریضوں کی بگڑتی حالت کی بنیادی وجہ محکمہ صحت پنجاب میں کرپشن اور غیر ذمہ داری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹ افسران کے زیر اثر ناقص اور غیر معیاری ادویات کی سپلائی کو جاری رکھا گیا ہے۔ ان ادویات کی سپلائی میں افسران کی جانب سے کمیشن کی خاطر غیر معیاری اور سستے کیمیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں جو مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ ایکسپائرڈ اور ناقص ادویات کی لیبارٹری رپورٹس کو رشوت دے کر پاس کروا لیا جاتا ہے جس سے ہسپتالوں میں غیر معیاری علاج اور انفیکشن کا سلسلہ بڑھتا جارہاہے۔

    ڈیرہ غازیخان کے شہریوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس میگا کرپشن کے خاتمے اور محکمہ صحت پنجاب کے کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں انسٹرومنٹس کی سٹرلائزیشن اور ادویات کی فراہمی کو موثر اور معیاری بنایا جائے تاکہ مریضوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں ۔

  • سیالکوٹ: مختلف علاقوں سے تین افراد اغوا، پولیس تحقیقات میں مصروف

    سیالکوٹ: مختلف علاقوں سے تین افراد اغوا، پولیس تحقیقات میں مصروف

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض) سیالکوٹ میں مختلف واقعات کے دوران تین افراد کو اغوا کر لیا گیا، جن میں ایک نوجوان لڑکی اور ایک لڑکا شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق، تھانہ حاجی پورہ کے علاقے محلہ بجلی گھر کی رہائشی شازیہ بی بی کی 16 سالہ بیٹی مسکان کو احمد علی، نادیہ علی، تصور اور دیگر ملزمان نے بہانہ بنا کر اغوا کر لیا۔

    اسی دوران، تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقے اورا چوک کے رہائشی احسان اللہ کے 15 سالہ بیٹے امان اللہ کو بھی اغوا کر لیا گیا۔ مزید برآں، تھانہ اگوکی کے علاقے روڈس روڈ سے حاجی سرفراز کے چھوٹے بھائی طارق محمود کو بھی نامعلوم ملزمان نے اغوا کر لیا۔

    پولیس نے تمام واقعات کے حوالے سے مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم اغوا ہونے والوں کی بازیابی کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔

  • میرپورخاص:2037 تک منصوبہ بندی، سٹی ماسٹر پلان کے تحت شہر کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس

    میرپورخاص:2037 تک منصوبہ بندی، سٹی ماسٹر پلان کے تحت شہر کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس

    میرپورخاص (باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ) میرپورخاص ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر شہروں میرپورخاص، عمرکوٹ اور مٹھی (تھرپارکر) کو ترقی یافتہ شہروں کی صف میں شامل کرنے کے لیے ماسٹر پلان پر کام کا آغاز کیا جائے گا۔ اس بات کا اظہار چئیرمین امپلیمینٹشن کمیٹی و ڈویژنل کمشنر میرپورخاص فیصل احمد عقیلی نے کمشنر کمیٹی ہال میں سٹی ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تشکیل کردہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    انہوں نے کہا کہ مذکورہ شہروں کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے اور جلد رپورٹ کمشنر آفس میں جمع کروا کر ماسٹر پلان کے تحت کام شروع کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت شہر میں ہاؤسنگ، سوشل سروسز، صحت، تعلیم، واٹر سپلائی، سیوریج، سالڈ ویسٹ، ٹرانسپورٹیشن اور کاروباری مراکز کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ماسٹر پلان کو 20 سالہ مدت کے تحت 2037 تک کے لیے بنایا جا رہا ہے۔

    ضلع کونسل چئیرمین میر انور علی خان تالپور نے کہا کہ ماسٹر پلان کے ذریعے میرپورخاص شہر کو ترقی یافتہ شہروں کے ساتھ جوڑنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔ میئر عبدالروف غوری نے اس منصوبے میں ضلع میرپورخاص کے تین تحصیلوں میرپورخاص، حسین بخش مری اور شجاع آباد کی 2 ٹاؤن کمیٹیوں کی 22 یونین کونسلوں کو شامل کرنے کی بات کی۔

    اجلاس میں ڈپٹی کمشنر میرپورخاص ڈاکٹر رشید مسعود خان، رئیس عارف خان بھرگڑی، ایڈیشنل کمشنر ون ڈاکٹر علی نواز بھوت، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امجد، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی اور منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔

  • سیالکوٹ: سابق رنجشوں پر 3 افراد زخمی، پولیس نے مقدمات درج کرلیے

    سیالکوٹ: سابق رنجشوں پر 3 افراد زخمی، پولیس نے مقدمات درج کرلیے

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی بیورو چیف شاہد ریاض) سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں سابق رنجشوں اور تنازعات کی بناء پر دو الگ الگ واقعات میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر پسرور کے علاقے کلاسوالہ میں رضا جاوید کو ملزمان عدیل، ازان، ایان اور ان کے تین نامعلوم ساتھیوں نے راستے میں روک کر تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔ متاثرہ شخص رضا جاوید زخمی ہو گیا اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

    دوسرے واقعے میں تھانہ ستراہ کے علاقے چھانگا میں سابق عداوت کی بنیاد پر 8 افراد نے محمد شاہد اور محمد فرید پر حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے ڈنڈوں اور مکوں کے وار کر کے دونوں کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

    پولیس نے دونوں واقعات کے حوالے سے مقدمات درج کر لیے ہیں اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ: گٹکا مٹیریل سپلائی کرنے کی کوشش ناکام، 108 کلو مٹیریل اور 200 پیکٹ گٹکا ماوا برآمد

    ٹھٹھہ: گٹکا مٹیریل سپلائی کرنے کی کوشش ناکام، 108 کلو مٹیریل اور 200 پیکٹ گٹکا ماوا برآمد

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار بلاول سموں) ٹھٹھہ پولیس نے گٹکا مٹیریل کی سپلائی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 108 کلو گٹکا مٹیریل، 200 پیکٹ گٹکا ماوا اور ایک کورولا کار برآمد کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق، آئی جی پی سندھ غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی پی حیدرآباد رینج طارق رزاق دہاریجو کی ہدایات کی روشنی میں ایس ایس پی ٹھٹھہ ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات پر پولیس نے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ کے احکامات پر انچارج سی آئی اے ٹھٹھہ، انسپیکٹر ممتاز علی بروہی نے اپنے اسٹاف کے ہمراہ تھانہ مکلی کی حدود میں کامیاب کارروائی کی اور سم نالی کے قریب کورولا کار نمبر BLG-991 کو روکا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 108 کلو گٹکا مٹیریل اور 200 پیکٹ گٹکا ماوا برآمد کیے اور گٹکا مٹیریل سپلائی کرنے والے ملزم اسد علی ولد افشار علی جعفری، جو کہ کراچی کا رہائشی ہے، کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس نے ملزم کے خلاف تھانہ مکلی میں مقدمہ درج کر لیا اور کارروائی مزید جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ کارروائی پولیس کی جانب سے گٹکا مافیا کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہے جس کا مقصد منشیات اور گٹکا کی غیر قانونی سپلائی کی روک تھام ہے۔

  • سیالکوٹ: سکول کونسلز کے منصوبوں پر 2 کروڑ سے زائد لاگت، سہولتیں فراہم

    سیالکوٹ: سکول کونسلز کے منصوبوں پر 2 کروڑ سے زائد لاگت، سہولتیں فراہم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیورو چیف شاہد ریاض) ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سکول کونسلرز کو متحرک اور فعال بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت ضلع سیالکوٹ کے 22 سکولوں میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر اور دیگر مسنگ سہولیات کی فراہمی شامل ہے، جن کے لیے مخیر حضرات نے 2 کروڑ 19 لاکھ 85 ہزار روپے کی لاگت فراہم کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ سکول کونسلز نے 8 اضافی کلاس رومز، 3 گہرے بور، 2 فلٹر یشن پلانٹس، 2 واٹر کولر، ایک سکول کی چار دیواری اور 2 میں ارتھ فلنگ کے علاوہ فرنیچر، پنکھے اور لائٹس جیسی ضروری سہولتیں فراہم کی ہیں۔ یہ ترقیاتی کام سکولز کی مدد سے مکمل کیے گئے ہیں تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

    ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین لنگڑیال نے پرائس مجسٹریٹس کو ہدایت کی کہ وہ میرج ہالز کی باقاعدگی سے انسپکشن کریں اور ون ڈش اور اوقات کار پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائس لسٹ کی آویزانی اور روزانہ کی بنیاد پر انسپکشن کی جائے اور تمام وزٹس کو ایپ کے ذریعے اپ لوڈ کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے ‘کی پرفارمنس انڈیکیٹرز’ کا جائزہ لیا اور افسران کو حکومت پنجاب کی گائیڈ لائنز پر عمل کرتے ہوئے محکمانہ سروسز کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

  • دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کی طالبہ کی انگلش تقریر میں پہلی پوزیشن

    دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کی طالبہ کی انگلش تقریر میں پہلی پوزیشن

    چونیاں (باغی ٹی وی،نامہ نگارمیاں عدیل اشرف) دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کے طلبہ نے حالیہ منعقد ہونے والے کلسٹر لیول تقریری مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سدرن لاہور کلسٹر کے انگلش تقریری مقابلے میں چونیاں کیمپس کی طالبہ بریرہ سلمان نے پہلی پوزیشن حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    دی سمارٹ سکولز پاکستان کے زیر انتظام منعقدہ ان مقابلوں میں ملک بھر کے 380 سے زائد اسکولز کے طلبہ و طالبات نے اردو اور انگلش تقریری مقابلوں میں حصہ لیا۔ مقابلے تین کیٹگریز میں منعقد کیے گئے، جن میں پریپ کلاس سے جماعت دوم، سوم سے جماعت ششم، اور ہفتم سے جماعت دہم کے طلبہ شامل تھے۔

    دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کے طلبہ نے ان مقابلوں میں مختلف کیٹگریز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں:

    پہلی کیٹگری میں انگلش تقریر میں بریرہ سلمان اور اردو تقریر میں موسیٰ سفیان نے پہلی پوزیشنیں حاصل کیں۔
    دوسری کیٹگری میں انگلش تقریر میں غنویٰ فاروق نے پہلی اور اردو تقریر میں نور فاطمہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
    تیسری کیٹگری میں انگلش تقریر میں عائشہ شاہد اور اردو تقریر میں ایمان ظفر نے پہلی پوزیشنیں حاصل کیں۔

    علاقے کے معززین اور شہریوں نے دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کے کامیاب طلبہ و طالبات، ان کے والدین، پرنسپل مس عائشہ انعم، ڈائریکٹر پروفیسر عبدالمتین شاہد اور اساتذہ کو مبارک باد پیش کی۔ طلبہ کی اس کامیابی نے اسکول اور علاقے کا نام روشن کر دیا ہے۔

  • اوچ شریف :موبائل مارکیٹ میں شارٹ سرکٹ سے موٹر سائیکل رکشہ کو آگ لگ گئی

    اوچ شریف :موبائل مارکیٹ میں شارٹ سرکٹ سے موٹر سائیکل رکشہ کو آگ لگ گئی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کی موبائل مارکیٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث ایک موٹر سائیکل رکشہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم مقامی تاجروں نے فوری طور پر اپنی مدد آپ کے تحت آگ پر قابو پا لیا، جس سے بڑے نقصان کا خطرہ ٹل گیا۔

    رپورٹ کے مطابق موبائل مارکیٹ میں ایک موٹر سائیکل رکشہ کپڑوں کے بورے منیر کلاتھ ہاؤس پہنچانے کے لیے نکلا ہی تھا کہ اچانک شارٹ سرکٹ کی وجہ سے رکشے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے نے مارکیٹ میں موجود تاجروں اور خریداری کے لیے آئے ہوئے افراد کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ آگ کی لپیٹ میں آنے والا رکشہ مکمل طور پر شعلوں میں گھِر چکا تھا جس کے باعث آس پاس موجود دکانداروں اور مارکیٹ میں موجود افراد نے فوراً مدد کے لیے ایک دوسرے کو آواز دی۔

    مارکیٹ کے تاجروں نے فوری طور پر آگ پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششیں شروع کر دیں۔ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دستیاب وسائل سے آگ بجھانے کی کوشش کی اور بروقت اقدام سے آگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا۔ تاجروں کی فوری اور موثر کارروائی نے نہ صرف مارکیٹ کے دیگر حصوں کو محفوظ رکھا بلکہ کسی بڑے مالی اور جانی نقصان سے بھی بچاؤ ممکن بنایا۔

  • ننکانہ : بابا گرو نانک کے 555 ویں جنم دن کی تقریبات کے لئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

    ننکانہ : بابا گرو نانک کے 555 ویں جنم دن کی تقریبات کے لئے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بابا گرو نانک کے 555 ویں جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اور سیکرٹری داخلہ پنجاب نے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں اعلیٰ عہدیداران نے ننکانہ صاحب میں گردوارہ جنم استھان سمیت شہر کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر پہنچ کر انتظامات کا معائنہ کیا اور سیکیورٹی اداروں کو ضروری ہدایات دیں۔

    ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب تسلیم اختر اور ڈی پی او ندیم عباس نے ڈی سی آفس کنٹرول روم میں انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات 14 سے 16 نومبر تک جاری رہیں گی، جس میں دنیا بھر سے 60 ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس موقع پر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ یاتری پاکستان سے خوشگوار یادیں لے کر جائیں۔

    سیکرٹری داخلہ پنجاب نے گردوارہ جنم استھان میں اضافی کرنسی ایکسچینج اور پی سی او بوتھ کے قیام کی ہدایت کی۔ فوڈ اتھارٹی کو یاتریوں کے کھانے اور لنگر کے معیار کی سختی سے چیکنگ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یاتریوں کے لیے ننکانہ صاحب، فاروق آباد، شیخوپورہ، حسن ابدال، کرتار پور، ایمن آباد اور لاہور کے دورے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

    اس موقع پر کمشنر لاہور زید بن مقصود، آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل، ڈی سی ننکانہ صاحب اور سیکیورٹی اداروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

  • مظفرگڑھ: ڈوہڑہ چوری پر ٹک ٹاکر کو شاعر بلال بزمی کا قانونی نوٹس

    مظفرگڑھ: ڈوہڑہ چوری پر ٹک ٹاکر کو شاعر بلال بزمی کا قانونی نوٹس

    مظفرگڑھ (باغی ٹی وی)مظفرگڑھ کے معروف سرائیکی شاعر بلال بزمی نے اپنا مشہور ڈوہڑہ چوری کرنے کے الزام میں ٹک ٹاک سٹار حسیب بابا کو قانونی نوٹس بھجوا دیا۔

    تفصیلات کے مطابق بلال بزمی کا لکھا ہوا ڈوہڑہ حال ہی میں حسیب بابا نے کسی نامعلوم شاعر کے نام سے ٹک ٹاک پر پڑھا جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگیا۔ بلال بزمی کو جب اپنے ڈوہڑے کی چوری کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً حسیب بابا سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس ڈوہڑے کو ان کے نام کے ساتھ دوبارہ ریکارڈ کریں۔

    ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود حسیب بابا نے اس مطالبے کو نظر انداز کیا، جس پر بلال بزمی نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے وکیل سردار محمد حنیف خان چانڈیہ ایڈووکیٹ کے ذریعے حسیب بابا کو لیگل نوٹس بھجوا دیا۔ اس نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حسیب بابا بلال بزمی کو ہرجانے کی مد میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کریں اور ان کا ڈوہڑہ ان کے نام کے ساتھ دوبارہ ریکارڈ کریں۔

    بلال بزمی کے مطابق سرائیکی ادب میں ان کا یہ ڈوہڑہ ایک قیمتی اثاثہ ہے اور کسی اور کے نام سے اسے پیش کرنا ان کی تخلیقی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ادبی سرقہ ناقابل برداشت ہے اور اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو یہ سرائیکی ادب کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔”

    بلال بزمی کے لیگل نوٹس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے کی کافی بحث جاری ہے۔ سرائیکی ادب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بلال بزمی کی حمایت میں آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ ادبی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

    حسیب بابا کی جانب سے اب تک اس نوٹس پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔ اگر وہ مقررہ وقت میں جواب نہیں دیتے تو بلال بزمی مزید قانونی کارروائی پر غور کر سکتے ہیں۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ادبی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور مستقبل میں ایسے معاملات کے لیے محتاط رویہ اپنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔