Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • سیالکوٹ :پولیس کی کامیاب کارروائی،ڈاکوؤں کا گینگ گرفتار

    سیالکوٹ :پولیس کی کامیاب کارروائی،ڈاکوؤں کا گینگ گرفتار

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی(بیوروچیف شاہدریاض کی رپورٹ )سیالکوٹ پولیس نے ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں ملوث 5 رکنی ڈاکوؤں کے گینگ کو سرغنہ سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، یہ گینگ ضلع کے مختلف علاقوں میں ڈکیتیاں اور راہزنی کی واداتیں کر رہا تھا۔

    ڈی پی او سیالکوٹ محمد حسن اقبال کی خصوصی ہدایات پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکوؤں کے گینگ کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان میں افضال عرف افضالی (سرغنہ)، کیف علی، بلال، معظم علی اور حسن علی شامل ہیں۔

    پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 5 لاکھ 15 ہزار روپے نقدی، 15 موٹر سائیکلیں، 6 قیمتی موبائل فونز اور 3 عدد پسٹل سمیت دیگر اسلحہ برآمد کیا ہے۔
    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے 26 ڈکیتیوں اور راہزنیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس ملزمان سے مزید تفتیش کر رہی ہے۔

    یہ کامیابی سیالکوٹ پولیس کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی پر پولیس کو فوری طور پر اطلاع دیں۔

  • ننکانہ: میونسپل کمیٹی ناکام،شہر میں سیوریج جام،شہری پریشان

    ننکانہ: میونسپل کمیٹی ناکام،شہر میں سیوریج جام،شہری پریشان

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)میونسپل کمیٹی ناکام،شہر میں سیوریج جام،شہری پریشان

    تفصیلات کے مطابق شہر ننکانہ صاحب میں سیوریج سسٹم مکمل طور پر جام ہو چکا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
    میونسپل کمیٹی کے افسران شہریوں کی شکایات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام اٹھا رہے ہیں۔

    شہر کی سڑکیں اور گلیاں سیوریج کے گندے پانی سے بھری ہوئی ہیں جس سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ بار بار میونسپل کمیٹی میں شکایات درج کرا چکے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

    شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر ننکانہ صاحب کی اس ابتر صورتحال کا نوٹس لیں اور نااہل افسران کے خلاف کارروائی کریں تاکہ شہریوں کو اس مسئلے سے نجات مل سکے۔

  • قصور : پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی، تین فرار

    قصور : پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو زخمی، تین فرار

    قصور،باغی ٹی وی (بیوروچیف غنی محمود) تھانہ چھانگا مانگا کے علاقے لکھوی پل کے قریب پولیس اور ڈاکوؤں کے مابین ایک مقابلہ ہوا ہے۔ اس مقابلے میں ایک ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا ہے جبکہ تین ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ چھانگا مانگا پولیس زیرِ حراست ڈاکو کو مقدمے میں برآمدگی کے بعد واپس لے کر آ رہی تھی کہ اچانک ملزم کے تین ساتھیوں نے لکھوی پل کے قریب حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے پولیس پر فائرنگ کی جس سے زیرِ حراست ڈاکو زخمی ہو گیا۔ حملہ آور ملزم رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔

    زخمی ڈاکو کی شناخت غلام عباس سکنہ وہاڑی کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ گردونواح میں ڈکیتی کے متعدد مقدمات میں ملوث تھا اور پولیس نے اسے چند روز قبل ڈکیتی کے دوران رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔

    تھانہ چھانگا مانگا پولیس نے فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

  • آزادی کا دکھ یا دکھ کی آزادی؟

    آزادی کا دکھ یا دکھ کی آزادی؟

    آزادی کا دکھ یا دکھ کی آزادی؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی سرکاری سطح پر جشن آزادی شایان شان منانے کیلئے میٹنگز اور اقدامات شروع کر دئے جاتے ہیں اور بازاروں میں بھی قومی پرچم اور رنگ برنگی جھنڈیوں اور بچوں سے لیکر بڑوں تک کے لباس اور مختلف اشیاء کے سٹال سج جاتے ہیں ،آج جب ہم اپنی آزادی کا جشن منانے جا رہے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ یا پھر ہم مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بل کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؟ ہمارے نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ہمارے عوام خودکشیاں کر رہے ہیں۔ کیا یہی آزادی ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟آزادی کا مطلب صرف سیاسی آزادی نہیں ہوتا بلکہ اس میں معاشی آزادی بھی شامل ہے۔

    آج جب ہمارے ملک میں مہنگائی آسمان کو چھوچکی ہے اورروزانہ کی بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ سے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے،بے روزگاری کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل پا رہے۔ نتیجتاََ وہ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں اور ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔بھاری بھرکم بجلی کے بل بھی عوام کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، گرمیوں میں لوگ بجلی کے بل ادا کرنے میں بہت مشکل محسوس کرتے ہیں، اور خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک پاکستان ہے، اکنامک سروے 2023-2024 کے مطابق پاکستان میں تقریبا 45 لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہیں جن میں 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے،بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل پا رہے اور وہ مایوسی کا شکار ہوچکے ہیں،ملک میں بیروزگاری اور مایوسی کی وجہ سے پاکستانی نوجوان غیرقانونی طریقے سے باہر جانے پر مجبورہوچکے ہیں ،غیرقانونی طریقے سے دیار غیرجانے والے نوجوان اکثروبیشترحادثات شکارہوجاتے ہیں ،ماہرین کے مطابق حکومت پاکستان نوجوانوں کے غیر قانونی طریقے سے باہر جانے کے اسباب پر توجہ ہی نہیں دے رہی ہے۔

    پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خودکشی کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں،اعداد و شمار کے تجزیہ کے مطابق ملک میں ہر گھنٹے میں 3افراد اپنے ہی کسی عمل سے اپنی سانس کی ڈور کو توڑ لیتے ہیں، ملک میں خودکشی کے اعداد و شمار ایک سنگین تصویر پیش کر رہے ہیںایک رپورٹ کے مطابق پاکستان خودکشی کے اعتبار سے دنیا میں 16ویں نمبر پر آ چکا ہے ،تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں 15سے 29 سال کی عمر کے افراد میں خودکشی موت کی چوتھی بڑی وجہ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ عمر کا وہ گروپ جسے امید، صلاحیت اور موقع کی علامت ہونا چاہیے اس دل دہلا دینے والی حقیقت سے دو چار ہے۔

    مہنگی بجلی تمام پاکستانیوں کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے،بجلی کی زیادہ قیمت شہریوں کو غربت میں دھکیل رہی ہے اور کاروبارکو دیوالیہ کر رہی ہے، بجلی پاکستان کی صنعتوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے اور یہ براہ راست 240 ملین لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے، توانائی کے مسئلے پر ہمیشہ سے عوام کوبے وقوف بنایاجاتا رہاہے اور پاکستان کی اشرافیہ نے ڈیم نہیں بننے دئے اور سستی بجلی کا جھانسہ دیکر بجلی فراہم کرنے کیلئے پرائیوٹ IPP بنائیں اور پاکستان اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹااور تاحال لوٹ رہے ہیں ان اداروں کے مالکان حکومت میں رہے ہیں اور ہیں، عوام کیلئے بجلی کابحران پیدا کرنے والے پاکستان کے 40 خاندان ہیں کوئی ادارہ ، کوئی عدلیہ ان پر ہاتھ نہیںڈال سکتی ۔

    آزادی ایک قیمتی نعمت ہے، ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے لیکن یہ جشن صرف خوشیوں کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ہمیں اپنی مشکلات اور چیلنجوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔کیا ہم جشن منانے کے قابل ہیں؟ذرا غور کریں جس ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور دیگر مسائل نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہوتواس سب کے باوجود ہم آزادی کا جشن کیسے منا سکتے ہیں؟ کیا یہ آزادی کا جشن ہے یا پھر یہ دکھ کا جشن ہے؟

  • ڈیرہ غازیخان :خاتون سے زیادتی کا واقعہ،3 دن گزر گئے،دراہمہ  پولیس ملزم کو گرفتار نہ کر سکی

    ڈیرہ غازیخان :خاتون سے زیادتی کا واقعہ،3 دن گزر گئے،دراہمہ پولیس ملزم کو گرفتار نہ کر سکی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں ایک شادی شدہ خاتون سے اسلحہ کے زور پر مبینہ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاتون کے خاوند محمد فیاض نے تھانہ دراہمہ پولیس میں ملزم عامر منظور کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

    محمد فیاض کے مطابق، جب وہ محنت مزدوری کے لیے سرور والی منڈی میں کام کر رہا تھا تو اسے اطلاع ملی کہ علاقے کے اوباش عامر منظور نے اس کی بیوی سے اسلحہ کے زور پر زیادتی کی ہے۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی نے بتایا کہ وہ کھیتی باڑی کرنے جا رہی تھی کہ اچانک عامر نے اسے اسلحہ کے زور پر اپنی بیٹھک میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ دراہمہ پولیس موقع پر پہنچی اور متاثرہ خاتون کے خاوند کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ تاہم، تین دن گزر جانے کے باوجود پولیس ابھی تک ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

    محمد فیاض نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ دراہمہ پولیس اس معاملے میں لیت و لعل کر رہی ہے۔ اس نے آر پی او سجاد حسن خان اور ڈی پی او سید علی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے اسے قرار واقعی سزا دیں۔

    یاد رہے کہ کمزور پولیسنگ کی وجہ سے حدود تھانہ دراہمہ قتل وغارت گری اور بدامنی عروج پر ہے ،شہری راتیں جاگ کر گذارنے پر مجبور ہیں .

  • ڈیرہ غازی خان : کسانوں کا احتجاج،محکمہ انہار کی ملی بھگت سے پانی چوری

    ڈیرہ غازی خان : کسانوں کا احتجاج،محکمہ انہار کی ملی بھگت سے پانی چوری

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر)ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں کسانوں نے محکمہ انہار کی ملی بھگت سے پانی کی چوری کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ سلطان مائنر ڈسٹری پر سرعام پانی چوری کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کروڑوں روپے کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور رقبہ جات بنجر ہو رہے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق درخواست جمال خان غربی نمبر 2 کے متاثرہ کسانوں نے چیف ایریگیشن آفس کے سامنے جمع ہو کر مظاہرہ کیا۔ جماعت اسلامی یوتھ کے صدر واحد بخش کورائی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلطان مائنر ڈسٹری جو داجل کینال سے علیحدہ ہو کر زرعی رقبہ جات سیراب کرتی ہے، ہم ٹیل کے زمیندار ہیں اور گذشتہ کافی عرصے سے سلطان مائنر کے ٹاپ کے زمینداروں نے محکمہ انہار کے عملہ سے ساز باز ہو کر موگہ جات کو غیر قانونی طور پر توڑ کر کھلا کر رکھا ہے۔ مائنر کے پشتے توڑ کر سر عام پانی چوری کیا جا رہا ہے اور پیٹر پمپ بھی لگائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پانی ٹیل تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کروڑوں روپے کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔

    مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ گورنمنٹ ریکارڈ کے مطابق منظور شدہ ڈسٹری سلطان مائنر کے موگہ جات بنائے جائیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ کمشنر آفس کا گھیراؤ کریں گے۔

    مظاہرین میں حاجی رحیم بخش، محمد اشفاق، فیاض احمد، محمد ظفر، حاجی اللہ بخش، محمد شملہ، ریاض احمد اور محمد قیصر شامل تھے۔

  • گوجرانوالہ:کمشنر روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار،سیوریج کا گندہ پانی،گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی آنکھوں سے اوجھل

    گوجرانوالہ:کمشنر روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار،سیوریج کا گندہ پانی،گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کی آنکھوں سے اوجھل

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی نامہ نگار محمد رمضان نو شاہی)گوجرانوالہ کی کمشنر روڈ کی حالت زار انتہائی تشویش ناک ہے۔ روڈ کی سطح جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، سیوریج سسٹم خراب ہے، اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ اس سے نہ صرف علاقہ کی شبیہ خراب ہو رہی ہے بلکہ شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ بارش کے موسم میں تو صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے کیونکہ پانی کھڑا رہنے سے روڈ تالاب بن جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

    روڈ پر گٹروں کے اوپر پلاسٹک کے ڈھکن ہونے کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بھی موجود ہے۔ علاوہ ازیں، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی لاپرواہی کی وجہ سے روڈ کے دونوں اطراف کچرے کے ڈھیر لگے رہتے ہیں اور مچھروں کی وجہ سے بیماریوں کےپھیلاؤ کا خطرہ ہے۔

    اہلیان علاقہ نے کمشنر گوجرانوالہ سے اپیل کی ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کو ہدایت کریں کہ روڈ کی مرمت اور صفائی ستھرائی کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ علاقہ مکینوں کو راحت مل سکے۔

  • منڈی بہاؤالدین:ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس یوم آزادی  کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا

    منڈی بہاؤالدین:ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اجلاس یوم آزادی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا

    منڈی بہاؤالدین ،باغی ٹی وی( نامہ نگار افنان طالب)ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کی زیر صدارت 14اگست یوم آزادی پاکستان کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں یوم آزادی پاکستان بھر پور طریقے سے منانے کی تیاریوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

    ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کا کہنا تھا کہ یوم آزادی پاکستان قومی جوش وجذبے سے منایاجائے گا۔اس دن کی مناسبت سے ضلع بھر میں مختلف تقریبات کاانعقاد کیا جائے گا۔

    ان تقریبات میں پرچم کشائی، سکولوں اور کالجز میں تقاریری مقابلہ جات، ٹیبلوز، ملی نغمے، مختلف کھیلوں کے مقابلہ جات، بازاروں کی سجاوٹ اور دیگر تقریبات شامل ہوں گی۔

    ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ 14اگست کا دن ہمارے لیئے انتہائی اہم ہے، ہمارے بزرگوں نے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد ہمیں ایک الگ اور خود مختار ملک دیا اور ہمیں اس آزادی کی قدرکرناچائیے۔

  • نصیرآباد : مون سون کی بارشیں، ڈپٹی کمشنر کا ہنگامی دورہ

    نصیرآباد : مون سون کی بارشیں، ڈپٹی کمشنر کا ہنگامی دورہ

    نصیرآباد(باغی ٹی وی رپورٹ) مون سون کی بارشوں کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد، بتول اسدی نے ضلع میں ہنگامی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے تحصیل تمبو کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے ممکنہ خطرے کا اندازہ لگایا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے تمام تحصیلداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔ انہوں نے صحافیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر پی ڈی ایم اے نے متاثرین کی مدد کے لیے اشیائے خوردونوش اور خیمے وغیرہ فراہم کر دیے ہیں۔

  • اوکاڑہ:یوم استحصال کشمیر ریلی،کشمیر پاکستان کا لازمی حصہ ہے،مقررین

    اوکاڑہ:یوم استحصال کشمیر ریلی،کشمیر پاکستان کا لازمی حصہ ہے،مقررین

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر)یوم استحصال کشمیر کے موقع پر ڈی سی آفس اوکاڑہ میں ریلی کا انعقاد کیا گیا،کشمیریوں پر بھارت کے 5 اگست 2019ء کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف یومِ سیاہ منایا گیا

    تفصیل کے مطابق بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اوکاڑہ میں یوم سیاہ منایا گیا۔ دفتر ڈپٹی کمشنر میں منعقدہ ایک بڑی ریلی میں شہریوں نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

    ریلی میں ممبر قومی اسمبلی چوہدری ندیم عباس ربیرہ، ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) فرخ عتیق خان، اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھاتا جا رہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے اور بھارت کو اس کے غیر قانونی اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    شرکاء نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق میں نعرے لگائے اور کہا کہ کشمیر پاکستان کا لازمی حصہ ہے۔ ریلی کے شرکاء نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا عزم دوبارہ کیا۔