Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • جام پور بار کے صدر پیر محمد احمد بودلہ کی وزیر معدنیات سردار شیر علی گورچانی سے لاہورمیں ملاقات

    اوکاڑہ ،باغی ٹی وی( نامہ نگار ملک ظفر) جام پور تحصیل بار کے صدر پیر محمد احمد بودلہ کی وزیر معدنیات سردار شیر علی خان گورچانی کے ساتھ لاہور میں ان کے آفس میں ون ٹو ون ملاقات ہوئی، پیر محمد احمد بودلہ کی اسی ہفتے دوسری میٹنگ اپنے علاقے اپنی یونین کوٹ بودلہ اور اپنے حلقے جام پور کے لئے بہت کوششیں کر رہے ہیں اور ایک ہفتے میں دو دفعہ لاہور جا کر وزیر معدنیات سردار شیر علی خان گورچانی کے ساتھ مختلف مسائلِ پر بات چیت کی

    جن میں بجلی ، سیوریج ، صفائی کے کام اور ترقیاتی فنڈز پر بات چیت کی اور سب مسائل سے آگاہ کیا ،سردار شیر علی خان گورچانی نےبہت جلد فنڈز کے حوالے بجلی کے مسائل اور ترقیاتی کاموں کی یقین دہانی کرائی ہے اور سردار شیر علی خان گورچانی نے وعدہ کیا ہے کہ تحصیل بار کے صدر پیر محمد احمد بودلہ کی زیر نگرانی کام جلد از جلد شروع کروائے جائیں گے

    پیر محمد احمد بودلہ اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے لئے بہت کوششیں کر رہے ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے مسائل کے لئے پریشان رہتے ہیں اور ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں دن رات کوشاں ہیں.

  • ڈیرہ غازی خان :برائی کے اڈے اورتھیٹر بند کرانے پر ڈی پی او   کا شکریہ

    ڈیرہ غازی خان :برائی کے اڈے اورتھیٹر بند کرانے پر ڈی پی او کا شکریہ

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی)ڈیرہ غازی خان میں برائی کے اڈے اور دونوں تھیٹر بند کرانے پر ڈی پی او سید علی کاظمی کا شکریہ ادا کرتے ہیں ترجمان جمعیت سفیرامن مولانا قاری جمال عبدالناصر

    ان کے ساتھ جمیعت علماء اسلام کے رہنماوں ملک فیض محمد ایڈووکیٹ، احمد حسن خان کھلول ،مولانا فہد عزیز بلوچ، ملک عبدالباسط خان ایڈووکیٹ، ابوبکر خان لغاری ،غلام حیدر خان چنگوانی، اکرم خان لودھی ودیگر نے کہا کہ پاکستان پاکیزہ ملک ہے، اس میں زنا جوا شراب کلچر مغربی تہذیب کیخلاف قوم متحد ہے

    انتظامیہ افسران کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان آرپی او ڈوپژن ڈیرہ غازیخان ڈی پی او ڈی جی خان سے استدعا کرتے ہیں جس طرح لاری اڈے اور ناز تھیٹر کیخلاف ایکشن لیکر سیل کیا ہے اسی طرح ڈویژن بھر کے سیکورٹی ادارے اور پولیس کو حکم دیا جائے کی جنگی بنیادوں پر فحاشی، عریانی، جوا ،نشہ شراب کے اڈوں پر آپریشن کریں اور انکا خاتمہ کریں

    ان شاء اللہ امن وامان کے حوالے سے ڈیرہ غازی خان پنجاب کا مثالی ڈوپژن بن جائیگا ایک بار پھر ہم ڈویژن انتظامیہ ،ضلعی انتظامیہ اور ڈی پی او سید علی کاظمی کا شکریہ ادا کرتے ہیں.

  • پنجاب کے رواں مالی سال بجٹ میں سیالکوٹ کے  19 نئے ترقیاتی منصوبے شامل

    پنجاب کے رواں مالی سال بجٹ میں سیالکوٹ کے 19 نئے ترقیاتی منصوبے شامل

    سیالکوٹ ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے) حکومت پنجاب نے رواں مالی سال کے بجٹ میں ضلع سیالکوٹ میں 19 نئے ترقیاتی منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے ہیں ان منصوبوں پر شاہراہوں کے 16 پراجیکٹس ، سپورٹس کے 7 منصوبے بھی شامل ہیں ، جنرل بس اسٹینڈ اور سرکاری دفاتر کی منتقلی کے منصوبے بھی سالانہ اے ڈی پی کا حصہ ہیں، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین نے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ محمد آصف نے بریفنگ دی ۔

    ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین نے کہا کہ روڈ سیکٹر کے اہم پراجیکٹس میں 1947 ملین روپے لاگت سے اولڈ ائیر پورٹ روڈ ، 1 ایک ارب روپے لاگت سے بڈیانہ چونڈہ ظفر وال روڈ، 724 ملین روپے لاگت سے چونڈہ سبز پیر روڈ، 749 ملین روپے لاگت سے کلاسوالا تا قلعہ کالر والا روڈ، 692 ملین روپے لاگت سے بڈیانہ معراج کے روڈ، 619 ملین روپے لاگت سے وزیر آباد ڈسکہ روڈ کے علاؤہ گوجرانوالہ سیالکوٹ روڈ، گوجرانولہ پسرور روڈ، کنگرہ سیالکوٹ روڈ، نارووال مریدکے روڈ تا سیالکوٹ روڈ، خواجہ صفدر روڈ، سمبڑیال ماجرہ روڈ، موترہ بڈیانہ روڈ، ڈیفنس روڈ، ڈسکہ بائپاس روڈ، کنگرہ سیالکوٹ روڈ، ایسٹرن بائپاس کی تعمیر و بحالی کے پراجیکٹس شامل ہیں ان منصوبوں پر 7445 ملین روپے لاگت کا تخمینہ ہے ۔

    ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین نے بتایا کہ ترقیاتی پروگرام میں چاروں تحصیلوں میں سات سپورٹس پراجیکٹس پر 1055 ملین روپے خرچ ہوں گے یہ پراجیکٹس سیالکوٹ سٹی، ڈسکہ، چونڈہ، سٹی پسرور ، کوٹلی سید امیر، سرانوالی، سمبڑیال میں بنائے جائیں گے ۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ جنرل بس اسٹینڈ کی شہر سے باہر منتقلی کے منصوبے پر ابتدائی طور پر 200 ملین روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے ، سرکاری دفاتر کی ایمن آباد روڈ پر منتقلی کی فزیبلٹی رپورٹ کے لیے فنڈز بجٹ میں مختص کئے گئے ہیں ۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ کھیوہ باجوہ میں ڈرین سکیم بھی نئے ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے ۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ بلا تاخیر پراجیکٹس کے پی سی ون تیار کرکے منظوری کے لیے مجاز فورم کو بھجوائیں

  • کوٹ ادو، پسند کی شادی کرنے والے  میاں بیوی قتل

    کوٹ ادو، پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی قتل

    کوٹ ادو(باغی ٹی وی ) سنانواں میں غیرت کے نام پر ایک شادی شدہ جوڑے کو قتل کردیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ شازیہ بی بی نے ایک سال قبل گھر سے بھاگ کر اپنے پہلے شوہر تنویر سے نکاح منسوخ کروایا تھا۔ اس کے بعد اس نے طارق سے شادی کی تھی۔

    شازیہ کے اہل خانہ نے طارق کے خلاف اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا مگر بعدازاں جوڑے کی طرف سئ نکاح نامہ پیش کیے جانے پر اغوا کا مقدمہ خارج کردیا گیا تھا۔

    مرتے وقت خاتون نے جو بیان دیا اس کے مطابق شازیہ بی بی کے بھائی دلاور، والد ہاشم اور سابق شوہر تنویر سمیت کئی افراد گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کردی۔

    دوونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے دیہی مرکز صحت سنانواں منتقل کردی گئیں۔ ایس ایچ او تھانہ سنانواں شاہد رضوان کے مطابق مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

    دوسری طرف آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے کوٹ ادو علاقہ تھانہ سنانواں میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کے قتل کا واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    آر پی او نے ڈی پی مظفر گڑھ کو فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچنے اور واقعہ کی جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔آر پی او نے ہدایات جاری کیں کہ فرانزک ٹیموں کی مدد سے واقعہ کی تحقیقات عمل میں لائی جائیں اور تمام شواہد اکٹھے کیے جائیں ۔

    ملزمان کی گرفتاری کےلیے فوری طور پر ٹیمیں تشکیل دے کر ریڈ کیے جائیں اور ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ڈی پی او لواحقین سےقریبی رابطہ رکھیں۔انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں ۔

    طارق اور شازیہ نے تقریبا ایک سال قبل پسند کی شادی کی تھی۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق خاتون کے والد، بھائی اور دیگر ملزمان کی فائرنگ سے میاں بیوی ہلاک ہوئے۔ قبل ازیں وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

  • معروف میڈیسن کمپنیوں کی 24 سے زائد جعلی ادویات فروخت ہونے کا انکشاف

    معروف میڈیسن کمپنیوں کی 24 سے زائد جعلی ادویات فروخت ہونے کا انکشاف

    باغی ٹی وی،ملک بھر میں معروف میڈیسن کمپنیوں سمیت مختلف برانڈز نیم کی 2 درجن سے زائد انتہائی مضر صحت ادویات بڑے پیمانے پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان ادویات میں وائرل انفیکشن، کھانسی، بخار اور درد سمیت مہلک بیماریوں میں استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک اور دیگر اہم دوائیں بھی شامل ہیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسے برانڈ نیم اور کمپنیوں کی ادویات دھڑلے سے تیار کرکے فروخت کی جا رہی ہیں۔ جن کا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے پاس ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔

    روزنامہ ’’امت‘‘کی رپورٹ کے مطابق دستیاب معلومات کے مطابق ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی) کی ٹیموں کی جانب سے حالیہ دنوں میں سندھ اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں سے دوائوں کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ڈرگ لیبارٹریز سے ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔ جس میں انکشاف ہوا کہ درجنوں ادویات انتہائی مضر صحت اور غیر معیاری فروخت کی جا رہی ہیں۔

    یہ معلومات سامنے آنے کے بعد ڈریپ حکام کی جانب سے ملک بھر کے ادویات سپلائرز، اسپتالوں، ڈاکٹروں اور مختلف کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ ان ادویات کی خرید و فروخت اور سپلائی فوری طور پر روک دی جائے۔ ان ادویات کو مارکیٹوں سے اٹھا لیا جائے اور کسی بھی صورت یہ ادویات شہریوں کو استعمال کیلئے نہ دی جائیں۔ کیونکہ ان کے استعمال کی صورت میں شہری اپنے جان سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ مضر ادویات میں کیمیکلز کی مقدار فارمالوں سے اس قدر مختلف ہے کہ ان کے استعمال سے افاقہ ہونے کے بجائے شہری دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    ڈریپ کی ٹیموں کی جانب سے پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونے والی جانچ پڑتال میں جن کمپنیوں کی ادویات انتہائی مضر صحت اور جعلی فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں ویت نام کی نارتھ اسٹار فارما سوٹیکل کمپنی کا تیار کردہ Amox پائوڈرکا بیچ نمبر 0010823 شامل ہے۔ جو پاکستان میں برانڈ اسٹیشن کمپنی کے تحت درآمد کر کے سپلائی کیا جاتا ہے۔ کیئر فارما سوٹیکل کمپنی کے Nutricare شربت کا بیچ نمبر NC-457 بھی مضر صحت ثابت ہوا ہے۔ جی ایس کے فارما سوٹیکل کراچی کے معروف Velosef کیپسول کا بیچ نمبر 847M بھی مضر صحت ہے۔ لیکن اسے دھڑلے سے میڈیکل اسٹورز پر فروخت کیا جا رہا ہے۔

    بروکس فارما کمپنی کے Pyodine سلوشن کا بیچ نمبر 04813 اور بیچ نمبر 08913 بھی مضر صحت ہے اور میڈیکل اسٹوروں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسپتالوں میں بھی اس کا استعمال جاری ہے۔ اسی طرح معروف دوا ساز کمپنی بوش فارما سوٹیکل کراچی کے Tanzo انجکشن کا بیچ نمبر PN220142 بھی مضر صحت ہے اور لیبارٹری ٹیسٹ میں یہ ثابت ہو گیا ہے۔ جبکہ ویدر فولڈ فارما سوٹیکل کمپنی کی Dydowen ٹیبلٹ کا بیچ نمبر 736 بھی میڈیسن مارکیٹوں میں دستیاب ہے اور وہ مضر صحت ثابت ہوا ہے۔ اسی طرح سے ہائی نون فارما سوٹیکل کمپنی کی Duphaston ٹیبلٹ کا بیچ نمبر 230672 اور بیچ نمبر 230092 مضر صحت ہیں اور فروخت ہو رہے ہیں۔ کراچی کی بیریٹ ہوجسن کمپنی کے Cefspan کیپسولز کا بیچ نمبر D6780 مضر صحت فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسٹار لیبارٹریز فارما سوٹیکل کمپنی کے Phenobar ٹیبلٹ کا بیچ نمبر QA023 بھی مارکیٹوں میں مضر صحت فروخت کیا جا رہا ہے ۔

    ڈریپ ٹیموں کی چھان بین میں جن کمپنیوں کی جو ادویات غیر معیاری ثابت ہوئی ہیں۔ ان میں سلطان فارما سوٹیکل کا تیار کردہ Metronidazole فارمولے Metroin انفیوژن بیچ نمبر MT23-014 غیر معیاری ثابت ہوا ہے۔ انہی ٹیموں کی جانب سے مختلف علاقوں کے میڈیکل اسٹورز اور اسپتالوں سے لئے گئے دوائوں کے نمونوں کی جانچ میں جن دیگر کمپنیوں کی ادویات غیر معیاری ثابت ہوئی ہیں۔

    ان میں ای فارم لیبارٹریز کراچی کا تیار کردہ Tobramycin فارمولے کاTozen-D سسپینشن بیچ نمبر TW019۔ وینس فارما سوٹیکل کمپنی کا تیار کردہ Pheniramine فارمولے کا Ann-Vil انجکشن بیچ نمبر V-44423۔ ایم ٹی آئی میڈیکل فارما کمپنی کا تیار کردہ Acyclovir فارمولے کا Arpes کا انجکشن پائوڈر بیچ نمبر AR-099۔ سائزا فارما سوٹیکل کمپنی کا تیار کردہ Diphenhydramine فارمالے کا Torax شربت بیچ نمبر 24-24۔ بلوم فارما سوٹیکل کمپنی کا تیار کردہ Metronidazole فارمالے کا Zonid شربت کے 6 بیچ نمبر Z396، Z244، Z243، Z413، Z398، Z414 اور بیچ نمبر Z397 شامل ہیں۔

    اسی سلسلے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کراچی کے فیڈرل ڈرگ انسپکٹرز پر مشتمل ٹیموں کی جانب سے مختلف علاقوں سے دوائوں کے نمونے حاصل کرنے کے بعد لیبارٹری سے ان کی جانچ کروائی گئی۔ جس میں زافا فارما سوٹیکل کمپنی کا ریسپائریٹری سلوشن Zaftolin کا بیچ نمبر 104 غیر معیاری ثابت ہوا۔ اسی طرح سے ٹیموں کو مارکیٹ سے Cefixime فارمولے کی اہم دوا Froxime کے نام سے دستیاب ملی۔ جب اس کی چھان بین کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ دوا کورنگی صنعتی ایریا کے علاقے میں قائم (Froxx) فروکس فارما سوٹیکل کمپنی کی جانب سے تیار کردہ ظاہر کی گئی ہے۔

    حیرت انگیز طور پر مزید چھان بین پر یہ دوا مضر صحت اور جعلی ثابت ہوئی۔ جبکہ اس کو بنانے والی کمپنی فروکس فارما سوٹیکل بھی ڈریپ کی لائسنس یافتہ کمپنیوں میں شامل نہیں ہے۔ یعنی یہ کمپنی بھی جعلی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں موجود نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر جعلی ادویات مافیا اس قدر دیدہ دلیری سے سرگرم ہے کہ فراڈ کی ساری حدیں پار کرلی گئی ہیں۔ اسی طرح کراچی میں ہی نمونوں کی جانچ سے بروکس فارما کے Ketorolac فارمالے کا انجکشن Cadlec کے سارے بیچ مضر صحت ثابت ہوئے۔ جبکہ اسی جانچ میں زافا فارما سوٹیکل کے Sterile واٹر برائے انجکشن کا بیچ نمبر 989 بھی مضر صحت ثابت ہوا ہے۔

    ڈریپ ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ان تمام کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جن کے ناموں پر یہ ادویات تیار کرکے سپلائی کی گئی ہیں۔ جبکہ ان ادویات کو میڈیکل اسٹوروں اور اسپتالوں میں سپلائی کرنے والے سپلائرز کی معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ تاکہ تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ تاہم بعض کمپنیوں کی جانب سے مارکیٹ میں موجود ان کے ناموں سے فروخت ہونے والی ادویات اور ان کے بیچ سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

    دستیاب معلومات کے مطابق ڈریپ (ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی) کی ٹیموں کی جانب سے حالیہ دنوں میں سندھ اور پنجاب سمیت مختلف علاقوں سے دوائوں کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ڈرگ لیبارٹریز سے ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔ جس میں انکشاف ہوا کہ درجنوں ادویات انتہائی مضر صحت اور غیر معیاری فروخت کی جا رہی ہیں۔

    یہ معلومات سامنے آنے کے بعد ڈریپ حکام کی جانب سے ملک بھر کے ادویات سپلائرز، اسپتالوں، ڈاکٹروں اور مختلف کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئیں کہ ان ادویات کی خرید و فروخت اور سپلائی فوری طور پر روک دی جائے۔ ان ادویات کو مارکیٹوں سے اٹھا لیا جائے اور کسی بھی صورت یہ ادویات شہریوں کو استعمال کیلئے نہ دی جائیں۔ کیونکہ ان کے استعمال کی صورت میں شہری اپنے جان سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ مضر ادویات میں کیمیکلز کی مقدار فارمالوں سے اس قدر مختلف ہے کہ ان کے استعمال سے افاقہ ہونے کے بجائے شہری دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

    جبکہ بعض کمپنیوں نے مذکورہ ادویات کو اپنی تیار کردہ مان کر جلد سے جلد مارکیٹوں سے واپس اٹھوانے کی یقین دہائی کروائی ہے۔ تاہم اس پورے معاملے کے پیچھے جعلی ادویات مافیا کا ہاتھ ہے۔ جن کی میڈیسن مارکیٹوں، فارما سوٹیکل کمپنیوں اور ادویات کے ہول سیلرز کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں اور یہ تمام عناصر ہی اس انسانیت دشمن دھندے سے اربوں روپے کا منافع حاصل کر رہے ہیں۔

  • سیالکوٹ:حکومت پنجاب کی ہدایات  پرضلع بھر میں گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ:حکومت پنجاب کی ہدایات پرضلع بھر میں گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی( بیوروچیف شاہد ریاض سے)حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، رواں ماہ ابتک 1246ناجائز منافع خوروں پر 62لاکھ93500روپے جرمانہ عائد، 14ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے،

    پرائس کنٹرول مجسٹریٹس چیکنگ کو مزید موثر بنائیں اور اوور چارجنگ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق ایکشن لیا جائے، ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اے ڈی سی جی سید اسد رضا کاظمی، ڈی او انڈسٹریز راشدہ بتول بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد ذوالقرنین نے بتایا کہ چاروں تحصیلوں میں یکم جون سے 21جون تک پرائس مجسٹریٹس نے مجموعی طور پر 21906انسپکشنز کیں اس دوران مقررہ نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے، ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی گئی جبکہ ضلع کے مختلف علاقوں میں 84دکانوں، کاروباری مراکز کو سیل بھی کیا گیا،

    پرائس مجسٹریٹس نے دوران کارروائی 147 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا جن ملزمان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے انکے خلاف پولیس نے قانون کے مطابق فوجداری کارروائی کی ہے۔

  • پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ ،لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ ،لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا

    پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

    درخواستگزار نے استدعا کی کہ دفعہ 144 کا نفاذ سیاسی جماعتوں کے اجتماعات کو روکنے کیلئے نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں امن عامہ کی صورتحال اور سیکیورٹی خطرات کے پیش 7 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے جس کے بعد پنجاب بھر میں جلسہ، جلوس، ریلی، دھرنوں اور احتجاج پر پابندی لگا دی گئی۔

    سیکیورٹی تھریٹس: پنجاب بھر میں 7 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

    محکمہ داخلہ پنجاب کے اس اقدام کو ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے لاہور ہائیکورٹ میں چینلج کردیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی جبکہ سیاسی جماعتوں کے اجتماع کو روکنے کیلئے دفعہ 144 کا نفاذ کیا۔

    درخواست گزار نے کہا کہ دفعہ 144 کا نفاذ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، دفعہ 144 کا نفاذ اجتماعات کو روکنے کیلئے نہیں کیا جاسکتا اس لیے نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سکھربیراج کا گیٹ گرگیا،بیراج پر ایمرجنسی نافذ،ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند

    سکھربیراج کا گیٹ گرگیا،بیراج پر ایمرجنسی نافذ،ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند

    گھوٹکی ،باغی ٹی وی (نامہ نگارمشتاق علی لغاری)سکھربیراج کا گیٹ گرگیا،ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند ،ایمرجنسی نافذ

    سکھر بیراج کا گیٹ نمبر 47 مرمتی کام کے دوران گرگیا۔محکمہ ایری گیشن کے مطابق بیراج کے گیٹ نمبر 47 اور 43 کے پلرز کو نقصان پہنچا ہے۔
    گیٹ گرنے کے بعد سکھر بیراج پر ایمرجنسی نافذ کرکے اسے ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق بیراج کے گیٹ نمبر 47 سے پانی اوور ٹاپ ہوکر ڈاؤن اسٹریم میں جانے لگا ہے۔

    سکھر بیراج روڈ سیل کردیا گیا ہے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ آمد و رفت کے لیۓ متبادل راستہ اختیار کریں

    ذرائع کا بتانا ہے کہ سکھر بیراج پر گیٹوں کے مرمتی کام میں ناقص مٹیریل کی وجہ سے گیٹ نمبر 47 پانی کا پریشر برداشت نہ کر سکا اور دھماکے سے گر گیا اورسکھر بیراج کا گیٹ نمبر 43 بھی بینڈ ہوگیا ہے

    سکھر بیراج گیٹ نمبر 44 اور گیٹ نمبر 45، 46 کو بھی نقصان پہنچا ہے،سکھر بیراج پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور بیراج چھوٹی بڑی ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا ہے۔

  • غیرت کے نام پر بیٹے نے ماں اور تین بہنوں کو قتل کردیا

    غیرت کے نام پر بیٹے نے ماں اور تین بہنوں کو قتل کردیا

    خانیوال (باغی ٹی وی )غیرت کے نام پر بدبخت بیٹے نے ماں اور تین بہنوں کو قتل کردیا،لرزہ خیز واقعہ کبیر والا کے علاقے موضع اوکانوالہ میں پیش آیا

    پولیس ذرائع کے مطابق جہاں ملزم نے اپنے ہی گھر کی خواتین کو قتل کر دیا ہے، ملزم عباس اپنی45 سالہ والدہ حسینہ بی بی، تین سگی بہنوں25 سالہ ثمینہ بی بی،20 سالہ آمنہ بی بی اور 18 سالہ حلیمہ بی بی کو قتل کر کے فرار ہو گیا ہے۔

    پولیس تھانہ صدر کبیر والا نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کردیا ہےاور ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں.

  • وزیراعلیٰ مریم نوازکی ہدائت پرپنجاب بھرمیں عید کے موقع پر صفائی کے مثالی انتظامات کیے گئے

    وزیراعلیٰ مریم نوازکی ہدائت پرپنجاب بھرمیں عید کے موقع پر صفائی کے مثالی انتظامات کیے گئے

    سرگودھا ( ادریس نواز چدھڑ سے ) عیدالاضحی پر مثالی صفائی مہم ، وزیراعلیٰ مریم نوازکی ہدایت پر عید کے موقع پر ہر شہر اور گاؤں میں صفائی کے مثالی انتظامات کیے گئے

    تفصیلات کے مطابق عیدالاضحیٰ تو پہلے بھی ہر سال آتی رہی ہے اور پھر گذر بھی جاتی تھی لیکن اس دفعہ عیدالاضحی اس طرح منفرد رہی کہ پنجاب بھر میں تینوں دن نہ صرف شہروں، دیہاتوں، گلی محلوں کی عمومی صفائی پر خصوصی توجہ دی گئی بلکہ قربانی کے جانوروں کی باقیات اور آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے کا عمل بھی مثالی رہا۔شدید ترین گرمی کے باوجود کہیں سے روائتی تعفن کی ناگوار بو نہیں آئی ،سیوریج لائینیں بلاک نہیں ہوئیں اور نہ ہی کہیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر دیکھنے کو ملے۔

    صوبہ بھر میں یہ انقلابی تبدیلی پہلی دفعہ دیکھنے کو ملی جس کے پیچھے بڑی ڈرائیونگ فورس کا نام وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کا آتا ہے۔ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی پنجاب حکومت نے عیدالاضحی کے تینوں ایام کو زیرو ویسٹ بنانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کردیا۔ صوبائی سطح لے کر ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح تک وزیر اعلیٰ کی سخت ہدایات پہنچ گئیں کہ صوبہ میں کسی جگہ گندگی اور جانوروں کی باقیات نظر نہیں آنی چاہییں۔ چنانچہ ہر سطح پر بروقت اجلاس شروع ہوگئے۔ صفائی پلان ترتیب دے دیے گئے، ہر کمشنر ، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور چیف آفیسر کو ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ۔

    وزیر اعلیٰ نے صفائی مہم کی سخت نگرانی کے لئے صوبائی کنٹرول روم قائم کر کے شہریوں کو شکایات کے لیے ٹال فری نمبر 1198 دے دیا جس پر شہری چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت اپنے علاقے کی صفائی نہ ہونے کی صورت میں شکائت کر سکتے تھے ۔

    وزیر اعلی پنجاب نےدیگر شہروں کی طرح ایم سی سرگودھا کی طرف سے عید کے موقع پر 100 فیصد صفائی یقینی بنانے، موصول ہونے والی شکایات سٹیزن پورٹل ، وزیر اعلی شکایات سیل ،ٹیلیفونک شکایات کا بروقت ازالہ کرنے پر ایک ماہ کی خصوصی تنخواہ کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعلیٰ کے اس اقدام سے جہاں عملہ صفائی کی عزت ہوئی وہاں شہریوں کو بھی صاف ستھرا ماحول فراہم کر کے ان کو صحیح معنوں میں عید کی خوشیوں سے ہمکنار کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی ان ہدایات پرسرگودھا ڈویژن میں بھی موثر عملدرآمد کیا گیا۔ کمشنر سرگودہا ڈویژن محمد اجمل بھٹی نے اس ضمن میں 13 جون کو عید کی تیاریوں اور صفائی آپریشن کے ایک جائزہ اجلاس میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ "تمام میونسپل افسران کو ذمہ دارانہ عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ڈویژن بھر کو زیرو ویسٹ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں میونسپل ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیں۔ عید الاضحی پر انتظامی و حفاظتی اقدامات میں کوئی خلا نہیں رہنا چاہے۔ تینوں ایام میں صفائی ایک چیلنج ہوگا۔ ڈپٹی کمشنرز تمام انتظامات کو پیشگی یقینی بنائیں ۔ شہریوں کو گھروں پر جا کر بائیو گریڈ ایبل بیگز فراہم کیے جائیں ۔ تمام شہروں اور بڑے ٹاؤنز میں قربانی کے جانوروں کی ایس او پیز کے تحت تدفین کے لیے خندقیں بنائی جائیں۔ عید کے ایام میں کنٹرول رومز اور پورٹل پر موصول شکایات کے فوری تدارک یقینی بنائے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔ تمام ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنرز اور میونسپل افسران عید کے ایام میں فیلڈ میں موجود ہونے چاہیے ” ۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سرگودہا کیپٹن ریٹائرڈ اورنگزیب حیدر خان ، ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ، سی او ضلع کونسل اور سی او میونسپل کارپوریشن کے علاوہ خوشاب ، میانوالی اور بھکر کے ڈپٹی کمشنروں ، اسسٹنٹ کمشنروں اور دیگر میونسپل افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    کمشنر نے کہا کہ عید آپریشن کے لیے ستھرا پنجاب کی کمیٹیوں کو بھی ذمہ داری تفویض کی جائیں۔ عوام الناس میں عید پر صفائی ستھرائی اور قربانی کے جانوروں کی باقیات کو مناسب انداز میں تلف کرنے کے لیے سوشل و پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال میں لایا جائے ۔ افرادی قوت اور درکار مشینری کا فوری انتظام یقینی بنایا جائے۔ انہوں چاروں ڈپٹی کمشنروں کو عید صفائی آپریشن میں حصہ لینے والے سٹاف کو پہلے دن کھانا فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ کمشنر نے کہا کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے عید الاضحی پر مختلف پابندیوں کا اطلاق کیا ہے جن میں عوامی مقامات پر قربانی کے جانوروں کی سری پائے جلانے پر پابندی عائد ، دریائوں،نہروں،ندی نالوں میں نہانے پر پابندی،نہروں،مین ہولزاور ڈرینج میں قربانی کے جانوروں کی الائشیں پھینکنے پر بھی دفعہ 144 کا نفاد، جس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔

    انہوں نے کہا کہ گلی محلے کے جھولوں پر بھی پابندی ہوگی اور تمام تفریح مقامات پر فول پروف انتظامات اور پارکوں کے جھولوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس حاصل کیے جائیں ۔ کمشنر نے کہا عید الاضحی پر صفائی مقابلے میں سرگودہا کے چاروں اضلاع ٹاپ پوزیشن پر نظر آنےچاہیں۔ محمد اجمل بھٹی نے کہا کہ مقرر کردہ سیلز پوائنٹس اور مویشی منڈیوں کے علاؤہ شہری حدود میں مویشیوں کی خرید و فروخت کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا عید گاہوں ، مساجد ، امام بارگاہوں کے راستوں پر صفائی ستھرائی کے مثالی انتظامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا حکومت نے کالعدم تنظیموں کی کھالوں کو اکٹھا کرنے پر پابندی ہے صرف این و سی کی حامل تنظمیں ہی کھالیں اکٹھی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید کے تینوں ایام میں تمام مراکز صحت پر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ڈیوٹی پر موجود ہونا چاہے۔اجلاس میں چاروں ڈپٹی کمشنروں نے عید آپریشن کی تیاریوں کے بارے آگاہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ اور کمشنر کی ہدایات کے مطابق ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ عید الاضحیٰ کے پہلے روز ہی شہریوں کو تعفن سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے خود فیلڈ میں موجود تھی۔کمشنر محمد اجمل بھٹی اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ اورنگزیب حیدر خان نے سرگودھا شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ شہریوں میں قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے بائیو ڈی گریڈ ایبل شاپنگ بیگز تقسیم کیے گئے۔دونوں افسران کا عید گاہوں اور مختلف مساجد و امام بارگاہوں کا دودہ بھی کیا۔ انہوں نے عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا۔کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے ڈمپنگ سائٹ کا معائینہ بھی کیا۔ جانوروں کی آلائشوں کو نہروں اور نالوں میں پھیکنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    سری پائے بھوننے کا غیر قانونی کاروبار پر بھی دفعہ 144 عائد تھی۔شہریوں کو عید پر شہر کو صاف ستھرا بنانے کے جامع پلان پر عمل درآمد ہوتا نظر آرہا تھا ۔دیہاتوں میں بھی صفائی آپریشن عید کے تینوں ایام میں جاری رہا۔ڈپٹی کمشنروں نے اپنے اپنے ضلع میں یہی عمل دہراتے ہوئے عملہ صفائی کلین آپریشن کیلئے گلی محلوں کی سطح پر متحرک کر دیا۔پہلے مرحلہ میں عید گاہوں ،مساجد اور امام بارگاہوں میں صفائی ستھرائی کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔ بہترین انتظامات کی بدولت ڈویژن بھر میں عید الاضحیٰ کے اجتماعات بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوا ۔دوسرے مرحلہ میں تحصیلوں کی سطح پر بھی اسسٹنٹ کمشنرز کی نگرانی میں عملہ صفائی قربانی کے جانور کی آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے کیلئے سرگرم رہا۔ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن محمد اجمل بھٹی نے سرگودھا شہر کا خود دورہ کیا۔

    صفائی آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا اور سخت گرمی میں صفائی امور انجام دینے والے ورکرز کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے سینیٹری ورکرز کے ہمراہ دوپہر کا کھانا بھی کھایا۔ انکی نگرانی میں چاروں اضلاع میں صفائی آپریشن بھرپور انداز میں جاری رہا ۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر سخت ہدایات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زیرو ویسٹ کو یقینی بنانے تک تمام ذمہ داران افسران اور فیلڈ سٹاف متحرک رہے گا۔شہری بھی تعاون کریں اور قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو مخصوص مقامات پر رکھیں ۔عید الاضحی کے دوسرے روز میونسپل کارپوریشن کا شہر کو زیرو ویسٹ بنانے کا آپریشن بھرپور انداز میں جاری رہا۔ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن محمد اجمل بھٹی ، ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ اورنگزیب حیدر خان اور سی او ایم سی طارق پرویا سمیت دیگر افسران خود فیلڈ میں موجود رہے۔

    دوسرے روز صفائی آپریشن میں 44 چنگ چی رکشہ ، 6 پک اپ، 4 ڈمپر ،15 ٹریکٹر ٹرالیاں اور 8 لوڈرز سمیت دیگر بھاری مشینری استعمال میں لائی گئی۔4 سو سے زائد سینٹری ورکرز نے پہلے روز تقریباً 2800 میٹرک ٹن آلائشوں کو ڈمپنگ سائٹ پر منتقل کیا۔شہر سے باہر چک نمبر 91 اور جھال چکیاں پر قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کی ڈمپنگ سائٹس بنائی گئی تھیں۔کمشنر و ایڈمنسٹریٹر نے صبح سے رات گئے تک بغیر تعطل کے کام کرنے والے ورکرز کو خراج تحسین پیش کیا۔

    عید الاضحی کے تیسرے روز صفائی ستھرائی آپریشن آخری مراحل میں داخل ہوگیا ۔عید کے تیسرے دن شام چار بجے تک ضلع بھر میں مجموعی طور پر 7383 میٹرک ٹن آلائشوں کو ٹھکانے لگایا گیا۔ پہلے روز میونسپل کارپوریشن نے 28 سو میٹرک ٹن، ایم سی بھلوال نے 150 میٹرک ٹن ، ایم سی شاہپور نے 24 میڑک ٹن ، ایم سی سلانوالی نے 28 میڑک ٹن، ایم سی ساہیوال نے 10 میڑک ٹن، ایم سی کوٹ مومن نے 120 میڑک ٹن،ایم سی بھیرہ نے 55 میڑک ٹن، ضلع کونسل نے 30 میڑک ٹن جبکہ یونین کونسلز عملہ نے 518 میڑک ٹن آلائشوں کو ڈمپنگ سائٹ پر منتقل کیا۔

    عید کے دوسرے روز میونسپل کارپوریشن نے 2 ہزار میٹرک ٹن، ایم سی بھلوال نے 120 میٹرک ٹن ، ایم سی شاہ پور نے 10 میڑک ٹن، ایم سی سلانوالی نے 16 میڑک ٹن ، ایم سی ساہیوال نے 8 میڑک ٹن،ایم سی کوٹمومن نے میٹرک ٹن ، ضلع کونسل نے 11 میڑک ٹن ایم سی بھیرہ نے 38 میڑک ٹن جبکہ یونین کونسلز عملہ نے 345 میڑک ٹن آلائشوں کو ٹھکانے لگایا۔

    اسی طرح ضلع میانوالی میں 779 میٹرک ٹن، خوشاب میں 322 میٹرک ٹن اور بھکر میں 579 میٹرک ٹن کوڑا اورجانوروں کی آلائشیں مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا گیا۔صفائی آپریشن میں میونسپل کارپوریشن کے 4 سو سینٹری ورکرز سمیت مجموعی طور 2 ہزار ورکرز نے حصہ لیا۔ عید کے تیسرے روز سہہ پہر چار بجے تک میونسپل کارپوریشن نے 8 سو آلائشوں کو ڈمپنگ سائٹ پر منتقل کیا۔ضلعی کنٹرول روم میں اب تک 4 سو کے قریب شکایات موصول ہوئیں جو تمام بروقت نمٹا دی گئیں۔

    کمشنر محمد اجمل بھٹی کے ساتھ تمام ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر ، سی اوز سمیت دیگر میونسپل افسران خود فیلڈ میں متحرک رہے ۔ کمشنر محمد اجمل بھٹی نے سرگودہا ڈویژن کو زیرو ویسٹ بنانے اور سخت موسم میں شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے والے بلدیہ ورکرز کو خراج تحسین پیش کیا ۔ آخری مرحلے میں سڑکوں کو دھونے اور عرق گلاب کے چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔

    اس طرح پنجاب بھر میں ایک بڑا عوام دوست منصوبہ کامیابی سے پایہء تکمیل کو پہنچا ۔ جسکی وجہ سے عوام کو پہلی دفعہ عام حالات سے بھی زیادہ بہتر معیار کا صاف ستھرا ماحول ملا ۔ بلا شبہ یہ تین روزہ مہم وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ، چیف سیکریٹری پنجاب اور انکے تمام رفقائے کار کے بہترین ٹیم ورک کی ایک اعلیٰ مثال ہے جو یہ سبق دیتی ہے کہ اگر خلوص نیت اور محنت سے کوئی چیلنج قبول کیا جائے تو اس میں کامیابی ضرور ملتی ہے۔