Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لنڈی کوتل: آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 5 نومبر کو ہائی سکول گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا

    لنڈی کوتل: آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 5 نومبر کو ہائی سکول گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ بروز بدھ کو کھیلا جائے گا۔ پوری قوم اور شائقینِ فٹبال کو دعوت دیتے ہیں اور تماشائیوں سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار خیبر سپورٹس کلب کے صدر معراج الدین شینواری، جنرل سیکرٹری کلیم اللہ شینواری، منظور علی اور دیگر نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہائی سکول گراؤنڈ پر آل پاکستان فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 5 نومبر بروز بدھ بوقت 2 بجے منعقد ہوگا۔ ہم پوری قوم، تماشائیوں اور کھلاڑیوں کو اس فائنل میچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔

    فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیمیں پاک شینواری (اونر: ایمل شینواری، کوچ: وجدان) اور شینواری ستوری (کوچ: اختر علی شینواری) کے کھلاڑی اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں اور بروز بدھ کو کھیلنے پر متفق ہیں۔ خیبر سپورٹس کلب نے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور فائنل میچ کو بہترین انداز میں تماشائیوں اور قوم کے سامنے پیش کریں گے۔

    آخر میں انہوں نے تماشائیوں سے اپیل کی کہ جس طرح آپ نے پوری ٹورنامنٹ میں بھرپور تعاون کیا، اسی طرح فائنل میچ کے موقع پر بھی بھرپور ڈسپلن اور تعاون کا مظاہرہ کریں تاکہ عوام اس میچ سے خوب لطف اندوز ہو سکیں۔

  • ننکانہ صاحب: بابا گورو نانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کا آغاز، ہزاروں سکھ یاتریوں کی آمد جاری

    ننکانہ صاحب: بابا گورو نانک کے 556ویں جنم دن کی تقریبات کا آغاز، ہزاروں سکھ یاتریوں کی آمد جاری

    ننکانہ صاحب سے احسان اللہ ایاز کی رپورٹ کے مطابقننکانہ صاحب میں بابا گورو نانک کے 556ویں جنم دن کی تین روزہ رنگارنگ تقریبات کا آغاز مذہبی رسم اکھنڈ پاتھ سے ہوگا۔ دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی ننکانہ صاحب آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے آئے یاتری گوردوارہ جنم استھان میں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔

    ایس پی انویسٹی گیشن حنا نیک بخت نے گوردوارہ کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت سے دو ہزار سے زائد سکھ یاتری کل واہگہ بارڈر کے راستے ننکانہ صاحب پہنچیں گے، جن کے استقبال کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    سکھ یاتریوں کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پانچ ہزار سے زائد افسران و اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں کی سہولت کے لیے فسیلیٹیشن سنٹرز، بینک اور منی ایکسچینج پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں۔

    بابا گورو نانک کے جنم دن کی مرکزی تقریب پانچ نومبر کو گوردوارہ جنم استھان میں منعقد ہوگی جس میں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے تیس ہزار کے قریب سکھ یاتری شرکت کریں گے۔ تقریبات چھ نومبر کو اختتام پذیر ہوں گی۔

  • علی پور: خیرپور سادات روڈ کو ڈبل کیا جائے، عوام کا مطالبہ

    علی پور: خیرپور سادات روڈ کو ڈبل کیا جائے، عوام کا مطالبہ

    علی پور(باغی ٹی وی، نامہ نگار )علی پور تا خیرپور سادات روڈ کو فوری طور پر ڈبل کیا جائے، شہریوں اور سماجی حلقوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ تقریباً 12 کلومیٹر طویل یہ سڑک عرصہ دراز سے تنگ اور خستہ حالی کا شکار ہے، جسے مقامی افراد "سیکنڈ قاتل روڈ” کے نام سے پکارنے لگے ہیں۔ حادثات معمول بن چکے ہیں اور آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

    اس مصروف شاہراہ پر دن رات بھاری اور ہلکی ٹریفک رواں دواں رہتی ہے، جس کے اطراف میں متعدد علاقے اور بستیاں واقع ہیں جن میں گبر اراہیں، سلطان پور، ارالہ، نبی پور، کندائی، شاہی والہ، خانگڑھ ڈومہ سمیت دیگر قصبات شامل ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی تنگی کے باعث سفر نہ صرف خطرناک بلکہ وقت طلب بھی بن چکا ہے۔

    عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ علی پور تا خیرپور سادات روڈ کو دو رویہ (ڈبل) کیا جائے تاکہ حادثات میں کمی آئے، سفری سہولت بہتر ہو اور علاقائی ترقی کے دروازے کھل سکیں۔

  • ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔

    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور وسائل ہونے کے باوجود گوناں گوں مسائل کا شکار، زرخیز خطہ ضلع بنائے جانے کا حق رکھتا ہے۔
    علی پور سے محبوب بلوچ کی ڈائری
    ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور جو کہ ضلعی مقام سے لگ بھگ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، پنجاب کے پانچ دریاؤں کے حسین ملن کی غمازی کرتا یہ خطہ ایک سو چھبیس مواضعات پر مشتمل ہے، جس کا مجموعی طور پر کل رقبہ تین لاکھ چوالیس ہزار چار سو تیرہ ایکڑ ہے، جبکہ سال 2025 میں آبادی دس لاکھ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے۔ 17ویں صدی میں علی نواب لودھی، جس کو یہ خطہ مغلیہ سلطنت کی طرف سے جاگیر کی صورت میں ملا تھا، اس نے چار دروازوں پر مشتمل یہ قلعہ بند شہر تعمیر کرایا تھا اور اسی کے نام کی نسبت سے یہ شہر علی پور کے نام سے منسوب ہے۔ علی پور قدیم دور میں ریاست سیت پور کا حصہ رہا، جو کہ علی پور شہر سے دریائے چناب کے جنوب مغربی حصے پر قریباً بیس کلومیٹر کی مسافت پر آباد ہے، جس کا شمار انسانی تاریخ کی قدیم ترین آبادیوں میں ہوتا ہے۔

    قلعہ لاہور کے میوزیم میں نصب شدہ مغلیہ سلطنت کی حاکمیت میں موجود شہروں کے ناموں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوبی پنجاب کے تین شہر نمایاں نظر آتے ہیں: ملتان، اوچ شریف اور سیت پور۔ محمد بن قاسم نے جب سندھ فتح کیا تو ملتان سے قبل اس کی فوجوں نے سیت پور میں پڑاؤ ڈالا اور اس کو فتح کیا، جس کا تذکرہ قاسم فرشتہ کی معروف تاریخی کتاب ’’تاریخِ فرشتہ‘‘ میں بھی ملتا ہے۔ تاہم دریائے سندھ اور چناب میں آنے والی سیلابی لہروں نے جب سیت پور کو بار بار شدید نقصان پہنچایا تو علی پور کی جانب مقامی آبادی منتقل ہونے لگی، جس کے بعد 1837ء میں علی پور کو ٹاؤن کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ اس شہر کا پہلا چیئرمین ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ انگریز دورِ حکومت میں 1862ء میں تحصیل صدر مقام سیت پور سے علی پور منتقل کر کے علی پور کو تحصیل ہیڈکوارٹر بنا دیا گیا۔

    علی پور شہر کے مشرق میں نو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی پنجاب کا آخری ہیڈ ورکس پنجند بیراج واقع ہے، جو کہ معروف تفریحی مقام اور جنوبی پنجاب کی زرعی معیشت میں اہم کردار کا حامل ہے، جبکہ علی پور شہر کے مغرب میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا عظیم دریا سندھ واقع ہے۔ تین اطراف سے دریاؤں میں گھری ہوئی یہ تحصیل انتہائی زرخیز زرعی رقبے پر مشتمل ہے، تاہم حکومتی عدم توجہی کے باعث اس خطے سے ملکی معیشت کو جو فائدہ پہنچنا چاہیے تھا وہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اس وقت علی پور شہرجو کہ میونسپل کمیٹی کے چوبیس وارڈز پر مشتمل ہے کی آبادی کم و بیش ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر کے قرب و جوار میں قائم ہونے والے جدید رہائشی منصوبوں نے اس شہر کا نقشہ بدل دیا ہے۔ کئی اقامتی نجی تعلیمی اداروں میں ملک بھر سے بچے اس شہر کا رخ کر کے اپنی علمی تشنگی بجھاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔

    یہ زرخیز خطہ اپنے سفید انار کی پیداوار کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ میٹھے رس دار سفید انار شاید ہی دنیا کے کسی اور خطے میں کاشت ہوتے ہوں، تاہم عدم توجہی کی وجہ سے سفید انار کے باغات کو کچھ عرصہ قبل لگنے والی بیماریوں نے مالکان کو مجبور کر دیا کہ وہ ان باغات کو ختم کر دیں۔ کئی ہزار ایکڑ پر مشتمل باغات اجڑ گئے، مگر اس شاندار نعمت کو بچانے کے لیے ابھی تک کسی سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا سکا۔ تحصیل علی پور میں پیدا ہونے والی کپاس کی فصل بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ایک وقت تھا جب نیویارک کی کاٹن مارکیٹ میں علی پور کی کاٹن اپنے معیاری ہونے کے حوالے سے اپنا الگ مقام رکھتی تھی اور پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ تاہم تحصیل علی پور میں زراعت بیسڈ صنعتوں کے قیام، جن میں ٹیکسٹائل ملز، مختلف جوسز کی فیکٹریاں اور پھلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا کاشتکار دیگر فصلوں کی جانب راغب ہونے پر مجبور کر دیا گیا، جس میں گنے کی کاشت بھی شامل ہے۔

    اگر ہم 2025ء کے علی پور شہر کی بات کریں تو یہ وہ بدقسمت خطہ ہے جو ترقی کی شاہراہ پر اپنے کئی ہم عصر شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے پہلی خاتون وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے جب سے عہدہ سنبھالا ہے، آئے روز شہریوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے نت نئے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم اس کے نتائج تحصیل علی پور کے حوالے سے ابھی تک ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کے مترادف ہیں۔ اس کی ذمہ داری کسی ایک پر عائد نہیں ہوتی۔ گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے سالانہ بجٹ 2024/25 میں علی پور۔ مظفرگڑھ۔ ہیڈ پنجند۔ ترنڈہ محمد پناہ سابقہ شاہراہ مغربی پاکستان روڈ کے لیے اسمبلی فلور پر صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے نوید سنائی تھی کہ چونتیس ارب روپے سے یہ سڑک بحالی کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، مگر مالی سال تمام کا تمام گزر چکا، اس روڈ پر ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ اس روڈ پر قومی اسمبلی کے کم و بیش چھ اور صوبائی اسمبلی کے بارہ سے تیرہ حلقے آتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ دو درجن کے لگ بھگ اراکینِ اسمبلی میں سے کسی ایک نے بھی اسمبلی یا دیگر کسی فورم پر اس حوالے سے آواز بلند کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اس سڑک کو ’’قاتل روڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس سڑک سے مقامی لوگ اپنے کسی پیارے کی لاش یا زخمی حالت میں نہ اٹھاتے ہوں۔ یہ سڑک تین صوبوں کی ٹریفک کو سہولت فراہم کرتی ہے۔ تحصیل علی پور کے لیے یہ سڑک دوسرے علاقوں سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔

    اس تحصیل میں ریلوے یا فضائی سروس کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ خطے کو یہ اعزاز بھی اس جدید دور میں حاصل ہے کہ صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ دریائی پتن اسی تحصیل میں واقع ہیں۔ یہاں پر دریائے سندھ پر پل نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے دریائی پتنوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور کے ساٹھ سے زیادہ مواضعات دریائے سندھ کے پار ضلع راجن پور کی سرحد کے ساتھ ساتھ کبیر گوپانگ سے بیٹ عیسیٰ تک کم و بیش سو کلومیٹر شمال سے جنوب تک جاتی پٹی کی صورت میں موجود ہیں۔ ہزاروں لوگ دریائے سندھ پر موجود پتنوں، جن میں موچی والہ، گبر ارائیں، کندائی، سرکی اور دریائے چناب پر شہر سلطان، کندرالہ، مڈوالہ، بیٹ نوروالہ شامل ہیں، سے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دریائے سندھ پر پختہ پل تعمیر کیا جائے، جس کے لیے گبر ارائیں یا کندائی تحصیل علی پور کے مقامات اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ اس سے نہ صرف تحصیل علی پور کی معیشت میں انقلاب برپا ہوگا بلکہ بہاول، ملتان سے ضلع راجن پور اور بلوچستان جانے والے مسافروں کو بھی وقت کی بچت اور سفری اخراجات میں کمی کا فائدہ پہنچے گا۔ امید ہے وزیر اعلیٰ پنجاب اس جانب ضرور اپنی توجہ مبذول کریں گی۔

    تحصیل علی پور کے عوامی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ضلعی صدر مقام سے ایک سو کلومیٹر کا فاصلہ بھی ہے۔ علی پور تحصیل کا جنوب میں واقع آخری موضع بیٹ عیسیٰ ہے۔ آپ حیران ہوں گے وہ ضلعی صدر مقام سے پونے دو سو کلومیٹر دور بنتا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ اس علاقے کے رہائشیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تحصیل علی پور سے 1993ء میں جتوئی کو الگ کر کے تحصیل بنا دیا گیا۔ گزشتہ سال مظفرگڑھ شہر سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود کوٹ ادو کو بھی ضلع بنا دیا گیا ہے لیکن پونے دو سو سال قدیم تحصیل جو کہ اپنے وسائل اور آبادی کے لحاظ سے مکمل طور پر ایک الگ ضلع بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ علی پور کو ضلع ، اس کے ساتھ جتوئی کو منسلک کر کے بنایا جانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ یہی اس خطے کے ہر ایک باسی کی تمنا ہے۔ یہ ضلع قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی کی چار سے زائد نشستوں پر مشتمل ہوگا۔ ضلعی دفاتر کے لیے بھی علی پور شہر میں سرکاری عمارات موجود ہیں۔ ماہِ جون میں نیو جوڈیشل کمپلیکس علی پور میں عدالتیں منتقل ہو رہی ہیں، جبکہ پرانا جوڈیشل کمپلیکس بھی صرف پندرہ سال پرانا ہے، جو کہ ضلعی دفاتر کی ضروریات کے لیے آئندہ سو سال کے لیے بھی کافی ہے۔

  • پورن بھگت دی کہانی سنگیت دے رنگ وچ ، مرے کالج سیالکوٹ دے میر حسن ہال وچ روح پرور پیشکش

    پورن بھگت دی کہانی سنگیت دے رنگ وچ ، مرے کالج سیالکوٹ دے میر حسن ہال وچ روح پرور پیشکش

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)سیالکوٹ دی مقدس دھرتی، جیہڑی پنج ہزار سالہ تاریخ دا گہوارہ اے، ہمیشہ توں مختلف تہذیباں تے مذہباں دا سنگم رہی اے۔ ایہہ اوہی دھرتی اے جتھے پورن بھگت ورگے روحانی کردار نے جنم لیا، جیہڑا گیارھویں صدی عیسوی دا اک معتبر تے روشن کردار سمجھیا جاندا اے۔ پورن بھگت دا کنواں، جیہڑا گاؤں کرول (چپراڑ روڈ، سیالکوٹ) وچ اج وی موجود اے، اس خطے دی روحانیت، محبت تے ثقافت دا جیندا جاگدا نشان اے۔

    پورن بھگت راجہ سالباہن تے رانی اچھراں دا فرزند سی، تے اوہدے سوتیلے پرا راجہ رسالو (رانی لونا دا پتر) نے وی سیالکوٹ تے راج کیتا سی۔ ایہہ داستان پنجابی ادب وچ میاں قادر یار نے اپنی شاعری راہیں ہمیشہ لئی امر کر دِتی، جیہڑی آج وی سیالکوٹ دی پہچان دا فخر اے۔

    پہلی واری، اس تاریخی تے روحانی کہانی نوں سیالکوٹ دی دھرتی تے سٹیج دی زینت بناؤن دا اعزاز گورنمنٹ مرے کالج نوں حاصل ہویا۔ تاریخی میر حسن ہال وچ یکم نومبر، بروز ہفتہ، شام سات وجے، پورن بھگت دی زندگی نوں کہانی، سنگیت تے روحانیت دے حسین امتزاج وچ پیش کیتا گیا۔

    لاہور توں مشہور اداکارہ، کہانی کار تے سنگت دی روح رواں ہما صفدر اپنی ٹیم دے نال سیالکوٹ پہنچی، تے انہاں نے پورن بھگت دی داستان نوں اس قدر خوبصورتی تے جذبے نال پیش کیتا کہ سامعین دا دل موہ لیا۔ ساز دی نرمی، آواز دی مٹھاس تے لہجے دی تاثیر نے محفل وچ اک وجدانی کیفیت پیدا کر دِتی۔ ہما صفدر دی پیشکش نوں ویکھ کے محفل وچ بیٹھے لوک اس کہانی دے رنگ وچ کھو گئے۔

    ایہہ تاریخی تقریب گورنمنٹ مرے کالج دے پرنسپل پروفیسر ندیم قیصر دی خصوصی سرپرستی وچ منعقد ہوئی، جیہڑے تقریب دے آخر تک موجود رہے تے آخر وچ تمام مہماناں دا شکریہ ادا کیتا۔ تقریب دی کامیابی دا سہرا معروف مورخ تے سیالکوٹ شناسی دے ماہر داؤد ظفر ندیم دے سر رہا، جیہڑے پروگرام دے منتظم اعلیٰ سن تے اپنی ٹیم نال مل کے وڈی محنت نال ایہہ روح پرور تقریب ترتیب دِتی۔

    پروفیسر مہر الیاس (کوآرڈینیٹر پروگرام)، پروفیسر ندیم اسلام سلہری (فوکل پرسن) تے پروفیسر اعجاز خاں (ڈپٹی فوکل پرسن) نے وی ایہہ تقریب کامیاب بناؤن وچ مرکزی کردار نبھایا۔

    تقریب وچ سیالکوٹ دے ادبی، سماجی تے تعلیمی حلقیاں دے نمایاں افراد تے سول سوسائٹی دے رکن، نال ہی طلبا تے طالبات دی وڈی تعداد موجود سی۔ خصوصی مہماناں وچ پروفیسر مہر الیاس، طاہر بٹ، لیفٹیننٹ کرنل محسن عدیل، پروفیسر آصف سلیم، ڈاکٹر کامران صوفی، پروفیسر وقار امین، پروفیسر اعزاز چوہدری، پروفیسر اکبر علی غازی، پروفیسر جاوید کمار، پروفیسر اسحاق علی، کلیم رضا، میاں عبدالشکور، ریاض حسین نقوی، علی عثمان باجوہ، ملک عزیز، ملک بلال احمد، جنید آفتاب، مہر ندیم، مدثر رتو، ملک اقبال، شکیل سیٹھی، زاہد شریف تے سیالکوٹ دے مختلف مکاتبِ فکر دے لوگ شامل سن۔

    ایہہ شام سیالکوٹ دی ثقافتی تے روحانی تاریخ نوں سنگیت دے نال جوڑدی ہوئی اک یادگار جھلک بن گئی، جیہڑی اس دھرتی دی شناخت، محبت تے فن دی بقا دا استعارہ بن گئی۔


  • غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت

    غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت

    غیرقانونی افغان، عمل، شناخت اور شفافیت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    پنجاب حکومت نے امن و امان کی بحالی کے لیے ایک جامع اور سخت پالیسی کا اعلان کیا ہے، جس کا آغاز وزیراعلی مریم نواز کے مسلسل ساتویں غیر معمولی اجلاس سے ہوا۔ اس اجلاس میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کا سخت ترین نفاذ یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیاصرف پانچ وقت کی اذان اور جمعہ کے خطبے کی اجازت، باقی تمام استعمال ممنوع۔ سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون پولیسنگ اور ایڈوانس ٹیکنالوجی سے نگرانی ہوگی تاکہ نفرت انگیزی، اشتعال اور صوتی آلودگی فوری روکی جائے۔ پنجاب میں کسی کاروبار، کسی جماعت یا کسی فرد کو کسی بھی کام کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی،اسی اجلاس میں 65 ہزار سے زائد ائمہ کرام کے وظائف، مساجد کی تزئین و بحالی، اطراف کے راستوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کا بھی فیصلہ ہوا۔ فتنہ پرستوں اور انتہا پسندوں کے سوا کسی مذہبی جماعت پر پابندی نہیں ہوگی، لیکن مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے لیے قانون کی رسی تنگ کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات صوتی آلودگی کم کریں گے، سماجی ہم آہنگی بڑھائیں گے اور انتہا پسندی کی جڑیں کمزور کریں گی۔اور اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی سہولت کاری یا معاونت پر کڑی سزا کا اعلان کیا ہے

    لیکن یہ تمام تر خوبصورت اعلانات ایک بڑے، گہرے اور سنگین مسئلے کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں اور وہ ہے غیر قانونی افغانیوں کی پاکستان بھر میں پھیلی ہوئی موجودگی۔ یہ کوئی مقامی یا صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی سلامتی کا بحران ہے جو پنجاب سے لے کر اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، کراچی اور خاص طور پر ڈیرہ غازیخان تک پھیل چکا ہے۔ ڈیرہ غازیخان جو چاروں صوبوں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کا سنگم اور پاکستان کا جغرافیائی مرکز ہے، اس وقت افغانیوں کا سب سے بڑا، منظم اور محفوظ اڈہ بن چکا ہے۔ یہاں پشتونوں کی آڑ میں ہزاروں افغانی چھپے ہوئے ہیں، جن کی سرپرستی گڈز ٹرانسپورٹ کمپنیاں، مخصوص پشتون ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹ ایجنٹس اور مقامی سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کر رہے ہیں۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ ماضی میں یہی گروہ افغانوں کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے غیر قانونی دھندے میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔ آج بھی لنڈا بازاروں، چائے خانوں، بس اڈوں، ٹرک اڈوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں افغانیوں کی اکثریت ہے۔ وہ خود کو موسی خیل،لورالائی، کوئٹہ، وزیرستان یا پشاور کا بتاتے ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی تصدیق شدہ دستاویز نہیں ،نہ NADRA کارڈ، نہ ویزا، نہ رہائشی اجازت، نہ UNHCR کارڈ۔ وہ پاکستانی لباس پہنتے ہیں، پشتو بولتے ہیں لیکن پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، اسلحہ کی تجارت اور جعلی دستاویزات کی صنعت سے منسلک ہیں۔

    حکومت اعلان تو کرتی ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی سہولت کاری پر کڑی سزا ہوگی، لیکن عملی میدان مکمل طور پر خالی ہے۔ ہیلپ لائن 15 کا نام لیا جاتا ہے لیکن کوئی ٹول فری نمبر، انونیمس رپورٹنگ ایپ، ویب پورٹل یا محفوظ وسل بلوئر سسٹم اب تک متعارف نہیں کیا گیا۔دوسری طرف عوام کیوں رپورٹ کریں؟ جب وہ جانتے ہیں کہ تھانے کے SHO ماہانہ بنیاد پر افغانیوں کے "سرکردہ افراد” سے بھاری "منتھلی” وصول کرتے ہیں؟ جب پولیس خود ان کی سرپرستی کر رہی ہو، تو کون معلومات دے گا؟ اور ان کی کون سنے گا؟ڈیرہ غازیخان میں یہ کرپشن سب سے زیادہ ہے یہاں سرحدی راستوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور ہوٹل انڈسٹری کی وجہ سے افغانیوں کو کھلی چھوٹ ملتی ہے۔پشتون ہوٹل مالکان (نہیں معلوم کہ وہ پاکستانی ہیں یاافغانی)افغانیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں حتی کہ پولیس سے ڈیل کرا کر انہیں مکانات بھی دلوائے ہوئے ہیں ۔

    2 نومبر 2025 تک اقوامِ متحدہ کے اداروں IOM اور UNHCR کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے افغان مہاجرین کی کل تعداد 1,611,635 ہےلیکن ابھی بھی لاکھوں افغانی بغیر کسی قانونی دستاویز کے موجود ہیں ہیں،جنہیں کرپٹ عناصر نے تحفظ دیا ہوا ہے۔ یہ افغانی نہ صرف معاشی وسائل پر بوجھ ہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بھی ہیں۔ ڈیرہ غازیخان میں تو صورتحال یہ ہے کہ گلیوں اور محلوں میں متعددگھر افغانیوں کے قبضے میں ہیں اور اس کے علاوہ مین بازاروں میں افغانیوں کے کاروبار ہیں بلکہ ذرائع کے مطابق کوہ سلیمان کے ارد گرد تونسہ شریف میں وہوا کے علاقوں اور شادن لنڈ کے قریب کے علاقوں میں افغانوں کی بستیاں قائم ہیں جنہیں مقامی سرداروں کی آشیرباد حاصل ہے اور مقامی پولیس بھی جانتی ہےلیکن کارروائی کیلئے انہیں دکھائی نہیں دیتے ۔

    ڈیرہ غازیخان کو وفاقی اور صوبائی حکومت کا فوکل پوائنٹ بننا چاہیے۔ یہ شہر صرف ایک ضلع نہیں بلکہ پاکستان کا دل ہے۔ یہاں سے گزرنے والی قومی شاہراہ، ریلوے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پورے ملک کو جوڑتے ہیں۔ اگر یہاں افغانیوں کوکنٹرول نہ کیا گیا تو پھر پورا پاکستان غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہاں ایک جامع، شفاف، سخت اور مثال بننے والا آپریشن چلایا جائے جو نہ صرف افغانیوں بلکہ ان کے ہمدردوں، جعلی کارڈ بنانے والوں، ٹرانسپورٹ مالکان، ہوٹل مالکان اوررشوت لیکرقومی پالیسی سے انحراف کرنے والے پولیس افسران کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں .

    افغانیوں کے خلاف موثر آپریشن کے لیے فوری انونیمس رپورٹنگ ایپ متعارف کی جائے، NADRA اورFacial Recognition کو مربوط کیا جائے، پولیس کرپشن پر سخت اندرونی آڈٹ ہو اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے انعام، تحفظ اور شفافیت یقینی بنائی جائے،ڈیرہ غازیخان جیسے حساس مقامات پر عملی آپریشن قومی سلامتی کی ضرورت ہے ،اعلانات سے افغانی نہیں نکلتے، زمینی کارروائی سے نکلتے ہیں۔ یہاں کامیابی ہوئی تو اسلام آباد سے کراچی تک دہرائی جا سکتی ہے، ناکامی ہوئی تو پورا ملک غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہ اعلانات کا نہیں، عمل کا وقت ہے۔ ڈیرہ غازیخان اس جنگ کا فرنٹ لائن ہے ،یہاں جیت پورے پاکستان کی جیت ہے۔ حکومت کو اب مثال بننے والا آپریشن کرنا چاہیے جو قومی سلامتی اور عوامی اعتماد کو بحال کرے۔

  • ننکانہ صاحب: بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات.صوبائی وزراء اور اعلیٰ افسران کا دورہ گوردوارہ جنم استھان

    ننکانہ صاحب: بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات.صوبائی وزراء اور اعلیٰ افسران کا دورہ گوردوارہ جنم استھان

    ننکانہ صاحب(احسان اللہ ایاز کی رپورٹ) بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں صوبائی وزراء اور اعلیٰ افسران کا دورہ۔ تقریبات 3 سے 6 نومبر تک جاری رہیں گی، جن میں 30 ہزار کے قریب سکھ یاتری شرکت کریں گے۔

    صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق، سردار رمیش سنگھ اروڑ، سیکرٹری ہوم ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، کمشنر لاہور مریم خان اور آر پی او اطہر اسماعیل نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر اور ڈی پی او فراز احمد نے انتظامات پر بریفنگ دی۔ 5 ہزار سے زائد اہلکار یاتریوں کی خدمت پر مامور، 3 کنٹرول رومز اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب۔ گوردوارہ جات میں ہسپتال، فسیلیٹیشن ڈیسک، اور رہائش و سکیورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل۔

    تقریبات کا آغاز اکھنڈ پاٹ کی رسم سے، مرکزی تقریب 5 نومبر کو گوردوارہ جنم استھان میں ہوگی۔ بھارت سے 2100 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے ذریعے شرکت کریں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: جعلی کولڈ ڈرنکس فیکٹری پر چھاپہ، ایک ہزار لیٹر مشروبات تلف

    ڈیرہ غازی خان: جعلی کولڈ ڈرنکس فیکٹری پر چھاپہ، ایک ہزار لیٹر مشروبات تلف

    ڈیرہ غازی خان ( باغی ٹی وی،نیوز رپورٹر شاہد خان) جعلساز مافیا کے خلاف پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ سیفٹی ٹیم کی ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز کی سربراہی میں بڑی کارروائی کی گئی۔ ٹیم نے بلاک 40 نزد الخدمت سینٹر کے قریب واقع ویئر ہاؤس پر چھاپہ مارا جہاں اصل کے نام پر جعلی کولڈ ڈرنکس تیار اور فروخت کی جا رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران ایک ہزار لیٹر ناقص اور غیر معیاری مشروبات موقع پر برآمد کر کے تلف کر دی گئیں جبکہ ویئر ہاؤس کے مالک کو 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    چیکنگ کے دوران مشروبات کی برکس ویلیو معیار سے کم پائی گئی جبکہ فوڈ بزنس آپریٹر لائسنس اور دیگر ضروری دستاویزات بھی ٹیم کو پیش نہیں کیے جا سکے۔ اس موقع پر ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید نے کہا کہ عوام تک محفوظ خوراک پہنچانا اتھارٹی کا اولین فریضہ ہے، جعلی و غیر معیاری اشیا تیار کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے غیر قانونی کاروبار کی نشاندہی کریں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1223 پر فوری اطلاع دیں۔

  • گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا احتجاج 26ویں روز میں داخل، تنخواہیں بحال نہ ہونے پر شدید احتجاج

    گھوٹکی: میونسپل ملازمین کا احتجاج 26ویں روز میں داخل، تنخواہیں بحال نہ ہونے پر شدید احتجاج

    گھوٹکی باغی ٹی وی (نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میونسپل کمیٹی گھوٹکی کے ملازمین کا زبردستی بند کی گئی تنخواہوں کی بحالی کے لیے احتجاجی کیمپ مسلسل 26ویں روز بھی جاری رہا، مگر تاحال کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے نوٹس نہیں لیا۔

    تفصیلات کے مطابق ملازمین چھ سال سے تنخواہوں کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری طور پر بحال کی جائیں، بصورت دیگر احتجاجی کیمپ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

    احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، بلدیاتی وزیر ناصر حسین شاہ اور میونسپل چیئرمین آصف رزاق دھاریجو نے تاحال کسی قسم کی توجہ نہیں دی، جس سے ملازمین میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

    دریں اثنا، احتجاجی کیمپ میں موجود ملازمین نے ایم این اے سردار علی گوہر خان مہر، ایم پی اے سردار راجا خان مہر، صوبائی وزیر محمد بخش خان مہر اور دیگر معزز شخصیات سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ سندھ مرحوم سردار علی محمد خان مہر کی والدہ اور ضلع چیئرمین میر بنگل خان مہر کی چچی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا۔

    ملازمین نے حکومتِ سندھ سے اپیل کی ہے کہ ان کے جائز مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بقایا تنخواہیں فوری بحال کی جائیں تاکہ وہ اپنے گھروں کے معاشی مسائل سے نجات پا سکیں۔

  • اڈا ظاہر پیر پر تیز رفتار کار نے سڑک کنارے کھڑے افراد کو کچل دیا، ایک لڑکی جاں بحق، چار افراد شدید زخمی

    اڈا ظاہر پیر پر تیز رفتار کار نے سڑک کنارے کھڑے افراد کو کچل دیا، ایک لڑکی جاں بحق، چار افراد شدید زخمی

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) اڈا ظاہر پیر کے قریب پیش آنے والے خوفناک ٹریفک حادثے میں اوچ شریف کے نواحی علاقے خیرپور ڈاہا کے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق و زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار دو خواتین، ایک مرد اور دو بچے سڑک کنارے کھڑے تھے کہ پیچھے سے آنے والی تیز رفتار کار نے زور دار ٹکر ماری۔ حادثے کے نتیجے میں 16 سالہ نگو مائی دختر پنو خان موقع پر جاں بحق ہو گئی، جبکہ چار افراد ماہیوال ولد کبیر خان (50 سال)، تسلیم بی بی زوجہ ماہیوال (45 سال)، محمد مجید ولد ماہیوال (10 سال) اور عالیہ دختر ماہیوال (18 سال) شدید زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں تمام زخمیوں اور جاں بحق لڑکی کی نعش کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی موٹر وے پولیس موقع پر پہنچ گئی اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق کار کی رفتار حد سے زیادہ تھی، جبکہ موقع پر موجود افراد نے انتظامیہ سے ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور اوور اسپیڈنگ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔