Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • قصور :ڈی سی کا راجہ جنگ کا اچانک دورہ، ریٹ لسٹ و تجاوزات پر سخت ہدایات

    قصور :ڈی سی کا راجہ جنگ کا اچانک دورہ، ریٹ لسٹ و تجاوزات پر سخت ہدایات

    قصور (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارقنویدسندھو) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر لاہور ڈویژن کی خصوصی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی نے تحصیل راجہ جنگ کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عام مارکیٹ، میونسپل کمیٹی، نادرا اور ریسکیو 1122 کے دفاتر کا معائنہ کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے عام مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، ریٹ لسٹوں کی دستیابی، تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن، ماحولیاتی آلودگی اور "ستھرا پنجاب پروگرام” کے تحت صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دوکانداروں کو ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ کی مقرر کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق اشیاء فراہم کی جائیں، بصورتِ دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    عمران علی نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کا بھی جائزہ لیا اور دوکانداروں کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی حدود میں رہ کر کاروبار کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تجاوزات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور ضلعی انتظامیہ کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے "ستھرا پنجاب پروگرام” کے تحت صفائی ستھرائی کے انتظامات کا بھی معائنہ کیا اور ایل ڈبلیو ایم سی کے ذمہ داران کو صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔

    میونسپل کمیٹی، نادرا اور ریسکیو 1122 کے دفاتر کے دورے کے دوران انہوں نے سائلین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور متعلقہ افسران کو شہریوں کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے کہا کہ شہر کو صاف ستھرا اور خوبصورت بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ضلعی انتظامیہ دن رات کوشاں ہے اور اس مقصد کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ فیلڈ میں مزید متحرک ہو کر کام کریں اور صفائی ستھرائی کی سرگرمیوں کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ یقینی بنائیں۔

  • سیالکوٹ: نالہ ایک پر گرینڈ آپریشن، 5 کروڑ مالیت کی زمین واگذار

    سیالکوٹ: نالہ ایک پر گرینڈ آپریشن، 5 کروڑ مالیت کی زمین واگذار

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹرمدثررتو)سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی ہدایت پر نالہ ایک پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی اسسٹنٹ کمشنر رانا صفدر شبیر کی سربراہی میں موضع کاکےوالی اور لنگڑیالی کے علاقوں میں کی گئی، جہاں نالہ ایک کے حفاظتی بندھ کے ساتھ تعمیر کی گئی بائیس پختہ تجاوزات کو مسمار کر دیا گیا۔ اس دوران دو کلومیٹر ایریا کو مکمل طور پر تجاوزات سے پاک کر لیا گیا۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں تقریباً 43 مرلے سرکاری زمین، جس کی مالیت پانچ کروڑ روپے سے زائد ہے، واگذار کروا لی گئی۔ انسداد تجاوزات آپریشن میں ضلع کونسل، پولیس، آبپاشی، ریونیو اور گیپکو کے افسران و عملہ شریک تھا۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے کہا کہ شہر میں تجاوزات کے خاتمے کی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے، اور نالہ ایک کو مکمل طور پر کلیئر کرنے تک کارروائی جاری رہے گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی نالہ ایک نیکاپورہ تا بن پھاٹک تلواڑہ تک تجاوزات ختم کی جا چکی ہیں۔

  • ننکانہ صاحب:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ورکرز کنونشن، نظریۂ پاکستان کی تجدید کا عزم

    ننکانہ صاحب:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ورکرز کنونشن، نظریۂ پاکستان کی تجدید کا عزم

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع ننکانہ صاحب کے زیرِ اہتمام ضلعی ورکرز کنونشن ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں تحصیلی صدور، شعبہ جاتی عہدیداران، یوتھ ونگ، میڈیا کوآرڈینیٹر اور ضلعی رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی۔ کنونشن کی صدارت صوبائی صدر وسطی پنجاب چوہدری حمید الحسن نے کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد 2 نومبر کو مینارِ پاکستان لاہور میں ہونے والے مرکزی ورکرز کنونشن کی تیاریوں کا جائزہ لینا اور ضلعی سطح پر تنظیمی حکمتِ عملی مرتب کرنا تھا۔

    چوہدری حمید الحسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور ماضی میں قدرتی آفات کے دوران عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عملی خدمت کی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب جیسے بحرانوں میں پارٹی کارکنوں کی خدمات نے ثابت کیا کہ سیاست صرف اقتدار نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا نام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مینارِ پاکستان پر ہونے والا کنونشن نظریۂ پاکستان کی تجدید کا موقع ہوگا کیونکہ اسی جگہ سے وطن عزیز کے قیام کا اعلان ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس عزم کے ساتھ جا رہے ہیں کہ بقائے پاکستان نظریۂ پاکستان ہی میں مضمر ہے۔

    زمان سیف نے کہا کہ آج کا دور ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کا ہے، جہاں ہر کارکن اپنی سوچ، آواز اور نظریہ قوم تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کارکنان کو تلقین کی کہ وہ مثبت اور سچائی پر مبنی مہمات چلائیں، ضلعی مسائل کو اجاگر کریں اور اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچائیں تاکہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا پیغام ہر گھر تک پہنچے۔

    ثاقب مجید نے کہا کہ ننکانہ صاحب میں پارٹی کی تنظیمی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور تمام تحصیلی صدور اپنے علاقوں میں کنونشن کی تشہیر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز کنونشن ایک ایسی تحریک کا آغاز ہوگا جس کا مقصد ملک میں خدمت، امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔

    اجلاس کے اختتام پر مرکزی ورکرز کنونشن کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضلعی عہدیداران کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2 نومبر کا دن پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی خدمت اور نظریۂ پاکستان پر مبنی سیاست کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔

  • افغانیوں کی غداریاں کب ختم ہوں گی؟

    افغانیوں کی غداریاں کب ختم ہوں گی؟

    افغانیوں کی غداریاں کب ختم ہوں گی؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفے بڈانی
    تہذیبیں کتابوں میں سنہرے حروف سے لکھی جاتی ہیں، مگر افغانستان کی تاریخ خون، بارود اور احسان فراموشی سے بھری ایک المناک داستان ہے۔ یہ سرزمین، جسے قدرت نے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت عطا کی، صدیوں سے بیرونی طاقتوں کی یلغار کا مرکز رہی، لیکن اس کا اصل المیہ دشمن نہیں بلکہ اپنوں کی غداری رہی ہے۔ برطانوی دور کی افغان جنگوں سے لے کر آج کے طالبان دور تک، افغان حکمرانوں اور بعض اوقات خود عوام نے اپنی ہی قوم اور مخلص ہمسایوں کے ساتھ دغا بازی کی مثالیں قائم کیں۔ پاکستان نے جس خلوص سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، انفراسٹرکچر سے لے کر انسانی ہمدردی تک بے مثال مدد فراہم کی، اسی کے بدلے اسے سرحدی حملے، دہشت گردی اور بھارت نوازی کی شکل میں زخم ملے۔ آج جب طالبان کے وزرا نئی دہلی میں بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں اور سرحد پار سے گولہ باری کرتے ہیں تو یہ تاریخ کی اسی زنجیر کی نئی کڑی محسوس ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ غداریوں اور احسان فراموشیوں کا سلسلہ کب ٹوٹے گا؟

    برطانیہ کی پہلی افغان جنگ( 1839 تا 1842)کے بارے میں ایرانی مئورخین کا کہنا ہے کہ ایران نے اس دور میں افغانستان کی بھرپور مدد کی، برطانوی فوج کے مقابلے میں اپنی افواج ہرات میں داخل کیں اور جنگ میں برطانیہ کے خلاف اپنا سب کچھ دا ؤپر لگا دیا۔ تاہم افغان مئورخین اس کے برعکس رائے رکھتے ہیں کہ ایران نے دراصل افغانستان کی مدد نہیں کی بلکہ ہرات پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی کی، جو گریٹ گیم یعنی برطانیہ اور روس کے درمیان وسطی ایشیا پر غلبے کی کشمکش کا حصہ تھی۔

    افغان تاریخ میں متعدد حکمران ایسے گزرے ہیں جو اپنی قوم سے غداری کر کے بیرونی طاقتوں کے کٹھ پتلی بنے اور دشمنوں کا آلہ کار ثابت ہوئے۔ یہ غداریاں نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کرتی رہیں بلکہ افغانستان کو مستقل انتشار کا شکار بھی رکھا۔ چند اہم مثالیں درج ذیل ہیں
    شاہ شجاع (1839-1842): پہلی افغان جنگ کے دوران برطانیہ نے انہیں تخت پر بٹھایا۔ وہ برطانیہ کے کٹھ پتلی تھے اور افغان قوم کی مزاحمت کے باوجود برطانوی مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ ان کی غداری کی وجہ سے افغانوں نے بغاوت کی اور انہیں قتل کر دیا گیا۔
    حفیظ اللہ امین (1979): سوویت یونین کے حملے کے دوران حفیظ اللہ امین نے اپنے پیشرو نور محمد ترکئی کو قتل کر کے اقتدار حاصل کیا اور سوویت یونین کا کٹھ پتلی بنا۔ ان کی غداری نے افغانستان کو سوویت قبضے میں دھکیل دیا، جس سے لاکھوں افغان ہلاک ہوئے۔
    ببرک کارمل (1979-1986): سوویت یونین نےحفیظ اللہ امین کو ہٹا کر ببرک کارمل کو اقتدار دیا۔ وہ مکمل طور پر سوویت کٹھ پتلی تھے اور افغان مجاہدین کی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کی، جو قومی غداری کی واضح مثال ہے۔

    حامد کرزئی اور اشرف غنی (2001-2021): امریکہ اور نیٹو کے حملے کے بعد یہ دونوں حکمران مغربی طاقتوں کے کٹھ پتلی بنے۔ کرزئی نے امریکی مفادات کو ترجیح دی اور غنی نے بھی یہی کیا جو 2021 میں طالبان کے سامنے فرار ہو گئے۔ ان کی حکومتوں کو "کٹھ پتلی نظام” کہا جاتا ہے جو افغان قوم کی خودمختاری سے غداری تھی۔یہ مثالیں دکھاتی ہیں کہ افغان حکمران بار بار بیرونی طاقتوں (برطانیہ، سوویت یونین، امریکہ)کے آلہ کار بنے اور اپنی قوم سے غداری کی، جس سے افغانستان مستقل بحران کا شکار رہا۔

    افغان حکمرانوں کی غداری کی زنجیر میں ایک اہم کڑی بھارت کا کردار بھی ہے۔ تاریخی طور پرافغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات میں بھارت نے افغانستان کو اپنا آلہ کار بنا کر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پرسابق افغان نائب صدر امر اللہ صالح کو بھارت کا پٹھو کہا جاتا ہے جو پاکستان کو بدنام کرنے اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث رہے۔ کرزئی اور غنی کی حکومتوں نے بھی بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے جو پاکستان کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ تھے۔ ان حکومتوں نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ‘را’ کو افغانستان میں کارروائی کرنے کی اجازت دی، جو پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث تھی، جس سے بلوچستان اور خیبرپختو نخوا میں بھارتی فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور بی ایل اے دہشت گردی کا نیٹورک اور کارروائیاں اور طالبان کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

    بھارت نے طالبان حکومت کوڈالر دیکر ان کے ساتھ روابط بڑھا لیے ہیں جو پاکستان کو ہرگز قبول نہیں ہیں۔ یہ تعلقات پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہیں کیونکہ افغانستان سے ٹی ٹی پی جیسے گروپس پاکستان پر حملے کر رہے ہیں اور یہ بھارتی اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے۔ اس طرح افغان حکمران بھارت کی کٹھ پتلی بن کر پاکستان کی سرحدوں پر تناؤپیدا کرتے رہے اور معاشی و سیکیورٹی نقصان پہنچاتے رہے ہیں اور ابھی تک یہ سلسلہ رکا نہیں۔امیر خان متقی کی بھارت میں بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں اور طالبان حملے حالیہ واقعات احسان فراموشی کی اس کہانی کو مزید تلخ بناتے ہیں۔

    اکتوبر 2025 میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور وہاں سے پاکستان کو کھلی دھمکیاں دیں۔ متقی نے کہا کہ "پاکستان ہمارا واحد متبادل نہیں ہے” اور بارڈر جھڑپوں میں افغانستان نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں اور متقی کی بھارت میں موجودگی نے یہ تاثر دیا کہ طالبان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے فوراََبعد طالبان فورسز نے پاکستان کی سرحدوں پر حملے کیے۔ متعدد جھڑپیں ہوئیں، جن میں طالبان نے پاکستانی فوجیوں پر حملے کیے اور دعوی کیا کہ 58 پاکستانی فوجی مارے گئے۔ یہ حملے کئی صوبوں میں ہوئے، جن میں ٹی ٹی پی اور دیگر گروپس شامل تھے اور پاکستان نے واضح ثبوتوں کےساتھ بتایا ہے کہ یہ حملے افغان سرزمین سے کیے جا رہے ہیں پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ پاکستان نے ایئر سٹرائیکس کیں، جن میں خوست اور پکتیکا میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور دعوی کیا کہ 200 سے زائد طالبان اور اتحادی مارے گئے۔ پاکستان نے افغان طالبان کی کئی بارڈر پوسٹس پر قبضہ کیا اور کارروائیاں کیں۔ یہ جوابی کارروائی پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت کا حصہ تھا اور آخر کار دونوں جانب سے سیز فائر کا اعلان ہوا۔

    پاکستان نے افغانستان کو ہمیشہ ایک بھائی ملک سمجھا اور اس کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سوویت حملے (1979-1989) کے دوران پاکستان نے لاکھوں افغان مجاہدین کو تربیت دی، اسلحہ فراہم کیا اور اربوں ڈالر خرچ کیے۔ اس کے علاوہ 40 سال سے زائد عرصے تک پاکستان نے 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پناہ دی، انہیں تعلیم، روزگار اور طبی سہولیات فراہم کیں،یہ ایک تاریخی احسان ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔لیکن افسوس کہ افغان حکمرانوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے یہ احسان بھلا دیا۔ حالیہ برسوں میں طالبان حکومت نے پاکستان پر الزامات لگا کر اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کو سپورٹ کر کے غداری کی ہے۔ بارڈر تنازعات جیسے طورخم اور چمن پر جھڑپیں، افغانوں کی احسان فراموشی کی واضح مثالیں ہیں۔

    پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو میں اربوں ڈالر کی امداد دی، لیکن بدلے میں الزامات اور دشمنی ملی۔ متقی کی دھمکیاں اور طالبان حملے اس احسان فراموشی کی تازہ ترین مثالیں ہیں جو پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنے دفاع میں سخت اقدامات اٹھائے۔ یہ سلسلہ 1979 سے شروع ہوا، جب پاکستان نے سوویت کے خلاف مدد کی، لیکن 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد سے شدت اختیار کر گیا، جہاں افغانستان نے ٹی ٹی پی کو پناہ دے کر پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔ یہ احسان فراموشی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے افسوسناک ہے۔

    افغانستان کو چاہیے کہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھے اور غداری کی اس زنجیر کو توڑے احسان فراموشی کی یہ روایت نہ صرف ان کی قوم کو کمزور کرتی ہے بلکہ علاقائی امن کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔ افغان قوم کو اپنے حکمرانوں سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ یہ غداریاں کب ختم ہوں گی؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وضاحت:اس کالم میں برطانیہ کی پہلی افغان جنگ( 1839 تا 1842 )سے متعلق ایرانی اور افغانی مئورخین کے مختلف مئوقف پر مبنی ہے۔ ایرانی مئورخین کے مطابق ایران نے افغانوں کی مدد کی، جب کہ افغان مئورخین کا کہنا ہے کہ ایران نے دراصل ہرات پر قبضے کی کوشش کی۔ یہ دونوں مئوقف تاریخی دستاویزات پر مبنی ہیں، تاہم مغربی مئورخین کی اکثریت ایران کی مہم کو علاقائی توسیع قرار دیتی ہے، نہ کہ افغان حمایت۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تاریخی حوالہ جات
    Historical References

    1. https://en.wikipedia.org/wiki/First_Anglo-Afghan_War
    2. https://www.historic-uk.com/HistoryUK/HistoryofBritain/First-Anglo-Afghan-War-1839-1842/
    3. https://www.thoughtco.com/the-first-anglo-afghan-war-195101
    4. https://en.wikipedia.org/wiki/Siege_of_Herat_%281837%E2%80%931838%29
    5. https://en.wikipedia.org/wiki/First_Herat_War
    6. https://journals.openedition.org/samaj/3384
    7. https://en.wikipedia.org/wiki/Hafizullah_Amin
    8. https://en.wikipedia.org/wiki/Operation_Storm-333
    9. https://en.wikipedia.org/wiki/Babrak_Karmal
    10. https://en.wikipedia.org/wiki/Hamid_Karzai
    11. https://www.wsws.org/en/articles/2014/09/30/afgh-s30.html
    12. https://indianexpress.com/article/india/amrullah-saleh-afghanistan-crisis-taliban-takeover-7503410/
    13. https://issi.org.pk/wp-content/uploads/2017/10/7-SS_Mir_sherbaz_Khetran_No-3_2017.pdf
    14. https://www.jstor.org/stable/312410
    15. https://en.wikipedia.org/wiki/Soviet%E2%80%93Afghan_War
    16. https://en.wikipedia.org/wiki/Foreign_involvement_in_the_Soviet%E2%80%93Afghan_War
    17. https://globalcompactrefugees.org/gcr-action/countries/afghan-refugee-situation

  • میرپورماتھیلو: جروار پولیس سوگئی، چور لاکھوں روپے مالیت کی بھینس دیوار توڑ کر لے اڑے

    میرپورماتھیلو: جروار پولیس سوگئی، چور لاکھوں روپے مالیت کی بھینس دیوار توڑ کر لے اڑے

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق علی لغاری) جروار پولیس سوگئی، چور لاکھوں روپے مالیت کی بھینس دیوار توڑ کر لے اڑے

    تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپورماتھیلو کے علاقہ علاقے جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں رات گئے ایک سنگین واردات رونما ہوئی ہے جس میں نامعلوم چور منظور لغاری کے گھر کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے اور لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی بھینس چرا کر فرار ہو گئے۔ واقعہ کے بعد گاؤں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق یہی گروہ اس سے قبل بھی علاقے میں مشکوک حرکات میں ملوث رہا ہے، مگر پولیس کی غفلت کے باعث کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔ متاثرہ خاندان نے کہا ہے کہ بھینس ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ تھی، جس کے چوری ہونے سے ان کا ناقابلِ تلافی معاشی نقصان ہوا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری طور پر چوروں کا سراغ لگائے، چوری شدہ بھینس برآمد کرے اور گاؤں میں رات کے وقت گشت کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ "یہ ظلم اور چوری اب مزید برداشت نہیں کی جا سکتی!

  • ننکانہ صاحب:مس عمارہ کو چیمبر آف ایجوکیشن کا اسٹار ٹیچر ایوارڈ

    ننکانہ صاحب:مس عمارہ کو چیمبر آف ایجوکیشن کا اسٹار ٹیچر ایوارڈ

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)ننکانہ صاحب میں چیمبر آف ایجوکیشن کی جانب سے ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں مس عمارہ کو اسٹار ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    تقریب کے مہمانِ خصوصی رکن پنجاب اسمبلی مہر کاشف رنگ الہی پڈھیار، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ اور سی ای او ایجوکیشن شازیہ بانو تھے۔

    تقریب میں چیمبر آف ایجوکیشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری نصیب الہیٰ گوجر، صدر ذیشان سرور، سینئر نائب صدر رضوان صادق، نائب صدور ولید چیمہ اور عمران اسلام، جنرل سیکرٹری ملک عتیق، انفارمیشن سیکرٹری رحمان یوسف سمیت اساتذہ، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور محکمہ تعلیم کے افسران نے شرکت کی۔

    اس موقع پر مقررین نے کہا کہ اساتذہ ملک و قوم کی بنیاد ہیں، اگر وہ ایمانداری سے فرائض انجام دیں تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
    مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے کہا کہ ضلع ننکانہ صاحب میں آئندہ دو سال کے دوران شرح خواندگی سو فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں نجی تعلیمی ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    تقریب کے اختتام پر ننکانہ چیمبر آف ایجوکیشن کے نومنتخب عہدیداران نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔
    ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (سیکنڈری) شہباز احمد نے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

  • ڈیرہ غازیخان: بی ایم پی کے ایس ایچ او اشفاق لغاری کی اعلیٰ کارکردگی پر انعام و تعریفی اسناد کی تقریب

    ڈیرہ غازیخان: بی ایم پی کے ایس ایچ او اشفاق لغاری کی اعلیٰ کارکردگی پر انعام و تعریفی اسناد کی تقریب

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر) سمگلنگ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن میں نمایاں کارکردگی دکھانے پر بارڈر ملٹری پولیس کے سربراہ کمانڈنٹ امیر تیمور خان کی جانب سے پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں کمانڈنٹ امیر تیمور خان نے ایس ایچ او تھانہ کھر اشفاق احمد لغاری کو کرائم کنٹرول، سمگلنگ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف شاندار کارکردگی پر تعریفی اسناد اور نقد انعام سے نوازا۔ اس موقع پر رسالدار تمن لغاری، سردار عبداللہ خان لغاری سمیت تھانہ کھر کا عملہ بھی موجود تھا۔

    کمانڈنٹ امیر تیمور خان نے کہا کہ ایس ایچ او اشفاق احمد لغاری جیسے فرض شناس افسر فورس کے لیے ماتھے کا جھومر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سینئر کمانڈنٹ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایات کی روشنی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی جبکہ ناقص کارکردگی کے حامل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • گوجرانوالہ: شماریات کے عالمی دن پر آگاہی واک، درست اعداد و شمار کی اہمیت اجاگر

    گوجرانوالہ: شماریات کے عالمی دن پر آگاہی واک، درست اعداد و شمار کی اہمیت اجاگر

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) شماریات کے عالمی دن کے موقع پر بیورو آف سٹیٹسٹکس ریجنل آفس گوجرانوالہ کی جانب سے آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ واک کا آغاز جناح اسٹیڈیم سے ہوا اور اختتام ڈپٹی کمشنر آفس پر کچہری روڈ کے راستے کیا گیا۔

    آگاہی واک کی قیادت ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد نے کی، ان کے ہمراہ اراکین صوبائی اسمبلی عمران خالد بٹ، چوہدری قیصر اقبال سندھو، اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شبیر حسین بٹ شریک تھے۔ چیف سٹیٹسٹیکل آفیسر سمیت بیورو آف سٹیٹسٹکس کے افسران و عملہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھا۔

    شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا کہ منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں درست اور بروقت شماریاتی معلومات کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ مستند اعداد و شمار کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ واک کا مقصد عوام میں شماریات کی اہمیت اجاگر کرنا اور ہر سطح پر بہتر فیصلہ سازی کو فروغ دینا تھا۔

  • سیالکوٹ: 4 ارب 85 کروڑ کے ترقیاتی منصوبے، دیہی سڑکوں کی بحالی اور اسموگ کنٹرول پلان منظور

    سیالکوٹ: 4 ارب 85 کروڑ کے ترقیاتی منصوبے، دیہی سڑکوں کی بحالی اور اسموگ کنٹرول پلان منظور

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد طلحہ) وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے "سڑکیں بحال، پنجاب خوشحال پروگرام” کے تحت ضلع سیالکوٹ کے دیہی علاقوں میں 4 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر و بحالی کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں بتائی گئی جس کی صدارت وزیرِ مملکت برائے منصوبہ بندی چوہدری ارمغان سبحانی نے کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی، چوہدری طارق سبحانی، چوہدری نوید اشرف اور رانا عبد الستار نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات، ترجیحات اور عملدرآمد کے امور پر غور کیا گیا، جبکہ بتایا گیا کہ ان منصوبوں سے دیہی آمد و رفت بہتر ہوگی، تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور مقامی معیشت مستحکم ہوگی۔

    بعد ازاں ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیرِ صدارت ماحولیاتی تحفظ اور اسموگ کے سدباب سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیالکوٹ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی یا کوئی ادارہ کوڑا کرکٹ یا فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لگائے، بصورتِ دیگر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ایئر کوالٹی انڈیکس کی روزانہ مانیٹرنگ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر پابندی اور بلڈنگ میٹریل کی ترسیل کے دوران گردوغبار سے بچاؤ کی ہدایات بھی دیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ زیرِ تعمیر عمارتوں پر ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران ماحولیاتی آلودگی کم سے کم رہے۔ اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن عباس ذوالقرنین، اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال غلام فاطمہ بندیال، چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن زبیر وٹو، ایم ڈی ایس ڈبلیو ایم سی کاشف نواز، سیکرٹری آر ٹی اے مظفر حیات، انسپکٹر ماحولیات شاہد ڈوگر اور دیگر افسران شریک تھے۔

    اسی دوران ورلڈ اسٹیٹسٹکس ڈے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی قیادت میں آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا جو ڈی سی آفس کمپلیکس سے کچہری چوک تک نکالی گئی۔ واک میں سٹیٹسٹکس آفیسر بتول فاطمہ، ملک امتیاز، محمد نیامت سمیت محکمہ شماریات کے افسران، ضلعی افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ درست اور بروقت شماریاتی معلومات کے بغیر مؤثر منصوبہ بندی ممکن نہیں۔ حکومت پاکستان اعداد و شمار کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی اصلاحات کے لیے مستند ڈیٹا فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی آگاہی مہمات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ سیالکوٹ کو صاف، سرسبز اور ترقی یافتہ ضلع بنایا جا سکے۔

  • بہاولنگر: پولیس کی کارروائی، 3 منشیات فروشوں سمیت 4 ملزمان گرفتار

    بہاولنگر: پولیس کی کارروائی، 3 منشیات فروشوں سمیت 4 ملزمان گرفتار

    بہاولنگر (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد عرفان) تھانہ صدر بہاولنگر پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 3 منشیات فروشوں سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی ہیروئن، شراب اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ڈی پی او کامران اصغر نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی، عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔