Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان: الیکٹرک بس سروس کے لیے 80 جدید بس اسٹاپس کی تعمیر کا فیصلہ، ٹینڈر جلد جاری ہوں گے

    ڈیرہ غازی خان: الیکٹرک بس سروس کے لیے 80 جدید بس اسٹاپس کی تعمیر کا فیصلہ، ٹینڈر جلد جاری ہوں گے

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے گرین الیکٹرک بس منصوبے کے تحت ضلع ڈیرہ غازی خان میں 80 جدید بس اسٹاپ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن کے ٹینڈرز جلد جاری ہوں گے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے سخی سرور میں الیکٹرک بس میں سفر کے دوران اہلِ علاقہ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی۔ وہ کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس امیر تیمور خان کے ہمراہ سخی سرور کے دورے پر تھے جہاں سابق چیئرمین سخی سرور چیف کھلنگ حاجی ملک ارشاد حسین، منتخب نمائندگان اور مقامی عمائدین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور کمانڈنٹ بی ایم پی نے گرین الیکٹرک بس اسٹینڈ کا معائنہ کیا، مسافروں سے ملاقات کی اور سہولیات کے بارے میں استفسار کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کے ساتھ بس میں سفر کیا اور ایک معمر قبائلی خاتون کو منزل پر پہنچنے پر اپنے اسکواڈ کے ہمراہ احتراماً بس سے اتارا۔ بزرگ خاتون نے محفوظ، آرام دہ اور ماحول دوست مفت سفری سہولت پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ یہ منصوبہ عوامی فلاح کا سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے، خاص طور پر کوہ سلیمان کے پسماندہ علاقوں کی خواتین کو براہِ راست فائدہ مل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زیرِ تعمیر بس اسٹاپس میں سایہ دار نشستیں، روشنی اور دیگر معیاری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو عوام دوست اور انقلابی قرار دیتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • قصور: پیرا فورس کا کریک ڈاؤن، ناپ تول میں ہیراپھیری پر پٹرول پمپس کو 2 لاکھ 2 ہزار جرمانہ

    قصور: پیرا فورس کا کریک ڈاؤن، ناپ تول میں ہیراپھیری پر پٹرول پمپس کو 2 لاکھ 2 ہزار جرمانہ

    قصور (باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو)ڈپٹی کمشنر عمران علی کی ہدایت پر سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر پیرا فورس غضنفر نوید کی زیر نگرانی پٹرولیم مصنوعات کے ناپ تول میں ہیراپھیری کرنے والے پٹرول پمپس کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پیرا فورس ٹیم نے مین دیپالپور روڈ سمیت مختلف علاقوں میں اچانک چھاپے مارے۔ دورانِ چیکنگ متعدد پٹرول پمپس پر ناپ تول کے پیمانوں میں کمی بیشی اور پیمائش میں دھوکہ دہی پکڑی گئی۔ موقع پر کارروائی کرتے ہوئے دو لاکھ دو ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر غضنفر نوید نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول پمپس کے پیمانوں میں ہیراپھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ عوام کو ان کے پیسوں کے عوض درست مقدار میں ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مقدار میں کمی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور آئندہ کسی بھی خلاف ورزی پر پٹرول پمپس کو سیل کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

    پیرا فورس کی کارروائیوں سے عوامی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے آپریشنز کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تاکہ ناپ تول میں فراڈ کرنے والے مافیا کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، مصطفیٰ آباد میں زہریلا دودھ تیار کرنے والا ملزم گرفتار، 800 لیٹر مضرِ صحت دودھ تلف

    پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، مصطفیٰ آباد میں زہریلا دودھ تیار کرنے والا ملزم گرفتار، 800 لیٹر مضرِ صحت دودھ تلف

    قصور ( باغی ٹی وی،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نویدسندھو)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید اور ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی کی خصوصی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز باقر رسول انور کی زیر نگرانی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی سیفٹی ٹیموں نے ملاوٹ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے مصطفیٰ آباد کے علاقے میں فیضان ملک یونٹ پر چھاپہ مار کر 800 لیٹر زہریلا دودھ موقع پر تلف کردیا۔

    ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق دورانِ کارروائی کیمیکلز ملا کر دودھ تیار کرنے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ موقع سے دودھ والی گاڑی، دودھ تیار کرنے والا سامان اور دیگر کیمیکل مواد قبضہ میں لے کر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا گیا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم پانی، گھی، پاوڈر اور کیمیکل ملا کر دودھ جیسا سفید گاڑھا محلول تیار کرتا تھا جو لاہور سمیت دیگر شہروں میں سپلائی کیا جاتا تھا۔ اس غیرمعیاری اور مضرِ صحت دودھ سے شہریوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز باقر رسول انور نے کہا کہ عوام کو صاف ستھری، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی، اور کسی بھی قیمت پر عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف شکایات فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کے فیس بک پیج یا ٹال فری نمبر 1223 پر درج کروائیں تاکہ معاشرے کو زہریلی خوراک سے پاک بنایا جا سکے۔

  • بہاولنگر میں پولیس کی بڑی کارروائی، اے کیٹگری کا خطرناک اشتہاری ملزم گرفتار

    بہاولنگر میں پولیس کی بڑی کارروائی، اے کیٹگری کا خطرناک اشتہاری ملزم گرفتار

    بہاولنگر (باغی ٹی وی ،نامہ نگار محمد عرفان)بہاولنگر پولیس نے شاندار کارروائی کرتے ہوئے اے کیٹگری کے خطرناک اشتہاری ملزم طاہر عرف طاری کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزم ڈکیتی اور راہزنی کی متعدد وارداتوں میں پولیس کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق طاہر عرف طاری نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر آفیسر کالونی کے قریب گن پوائنٹ پر تاجر سے نقدی اور قیمتی سامان چھین لیا تھا۔ واقعے کے بعد ملزم فرار ہوگیا تھا، تاہم پولیس تھانہ سٹی اے ڈویژن نے جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل کوششوں کے بعد سات ماہ کی محنت سے واردات کو ٹریس کرتے ہوئے اشتہاری ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کامران اصغر نے کارروائی کرنے والی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، عوام کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بھر میں ایسے تمام اشتہاری مجرموں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

  • بابا گورونانک یونیورسٹی کی جانب سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو صحافتی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سرٹیفیکیٹ

    بابا گورونانک یونیورسٹی کی جانب سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو صحافتی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سرٹیفیکیٹ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی)بابا گورونانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کی جانب سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو ان کی اعلیٰ صحافتی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز یونیورسٹی میں جاری دوسری بین الاقوامی کانفرنس برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے دوران دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق احسان اللہ ایاز کو کانفرنس اور یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی و تحقیقی ایونٹس کی مؤثر، ذمہ دارانہ اور مثبت کوریج پر سراہا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد، ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، اور پروفیسر ڈاکٹر اظہر رسول، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف زوالوجی و ڈائریکٹر ORIC، نے دیگر معزز مہمانوں کے ہمراہ انہیں تعریفی سرٹیفیکیٹ پیش کیا۔

    یونیورسٹی انتظامیہ نے اس موقع پر کہا کہ میڈیا اور صحافی طبقہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور احسان اللہ ایاز نے اپنے پیشہ ورانہ رویے اور بروقت رپورٹنگ کے ذریعے مثبت صحافت کی بہترین مثال قائم کی ہے۔

    ننکانہ صاحب اور گرد و نواح کے صحافتی حلقوں نے احسان اللہ ایاز کو یہ اعزاز ملنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور اسے نوجوان صحافیوں کے لیے حوصلہ افزا سنگِ میل قرار دیا۔

  • بابا گورونانک یونیورسٹی میں اپلائیڈ سائنسز و ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    بابا گورونانک یونیورسٹی میں اپلائیڈ سائنسز و ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)بابا گورونانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب میں تین روزہ دوسری انٹرنیشنل کانفرنس برائے اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ICAST-2025) شاندار انداز میں اختتام پذیر ہوگئی۔ یہ بین الاقوامی علمی اجتماع فیکلٹی آف نیچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس میں محققین، ماہرین تعلیم اور صنعت سے وابستہ شخصیات نے سائنسی علوم، اختراعات اور پائیدار ترقی کے لیے بین الشعبہ جاتی تعاون پر تفصیلی مباحثے کیے۔

    کانفرنس کے دوران بابا گورونانک یونیورسٹی اور تین بین الاقوامی جامعات کے درمیان تعلیمی و تحقیقی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن میں ریجب طیب اردوان یونیورسٹی (ترکی)، انسٹیٹیوٹ آف مالیکیولر بایولوجی اینڈ بایو ٹیکنالوجیز (آذربائیجان)، اور جانکری کاراتے کن یونیورسٹی (ترکی) شامل ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد عالمی علمی روابط کو فروغ دینا، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کا آغاز، اور فیکلٹی و طلبہ کے تبادلے کے پروگرامز کے ذریعے علمی و تحقیقی تعاون کو وسعت دینا ہے۔

    کانفرنس میں پانچ ممالک کے سات ممتاز بین الاقوامی مقررین نے کلیدی خطابات کیے جبکہ 12 ممالک کے محققین نے آن لائن شرکت کی۔ پاکستان کی 31 جامعات سے 200 سے زائد اسکالرز نے ذاتی طور پر شرکت کرتے ہوئے اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ تین روزہ اجلاس میں کلیدی و تکنیکی سیشنز، پوسٹر و ماڈل نمائشیں، اور سائنسی مباحثوں کے ذریعے علم و تحقیق کے تبادلے کے بھرپور مواقع فراہم کیے گئے۔

    پائیدار ماحول کے فروغ کے لیے کانفرنس کے دوران بابا گورونانک یونیورسٹی کے زیر تعمیر مرکزی کیمپس میں شجرکاری تقریب بھی منعقد ہوئی، جہاں بین الاقوامی مقررین نے پودے لگا کر ماحول دوست ترقی کے عزم کا اظہار کیا۔ اسی طرح پنجاب کی ثقافتی روایات کو اجاگر کرنے کے لیے ثقافتی شام کا اہتمام کیا گیا جس میں قوالی، مشاعرہ اور ڈھول کی پرفارمنسز نے شرکاء کو محظوظ کیا اور ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

    اختتامی اجلاس میں بین الاقوامی مقررین نے بابا گورونانک یونیورسٹی کی انتظامیہ، منتظمین اور طلبہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس نے بین الاقوامی سطح پر علمی روابط کو ایک نئی جہت دی ہے۔ مقررین نے طلبہ کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپس کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب بھی دی۔

    ووٹ آف تھینکس میں پروفیسر ڈاکٹر کفیل احمد، ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، اور پروفیسر ڈاکٹر اظہر رسول، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف زوالوجی و ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن، نے تمام مقررین، محققین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی و بین الاقوامی سطح پر تحقیقی تعاون کو فروغ دینا ہی علمی ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا اصل ذریعہ ہے۔

    یہ کانفرنس بابا گورونانک یونیورسٹی کے اس عزم کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ وہ تحقیق، اختراع اور بین الاقوامی علمی روابط کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف ملکی و غیر ملکی جامعات کے مابین تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ نئی نسل کے محققین کو جدید سائنسی و تکنیکی چیلنجز کے پائیدار حل تلاش کرنے کی تحریک بھی فراہم کرتا ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: ٹول پلازہ کے قریب خوفناک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    احمد پور شرقیہ: ٹول پلازہ کے قریب خوفناک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحق

    اوچ شریف نامہ نگار (باغی ٹی وی حبیب خان)احمد پور ٹول پلازہ کے قریب افسوسناک ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین اور ریسکیو ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل سوار چنی گوٹھ سے احمد پور جا رہا تھا کہ یو ٹرن پر اچانک موڑ کاٹنے کے دوران پیچھے سے آنے والی تیز رفتار ہنڈا سوک کار سے ٹکرا گیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ موٹر سائیکل سوار کا دایاں پاؤں کٹ کر الگ ہو گیا اور زیادہ خون بہہ جانے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    ریسکیو 1122 کے عملے نے موقع پر پہنچ کر سی پی آر کرتے ہوئے لاش کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ جاں بحق شخص کی شناخت اللہ دتہ ولد عبد الکریم، عمر تقریباً 65 سال، سکنہ فیروز پمپ کے ایل پی روڈ احمد پورشرقیہ کے نام سے ہوئی ہے۔حادثے کے بعد موٹر وے پولیس نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی شروع کر دی۔

  • گوجرانوالہ: عالمی یوم خوراک پر فوڈ اتھارٹی کا آگاہی سیمینار، ملاوٹ کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    گوجرانوالہ: عالمی یوم خوراک پر فوڈ اتھارٹی کا آگاہی سیمینار، ملاوٹ کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) پنجاب فوڈ اتھارٹی گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام گورنمنٹ میاں رحمت علی گریجوایٹ کالج میں عالمی یوم خوراک کے موقع پر آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔

    تقریب میں ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد، ایڈیشنل ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی محمد سجاد گوندل، ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمیر ارشد اور ماہرینِ غذائیت نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ خوراک کی حفاظت ایک قومی اور اجتماعی ذمہ داری ہے، بچوں اور نوجوانوں کیلئے غذائیت سے بھرپور اشیاء کی فراہمی اور جنک فوڈ کے استعمال میں کمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے خطاب میں کہا کہ ملاوٹ کے خاتمے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی گوجرانوالہ کی کارکردگی قابلِ تعریف ہے، عوام کی صحت کے تحفظ کیلئے فوڈ اتھارٹی کی خدمات مثالی ہیں۔

    ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق شرکاء کو غذائی تحفظ، غذائیت کی کمی سے بچاؤ اور صحت بخش خوراک کے متعلق آگاہی دی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ ہم سب کو عہد کرنا ہوگا کہ اچھی اور صحت بخش خوراک کے حصول کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ساتھ دیں، کیونکہ خوراک صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوموں کی صحت اور ترقی کی بنیاد ہے۔

  • جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ

    جلد ڈالر کے بھوکے اسمگلرز کی حکومت کا خاتمہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    افغانستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ طالبان حکومت جو اگست 2021 میں اقتدار میں آئی تھی، دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ تین سال گزرنے کے باوجود طالبان نہ کوئی باقاعدہ حکومت قائم کر سکے ہیں اور نہ ہی انتخابات کرا سکے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حکمرانی کی بنیادیں ہلنے لگی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں طالبان حکومت کو اندرونی اختلافات، خراب معیشت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونی دباؤ اور پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان سے کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ تمام حالات مل کر طالبان کی حکومت کو زوال کے دہانے پر لے آئے ہیں جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

    طالبان کے اندرونی اختلافات ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے درمیان طاقت کی کشمکش شدت اختیار کر چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں طالبان کے ہر ماہ تقریباً سو جنگجو مارے جا رہے ہیں، جس سے طالبان کے اندر بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔ اخوندزادہ نے اقتدار کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس سے ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ طالبان حکومت میں بدعنوانی، طاقت کا غلط استعمال اور عوامی مسائل سے لاتعلقی نے عام لوگوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔ کئی طالبان کمانڈر اب اپنے دھڑے بنانے کی سوچ رہے ہیں۔ افغان تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایسی اندرونی تقسیم پیدا ہوئی، حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکی۔

    افغانستان کی معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے۔ طالبان حکومت بیرونی امداد پر انحصار کرتی رہی ہے لیکن اب دنیا کے ممالک نے امداد بند کر دی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق افغانستان کی معیشت تیزی سے گر رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ طالبان نے اب تک کوئی ٹھوس معاشی منصوبہ نہیں بنایااور منشیات کی اسمگلنگ سمیت غیر قانونی تجارت بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے طالبان کو “ڈالر کے بھوکے اسمگلرز” کہا جانے لگا ہے۔ زلزلوں اور قدرتی آفات نے بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بجلی، پانی، صحت اور خوراک جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہو چکی ہیں۔ بھوک اور افلاس نے عوام کو طالبان سے متنفر کر دیا ہے اور یہ عوامی غصہ کسی بھی وقت بغاوت میں بدل سکتا ہے۔

    طالبان کی خواتین کے خلاف سخت پالیسیوں نے ان کی حکومت کو دنیا بھر میں تنہا کر دیا ہے۔ لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئی ہیں، خواتین کو دفاتر اور امدادی اداروں میں کام سے روک دیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان اقدامات سے افغان معاشرہ تقسیم ہو گیا ہے۔ عالمی برادری نے ان پابندیوں کی سخت مذمت کی ہے اور زیادہ تر ممالک نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شریعت کے نام پر ظلم و جبر کے باعث عوام کے اندر طالبان کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان کے ساتھ طالبان کے تعلقات بھی اب تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپیں، فضائی حملے اور ایک دوسرے پر دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات روز بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو سہولت فراہم کرنے کا الزام نہیں لگاتا ہے بلکہ ثبوت دئےمگر طالبان حکومت ان گروہوں کی پشت پناہی اور بھارتی پراکسیز کیلئے استعمال کررہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان حالات نے طالبان کو دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا ہے اور وہ اندرونی و بیرونی دونوں دباؤ میں آ چکے ہیں۔

    پاکستان وہ ملک ہے جس نے طالبان کو شروع دن سے سہارا دیا۔ 1990 کی دہائی سے لے کر 2021 تک پاکستان نے طالبان کی سیاسی، سفارتی اور فوجی مدد کی۔ مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ طالبان نے پاکستان کے مخالف ملک بھارت سے ڈالرز کے عوض ہاتھ ملالیاہے۔ 10 اکتوبر 2025 کو طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے بھارت کا دورہ کیا اور بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر متقی نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات دیے، یہاں تک کہا کہ “پاکستان کو افغانستان کے ساتھ کھیل کھیلنے سے گریز کرنا چاہیے”۔ یہ بیان دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنا۔

    طالبان کی غلط پالیسیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین سرحد پار کر کے واپس افغانستان جا رہے ہیں، لیکن طالبان حکومت ان کی بحالی، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے انتظام میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ان مہاجرین کی واپسی طالبان کے لیے نیا بحران بن چکی ہے، کیونکہ ان میں سے کئی لوگ طالبان مخالف قوتوں سے دوبارہ جڑنے لگے ہیں۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ طالبان مخالف جنگجو گروہ دوبارہ متحد ہو رہے ہیں اور شمالی اتحاد کی طرز پر ایک نئے محاذ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی قوتیں طالبان حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    طالبان حکومت اس وقت ہر طرف سے دباؤ میں ہے، اندرونی لڑائیاں، خراب معیشت، عوامی غم وغصہ، خواتین پر ظلم، ہمسایہ ممالک سے دشمنی اور عالمی تنہائی۔ جب کوئی حکومت عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے اور اپنے پڑوسیوں سے تعلقات خراب کر لیتی ہے تو اس کا زوال صرف وقت کی بات رہ جاتا ہے۔ اوراس وقت ڈالروں کے بھوکے اسمگلرز طالبان کے اقتدار کا انجام قریب دکھائی دے رہا ہے۔

  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ، قلم و سماج کا دردمند چہرہ
    تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان (چراغِ آگہی)
    صحافت کسی بھی معاشرے کا چوتھا ستون ہونے کے ساتھ ایک عظیم سماجی فریضہ بھی ہے، جسے وہی فرد بخوبی نبھا سکتا ہے جو فکری وسعت، معاشرتی شعور اور تحقیقی بصیرت سے آراستہ ہو۔

    ڈیرہ غازی خان کی علمی و صحافتی دنیا میں ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی ایک نمایاں اور معتبر نام ہیں۔ وہ نہ صرف مقامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ بین الاقوامی امور پر بھی بصیرت افروز انداز میں قلم اٹھاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سچائی کی تلاش، اصلاحِ احوال کا جذبہ اور معاشرتی درد نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

    ڈاکٹر بڈانی نے ابتدائی طور پر سرکاری سطح پر طبی خدمات انجام دیں، مگر ان کے اندر موجود ایک حساس اور فکری شخصیت نے انہیں سماجی شعور کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے طب کے شعبے کو خیرباد کہہ کر صحافت اور قلم کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا، تاکہ وہ معاشرے کے زخموں کا مداوا کر سکیں۔

    ان کے کالمز قومی و علاقائی اخبارات کے علاوہ اردو پوائنٹ اور باغی ٹی وی جیسے معتبر پلیٹ فارمز پر تسلسل سے شائع ہوتے ہیں۔ ان کی دیانتدارانہ رپورٹنگ اور مدلل کالم نگاری نے انہیں قومی سطح پر پہچان دلائی، جس سے ڈیرہ غازی خان کا نام بھی روشن ہوا۔ معروف اینکر پرسن و سینئر صحافی مبشر لقمان نے ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں باغی ٹی وی کے انچارج نمائندگانِ پاکستان کا منصب سونپا، جو ان کے پیشہ ورانہ اعتماد اور قابلیت کا عملی ثبوت ہے۔

    ایک تقریب کے دوران سیالکوٹ میں ایوارڈ وصول کرتے وقت مبشر لقمان نے اسٹیج پر ڈاکٹر بڈانی کا نام لیتے ہوئے کہا: "مصطفیٰ صاحب، ڈیرہ غازی خان کو ایوارڈ مبارک ہو۔” یہ الفاظ نہ صرف ڈاکٹر بڈانی کے لیے اعزاز تھے بلکہ ان کے شہر کے لیے بھی فخر کا باعث بنے۔

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے ہمیشہ اپنے خطے کی نمائندگی دیانت، ذمہ داری اور خلوص سے کی۔ قدرتی آفات اور بحرانوں کے دوران ان کا کردار قابلِ تحسین رہا۔ آج وہ علم، عمل اور انسان دوستی کی علامت بن کر ڈیرہ غازی خان کی شناخت کا روشن حوالہ بن چکے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو صحت، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور ان کا قلم ہمیشہ حق و سچ کے لیے رواں رہے۔ آمین۔