Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ

    شائننگ انڈیا نہیں بلکہ بھوکا بھارت،پاکستان کا تقابلی جائزہ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    نریندر مودی جب دنیا بھر میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ یعنی روشن بھارت کا نعرہ لگاتے ہیں تو وہ ایک ایسے ملک کی تصویر دکھاتے ہیں جہاں بڑی بڑی عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی، اور ترقی کی چمک نظر آتی ہے۔ مگر اگر ان چمکتی سڑکوں اور عمارتوں کے پیچھے عام آدمی کی زندگی کو دیکھا جائے تو حقیقت بالکل مختلف ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق بھارت آج دنیا کا ساتواں سب سے زیادہ مقروض ملک بن چکا ہے۔ امریکی تحقیقی ادارے ورلڈ پاپولیشن ریویو کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت پر اس وقت 3 ہزار ارب ڈالر کا قرض ہے اور ہر بھارتی شہری پر اوسطاً 504 ڈالر کا قرض چڑھا ہوا ہے۔

    اس کے مقابلے میں پاکستان کا نمبر اس فہرست میں 33واں ہے، جہاں قومی قرض 260 ارب ڈالر کے قریب ہے یعنی بھارت ہم سے کہیں زیادہ مقروض ہونے کے باوجود خود کو ترقی یافتہ ملک کہلواتا ہے۔

    لیکن اصل فرق معیشت نہیں بلکہ زندگی کے معیار کا ہے۔ بھارت میں لاکھوں لوگ آج بھی بھوکے سوتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں تقریباً 22 کروڑ افراد روزانہ بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر عورتیں اور بچے ہیں جو غذائی کمی اور کمزور صحت کا شکار ہیں۔ یہی نہیں، ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً سات فیصد آبادی کے پاس بیت الخلا (ٹائلٹ) کی سہولت تک موجود نہیں۔ دیہاتوں میں لاکھوں لوگ آج بھی کھلے میدانوں میں رفع حاجت پر مجبور ہیں۔

    اب ذرا پاکستان کو دیکھیں۔ یہاں اگرچہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل ضرور ہیں مگر کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا۔ پاکستان میں ’’احساس‘‘، ’’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘، اور پاکستان بیت المال جیسے سرکاری منصوبے لاکھوں غریب خاندانوں کو خوراک اور مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔ دیہاتوں میں آج بھی لوگوں کے درمیان ہمدردی، خیرات اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی روایت موجود ہے۔

    بھارت کے بڑے شہروں، جیسے دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ بچے اور بوڑھے سب ایک ہی کمبل کے نیچے گزر بسر کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بے گھر افراد کی تعداد اس قدر زیادہ نہیں۔ یہاں حکومت اور فلاحی تنظیموں نے کئی شہروں میں پناہ گاہیں (شیلٹر ہومز) قائم کی ہیں جہاں لوگ مفت کھانا اور رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت میں دولت چند ہاتھوں تک محدود ہے۔ اکنامک سروے آف انڈیا 2024 کے مطابق بھارت کی کل دولت کا 77 فیصد صرف دس فیصد امیر ترین طبقے کے پاس ہے۔ یعنی عام آدمی کی جیب خالی ہے مگر چند کاروباری خاندانوں کے محلات چمک رہے ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ معاشی مسائل ہیں، لیکن دولت کی تقسیم بھارت کے مقابلے میں کچھ بہتر اور متوازن ہے۔ یہاں متوسط طبقہ اب بھی موجود ہے اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

    مودی جب پاکستان کو ’’بھوکا اور ننگا ملک‘‘ کہتے ہیں تو حقیقت میں وہ اپنے ملک کے زخم چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کی بڑی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارت میں لاکھوں بچے خوراک اور علاج سے محروم ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2024 کے مطابق بھارت کا نمبر 111 واں ہے، جبکہ پاکستان کا 102 واں۔ یہ فرق چھوٹا ضرور ہے مگر یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت میں بھوک پاکستان سے زیادہ شدید ہے۔

    پاکستان میں عام شہری کی زندگی میں غربت ضرور ہے مگر انسانیت، خودداری اور ہمدردی کی روشنی باقی ہے۔ یہاں اگر کوئی مصیبت میں ہو تو لوگ مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ محلے کے دکاندار سے لے کر مساجد تک، ہر جگہ کسی نہ کسی شکل میں لوگوں کو سہارا مل جاتا ہے۔

    اس کے برعکس بھارت کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ دراصل بھوکا بھارت بن چکا ہے، جہاں بڑی عمارتوں کے نیچے بچے بھوک سے بلکتے ہیں اور جدید شہروں کے فٹ پاتھوں پر لوگ چھت کے بغیر سوتے ہیں۔ دنیا کو دکھائی جانے والی ترقی کے پیچھے عام بھارتی شہری کی حالت دگرگوں ہے۔

    پاکستان کے مسائل اپنی جگہ درست ہیں مگر یہاں عوام میں ایک دوسرے کے لیے احساس اور بھائی چارہ زندہ ہے۔ یہی جذبہ پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ اگر ہمارے وسائل صحیح استعمال ہوں، بدعنوانی پر قابو پایا جائے اور تعلیم و روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں تو پاکستان اس خطے کا سب سے مضبوط انسانی معاشرہ بن سکتا ہے۔

    آج بھارت کا وہی چمکتا دمکتا ’’شائننگ انڈیا‘‘ اندر سے بھوکا، کمزور اور خوف زدہ نظر آتا ہے۔ ایک طرف ارب پتیوں کے محلات جگمگا رہے ہیں تو دوسری طرف لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر بھوکے سوتے ہیں۔ مودی سرکار نے مذہبی نفرت، ظلم اور طبقاتی ناانصافی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے میدان میں بھارت پیچھے جا رہا ہے اور سماجی ناہمواری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان تمام معاشی مشکلات کے باوجود، اب بھی دلوں میں امید، ایثار اور ایمان کی دولت رکھتا ہے۔ یہاں کوئی مودی نہیں جو اقلیتوں کو جلائے، کوئی انتہا پسند حکومت نہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرے۔ پاکستان کا اصل چہرہ اس کی عوام کی غیرت، قربانی اور ایک دوسرے کے لیے محبت ہے۔

    مودی کا ’’شائننگ انڈیا‘‘ صرف نعرہ ہے جبکہ پاکستان حقیقت ہے۔ وہ حقیقت جو کم وسائل کے باوجود جینے، ڈٹ کے رہنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔اب وقت دور نہیں جب مودی کا مصنوعی چمک دمک والا بھارت اپنی نفرتوں کے بوجھ تلے دب جائے گا اور دنیا دیکھے گی کہ اصل روشنی، اصل شان، اصل وقار صرف پاکستان کے پاس ہے۔ کیونکہ پاکستان نہ کسی کی زمین پر بنا، نہ کسی کے سائے میں زندہ ہے،بلکہ پاکستان خودمختار اور آزاد پاکستانیوں کی سرزمین ہے .
    پاکستانی عوام و پاکستان زندہ باد ،افوج پاکستان پائندہ باد۔

  • بہاولنگر: تیز رفتار دودھ والے ٹرک کی ٹکر سےایک شخص جاں بحق

    بہاولنگر: تیز رفتار دودھ والے ٹرک کی ٹکر سےایک شخص جاں بحق

    بہاولنگر (باغی ٹی وی، محمد عرفان)ضلع بہاولنگر میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں محمد عثمان ولد عنایت اللہ قوم ارائیں موڑ والا علاقے میں ایک تیز رفتار دودھ والے ٹرک کی زد میں آ کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ عثمان موقع پر دم توڑ گیا جبکہ ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔

  • گوجرانوالہ: محکمہ زراعت کا سموگ کنٹرول اور زیادہ گندم اگاؤ مہم سے متعلق آگاہی پروگرام

    گوجرانوالہ: محکمہ زراعت کا سموگ کنٹرول اور زیادہ گندم اگاؤ مہم سے متعلق آگاہی پروگرام

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)محکمہ زراعت (توسیع) تحصیل گوجرانوالہ کے زیرِ اہتمام موضع پیپناکھہ میں کسانوں کے لیے "زیادہ گندم اگاؤ اور سموگ کنٹرول” کے سلسلے میں ایک بڑا آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ پرنسپل ایگریکلچر آفیسر و اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) محمد اعظم مغل نے پروگرام کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سموگ کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ کسان کھیتوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے سے اجتناب کریں، کیونکہ یہ عمل ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب کی ہدایات کے مطابق محکمہ زراعت کسانوں کو جدید زرعی مشینری اور آلات رعایتی نرخوں پر فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ فصلوں کی باقیات کو جدید طریقے سے تلف کر سکیں۔ گندم اگاؤ مہم کے حوالے سے محمد اعظم مغل نے بتایا کہ اس سال زیادہ پیداوار کے لیے تصدیق شدہ بیج، متوازن کھادوں کا استعمال اور بروقت آبپاشی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ محکمہ زراعت کی ٹیموں سے قریبی رابطہ رکھیں اور جدید زرعی سفارشات پر عمل کر کے زیادہ پیداوار حاصل کریں۔

    ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (PWQCP) گوجرانوالہ غلام غوث نے اپنے خطاب میں کہا کہ سموگ کا خاتمہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس کے لیے عوام، ادارے اور کسانوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ محکمہ زراعت کسانوں کے ہر ممکن تعاون کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہے۔ اس موقع پر زراعت آفیسر قلعہ دیدار سنگھ حافظ عنایت اللہ سمیت دیگر افسران اور کسانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • اوکاڑہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا عوامی خدمت مشن، 30 کروڑ کی لاگت سے ماڈل سہولت بازار تکمیل کے قریب

    اوکاڑہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا عوامی خدمت مشن، 30 کروڑ کی لاگت سے ماڈل سہولت بازار تکمیل کے قریب

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے عوامی خدمت مشن کے تحت اوکاڑہ میں سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات سے آراستہ ماڈل سہولت بازار کی تعمیر اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ ممبر قومی اسمبلی ملک محمد افضل کھوکھر اور چیئرمین پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کی ہدایات پر 30 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے جاری ترقیاتی کام جلد مکمل ہونے والے ہیں۔

    مینجر و انچارج ماڈل سہولت بازار ثاقب شہزاد نے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ بازار میں قائم کی جانے والی تمام 108 دکانوں کی قرعہ اندازی جلد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل سہولت بازار میں دکانداروں کو 150 واٹ مفت بجلی فراہم کی جائے گی، جبکہ بازار میں سولر سسٹم بھی نصب کیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کے متبادل ذرائع سے استفادہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ بازار کی نگرانی کے لیے جدید سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ ماڈل سہولت بازار میں دکان حاصل کرنے کے خواہشمند افراد 25 اکتوبر تک درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں جبکہ 30 اکتوبر کو قرعہ اندازی عمل میں لائی جائے گی۔ درخواست گزار صرف 7500 روپے میں اس جدید اور سہولیات سے آراستہ بازار میں دکان حاصل کر سکتے ہیں۔

  • خط بنام رسول خدا حضرت  محمد  ﷺ (پتہ:  مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)تحریر:ظفراقبال ظفر

    خط بنام رسول خدا حضرت محمد ﷺ (پتہ: مسجد بنوی مدینہ منورہ سعودی عرب)
    "فاطمہ ؓ کے بابا حسنینؓ کے نانا پہ لاکھوں سلام”
    "پیارے کریم آقا ﷺ!
    سب سے پہلے ادب کی کمی پیشی اور جذبات و تصورات کی بے لگام بے ترتیب عکاسی پر آج کے دور کا یہ بدو ہاتھ جوڑ کرمعافی مانگتاہے۔
    حضور ﷺ آپ کے اس مجرم نے اپنی بداعمال حیات کی نجات کو آپ کی محبت سے منسوب کیا ہے۔ شرف سماعت کا احسان بخشیں۔
    آقا جی مجھے دشمن نفس کی جب پہچان ہونے لگی تومیں ناراضگی خدا میں بہت دُور نکل چکا تھا مجھے اپنے خساروں کا پچھتاوا ستانے لگا۔
    زندگی کی عصر ہو چکی مغرب سر پر ہے عشاء نزدیک ہے آخرزندگی زمین کی آغوش کا مقدر ہو جانی گئی۔
    اتنے کم بچے وقت میں گزری حیات کی ساری قضاؤں کا کفارہ کیسے ادا ہو سکے گا؟
    دنیا کے سارے معاملے بے معنی ہو کر رہ گئے اورروزآخرت والی نفس و نفسی کا منظر آنکھوں کے سامنے پھرنے لگا۔
    میں خدا کے حضور آنکھوں کے کٹوروں میں ندامت کے اشک بھر کر پیش کرنے گیا اور گمان تھا کہ خدا کی جانب سے دل کا کاسہ معافی کے تحفے سے بھر کر واپس لوٹے گا۔۔۔مگرایسا نہیں ہوا۔خدا کے اصولوں کا جہان الگ ہے۔
    خالی برتن کا لوٹنا بہت غمناک تھا۔اس سے بڑی کیا نالائقی ہو گئی کہ بندہ خدا سے خدا کو ہی نہ کما سکے۔
    ندامت کے آنسووں سے تو توبہ کے مرجھائے پھولوں پر بھی بہار آ جاتی ہے مگر میرے وجود کے آنگن اندرگردش کرتی خزاں میں
    اُمید کے درخت سے آس کے گرتے زدر پتوں کی کھنکھناہٹ کا افسردہ ماحول طاری تھا۔
    میں بارگاہ خداوندی سے اپنے اعمال نامے جیسا دل کا خالی برتن ہاتھوں میں لیے لوٹ تو آیامگر مایوس نہیں تھا۔
    کیونکہ آقا ﷺمیں آپ کو جانتا مانتا چاہتا ہوں آپ ہر طرح کے گنہگار کو اپنے دامن رحمت کی پردہ پوشی میں چھپا لیتے ہیں
    آپ خداکو اپنے رُخ انورسے منا لیتے ہیں۔
    حضو ر ﷺ میں مال اور اعمال کا کنگال بندہ پرواز رُوح سے مدینہ منورہ کے تصوراتی سفر پہ نکل پڑا۔
    میں مسجد نبوی میں عین روضہ رسول ﷺ کے سامنے نماز توبہ کی ادائیگی میں یوں رب کو سجدہ کررہا ہوں کہ سر حضور ﷺکے سامنے بھی جھک رہا ہے۔ خدا کو سجدہ اور حضور ﷺکا ادب کمزورایمان کوقبولیت کے قابل بنا نے لگے۔
    مدینہ سے دور مدینہ کی یادوں میں تڑپتے جو زندگی گزاری وہ بے قراری اک طرف مگر مدینہ سے واپسی کا نقصان رُوح کی موت جیسا ہے۔
    اپنے وجودکی موجودگی مدینہ اندر رکھنے کو یہ حسرت مچلنے لگی کہ حضور ﷺکسی طرح آپ کواپنے ساتھ لے جاؤں یا خود کوآپ کے پاس رکھوا لوں۔
    میں شدت سے یہ چاہنے لگاکہ مسجد نبوی ؑ کاداخلی دروازہ جہاں جوتے اتار کر پہلا قدم رکھتے ہیں وہاں اپنے دل کو نسب کردوں
    کہ آپ کے در پر آنے والے ہر مسافر کے پیروں کے تلوے میرے دل پر آئیں اور یہ دل مہمان مدینہ کے پاؤں کے بوسے لیتا جائے
    اس منظر کو حضور ؑآپ دیکھ لیں اور تبسم فرما کر ملائیکہ کو حکم فرما ئیں کہ اس دل کو اُٹھا کر ہمارے پاس رکھ دو ہم نے اسے شرف توجہ بخش دیا ہے۔
    یہ فرمان جاری ہوتے ہی خوشبو کی لپٹ میرے جسم و رُوح کو اپنے حصار میں لینے لگی۔
    میں منگتا سخاوت کے آسمان تلے کھڑا کرم کی بارش کو تنگ دامن میں سمیٹنے کی ناکام کوشش کیے جا رہا ہوں۔
    پھر احساس توجہ رسول ؑمیں عرض کرتا ہوں۔ حضور ؑ خدا سے خدا کو مانگتا ہوں تو آپ ؑ کی جانب بھیج دیا جاتا ہوں۔
    آپ ذات خدا کا رستہ بھی ہیں منزل بھی اور سلیقہ سفر بھی ہیں۔
    حضور ؑ جس خدا نے آپ کو ہم سے ملوایا ہے ہمیں بھی اُس خداسے ملوا دیجئے۔
    یہ محبت محمد ﷺ کامعجزہ ہے کہ اگر حضور ؑآپ کی محبت میں اشک بہیں تو بندہ خودبخود،قرب خدا کے قریب ہو جاتا ہے۔
    یکدم دل کی زمین پہ یہ خیال اترا کہ ارے پگلے نگاہ مصطفی ﷺ ہی تو نگاہ خدا ہے۔۔ آرزو پیش کر۔۔
    مانگ کیا مانگتا ہے محمد ﷺکے رب سے؟
    میں ہاتھ جوڑ کر کہنے لگااے رب محمد ﷺ مجھ بداعمال و گنہگار کو روز آخرت حضور ﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالیجئے گا۔
    میری رُوح کو ہدایت کا غسل دے کر اپنی رضا کا لباس پہنادیجئے گا۔
    حضور ﷺ کی محبت کو میری قبرمیں نور کاچراغ بنا دیجئے گا۔
    قربان جاؤں اپنے رب پہ جس نے بابا آدم ؑ کی تخلیق سے بھی پہلے حضور ﷺ کا نور رحمت سارے جہانوں پر رکھ دیا۔
    پھر ہمیں تقسیم وقت کے اُس حصے میں پیدا فرمایاجہاں حضو ر ﷺ ہم سے پہلے آ کرہمارے لیے دنیاو آخرت کی منزلیں آسان فرما گئے۔
    مجھے یہ جان کر اتنی خوشی نہیں ہوتی کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم سب عالم ارواح میں تھے۔
    جتنی خوشی یہ جان کر ہوتی ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم حضو ر ﷺ کے عالم دُعا میں تھے۔
    مجھے تو اُس منظر کے تصور نے کبھی احساس فخر سے نکلنے ہی نہیں دیا کہ حضور ﷺ جب آپ بشری روپ میں انسانوں کے درمیان تشریف لا ئے تھے تو آسمان کے تمام ملائکہ زمین پر نور افشانی کر تے ہوئے وجود انسان کو حسرت زدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے آرزو مند ہوئے کہ اے کاش ہم محبوب خدا ﷺکی اُمت سے ہوتے۔۔۔
    حضور ﷺ یہ غلام اپنے مقدروں پہ ناز کر تا درود شریف کا ہدایہ پیش کرتے یہ درخو است کرتا ہے کہ اپنے مقدس قدموں میں جگہ عطا فرمائیے کہ آپ کا یہ دیوانہ آپ کے نعلین مبارک کے نیچے آنے والے ہر زرے کا بوسہ لے آنکھوں سے لگائے اور دل میں رکھ لے۔
    والسلام!
    آپ کا گنہگار اُمتی!
    ظفر اقبال ظفر رائیونڈ لاہورپاکستان

  • مرکزی مسلم لیگ میڈیا سیل کی جانب سے باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو شاندار صحافتی خدمات پر اعزازی شیلڈ

    مرکزی مسلم لیگ میڈیا سیل کی جانب سے باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو شاندار صحافتی خدمات پر اعزازی شیلڈ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی)مرکزی مسلم لیگ میڈیا سیل کی جانب سے باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو شاندار صحافتی خدمات پر اعزازی شیلڈ

    تفصیل کے مطابق پاکستان مرکزی مسلم لیگ میڈیا سینٹرل پنجاب کی جانب سے باغی ٹی وی کے نامہ نگار احسان اللہ ایاز کو ان کی شاندار صحافتی خدمات کے اعتراف میں اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں ضلع ننکانہ صاحب میں پارٹی کی سرگرمیوں کی بھرپور اور مستند کوریج کرنے پر دیا گیا۔

    تقریب میں حافظ طلحہ سعید، تابش قیوم اور دیگر معزز مہمان موجود تھے جنہوں نے احسان اللہ ایاز کی غیر جانبدار اور پیشہ ورانہ رپورٹنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کے میدان میں ایک مثبت مثال ہیں۔ اس موقع پر صحافتی حلقوں نے بھی احسان اللہ ایاز کو شیلڈ ملنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کی صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

  • سیالکوٹ: ساہووالی سکول کرکٹ گراؤنڈ کی بحالی فارورڈ اسپورٹس کے تعاون سے شروع

    سیالکوٹ: ساہووالی سکول کرکٹ گراؤنڈ کی بحالی فارورڈ اسپورٹس کے تعاون سے شروع

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)گورنمنٹ ہائی سکول ساہووالی، سیالکوٹ میں کرکٹ گراؤنڈ کی صفائی اور بحالی کے کام کا آغاز ضلعی انتظامیہ سیالکوٹ کے تعاون سے کر دیا گیا ہے۔ گراؤنڈ سے کباڑ اور کوڑے کی صفائی جاری ہے جبکہ اس کی تزئین و آرائش کا منصوبہ کارپوریٹ سماجی بہبود کے تحت فارورڈ اسپورٹس کے اشتراک سے شروع کیا جا رہا ہے۔

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سیالکوٹ نے موقع پر صفائی کے کام کا جائزہ لیا اور کہا کہ طلبہ کو صاف ستھرا اور معیاری کھیلوں کا میدان فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گراؤنڈ کی بحالی میں فارورڈ اسپورٹس کلیدی کردار ادا کرے گا، جس کے تحت اعلیٰ معیار کی گھاس اگائی جائے گی، چار دیواری کی مرمت کی جائے گی اور میدان کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ طلبہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ صحت مند تفریحی مشغولیات سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔

  • طورخم بارڈر کی بندش سے ہزاروں مزدور متاثر، پاک افغان حکام سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ

    طورخم بارڈر کی بندش سے ہزاروں مزدور متاثر، پاک افغان حکام سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)طورخم مزدور یونین کے چیئرمین ذاکر عمر شینواری اور پریس سیکرٹری علی رحمان شینواری نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان طورخم بارڈر کی بندش سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مزدوروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بارڈر سے وابستہ ہزاروں افراد، خصوصاً مزدور اور ٹرانسپورٹرز، اپنی روزی روٹی سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ امپورٹ و ایکسپورٹ کے عمل کی بندش سے مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مسافروں اور مریضوں کو بھی دونوں جانب آمد و رفت میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

    ذاکر عمر شینواری نے بتایا کہ طورخم میں پندرہ سو مزدور رجسٹرڈ ہیں جو مکمل طور پر بارڈر پر محنت مزدوری کے ذریعے اپنے خاندانوں کا گزر بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن کے خواہاں ہیں اور پاک افغان حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام مسائل کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی اور نقصان کا سبب بنتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ طورخم سمیت تمام پاک افغان بارڈرز کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ مزدوروں، تاجروں اور عوام کی مشکلات میں کمی آسکے۔ آخر میں انہوں نے اسلام آباد اور کابل کی حکومتوں سے اپیل کی کہ تمام حل طلب امور کو سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے عوام امن، روزگار اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔

  • ٹھٹھہ: پولیس کا بڑا ایکشن، کیش سنیچنگ گینگ گرفتار، 5 لاکھ نقدی، اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد

    ٹھٹھہ: پولیس کا بڑا ایکشن، کیش سنیچنگ گینگ گرفتار، 5 لاکھ نقدی، اسلحہ اور موٹر سائیکل برآمد

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) ٹھٹھہ پولیس کی شاندار کارروائی کے نتیجے میں خطرناک کیش سنیچنگ گینگ کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کے دوران تین ایکٹو کرمنلز کو دھر لیا، جن کے قبضے سے چھینی گئی رقم میں سے 5 لاکھ روپے، دو پسٹل اور ایک موٹر سائیکل برآمد کرلی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق 5 اکتوبر 2025 کی رات تھانہ ٹھٹھہ کی حدود خونی تلاء کے قریب چار نامعلوم ملزمان نے اسلحے کے زور پر نورانی میڈیکوز کے مالک غضنفر علی میمن سے 18 لاکھ روپے چھین کر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 340/2025، دفعات 392 اور 397 تعزیراتِ پاکستان کے تحت متاثرہ کے بھائی منصور احمد میمن کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی کی خصوصی ہدایت پر سینئر افسران پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ایس ڈی پی او وحید بیگ لاڑک، ایس ایچ او ماجد علی کورائی، انچارج سی آئی اے عبدالجبار لغاری، انسپکٹر فیصل شفیع میمن، سب انسپکٹر راجا ظفر راجپوت، اے ایس آئی شاہ رخ کنبھاٹی اور دیگر افسران شامل تھے۔

    ٹیم نے جدید ٹیکنیکل سسٹم اور خفیہ اطلاعات کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ٹھٹھہ شہر کے مختلف مقامات سے تین ملزمان محمد حسن عرف بابو، عمران لونگ سموں اور غلام مصطفیٰ دایو کو گرفتار کرلیا۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے متعدد ڈکیتی، راہزنی اور سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

    پولیس کے مطابق دو فرار ملزمان اشرف اور اکرم ہاشم پارہیڑی کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی نے کیس ٹریس کرنے اور کامیاب کارروائی پر ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

  • اوکاڑہ:وزیراعلیٰ پنجاب کے گڈ گورننس اقدامات پر فوری عملدرآمد کی ہدایت

    اوکاڑہ:وزیراعلیٰ پنجاب کے گڈ گورننس اقدامات پر فوری عملدرآمد کی ہدایت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے مفادِ عامہ کے پیش نظر ضلعی افسران کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے گڈ گورننس اقدامات پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل علیزہ ریحان، اسسٹنٹ کمشنر اوکاڑہ چوہدری رب نواز، ایم ڈی واسا عبدالوحید، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ مرغوب حسین ڈوگر، ایس ڈی ای او پیرا وسیم جاوید، سسٹم نیٹ ورک ایڈمنسٹریٹر افضال حسین بلوچ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

    ڈپٹی کمشنر نے ستھرا پنجاب مہم، پرائس کنٹرول میکانزم، تجاوزات کے خاتمے، آوارہ کتوں کی تلفی، پارکس کی تزئین و آرائش، صفائی ستھرائی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے افسران کو سخت ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت تمام افسران نیک نیتی اور تندہی سے کام کریں تاکہ عوام کو درپیش مسائل کے حل میں حقیقی بہتری لائی جا سکے۔