Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرانوالہ: کمشنر و ڈپٹی کمشنر کی انسداد سموگ واک، شہریوں میں ماسک تقسیم

    گوجرانوالہ: کمشنر و ڈپٹی کمشنر کی انسداد سموگ واک، شہریوں میں ماسک تقسیم

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے انسداد سموگ آگاہی واک کا انعقاد کیا جس کی قیادت کمشنر سید نوید حیدر شیرازی اور ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے کی۔

    واک میں ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات سلمان اسلم، انسپکٹر غلام مرتضیٰ بھٹی، مختلف سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، ریسکیو 1122، محکمہ زراعت، پیرا فورس اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے فضائی آلودگی کے تدارک اور شجر کاری کے فروغ سے متعلق نعرے درج پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

    اس موقع پر کمشنر نے کہا کہ سموگ ایک سنگین چیلنج ہے جو انسانی صحت اور معیشت دونوں کو متاثر کر رہا ہے، عوام دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور فصلوں کی باقیات جلانے سے اجتناب کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے کہا کہ انسداد سموگ مہم کے ذریعے شعور اجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے اور عملی اقدامات جاری ہیں۔

    واک کے اختتام پر شہریوں میں ماسک تقسیم کیے گئے جبکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے سبزہ زار میں ماحول دوست پودے بھی لگائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: بارڈر ملٹری پولیس کی کارروائی، لادی گینگ کا ایک ڈکیت گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: بارڈر ملٹری پولیس کی کارروائی، لادی گینگ کا ایک ڈکیت گرفتار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر)ڈیرہ غازی خان میں بارڈر ملٹری پولیس کی بروقت کارروائی، لادی گینگ کا ایک ڈکیت مقابلے کے بعد اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ہونے والے ملزم کی شناخت مجاہد ولد یوسف گوراغ سکنہ یارو کھوسہ کے نام سے ہوئی ہے، جس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تھانہ کشوبہ کے ایس ایچ او یونس خان کھوسہ اور ان کی ٹیم پر فائرنگ کی تھی۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس امیر تیمور کے حکم پر لائن آفیسر ساجد خان لغاری بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے اور ڈاکوؤں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ایک ملزم گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق بارڈر ملٹری پولیس مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

    عوامی حلقوں نے ایس ایچ او یونس خان کھوسہ اور لائن آفیسر ساجد خان لغاری کی جرات اور بہادری پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ کمانڈنٹ امیر تیمور کی قیادت میں یہ دوسری بڑی کارروائی ہے جس میں لادی گینگ کے خلاف براہِ راست آپریشن کیا گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بی ایم پی کی اس کامیاب کارروائی نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ کوہ سلیمان کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔

    یاد رہے کہ پولیس تھانہ کوٹ مبارک کی حدود میں ڈکیتی کی واردات کے بعد ملزمان پہاڑی علاقوں کی جانب فرار ہو رہے تھے، اطلاع ملنے پر ایس ایچ او یونس کھوسہ اپنی ٹیم کے ساتھ تعاقب میں گئے جہاں ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ بی ایم پی کی سرکاری گاڑی پر فائر لگا تاہم پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ بعدازاں کمانڈنٹ بی ایم پی نے اضافی نفری موقع پر طلب کی اور کارروائی کرتے ہوئے ایک خطرناک ملزم کو گرفتار کر لیا۔

  • اوکاڑہ: سیوریج کی صفائی کے دوران 2 سینٹری ورکر جاں بحق

    اوکاڑہ: سیوریج کی صفائی کے دوران 2 سینٹری ورکر جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ میں سیوریج کی صفائی کے دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا، گرین سٹی دیپالپور روڈ پر دو پرائیویٹ سینٹری ورکر جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق شہباز اور سیموئیل نامی ورکرز سیوریج ہول میں صفائی کے لیے اترے، جہاں گیس بھر جانے کے باعث وہ بے ہوش ہو گئے۔

    ساتھیوں نے انہیں فوری طور پر تشویشناک حالت میں باہر نکال کر ڈسٹرکٹ ہسپتال اوکاڑہ منتقل کیا، جہاں ایمرجنسی طبی امداد کے باوجود دونوں ورکر جانبر نہ ہو سکے اور دم توڑ گئے۔

    لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس افسوسناک واقعے پر علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے۔

  • کوٹ ڈیجی: یونین کونسل لیاری میں 33 لاکھ روپے کے مبینہ غبن پر کونسلروں کا احتجاج

    کوٹ ڈیجی: یونین کونسل لیاری میں 33 لاکھ روپے کے مبینہ غبن پر کونسلروں کا احتجاج

    سکھر (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)کوٹ ڈیجی کی یونین کونسل لیاری میں 33 لاکھ روپے کے مبینہ غبن پر منتخب کونسلروں اور وائس چیئرمین نے شدید احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں چیئرمین مختیار حسین کانہڑو کے خلاف ہنگامی پریس کانفرنس کی گئی جس میں کونسلروں نے سنگین الزامات عائد کیے۔

    کونسلروں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 28 ماہ کی آڈٹ رپورٹ اب تک پیش نہیں کی گئی جبکہ 10 سے 13 روز قبل یونین کونسل کے اکاؤنٹ سے 33 لاکھ روپے کا غبن کیا گیا ہے جس کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیے بغیر فنڈز کی اس بڑی رقم کا غائب ہونا سنگین بدعنوانی ہے۔

    مقررین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یونین کونسل کا اجلاس طلب کیا جائے اور مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے، بصورتِ دیگر پیر سے چیئرمین کے خلاف اینٹی کرپشن حکام اور اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔

  • ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟

    ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟

    ماضی کا استاد باوقار، آج کا استاد بے توقیر کیوں؟
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    آج حسبِ معمول موبائل پر آئے ہوئے میسیجز دیکھ رہا تھا کہ ایک نہایت ہی قابلِ احترام سکول پرنسپل کی طرف سے ایک مضمون موصول ہوا۔ عنوان تھا: "استاد کی بے عزتی – ایک قوم کی بربادی”۔ مضمون پڑھتے ہی دل بوجھل ہو گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ استاد کی عزت صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود ہو گئی ہے۔ حقیقت میں استاد کی وہ حیثیت جو کبھی مقدس ہوا کرتی تھی، اب تماشہ بن گئی ہے۔ شاگرد استاد سے علم حاصل کرنے کے بجائے اس پر جملے کستے ہیں، والدین معمولی بات پر استاد کو نیچا دکھاتے ہیں اور معاشرہ استاد کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اسے عزت کی روٹی دے۔

    یہ الفاظ صرف جذباتی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہی استاد جس نے ہمیں "ا، ب، پ” سے روشناس کرایا، قلم پکڑنا سکھایا، لفظوں کو جملوں میں جوڑنا سکھایا، آج اسی استاد کو کلاس میں بے توقیر کیا جا رہا ہے۔ اس کی بات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اس کی شخصیت کو مجروح کیا جاتا ہے تو ایسا کیوں ہورہا ہے؟

    اگر ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اس وقت استاد اور شاگرد کا رشتہ محض تعلیمی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم تھا۔ استاد شاگرد کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتا تھا، اس کی تربیت صرف نصاب تک محدود نہیں ہوتی تھی بلکہ کردار سازی، اخلاقیات اور عملی زندگی کے اصولوں تک پھیلی ہوتی تھی۔ استاد کا مقصد صرف نصاب مکمل کرانا نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک صالح، باکردار اور ذمہ دار شہری کی تعمیر کرنا ہوتا تھا۔

    اس وقت ٹیوشن یا اکیڈمی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ استاد کلاس روم میں ہی اپنے فرائض کی ادائیگی کو اپنا فرض سمجھتے تھے اور پوری کوشش کرتے تھے کہ طالب علم کو کسی اضافی مدد یا فیس دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ وہ اپنے پیشے کو نوکری نہیں بلکہ پیغمبری پیشہ سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ علم کی روشنی پھیلانا اور جہالت کو دور کرنا ہی اس پیشے کا بنیادی مقصد ہے۔ یہی نظریہ انہیں قوم کا معمار بناتا تھا، جن کے ہاتھوں میں ملک و ملت کی آئندہ نسلوں کی تقدیر ہوتی تھی۔

    مگر آج تعلیم ایک مقدس فریضہ نہیں رہی بلکہ مکمل طور پر کاروباری صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ استاد جو کبھی علم کا وارث اور مبلغ تھا، آج ایک مافیا کا روپ دھار چکا ہے، جسے طلباء کی روحانی یا اخلاقی تربیت سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس کی واحد غرض زیادہ سے زیادہ پیسے کمانا ہے اور اسی مالی لالچ نے اس مقدس پیشے کے وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

    آج کے استاد نے اپنے بنیادی کردار یعنی کردار سازی سے مکمل غفلت برتنی شروع کر دی ہے۔ جس استاد کو قوم کے نونہالوں کی اعلیٰ ذہنی تربیت کرنی چاہیے تھی، وہ آج انہیں اخلاقی اقدار سے دور کر کے بے راہ روی کی طرف دھکیلنے کا ذمہ دار بن رہا ہے۔ کئی تعلیمی ادارے اور اساتذہ غیر ضروری اور نام نہاد کلچرل پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر ایک مادر پدر آزاد معاشرے کی طرف دھکیل رہے ہیں، جہاں ذمہ داری اور اخلاق سے زیادہ آزادی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

    سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد کا دوہرا معیار اور بے ایمانی اس زوال کا سب سے عملی ثبوت ہے۔ وہ اساتذہ جو سرکاری اداروں سے باقاعدہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں، وہ اپنے فرض سے سراسر غفلت برتتے ہیں۔ حاضری لگانے، چائے پینے اور رسمی کارروائی کے بعد کلاس سے غائب ہو جانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلباء کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ ان ہی اساتذہ کی ذاتی اکیڈمی یا ٹیوشن سنٹر میں مہنگی فیس دے کر پڑھنے آئیں۔ اس صورتحال کا افسوسناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو طلباء ان کی ٹیوشن میں پڑھنے کی سکت رکھتے ہیں، وہ تو ہر امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ غریب اور مستحق طلباء جو مالی بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ کامیابی کا یہ معیار علم پر نہیں، بلکہ جیب کتنا بھاری یا موٹی ہے پر منحصر ہو گیا ہے۔

    یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ استاد کی بے توقیری محض ایک معاشرتی حادثہ نہیں بلکہ خود اس پیشہ کے حاملین کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ جب آپ کا پیشہ پیغمبری سے نکل کر محض ایک تجارت بن جائے اور آپ کی نیت علم کی ترسیل کے بجائے مالی مفاد ہو جائے تو اس زوال کو روکنا ممکن نہیں رہتا۔ استاد کی عزت میں کمی کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی جا سکتی، اس کی بنیاد موجودہ دور کے اساتذہ نے خود رکھی ہے۔

    آج جب استاد نے وہ کردار چھوڑ کر صرف پیسہ کمانے کو اپنا مقصد بنا لیا ہے تو یہ زوال اس کی اپنی لائی ہوئی مصیبت ہے، جس کی آبیاری کسی اور نے نہیں بلکہ آج کے اساتذہ نے خود کی ہے۔ اسی لیے جب استاد کی بے عزتی ہوتی ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کہیں اس کی وجہ ان کا اپنا عمل تو نہیں ہے۔ عزت واپس حاصل کرنے کے لیے استاد کو دوبارہ اپنے پیشے کو مقدس سمجھنا ہوگا، شاگرد کو اولاد کی طرح تربیت دینا ہوگی اور تعلیم کو تجارت نہیں بلکہ عبادت بنانا ہوگا۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا آج کا استاد خود کو دوبارہ وہی باوقار مقام دلانے کے لیے تیار ہے؟ کیا وہ اپنے ضمیر سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت رکھتا ہے کہ "میں نے اپنے پیشے کے ساتھ کیا کیا؟” کیا وہ اس زوال کو روکنے کے لیے خود کو بدلنے پر آمادہ ہے؟ یا پھر وہ اسی بے توقیری کو اپنی قسمت سمجھ کر خاموشی سے قبول کرتا رہے گا؟

    یہ سوال ہر استاد کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے۔ کیا وہ اس آواز کو سننے کے لیے تیار ہے؟

  • را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی

    را، ہندوتوا کے عالمی امن پر وار اور دنیا کی خاموشی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    جب کوئی ریاست اپنی خفیہ ایجنسیوں کو اس حد تک طاقت دیتی ہے کہ وہ سرحدوں سے باہر جا کر قتل و غارت گری میں ملوث ہو جائیں تو یہ صرف اس ملک کی داخلی پالیسی نہیں رہتی بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کے کردار پر حالیہ برسوں میں جو انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ نیویارک میں سکھ رہنما گروپت ونت سنگھ پانن کے خلاف مبینہ قتل کی سازش نے اس خطرے کو مزید اجاگر کیا ہے۔ امریکی عدالتوں میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق جسے بلومبرگ نے رپورٹ کیا: “Prosecutors alleged in court documents that a murder-for-hire plot involved plans for an additional assassination in Nepal or Pakistan.” اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سازش صرف ایک فرد تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کا دائرہ دیگر ممالک تک پھیلانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ مزید برآں بلومبرگ نے بتایا کہ وکاش یادو اور گپتا پر “murder-for-hire, conspiracy to commit murder-for-hire and conspiracy to commit money laundering” جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ بھارتی تفتیشی ادارے نے بھی تسلیم کیا کہ “rogue operatives not authorized by the government had been involved in the plot” یعنی اس سازش میں ایسے افراد ملوث تھے جنہیں حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں تھی۔

    یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” یا اس سے وابستہ عناصر، ہندوتوا کے نظریے کے زیر اثر، غیر ملکی سرزمین پر خفیہ قتل اور سازشوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ہندوتوا جو کہ ایک انتہا پسند نظریہ ہے، بھارت کی داخلی سیاست سے نکل کر اب بین الاقوامی سطح پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ نظریہ نہ صرف اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتا ہے بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کو بھی جارحانہ رخ دیتا ہے۔ جب ریاستی ادارے اس نظریے کے تابع ہو جائیں تو ان کی کارروائیاں صرف سفارتی حدود تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ دوسرے ممالک میں بھی مداخلت کرنے لگتے ہیں۔

    پاکستان میں "را” کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا ایک طویل اور تلخ پس منظر موجود ہے۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی محض الزامات تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر جاری ہے۔ یادیو نے خود اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہا تھا، اور اس کے خلاف عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا دئے ہیں کہ "را” نے پروکسی نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے متحدہ عرب امارات اور افغانستان سے "sleeper cells” کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی منظم کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں مقامی افراد اور جرائم پیشہ عناصر کو استعمال کیا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق 2020 سے اب تک کم از کم 20 افراد کو "را” کی کارروائیوں میں قتل کرا چکا ہے.

    یہ الزامات صرف دو ممالک کے درمیان کشیدگی کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جب ایک ریاست دوسرے ملک میں خفیہ طور پر قتل و غارت کی کارروائیاں کرے، تو یہ اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے انٹرنیشنل معاہدوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود، عالمی برادری کی خاموشی حیران کن ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں بھارت کی ان کارروائیوں کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، لیکن ان ممالک کی حکومتیں محض سفارتی تعلقات یا تجارتی مفادات کی بنیاد پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بلومبرگ جیسے معتبر ذرائع مسلسل اس حوالے سے رپورٹس شائع کر رہے ہیں، لیکن ان رپورٹس پر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔

    سوال یہ ہے کہ جب شفاف شواہد موجود ہیں، تو بھارت کو دہشت گرد ریاست کیوں نہیں قرار دیا جاتا؟ “When transparent evidence exists, why isn’t India declared a terrorist state?” کیا عالمی برادری صرف اس وقت حرکت میں آتی ہے جب متاثرہ ملک مغربی دنیا کا حصہ ہو؟ کیا جنوبی ایشیا کے ممالک کی جان و مال کی کوئی اہمیت نہیں؟ اگر بھارت کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں مقدمات نہیں چلائے جاتے، اگر اقوام متحدہ اس پر پابندیاں عائد نہیں کرتا، تو یہ عالمی انصاف کے نظام پر ایک بدنما داغ ہوگا۔

    یہ خاموشی صرف سفارتی مصلحت نہیں بلکہ ایک خطرناک غفلت ہے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو نظر انداز کرنا عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اگر آج دنیا نے اس پر آواز بلند نہ کی تو کل یہی خاموشی دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ہو، چاہے وہ ریاستی سطح پر ہو یا غیر ریاستی، اس کے خلاف یکساں ردعمل ضروری ہے۔ بھارت کو اس کے اقدامات کا جواب دینا ہوگا اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرے۔

    اگر دنیا آج خاموش رہی تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے عالمی امن کا قبرستان کھود دیا ہے۔ اس قبر پر خاموشی سے مٹی ڈالنا آنے والی نسلوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ دنیا اپنی آنکھیں کھولے، انصاف کے تقاضے پورے کرے اور بھارت کو اس کے ریاستی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائے۔ کیونکہ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی، تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے وجود کو نگل سکتی ہے۔

  • گھوٹکی: تھانہ اوباڑو پولیس کی کارروائی، کار چوری کے مقدمے میں مطلوب ملزم گرفتار، مسروقہ گاڑی برآمد

    گھوٹکی: تھانہ اوباڑو پولیس کی کارروائی، کار چوری کے مقدمے میں مطلوب ملزم گرفتار، مسروقہ گاڑی برآمد

    گھوٹکی (نامہ نگار باغی ٹی وی مشتاق علی لغاری) ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایات پر ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں تھانہ اوباڑو پولیس نے کار چوری کے مقدمے میں مطلوب ملزم کو مسروقہ کار سمیت گرفتار کر لیا۔

    ایس ایچ او تھانہ اوباڑو رفیق احمد سومرو بمعہ اسٹاف نے دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے نزد آدھی بنگلو سے کرائم نمبر 400/2025 دفعہ 381 اے ت پ تھانہ گلشن معمار ضلع ویسٹ کراچی کے مقدمے میں مطلوب ملزم عامر عرف شہزاد ولد نیاز احمد بھٹو سکنہ سیکٹر 4 رحموانی موڑ ضلع سینٹرل کراچی کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے چوری شدہ کار بھی برآمد کر لی۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے کامیاب کارروائی پر پولیس پارٹی کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں اشتہاریوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ عوام کو امن و امان کی بہتر فضا فراہم کی جا سکے۔

  • اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کی زیر نگرانی سیلاب متاثرہ علاقوں میں سروے جاری

    اوکاڑہ: اسسٹنٹ کمشنر کی زیر نگرانی سیلاب متاثرہ علاقوں میں سروے جاری

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز کی زیر نگرانی سیلاب متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ محکمہ ریونیو، اربن یونٹ اور محکمہ زراعت کے اہلکاروں پر مشتمل ٹیمیں متاثرہ موضع جات میں جا کر فیلڈ ورک کر رہی ہیں تاکہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا درست ریکارڈ مرتب کیا جا سکے۔

    اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز نے موضع جندراکہ کے مختلف دیہات کا دورہ کیا اور موقع پر ٹیموں کی ورکنگ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سروے کے عمل کی نگرانی کرتے ہوئے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق درست اور مستند ڈیٹا تیار کیا جائے اور یہ امر یقینی بنایا جائے کہ تیار ہونے والا ڈیٹا ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہو۔

    چوہدری رب نواز نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرین کے حوالے سے سروے میں میرٹ اور شفافیت کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی یا ناانصافی نہ ہو۔

  • زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!

    زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!

    زمینی بدنظمی کا عذاب خدا پہ نہ ڈالا جائے!
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    بارشوں کی کثرت جب سیلابی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کا زیادہ نشانہ غریب اور مڈل کلاس کے رہائشی علاقے بنتے ہیں۔ بچے، بزرگ، عورتیں اور نوجوان پانی میں بہہ جاتے ہیں، گھر تباہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں کئی مذہبی و سیاسی حلقے اسے "خدا کا عذاب” قرار دے دیتے ہیں، جبکہ حکومت انسانی جانوں کے نقصان پر تھوڑی سی امداد دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ تیس برسوں سے بجلی بلوں میں ڈیموں کے فنڈز وصول کرنے والے صاحبِ اختیار کو خدا نے کب ڈیم اور پانی کنٹرول کے انتظامات بنانے سے روکا تھا؟ پھر یہ سودی نظام مسلط کرنے والے لوگ بارشوں کی تباہ کاریوں کو خدا کے کھاتے میں کیسے ڈال سکتے ہیں؟

    ریاستی امور کی اصلاح نہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے اگر اسے خدا کا عذاب قرار دیا جائے تو یہ ترجمان دراصل زمینی خداؤں کو خوش کرنے کے لیے حقیقی خدا کا نام استعمال کرتے ہیں۔ بھلا غریب، بے بس اور لاچار عوام پر خدا کیوں ناراض ہو گا؟ جبکہ شراب نوش، بدکار، حرام خور، مراعات یافتہ طبقہ جو اقتدار اور طاقت کے نشے میں قرآن و حدیث کے قوانین کو روند کر ملکی ادارے چلاتا ہے، اس پر کبھی بادل نہیں پھٹتے، اس کے گھروں پر سیلاب نہیں آتا اور نہ ان پر آسمانی بجلیاں گرتی ہیں۔ لیکن وہ غریب عوام جو مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مرتے ہیں، جنہیں نہ علاج میسر ہے، نہ تعلیم اور نہ انصاف، ان سے خدا کیوں ناراض ہوگا؟

    دین سے دنیا کمانے والے پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ متاثرہ عوام اپنی مشکلات کو حکمرانوں کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی بجائے خدا کی ناراضگی سمجھیں اور توبہ و اصلاح کریں۔ گویا زمینی آقاؤں کو کسی تبدیلی یا جواب دہی کی ضرورت نہیں۔

    دنیا کے ایک سو پچاس سے زائد ملکوں میں بارشیں ہوتی ہیں، لیکن صرف پاکستان جیسے مسلم ملک میں یہ غریبوں پر خدا کا عذاب بن جاتی ہیں۔ جبکہ اسرائیل جیسے اسلام دشمن ممالک میں حفاظتی انتظامات کی بدولت بارشوں کے باوجود انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہوتا۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمان صرف خدا کے غضب کا نشانہ بننے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں؟ کیا ہمارا خدا صرف تکلیفیں دینے پر قادر ہے تاکہ ہم راہِ راست پر آجائیں؟ وہ امن و سکون عطا کرکے ہدایت کیوں نہیں دیتا؟ ہر مسلمان ہدایت کا طلبگار ہے، پھر خدا ہدایت مانگنے والوں کو مصیبتوں میں کیوں ڈالتا ہے؟

    اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی جہالت اور نااہلی کو چھپانے کے لیے خدا کے نام کا سہارا لیتے ہیں۔ حالانکہ کافر ممالک کے حکمران خدا کو نہ مانتے ہوئے بھی اسلامی اصولوں کو قانون بنا کر اپنے عوام کو نقصان سے بچاتے ہیں اور ترقی کی بلندیوں پر لے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جھوٹ، ملاوٹ، دھوکہ اور بددیانتی کو روزگار کا اصول بنا لیا گیا ہے، اس لیے ان پر ویسے ہی حکمران مسلط ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ "جیسی عوام ویسا حکمران”، لیکن یہ فرمان بھی ہم نے صحیح طور پر سمجھا نہیں۔ دراصل نیک اور پرہیزگار لوگوں کی وجہ سے معاشرے سدھرتے ہیں، نہ کہ جاہلوں کی وجہ سے بگڑتے ہیں۔

    تمام انبیاء کرامؑ بدترین حالات میں، جاہل ترین معاشروں میں مبعوث ہوئے، حتیٰ کہ خاتم النبیین حضرت محمدؐ بھی ایسے معاشرے میں تشریف لائے جو جہالت اور ظلم کا شکار تھا۔ لیکن خدائی قوانین کے نفاذ سے انہی جاہلوں کو راہنما بنایا اور ایک تباہ حال معاشرے کو حقوق العباد اور حقوق اللہ کی بنیاد پر عزت اور آسانی عطا کی۔

    سوال یہ ہے کہ جب خدا کے برگزیدہ ترجمان سخت ترین حالات میں ہدایت کے چراغ جلا گئے تو آج دین کے نام پر ترجمانی کرنے والے صرف غریب مسلمانوں پر کیوں سختی کرتے ہیں؟ ان کا بس صرف کمزور عوام پر ہی کیوں چلتا ہے؟ اسلام دشمن قوانین نافذ کرنے والے، سود مسلط کرنے والے اور جمہوریت کے نام پر اسلامیت کو روندنے والے حکمرانوں کو اسلام کی راہ پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی؟ ان ترجمانوں کے پاس اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی طاقت اور مواقع ہیں، مگر وہ صرف عام لوگوں کو ہی توبہ کا درس دیتے ہیں۔

    اصل میں یہ جماعتیں اسلام کے حسینؓ سے نہیں بلکہ یزید کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہیں۔ اقتدار و دولت کے نشے میں گمراہ حکمران اگر اپنی اصلاح آپ کریں، طاقت کی بیساکھیاں پھینک کر عوامی خدمت کے راستے پر چل پڑیں تو زمین بھی ان کا استقبال کرے۔ جیسے ہی کوئی شخص پاک نیت سے پہلا قدم اٹھاتا ہے، منزل اس کی طرف بڑھتی ہے۔

    معاشرے کی اصلاح کے بارے میں سوچتے ہوئے ہمیشہ حضرت علیؓ کا قول یاد آتا ہے کہ "دنیا اس لیے بری نہیں کہ برے لوگ زیادہ ہیں بلکہ اس لیے بری ہے کہ اچھے لوگ خاموش ہیں۔” سوال یہ ہے کہ اچھے لوگ برائی کے آگے دیوار کب بنیں گے؟

  • رائیونڈ: سیرت محمد ﷺ پر مبنی پرنور محفل میلاد 28 ستمبر کو منعقد ہوگی

    رائیونڈ: سیرت محمد ﷺ پر مبنی پرنور محفل میلاد 28 ستمبر کو منعقد ہوگی

    رائیونڈ (ظفر اقبال ظفر) سیرت محمد ﷺ پر مبنی ایک عظیم الشان محفل میلاد 28 ستمبر 2025 بروز اتوار نیاز میراں کالونی نزد پی ایس او پٹرول پمپ، قصور روڈ رائیونڈ میں منعقد ہوگی۔ اس روحانی اجتماع کی صدارت حضرت صاحبزادہ رب نواز چادری سرکارؒ فرمائیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق اس محفل میلاد میں قرآن و حدیث کی روشنی میں تبلیغ اسلام اور اصلاحی تربیت پر روشنی ڈالی جائے گی تاکہ معاشرہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جہالت کے اندھیروں سے نجات حاصل کر سکے۔

    محفل میں کثیر تعداد میں مریدین اور عقیدت مندوں کی شرکت متوقع ہے، جبکہ تمام عاشقان مصطفی ﷺ کے لیے دعوت عام دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے لنگر کا وسیع انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ اُمت محمدیہ ﷺ بھائی چارے کی فضا میں حضرت خواجہ محمد اقبالؒ کے مشن ترویج اسلام کے سائے میں جمع ہو سکے۔

    خادمین و مریدین ریاض احمد خواجگی، خلیل احمد خواجگی، حنظلہ یونس خواجگی، محمد صدیق خواجگی، حمید احمد خواجگی، پرویز احمد خواجگی، محمد ادریس خواجگی، محمد اسلم خواجگی اور دیگر محفل کے انتظامی امور میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اس سعادت کو اپنے پیر و مرشد حضرت صاحبزادہ رب نواز چادری سرکارؒ کے دستِ مقدس سے بارگاہِ رسول مقبول ﷺ میں پیش کرنے کو اعزاز سمجھتے ہیں۔