Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ٹوبہ ٹیک سنگھ: صوبائی وزیر صحت کا سیلابی علاقوں کا دورہ، متاثرین کو ہر ممکن ریلیف دینے کا اعلان

    ٹوبہ ٹیک سنگھ: صوبائی وزیر صحت کا سیلابی علاقوں کا دورہ، متاثرین کو ہر ممکن ریلیف دینے کا اعلان

    گوجرہ (باغی ٹی وی سٹی رپورٹر محمد اجمل) صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مائی صفوراں بند، تھانہ اروتی کا دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار اور ڈپٹی کمشنر نعیم سندھو بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ نے وزیر صحت کو سیلاب سے متاثرہ موضع جات اور فلڈ ریلیف کیمپس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

    وزیر صحت نے فلڈ ریلیف کیمپ مائی صفوراں بند کا معائنہ کیا، ریسکیو 1122 کے جوانوں اور پولیس اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقی ہیروز ہیں جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر عوام کی خدمت اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومت متاثرہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت کی میڈیکل ٹیمیں ریلیف کیمپس اور فیلڈ ہسپتالوں میں موجود ہیں تاکہ متاثرہ عوام کو بروقت طبی سہولتیں مل سکیں۔ وزیر صحت نے متاثرین کو یقین دلایا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی کو بھی اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔

  • گوجرہ: شراب فروش گرفتار، 105 پونڈشراب برآمد

    گوجرہ: شراب فروش گرفتار، 105 پونڈشراب برآمد

    گوجرہ (سٹی رپورٹر محمد اجمل) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار کے حکم پر ضلع بھر میں منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    اسی سلسلے میں تھانہ سٹی گوجرہ پولیس نے ڈی ایس پی گوجرہ اشرف تبسم کی سربراہی اور ایس ایچ او سرفراز احمد کی نگرانی میں کاروائی کرتے ہوئے ریلوے پھاٹک کے قریب شراب فروش ملزم اقبال مسیح عرف نکا ولد یوسف مسیح سکنہ کرسچین کالونی گوجرہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم کے قبضہ سے 105 پونڈا شراب برآمد ہوئی، جس پر اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    ڈی پی او ٹوبہ عبادت نثار کا کہنا ہے کہ ٹوبہ پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور منشیات کے خاتمے کے لیے ہر محاذ پر برسرِ پیکار ہے۔

  • جلالپور پیر والا:وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دورہ، سیلاب متاثرین کے دکھ درد میں شریک

    جلالپور پیر والا:وزیر اعلیٰ مریم نواز کا دورہ، سیلاب متاثرین کے دکھ درد میں شریک

    جلالپورپیروالا(باغی ٹی وی رپورٹ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سیلاب زدگان کا دکھ بانٹنے کے لیے ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا پہنچ گئیں۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج جلالپور پیر والا فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور متاثرین میں گھل مل گئیں۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے متاثرہ خواتین کو گلے لگا کر دلاسہ دیا اور ان کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے متاثرہ بچوں سے شفقت کا اظہار کرتے ہوئے خود ڈش لے کر کھانا پیش کیا اور ایک ننھے بچے کے منہ میں زردے کا نوالہ ڈال کر پیار کیا۔

    سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی کھانے کا اہتمام بھی وزیر اعلیٰ نے خود ترتیب دیا اور بچوں میں کھانا تقسیم کیا۔ خواتین اور بچوں کو پھل بھی فراہم کیے گئے۔ ایک موقع پر مریم نواز نے ہچکیاں لے کر رونے والی خاتون کو گلے لگا کر تسلی دی جبکہ بزرگ خاتون کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔

    فلڈ ریلیف کیمپ میں موجود ایک بزرگ شہری نے جذباتی انداز میں کہا: “حیاتی ہووے، ساڈی دھی آئی ایں۔ آپ پر دکھ آیا تو ہم روتے تھے، آج ہم تکلیف میں ہیں تو آپ ہمارے ساتھ ہیں۔”

    دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کو امدادی رقوم کے چیک دیئے اور کنگ سلمان ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر و پی ڈی ایم اے کی جانب سے فوڈ پیکٹ اور دیگر سامان بھی تقسیم کیا۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر 6 شہروں میں ریسکیو آپریشن کے لیے مزید سامان روانہ

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر 6 شہروں میں ریسکیو آپریشن کے لیے مزید سامان روانہ

    لاہور (باغی ٹی وی رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے چھ شہروں ملتان، مظفرگڑھ، رحیم یار خان، بہاولپور اور لودھراں میں ریسکیو آپریشن کے لیے مزید سامان اور افرادی قوت روانہ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ملتان میں متاثرین کی امداد کے لیے 108 کشتیاں، 109 ربڑ بوٹس اور 1130 لائف جیکٹس پہنچا دی گئیں۔ مظفرگڑھ میں 57 کشتیاں، 53 ربڑ بوٹس اور 683 لائف جیکٹس، رحیم یار خان میں 47 کشتیاں، 44 ربڑ بوٹس اور 519 لائف جیکٹس جبکہ بہاولپور میں 38 کشتیاں، 40 ربڑ بوٹس اور 519 لائف جیکٹس فراہم کی گئی ہیں۔ اسی طرح لودھراں میں 19 کشتیاں، 18 ربڑ بوٹس اور 546 لائف جیکٹس متاثرہ عوام کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر 119 سے زائد بوٹ آپریٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

    ادھر جلالپور پیر والا کی نواحی بستی بہاراں کے حفاظتی بلوچ واہ فلڈ بند میں اچانک شگاف پڑنے کے بعد ہنگامی انخلا شروع کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچ گئے جبکہ پاک فوج، انتظامیہ اور اریگیشن ٹیمیں شگاف پُر کرنے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے مصروف عمل ہیں۔

    انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں نے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے پانچ دیہات میں اعلانات کے ذریعے انخلا کا عمل شروع کیا۔ اہلکار گھروں کے دروازوں پر دستک دے کر شہریوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند اور سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند اور سیلاب متاثرین کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

    جلالپورپیروالا(باغی ٹی وی رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فلڈ ریلیف کیمپ کے دورے کے بعد جلالپور پیروالا سٹی کے حفاظتی بند پر پہنچ کر اہم اعلانات کیے۔ جلالپور پیروالا بائی پاس پر وزیراعلیٰ کو دیکھ کر ہزاروں کی تعداد میں عوام جمع ہو گئے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جلالپور پیروالا کے لئے مستقل حفاظتی بند بنانے اور اُچ شریف کے لئے گیلانی ایکسپریس وے پراجیکٹ کا اعلان کیا۔ انہوں نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو ہدایت دی کہ وہ جلالپور پیروالا میں انخلا آپریشن کی نگرانی کے لئے وہیں قیام کریں۔
    وزیراعلیٰ نے جلالپور پیروالا کے سیلاب متاثرین کے لئے ایک سپیشل پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو 10،10 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

    مکمل طور پر منہدم ہونے والے گھروں کے مالکان کو 10 لاکھ روپے جبکہ ایک کمرہ گرنے کی صورت میں 5 لاکھ روپے امداد فراہم کی جائے گی۔

    بڑے مویشیوں کے ضیاع پر 5 لاکھ اور چھوٹے جانوروں کے نقصان پر 50 ہزار روپے امداد دی جائے گی۔

    سیلاب متاثرین سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہاکہ “میں محمد نواز شریف کی بیٹی ہوں، اپنا ہر وعدہ پورا کروں گی۔ سیلاب سے متاثرہ ایک ایک فرد کا نقصان پورا کیا جائے گا۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں دے سکتے لیکن جاں بحق افراد کے ورثاء کے لئے ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔”

    انہوں نے کہا کہ وہ خود چل کر جلالپور پیروالا کے عوام کے پاس پہنچی ہیں تاکہ ان کے دکھ درد میں شریک ہو سکیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر نو حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    مریم نواز شریف نے کہا کہ جلالپور پیروالا میں بہت سے لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں، سب کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ متاثرین کو ریلیف دینے کے لئے خیمے، خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ“سیلاب متاثرین ہمارے مہمان ہیں، جب تک پانی نہیں اترتا، گھر واپس نہیں جانا۔ سب کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑا سیلاب اور تباہی ہے، لیکن متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ جاں بحق ہونے والوں کو واپس نہیں لا سکتے مگر ان کے ورثاء کے ساتھ ہمدردی اور تعاون ہمارا فرض ہے۔”

    وزیراعلیٰ نے آخر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر کسی کا زور نہیں چلتا، لیکن حکومت پنجاب ہر متاثرہ فرد کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے۔

  • گوجرانوالہ:عید میلاد النبی ﷺ، درود وسلام اور ریلی کی بہار

    گوجرانوالہ:عید میلاد النبی ﷺ، درود وسلام اور ریلی کی بہار

    گوجرانوالہ (نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی) ربیع الاول کے مبارک مہینے میں ادارۃ المصطفی انٹرنیشنل، حلقہ گوجرانوالہ نے نوشہرہ سانسی، نئی آبادی میں درود شریف کی محافل کا اہتمام کیا، جو یکم سے 12 ربیع الاول تک جاری رہیں۔ ان محافل کے بعد 12 ربیع الاول کو ایک پروقار اور خوبصورت ریلی کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں عاشقان رسول ﷺ نے شرکت کی۔

    اس ریلی کی قیادت معروف عالم دین حضرت علامہ مولانا حافظ حسان مصطفائی صاحب نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی قرآن کے دامن اور سیرت نبوی ﷺ کو تھامنے میں ہے۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ صرف ایک محفل یا ریلی میں شرکت کرنا کافی نہیں، بلکہ پوری زندگی حضور اکرم ﷺ کے نام وقف کر دی جائے۔

    علامہ حسان مصطفائی نے مزید فرمایا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بھی سیرت النبی ﷺ اور درود شریف کی کثرت سے پڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے، تاکہ ان کے دلوں میں بھی عشق مصطفی ﷺ کے سچے جذبات پروان چڑھ سکیں۔

  • زنا کیس میں نیا موڑ، درخواست گزار خاتون اور گواہ کے خلاف مقدمہ درج

    زنا کیس میں نیا موڑ، درخواست گزار خاتون اور گواہ کے خلاف مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان (بیورو رپورٹ)زنا کیس میں نیا موڑ، درخواست گزار خاتون اور گواہ کے خلاف مقدمہ درج،تھانہ سٹی تونسہ کی بڑی کارروائی، جھوٹی درخواست اور بیان بدلنے پر اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

    تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی تونسہ شریف نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے زنا کیس میں جھوٹی درخواست دینے اور بیان بدلنے پر ایک خاتون اور اس کی گواہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے یہ کارروائی اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021ء کے تحت کی ہے تاکہ انصاف کے عمل کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

    پولیس کے مطابق، شجاع آباد کی رہائشی ثناء ملک نے ذاتی مفاد کے لیے ایک بے گناہ شخص پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ درج کرایا تھا۔ بعد میں، انہوں نے عدالت میں اپنا بیان بدل دیا اور کیس سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ان کی ساتھی فرزانہ بھی اس جھوٹے عمل میں ان کے ساتھ شامل تھیں۔ اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے نہ صرف انصاف کے عمل کو نقصان پہنچایا بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ اور بد اعتمادی پیدا کی۔

    پولیس ترجمان نے واضح کیا ہے کہ قانون سے کھلواڑ کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ایسے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مثال قائم کی جائے گی تاکہ کوئی بھی آئندہ جھوٹے مقدمات سے نظامِ انصاف کو کمزور کرنے کی جرات نہ کرے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔

  • امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟

    امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟

    امن کے سودے یا ریاست پر وار؟ ذمہ دار کون؟
    "تحریک انصاف کے دور میں کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات اور سہولت کاری نے پاکستان کی سلامتی کو نئے سوالات میں الجھا دیا ہے، یہ امن کی کوشش تھی یا دہشت گردی کو از سر نو طاقت دینے کا عمل؟”
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے موقف کی مسلسل تائید کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا اور تقریباً 40 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں کی بحالی کی وکالت بھی کی جس کے ویڈیو شواہد موجود ہیں۔ اسی دوران جب دہشت گردی عروج پر تھی، خیبرپختونخوا حکومت نے ٹی ٹی پی سے مفاہمت کی تجویز دی جبکہ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی مستقل طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (CTD) کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالتی رہی اور بعض دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر فعال کارروائیوں کو روکنے کی صف بندی کرتی رہی۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی اور دراندازی میں افغان شہریوں کی شمولیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

    یہ معاملہ صرف سیاسی یا جماعتی ترجیح کا نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے سے جڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت (2018-2022) میں جو مذاکراتی پالیسی اپنائی گئی، اس نے نہ صرف دہشت گردوں کو از سر نو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ سیکیورٹی فورسز کی برسوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن بھی داؤ پر لگا دیا۔

    2014 میں جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی، عمران خان کو ٹی ٹی پی نے اپنے "مذاکراتی نمائندے” کے طور پر نامزد کیا تھا۔ یہی رجحان آگے چل کر پالیسی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے افغان طالبان کی ثالثی میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ نومبر 2021 میں ایک ماہ کی جنگ بندی طے پائی اور اس دوران نہ صرف درجنوں قیدی رہا کیے گئے بلکہ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو آباد ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تو باقاعدہ طور پر "مفاہمت کی تجویز” پیش کی۔ یہ وہ وقت تھا جب دہشت گردی اپنے عروج پر تھی اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر کے عوام کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    یہ اقدام پی ٹی آئی کے نزدیک "امن کی کوشش” تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور اپنے نیٹ ورکس بحال کرنے کا سنہری موقع ملا۔ بعض رہنماؤں نے ٹی ٹی پی کو "ہمارے مسلمان بھائی” کہہ کر ان کی بحالی کے بیانیے کو مزید تقویت دی۔

    ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل اور گلوبل ٹیررزم انڈیکس کے اعداد و شمار ایک بھیانک حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2021 میں پاکستان میں 424 دہشت گرد حملے ہوئے، 214 شہری جاں بحق ہوئے۔ اگلے ہی سال یہ تعداد بڑھ کر 630 حملوں اور 229 ہلاکتوں تک جا پہنچی۔ صرف 2023 میں ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہوں نے 400 سے زائد حملے کیے، جس سے دہشت گردی میں 79 فیصد اضافہ ہوا۔

    افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سرحد پار دراندازی اور حملوں میں افغان شہریوں کی شمولیت نمایاں ہو گئی۔ اندازاً 70 سے 80 فیصد حملہ آور افغان نژاد تھے، جنہیں پاکستان کی طرف سے ملنے والی رعایتوں اور افغان طالبان کے تحفظ نے مزید تقویت دی۔

    دہشت گردوں کی بحالی اور دوبارہ آبادکاری نے نہ صرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو غیر محفوظ کیا بلکہ ملک میں سیاسی تقسیم کو بھی گہرا کر دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (این ڈی ایم) جیسے گروہوں کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی نے CTD کی کارروائیوں کو متنازعہ بنایا۔ اس سے قومی اتفاق رائے ٹوٹا اور دہشت گردوں کے خلاف یکجہتی کا پیغام کمزور ہوا۔

    دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان صرف انسانی جانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ معیشت پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ ورلڈ بینک اور وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کو 2001 سے اب تک دہشت گردی کے سبب 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں سالانہ 5 سے 10 ارب ڈالر تک کے نقصانات رپورٹ ہوئے۔

    2021 سے 2023 کے دوران دہشت گردی کی وجہ سے معاشی نقصان میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ افغانستان،پاکستان تجارت 30 فیصد کم ہوئی، چینی سرمایہ کاری کے منصوبے خاص طور پر CPEC کے پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہوئے، جس سے 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ٹورزم اور سرمایہ کاری کے شعبے میں 20 سے 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    تحریک انصاف کی ٹی ٹی پی سے متعلق پالیسیوں کو امن کے نام پر اختیار کیا گیا، مگر یہ پالیسی ایک ریاستی غلطی ثابت ہوئی جس نے دہشت گردوں کو تقویت بخشی اور پاکستان کو سیکیورٹی، سماجی استحکام اور معیشت کے اعتبار سے کمزور کیا۔ اگرچہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ پالیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت پر تھی، لیکن جمہوری حکومت کے طور پر اس کی ذمہ داری براہِ راست پارٹی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق یہ گواہی دیتے رہیں گے کہ یہ نرم رویہ دراصل دہشت گردی کی نئی لہر کا نقطہ آغاز بنا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریفرنسز
    1.Dawn News, "Talks with TTP facilitated by Afghan Taliban” (2021).
    2.Al Jazeera, "Pakistan begins talks with TTP” (Oct 2021).
    3.United States Institute of Peace (USIP), "The TTP Resurgence after Afghan Taliban takeover” (2022).
    4.Global Terrorism Index (GTI) Reports (2022, 2023).
    5.South Asia Terrorism Portal (SATP), "Pakistan: Terrorism Data”.
    6.Carnegie Endowment for International Peace, "The TTP’s Revival” (2023).
    7.Ministry of Finance Pakistan, "Economic Survey of Pakistan” (2022-2023).
    8.World Bank Reports on Pakistan Economy (2021-2023)

  • دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا

    دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا

    دنیا کا طالب خدا سے بھی مخلص نہیں ہوتا
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    دنیا بنانے والے نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ بہت بری ہے۔ لیکن جب ہم زمین کے فرش پر خدا کی جھلک دکھانے والی بے شمار خوبصورت تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ کیا واقعی یہی فرش زمین دنیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے علم کے گہرے سمندر میں غوطے لگانے کی ضرورت نہیں، بلکہ سطح پر ہی رہتے ہوئے یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ انسانوں کا دنیاوی خواہشات میں جکڑا ہوا طرزِ عمل ہی دنیا کے چہرے کا اصل تعارف ہے۔

    جب خالق نے دنیا کو برا کہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی اصل برائیاں جھوٹ، فریب، دھوکہ، حرام، ظلم، زیادتی، بددیانتی، ناانصافی، زنا، سود، ملاوٹ اور خیانت ہیں۔ یہ تمام برائیاں مل کر دنیا کہلاتی ہیں اور یہ دنیا اُسی کے پاس جمع ہوتی ہے جو اس کے مزاج کا بن جاتا ہے۔ وہ چیز جو کافر اور مسلمان دونوں کے پاس ہو، وہ نعمت نہیں ہوتی، اصل نعمت صرف ہدایت ہے۔

    ہدایت جھونپڑی میں رہنے والے کو بھی اتنا قیمتی بنا دیتی ہے کہ دنیا کے سکے اسے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
    حضرت علیؓ کا فرمان ہے: میرے نزدیک دنیا ایسی ہے جیسے سور کی انتڑیاں کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔
    اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے۔

    مومن کے لیے دنیا صرف ضروریاتِ زندگی تک ہی حلال ہے، اس سے بڑھ کر جو کچھ ہے وہ دنیا ہے۔ غریبی دراصل وہ امیری ہے جو خدا نے اپنے ہر محبوب بندے کو عطا کی۔ اس لیے خواہشاتِ دنیا کا قیدی بننے کے بجائے غریبی کی آزاد فضاؤں میں روح کی پرواز کا مزہ زندگی کو دیجئے۔

    زندگی کی مشکلات دراصل آخرت کی آسانیوں کی دلیل ہیں، ان پر صبر کیجئے اور خدا کے ساتھی بن جائیے۔

  • سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیلاب متاثرہ گاؤں کھرل کا دورہ،

    سیالکوٹ: ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کا سیلاب متاثرہ گاؤں کھرل کا دورہ،

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے تحصیل سمبڑیال کے سیلاب سے متاثرہ گاؤں کھرل کا دورہ کیا، ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر غلام فاطمہ بندیال بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر مال مویشیوں کے لیے ونڈا تقسیم کیا گیا جبکہ متاثرہ خاندانوں کو خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت اور قوم متاثرہ عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مواصلات کی بحالی، مال مویشیوں کے لیے چارہ اور عوام کو خوراک کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے دن رات بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں جبکہ سول سوسائٹی بھی اس نیک کام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔