Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گوجرہ : شراب فروش گرفتار، 524 پونڈا شراب برآمد

    گوجرہ : شراب فروش گرفتار، 524 پونڈا شراب برآمد

    گوجرہ (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر محمد اجمل) ٹوبہ پولیس نے عوامی تحفظ اور منشیات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران گوجرہ شہر سے ایک شراب فروش کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 524 پونڈا شراب برآمد کر لی ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ٹوبہ ٹیک سنگھ، عبادت نثار، کی ہدایت پر ضلع بھر میں منشیات اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈی ایس پی گوجرہ اشرف تبسم کی زیرِ نگرانی اور ایس ایچ او تھانہ سٹی گوجرہ، سرفراز احمد انسپکٹر، کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے ریلوے پھاٹک کے قریب کارروائی کی۔

    پولیس نے شراب فروش ملزم فرحان ولد اشفاق قوم راجپوت، سکنہ محلہ نئی منڈی گوجرہ کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ اس کے قبضے سے بڑی مقدار میں 524 پونڈا شراب برآمد ہوئی، جس پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ڈی پی او عبادت نثار نے کہا ہے کہ ٹوبہ پولیس شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر سرگرم عمل ہے۔

  • گوجرہ میں "الصفاء ٹریولز اینڈ ٹورز” کا شاندار افتتاح

    گوجرہ میں "الصفاء ٹریولز اینڈ ٹورز” کا شاندار افتتاح

    گوجرہ (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹر: محمد اجمل ) گوجرہ کے ریلوے اسٹیشن چوک میں "الصفاء ٹریولز اینڈ ٹورز” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سابق چیئرمین یونین کونسل 157 گ ب میاں امجد علی تھے، جبکہ اعزازی مہمانوں میں چوہدری یاسین (چیئرمین چیمبر آف کامرس فیصل آباد) اور چوہدری محمد نواز (ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوجرہ) شامل تھے۔

    تقریب میں سیاسی، سماجی، فلاحی اور مذہبی رہنماؤں کے علاوہ وکلاء، اساتذہ، اور صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ ان میں چوہدری اختر حسین بٹر ایڈووکیٹ، میاں طاہر سلیم ایڈووکیٹ، چوہدری ایاز بسرا ایڈووکیٹ، عرفان بیگ، چوہدری محمد اقبال گورایہ، چوہدری محمد رمضان گجر (صدر پنجاب ٹیچرز یونین ٹوبہ ٹیک سنگھ)، منصور احمد مانیٹرنگ آفیسر، حافظ رضوان گجر، وقاص گجر، اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

    مہمانوں نے الصفاء ٹریولز اینڈ ٹورز کے پروپرائیٹر شبیر مانیٹرنگ آفیسر کے بیٹے شعیب شبیر اور زوہیب طارق کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ آخر میں، ملکی سالمیت، خود مختاری اور حالیہ سیلاب زدگان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

  • ننکانہ صاحب: گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کریک ڈاؤن

    ننکانہ صاحب: گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کریک ڈاؤن

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب، محمد تسلیم اختر راؤ، کی زیرِ صدارت گندم ذخیرہ کرنے والوں اور مہنگی اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ایک اہم اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نے فلور ملز اور ڈیلرز کو آج سہ پہر 3 بجے تک گندم کا تمام سٹاک ظاہر کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ وقت کے بعد سٹاک نہ بتانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مہنگی اشیاء فروخت کرنے والے اور ذخیرہ اندوز براہِ راست جیل جائیں گے۔

    قیمتیں اور دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات:
    آٹے کی قیمت: 10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے اور 20 کلو کا تھیلا 1810 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    قیمتوں کا ڈسپلے: تمام دکانداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی دکانوں کے باہر آٹے اور چینی کی قیمتیں نمایاں طور پر آویزاں کریں۔

    روٹی کی قیمت: ضلع بھر میں روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔

    پرائس مجسٹریٹس کا عمل: پرائس مجسٹریٹس آج سہ پہر 3 بجے کے بعد فیلڈ میں نکل کر قیمتوں کی نگرانی کریں گے۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ گندم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے انتظامیہ کی اجازت لازمی ہوگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ضلع میں گندم کا وافر سٹاک موجود ہے اور فلور ملز اپنی ضرورت کے مطابق گندم خرید سکتی ہیں۔

  • اوکاڑہ:اہم سڑک گزشتہ 25 برسوں سے خستہ حالی کا شکار ،ارباب اختیارخاموش،عوام پریشان

    اوکاڑہ:اہم سڑک گزشتہ 25 برسوں سے خستہ حالی کا شکار ،ارباب اختیارخاموش،عوام پریشان

    اوکاڑہ(نامہ نگارملک ظفر) اوکاڑہ میں 22 فور ایل سے 31 فور ایل تک جانے والی اہم سڑک گزشتہ 25 برسوں سے خستہ حالی کا شکار ہے۔ یہ سڑک قریبی دیہاتوں کو کئی شہر سوں ے جوڑتی ہے اور روزانہ سینکڑوں افراد اس پر سفر کرتے ہیں۔ سڑک پر جگہ جگہ بڑے گڑھے پڑ چکے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    سڑک کی اس خراب حالت کے باعث ٹریفک حادثات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیور روزانہ حادثات کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ مقامی کسانوں نے بھی شکایت کی ہے کہ خراب سڑک کی وجہ سے ان کی فصلیں اور دیگر اجناس وقت پر منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتیں، جس سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

    شہریوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری طور پر اس سڑک کی مرمت اور از سر نو تعمیر کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو اس پریشانی سے نجات مل سکے۔

  • سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی

    سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی

    سیلاب، دہشت گردی اور قومی یکجہتی
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان اس وقت دوہری آفت کی لپیٹ میں ہے ایک طرف تباہ کن سیلاب اور دوسری طرف وحشیانہ دہشت گردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ . مسلسل بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی نے شہروں، دیہاتوں، گاؤں اور کھیتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا جبکہ دہشت گردی کے تازہ حملوں نے عوام کے شعور اور جذبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ بحران نہ صرف جان و مال کو تباہ کر رہا ہے بلکہ قومی یکجہتی کے عزم کو بھی شدید زَک پہنچا رہا ہے۔ اس صورتحال نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا خطرہ دراصل بین الصوبائی سیاسی انتشار اور تقسیم ہے جو ہمیں ایک قوم کے طور پر متحد ہونے سے روک رہا ہے۔ سیلاب کی تباہی نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، فصلیں تباہ ہوئی ہیں اور روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ یہ حالات شدت پسندوں کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں کیونکہ غربت اور مایوسی ہی شدت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ بحالی کے منصوبوں پر بھی فوری توجہ ضروری ہے. متاثرہ علاقوں میں فوری امداد، روزگار کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی نہ صرف عوام کے دکھ کم کریں گے بلکہ شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد دیں گے۔

    یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کی تاریخ دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد سے عبارت ہے۔ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے فوجی آپریشنز نے واضح کر دیا کہ جب ریاست نے پوری قوت سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تو ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ تاہم آج وفاقی اور صوبائی سطح پر پالیسیوں میں تضاد اس کامیابی کو دُھندلا رہا ہے۔ وفاقی حکومت دہشت گردی کے خلاف سخت گیر رویے کی حامی ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ فتنہ الخوارج تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کے دروازے بند کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت مذاکرات اور محدود کارروائیوں پر زور دیتی ہے، یہ متضاد پالیسیاں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو کمزور کر رہی ہیں اور عوام میں تذبذب پیدا کر رہی ہیں۔ جب صوبائی قیادت فوجی کارروائیوں کو غیر ضروری قرار دیتی ہے تو عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر کس پر بھروسہ کیا جائے ، ریاست کی فوج پر یا سیاسی قیادت پر؟ یہی الجھن دہشت گردوں کے لیے سب سے بڑے کامیابی ہے کیونکہ انہیں انتشار کے ماحول میں پروان چڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔

    ماضی کے تجربات ہمیں سبق دیتے ہیں کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں ٹی ٹی پی سے گفت و شنید اور جنگجوؤں کی واپسی کی پالیسی نے عارضی سکون تو دیا مگر طویل المدت امن برقرار نہ رہ سکا، ہزاروں جنگجوؤں کی واپسی اور انہیں بسانے کی کوشش نے بالآخر دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے اور آزادانہ کارروائیوں کا موقع فراہم کیا۔ یہ تلخ سبق ثابت کرتا ہے کہ شدت پسندوں کے سامنے نرم رویہ اختیار کرنا بسا اوقات ملک کے مفاد میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے اپنے مؤقف میں سختی اپنائی ہے، مگر کے پی کی قیادت کے بعض بیانات، مثلاً افغان طالبان سے براہِ راست رابطوں کے اعلانات، وفاقی موقف کو کمزور کر رہے ہیں اور آئینی دائرہ کار کو بھی الجھا رہے ہیں۔ ایسے بیانات محض سیاسی اختلاف کو وسیع نہیں کرتے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کرتے ہیں. جب صوبائی سرکردہ شخصیات فوجی کارروائیوں کو غیر ضروری یا انسانیت سوز قرار دیتی ہیں تو سادہ آدمی کے ذہن میں الجھن جنم لیتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کمزور پڑ جاتی ہے۔

    افغانستان کی موجودہ صورتحال اس پورے عمل کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ بظاہر وہاں کی حکمتِ عملی میں ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیاں دکھائی جاتی ہیں مگر کئی بار یہ نمائشی نوعیت کی ثابت ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی حلقوں کے مطابق بعض اوقات طالبان نے کارروائیوں کا ڈرامہ رچا کر حقیقی مؤثر کارروائی سے گریز کیا اور اسی خلا سے دہشت گرد سرحد پار آ کر ہمارے اندرونی محاذوں کو ہدف بناتے رہے۔ اسی پس منظر میں غیر قانونی افغان مہاجرین کا معاملہ بھی شدید تنازع بن گیا ہے، وفاق ان مہاجرین کو سیکیورٹی خطرہ قرار دے کر ان کی واپسی پر زور دیتا ہے(جو پاکستان کے امن کیلئے واقعی حقیقی خطرہ ہیں ) جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت اسے انسانی بنیادوں پر زبردستی نکاسی قرار دے کر مخالفت کرتی ہے۔ یہ اختلاف انتہاپسند پروپیگنڈے کو مواد فراہم کرتا ہے اور وہ ریاستی رویے کو عوام دشمنی کے طور پر پیش کر کےدہشت گردوں کے لئے عوامی ہمدردی پیدا کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ۔

    ان تمام پیچیدگیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کوئی محض صوبائی یا وفاقی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی چیلنج ہے۔ اگر سیاسی اختلافات اور پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی گئی تو یہ لڑائی کبھی مکمل طور پر جیتی نہیں جا سکے گی۔ دہشت گرد کسی سیاسی جماعت یا صوبائی حکومت کو نہیں دیکھتے بلکہ ان کا واحد ہدف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ اسی لیے وفاق اور صوبوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ایک جامع، شفاف اور مربوط پالیسی مرتب کرنا ہوگی جو عسکری اور سول اقدامات کا متوازن امتزاج ہو، عوام میں اعتماد بحال کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بلا خوف و خطر اپنا کام سر انجام دینے کے قابل بنائے۔

    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب پاکستان متحد ہوا تو دشمن پسپا ہوا اور جب ہم منتشر ہوئے تو وہ دوبارہ نمودار ہو گیا۔ لہٰذا یہ وقت سیاسی انا کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم کی طرح کھڑے ہونے کا ہے۔ وفاق اور خیبرپختونخوا کو فوری طور پر ایک عملی اور آئینی طور پر ہم آہنگ حکمت عملی طے کرنی چاہیے، جس میں بحالی کے منصوبے بھی شامل ہوں تا کہ سیلاب سے متاثرہ عوام کو روزگار اور تحفظ ملے اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کے لیے مواقع کم ہوں۔ سیاسی جماعتیں اگر آج بھی قومی مفاد کی بجائے مخاصمت کا راستہ اپنائیں گی تو دہشت گردی اسی دراڑ سے گھس کر ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دے گی۔

    آخر میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور دیگر صوبائی رہنماؤں کو واضح پیغام دینا ضروری ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سبوتاژ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی گی۔ ریاستِ پاکستان، آئین اور قوم کی سلامتی سب سے مقدم ہیں۔ اس جنگ میں سمجھوتہ ممکن نہیں۔
    پاکستان زندہ باد،
    افواجِ پاکستان پائندہ باد۔

  • ننکانہ:فیس اسکینر مشینیں 50 روز بعد بھی نصب نہ ہو سکیں، محکمہ صحت کے احکامات ہوا میں اُڑ گئے

    ننکانہ:فیس اسکینر مشینیں 50 روز بعد بھی نصب نہ ہو سکیں، محکمہ صحت کے احکامات ہوا میں اُڑ گئے

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز)سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے حکم کو 50 روز اور سی ای او ہیلتھ کے حکم کو 20 روز گزرنے کے باوجود ننکانہ صاحب میں فیس اسکینر مشینیں تاحال نصب نہ ہو سکیں۔ محکمہ صحت کے احکامات تاحال ہوا میں معلق ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور دیگر دفاتر نے فیس اسکینر حاضری کے نظام کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر روحیل اختر کی جانب سے متعدد غیر حاضر ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ ان نوٹسز کے بعد دفاتر میں بروقت حاضری کا عمل کسی حد تک یقینی ہونا شروع ہو گیا ہے۔

    محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن پنجاب کی جانب سے حاضری کو شفاف بنانے کے لیے فیس اسکینر سسٹم کی ہدایات پر سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے حکم نمبر SO(G)/P&SHD)1-36/2016 مورخہ 16 جولائی 2025 کو جاری کیا تھا۔ ان احکامات کو جاری ہوئے 50 روز گزر گئے ہیں لیکن ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب کے دفاتر میں تاحال فیس اسکینرز نصب نہیں ہو سکے۔

    بعد ازاں چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر روحیل اختر نے بھی خط نمبر 18,360–65 IG مورخہ 20 اگست 2025 کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، IRMNCH آفس اور دیگر دفاتر کو فوری طور پر فیس اسکینر مشینوں کی تنصیب کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس خط کو بھی 20 دن گزرنے کے باوجود کسی دفتر میں عملدرآمد نہ ہو سکا۔

    محکمہ صحت اور سی ای او ہیلتھ کے واضح احکامات اور متعدد ہدایات کے باوجود ضلعی سطح پر اس سنگین غفلت نے محکمانہ کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس حکم پر عملدرآمد کون کروائے گا۔

  • ڈیرہ غازی خان: غازی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ

    ڈیرہ غازی خان: غازی یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی نیوز رپورٹر شاہد خان) غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں شعبہ کمپیوٹر سائنس اور انٹرنیٹ سوسائٹی کے اشتراک سے ’’مصنوعی ذہانت‘‘ کے موضوع پر دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد تھے، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر ارشد منیر، پروفیسر ڈاکٹر سعد اللہ لغاری، ڈاکٹر محمد ابو بکر، ڈاکٹر محمد علی تارڑ، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر وسیم عباس گل، ڈاکٹر عنصر علی، کرنل اشفاق احمد، انجینئر عدیل نیئر سمیت دیگر اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

    ورکشاپ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر حافظ گلفام احمد عمر نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد تحقیق، ترقی اور تعیناتی کے لیے ایک متحرک ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا ہے تاکہ معاشرے کی علمی و تحقیقی ضروریات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹولز، وسائل اور تربیت تک جامع رسائی فراہم کر کے ڈیجیٹل اور اختراعی تقسیم کو ختم کیا جائے گا، جبکہ مختلف شعبہ جات کے درمیان اشتراک عمل کو فروغ دے کر حقیقی دنیا کے مسائل کا عملی حل تلاش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ اور اخلاقی خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ انسانی حقوق، شفافیت اور معاشرتی اقدار کے مطابق فروغ پا سکے۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اور آنے والا دور بلاشبہ مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور مستقبل میں یہ زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات میں تدریس و تحقیق کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت بنیادی حیثیت اختیار کر چکی ہے، جو طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور اساتذہ کو تدریسی و تحقیقی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر اشفاق احمد نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دیں اور طلبہ کو اس میدان میں مہارت حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں تاکہ وہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک باصلاحیت اور جدید علم سے آراستہ افرادی قوت کے طور پر سامنے آئیں۔

  • نارنگ منڈی: آٹا 150 روپے فی کلو، عوام و نان بائی پریشان

    نارنگ منڈی: آٹا 150 روپے فی کلو، عوام و نان بائی پریشان

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر) مہنگائی کا طوفان اپنے عروج پر پہنچ گیا، سیلابی پانی نے تو ڈوبا ہی تھا، اب خود ساختہ مہنگائی نے عوام کے لیے دو وقت کا کھانا بھی مشکل بنا دیا ہے۔ آٹا 90 روپے فی کلو سے بڑھ کر 150 روپے فی کلو تک جا پہنچا، حکومتی دعوے محض دعوے ہی ثابت ہوئے اور انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خرید کر انہیں کنگال کر دیا گیا اور اب مافیا نے عوام کے منہ سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔

    سیلاب کے بعد منافع خوروں نے خوب کمائی شروع کر دی، آٹے اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کے واضح احکامات کے باوجود عوام کو کوئی ریلیف نہ مل سکا۔ شہریوں کے ساتھ ساتھ نان بائی اور تندور مالکان بھی شدید پریشان ہیں۔ ایک طرف زبردستی نان 20 روپے اور روٹی 15 روپے فروخت کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف میدے اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نان بائی اور بیکری مالکان کی کمر توڑ دی ہے۔

    نان بائی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا ہے کہ جب آٹا مہنگے داموں خریدا جا رہا ہے تو سستی روٹی کیسے فراہم کی جائے؟ اگر حکومت نے فوری طور پر آٹا سستے داموں فراہم نہ کیا تو تندور بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اہل علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

  • گوجرہ: طالب علم کی خودکشی کی کوشش، گھروں میں چوریاں، خاتون کی عزت لوٹنے کی کوشش

    گوجرہ: طالب علم کی خودکشی کی کوشش، گھروں میں چوریاں، خاتون کی عزت لوٹنے کی کوشش

    گوجرہ(سٹی رپورٹرمحمداجمل خان) نواحی گاؤں اور شہر میں مختلف افسوسناک اور جرائم پیشہ واقعات پیش آئے۔ چک نمبر 367 ج ب کا سیکنڈ ایئر کا طالب علم ریان، باپ کی مبینہ ڈانٹ ڈپٹ سے دل برداشتہ ہو کر زہریلی گولیاں کھا بیٹھا جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی۔ اسے فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا جہاں پر طبی امداد دی جارہی ہے۔

    دوسری جانب شہر اور گردونواح میں چوری کی متعدد وارداتیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ چک نمبر 359 ج ب کی بلقیس بی بی کے گھر نامعلوم چور دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے اور 2 لاکھ 33 ہزار روپے مالیت کے پانچ موبائل فون چرا کر فرار ہوگئے۔ اسی طرح چک نمبر 241 گ ب کا علی رضا اپنے گھر کے باہر سویا ہوا تھا کہ اس کا موبائل فون اور نقدی چوری کر لی گئی۔ محلہ رحمان پورہ کے حسین علی کے گھر کا دروازہ توڑ کر ہزاروں روپے نقدی چرا لی گئی جبکہ محلہ رحیم آباد کی ونرین زوجہ راشد کے گھر میں گھس کر قیمتی سامان اور موبائل بھی لے اڑے۔ پولیس نے ان وارداتوں کے الگ الگ مقدمات درج کر لئے ہیں۔

    ادھر محلہ قادری دربار میں خاتون کی عزت لوٹنے کی کوشش کا بھی واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ شمائلہ اصغر نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بھابی ثناء نے اپنے بھائی کامران کے ساتھ مل کر اسے بدنام کرنے کے لئے اوباش کے ذریعے اس کی عزت لوٹنے کی کوشش کرائی، اس دوران ملزم نے اس کے کپڑے پھاڑ دیئے تاہم شوروغل پر فرار ہوگیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • اوکاڑہ: کمشنر ساہیوال کا دریائے راوی میں سیلابی صورتحال اور فلڈ کیمپس کا معائنہ

    اوکاڑہ: کمشنر ساہیوال کا دریائے راوی میں سیلابی صورتحال اور فلڈ کیمپس کا معائنہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل نے ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کے ہمراہ دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ماڑی پتن کے مقام پر دریا میں نچلے درجے کی سیلابی کیفیت کا معائنہ کیا اور ڈرون کیمرہ کی مدد سے دریائی علاقے کی مانیٹرنگ بھی کی۔

    بعد ازاں کمشنر نے فلڈ ریلیف کیمپ بنگلہ گوگیرہ کا دورہ کیا، جہاں سیلاب متاثرین کو دستیاب سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے فضائل مدثر، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری رب نواز سمیت متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات سے آگاہ کیا۔

    کمشنر ساہیوال نے کیمپ میں ہیلتھ کاؤنٹر پر طبی سہولیات اور ایجوکیشن کاؤنٹر میں متاثرہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کا معائنہ کیا اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کو رہائش، کھانے پینے سمیت تمام سہولیات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    ڈاکٹر آصف طفیل نے کہا کہ تمام محکموں کے اہلکار بڑھ چڑھ کر متاثرین کی خدمت میں حصہ لیں اور متاثرہ جانوروں کے لیے طبی سہولیات اور چارے کی وافر مقدار فراہم کی جائے تاکہ کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہو۔