قصور
انتظامیہ کی بے حسی ،سڑک کی کم چوڑائی اور ٹریکٹر ٹرالیوں کی بکھر ریت، مٹی، گرد و غبار سے کل شام موٹر سائیکل سوار جانبحق،انتظامیہ قصور رائیونڈ روڈ پر لاشوں کی گنتی میں مصروف
تفصیلات کے مطابق کل شام کھارا موڑ پر تین موٹر سائیکل سوار آنکھوں میں گردو غبار پڑنے اور سڑک پر بکھری ریت و مٹی کی بدولت پھسل کر قصور کی جانب سے آنے والے مزدا لوڈر سے ٹکڑا گئے جس کے باعث موٹر سائیکل چلانے والا نوجوان آگے گر گیا جبکہ درمیان میں بیٹھا محمد شفیق سکنہ کھارا ٹائر کے نیچے آگیا تیسرا نوجوان جوکہ پیچھے بیٹھا تھا وہ پیچھے گر گیا تینوں کو چوٹیں آئیں مگر شفیق کو زیادہ چوٹیں آئیں جو کہ شام کے بعد زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے جانبحق ہو گیا
اس سڑک پر حادثات روزانہ کا معمول ہیں جس کی وجہ سڑک کی کم چوڑائی ،سڑک پر ہر طرف ریت و مٹی کا بکھرے ہونا جو کہ موٹر سائیکل و رکشہ سواروں کی آنکھوں میں جا کر دیکھنے میں مشکل پیدا کرتی ہے
واضع رہے کہ سڑک پر بغیر ترپال مٹی ،ریت و اینٹوں کی ٹرالیوں کا راج ہے جن کو ٹریفک پولیس اہلکاران رشوت لے کر گزرنے دیتے ہیں اور ان کی مٹی و ریت گرنے سے حادثات رونما ہوتے ہیں مذید پیٹرولنگ پولیس بھی ان ٹرالی والوں کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہے
لوگوں نے ڈی پی او قصور و ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
Author: غنی محمود قصوری
-

سڑک پر پڑی مٹی سے حادثہ،موٹر سائیکل سوار جانبحق
-

مزدا لوڈر کیساتھ ٹکڑانے سے موٹر سائیکل سوار زخمی
قصور
کھارا موڑ کے قریب ٹریفک حادتہ،دو موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہسپتال منتقل
تفصیلات کے مطابق شام سے چند منٹ پہلے کھارا موڑ کے قریب ایک حادثے میں دو نوجوان شدید زخمی ہو گئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے ایک کی حالت انتہائی نازک ہے جو کہ کھارا گاؤں کا رہائشی ہے
عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سوار توازن برقرار نا رکھ سکا اور مزدا لوڈر نمبری ایل ایکس ایکس 2551 جو کہ قصور سے رائیونڈ کی جانب جا رہا تھا سے ٹکرا گئے
مزدا ڈرائیور نے ریسکیو 1122 کو کال کی اور اسی جگہ کھڑا رہا اور بوقت مغرب رائیونڈ کی جانب جانے لگا تو موضع اٹھیل پور کے قریب پولیس چوکی کھارا کے انچارج وکیل احمد نے اسے گرفتار کرکے چوکی منتقل کر دیا
زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دی جار رہی ہے -

دن دیہاڑے واردات،تاجر لاکھوں سے محروم
قصور
تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں بیرون کوٹ عثمان میںں دن دیہاڑے واردات ،پولیس ناکام ہو گئی عوام پریشانتفصیلات کے مطابق قصور میں جاری وارداتوں کا سلسلہ نا تھم سکا ہے آئے دن کی وارداتوں سے شہری خود کو غیر محفوظ کر رہیں ہیں
تھانہ اے ڈویژن سٹی قصور کی حدود کوٹ عثمان خان میں افضل کریانہ سٹور پر دن دیہاڑے ڈاکو اسلحہ کے زور پر پر دو لاکھ پچاس ہزار روپے لے کر فرار قصور ہو گئے
تاجروں کا کہنا ہے کہ تھانہ اے ڈویژن سے انہیں کوئی تحفظ نہیں مل رہا وارداتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں پولیس ان وارداتوں کو رکوائے اور ملزمان کو فی الفور گرفتار کرے -

پولیس نے بچھڑی بہنوں کو ملوا دیا
قصور پولیس کی پیشہ وارانہ خدمات جاری ، کنگن پور کے علاقہ سے لاپتہ ہونے والی دو بہنیں باحفاظت ورثا کے حوالے کر دی گئیں
اہلیان علاقہ کا خراج تحسین
تفصیلات کے مطابق کنگن پور سے لاپتہ ہونے والی دو بہنیں 14 سالہ اقصی اور 3 سالہ بینش کو پولیس نے برآمد کر کے والدین کے حوالے کر دیا۔ صوبائی وزیر کرنل ہاشم ڈوگر اور ڈی ایس پی اشفاق حسین کاظمی کی پریس کانفرنس ۔ لاپتہ بچیوں کے والد عبدالرشید کی درخواست پر تھانہ کنگن پور پولیس نے فوری مقدمہ درج کر کےSP انوسٹی گیشن علی بن طارق کی سربراہی میں بچیوں کی بازیابی کیلئے ںسپیشل ٹیم دی گئی ۔۔ تشکیل دی گئی سپیشل ٹیم نے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اور انتہائی قلیل وقت میں دونوں بچیوں کو لاہور سے برآمد کیا۔۔ لاپتہ ہونے والی دونوں بہنوں کو کسی نے اغوا نہیں کیا بلکہ والدین کی ڈانٹ ڈپٹ سے دل برداشتہ ہو کر گھر سے بھاگی
۔ ڈی ایس پی اشفاق کاظمی نے تشکیل دی گئی سپیشل ٹیم کو تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان بھی کیا۔ ۔ صوبائی وزیر کرنل ہاشم ڈوگر نے قصور پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس کم وسائل میں بہترین کام سر انجام دے رہی ہے جو قابل ستائش ہے۔۔ صوبائی وزیر کرنل ہاشم ڈوگر نے ڈی پی او قصور عمران کشور اور انکی ٹیم کو چائلڈ ابیوز کے خاتمہ کیلئے کی جانے والی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبائی وزیر کرنل ہاشم ڈوگر نے ایس ایچ او کنگن پور انسپکٹر نصراللہ بھٹی اور انکی ٹیم کیلئے 25 ہزار روپے انعام کا اعلان کیا۔ ۔ صوبائی وزیر کرنل ہاشم ڈوگر اور ڈی ایس پی اشفاق کاظمی نے دونوں بچیوں کو پیار دیا اور والدین کے سپرد کیا والدین نے قصور پولیس کو ڈھیروں دعائیں دیں -

زینب الرٹ بل پی ٹی آئی گورنمنٹ کی اعلی کاوش ہے
قصور
زینب الرٹ بل پی ٹی آئی گورنمنٹ کی اعلی کوشش ہے جس سے بچوں کو تحفظ ملے گا
شہید زینب کے والد امین انصاری کی نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو
تفصیلات کے مطابق زینب الرٹ بل جو کج گزشتہ سال مارچ میں منظور کیا گیا تھا اس کی رو سے روشنی ہیلپ ذور چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے کام شروع کر دیا ہے
نیز زینب الرٹ بل سے پولیس اصلاحات بھی ہوئی ہیں زینب کے والد حاجی امین انصاری نے گفتگو کرتے بتایا کہ راؤ خان والا واقعہ دلخراش ہے اس کی مذمت کرتے ہیں زینب تو شہید ہو کر اللہ کے ہاں چلی گئی مگر اپنے نام سے منسوب بل کے زریعے سے پورے پاکستان کے بچوں کو محفوظ بنا گئی ہے کیونکہ اب روشنی ہیلپ لائن اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو پوری تندہی سے کام کرینگے مذید ان کا کہنا ہے کہ زینب الرٹ بل منظور کرنا پی ٹی آئی گورنمنٹ کی بہت بڑی کاوش ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے اتنی ہی کم ہے -

زینب الرٹ بل کی رو سے روشنی ہیلپ لائن نے کام کا آغاز کیا
قصور
ڈسٹرکٹ پولیس آفس قصور میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے زیر اہتمام بچوں کے تحفظ کیلئے کوشاں ،روشنی ہیلپ لائن کے تعاون سے زینب الرٹ ایکٹ کو لاگو کرنے کے سلسلہ میں تفتیشی افسران کی ایک روز ہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کل کیذ گیا تھا جس کا مقصد معاشرے میں بچوں کے حقوق اور تحفظ بارے آگاہی پھیلانا ہے،ورکشاپ میں ڈی پی اوقصورعمران کشور، چائلڈ پروٹیکشن آفیسر قصور محمد عدنان اور فوکل پرسن زرتاب راجہ ، پراجیکٹ مینجر روشنی محمد علی، زینب شہید کے والد محمد امین انصاری اورسینئر پولیس افسران ضلع قصور نے شرکت کی ورکشاپ کے دوران بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے قوانین کی ترامیم ،پولیس ورک ، بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیم روشنی اورحکومت پاکستان کے تعاون سے زینب الرٹ ایپ کے ذریعے بروقت ایف آئی آر کا اندراج اور لاپتہ بچے کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کارلاتے ہوئے کام کرنے کے میتھڈ پر بات کی گئی ،اس کے علاوہ بچوں کے اغوائ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے ورک،زینب الرٹ ایکٹ کے متعلق واقفیت ،بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے مقدمات کے چالان قانونی سقم سے پاک کرکے عدالتوں میں جمع کرانے کے طریقہ کار اورجنسی تشدد سے بچوں کی شخصیت پر اثرات کے متعلق بتایا گیا ،ورکشاپ کے دوران ڈی پی اوقصور عمران کشور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں میں جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔زینب الرٹ ایکٹ ایک ایسا ڈیٹا بیس ہوگا جس میں جنسی استحصال میں ملوث تمام ملزمان کا ڈیٹا ہو گا ، انہوں نے کہا آپ آفیسرز عوامی نمائندوں،ممبران سول سوسائٹی،میڈیا،انجمن تاجران،علماءاکرام،اساتذہ کرام سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکرسے خود رابطہ کرکے انکی معاونت حاصل کریں،کیونکہ اپنے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہم سب ملکرمشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ورکشاپ کے آخر میں شرکت کرنے والے پولیس افسران میں سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے گئے -

وارداتوں کا سلسلہ مذید تیز ہو گیا
قصور اور گردونواح میں وارداتوں کا سلسلہ نا رک سکا پولیس بری طرح ناکام ہو گئی
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں ڈکیتیوں کا سلسلہ نس رک سکا راہزنی اور چوری کی متعدد وارداتوں نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا،ڈاکووں نے لاکھوں کی رقم و دیگر سامان لوٹ لیا گیا۔بیدیا ں روڈ مصطفی آباد میں چار ڈاکو کاشف رفیق کے پولٹری فارم پر آئے اور وہاں پر موجود سیکیورٹی گارڈ ودیگر ملازمان کو یرغمال بنا کر وہاں سے چھ لاکھ کا سامان اور پچاس ہزارکی نقدی لوٹ کر لے گئے اور بستی قادر آباد قصور سے تین ڈاکووں نے موٹرسائیکل سوار لیئق نامی شہری سے بارہ ہزار کی نقدی،موٹرسائیکل اور ایک موبائل چھین کر لے گئے جبکہ کندن موڑ چھانگا مانگا کے قریب تین ڈاکووں نے موٹرسائیکل سوار محمد مشتاق سے موٹرسائیکل چھین لی اور اسی طرح پل گھارا کنگن پور کے قریب تین ڈاکووں نے عدنان نامی شہری سے موٹرسائیکل اورپنتیس سوروپے لوٹ لئے جبکہ گریڈ اسٹیش الہ آباد کے قریب آصف نامی راہگیر سے بائیس ہزار کی رقم چھین لی اور محلہ ملک پورہ پتوکی میں تین ڈاکووں نے خالد انجم کے گھر گھس کر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر گھر سے دو لاکھ کی رقم اور تین تولے طلائی زیورات لوٹ کر لے گئے جبکہ نین وال چونیاں میں نا معلوم چور احمد علی کی گائے چوری کرکے لے گئے اور اسی طرح بہاری پور چونیان سے چور ایوب کی ھویلی مویشیاں سے دو بکرے اور تین بکریاں چوری کرکے لے گئے۔ مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے جبکہ بڑھتی ہوئیں وارداتوں میں شہریوں میں شدید عدم تحفظ پایا جانے لگا جبکہ انجمن تاجراں نے ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈکیتی اور راہزنی کی ورداتوں میں فوری کمی کے لئے ھنگامی اقدامات کئے جائیں
-

قتل یا خودکشی ،لواحقین نے نمائندہ باغی ٹی وی کو حقیقت بتا دی
قصور
احتجاج کے باعث قصور بائی پاس بند ،کل راؤ خان والا میں پولٹری فارم پر خودکشی کرنے والے چودا سالہ بچے کے وارثین کا مؤقف کہ بچے کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے
تفصیلات کے مطابق کل شام موضع راؤ خان والا تھانہ راجہ جنگ میں تنویر پولٹری فارم پر ایک چودہ سالہ بچے اویس کی لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی
بچہ قصور کے نواحی گاؤں پیرو والا کا رہائشی ہے اور تین دن قبل اس کے لواحقین اسے تنویر پولٹری فارم موضع راؤ خان والا میں نوکری کے لئے چھوڑ کر آئے تھے کہ کل پولٹری فارم والوں نے اس کے والد کو کال کی کہ اویس کی طبیعت خراب ہے آپ جلدی پہنچیں جس پر لواحقین پولٹری فارم پہنچے تو اویس کی لاش پھندے پر جھول رہی تھی جس پر تھانہ راجہ جنگ کو اطلاع دی گئی جنہیں نے لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچائی جہاں پوسٹمارٹم میں پتہ چلا کے اسے قتل کیا گیا ہے مگر پوسٹمارٹم رپورٹ کو بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے کل کی تاریخ کی بجائے 16 فروری 2020 ڈال دی گئی اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی
والدین نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ بچے کے ساتھ سات بندوں نے جنسی زیادتی کرنے کے بعد قتل کیا گیا ہے اور پولیس ابھی تک کاروائی کرنے سے گریزاں ہے
مظاہرین نے پولیس رویے اور حقائق کو مسخ کرنے پر لاش کو قصور بائی پاس پر رکھا ہوا ہے اور احتجاج کیا جا رہا ہے -

قصور شہر وارداتیں عروج پر ،پولیس کے مطابق سب اچھا ہے
قصور بڑھتی وارداتوں کا سلسلہ نہ تھم سکا قصور دن دیہاڑے عمیر ظہیر ایڈوکیٹ سے دو مسلح افراد نے گن پوائنٹ پر 7 لاکھ چھین لیے
تفصیلات کے مطابق قصور پولیس ڈکیتی کی وارداتیں کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے قصور شہر میں چوری ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں کا سلسلہ تھم نہ سکا ہے قصور پولیس اور اس کے ترجمان کی حسب سابق ’’روایتی خاموشی‘‘ پر لوگ حیران ہیں
عملی اقدامات کی بجائے صرف بڑھتی ہوئی وارداتوں کیخلاف احتجاج رکوانے کیلئے متحرک ۔مسلسل ڈکیتی کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں جس میں کئی شہری اپنی لاکھوں روپے کی نقدی و قیمتی سامان سے محروم گزشتہ روز شہری ممبر بار قصور عمیر ظہیر ایڈوکیٹ کے ساتھ دن دیہاڑے دوپہر 2 بجے قصور دیپال پور بائی پاس پہ 7 لاکھ کی گن پوائنٹ پہ ڈکیتی عمیر ظہیر ایڈوکیٹ اپنے اینٹوں والے بھٹے پہ مزدور کی مزدوری دینے جا رہا تھا دو مسلح افراد نے گن پوائنٹ پہ عمیر ظہیر ایڈوکیٹ سے سات لاکھ روپے چھین لیا جبکہ قصور پولیس ڈکیتی چوری اور راہزانی کی وارداتوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے کی بجائے اعلی کارکردگی کی پریس ریلیزیں جاری کرنے میں مصروف شہر کی سیاسی سماجی فلاحی اور شہری تنظیموں نے ڈی پی او قصور عمران کشور اور آئی جی پنجاب ،وزیر اعلی عثمان بزدار سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے -

سردار فیصل اورنگزیب یکجہتی کشمیر ریلی
قصور
عوام دوست اتحاد کے سربراہ سردار فیصل اورنگزیب امیدوار برائے چئیرمین تحصیل کونسل قصور کی طرف سے یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی سیاسی وسماجی، مذہبی شخصیات سمیت عوام کی کثیرتعداد نے شرکت کی جن میں مہرقاسم شیر،عثمان قصوری،مہرشکیل شریف،کاشف ڈوگر،محمددین آزاد،غلام دستگیر،طارق مغل،کرم فریدصابری،حاجی محبوب، ودیگر تھے
تفصیلات کے مطابق عوام دوست اتحاد کے سربراہ سردار فیصل اورنگزیب امیدواربرائے چئیرمین تحصیل کونسل قصور کی طرف سے یکجہتی کشمیر ریلیاں نکالی گئی، ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، مظاہرین کشمیر بنے گا پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ،کشمیریوں سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگا رہے تھے، مظاہرین نے کشمیر اور پاکستان کے پرچم اٹھا رکھے تھے،قصورپولیس کی طرف سے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے، اس موقع پرسردار فیصل اوردیگرمقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مذمت سے نہیں بلکہ ہندوکی مرمت سے آزاد ہو گا، 5 فروری حق خود ارادیت کے حصول کیلئے کشمیریوں کے غیر متزلزل عزم کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے، پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں اور بالعموم دنیا بھر پر واضح کرتے ہیں کہ ہم جموں و کشمیر کے طویل عرصہ سے حل طلب تنازعہ اور بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کو نہیں بھولے، ہم اپنے کشمیر ی بہن بھائیوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم کشمیر کے بارے میں اصولی موقف پر پوری طرح کشمیری بہن بھائیوں کیساتھ ہیں، جنوبی ایشیا میں اس وقت تک پائیدار امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی ان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے، اقوام متحدہ کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ اپنے منشور پر عمل کرا کرمقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزادی کا بنیادی حق دلوائے،جب تک دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت بھارت مقبوضہ وادی میں طاقت کے استعمال اور جبر و تشدد کو بند نہیں کرکے کشمیریوں کو ان کا جمہوری حق نہیں دیتی دنیامیں امن قائم نہیں ہو سکتا، کشمیر کا پاکستان سے رشتہ نظریاتی ہی نہیں بلکہ جغرافیائی بھی ہے، کشمیر کے تمام دریاؤں کا رخ پاکستان کی طرف اور تمام راستے بھی پاکستان کی طرف جاتے ہیں، پاکستان اور کشمیر نظریاتی اور جغرافیائی ہر لحاظ سے ایک دوسرے کا فطری اٹوٹ انگ ہیں، اس لیے بانی پاکستان محمد علی جناح نے بجا کہا تھا کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، ایک طرف جغرافیائی طور پر کشمیری پاکستان سے پیوستہ ہے تو دوسری طرف نظریاتی لحاظ سے بھی یکجان و پیوستہ ہے، ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اْٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کی آزادی کیلئے کی جانے والی جدوجہد کیلئے خراجِ تحسین، اْن سے اظہارِ یکجہتی، مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی، بے گناہ کشمیری نوجوانوں اور بچوں کو شہید اور شدید زخمی کئے جانے کی مذمت، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جبر و ظلم پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں کا کردار، عالمی برادری کا مسئلہ کے حل کیلئے کردار اور کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کیلئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے متعلق نعرے درج تھے