قصور
سرہالی روڈ پر قائم غیر قانونی کالونی المکہ سٹی کے خلاف مقدمہ درج
تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی قصبے مصطفی آباد/للیانی میں سرہالی روڈ پر قائم غیر قانونی کالونی المکہ سٹی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ،الزام علیہان نے نہ تو اظہار وجوہ کے نوٹسز کا جواب دیا ہے اور نہ ہی خلاف ورزیاں بند کی ہیں،ملزمان معصوم، لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں، الزام علیہان نے اتھارٹی ایل ڈی اے سے منظور کروائے بغیر غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیر بنا رکھی ہیں، تفصیلات کے مطابق سرہالی روڈ پر قائم غیر قانونی لینڈ سب ڈویژن /ہاﺅسنگ سکیم المکہ سٹی کے خلاف معصوم لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے اتھارٹی ایل ڈی اے سے منظور کروائے بغیر غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیز بنانے پر مقدمہ درج کیا گیا، ایل ڈی اے حکام کی طرف سے سرہالی روڈ پر بننے والے المکہ سٹی کے علاوہ انمول گارڈن ،نیو سٹی مصطفی آباددفتوہ روڈ، احمد ہومز مین فیروز پور روڈ ، حاکم سٹی بیرون مصطفی آبادکے مالکان محمد اسحاق، رانا ذوالفقار ، محمد بوٹا ، محمد اصغر ، محمد صادق ، احمد نواز بھٹی ، محمد حنیف وغیرہ کے خلاف مقدمات درج کئے گئے، الزام علیہان نے اتھارٹی ایل ڈی اے سے منظور کروائے بغیر غیر قانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیر بنا رکھی ہیں، ایل ڈی اے حکام کے مطابق مذکورہ افراد معصوم لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا بھی مرتکب ہو رہے ہیں، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایل ڈی اے چیف پولٹین سیل CMP-CELL ڈپٹی ڈائریکٹر اسد الزمان ، ہمانہ سعید ، محمد ندیم اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، شفیق الرحمن اسٹنٹ ڈائریکٹر ، جاوید کی طرف سے کاروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کئے گئے
Author: غنی محمود قصوری
-

غیرقانونی سوسائٹیوں کے خلاف کاروائی
-

قصور سے اغواء ہونے والے بچے کیلئے پورا پاکستان میدان میں
قصور
پانچ ماہ قبل اغواء ہونے والے ایک دن کے بچے کیلئے پورا پاکستان میدان میں آگیا ،ڈی پی او ،آر پی او ،وزیر اعلی و وزیراعظم پاکستان کو مینشن کرکے بچے کی بازیابی کیلئے ٹویٹس
#RecoverOurKindappedKid
کل کا ٹاپ ٹین ٹرینڈ بنا رہا
تفصیلات کے مطابق 30 اگست 2020 کو قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی لیبر وارڈ سے ایک دن کے اغواء ہونے والے بچے کی آواز سارا پاکستان بن گیا پاکستانیوں نے ڈی پی او قصور،آر پی او شیخوپورہ،آئی جی پنجاب،کمشنر لاہور ڈویژن،وزیراعلی پنجاب و وزیراعظم پاکستان کو مینشن کرکے اپنی ٹویٹس کے ذریعے بچے کی جلد بازیابی اور ملزمہ شاہدہ بی بی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا کل ٹویٹر پر
#RecoverOurKindappedKid
ٹاپ ٹین ٹرینڈ بنا رہا ملک بھر کے سوشل میڈیا ایکٹیویٹیس نے مطالبہ کیا کہ ایک دکھی ماں کی فریاد جلد سے جلد سن کر اسکا بچہ بازیاب کروایا جائے اور قصور کے بچوں کو محفوظ بنایا جائے
واضع رہے کہ ملزمہ پولیس کسٹڈی سے عبوری ضمانت لے کر گھوم رہی تھی جبکہ 23 جنوری کو قصور کے جج عمران شیخ صاحب نے اس کی ضمانت کینسل کی تو وہ کمال ہو شیاری سے کمرہ عدالت سے بھاگ نکلی اور تاحال مفرور ہی ہے پولیس اسے گرفتار نہیں کر سکی نیز اس سے قبل بھی ملزمہ شاہدہ بی بی زوجہ خان محمد حالیہ مقیم سکنہ دفتوہ قصور مقدمہ میں مطلوب ہے
ملزمہ کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہے
-

پولیس مظلوم کی بجائے ظالم کی ہمدرد بن گئی
قصورپولیس مظلوم کی بجائے ظالم کی ہمدرد بن گئ، لوگوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق قصور کے گاؤں چھانگا مانگا کے گاؤں بھوئے آ صل میں ظلم کی ایک اور داستان رقم ہوئی ہے جس میں تھانہ چھانگا مانگا بھوئے آصل میں ممتاز بی بی کے گھر پر حسن وغیرہ کی طرف سے قبضہ کی کوشش کی گئی ہے قبضہ مافیا نے پولیس کی ملی بگھت سے گھر کی دیواریں گرا دی مال مویشی چھوڑ دیے سامان باہر پھینک دیا
ممتاز بی بی کے بچوں کو مارا پیٹا عدالت نے میڈیکل جاری کرںدیا لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہ لائی جا سکی ہے, لوگوں نے پولیس کے اس فعل اور قبضہ مافیہ کے خلاف آئی جی پنجاب اور ڈی پی او قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے
-

ڈی ایچ کیو میں تعینات نجی سیکیورٹی گارڈزکا ہسپتال آئے مریض پر تشدد
قصور، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں تعینات نجی کمپنی کا ملازم جلاد بن گیا،بچہ چیک کروا کر دوائی لینے آنے والے میڈیکل ریپ پر تشدد کر دیا
تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کے سیکورٹی گارڈز آپے سے باہر ہو گیا ہسپتال میں میڈیکل ریپ اپنے بچے کو چیک اپ کروانے آیا تھا جس کا بیگ بھی ساتھ تھا مگر وہ متعلقہ ڈاکٹر کے علاوہ کسی کے پاس نا جانا چاہتا اور اور اس کے بیوی بچے بھی ساتھ تھے مگر پھر بھی میڈیکل ریپ پر سیکورٹی گارڈز نے تشدد کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں
اس سانحہ پر سیاسی،سماجی، و شہری حلقوںںنے کہا کہ ہم سی او ہیلتھ ڈاکٹر اقبال جاوید، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور سے اپیل کرتے ہیں ان سیکورٹی گارڈز کے خلاف قانونی کارروائی کر کے میڈیکل ریپ کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ دوبارہ کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو سکے
-

ملک میں شدید بحرانوں نے پنجے گاڑھ لیے ، عوم سخت پریشان
قصور، ملک پر نالائقوں کا ٹولہ مسلط ہے،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملک دن دوگنی اور رات چُوگنی ترقی کر رہا تھا، مسلم لیگ ن نے ملک کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں کی راہ پر گامزن کر دیا تھا عوام خوشحال تھی غریب اچھی زندگی بسر کر رہا تھا ہر طرف بجلی، گیس، میٹرو، سڑ کیں، اور دیگر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری تھی لیکن موجودہ حکومت نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔
ان خٰیالات کا اظہار سماجی شخصیت طاہر رحمان وہابی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ہر طرف بے روزگاری، چینی بحران، آٹا بحران، پیٹرول بحران اور متعدد مسائل نے پنجے گاڑھ لئے ہیں موجودہ حکومت نے غریب دُشمنی کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ عوام حکومتی معاشی پالیسیوں سے سخت پریشان ہے حکومت غریبوں کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے کپتان کااپنی ٹیم سے مطمئن نہ ہونا حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے وزیر اعظم اور انکی ٹیم ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بنتی جار ہی ہے نالائق اور نا اہل حکومت کا جانا ہی بہتر ہے
-

سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار محکمہ سو گیا
قصور
ایس ڈی او ہائی وے ودیگر عملہ کی ملی بھگت سے سڑکوں کو کٹ لگا کر اور پائپ ڈال کر پانی سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے پانی کی وجہ سے مین قصور دیپالپور روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار حادثات میں اضافہ محکمہ ہائی وے کے افسران خاموش تماشائی بن گئے
تفصیلات کے مطابق چونیاں،کنگن پور، قصور اور دیپالپور روڈز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں سڑکوں پر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں اور سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایس ڈی او ہائی وے اور دیگر عملہ کی ملی بھگت سے شہر میں مختلف جگہوں سے سڑکوں کو کٹ لگا کر پانی کے پائپ برساتی نالہ میں ڈال کر سڑکوں پر چھوڑا جا رہا ہے ایس ڈی او و دیگر عملہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے الہ آباد کے چاروں مین روڈز ہڑپہ کے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں کرپٹ افسران سے ساز باز ہو کر اکثر پٹرول پمپ مالکان نے بغیر منظوری ون وے سڑکوں کو درمیان سے کٹ لگا کر اپنے پٹرول پمپس کو رستے نکال لئے ہیں جو کہ حادثات کا سبب بن سکتے ہیں مقامی شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب، کمشنر لاہور ڈویژن اور محکمہ ہائی وے کے اعلیٰ افسران سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے -

خون سفید ہو گیا،قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن
قصور
قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے خون سفید چھوٹے سوتلے بھائی کی زمین پر کانسٹیبل صفدر نامی پولیس ملازم نے قبضہ جما لیا مذکورہ بھائی محمد اسلم نے تھانہ سٹی چونیاں میں ناجائز قبضہ کرنے کے خلاف درخواست دے دی
تفصیلات کے مطابق تحصیل چونیاں کے نواحی گاؤں ستوکی میں پولیس تھانہ سٹی چونیاں کے کانسٹیبل صفدر نے پولیس وردی کے نشہ میں اسلحہ کے زور پر اپنے غنڈوں کے ہمراہ سوتلے چھوٹے بھائی کی ذاتی زمین پر ہل چلا کر قبضہ کرنے کوشش کی مزاحمت پر جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کردی۔ملزم صفدر کانسٹیبل نے فروعنیت کی انتہا کرتے ہوئے اپنے سوتلے بھائی مزکور محمد اسلم کو والد کی طرف سے ملنے والی زمین پر پہلے بھی قضہ جما رکھا ہے پولیس کانسٹیبل صفدر نے اپنے بھائی کی زمین پر قبضہ کرتے ہوئے ناجائز اسلحہ کے زور پر دہشت پھلاتے ہوئے بھائی کی زمین پر ہل چلا دے جس کی بابت مزکور محمد اسلم نے تھانہ سٹی چونیاں میں کانسٹیبل صفدر کے خلاف اپنی وردی کے زور ناجائز قبضہ کرنے پر تحریر درخواست دے دی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزمان کو گرفتار کرنے اور قبضہ سے ملنے والا مال مسروقہ ٹریکٹر ہل اور اسلحہ سیمت اپنے پٹی بھائی اور اسکے دیگر ساتھی ملزمان کو موقعہ فرار کر دیا -

چارج لے کر کام کا آغاز کر دیا
قصور
ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گُل نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال کر کام کا آغاز کر دیا
عوام الناس کیلئے تمام تر سہولیات کی بلا تعطیل فراہمی کو یقینی بنانا میری اولین ترجیح ہے‘آسیہ گُل
تفصیلات کے مطابق قصور میں نئی تعینات ہونیوالی ڈپٹی کمشنر آسیہ گُل نے گزشتہ روز اپنے
عہدے کا چارج سنبھال کر کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تعیناتی کے پہلے روز تمام سرکاری محکموں کے ضلعی افسران نے انکے آفس میں ملاقات کی اور اپنے اپنے محکموں کے بارے میں تفصیلاً بریفگ دی
ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل نے اس موقع پر تمام افسران کو ہدایت کی کہ عوام الناس کو تمام شعبہ زندگی میں ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔ شہریوں کیلئے بنیادی سہولیات کی بلا تعطیل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی سستی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام افسران اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپٹ -

بغیر پرمیشن ڈی سیل کرنے پر کاروائی
قصور
چونیاں میں ڈپٹی سیکرٹری ڈرگ کنٹرول خرم نیازی اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈرگ کنٹرول شاہد عنایت ملک کی ھدایت پر بغیر لائسنس میڈیکل اسٹورز کے خلاف کریک ڈاؤن تحصیل ڈرگ انسپکٹر لیئق الرحمن کا سیل شدہ فارمیسی کو مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر فارمیسی کو ڈی سیل کرنے پر ایکشن مالک فارمیسی عبدالستار اور سیلز مین غفار کے خلاف تھانہ سٹی چونیاں میں مقدمہ درج پولیس ملزمان کو تلاش کرنے میں مصروف اہل علاقہ کا ڈرگ انسپکٹر کو بااثر فارمیسی مالکان کے خلاف مقدمہ درج کروانے پر خراج تحسین
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل تحصیل ڈرگ انسپکٹر لیئق الرحمن نے چونیان کے نواح میانوالہ گھاٹ پر عاطف فارمیسی کو بغیر لائسنس سیل کر دیا تھا ادویات کے نمونے لیکر کوالٹی جانچنے کے لیے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری لاہور بھجوا دیے اور فارمیسی مالک کے خلاف غیر قانونی طور پر ادویات کا کاروبار کرنے پر ضابطے کی کارروائی چالان کرکے ڈرگ کورٹ بھجوا دیا گزشتہ روز فارمیسی مالک نے مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر فارمیسی کو ڈی سیل کرکے اپنا کاروبار شروع کردیا اطلاع ملنے پر ڈرگ انسپکٹر نے فارمیسی کا معائنہ کیا تو مذکورہ فارمیسی مالکان بڑے دیدہ دلیری سے اپنے کاروبار جاری رکھے ہوئے تھے ڈرگ انسپکٹر نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے بااثر فارمیسی مالک عبدالستار اور اس کے سیلز مین غفار کے خلاف اندراج مقدمہ کی تحریری درخواست تھانہ سٹی چونیاں میں دے دی اور محکمہ صحت کے احکام بالا اور ڈی پی او قصور کو اطلاع کر دی ہے پولیس تھانہ سٹی چونیاں نے ڈرگ انسپکٹر کی تحریری درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا مزید تفتیش جاری ہے -

سڑک پر گرد و غبار سے حادثات
قصور
انتہائی ایم سڑک پر گرد و غبار سے حادثات میں اضافہ
تفصیلات کے مطابق قصور تا تھہ شیخم سڑک پر مٹی سے بھری ٹرالیوں سے مٹی گرنے سے اٹھنے والی گرد پاؤڈر بن چکی ہے جوکہ گاڑیوں کے گزرنے سے اڑ کر ڈرائیور حضرات اور موٹرسائیکل والوں کی آنکھوں میں پڑ جاتی ہے اور اس کو سڑک پر کچھ نظر نہیں آتا اور اس طرح آئے روز حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اموات بھی ہو رہی ہیں قصور پٹرولنگ پولیس چوکی کھارہ ہارون الرشید کا انچارج سو رہا ہے اور ٹریکٹر ٹرالی والوں نے یا تو چوکی کھارہ ہارون الرشید کے انچارج کو نوٹوں کی چمک دکھا دی ہے اس لئے ٹریکٹر ٹرالی والوں کو بغیر ترپال کے سڑکوں پر چلنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جس سے اہل علاقہ پریشان ہیں
اہل علاقہ نےڈی ایس پی پٹرولنگ پولیس اور ڈپٹی کمشنر قصور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ اس چوکی انچارج کھارہ ہارون الرشید کے انچارج کو فوری تبدیل کر کہ اس کی جگہ کسی ایماندار پولیس آفیسر کو لگایا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکے اور مٹی کی وجہ سےسڑکوں پر مرنے والوں میں کمی آسکے