قصور
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پر قصور میں مقدمہ درج کرنے کیلئے درخواست دائر کر دی گئی،میاں صاحب ریاست مخالف تقاریر کرکے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل پتوکی رانا دلشاد علی ولد مقصود علی ساکن لمبے جاگیر پھولنگر تحصیل پتوکی ضلع قصور نے ایک درخواست بنام ایس ایچ او تھانہ صدر پھول نگر کو دی ہے جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ میاں نواز شریف نے اپنی حالیہ تقریر اور سابقہ میں پاکستان کے قومی اداروں اور ملکی سلامتی کے خلاف باتیں کھلے عام کی ہیں جس سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے لہذہ ان کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم اور پی پی سی کے تحت مقدمہ درج کرکے کاروائی عمل میں لائی جائے
Author: غنی محمود قصوری
-

میاں نواز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ کیلئے درخواست
-

بہنوں بیٹیوں کا کھانے والے کبھی فلاح نا پائینگے !!! ازقلم غنی محمود قصوری
زمانہ جہالت میں لوگ اپنی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیتے تھے کیونکہ عورتوں کے بھی حقوق ہیں سو ان کے حقوق کو کھانے کی خاطر ان کو قتل کرنا معمول تھا پھر میرے اور آپ کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اس فعل بد سے لوگوں کو روکا اور حقوق خواتین وضع کئے
اسلام میں جہاں مردوں کے حقوق ہیں وہیں عورتوں کے بھی حقوق ہیں اور قرآن و حدیث نے ان حقوق کو کھول کھول کر بیان کیا ہے تاکہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں زیادہ تر بہنوں ،بیٹیوں کا وراثتی شرعی حق کھانا ایک فیشن بن چکا ہے اور اس حق ماری کو بلکل بھی حرام نہیں سمجھا جاتا
اگر کوئی عورت اپنا حق مانگے تو اسے سو طرح کے بہانے سنا کر طعنہ زنی کی جاتی ہے کبھی اس کی پرورش کی تو کبھی اسے تعلیم دلوانے کی کبھی اس کو اچھا کھلانے کی تو کبھی اس کی شادی پر آنے والے اخراجات کی غرض زیادہ تر عورتوں کو انکے اس جائز شرعی وراثتی حق سے محروم ہی رکھا جاتا ہے اگر کوئی بیچاری اپنا حق بھائی،باپ سے مانگ بیٹھے تو بمشکل ہی ادا کیا جاتا ہے بعض تو ایسے واقعات بھی رونما ہو چکے کہ بہنوں بیٹیوں کو جائیداد میں ان کا حق نا دینے کی خاطر پوری جائیداد بیٹوں کے نام کر دی جاتی ہے اور یوں چاہتے ہوئے بھی وہ بیچاری اپنا حق نہیں لے سکتیں
واضع رہے جس طرح ایک لڑکے کی پرورش،تعلیم اور شادی والدین پر فرض ہے بلکل اسی طرح ایک لڑکی کی پرورش،تعلیم اور شادی بھی والدین پر بحیثیت واجب ہے اور یہ ان کا حق ہے
کسی کا حق مارنا چوروں ڈاکوؤں کا کام ہے اور اس حق مارنے کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں
اے ایمان والوں تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نا کھاؤ ،سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضا مندی سے کوئی تجارت ہو، اور تم اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو ،بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔۔ النساء 29
اس سورہ میں اللہ تعالی نے کسی کا بھی حق مارنے سے منع فرمایا اور کہا کہ ایسا کرنے والے اپنی جانوں پر ظلم کرینگے اور ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور نفس کی خواہش کی پیروی نا کرو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی ،جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے ان کے لئے سخت عذاب ہے کیونکہ وہ آخرت کو بھول گئے ۔۔سورہ ص 26
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی اپنے نبی کو بڑے سخت الفاظ میں فرما رہے ہیں کہ تم زمین میں خلیفہ مقرر کئے گئے ہو سو اللہ کی راہ سے بھٹک کر اپنے نفس کی پیروی کے پیچھے لگ کر حق کے خلاف فیصلے نا کر بیٹھنا ورنہ ٹھکانہ جہنم ہو گا حالانکہ نبی جنت کے وارث اور معصوم الخطاء ہوتے ہیں مگر اللہ کا مقصد نبی کی مثال دے کر ہمیں سمجھانا ہے
والدین اولاد کے خلیفہ ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے مابین حق کیساتھ وراثت کی تقسیم کریں جو اسلام نے بتا دی بصورت دیگر وہ جہنم کے حقدار ہونگے لہذہ وراثت تقسیم کرتے وقت عورتوں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی ان کا اسلام کی رو سے مقرر کردہ حق لازمی دینا چاہیے ہاں اگر کوئی بہن بیٹی اپنا حق نہیں لیتی تو اس کی مرضی اور آج ہے بھی ایسا زیادہ تر عورتیں اپنے بھائیوں بھتیجوں کو اپنا حق فی سبیل اللہ دے دیتی ہیں جو کہ ان کی اعلی ظرفی کی بہت بڑی پہچان ہے
حقوق خواتین پر میرے شفیق نبی علیہ السلام نے بہت زور دیا
اس پر ایک صحابی رسول فرماتے ہیں
کہ میں نے پوچھا ،یارسول اللہ میں کس کے ساتھ نیک سلوک اور صلح رحمی کروں؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ،میں پھر پوچھا کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے پھر فرمایا اپنی ماں کیساتھ میں نے پھر پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ نے فرمایا اپنے باپ کیساتھ میں پھر پوچھا کس کے ساتھ تو آپ نے فرمایا رشتہ داروں کے ساتھ پھر سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ۔۔۔ ترمذی 1645
اس حدیث میں صحابی رسول کے صلح رحمی کے متعلق پوچھنے پر تین بار ماں اور پھر اس کے بعد باپ اور پھر اس کے بعد قریبی رشتہ داروں اور پھر درجہ بدرجہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا ہماری صلح رحمی، حق گوئی اور انصاف کے سب سے زیادہ حقدار ہمارے ماں باپ اور رشتہ دار ہیں تو جب مسئلہ وراثت میں تقسیم کا ہوگا تو پھر سب سے پہلے صلح رحمی اور انصاف کے حقدار ماں باپ کے بعد بہنیں اور بیٹیاں کیوں نا ہونگیں؟
جہاں شرعیت نے بہنوں کا حق مارنا ممنوع قرار دیا ہے وہاں پاکستانی قانون نے بھی اس کی ممانعت کی ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو سال قبل والدہ کی طرف سے صرف بیٹوں کو ہی وراثت دینے پر اسے کالعدم قرار دے کر بیٹیوں کو بھی اس وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا اور کہا کے بیٹیوں کو ان کے شرعی وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ، بحوالہ 2080 _ scmr 2018
بہنوں بیٹیوں کا حق مارنے والے اسلام کے بھی مجرم ہیں اور قانون پاکستان کے بھی ایسے بندے کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور وہ دنیا میں تو رسواء ہوتا ہی ہے روز قیامت بھی رسوا ہو گا کیونکہ اسلام میں کسی غیر کا حق مارنے کی اجازت نہیں تو پھر اپنی سگی بہنوں، بیٹیوں کا حق مارنے والوں کو کسطرح اجازت ہو گی؟
لہذہ ماں باپ تقسیم ترکے کے وقت بیٹیوں کا حق ادا کرنا ہرگز نا بولیں اور بیٹوں کیساتھ بیٹیوں کا جائز حق بھی انہیں ادا کریں تاکہ ان کے جگر کا ٹکڑا جو اب کسی اور کے گھر کی زینت ہے وہ بھی اپنے شرعی حق کو لے کر عزت و سکون سے گزر بسر کرسکے
یقین کریں آج جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے اس جائز شرعی حق کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تبھی ہمارا معاشرہ ترقی کر سکے گا ورنہ بیٹیوں ،بہنوں کے حق مارنے سے ہم عذاب الٰہی کے حقدار تو ہیں اللہ کی رحمت کے ہرگز نہیں کیونکہ چور، ڈاکو حق مارنے والے اور غاصب کبھی فلاح نہیں پاتے
اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین -

ڈی ایچ کیو کا عملہ نا سدھر سکا
قصور
حکومت کی بار بار وارننگ کے باوجود قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایمرجنسی وارڈ کی حالت زار نہ بدل سکی ایمرجنسی آنے والے مریض اپنی مرض سے ذیادہ عملہ کے عدم تعاون سے پریشان رات کو پرچی کاونٹر بند ہونے پر عملہ کی فرسٹ ایڈ دینے سے انکاری، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت ڈیوٹی ڈاکٹرز،لیڈی ڈاکٹرز غائب۔ ایم ایس، ڈی ایم ایس کے فون بند، عملہ،ڈیوٹی ڈاکٹرز دیگر کمروں میں موبائل فون پر خوش گپیوں میں مصروفتفصیلات کے مطابق حکومت کی بار بار وارننگ کے باوجود قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایمرجنسی وارڈ کی حالت زار نہ بدل سکی ایمرجنسی آنے والے مریض اپنی مرض سے ذیادہ عملہ کی عدم تعاون سے پریشان رات کو پرچی کاونٹر بند ہونے پر ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کو فرسٹ ایڈ دینے سے صاف صاف انکاری، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت ڈیوٹی ڈاکٹرز غائب ایم ایس. ڈی ایم ایس کے فون بند ڈیوٹی ڈاکٹرز، لیڈی ڈاکٹر مریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دیگر کمروں میں موبائل فونز پر خوش گپیوں میں مصروف نظر آتے ہیں ڈیوٹی عملہ کا مریضوں سے ناقابل برداشت رویہ متاثرین عوام کی تکلیف کے باعث آئے روز سوشل میڈیا پر بڑے بڑے انکشافات ہائیلائٹ ہونے کے باوجود مقامی انتظامیہ اور ہسپتال انتظامیہ کی بے بسی جاری حکومتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی معمول، مریضوں کو دوائی فراہم کرنے کی بجائے میڈیکل سٹورز پر فروخت کی جاتی ہیں کسی مریض کر ایمبولینس کی سہولت تک نہیں دی جاتی بلکہ اکثروبیشتر مریضوں کے لواحقین کو یہ حکم سننے کو ملتا ہے مریض کو لاہور لے جائیں مجبور اور لاچار بے بس عوام، فلاحی، عوامی، اصلاحی اور سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلا نے حکام بالا سے وزیر اعظم، گورنر پنجاب، وزیر اعلی پنجاب، صوبائی وزیر صحت، چیف سیکرٹری،کمشنر لاہور، ڈسی سی قصور ،اے سی،سی ای او ڈی ایچ کیو، دیگر حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
-

فرنٹ ڈیسک نے غلط بیانی سے لوگوں کو پریشان کرنا شروع
قصور
پولیس راج فرنٹ ڈیسک نے سائلین سے غلط بیانی کرنا معمول بنا لیا جس سے سائل تھانے کے چکرلگانے پر مجبور ہو گئے ڈی پی او قصور سے نوٹس لینے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق تھانہ الہ آباد میں فرنٹ ڈیسک میں تعینات عملہ تھانہ میں آنے والے سائلین سے غلط بیانی کر کے چکر لگوانے لگا ہے جس سے شہریوں حلقوں کے رہنماؤں نے برہمی کا اظہارںکرتے ہوئے اس فعل کی شدید مزمت کی ہے انکا کہنا تھا کہ فرنٹ ڈیسک کا قیام عام سائلین کیلئے بروقت انصاف کے حصول کیلئے بنایا جانا تھا مگر کرپٹ عملہ نے اسے یرغمال بنا کر آنے والے سائلوں کو غلط بیانی کر کے لوٹ مار کا ذریعہ بنا رکھا ہے ڈی پی او قصور نوٹس لیکر ملوث عملہ کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائیں تاکہ سائلین کو بروقت انصاف مہیا ہوتا رہے -

فرقہ پرست مولوی گاؤں کا امن برباد کرنے لگا
قصور
مولوی نے لوگوں کو فرقہ واریت پر اکسانا شروع کر دیا ،اہلیان علاقہ شدید پریشان تمام مسالک کے لوگ باہمی پیار و محبت سے رہتے ہیں مولوی نے مسلکی چورن بیچنا شروع کر دیا لوگوں نے مولوی کے خلاف ایکشن لینے کی اپیل کر دی
تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کی تحصیل پتوکی کے موضع بلیر ڈاکخانہ بوگھانہ کے مولوی عبدالرحمان نے معصوم اور سادہ لوح دیہاتیوں کو ورغلانا شروع کر دیا جس پر اہلیان دیہہ سخت پریشان ہیں کیونکہ تمام مسالک کے لوگ باہمی رضا مندی اور امن و سکون سے گزر بسر کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں مگر مولوی عبدالرحمان نے دوسرے مسالک کے خلاف کھلے عام فتوے دینا شروع کر دیئے ہیں جس پر لوگ انتہائی پریشان ہیں کیونکہ گاؤں کے چند کم عمر نوجوان اس مولوی کے وار کا شکار ہو کر فرقہ واریت پر اتر آئے ہیں جس سے گاؤں کا امن و امان اور آپسی پیار محبت تباہ ہونے لگا ہے لوگوں نے اس مولوی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگ فرقہ واریت سے پاک ہو کر اور سچے مسلمان بن کر امن و سکون اور پیار محبت سے رہ سکیں اور نئی نوجوان فرقہ واریت جیسی لعنت سے بچ سکے -

مقدمہ کی پیروی چھوڑ دو ورنہ
قصور
امنو امان کی صورتحال انتہائی خراب چونیاں کے علاقے میں مدعی مقدمہ کے گھر میں گھس کر ملزمان کی فائرنگ ،مقدمے کی پیروی نا کرنے کی دھمکی
تفصیلات کے مطابق چونیاں پولیس سرکل تھانہ الہ آباد کی حدود بھاگیوال ٹبہ میں مدعی مقدمہ اور گواہ پر ملزمان کی گھر میں داخل ہو کر فائرنگ اور مقدمہ کی پیروی نہ چھوڑنے پر جان سے مار دینے کی دھمکی دے دی
تھانہ الہ آباد کی حدود بھاگیوال ٹبہ کے رہائشی اور مدعی مقدمہ نمبر 503/20 ماسٹر انور اور گواہ مقدمہ بالا شوکت میئو کے گھر رات دس بجے ایوب اور زوالفقار نے پانچ کس نامعلوم افراد کے ساتھ مل کر مقدمہ درج کروانے کی رنجش پر جان سے مار دینے کی نیت سے فائرنگ کر دی مدعی مقدمہ اور گواہ نے بھاگ کر جان بچائی
سائل نے 15پر کال بھی کی مگر پولیس کے اطلاع پا کر جائے وقوعہ پر پہنچنے سے پہلے ملزمان جان سے مار دینے کی وارننگ دیتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے پولیس تھانہ الہ آباد میں دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مندرجہ بالا ملزمان 6 سے زائد مقدمات 114/20.518/14.503/20 ۔335/20۔ 423/20۔ 552/20 میں نامزد اور مفرور ملزمان ہیں علاقے میں مویشی چوری سمیت دیگر جرائم میں پولیس کو مطلوب اور علاقے میں خوف کی علامت بن چکے ہیں لیکن پولیس نے آج تک ان کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی ماسٹر انور خاں جو گورنمنٹ ہائی سکول الہ آباد میں ٹیچر بھی ہے نے حکومت پنجاب اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ان اشتہاری ملزمان کو فوری پکڑ کر قانونی کارروائی کی جائے اور ہماری جان بچائی جائے -

تھانہ صدر نے خطرناک ترین گینگ گرفتار کر لیا
قصور
تھانہ صدر پولیس کی گرے ٹریفکنگ کے زریعے ملکی اداروں سمیت سادہ لواح افراد کو لوٹنے والے گروہ کے تین افراد گرفتارتفصیلات کے مطابق تھانہ صدر قصور نے کاروائی کرتے ہوئے گینگ گرفتار کیا ہے جن سے 3600 ربڑ انگوٹھے، 3500 شناختی کارڈ کاپیاں ، 1400 سمز ، سمز ایکٹیویشن مشینیں و دیگر سامان برآمد ہوا ہے مذید گرفتار ملزمان سے 12 موبائل ، لیپ ٹاپ کمپیوٹرز و ایل سی ڈیز بھی برآمد ہوئیں جبکہ گروہ کے ملزمان فنگر سکین پرنٹس ڈیٹا سے جعلی سمز نکالتے اور بعد ازاں سمز مارکیٹ میں فروخت کرتے تھے دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمان احساس پروگرام کی رقوم بھی جعل سازی سے نکلواتے رہے
اویس ملک ایڈیشنل ایس پی نے بتایا کہ گرفتار گروہ کے دہشت گردی کے حوالے سے روابط کا پتہ لگایا جا رہا ہے اور ملزمان نوید فیصل وغیرہ کو مزید تفتیش کے لئے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا جائیگا -

عمران کشور نئے ڈی پی او تعینات،مروت ایم سی کورس پر
قصور
ڈی پی او قصور تبدیل،عمران کشور نئے ڈی پی او تعینات اہلیان قصور کا خیر مقدم
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد نواز کو ایم سی کورس پر جانے کے باعث قصور سے تبدیل کر دیا گیا ہے جن کی جگہ اب عمران کشور کو ڈی پی او قصور تعینات کیا گیا ہے
سابق ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کے ایم سی کورس پر روانہ ہونے کے موقع پر قصور کی عوام نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ نئے آنے والی ڈی پی او قصور عمران کشور کا اہلیان قصور نے خیر مقدم کیا ہے اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے -

ہزاروں لیٹر مضر صحت دودھ تلف
قصور
انتظامیہ کا مضر صحت دودھ کے خلاف ایکشن اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی خصوصی ہدایت پر مضر صحت ،کیمیکلز ،خشک دودھ اور مختلف اجزاء سے تیار کردہ ہزاروں لیٹر دودھ تلف کر دیا گیا
تفصیلات کے مطابق الہ آباد چونیاں روڈ بائی پاس پر ہزاروں لیٹر مضرصحت دودھ تلف کر دیا گیا اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی خصوصی ہدایت پر ریگولیشن برانچ تحصیل کونسل کے انسپکٹر مظہر اقبال ہمراہ عملہ نے مضر صحت اجزاء اور خشک دودھ،کیمیکل سے دودھ تیار کر کےلاہور اور دیگر شہروں کو سپلائی کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں لیٹر دودھ تلف کر دیا جس پر شہریوں نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور مضر صحت دودھ بنانے و بیچنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگوں کی صحت متاثر نا ہو -

اسٹام فروشوں کی من مانیاں لوگ پریشان
قصور
اسٹام پیپر فروخت کرنے والوں کی لوٹ مار جاری ،بینک نظام کا بھی خاطر خواہ فائدہ نا ہو سکا
تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی الہ آباد میں اسٹام نویس پچاس روپے کا اسٹام پانچ پانچ سو روپے میں فروخت کئے جا رہے ہیں اور کروڑوں روپے کی قیمتی زمینوں کے معاہدہ بیع، اقرار نامہ، تقرر ثالثان وغیرہ میں شیڈول کے مطابق اسٹام پیپر لگانے کی بجائے پارٹیوں سے ساز باز ہو کر پچاس روپے کا بیان حلفی جاری کر کے کروڑوں روپے کے معاہدے بیع ، اقرار نامہ، تقرری ثالثان وغیرہ لکھ کر ہزاروں روپے بٹوڑتے جا رہے ہیں شیڈول سے کم قیمت اسٹام لگانے پر لوگ عدالتوں میں ذلیل وخوار ہو رہےہیں مقامی شہریوں نے کمشنر لاہور ڈویژن اور ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے