Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • ہسپتال کا جنریٹر ناکارہ ،انتظامیہ و مریض پریشان

    ہسپتال کا جنریٹر ناکارہ ،انتظامیہ و مریض پریشان

    قصور
    ماڈل رورل ہیلتھ سنٹر الہ آباد کا جنریٹر شدت کی گرمی میں بھی بند جبکہ ریفریجریٹر میں پڑی لاکھوں روپے کی حساس امراض میں استعمال ہونے والی ویکیسینز خراب ہونے کا خدشہ میڈیسن سٹور کا اے سی بھی بند آپریٹر غائب مریض اللہ کے رحم و کرم پر سی ای او ہیلتھ قصور اور ڈی سی قصور سے شہری حلقوں نےنوٹس کا مطالبہ کردیا
    تفصیلات کے مطابق ماڈل رورل ہیلتھ سنٹر الہ آباد چونیاں میں بجلی بند ہونے سے مریض اور سٹاف بد حال ہو چکے ہیں جبکہ ریفریجریٹرز میں رکھی لاکھوں روپے کی حساس امراض کیلئے استعمال ہونے والی ویکسینز بھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے دوسری جانب میڈیسن سٹور کا اے سی بھی بند کیا جاچکا ہے جس سے تمام میڈیسن مطلوبہ ٹمپریچر کے بغیر ہی مریضوں کو استعمال کروائی جارہی ہیں جہاں شدت کی گرمی میں تمام پنکھے بند ہیں وہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف گرمی میں مریضوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہے وہاں ایمرجنسی مریض بھی دوران علاج دوہری اذیت میں مبتلا ہیں اور الٹرا ساؤنڈ کروانے والے مریض پرائیویٹ کلینکس سے مہنگے داموں الٹراساؤنڈ کروانے پر مجبور ہیں اس بارے جب ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سعود سے بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ فیول کی کمی کی وجہ سے جنریٹر مسلسل نہیں چلا سکتے شہری حلقوں نے سی ای او ہیلتھ قصور ڈاکٹر اقبال جاوید اور ڈی سی قصور منظر علی جاوید سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے

  • مقامی صحافی کو قتل کی دھمکیاں،صحافی برادری کی مذمت

    مقامی صحافی کو قتل کی دھمکیاں،صحافی برادری کی مذمت

    قصور
    جرائم پیشہ افراد کی مقامی صحافی حاجی امین کمبوہ کو دھمکیاں ،ڈی پی او قصور کو مقدمہ کے اندراج کیلئے درخواست دے دی گئی، صحافی برادری کی طرف سے شدید مذمت اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور کی جانب سے چوکی بھسر پورہ ختم کئے جانے کے بعد علاقہ بھر میں جرائم نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے اور چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں سمیت منشیات فروشی، قحبہ خانے اور دیگر جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس پر مقامی صحافی حاجی امین کمبوہ نے خبروں کی اشاعت کے ذریعے علاقہ میں جرائم بڑھ جانے کی نشاندہی کی اس کے بعد ایک ہفتے سے نامعلوم افرا د کی طرف سے حاجی امین کمبوہ کو جان سے مارنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں جس پر صحافی حاجی امین کمبوہ نے ڈی پی او قصور کو اندارج مقدمہ کیلئے درخواست دے دی ہے حاجی امین کمبوہ کو دھمکیاں دیئے جانے پر صحافی برادری نے شدید مذمت کرتے ہوئے ڈی پی او قصور سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے

  • نہم و دہم کلاسیں ایس او پیز کے ساتھ اوپن

    نہم و دہم کلاسیں ایس او پیز کے ساتھ اوپن

    قصور
    ایس او پیز کے ساتھ سرکاری سکول کھل گئے فی الوقت نہم و دہم کلاس کے طلبہ و طالبات ہی جائینگے باقی کلاسیں مرحلہ وار سکول جائینگی
    تفصیلات کے مطابق آج سے ملک بھر کی طرح ضلع قصور کے بھی سرکاری سکول تعلیم کیلئے کھول دیئے گئے ہیں آج بروز منگل بتاریخ 15 ستمبر 20 کو نہم و دہم کلاس کے طلبہ وطالبات سکول حاضر ہوئے ہیں جبکہ 23 ستمبر سے ششم ، ہشتم اور ہفتم کلاس کے طلبہ و طالبات سکول جائیں گے اس کے بعد 1 اکتوبر سے نرسری سے پنجم تک کے طلبہ و طالبات سکول جائینگے سکول آنے والے طالب علموں،اساتذہ و سٹاف کو سینیٹائز ہو کر سکول میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ ہر کسی کے لئے ماسک لازمی پہننا قرار دیا گیا
    آج سے سکول کھلنے کے بعد فیس ماسک کی ڈیمانڈ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

  • مضر صحت سویٹس کی تیاری جاری،محکمہ کاروائی سے انکاری

    قصور
    علاقہ بھر میں غیر معیاری مضر صحت سویٹس بنانے کا کاروبار جاری ،اہل علاقہ کی انتظامیہ سے نوٹس لینے کی اپیل
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد سمیت دیگر مقامات پر سویٹس اینڈ بیکرز، مضر صحت مٹھائیاں تیار کرکے فروخت ہو رہی ہیں جس سے لوگ آئے روز بیمار رہتے ہیں اکثر حلوائیوں کی دکانوں پر مکھیوں کا راج ہے جبکہ محکمہ فوڈ اتھارٹی پنجاب کی مبینہ خاموشی معنی خیز ہے مضر صحت اور غیر معیاری مٹھائیاں بنانے والوں کے خلاف عملی طور پر کارروائی نہ ہوسکی مقامی لوگوں احمد علی ،سہراب خاں ،اللہ دتہ ،عبدالوکیل ودیگر نے بتایا کہ الہ آباد چوک سمیت تلونڈی میں غیر معیاری اور مضرصحت سویٹس کھانے سے شہریوں کو مختلف خطرناک بیماریوں ہو چکی ہیں جن کی تصدیق ڈاکٹرز نے بھی کی ہے جبکہ محکمہ فوڈ اتھارٹی ان کو مبینہ طور پر کھلی چھٹی دے رکھی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کو حفظان صحت کے مطابق سویٹس تیار کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ لوگ مختلف بیماریوں سے بچ سکیں

  • گھر میں گھس کر فائرنگ خاتون جانبحق،4 مذید

    گھر میں گھس کر فائرنگ خاتون جانبحق،4 مذید

    قصور
    بھٹہ گوریانوالا چوک میں رہائشی کے گھر گھس کر نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے خاتون جانبحق ہو گئی
    تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات 11 بجے کے قریب قصور بھٹہ گوریاں والا چوک میں
    نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی
    فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق چار افراد زخمی ہو گئے ہیں
    زخمی اور جاں بحق افراد کا تعلق ایک ہی فیملی سے بتایا جا رہا ہے
    زخمیوں اور ڈیڈ باڈی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور منتقل کر دیا گیا ہے پولیس نے موقع پر پہنچ کر کاروائی شروع کر دی ہے
    گھر میں گھس کر فائرنگ سے لوگوں میں سخت خوف و ہراس پایا جا رہا ہے معاملہ دشمنی کا ہے یا کوئی اور وجہ ابھی سامنے نہیں آ سکی

  • فرسٹ ایڈ تربیت و آگاہی واک کا اہتمام

    فرسٹ ایڈ تربیت و آگاہی واک کا اہتمام

    قصور
    ابتدائی طبی امداد کے عالمی دن کے موقع پر ٹائیگر فورس کے جوانوں کو فرسٹ ایڈ کی تربیت دی گئی اور آ گاہی واک بھی کیا گیا
    تفصیلات کے مطابق کل ابتدائی طبی امداد کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایت پر ریسکیو 1122 قصور کے زیر انتظام ورکشاپ کا اہتمام گیا گیا جس میں ٹائیگر فورس کے جوانوں کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی گئی
    اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجینسی آفیسر انجینئر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ ہر خاص و عام ابتدائی طبی امداد کی تربیت حاصل کر کے ایمرجینسی کے وقت لوگوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بعدازاں ابتدائی طبی امداد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ریلی بھی نکالی گئی جس میں ریسکیو افسران و اہلکاروں اور ٹائیگر فورس کے جوانوں نے شرکت کی

  • تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری

    تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری

    قصور
    تحصیل چونیاں کے قصبے الہ آباد میں سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی دوکانیں مسمار کر دی گئیں
    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر عدنان بدر نے تجاوزات کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے چونیاں کے قصبے الہ آباد میں تجاوزات کی آڑ میں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئیں درجنوں دکانوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے انہیں مسمار کروا دیا
    کنگن پور روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کا بھاری مشینری کے ہمراہ رات گئے تک آپریشن جاری
    جس سے ہر طرف افراتفری کا سماں پیدا ہو گیا اور لوگ دکانوں سے اپنا قیمتی سامان اٹھانے میں مصروف رہے
    جبکہ اے سی کا کہنا ہے کہ ڈی سی قصور کے حکم پر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کی گئی ہے

  • قانون کے طالب علموں کا لاقانونیت کے خلاف احتجاج

    قانون کے طالب علموں کا لاقانونیت کے خلاف احتجاج

    قصور
    قانون کے طلباء کے ساتھ لاقانونیت، 9 دنوں میں پورے سال کا امتحان ،طلبہ و طالبات پریشان،کل پنجاب یونیورسٹی کے سامنے احتجاج کیا جائیگا
    تفصیلات کے مطابق ملک میں لاک ڈاؤن کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند تھے اب دیگر تعلیمی اداروں کی طرح 16 ستمبر کو قانون کے کالجز و یونیورسٹیز بھی کھل رہے ہیں
    قانون کے طلبا و طالبات کو یونیورسٹیز انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ کچھ سٹڈی کروا کر امتحانات لئے جائینگے مگر اس کے برعکس انتظامیہ نے ظلم کرتے ہوئے 26 ستمبر کو امتحانات کا اعلان بھی کر دیا ہے جس پر طلباء و طالبات پریشان ہیں
    قصور قانون کے طلباء و طالبات کے راہنما فرحان صغیر مغل نے نمائندہ باغی ٹی وی سے کہا کہ ہمیں پہلے امتحانات کا شیڈول نہیں بتایا گیا تھا اب تعلیمی مراکز کھلتے ہی 9 دنوں بعد امتحانات کا اعلان کر کے ہمارے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے جن مضامین کے امتحان ہیں ان کی تیاری بھی نہیں کروائی گئی جو کہ سراسر زیادتی ہے لہذہ ملک بھر کے قانون کے طلباء و طالبات اس پر APLA کے زیر سایہ کل بروز پیر پنجاب یونیورسٹی کے سامنے پرامن مگر جائز احتجاج کرینگے جس میں ملک بھر سے ہزاروں جبکہ قصور سے سینکڑوں طلباء و طالبات شامل ہونگے جس میں ہمارے کچھ جائز مطالبات ہیں جو ہم پیش کرینگے اور اپنے جائز مطالبات پورے ہونے تک ہمارا پرامن مگر جائز احتجاج جاری رہے گا

  • زنا کے بڑھتے واقعات  کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    زنا کے بڑھتے واقعات کے قصور وار ہم خود بھی ہیں!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے چند سالوں سے ارض پاک میں زنا کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں ہر روز نئے سے نیا واقعہ سامنے آتا ہے دل اکتا گیا ہے ان واقعات کو سن سن کر اور اپنے مسلمان ہونے پر افسوس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر گر گئے کہ اپنی عزت پر آنچ آنے پر قتل تک کرنے سے گریز نہیں کرتے جبکہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالتے وقت ہمارا ضمیر مر جاتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید اس کا حساب نہیں ہو گا حالانکہ اللہ تعالی نے ہمارے مسلمان بھائیوں کی جان و مال ،عزت و آبرو ناجائز طریقے سے ہم پر حرام کر دی ہے آخر زنا کے واقعات کیوں بڑھ گئے ہیں اس کیلئے جائزہ لیتے ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے تعداد کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں کے تناسب میں تھوڑا ہی فرق ہے مردوں کی تعداد عورتوں سے 51 لاکھ زیادہ ہے اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10420 ہے
    یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مطلقہ و بیوہ عورتوں کی تعداد 60 لاکھ ہے جن کی عمریں 30 سے 45 سال تک ہیں یعنی وہ عین شادی کے قابل ہیں مذید 10 لاکھ عورتیں شادی کے انتظار میں بالوں میں چاندی لئے بیٹھی ہیں جن کی عمریں 35 سال تک ہیں یوں وہ کنواری ہو کر رسم و رواج ،ذات پات اور دیگر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھی بیٹھی ہیں
    1 کروڑ لڑکیاں ایسی ہیں جن کی عمر 20 سال سے اوپر اور 35 سال سے کم ہیں اور ان کی ابھی شادی ہونی ہے اور ان کی شادیوں میں بڑی رکاوٹ رسم و رواج ہیں جن کے لئے پیسے ہونا لازم ہے
    یوں کل ملا کے 1 کروڑ 70 لاکھ عورتیں اور لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر ہے مگر رسم و رواج ،ذات برادری اور سٹیٹس ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ ہیں
    نکاح ایک ایسا فریضہ ہے جو کہ ہر مرد وعورت ،کنوارے،بیوہ،رندوے اور مطلقہ پر فرض ہے کیونکہ فرمان نبوی ہے
    النکاح من سنتی
    نکاح میری سنت ہے
    ایک اور جگہ فرمایا
    من رغب سنتی فلیس منا
    جس نے میری سنت (نکاح) سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں
    ایک اور جگہ فرمایا
    یا معشر الشباب تزواجوا
    اے نوجوانوں کی جماعت شادی کر لو
    مذید فرمایا کہ نکاح نصف ایمان ہے
    اور مردوں کیلئے کہا کہ نکاح کرو ایک ایک سے ،دو دو سے ،تین تین سے اور چار چار سے مگر انصاف کیساتھ
    اللہ رب العزت نے انسان کو بنایا اور اس کی خواہشات کے مطابق اسے رعایت بھی دی اسی لئے عورت کو ایک وقت میں ایک مرد سے جبکہ ایک مرد کو بیک وقت چار عورتوں سے شادی کی اجازت دی مذید عورت کو راضی نا ہونے کی صورت میں خلع کا بھی اختیار دیا گیا ہے
    بچے بچیوں کے نکاح میں انتہائی جلدی کرنی چائیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کو پہلا حیض ماں باپ کے گھر آئے تو دوسرا سسرال میں آئے یعنی بلوغت آتے ہی نکاح کر دیا جائے اور یہی شرط لڑکے کیلئے ہے جس کا خالصتاً مقصد زنا جیسی لعنت سے بچنا ہے
    یعنی نکاح کی اتنی اہمیت ہے کہ قرآن نے جتنا کھل کر میاں بیوی کے مسائل کو بیان کیا اتنا اور کسی مسئلے کو بیان نہیں فرمایا گیا
    کیونکہ نکاح نا ہونے سے معاشرے میں فسق و فجور بڑھتا ہے اور بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اسی لئے اللہ تعالی نے سوری بنی اسرائیل میں فرمایا
    لا تقربوا الزنی
    خبردار زنا کے قریب بھی مت جانا
    یہ واحد عمل ہے جس کے متعلق اللہ نے بڑی سختی سے کہا کہ اس کے قریب بھی نا جانا یعنی کوئی بھی ایسا عمل نا کرنا کہ تجھ سے زنا سر زد ہو جائے کیونکہ زنا سے معاشرے کا سکون برباد ہو جاتا ہے امن و امان ختم ہو جاتا ہے اور روئے زمین پر فساد برپاء ہونے کیساتھ بے شرمی و بے حیائی جنم لیتی ہے اس کے برعکس ہر کام کے متلعق اللہ تعالی نے فرمایا کہ اسے کر نا بیٹھنا یا اس بچ جانا وغیرہ مگر زنا کے متعلق اتنی سخت بات کہی کے کوئی بھی عمل ایسا نا کرنا کے تم زنا کے قریب بھی جاؤ
    زنا سے بچنے کا واحد ذریعہ نکاح ہے اور کوئی دوسرا ذریعہ ہے ہی نہیں
    ہماری زندگی اسوہ محمد کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محتاج ہے نبی کریم کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ طاہرہ سے 40 اور بعض روایات کے مطابق 45 سال کی عمر میں ہوا جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 سال تھی حضرت خدیجہ ایک بیوہ عورت تھیں جنہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام نکاح بھیجا جسے نبی کریم نے اپنے چچا کیساتھ مشورے کے بعد قبول کر لیا
    جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ کا نکاح آپ سے 6 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 10 سال کی عمر میں ہوئی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اس وقت تقریبا 49 سال 7 ماہ تھی
    اگر ہم مطالعہ سیرت نبوی کریں تو ماسوائے حضرت عائشہ صدیقہ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات اور ہماری امہات المؤمنین مطلقہ یا بیوہ تھیں اس لحاظ سے سنت پر عمل کرتے ہوئے بیوہ و مطلقہ سے نکاح عین حلال اور سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہے
    آج ان بیوہ مطلقہ عورتوں کے نکاح کو ہمارے معاشرے میں انتہائی معیوب سمجھتا جاتا ہے جو کہ سنت نبوی کے بلکل برعکس ہے جیسے بھوکے کو بھوک پیاس لگتی ہے ایسے ہر مرد و عورت چاہے وہ شادی شدہ ہے یاں غیر شادی شدہ ،رندوا،بیوہ ہے یا مطلقہ اسے بھی جنسی خواہش ہوتی ہے جو کہ فطرت انسانی ہے اس کا حل صرف نکاح ہے بغیر نکاح کے زنا ہے، اور زنا کرنے والا اللہ کا تقرب نہیں پا سکتا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جوان مرد،عورت بہت پسند ہے جو زنا سے بچنے کے لیے نکاح کرے
    مگر افسوس کے آج ہمارے رسم و رواج ،ذات برادری کی قید،حسب نسب نے ہمیں نکاح کی بجائے زنا پر لگا دیا ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور آئے روز جنسی زیادتی کے واقعات جنم لے رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ صرف نکاح سے دوری اور مردوں میں دوسرے ،تیسرے اور چوتھے نکاح کو معیوب سمجھا جانا ہے اکثر مرد دوسری شادی کی خواہش رکھتے اور وہ کسی بیوہ،مطلقہ کا سہارا بننا چاہتے ہیں تو کہیں پہلی بیوی تو کہیں معاشرہ آڑے آ جاتا ہے اور بندہ زنا کی طرف مائل ہوتا ہے
    ہر انسان کی خواہشات ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو اللہ تعالی خوب جانتا ہے مرد کی خواہشاتِ عورتوں سے جنسی لحاظ سے زیادہ ہیں اسی لئے ان کو چار شادیوں کی اجازت دی گئی ہے مگر شرط انصاف کی رکھی گئی ہے بصورت دیگر ٹھکانہ جہنم ہے اب یہ مرد پر ہے کہ وہ انصاف کر سکتا ہے تو نکاح کرے بصورت دیگر صبر اور صبر کرنے والوں کیلئے اللہ نے جنت تیار کر رکھی ہے مگر ایک نکاح ہر حال میں لازم ہے
    بی بی خدیجہ طاہرہ کا نبی کریم کو پیغام نکاح بیجھنا عورت کے حقوق کو بلند کرتا ہے کہ عورت اپنی پسند کے مرد سے نکاح کر سکتی ہے جائز شرائط اور حدود اللہ میں رہ کر مگر افسوس آج بیوہ ،مطلقہ عورتوں کو سب سے زیادہ پریشانی نکاح کرنے میں ہے اگر وہ حلال کام کر گزریں تو ہمارا معاشرہ ان کو طعنے دے دے کر زندہ درگور کر چھوڑتا ہے حالانکہ بیوہ سے نکاح کرکے میرے نبی نے سنت بنائی جس پر عمل کرنا ہم پر لازم ہے تاکہ ہم کنواری لڑکیوں سے نکاح کیساتھ بیوہ،مطلقہ کا بھی سہارہ بنیں کیونکہ مرد ہی عورت کا سہارا اور تحفظ ہوتا ہے بھائی تحفظ تو دے سکتے ہیں مگر عورت کی جنسی خواہشات منکوحہ مرد ہی پوری کر سکتا ہے اس لئے اسلام نے بیوہ و مطلقہ عورتوں کو کنواری عورتوں سے بڑھ کر حقوق دیئے ہیں تاکہ وہ بھی پوری شان و شوکت سے زندگی گزار سکیں
    مگر آج دیکھا جائے تو زنا انتہائی سستا اور آسان ہے ہر شہر میں آپ کو زنا کرنے کے لئے ہر رنگ،عمر کی عورت میسر ہو گی جن کی نا کوئی عمر پوچھتا ہے نا کوئی ذات پات اور نا ہی مرد کی سالانہ و ماہانہ انکم بس چند روپے دیئے اور زنا کر لیا
    اور ان سارے واقعات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ہماری زندگی محتاج ہے سیرت نبوی کی اور ہمارا ہر عمل بتائے گئے طریقے پر ہو گا بصورت دیگر مصائب ہمارا مقدر ہونگے اور آج اسلام سے ہٹ کر اغیار کے طرز زندگی کو اپنا کر ہم پریشان ہیں اور ہمارے معاشرے کا امن و سکون تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے جس امن میں بدلنے کیلئے ہمیں اسوہ رسول پر عمل پیرا ہو کر رسم و رواج کو ختم کرکے آسان نکاح کا طریقہ اپنانا ہو گا مگر آج لڑکے لڑکیاں کہیں روزی روٹی کا بہانہ بناتے ہیں ت کہیں کم آمدن کا حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی دوسری گھر میں کوئی فرد جاتا ہے تو اپنی قسمت کا رزق لے کر جاتا ہے مگر ہم نے دوسری شادی کیلئے مرد کی انکم کو بہانہ بنا لیا اور اسے زنا کی طرف مائل ہونے پر مجبور کر دیا
    جان لیجئے دوسری،تیسری یاں چوتھی بیوی کے ہوتے ہوئے کوئی بھی مرد کسی غیر عورت سے ہر گز تعلقات نہیں رکھ سکتا کیونکہ رب تعالی مرد کی فطرت جانتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کتنی عورتوں کی طرف راغب رہ سکتا ہے
    اور آج اسی بد عمل زنا کی بدولت جسمانی و روحانی بیماریاں جنم لے رہی ہے جس سے چہروں کا نور ختم اور جوانیاں برباد ہو رہی ہیں
    اگر کوئی مرد دوسری شادی کرنا چاہے تو اسے سو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی صورتحال بیوہ و مطلقہ عورتوں کیساتھ ہے
    اس کیساتھ آج جہیز کی لعنت نے نکاح کو مذید مشکل ترین کر کے رکھ دیا ہے جس کے باعث لاکھوں عورتیں اپنی جنسی خواہشات کو دبا کر بیٹھی ہوئی ہیں جس کا کل روز قیامت ہمیں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے گا کیونکہ میرے رب نے تو کوئی رسم و رواج کی قید نہیں رکھی یہ سب رسم و رواج ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں جس کے باعث نکاح جیسا عظیم فریضہ مشکل ہو گیا اور زنا جیسا قبیح فعل عام ہو گیا آخر اس جرم کے ذمہ دار ہم بھی تو ہیں کیونکہ ہم نے دین کی بجائے دنیاوی رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کو ترجیح دی تو پھر جان لیجئے یہ رسم رواج تو میرے نبی و اصحاب کے دور میں بھی تھے مگر انہوں نے ان کا رد کیا اور سرخرو ہوئے تو آئیے ان رسم و رواج کا رد کرکے کرکے نکاح کریں تاکہ ہم معاشرے کو فسق و فجور اور بے راہ روی سے بچا سکیں
    اللہ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے

  • قصور پولیس کی اہم پیشرفت،اغوا کار عورت گرفتار

    قصور پولیس کی اہم پیشرفت،اغوا کار عورت گرفتار

    قصور
    پولیس کی اہم پیشرفت چند روز قبل قصور ہسپتال سے اغواء کرنے والی عورت گرفتار ،لاہور ہسپتال میں دونوں میاں بیوی بطور سیکیورٹی گارڈز ملازم،کروڑوں روپیہ کی کوٹھی کی مالکن
    تفصیلات کے مطابق چند روز قبل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور سے ایک دن کا بچہ اغواء کرنے والی خاتون پولیس کے ہتھے دو دن قبل چڑھ گئی تاہم بچہ ابھی برآمد نہیں ہو سکا عورت اور اس کا شوہر چلڈرن ہسپتال لاہور میں بطور سیکیورٹی گارڈ ملازمت کرتے ہیں جن کی تنخواہ پندراں پندراں ہزار روپیہ ماہانہ ہے مگر خاتون کی مصطفی آباد للیانی کے قریب کروڑوں روپیہ مالیت کی کوٹھی ہے
    قصور تھانہ صدر کے ایس ایچ او میاں غلام فرید اور تفتیشی افسر محمد عمران نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کی خصوصی ہدایت پر دن رات ایک کرکے خاتون کو بڑی محنت سے گرفتار کیا دوران گرفتاری ملزمہ کے قبضے سے بھاری رقم بھی برآمد ہوئی حالانکہ موصوفہ پندراں ہزار روپیہ ماہانہ کی ملازمہ ہے جبکہ خاتون کے زیر استعمال کوٹھی کروڑوں روپیہ مالیت کی ہے خدشہ ہے کہ خاتون نے بچے کو فروخت کر دیا ہے
    خاتون بار بار اپنے بیانات بدل رہی ہے گمان ہے کہ خاتون کا نیشنل لیول کڈنیپنگ گینگ سے تعلق ہے ہسپتال کی ملازمہ ہونے کے ناطے عورت کو بچوں کو اغواء کرنے میں آسانی ہے
    دوران تفتیش اہم انکشافات ہوئے تاہم تفتیش کا دائرہ کار برہانے کیلئے افشا نہیں کئے گئے
    قصور پولیس کا کہنا ہے کہ مغوی بچے کو جلد بازیاب کروا لیا جائے گا
    جبکہ علاقے کے لوگوں اور بچے کے والدین نے پرامید ہو کر کہا کہ ہمیں امید ہے کہ پولیس بچے کو بازیاب کروا لے گی
    لوگوں نے ملزمہ کو گرفتار کرنے پر ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت،ایس پی انویسٹیگیشن،ڈاکٹر حنان،ایس ایچ او تھانہ صدر میاں غلام فرید،تفتشی افسر سب انسپیکٹر محمد عمران اور دیگر پولیس ملازمین کو خراج تحسین پیش کیا