Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار  بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت بھارت کو مانا جاتا ہے اور خود کو چوھدری ثابت کرنے کیلئے ہر جگہ پنگے لیتا ہے مگر الٹا ذلیل ہو کر اپنی معیشت تباہ کروا رہا ہے،بھارت کے 6 زمینی اور 2 دو سمندری حدود پر مشتمل ہمسایہ ممالک ہیں،بنگلہ دیش 4096 کلومیٹر ،چائنہ 3488 کلومیٹر ،پاکستان 3323 کلومیٹر،نیپال 1751 کلومیٹر،میانمار 1643 اور بھوٹان کی 699 کلومیٹر سرحد بھارت کیساتھ ملتی ہے جبکہ سری لنکا اور بھوٹان کی زمینی سرحد بھارت کیساتھ نہیں بلکہ ان کی سمندری سرحد اس سے ملتی ہے

    قابل ذکر بات ہے کہ بھارت کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک میں سے کسی ایک کیساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں بلکہ ان کیساتھ کئی بار جنگیں و جھڑپیں ہو چکی ہیں،چائنہ بھارت تنازعات کا آغاز 1950 میں ہوا اور بھارت بالآخر تبت پر قبضہ کروا بیٹھا،1959 میں بھارت نے چائنہ کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو باوجود چائنہ کے منع کرنے کے، پناہ دی جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوتے گئے اور بالآخر 1962 میں بھارت چائنہ جنگ ہوئی، 1967 میں پھر سے ناتھولا اور چولا جھڑپیں ہوئیں اور 2017 میں داکلام اور اس کے بعد وادی گلوان میں 2020 کو پھر جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارت کو سخت نقصان پہنچا ، تاحال چائنہ اور بھارت کے حالات سخت کشیدہ ہیں

    بھارت کی جانب سے میانمار کے اندر مسلسل اندرونی مداخلت کے باعث 2015 میں میانمار کے ماؤ نواز باغیوں نے بھارت پر بہت بڑا حملہ کیا جس میں بھارت کے 18 فوجی مارے گئے تھے،سری لنکا میں بھارت نے 1980 میں اندرونی مداخلت کرکے علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کرنا شروع کیا اور خود ہی اندرونی خانہ جنگی کو کنٹرول کرنے کیلئے 1987 میں اپنی فوج سری لنکا میں بیجھی تاہم اپنے 1500 فوجی مروا کر 1990 میں فوج واپس بلا لی جس کے باعث سری لنکن گروپ ایل ٹی ٹی ای نے 1991 میں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کیا جسے مالدیپ کے باغیوں کی بھی حمایت حاصل تھی،3 نومبر 1988 کو مالدیپ میں انڈین فوج نے تامل باغیوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا جس کی وجہ سے آج دن تک تامل باغی انڈین علاقوں پر حملے کرتے رہتے ہیں

    بھوٹان میں 2017 کو،ڈوکلام میں بھوٹان اور چائنہ کے متنازعہ سنگم پربھارت نے اس میں شامل ہوکر اپنی فوج بیجھی اور 73 دن تک خود اور بھوٹان کو چائنہ سے مار پڑوا کر بالآخر فوجوں کی واپسی کروائی جس کے نتیجے میں بھوٹان نے چائنہ سے راہ رسم بڑھایا تو آجکل بھوٹان اور بھارت کے تعلقات کچھ خراب ہو چکے ہیں

    سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بھارت نے 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ لڑی اور الگ ملک بنگلہ دیش بنوایا اور اس کا کنٹرول عملاً اپنے پاس رکھا تاہم 2001 میں اگرتلہ اور راجشاہی کے علاقے میں بنگلہ دیش اور بھارتی فوج کے مابین شدید خونریزی ہوئی جس کے باعث دونوں کے حالات خراب ہوتے گئے اور بالآخر اگست 2024 میں حسینہ واجد کے تختہ الٹنے کے بعد بھارت نے حسینہ واجد کو پناہ دی جس کے بعد پھر حالیہ چندہ ماہ قبل بنگلہ دیش و بھارت کے مابین سخت جھڑپیں ہوئیں اور اب بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں جو کسی بھی وقت بڑی جنگ میں بدل سکتی ہیں

    شروع دن سے ہی نیپال سے بھی بھارت کے تعلقات اچھے نہیں رہے ،مسلسل اندرونی مداخلت اور کالا پانی، لیپولیخ اور لمپادھورا تنازعات سے پریشان نیپال نے جون 2020 میں سیتا مڑھی کے علاقے میں ایک انڈین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے باعث دونوں ممالک کے حالات کشیدہ ہوئے تو نیپال نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں کالا پانی،لیپولیخ اور لمپادھورا کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا اس پر بھارت نے سخت احتجاج کیا تاہم نیپال نا مانا اور پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی

    بھارت کے سب سے زیادہ خراب تعلقات پاکستان کیساتھ ہیں کہ جس نے اپنے وجود کے محض 80 دن بعد 1947 میں ہی مقبوضہ کشمیر کا 13297 مربع کلومیٹر کا علاقہ چھین کر آزاد ریاست جموں و کشمیر قائم کی اس کے بعد 965,1971,1999 میں پاک بھارت جنگیں ہوئیں اور اب گزشتہ چند ماہ قبل مئی میں جنگ ہوئی جس میں بھارت نے منہ کی کھائی اور پوری دنیا کے سامنے ذلیل ہوا،8 دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت آزاد کمشیر کو واپس لینے کے دعوے تو کرتا رہا مگر ہر بار منہ کی کھاتا رہا ہے،اور اپنے اسی روئیے کے باعث بھارت دنیا بھر اور خاص طور پر اپنی ہمسائیگی میں مکمل تنہاء ہو چکا ہے اور اس کی معیشت بڑی تیزی سے تباہ ہو رہی ہے،5 اگست 2019 کو بھارت نے نہتے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آزادی پر شب و خون مارتے ہوئے خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے و 35 اے ختم کیا مگر الحمدللہ حالیہ پاک بھارت جنگ نے امید کی ایک نئی کرن دکھائی کہ اب ایک بار پھر سے مقبوضہ کمشیر کا علاقہ بھارت کے ہاتھوں نکل کر آزاد کشمیر کا حصہ بنے گا اور دنیا بھارت کی تباہی کا تماشہ ایک بار پھر سے دیکھے گی
    ان شاءاللہ

  • شہدائے قصور پولیس کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں،کثیر تعداد میں شرکت

    شہدائے قصور پولیس کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں،کثیر تعداد میں شرکت

    قصور
    شہدائے قصور پولیس کی یاد میں ضلع بھر میں شمعیں روشن کی گئیں،پولیس افسران،عوام اور صحافی برادری کی شرکت

    تفصیلات کے مطابق شہدائے قصور پولیس کی یاد میں شمعیں جلائی گئیں جس میں قصور پولیس افسران،عوام اور صحافی برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی
    4 اگست یوم شہدائے پولیس کے حوالے سے ضلع قصور کے مختلف مقامات پر شمعیں روشن کی گئیں
    ایس پی انویسٹی گیشن محمد ضیاء الحق نے ریلو ے اسٹیشن چوک قصور میں شمعیں روشن کیں
    تاجروں، سول سوسائٹی کے افراد، نے بھی شہدائے پولیس کو خراج عقیدت پیش کیا اور پولیس کیساتھ ملکر شمعیں روشن کیں
    ایس پی انویسٹیگیشن نے بتایا کہ قصور پولیس کے 35 سپوتوں نے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا قصور پولیس اپنے شہداء کی فیملیز کیساتھ ہمیشہ کی طرح ساتھ کھڑی ہے
    زندہ قومیں ہمارے مستقبل کیلئے خود کو قربان والے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرتیں شہید اپنے لہو سے قوم کی تاریخ رقم کرتے ہیں قصور پولیس کی تاریخ بھی ان چمکتے ستاروں سے تابندہ و جاوید ہیں ہمارے شہدا کی قربانیاں ہمارے آج محفوظ ہونے کی ضمانت ہیں
    یہ تمام عظیم خاندان جن کے پیارے ہمارے محفوظ اور روشن مستقبل کیلئے قربان ہو گئے پوری قوم کے محسن ہیں
    قصور کی تحصیل چونیاں اور پتوکی میں بھی شمعیں روشن کی گئیں جن میں سرکل افسران، ایس ایچ اوز، سول سوسائٹی کے افراد، صحافیوں اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت اور شہدائے قصور پولیس کے درجات کی بلندی کی دعا کی گئی

  • موٹر سائیکل سوار کو 2000 جرمانہ کے خلاف عوامی رائے زور پکڑ گئی

    موٹر سائیکل سوار کو 2000 جرمانہ کے خلاف عوامی رائے زور پکڑ گئی

    قصور
    محنت کش طبقے پر اتنا بوجھ کیوں؟ موٹر سائیکل اور رکشہ والوں پر 2000 روپے چالان ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ عوامی رائے سوشل میڈیا پر زور پکڑ گئی

    تفصیلات کے مطابق معاشی بدحالی اور مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لئے 2000 روپیہ کا چالان کسی قیامت سے کم نہیں خاص طور پر موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والے افراد کیلئے جو روزانہ کی بنیاد پر دو وقت کی روٹی کے لئے محنت کرتے ہیں وہ لوگ ایسے بھاری جرمانوں کے متحمل نہیں ہو سکتے
    سوشل میڈیا پر عوامی رائے زور پکڑ چکی ہے کہ موٹر سائیکل اور رکشہ والے کوئی ارب پتی یا کروڑ پتی نہیں ہوتے کہ ان کے لئے 2000 روپیہ کا چالان کرکے سرکاری جرمانے سے پورے ہفتے کی روٹی چھین لی جاتی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے جرائم میں اضافہ ہوگا نہ کہ کمی ہو گی لہذہ حکومت کو چاہیے کہ چالان کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور غریب طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرے
    عوام کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم جرمانہ اور اصلاحی اقدامات کیے جائیں نہ کہ زبردستی پیسے نکالنے کے ہتھکنڈے اپنائے جائیں
    اگر 2000 کا چالان اتنا ہی ضروری ہے تو پہلی بار چالان کے پیسے لینے کی بجائے 2000 سے کم قیمت کا ہیلمٹ ہی دے دیا جائے اور پھر بھی اسی موٹر سائیکل سے خلاف ورزی ہو تو بیشک جرمانہ کیا جائے
    کم از کم گورنمنٹ اصلاح کا طریقہ کار تو اپنائے
    نیز لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ہیلمٹ نا پہننے کا جرمانہ 2000 ہے تو ون ویلنگ کرکے اپنی اور لوگوں کی جانوں کو اکثر و بیشتر ضائع کرنے والوں کو کم از کم 100000 روپیہ جرمانہ کیا جائے کیونکہ موٹر سائیکل سوار اگر ہیلمٹ نہیں پہنتا وہ تو محض اپنی ہی جان کیلئے خطرہ پیدا کرتا ہے جبکہ ون ویلر تو سینکڑوں لوگوں کیلئے خطرہ بنتا ہے

  • مادر ملت فاطمہ جناح کے یوم پیدائش پر خراج تحسین

    مادر ملت فاطمہ جناح کے یوم پیدائش پر خراج تحسین

    قصور
    احمد علی قصوری ایڈووکیٹ صدر ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل لائرز (AIL) گلوبل قصور ڈسٹرکٹ۔ جو کہ چیئرمین پاکستان وطن کونسل (PWC) بھی ہیں نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے 132 ویں یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اور ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ اللہ رب العزت ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے-
    محترمہ فاطمہ جناح نے پاکستان کی تخلیق، خواتین کے حقوق کی وکالت، اور جمہوری اقدار کے فروغ کےلیےبہت اہم کردار ادا کیا۔ مادرِ ملت کی ہمت، لگن، استقامت اور جدوجہدہمیشہ آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔
    مادرِ ملت کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں (PWC) کے سرپرست اعلیٰ مبارک احمد خان ایڈووکیٹ، ریکٹر ڈاکٹر سید مسعود السید، سینئر وائس ریکٹر ڈاکٹر محمد اشرف نظامی، چانسلر محمد فتح باز خان، وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالقدوس، وائس چانسلر محمد الطاف اسحاق، وائس چانسلر سینٹ مسعود احمد (ڈی جی آڈٹ پنجاب)، سیکرٹری جنرل محمد وقاص اور اراکین، (AIL) ڈسٹرکٹ قصور کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئف، ہیڈ کوارٹر کے امور کےچیئف محمد سلیم فرخ ایڈووکیٹ، تحصیل چونیاں امور کے چیئف محمد شبیر اسحاق ایڈووکیٹ، تحصیل پتوکی امور کے چیئف محمد عمران رفیق انصاری ایڈووکیٹ، تحصیل کوٹ رادھا کشن امور کے چیئف حافظ ناظم نذیر ایڈووکیٹ، اور تحصیلیوں کے صدور اور اراکین شامل ہیں

  • بیوہ عورت کی زمین پر قبضہ کی کوشش،کھال ٹریکٹر چلا کر ختم کر دی،نوٹس کی اپیلا

    قصور
    تھانہ منڈی عثمان والا کی حدود پیال خورد میں قبضہ مافیا بے لگام ،بیوہ خاتون کی زمین پر قبضہ کرنے اور پانی والا کھال ختم کر دیا،وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کا تھانہ منڈی عثمان سکنہ شیخ حماد کہنہ کی رہائشی شمیم بی بی بیوہ دلاور حسین قوم آرائیں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے
    شمیم بی بی جو کہ شیخ عماد میں رہتی ہے اسکی وراثتی زمین علاقہ تھانہ منڈی عثمان والا پیال میں ہے
    جس کا پچاس سال سے قائم پانی والا کھال ملزمان نے بغیر کسی عدالتی حکم اور یا ریونیو رپورٹ کے، ہل چلا کر ختم کردیا اور زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے
    خدشہ ہے کہ ملزمان بیوہ کی زمین ہتھیانا چاہتے ہیں اس لئے کبھی پانی بند کرتے ہیں کبھی راستہ بند کرتے ہیں کبھی قبضہ کرتے ہیں جبکہ بیوہ عورت دفتروں کے چکر لگا لگا کر تھک گئی ہے
    اہلیان علاقہ و بیوہ خاتون نے وزیر اعلی پنجاب اور ڈی پی او قصور عیسیٰ خان سے نوٹس لیکر کھال بحال کرنے اور وراثتی زمین کو تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کیخلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • اشیاء ضروریہ کی نئی قیمتیں مقرر،نوٹیفیکیشن جاری

    قصور
    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے اشیائے ضروریہ کی نئی قیمتیں مقررکر دیں اور حکم دیا کہ تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ضلعی حکومت کے مقررہ کردہ ریٹس پر عملدرآمد کو ہرصورت یقینی بنائیں

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب اور کمشنر لاہور ڈویژن کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی نے اشیائے ضروریہ کی نئی قیمتیں مقرر کر دیں جن میں آٹا تھیلہ 10کلو گرام، آٹا تھیلہ 20 کلو گرام بمطابق گورنمنٹ پالیسی، بناسپتی گھی (پیکٹ) فی کلو گرام بمطابق گورنمنٹ پالیسی، چاول سپر باسمتی 250 رویہ، دال چنا باریک 265روپیہ،دال چنا موٹی 285روپیہ، دال مسور موٹی 260روپیہ فی کلو گرام،دال ماش دھلی ہوئی 440 روپیہ فی کلو، دال مونگ 370روپیہ فی کلو،سیاہ چنا باریک 270روپیہ فی کلو، سیاہ چنا موٹا 280روپیہ فی کلو، سفید چنے باریک 255 روپیہ فی کلو، سفید چنے موٹے 360روپیہ فی کلو،بیسن280روپیہ فی کلو گرام‘ چینی فی کلو گرام بمطابق گورنمنٹ پالیسی، روٹی تندوری 100گرام 14روپیہ،سادہ نان100گرام 20روپیہ، گوشت بڑا (بیف) 800 روپیہ فی کلوگرام، گوشت بڑا (بیف بون لیس) 900روپیہ فی کلوگرام، گوشت چھوٹا (مٹن) 1600روپیہ فی کلوگرام، دودھ فی لٹر 160روپیہ ، دہی 180 روپیہ فی کلو گرام، گوشت برائلر، انڈے سبزی و پھل بمطابق نرخ نامہ مارکیٹ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر ہونگے
    ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی نے تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایت کی کہ جاری کردہ سرکاری نرخناموں کو مارکیٹوں میں نمایاں جگہوں پر آویزاں کروایا جائے اور ضلعی حکومت کے مقررہ کردہ ریٹس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اس سلسلہ میں کسی قسم کی کمی وکوتاہی کو برداشت نہیں کی جائے گا دکاندار حکومت کی طرف سے مقرر کردہ چینی کے ریٹس کو دُکانوں پر نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں اور مقررہ ریٹس پر چینی کی فروخت کو یقینی بنائیں
    تاہم چھوٹے دکانداروں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بڑے دکاندار اور ڈیلر ہمیں سرکاری ریٹس پر چیزیں نہیں بیچتے تو پھر ہم کیسے مہنگی چیزیں خرید کر سستی بیچیں؟
    دکانداروں نے بڑے بیلک مارکیٹنگ مافیا کو لگام ڈالنے اور تمام اشیا ضروریہ کی سرکاری ریٹس پر فراہمی کو یقینی بنانے کی استدعا کی ہے

  • قصور دریائے ستلج میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر ہدایات جاری

    قصور دریائے ستلج میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر ہدایات جاری

    قصور
    بورڈ آف ریونیو پنجاب
    پروانشل ڈسٹرکٹ مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 30 سے 31 جولائی تک متوقع موسمی نظام کی وجہ سے دریائے ستلج قصور میں سیلاب کا خدشہ پیش آ سکتا ہے جس کے باعث قصور ضلعی انتظامیہ سے اعلیٰ سطح کی تیاری اور آفات سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ
    موثر کوآرڈینیشن اور ردعمل کے لیے DEOCs میں چوبیس گھنٹے کافی عملے کی موجودگی کو یقینی بنائیں متحد فوری ریسپانس کو یقینی بنانے کے لیے PDMA اور تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ قائم کرے اور ںسیلاب کی نگرانی اور قبل از وقت وارننگ کے نظام کو فعال کرے اور
    الیکٹرانک اور سوشل میڈٰیا کے ذریعے حفاظتی اقدامات اور انخلاء کے منصوبوں کے بارے میں معلومات کی درست اور بروقت ترسیل کو لوگوں تک یقینی بنایا جائے
    سڑکوں کی بحالی کے لئے خطرے والے علاقوں میں چوک پوائنٹس پر ہیوی ارتھ موونگ مشینری کی پہلے سے تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور
    پشتوں کی مضبوطی اور سیلاب سے بچاؤ کے ڈھانچے کا معائنہ یقینی کیا جائے
    ہموار پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے واٹر چینلز میں موجود رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور اضافی عملہ اور وسائل کو زیادہ خطرے والے علاقوں میں تعینات کرنے کیساتھ ریسکیو 1122 کو الرٹ رکھا جائے
    اور ضروری سامان کے ساتھ پری پوزیشن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں (DRF) کو یقینی بنانے کیساتھ سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لئے آمدورفت کے انتظامات کو یقینی بنایا جائے
    دیگر سہولیات جیسے بجلی، خوراک، پینے کے پانی اور بیت الخلاء کی فراہمی کے ساتھ محفوظ مقامات پر امدادی کیمپ/طبی کیمپ قائم کریں اور سیلاب زدہ علاقوں میں ضروری ادویات اور طبی سامان (بشمول پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں، سانپ کا زہر وغیرہ) ذخیرہ کریں
    متاثرہ علاقوں میں ضروری کھانے پینے کی اشیاء (فوڈ ہیمپرز، پکا ہوا کھانا وغیرہ)، پہلے سے پیک شدہ خوراک اور پینے کے صاف پانی کی مناسب ذخیرہ دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور مویشیوں کو اونچی زمین اور محفوظ علاقوں میں منتقل کریں
    اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرہ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے ویٹرنری خدمات دستیاب ہوں

  • جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جس مملکت و ریاست میں جرائم ہو گا وہاں خوشحالی نہیں ہو گی وہاں بدامنی اور غربت کا راج ہو گا
    جدید سعودی عرب کا باضابطہ قیام 1932 میں ہوا اس سے قبل سعودی عرب پسماندہ اور بدامن ترین ملک تھا کہ جہاں چوری،ڈکیتی قتل،شراب نوشی اور قبائلی جھگڑوں سے ہلاکتیں تک عام بات تھیں
    حتی کہ دنیا بھر سے جانے والے عازمین حج کو بھی لوٹ لیا جاتا تھا لوگ مقدس فرض حج کیلئے جانے سے کترانے لگے تھے کیونکہ تمام راستے غیر محفوظ ہو گئے تھے قانون و ریاست نام کی کوئی چیز موجود ہی نا تھی

    1927 سے پہلے موجودہ جدید مملکت سعودی عرب کو حجاز مقدس اور نجد کے نام سے جانا جاتا تھا جو کہ ایک انتہائی بدامن اور مالی طور پر کمزور ترین علاقہ تھا جہاں سینکڑوں قبائل آباد تھے جن کے درمیان مسلسل جھگڑے،لوٹ مار اور قتل و غارت گری عام تھی حتی کہ ہر قبیلہ اپنا الگ قانون رکھتا تھا جبکہ مشترکہ مرکزی قانون و حکومت کا نام و نشان تک نا تھا
    اسی باعث ہی ان لوگوں کے ہاتھوں حاجیوں کے قافلے بھی لٹ جایا کرتے تھے
    سلطنت عثمانیہ کا کنٹرول محض مکہ،مدینہ اور جدہ تک ہی محدود تھا
    پورے خطے میں کوئی مالیاتی نظام موجود نا تھا اور زیادہ تر قبائل بدوی زندگی شدید غربت میں گزارتے تھے
    بارشیں نا ہوتیں تو کئی کئی سال تک قحط رہتا لوگ بھوکے مرتے تھے کیونکہ آبپاشی کا باقاعدہ نظام نا تھا جس کی وجہ مرکزی حکومت کا نا ہونا تھا
    1902 میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے ریاض پر قبضہ کر لیا اور 1913 میں عثمانیوں سے احسہ کا علاقہ لے لیا اور 1924 سے 1925 تک مکہ،مدینہ اور طائف پر کنٹرول کر لیا اور 1926 میں مشترکہ طور پر شاہ عبدالعزیز بادشاہ حجاز مقدس و نجد مقرر ہوئے

    جرائم کو کنٹرول کرکے مملکت کو جدید بنانے،امن و امان و خوشحالی کی خاطر
    1927 سے 1930 تک سعودی ریاست نے مختلف علاقوں جیسے کہ نجد،حائل،عیسر اور حجاز وغیرہ میں، چوری،ڈکیتی اور قتل و شراب نوشی کے ملزمان کو سزائیں دیں

    ایک اندازے کے مطابق 1000 سے زائد لوگوں کو پھانسیاں دی گئی یا پھر تلوار سے گردن اتاری گئی
    لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں اخوان تحریک سے تعلق رکھنے والے ملزمان بھی شامل تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف قبائل سے تھا ان کو بھی قتل کیا گیا
    سعودی عرب کا امن برباد کرنے والے یہ لوگ گروہ بنا کر قافلوں کو لوٹتے تھے اور ریاستی اقتدار کو چیلنج کرتے تھے

    ایسے فسادی اور ملک دشمن عناصر کہ جن کی وجہ سے امن و امان برباد ہو جائے اور جینا مشکل ہو جائے ان لوگوں بارے قرآن مجید کچھ اس طرح بیان فرماتا ہے

    اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ

    جو اللہ تعالٰی سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

    جبکہ ایسے لوگوں کیلئے حدیث رسول ہے

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں
    بحوالہ سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث 2579
    دوسری روایت میں ہے کہ وہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ
    بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بے رحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہیں کرنا چاہئے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہئے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے
    قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
    قال الشيخ زبير على زئي:إسناده

    دیکھا جائے تو آج پاکستان میں بھی حجاز مقدس اور نجد جیسے برے حالات ہیں

    قتل و غارت گری،ڈکیتی،زنا،شراب نوشی اور لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرنا جواء کھیلنا اور کھلوانا،غریب اور کمزور لوگوں پر ظلم کرنا
    عام ہو چکا ہے جس کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب ترین ہو چکی ہے
    عام اور کمزور و غریب لوگوں کا جینا مشکل تر ہو چکا ہے

    امن و امان قائم رکھنے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے ویسے تو پولیس و دیگر ادارے پہلے سے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی نا ہونے کے برابر ہے اسی لئے پنجاب گورنمنٹ نے اب امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے فروری 2025 میں پولیس آرڈیننس 2025 کے تحت کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی سی سی ڈی کا قیام عمل میں لایا ہے
    سی سی ڈی کی حتمی منظوری اپریل میں ہوئی جبکہ اس محکمے میں تقریباً 4300 اہلکار ہیں جو جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہیں
    فی الوقت تو سی سی ڈی کی کارکردگی اچھی ہے خدانخواستہ اگر اس کی کارکردگی بھی پنجاب پولیس کی طرح رہی اور لوگوں کو وڈیروں،جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے کہنے پر قتل کیا گیا تو پھر امن و امان درست ہونے کی بجائے مذید خراب ہو گا
    فی الوقت سی سی ڈی کی اچھی اور اعلی سطحی کاروائیوں سے جرائم پیشہ لوگ ڈر کر توبہ تائب کر رہے ہیں اور بیشتر بھاگ بھی گئے ہیں
    بہت سے جرائم پیشہ اور دہشت کی علامت لوگ ویڈیو کی صورت میں بیان حلفی دے رہے ہیں کہ ہم آئندہ شریفانہ زندگی گزاریں گے جو کہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے
    اللہ کرے یہ محکمہ اسی طرح میرٹ پر کام کرے اور کسی جاگیردار،سیاست دان و وڈیرے کا آلہ کار نا بنے تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو کر پاکستان ترقی کرے اور پاکستانی قوم بھی ایک محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کا حصہ بنے
    آمین

  • اے آئی ایل کے صدر کا ممبر سازی مہم کا اعلان

    اے آئی ایل کے صدر کا ممبر سازی مہم کا اعلان

    قصور ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل لائرز (AIL) گلوبل قصور ڈسٹرکٹ پنجاب چیپٹر، پاکستان کے صدر احمد علی قصوری ایڈووکیٹ نے اپنی ممبرشپ مہم مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں 75 وکلاء کو مرکزی تنظیم کے لندن، برطانیہ میں مقرر کردہ معیار پر پورا اترنے کے بعد منتخب کیا گیا ہے۔ انتخاب کے عمل کی توثیق AIL پنجاب صوبہ چیپٹر، پاکستان نے کی۔

    نئے ممبران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قانونی فضیلت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے باب کے مشن میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ AIL قصور ڈسٹرکٹ چیپٹر اپنے اراکین کے درمیان قانونی تعلیم اور نیٹ ورکنگ کے مواقع کو فروغ دینے کے لیے مختلف تقریبات اور سرگرمیاں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    یہ پیشرفت قصور ڈسٹرکٹ چیپٹر کے لیے ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے، جو قانون کی حکمرانی کو آگے بڑھانے اور وکلاء کی عالمی برادری کو فروغ دینے کے اپنے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

  • چھوٹی معصوم بچی سے نازیبا حرکات کرنے والا اپنی ہی گولی سے مارا گیا

    قصور / دھنپت روڈ: عوام کے ہتھے چڑھا بچی سے نازیبا حرکات کا ملزم، مزاحمت پر خود ہی فائرنگ سے زخمی

    قصور کے علاقے دھنیت روڈ پر ایک مشتبہ شخص، جس کی شناخت بعد میں ناصر علی قوم وٹو سکنہ اوکاڑہ کے نام سے ہوئی، واردات کی نیت سے گھات لگائے کھڑا تھا۔ مشتبہ حرکات دیکھ کر عوام نے اسے پکڑنے کی کوشش کی، جس پر ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔

    ملزم نے اپنی شلوار کے اندر چھپایا گیا 9 ایم ایم پستول نکالنے کی کوشش کی، تاہم ہاتھا پائی کے دوران اسلحہ سے اچانک دو گولیاں چل گئیں جو خود ملزم کو خصیہ اور عضو تناسل پر لگیں۔ شدید زخمی حالت میں ملزم کو بابا بلھے شاہ ہسپتال قصور منتقل کر دیا گیا۔جو زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے مارا گیا

    مزید معلوم ہوا کہ مورخہ 26 جولائی 2025 کو مذکورہ شخص کی ایک شرمناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ ایک 7/8 سالہ کمسن بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرتا نظر آ رہا تھا۔ اس ویڈیو کے حوالے سے تھانہ اے ڈویژن قصور میں مقدمہ نمبر 1027/25 بجرم 377B ت پ درج کیا جا چکا ہے۔