Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • گورنمنٹ سکول کا گراؤنڈ کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ،وزیر اعلیٰ سے نوٹس کی اپیل

    گورنمنٹ سکول کا گراؤنڈ کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ،وزیر اعلیٰ سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    ضلع کے سب سے بڑے اور سب سے قریبی گاؤں کھارا کے گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز کے گراؤنڈ کو کچرے کے ڈھیر میں بدل دیا گیا،حکام سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کے سب سے قریبی گاؤں کہ جس کا فاصلہ قصور بائی پاس سے محظ 1 کلومیٹر سے بھی کم ہے اور جس کی آبادی 40 ہزار نفوس سے بھی زیادہ ہے اور جس گاؤں سے سابق چیف سیکرٹری و صوبائی محتسب اعلی پنجاب محمد احمد بھٹی مرحوم اور موجودہ کئی بڑے بڑے افسران کا تعلق ہے ، اس گاؤں کے واحد اکلوتے گورنمنٹ ہائی سکول فار بوائز کے گراؤنڈ کو صاف ستھرا پنجاب کے عملے نے کچھ عرصہ قبل ڈمپنگ پوائنٹ بنایا جہاں گندگی نے اپنا راج جما لیا
    اس ڈمپنگ پوائنٹ کی بدولت اہلیان علاقہ نے بھی کوڑا کرکٹ پھینکنا شروع کر دیا جس کے باعث گراؤنڈ کی دیوار ختم ہو کر ملحقہ کالونی و نجی زرعی زمینوں سے جا ملی ہے
    اس گراؤنڈ میں اس قدر تعفن اور بدبو ہوتی ہے کہ پاس سے گزرنے والوں کا سانس مشکل سے نکلتا ہے اس بدولت اس گراؤنڈ میں بچے کیا خاک کھیلیں گے؟
    نیز قریب واقع جوہڑ بھی گراؤنڈ کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی بدولت گراؤنڈ نا ہونے کے برابر رہ گیا ہے اور گراؤنڈ کا وجود خطرے میں ہے جو کہ انتہائی لمحہ فکر ہے

    اہلیان علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز،ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی سے فوری نوٹس لے کر بچوں کے گراؤنڈ کی صفائی ستھرائی اور گراؤنڈ کی چار دیواری کو دوبارہ تعمیر کروا کر بچوں کے گراؤنڈ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے

  • تین دن سے ٹرانسفارمر  خراب،واپڈا اہلکاروں کے حیلے بہانے،پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    تین دن سے ٹرانسفارمر خراب،واپڈا اہلکاروں کے حیلے بہانے،پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    قصور
    ٹبی کمبواںوالی نزد ڈیرہ سردار مختیار والا کا ٹرانسفارمر تین دن سے خراب،بارہا شکایات کے کوئی کاروائی نا ہوئی،شدید ترین گرمی و حبس کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    تفصیلات کے مطابق قصور لیسکو واپڈا کی لاپرواہی سخت گرمی میں بھی عروج پر ہے
    لیسکو واپڈا قصور لوگوں سے بقایا واجبات تو بندوق کی نوک پر حاصل کر رہا ہے مگر صارفین کا حق دینے سے نا صرف قاصر ہے بلکہ الٹا صارفین کو صاف جواب بھی دیا جاتا ہے
    قصور کے نواحی علاقے ٹبی کمبواں والی نزد ڈیرہ سردار مختیار والا ٹرانسفارمر عرصہ تین دن سے خراب ہے جس کی اہلیان علاقہ کی طرف سے بارہا واپڈا اہلکاران کو شکایت کی گئی تاہم عرصہ تین دن گزرنے کے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہر بار لوگ کو ٹرخا دیا جاتا ہے
    واضع رہے کہ اس وقت قصور میں اس سیزن کی شدید ترین گرمی و حبس ہے جس کے باعث لوگوں کا سانس لینا محال ہے اور ان تین دنوں میں اہلیان علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں تاہم واپڈا اہلکاروں کو رحم نہیں آیا
    اہلیانِ علاقہ نے ارباب اختیار سے اس نا انصافی اور کھلے ظلم پر نوٹس لینے اور ذمہ دار واپڈا اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ ان کا ٹرانسفارمر فوری مرمت کروا کر بجلی بحال کی جائے

  • سی سی ڈی کے ملازم بن کر اغواء اور تاوان لینے والے پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ

    سی سی ڈی کے ملازم بن کر اغواء اور تاوان لینے والے پولیس ملازمین کے خلاف مقدمہ

    قصور
    مصطفی آباد للیانی کے رہائشیوں کو CCD کے جعلی ملازم بن کر اغواء کرنے والے پولیس ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج

    تفصیلات کے مطابق قصور کے قصبہ مصطفی آباد للیانی کے رہائشی حافظ محمد ندیم ولد محمد رفیق نے تھانہ سٹی رائیونڈ ضلع لاہور میں درخواست دی کہ میں الیکٹریشن کا کام کرتا ہوں مورخہ 19.07.2025 بوقت تقریباً 06:30 بجے میں اپنے کزن محمد شاہد کیساتھ موٹر سائیکل پر رائیونڈ سے موٹر ٹھیک کروا کر واپس للیانی مصطفی آباد براستہ صوئے آصل جار ہے تھا کہ جب ہم پولیس چوکی لدھیکی کے قریب پہنچے تو ہماری موٹر سائیکل کا پٹرول ختم ہو گیا تو اسی دوران 2 کسی پولیس ملازمین ،جن کے نام کانسٹیبل تو قیر اور اقبال بسوار ہنڈا 125 بر نگ لا، آئے تو ہم نے پولیس ملازمین سے مدد مانگی تو پولیس ملازمین نے ہماری تلاشی لینا شروع کر دی اور ہمارا CRO ریکارڈ چیک کیا جب کچھ نہ ملا تو پولیس ملازمین ہمیں سائیڈ پر خالی جگہ پر لے گئے اور ہم سے چائے پانی کا تقاضا کیا تو ہمارے انکار کرنے پر ملازمین نے ہم پر تشدد کرنا شروع کر دیا اور ہمیں ڈرا اور اپنے ساتھی پولیس ملازم واجد کو فون کر کے بلوایا جو موقع پرپرائیویٹ گاڑی الٹو رجسٹریشن نمبری ACT604 پر آیا اور اپنے آپ کو CCD کا ملازم شو کروایا اور زبردستی ہمیں اپنی گاڑی میں بیٹھا کر اغوا کر کے بحریہ آرچرڈ گیٹ نمبر 2 رائیونڈ روڈ لاہور پلازہ میں لے گئے اور ہم سے اسلحہ کے زور پر ویڈیو بیان لیتے رہے کہ اپنا ویڈیو بیان دو کہ ہم منشیات کا کام کرتے ہیں
    ہم نے بیان دینے سے انکار کر دیا تو الزام علیہان نے ہم پر تشدد کیا پسٹل سیدھے کیئے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں کہ ہم CCD کے ملازم ہیں تم دونوں کو پولیس مقابلہ کرکے مار دینگے ورنہ اپنے گھر سے 25 لاکھ روپیہ منگوالو
    تقریبا 14 گھنٹے ہمیں حبس بیجا میں رکھا اور میرے موبائل فون سے ہمارے گھر والوں سے رابطہ کرکے ان کو بھی ڈرایا
    اور کہا کہ ہم تمہارے بچوں کو مار دینگے ہمیں 25 لاکھ روپئہ دے دو
    ہمارے والدین پاس اس تاوان کا تقاضا کرنے کی ریکارڈنگ موجود ہے
    بہت منت سماجت بعد پونے 7 لاکھ روپے دے کر ہماری جان بخشی کروائی
    میری اور میرے کزن کی جیب سے پیسے نکال کر چھوڑ دیا
    درخواست گزار نے استدعا کی کہ پولیس ملازمین نے ہمیں اغوا کر کے ہم سے اغوا برائے تاوان وصول کر کے مار پیٹ کر کے تشدد کر کے اسلحہ کے زور پر ڈرا دھمکا کر حراساں کرکے جس بیجا میں رکھ کر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے کر سخت زیادتی کی ہے لہذہ ضابطہ کے تحت کاروائی عمل میں لا کر مقدمہ درج کیا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور وصول کیا ہوا تاوان بھی واپس دلوایا جائے تاکہ کوئی بھی پولیس ملازم خود کو CCD کا ملازم ظاہر کرکے لوگوں کو ڈرائے دھمکائے نا اور نا ہی نئے محکمے کا وقار مجروع ہو
    شہریوں نے ڈی آئی جی CCD سے از خود نوٹس لے کر پولیس ملازمین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • دیو ہیکل سائن بورڈ کے گرنے کا خظرہ،عید قربان کی آلائشوں سے تعفن،لوگ سخت پریشان

    دیو ہیکل سائن بورڈ کے گرنے کا خظرہ،عید قربان کی آلائشوں سے تعفن،لوگ سخت پریشان

    قصور
    بائی پاس پر لگا فلاحی مرکز کھارا کا دیو ہیکل سائز سائن بورڈ خطرے کی علامت،وزنی سائن بورڈ تھوڑے سے کنکریت کے سہارے کھڑا،کبھی بھی تیز ہوا سے گر سکتا ہے،اسی جگہ قربانی کی آلائشوں سے تعفن و بدبو سے اہلیان علاقہ کی زندگیاں اجیرن،ضلعی انتظامیہ سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق بھٹی ہسپتال سے تھوڑا آگے قصور بائی پاس کے کنارے پر لگا دیو ہیکل سائن بورڈ کسی بھی وقت بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے
    فلاحی مرکز بہبود آبادی کھارا کا سائن بورڈ بائی پاس کے کنارے تھوڑے سے کنکریت کے سہارے کھڑا کیا گیا ہے جو کہ تیز آندھی سے گر کر کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا ہے
    سائن بورڈ کو زنگ سے نگلنا شروع کیا ہے جس کے باعث سائن بورڈ نیچے سے بھی لازمی گل چکا ہو گا اوپر سے تھوڑی سے کنکریت کی برجی بھی کمزور ہے
    نیز بلکل اسی مقام پر عید قربان کے موقع پر آلائشوں کا ڈمپنگ پوائنٹ بنایا گیا تھا جس کی باقیات ابھی بھی باقی ہیں جس سے ہر وقت شدید تعفن اٹھتا ہے جس کی بدولت اہلیان علاقہ اور گزرنے والے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا ہے
    اوپر سے برسات کے باعث تعفن مذید پھیل جاتا ہے جس سے لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں
    اہلیان علاقہ نے ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • دفعہ 144 نافذ،خلاف ورزی پر 8 مکزمان گرفتار،مقدمات درج

    دفعہ 144 نافذ،خلاف ورزی پر 8 مکزمان گرفتار،مقدمات درج

    قصور
    ضلعی انتظامیہ قصور کی جانب سے لگائی گئی دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ملزمان گرفتار ،پولیس تعینات

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں سیلابی کیفیت کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ قصور نے دریاؤں و نہروں پر نہانے و جمع ہونے پر دفعہ 144 لگا رکھی ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے اس سلسلہ کیلئے قصور پولیس دفعہ 144 کے نفاذ کیلئے متحرک ہو گئی ہے
    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر نہروں میں نہانے پر پابندی عائد ہے اور ضلع بھر میں نہروں میں نہانے والے پوائنٹس پر پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے

    بی آر بی نہر کھیم کرن روڈ سمیت دیگر مقامات سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے
    8 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جو نہر میں نہا کر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کر رہے تھے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے حوالاٹ میں بند کر دیا گیا ہے
    ڈسٹرکٹ پولیس و ضلعی انتظامیہ قصور نے کہا ہے کہ شہری اپنے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں وگرنہ خلاف ورزی کی صورت میں مقدمہ درج کیا جائے گا

  • شیشہ کیفے کے خلاف کریک ڈاؤن ،کثیر تعداد میں حقے،فلیور برآمد ،ملزمان گرفتار

    شیشہ کیفے کے خلاف کریک ڈاؤن ،کثیر تعداد میں حقے،فلیور برآمد ،ملزمان گرفتار

    قصور
    شیشہ کیفے کے خلاف کریک ڈاؤن،کثیر تعداد میں حقے و فلیور برآمد،ملزمان گرفتار

    تفصیلات کے مطابق قصور میں شیشہ کیفوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں
    ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں کی ہدایت پر تھانہ صدر قصور پولیس نے شیشہ کیفوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا
    ایس ایچ او صدر قصور حیدر علی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے 2 شیشہ کیفوں سے 2 ملزمان کو گرفتار کیا
    جن کے قبضہ سے کثیر تعداد میں حقے، مختلف قسم کے فلیور اور دیگر سامان برآمد ہوا
    گرفتار ملزمان کھیم کرن روڈ پر شیشہ کیفے بنا کر نوجوان نسل کو تباہ کر رہے تھے
    پولیس نے ملزمان کے خلاف شیشہ سموکنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت الگ الگ مقدمات درج کرکے حوالات میں بند کر دیا

  • ویٹرنری ڈسپنسری پانی میں ڈوب گئی،جانوروں کا علاج معطل

    قصور
    نواحی گاؤں موضع مان میں جانوروں کی ڈسپنسری زیر آپ،ہر طرف پانی ہی پانی

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مسلسل تیز بارش کا آج تیسرا دن ہے جس باعث بیشتر علاقے زیر آب آگئے ہیں
    قصور کے نواحی گاؤں موضع مان میں جانوروں کی ڈسپنسری مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی ہے جس کے باعث ہسپتال میں آلات و ادویات کیساتھ کروڑوں روپیہ سے بنی سرکاری بلڈنگ کا بھی نقصان ہو رہا ہے
    موضع مان و قرب جوار کے دیہات کسان اور مویشی پال حضرات پر مشتمل ہیں اور پورے علاقے کے جانوروں کی بیماریوں کے علاج کیلئے مان ویٹرنری ڈسپنسری ہی خدمات سرانجام دیتی ہے تاہم پانی میں ڈوبنے کے باعث جانوروں کا علاج معطل ہو گیا ہے
    اہلیان علاقہ نے ضلعی انتظامیہ سے نوٹس کی اپیل کی ہے

  • صاف ستھرا پنجاب پروگرام کی دھجیاں اڑا دی گئیں،پانی،گندگی کا ڈھیر

    صاف ستھرا پنجاب پروگرام کی دھجیاں اڑا دی گئیں،پانی،گندگی کا ڈھیر

    قصور
    وسیم کالونی پیرو والا روڈ میں گندگی کا راج،صاف ستھرا پنجاب کی دھجیاں اڑا دی گئیں وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور میں بیشتر مقامات پر وزیر اعلی پنجاب کے صاف ستھرا پنجاب پروگرام کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں

    وسیم کالونی پیرو والا روڈ سٹی قصور میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جس سے تعفن اور بدبو اٹھتا ہے اور اس باعث علاقہ مکینوں کا جینا محال ہو چکا ہے اوپر سے موسم برسات کے باعث بارش کا پانی گلیوں میں کھڑا رہتا ہے جس سے عورتوں ،بچوں اور بچوں کا گھروں سے نکلنا انتہائی مشکل ہے خاص کر نمازی حضرات کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    اہلیان علاقہ کے مطابق عملہ صفائی اپنی مرضی سے کبھی آ جائے تو ٹھیک وگرنہ علاقہ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے
    اہلیان علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب کے صاف ستھرا پنجاب پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اربوں روپیہ لگا کر بھی صفائی کا نا ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان کے
    اہلیان علاقہ نے وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل کی ہے

  • غزوہ ہند کا سندور،تحریر:غنی محمود قصوری

    غزوہ ہند کا سندور،تحریر:غنی محمود قصوری

    غزوہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی جنگ کے ہیں اور غزوہ ہند سے مراد ہند،ہندوستان کی جنگ ہے
    سندور ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سرخی کے ہیں
    سندور نارجی یا سرخ رنگ کا ایک پاؤڈر ہوتا ہے جو شادی شدہ ہندو عورتیں اپنے سر کی مانگ میں لگاتی ہیں تاکہ شوہر سے وفاء رہے اور اس کی عمر دراز رہے

    نبی رحمت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے غزوہ ہند بارے احادیث موجود ہیں
    غزوہ ہند ہو چکا یا ہو رہا یا پھر ہو گا یہ ایک الگ موضوع ہے تاہم میں بات کرتا ہوں گزشتہ دو ماہ قبل غزوہ ہند یعنی پاک ہندو جنگ کی جس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہند کو لگام ڈالی گئی اور کتے کی طرح اسے بھونکنے اور بھاگنے پر مجبور کیا گیا

    ہمارے ازلی اور کمینے دشمن ہندوستان نے ہمارے اور اپنے قیام سے ہی ہم پاکستانیوں کو نقصان ہی نقصان پہنچایا ہے اور کوشش کی ہے کہ پاکستان صفحہِ ہستی سے مٹ جائے،تاہم بفصل ربی ہم پہلے سے پھلے پھولے ہیں اور قیامت تک ہمارا رب ہمیں ایسے ہی ترقی دیتا رہے گا ان شاءاللہ،ہندوستان نے ارض پاکستان میں ہر طرح کی تخریب کاری کروائی جس کیلئے اس نے پاکستان کے اندر قومیت،وصوبائیت،لسانیت اور فرقہ پرستی کے نام پر دہشت گرد جماعتوں کو کھڑا کیا اور ان کو فنڈنگ و ٹریننگ دے کر اور ہتھیار تھما کر پاکستان کے خلاف کرکے اپنے مقصد کی یلغاریں کروائیں تاہم وہ آج دن تک ناکام ہے اور رہے ان شاءاللہ

    ایسی ہی ایک یلغار رواں سال ماہ رمضان میں اس نے اپنے پالتو دہشت گرد خارجی گروہ بلوچ لبریشن آرمی سے کروائی ،11 مارچ 2025 کو بلوچستان کے علاقے میں جعفر آباد ایکسپریس ٹرین کو بی ایل اے کے کارندوں نے ہندوستان کے ایماء پر ہائی جیک کیا اور سوچا کہ نہتے مسافروں بشمول عورتوں اور بچوں کے وہ ان کو ڈھال بنا کر اپنے مطالبات تسلیم کروا لے گا تاہم الحمدللہ ہماری فورسز نے تاریخ کا ایک انتہائی مشکل ترین آپریشن چند گھنٹوں میں مکمل کیا اور ٹرین مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر ٹرین ہائی جیک کرنے والے خوارج کو قتل کیا اور اس کے مکمل پروف دنیا کے سامنے رکھے کہ کسطرح ہندوستان نے اپنے پالتو کتوں کے ذریعے پاکستان کو زک پہنچائی،ہندوستان کی پالیسی ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکام ہوئی اور الٹا و دنیا کی نظروں میں ایک دہشت گرد ملک کے طور پر آ گیا

    مکار ہندو نے اپنی مکاری اور دہشت گردی کو معصومیت اور مظلومیت میں بدلنے کیلئے ایک چال چلی اور 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں لائن آف کنٹرول سے بہت دور پہلگام کے مقام پر خودساختہ طور پر 28 سیاحوں کو قتل کرکے اس کا الزام مقامی کشمیری آزادی پسند مسلح جماعت ڈی ریزسٹنس فورس یعنی TRF پر لگا دیا اور شور مچایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں آئی ایس آئی نے کی اور ساری فنڈنگ و اسلحہ بارود پاک فوج نے دیا اور اس کی معاونت لشکر طیبہ اور چند جہادی پاکستانی لوگوں نے کی ہے لہذہ میں بدلہ لونگا

    بھارت نے پہلگام حملہ پر بہت ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی اور خود کو مظلوم ظاہر کروایا تاہم اس کے اپنے ہی لوگوں نے سوال کر دیا کہ ایک چھوٹے سے خطے مقبوضہ کشمیر میں 11 لاکھ ہندوستانی فوج تعینات ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ حملہ آور باہر سے آکر آرام سے کاروائی کرکے چلے گئے؟اس سوال پر ہندوستان اور بھی پریشان ہوا اور اپنی سبکی مٹانے کیلئے اور خود کو بڑا بہادر ظاہر کرنے کیلئے پاکستان پر حملے کی دھمکی لگا دی

    ہندوستان نے 7 مئی کو رات کی تاریکی میں پاکستان کے شہروں مریدکے اور بہاولپور میں حملے کئے اور اس آپریشن کو سندور کا نام دیا اور پہلگام حملے کا بدلہ لینے کا بہانہ بنایا،مریدکے میں جامع مسجد ام القریٰ اور اس سے ملحقہ سرکاری ہیلتھ اور ایجوکیشنل کمپلیکس کو نقصان پہنچا اس حملے میں 3 افراد شہید اور 2 زخمی ہوئے،بہاولپور میں مرکز سبحان اللہ پر حملے میں 13 افراد شہید اور 37 افراد زخمی ہوئے نیز ہندوستان نے مظفر آباد و دیگر علاقوں پر بھی جارحیت کرتے ہوئے پاکستانی نہتی عوام کو شہید کیا اور مسجدوں و دیگر املاک کو نقصان پہنچایا،پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارتی جارحیت کو رکھا تاہم بھارت نے ہمارے اس فعل کو ہماری کمزوری جانا اور پاکستان پر اسرائیلی ڈرونز بیجھنے شروع کئے جسے پاک فوج و سویلینز نے مل کر مار گرایا،بھارت کی اس جارحیت پر پاکستان نے احتجاج کیا اور وارننگ دی کہ اگر ہندوستان باز نا آیا تو پھر ہمارا جواب پوری دنیا دیکھے گی،پاکستان نے 10 مئی کی صبح نماز فجر کے بعد سنت کے مطابق ہندوستان پر بیلسٹک میزائل فتح ون سے اپنے آپریشن بنیان المرصوص کا آغاز کیا
    پاکستانی فوج نے ہیوی ترین آرٹلری فائرنگ کی اور پاکستان ائیر فورس کے عقابوں نے ہندوستان میں گھس کر اس کے ملٹری و ائیر بیسز اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز تک تباہ کئے،ہمارے شیر دل ہیکرز نے بھارتی ٹی وی چینلوں کی لائیو نشریات،ان کی ریل سروس،ڈیم سسٹم،ائیر لائن کنٹرول و دیگر نظاموں پر کنٹرول کر لیا حتی کہ اس کے جدید ترین لڑاکا طیارے رافیل اور جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم ایس 400 تباہ کیا،ہندوستان میں پاکستان کے اس جوابی وار میں ہو گا عالم طاری ہو گیا ،بھارت پاکستان کے رحم و کرم پر رہ گیا ،حسب سابق کی طرح ہندوستان نے امریکہ،سعودی عرب،قطر و دیگر ممالک کی منت کی اور 10 مئی کو ہی سیز فائر کی منت کی جسے پاکستان نے بھی مان لیا

    79 سال تک ہندوستان نے جو جعلی طور پر اپنا نام بدمعاشی میں پیدا کیا تھا وہ محض 65 منٹ میں پاکستان نے ختم کر دیا ،حالات یہ بن گئے کہ ہندوستان کی مسلمان کرنل صوفیہ قریشی کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ آج بھی گمنام ہے،اسی طرح رافیل پائلٹ شیوانگی بھی گمنام ہے ہندوستان اسے آج دن تک میڈیا کے سامنے نہیں لا پایا
    الحمدللہ پاکستانی فوج اور عوام نے ملک کر ہندوستان کو ایسا جواب دیا کہ دنیا کے ہر ملک کی زبان سے نکلا کہ اگر جنگ بندی نا ہوئی تو ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا،الحمدللہ بیشتر چیک پوسٹوں پر آج بھی پاکستانی فوج کا قبضہ ہے اور وہ نریندر مودی جو جگا بن کر جنگ کی باتیں کیا کرتا تھا آج اپنی ہی عوام سامنے منہ چھپاتا پھر رہا ہے کیونکہ پاکستان نے اسے غزوہ ہند میں سندور لگا دیا ہے

    امید ہے ہندوستان اب کئی دہائیوں تک جنگ کی بات نہیں کرے گا کیونکہ پاکستان نے پراکسی وار کرتے ہوئے بنگلہ دیش،نیپال،سری نکا و دیگر ہمسایہ ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر ہندوستان کو خطے میں تنہاء کر دیا ہے
    بڑی امید ہے اب ہندوستان کی عورتیں بھی سمجھ چکی ہونگیں کہ سندور لگانا درازی عمر اور وفاء نہیں بلکہ ایمان و تقوی ہی سب کچھ ہے

  • أر پی او شیخوپورہ آج قصور میں کھلی کچہری لگائیں گے،موقع پر شکایات کا ازالہ کیا جائے گا

    أر پی او شیخوپورہ آج قصور میں کھلی کچہری لگائیں گے،موقع پر شکایات کا ازالہ کیا جائے گا

    قصور
    آر پی او شیخوپورہ آج قصور میں کھلی کچہری لگائیں گے

    تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر RPO شیخوپورہ ریجن اطہر اسماعیل آج مورخہ 14.07.2025 بروز سوموار کو ڈسٹرکٹ قصور میں کھلی کچہری کا انعقاد کریں گے
    وہ آج تھانہ سٹی چونیاں میں دن 11 بجے کھلی کچہری لگائیں گے اس کے بعد دوپہر 1:30 بجے تھانہ چھانگا مانگا میں کھلی کچہری میں عوامی مسائل سنیں گے
    قصور پولیس کے دیگر اعلی عہدیدار بھی موجود ہونگے اور موقع پر ہی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا قصور پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ
    شہری اپنی شکایات کے حل کے لیے تشریف لائیں