قصور
آزادی اظہار رائے کے دعویدار بے نقاب ،مقبوضہ کشمیر کی شہید کمانڈر برہان وانی کی برسی پر لاکھوں پاکستانیوں کے اکاؤنٹ بلاک فیسبک بھی ہندو نواز نکلا
تفصیلات کے مطابق کل 8 جولائی کو مقبوضہ کشمیر کے شہید کمانڈر برہان مظفر وانی کی برسی تھی جس پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر برہان کو خراج تحسین پیش کیا جس کے ردعمل پر فیسبک،ٹویٹر،انسٹاگرام انتظامیہ نے لاکھوں لوگوں کے اکاؤنٹ بلاک کر دیئے
صارفین کو فیس بک اور دیگر سوشل سائیٹس سے نوٹیفکیشن موصول ہوئے کہ آپ ہماری پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس پر آپ کو بلاک کیا جا رہا ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ برہان وانی پر شیئرنگ کرنے سے فیس بک انتظامیہ کو کیا مسئلہ ہے حالانکہ برہانی وانی تو تحریک آزادی کشمیر کا سپاہی ہے اور اس کی جنگ صرف ہندوستان کے خلاف تھی نا کہ پوری دنیا کے
سوشل سائیٹس کی طرف سے ناروا رویہ پر صارفین نے گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی عوام کے ساتھ غلط رویہ پر گورنمنٹ فیس بک انتظامیہ سے احتجاج کرے
Author: غنی محمود قصوری
-

سوشل میڈیا بھی ہندو نواز نکلا
-

لوڈشیڈنگ ایک عذاب
قصور
شہر و گردونواح میں کئی گھنٹوں کی عذاب ناک لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے
لوگوں کے کاروبار ٹھپ
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں لوڈشیڈنگ معمول بن گئی ہے جس سے لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ہفتہ میں دو دن 10 گھنٹے کی شیڈول لوڈشیڈنگ سے بھی کاروبار شدید متاثر ہوا ہے
چراغشاہ، شیخ بھاگو، بلھے شاہ، دین گڑھ، سٹی، نیاز نگر سمیت دیگر فیڈرز بند رہنے لگ گئے
نیز شہر کے متعدد ٹرانسفارمر بھی خراب ہونے کے باعث بھی بجلی بند رہنا معمول بن گیا ہے
اور واپڈا اہلکاران خراب ٹرانسفارمر کے نام پر 10 سے 15 ہزار روپے اہل علاقہ سے اکھٹے کر کے مرمت کروائی لیتے ہیں -

امن و امان کی خرابی پر تشویش
قصور
ایس ایچ او الہ آباد محسن سندھو کی پولیس چوکی تلونڈی میں سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ پریس کانفرنس شہر میں امن و امان کے حوالے سے گفتگوتفصیلات کے مطابق الہ آباد تھانہ کی حدود میں آئے روز چوری،راہزنی کی وارداتوں میں شدت سے اضافہ ہو گیا ہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جانے لگا اس بابت ایس ایچ او تھانہ الہ آباد محسن علی سندھو کی شہریوں کے ساتھ امن و امان کے حوالہ سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ ایس ایچ او محسن علی سندھو نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ جگہ جگہ ٹھیکری پہرے لگانے پر ہمارا ساتھ دیں اور جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے میں ہمارا تعاون کریں ان شاء اللہ جلد علاقہ کو امن کا گہوارہ بنائیں گے اس موقع پر علاقہ کے معزز شخصیات سردار زبیر احمد خاں ، محمود تاج ڈوگر، اشرف خاں ایڈووکیٹ ، پرویز مہدی ،سردار شوکت ممبر ، جمیل بھٹہ ، محمد ظفر اقبال حاجی ارشد ویری، رشید وہابی و دیگر نے پولیس کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کروائی
-

رینجرز اور پولیس کی بڑی کاروائی
قصور
تھانہ گنڈاسنگھ پولیس اور ستلج رینجرز اہلکاران کی مشترکہ کاروائی بھاری منشیات برآمدتفصیلات کے مطابق تھانہ گنڈہ سنگھ قصور اور ستلج رینجرز نے مشترکہ کاروائی کرتی ہوئے 3 ملزمان کو انڈین شراب سمیت پکڑ کر حوالات میں بند کردیا گیا جبکہ ملزمان کی شناخت اقبال ، افتخار اور نوید کے ناموں سے ہوئی ہے تینوں کا تعلق قصور کے علاقہ چونیاں سے ہے
ملزمان انڈین شراب کی بوتلیں لے کر چوک حسین خانوالا سے پیدل آ رہے تھے ملک نصیر احمد اے ایس آئی اور رینجرز کے اہلکاران نے روک لیا اور تلاشی کے دوران انڈین شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں تو ملزمان کو حراست میں لیا گیا پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے -

برہان وانی (Burhan Wani) تو آج بھی زندہ ہے!!!! تحریر: غنی محمود قصوری
تحریک آزادی کشمیر ظلم کی تصویر سے بھلا کون واقف نہیں؟ پچھلے 74 سالوں سے مظلوم کشمیری کم وسائل مگر چٹان جیسے حوصلے اور جذبہ ایمانی سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور 10 لاکھ مسلح فوج سے اپنی آزادی کی خاطر عام رائفلوں اور پتھروں سے لڑ رہے ہیں اور اس لڑائی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی
محاذ کشمیر کی جنگ دنیا کی سب سے اونچائی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی ترین جنگ ہے جس سے خود بھارت بھی پریشان ہے مگر اسے اس کا لے پالک اسرائیل سہارا دیئے ہوئے ورنہ اسی محاذ کشمیر پر انڈیا مالی و فوجی لحاظ سے کب کا گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ادھر کشمیریوں کے حوصلے دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں اس مسلح تحریک آزادی میں اب تک ایک لاکھ کے قریب نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں جن میں سے ایک انتہائی اہم قربانی برہان مظفر وانی کی بھی ہے
ایک پوسٹر بوائے سے مجاہد بننے والا یہ حزب المجاھدین کا کمانڈر برہان مظفر وانی 19 ستمبر 1994 کو مظفر وانی اور میمونہ وانی کے ہاں پیدا ہوا
برہان وانی نے بچپن ہی سے انڈین آرمی سے نفرت کی اور رفتہ رفتہ اس نفرت کا اظہار وہ سوشل میڈیا پر بھی کرتا رہا
2010 میں برہان وانی نے حزب المجاھدین کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ عسکری زندگی کا آغاز کیا اور اس کے عسکری جوہر دیکھتے ہوئے اسے 2011 میں حزب المجاھدین کا کمانڈر بنا دیا گیا
برہان جس علاقے میں بھی جاتا انڈین فوج کے بڑے بڑے کمانڈر اس علاقے سے راہ فرار کو ترجیح دیتے اور یوں اس کی جرات و بہادری کی ڈھاک انڈین فوج پر چھا گئی دوران زندگی اسے ٹاپ کمانڈر قاسم عبدالرحمان شہید کی قربت بھی نصیب ہوئی اور وہ قاسم عبدالرحمان کو اپنا استاد مانتا تھا انڈین فوج پر برہان کا اس قدر رعب پڑ چکا تھا کہ ہندو سرکار نے برہان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپیہ مقرر کر دی تھی
8 جولائی 2016 کو مقبوضہ وادی کے ضلع اننت ناگ کے علاقے کوگر ناگ میں انڈین فوج کی بہت بڑی تعداد نے جدید ترین ہتھیاروں سے کئی گھنٹے طویل معرکے کے بعد برہان کو شہید کیا جس کے بعد وادی میں تاریخی تصادم انڈین فوج اور کشمیریوں کے مابین شروع ہو گیا اور ان جھڑپوں میں دو سو سے زائد نوجوانوں نے اپنی جان راہ شہادت میں قربان کی اور اس شہادتوں کے بعد نوجوانوں میں ایک نیا جذبہ آزادی پیدا ہوا جو کہ اب بھی جاری و ساری ہے
22 سال کی عمر میں برہان وانی دس لاکھ مسلح فوج کو ایسا زخم دے گیا کہ سات عشروں سے زائد میں ایسا زخم بھارت کو نا ملا تھا 22 سالہ لڑکا وہ کام کرگیا کہ 50 ,50 سال سے عسکری خدمات دینے والے ہندوں,اسرائیلی دماغ دنگ رہ گئے کہ ایسا کیوں کر ہو گیا ؟ مگر ایسا اس لئے ہوا کیونکہ برہان مظفر وانی اس محمد ذیشان تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فرزند ہے کہ جس نبی علیہ السلام نے کم وسائل ہونے کے باوجود اپنے دور کی سپر پاور کو شکشت دیکر تاریخ کو حیران کر دیا اور آج پوری دنیا کی سپر طافتیں اسی نبی کی جنگ مہارت پر عمل پیرا ہونے کو ہی کامیابی قرار دیتی ہیں
برہان اس لئے بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے کہ وہ سیدنا صدیق اکبر,سیدنا عمر فاروق ,سیدنا عثمان غنی ,سیدنا علی المرتضی شیر خدا رضوان اللہ علیہ اجمعین کا روحانی فرزند ہے کہ جنہوں نے انتہائی کم وسائل کیساتھ پوری دنیا پر حکمرانی کی اور ثابت کر دیا کہ جنگیں وسائل سے نہیں بلکہ قوت ایمانی سے لڑی جاتی ہیں اور برہان زندہ اس لئے بھی ہے کہ وہ سیدنا امیر معاویہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے مجوسیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ایسا اکھاڑ پھینکا کہ آج دن تک دوبارہ مجوسیت کھڑی نہیں ہو سکی
برہان اس لئے آج بھی رول ماڈل ہے کیونکہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ کا روحانی فرزند ہے کہ جس نے اس وقت کی سپر پاور صلیبیوں سے بیت اللہ واپس لیا اور سپر پاور بھی وہ کہ جس کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا سلطان کی ضرب سے گھٹنوں کے بل جا گری تھی
آج انڈیا بریان وانی کو یاد کر کر کے غم زدہ رہتا ہے کیونکہ برہان کی شہادت کے بعد نوجوان اس قدر مسلح تحریک میں شامل ہوئے کہ پہلے تاریخ میں جس کی مثال نہیں ملتی اس روز کی پھلتی پھولتی مسلح تحریک آزادی سے خوفزدہ انڈیا نے ظلم و بربریت کی گندی ترین مثال قائم کرتے ہوئے گزشتہ سال اگست سے تاحال تاریخ کا سب سے لمبا کرفیو لگایا ہوا ہے اور اس کرفیو کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے مگر انڈین گورنمنٹ کیلئے رزلٹ پھر بھی صفر ہی ہے کیونکہ کشمیری آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں کل بھی ان کا نعرہ تھا بھارت سے لینگے آزادی ،کشمیر بنے گا پاکستان اور آج بھی ان کے نعرے یہی ہیں
انڈیا کی اس ساری بربریت پر عالمی برادری مایوس کن حد تک خاموش ہے مگر کشمیری قوم کھلے عام ہندو سرکار کو کہہ رہی ہے کہ سن لے انڈیا برہان تو رب کی جنتوں کا مہمان بن گیا مگر اللہ کی قسم اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کو وہ ایسا سبق سکھا گیا کہ قیامت تک ہندو دھرم میں خوف کی لہر پیدا ہو کر رہ گئی ہے
ایک طرف مٹھی بھر مجاہدین ہیں تو دوسری طرف انڈیا کی دس لاکھ مسلح اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس فوج مگر پھر بھی کئی سالوں سے میرے غیور کشمیروں کی صدا آزادی کو دبا نا سکی تیری ہندوں مائیں غم سے مر جاتی ہیں کہ جب ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے فوجی بیٹے کی مقبوضہ کشمیر میں پوسٹنگ ہو گئی ہے اور جب کہ دوسری طرف کسی کشمیری ماں کا ایک بیٹا شہید ہوتا ہے تو وہ ماں پہلے بیٹے کی کلاشن دوسرے بیٹے کو پکڑا کر کہتی ہے چل بیٹا اپنے رب کے فرمان کے مطابق اپنے شہید بھائی کا بدلہ لے اور مظلوم ماؤں, بہنوں,بیٹیوں اور بزرگوں کی مدد کر اور پھر اس کی شہادت کے بعد تیسرے پھر چھوتھے حتی کہ بیٹے کے بیٹے کو کلاشن پکڑا کر حکم ربی سنا کر خود غاصب پلید ناپاک ہندوں فوج کے خلاف جہاد کے لئے بیجھا جاتا ہے اور بعض اوقات تو بیک وقت دو,دو بھائی اور کئی مرتبہ باپ بیٹا اکھٹے برسر پیکار رہتے ہیں اور کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ذلت آمیزی انڈیا کو تب ملی جب میری عفت مأب پاک دامن کشمیری بہنوں بیٹیوں نے اپنے غیور سنگ باز بھائیوں کے شانہ بشانہ ہندو کی گندی فوج کا مقابلہ پتھروں سے شروع کیا ان شاءاللہ کشمیر منرل دور نہیں
تو چھین لے آنکھیں مجھ سے
خواب تو کیسے چھینے گا ؟ -

دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور اس کا بکاؤ میڈیا تحریر :غنی محمود قصوری
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا اس کی شاخیں ستون جتنا زیادہ اچھا اور مضبوط ہوگا عمارت اتنی کی مضبوط ہو گی بصورت دیگر وہ گرنے لگے گی
دنیا کے ہر میڈیا کا اندازہ اس کی آزادی سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا جانبدار اور سچا ہے اگر میڈیا آزاد ہوگا تو وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہے گا اگر دنیا کے تمام میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو صف اول کا بکاؤ اور بے غیرت میڈیا انڈیا کا ہے کہ جس کا کام انڈین را اور اسرائیلی موساد کے علاوہ دیگر اینٹی پاکستان حکومتوں سے پیسے لے کر کتے کی طرح پاکستان پر بھونکنا ہے مگر جب پروف مانگا جائے تو اس کی حالت اس کتے کی سی ہوتی ہے کہ جسے کوئی آنکھے دکھائے تو وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تھوڑا آگے جاکر کر پھر بھونکنا شروع ہو جاتا ہے
انڈیا کے چینلز کا کام ہی اینٹی پاکستان ہے پاکستان میں اگر کوئی ذاتی دشمنی کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کر دے تو یہ شور مچانا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان میں شورش عروج پر پہنچ چکی اب پاکستان نہیں بچے گا ٹوٹ جائیگا گا
اگر دیکھا جائے تو میڈیا کا کام اپنے باشندوں کی ضروریات کو اجاگر کرنا بھی ہوتا ہے مگر افسوس اس ذلیل انڈین میڈیا پر کہ اس سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار کے باشندے لیٹرین جیسی اس سہولت سے محروم ہیں کہ جو پاکستان میں خانہ بدوشوں کو بھی حاصل ہے ان کی بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ جس میں ایک انڈین فوجی آفیسر اپنے جوانوں کو لیٹرین بنانے اور پھر اس لیٹرین کے استعمال کا طریقہ سمجھا رہا ہے
ہندو اور اس کے میڈیا کا کام صرف پاکستان کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنا ہے رواں 2 جولائی کو کراچی میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن و عالم دین مجیب ادریس المعروف شیخ مجیب الرحمٰن زامرانی کو شرپسندوں نے ان کو ان کے ڈرائیور کے ہمراہ گولیاں مار کر قتل کر دیا اس پر انڈین بکاؤ میڈیا نے شور کرنا شروع کر دیا کہ زامرانی کا تعلق جماعت الدعوہ سے تھا اور وہ حافظ سعید کا دست راست ہونے کیساتھ بلوچستان میں دہشتگردوں کی ٹریننگ کا ذمہ دار بھی تھا نیز وہ داعش کیساتھ مل کر معصوم بلوچیوں کو قتل کرتا تھا اگر دیکھا جائے تو انڈین سرکار کی طرح انڈین میڈیا کی بھی زبان کتے والی ہے
آج دن تک انڈین میڈیا شور ڈالتا رہا کہ ذکی الرحمان لکھوی حافظ سعید کا دست راست ہے اور اس کی گورنمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کو جماعت الدعوہ کے تمام مرکزی راہنماؤں کے نام بھی دیئے جس پر پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے ان افراد پر مقدمات درج کئے گئے اور حافظ سعید سمیت ان کے دیگر راہنماء سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ جماعت الدعوہ کے تمام مراکز گورنمنٹ کی تحویل میں ہیں تو ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ بلوچستان میں جماعت الدعوہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور پوری دنیا جماعت الدعوہ کے قائدین سے واقف ہے جبکہ ایک عدم ثبوتوں کی بناء پر انڈین میڈیا نے واویلا شروع کر دیا کہ زامرانی جماعت کا بڑا اہم ہے اور وہ ممبئی حملوں کا ذمہ دار ہے کوئی بھی ذی شعور بندہ انڈیا کی باتوں کو نہیں مانے گا کیونکہ آج دن تک ممبئی حملوں میں زامرانی کا نام نہیں لیا گیا اب اچانک پھر سے ان کو پاگلوں کی طرح خواب آنا شروع ہو گئے
جو باتیں زامرانی کے متعلق سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زامرانی سعودی عرب سے پڑھ کر وطن واپس آ کر اپنے علاقے میں انڈین پے رول پر کام کرنی والی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے خلاف کام کر رہے تھے وہ امن جرگہ کے اہم رکن تھے اور لوگوں کو بی ایل اے کی اوقات سے آشکار کرکے لوگوں کو وطن کی محبت میں رنگ رہے تھے اسی بدولت بی ایل اے کے درندوں نے ان کو انڈین را کے کہنے پر شہید کیا تاکہ ان کو آسانی ہو مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ نا تو 1971 ہے اور نا ہی بنگلہ دیش آج کا جوان سمجھ چکا ہے کہ وہ اسلام و پاکستان سے وفاداری کرکے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرآت نہیں بزدلی ہے اسی لئے انڈین گورنمنٹ اپنی را کے ذریعے محب وطن پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہی ہے
اگر انڈین میڈیا میں غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بلوچستان کے مسئلے کو اچھالنے کی بجائے اپنے ملک کے اندر 4 درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکوں کو دنیا کے سامنے لاتا جن میں سے سب سے مضبوط تحریک خالصتان اور مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے مگر یہ خنزیر بکاؤ دلال انڈین میڈیا پیسوں کی خاطر حق اور سچ کو چھپا رہا ہے حالانکہ انڈین سوشل میڈیا پر آئے روز ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جن میں مسلمان،سکھ اور عیسائیوں کے علاوہ ہندو ہی اپنے اچھوت ذات ہندوؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں مگر افسوس پیسے کے پجاری بکاؤ میڈیا کو پاکستان پر ہی بھونکنا آتا ہے -

بی آئی ایس پی سے غریبوں کو کھانے والی
قصور
ضلع قصور میں بھی سرکاری ملازمین کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنےانکشاف
تفصیلات کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے سرکاری ملازمین کی مالی امداد حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس پر
ایف آئی اے نے بطور ڈیٹا کلکٹر فارم پر دستخط کرنے والے افسران کو طلب کر لیا ہے
چونیاں کی رہائشی افسر خالدہ حفیظ کو ملنے والا نوٹس میڈیا کے سامنے آ گیا جس میں طلبی نوٹس میں خالدہ حفیظ کو ایف آئی اے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت
کی گئی ہے -

ڈی پی او نے پولیس کی تفتیش کر دی
قصور
فرائض میں غفلت،ناقص تفتیش،کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر 4 پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاستگی جبکہ 26 کو مختلف محکمانہ سزائیں
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور نے خود احتسابی پر عملی کاروائی کرتے ہوئے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس لائن قصور میں اردل روم کے دوران شوکاز نوٹسز کے فیصلے سناتے ہوئے افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں دیں انہوں نے کرپشن، فرائض میں غفلت برتنے اورمسلسل غیر حاضری پر دو سب انسپکٹر دوکانسٹیبل کو نوکری سے برخاست کردیا، ناقص تفتیش،کرپشن اور فرائض میں غفلت برتنے پر تین انسپکٹراورچارسب انسپکٹر کو رینک کی ریورشن اور تنخواہ کی کٹوتی کی سزائیں دیں، اسی طرح فرائض میں غفلت برتنے،موثر گشت نہ کرنے،ناقص کارکردگی،ڈیوٹی سے غیر حاضری اور ناقص تفتیش مقدمہ کرنے پر19اہلکاروں کو سروس کی ضبطگی،جرمانوں اورانکریمنٹ سٹاپ سمیت مختلف سزائیں دیں۔ڈی پی اوقصور نے کہا کہ پولیس میں بددیانت، نا اہل اور کام چور اہلکاروں کی کوئی گنجائش نہیں اور جس کسی نے بھی اختیارات سے تجاوز کیایا کوئی خلاف قانون کا م کیا وہ خود کو کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھے جبکہ اچھی کارکردگی پر پولیس افسران واہلکاروں کو انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔ -

کروڑوں کی لاگت ،عوام پھر بھی محروم
قصور
پتوکی ہلہ بائی پاس پر اوور ہیڈ برج بنے سال گزر گیا مگر کروڑوں روپیہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا پل تاحال لوگوں کے لئے بے سود ،پل کو دونوں جانب سے کانٹے اور جھاڑیاں لگا کر بند کر رکھا ہے
تفصیلات کے مطابق جی ٹی روڈ پتوکی ہلہ بائی پاس پر آئے روز حادثات پیش آتے تھے جنہیں دور کرنے کیلئے گورنمنٹ نے لوگوں کی سہولت کے پیش نطر کروڑوں روپیہ سے پل بنا دیا مگر پل بننے کے باوجود عوام کو سہولت دینے سے قاصر ہے حالانکہ ایک سال سے زائد عرصہ پل بنے بیت گیا مگر پل مکمل ہونے کے باوجود ٹریفک کیلئے کھولا نا جا سکا پل مکمل ہونے کے باوجود دونوں طرف سے جھاڑیاں اور کانٹے لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو جی ٹی روڈ سے ہی گزرنا پڑتا ہے اور اب تک اسی بائی پاس پر لوگوں کے پیدل گزرنے سے کئی حادثات واقع ہو چکے ہیں
لوگوں نے حکام بالا سے نوٹس لے کر اس پل کو جلد سے جلد عوامی گزر گاہ کیلئے کارگر بنانے کی درخواست کی ہے -

قربانی کے جانور چیر پھاڑ دیئے
قصور
آوارہ کتوں نے لاکھوں روپے قربابی کے درجنوں بکرے چیر پھاڑ دیئے تمام بکرے ہلاک علاقہ بھر میں شدید خوف و ہراس اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر سے سدباب کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق تلونڈی کے معروف زمیندار محسن تہاڑیہ اور وحید تہاڑیہ نے قربانے کے بکرے پال رکھے تھے جنہیں رات کی تاریکی میں آوارہ کتوں نے چیر پھاڑ ڈالا اور تمام بکرے ہلاک ہو گئے یاد رہے آوارہ کتوں کی تلفی کے اختیارات یونین کونسلز و میونسپل کمیٹیز سطح پر منتقل ہو چکے ہیں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اگر آوارہ کتے تلف کرتی تو یہ دلخراش واقع پیش نہ آتا علاقہ بھر میں اس واقع کے بعد شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر سے کتوں کے سدباب کا مطالبہ کیا ہے