Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • زہر کا ٹیکہ لگا کر مارنے پر خوف

    زہر کا ٹیکہ لگا کر مارنے پر خوف

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں خوف کی فضا پیدا کر دی گئی زہر کا ٹیکہ لگا کر مارنے کی افواہ
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں کرونا وائرس کی وجہ سے اموات کے ڈر سے آؤٹ ڈور مریضوں کی تعداد میں زبردست کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ ایمرجنسی مریضوں میں بھی یہی ڈر پایا جاتا ہے اور یہ ڈر ڈالنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اسی ہسپتال میں تعینات وہ ڈاکٹرز ہیں جو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بھی پریکٹس کرتے ہیں جن میں ہر مرض کے ماہر ڈاکٹر وسیم اعجاز خود ایم ایس ڈاکٹر لیئق اور کئی دیگر ڈاکٹرز نے ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو کرونا وائرس میں مبتلا کرکے قرنطینہ میں ڈال کر حکومت کی’ظرف سے دیئے گئے کروڑوں کے فنڈ خورد برد کئیے اور اب اپنے کلینکس میں بیٹھ کر ڈر کے مارے مریضوں سے نوٹ کما رہے ہیں ہسپتال میں اپنے ماتحت عملے کے ذریعے یہ افواہ بھی پھیلا رکھی ہے کہ ہسپتال میں داخل کرونا وائرس کے مریضوں کو ٹیکہ لگا کر ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے ان ڈاکٹرز کے خلاف قانون کے مطابق انکوائری کرکے ضابطے کی کارروائی کی جائے

  • صحافی و ادیب علیم شکیل وفات پا گئے

    صحافی و ادیب علیم شکیل وفات پا گئے

    قصور
    بابائے صحافت قصور محترم علیم شکیل علالت کے بعد دنیا فانی سے کوچ کر گئے
    تفصیلات کے مطابق بابائے صحافت قصور جناب علیم شکیل صاحب آج رات تقریبا 12 بجے انتقال فرما گئے علیم شکیل کچھ عرصہ سے علیل تھے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں زیر علاج رہنے کے بعد ان کو حالت بگڑنے پر جنرل ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ آج رات خالق حقیقی سے جا ملے
    مرحوم کی صحافتی خدمات نئے صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہیں انہوں نے پنجابی زبان میں کئی مشاہرے کئے اور غزلوں و شعروں کے مجموعے پر کتب بھی لکھیں
    قصور کی صحافی برادری نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے

  • سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والا

    سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والا

    قصور
    چونیاں پولیس کی بڑی کاروائی لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنے والا گروہ گرفتار
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور کے حکم پر تھانہ سٹی چونیاں پولیس کی بڑی کارروائی لڑکیوں کی نازیبا تصاویر بنا کر بلیک میل کرنے والہ گینگ گرفتار کر لیا گیا ہے جو کہ کم عمر لڑکوں پر مشتمل ہے اس بارے لوگوں نے میڈیا ہر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیر اعظم پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب، آر پی او شیخوپورہ رینج اور پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تمام اعلیٰ افسران سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔ تاکہ ایسے بے غیرت لوگ دوبارہ کسی شریف انسان کا گھر برباد نہ کر سکیں

  • کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کالے جادو پر سزا کا بل زیر التوا اور عاملوں کی تشہیر کیوں؟ از قلم۔۔۔۔ غنی محمود قصوری

    ایک مسلمان ریاست و حکمران کا کام مسلم معاشرے میں برائی کا خاتمہ اور لوگوں کی اصلاح ہوتا ہے اگر کوئی فرد تنظیم یاں گروہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہا ہو تو حکومت وقت پر فرض ہے کہ ایسے لوگوں کا خاتمہ کیا جائے
    پاکستان میں جادو ٹونے کا کام سرعام ہو رہا ہے جو کہ ایک قبیح فعل ہے قرآن و حدیثِ نے اس کی سخت ممانعت کی ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تباہ کرنے والی چیز اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اس سے بچوں اور جادو کرنے اور کرانے سے بچو ۔۔ بخاری 5764
    ایک کم علم مسلمان بھی جانتا ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اس فعل کے مرتکب کا ہمیشگی ٹھکانہ جہنم ہے اور اسی کے بعد سب سے بد عمل جادو کرنا یا کروانا بھی ہے
    اللہ تعالی قرأن میں فرماتے ہیں
    اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے ۔سلیمان نے تو کفر نا کیا تھا بلکہ یہ کفر شیطان کا تھا،وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے ۔ سورہ البقرہ 102
    اللہ تعالی نے حضرت سلیمان کے دور میں جنوں کی مثال دے کر ہمیں سمجھا دیا کہ وہ لوگوں کو جادو سکھلا کر کفر کرتے تھے اور کفر بہت بڑا گناہ ہے
    آج ہم میں بھی یہ کفر بہت آ گیا ہے نا صرف یہ کفر کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تشہیر بھی سرعام کی جاتی ہے پاکستان کی ہر دیوار،اخبار،چینل حتی کہ سوشل میڈیا بھی انہی کے اشتہاروں سے بھرا پڑا ہے
    افسوس کہ ایک اسلامی ریاست میں رہتے ہوئے جعلی پیروں اور عاملوں کے اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف ہمارے مال کو لوٹتے ہیں بلکہ ہمارے ایمان کو بھی خراب کرتے ہیں بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان اللہ رب العزت کے قرآن اور محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ہونا چائیے مگر افسوس آج ہم اس نام نہاد جعلی پیروں کے چکر میں اپنی دولت و ایمان کے ساتھ ساتھ اپنی عزتوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ابھی ٹیلی ویژن و سوشل میڈیا پر کتنے ہی ان خبیث عاملوں اور بابوں کی عورتوں کی عزت کیساتھ کھلواڑ کرتے ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں مگر افسوس سب دیکھ ، سمجھ کر بھی ہم نادان بنے بیٹھے ہیں ایک طرف تو یہی میڈیا ان عاملوں پیروں،جعلی بابوں کے جرائم ہمیں دکھلاتا ہے تو دوسری طرف یہی میڈیا انہی بدکرداروں کی تشہیر میں بھی مصروف ہے اور ان کی تشہیر کرکے نوجوان نسل کو محبت میں فتح،ساس بہو کی لڑائی،دشمنوں کو بیمار کرنے اور ہنستے بستے گھروں کا سکون برباد کرنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں اور یہ عامل بابے بغیر کسی خوف کے اپنا مکرو دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں
    جادو کی روک تھام کیلئے پاکستان میں کوئی قانون موجود نہیں اس پر سابق حکمران جماعت ن لیگ کے سینیٹر چوہدری تنویر خان نے اگست 2017 کو ایوان بالا میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں،بابوں کے خلاف قانون بنا کر اس بدفعل پر دو سے سات سال تک قید اور دو لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا کیساتھ اس کی ہر قسم کی تشہیر کو ممنوع قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی مگر یہ بل پاس نا ہو سکا اور ابھی بھی زیر التواء ہے اس بل کے پاس نا ہونے سے ہمارے حکمرانوں کی اسلام سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ جس قبیح فعل کو قرآن و حدیث نے حرام کیا ،کہ جس میں بچوں تک کو قتل کر دیا جاتا ہے کہ جس میں قبروں میں سے مردے نکال کر بے ان کی حرمتی کی جاتی ہے، اور ہنستے بستے گھروں کا امن و سکون برباد ہو جاتا ہے اس کے خلاف پیش کئے گئے بل کو منظور نہیں کیا گیا جبکہ ذاتی مفادات کو ہمارے یہی حکمران بغیر سوچے سمجھے بھاری اکثریت سے منظور کروا لیتے ہیں
    حکومت وقت کو چائیے کہ اخبارات میں ان کے اشتہارات پر پابندی کیساتھ ان عاملوں،بابوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جائے تاکہ لوگ اپنے جان و مال کے علاوہ اپنی عزت و آبرو بھی بچا سکیں اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کچھ حد تک کم ہو سکیں
    اگر حکومت وقت اسلام و پاکستان سے مخلص ہے تو ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے کا حق ادا کرنے کیلئے اس بل کو پاس کروائے

  • بلدیہ نے ڈاکٹروں کے کاروبار تیز کرنے کی ٹھان لی

    بلدیہ نے ڈاکٹروں کے کاروبار تیز کرنے کی ٹھان لی

    قصور
    کوٹ اسلام پورہ قصور میں بلدیہ نے لوگوں کو بیمار کرکے ڈاکٹروں کے کاروبار چلانے کا فیصلہ کر لیا 3 ہفتوں سے گندگی کوڑا کرکٹ سڑکوں پر ،انتظامیہ سو گئی، پورے محلے میں بدبو کا راج بیماریاں جنم لینے لگیں
    تفصیلات کے مطابق کوٹ اسلام پورہ سٹی قصور میں بلدیہ قصور نے لوگوں کو بیمار کروا کر ڈاکٹروں کے کاروبار تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے
    اہلیان محلہ نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 ہفتوں سے صفائی کا عملہ گندگی اٹھانے نہیں آیا جس سے ہر طرف بدبو پھیل رہی ہے اوپر سے برسات کا موسم ہے جس سے گندگی میں کیڑے بننا شروع ہو گئے ہیں بلدیہ کا عملہ چائے پانی کے بغیر کام نہیں کرتا اور اوپر سے مہنگائی و لاک ڈاؤن سے لوگ مالی مشکلات کا شکار ہیں ایسے میں بلدیہ اہلکاران کو رشوت کیسے دی جائے آئے روز کی بارش سے کوڑا کرکٹ لوگوں کے گھروں میں برسات کے پانی کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے
    اہل محلہ نے ڈی سی قصور منظر علی جاوید سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی صحت کا خیال کرتے ہوئے کوڑا کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر اٹھوائے جائیں اور کرپٹ و راشی عملہ صفائی کو معطل کرکے نئے ایماندار عملہ کو تعینات کیا جائے

  • سانحہ چونیاں کے ملزم کو سزا

    سانحہ چونیاں کے ملزم کو سزا

    قصور
    سانحہ چونیاں کے ملزم کو سزا سنا دی گئی لوگوں کا سزا پر اظہار اطمینان لوگوں کی طرف سے سرعام پھانسی کا بھی مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج اعجاز احمد بٹر نے سانحہ چونیاں کے ملزم سہیل شہزاد کو بچے علی حسنین سے زیادتی اور قتل کیس میں 3 بار سزائے موت کی سزا سنا دی ہے
    ملزم کا فیصلہ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں سنایا گیا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چونیاں پولیس نے بچوں سے زیادتی اور قتل کے الزام میں چالان پیش کر رکھا تھا اس کیس کی پوری سماعت کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی عدالت نے گواہوں کے بیانات اور وکلاء کے دلائل کے بعد ملزم پر جرم ثابت ہونے پر اس کو تین بار سزائے موت کی سزا سنا دی ۔فیصلہ جیل میں سنایا گیا ملزم کو اس سے قبل زیادتی فیضان نامی بچے کے ایک کیس میں تین دفعہ سزائے موت اور تیس لاکھ جرمانہ کی سزا ہو چکی ہے ملزم کے خلاف چونیاں پولیس نے دوہزار انیس میں مقدمہ درج کیا تھا۔

  • چائلڈ پروٹیکشن پر اہم پیش رفت

    چائلڈ پروٹیکشن پر اہم پیش رفت

    قصور
    ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن بیورو بینش فاطمہ اور ڈی سی قصور منظر جاوید علی کے زیر صدارت چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل چائلڈ پروٹیکشن بیورو بینش فاطمہ ڈپٹی کمشنر قصورمنظر جاوید علی کے زیر صدارت چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس گزشتہ روز ڈی سی کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ایڈمن چائلڈ پروٹیکشن بیورو حمیرا ارشاد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد کاشف ڈوگر،ڈی ایس پی لیگل شیخ فیاض، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد جواد، ڈسٹرکٹ انچارج چائلڈ پروٹیکشن محمد عدنان لقمان، فوکل پرسن زرتاب راجہ اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں چائلڈ رائٹس اور چائلڈ ابیوز کے خاتمے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اورآئندہ کیلئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع قصور میں تمام محکمہ جات ملکر چائلڈ ابیوز اور چائلڈ رائٹس کیلئے کام کرینگے تا کہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے علاوہ شہریوں کو چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائیگا

  • 22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر  از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو کشمیریوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان قربانیوں میں سے ایک قربانی ایسی بھی ہے کہ جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کیساتھ اسلام سے محبت کی انوکھی مثال بھی ملتی ہے جس کی مثال پہلے کوئی نہیں ملتی اور اس قربانی پر دنیا عش عش کر اٹھتی ہے
    13 جولائی 1931 کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے کہ جس دن 22 کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اسلام کے فریضہ اذان کو مکمل کیا اور یوں دنیا میں یہ پہلی اذان بن گئی کہ جس کی تکمیل کیلئے 22 جانیں اللہ کی راہ میں دے کر اذان کو مکمل کیا گیا
    اس قربانی سے کشمیری قوم نے ثابت کر دیا کہ تحریک آزادی کا فرض ادا کرنے کیلئے فرائض اسلام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے چاہے کوئی بھی قربانی پیش کرنی پڑے وہ دریغ نہیں کرینگے
    یوم شہداء کشمیر کی مکمل تفصیل یہ ہے کہ آج سے تقریباً 89 سال قبل 25 جون 1931 کو سری نگر میں مسلمانان کشمیر نے اپنی آزادی کی خاطر ظالم قابض مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں شرکاء نے آزادی کیلئے خطاب کیا اس دوران ایک نامعلوم جوان عبدالقدیر آگے بڑھا اور سٹیج پر جا کر کشمیریوں کو قرآن و حدیث سے آزادی کیلئے ابھارا جس پر پورا مجمع پرجوش ہو کر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف نعرے لگانے لگا اور آزادی کشمیر کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوتا دکھائی دینے لگا اس پر سیخ پا ہو کر متعصب سرکار نے عبدالقدیر کو گرفتار کرکے اس پر بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا جس پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی
    13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کو عدالت پیش کیا جانا تھا اس لئے ہزاروں کشمیری اپنے محسن عبدالقدیر کے دیدار کے جمع تھے اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا ظاہری بات ہے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے فریضہ اذان لازم ہے سو اسلام پسند غیور کشمیریوں میں سے ایک اذان کیلئے آگے بڑھا ابھی اس نے اذان شروع کی ہی تھی کہ بغض و حسد میں مبتلا ڈوگرہ سپاہی نے مؤذن پر گولی چلا دی مؤذن کے گرتے ہی دوسرا کشمیری آگے بڑھا اور آذان کہنا شروع کر دی اس ظالم و متعصب سپاہی نے پھر گولی چلائی اور مؤذن کو شہید کر دیا اتنے میں بغیر خوف اور نتیجے کی پرواہ کئے تیسرا کشمیری اٹھا اور آذان جاری رکھی یوں مسلمانوں کی آزادی سے خوف زدہ ڈوگرہ فوج نے گولیاں چلائیں اور مؤذنوں کو شہید کرتے رہے ادھر کشمیری بھی جذبہ اسلام سے سر شار تھے وہ بھی ایک ایک کرکے سینے پر گولی کھاتے گئے اور آخر کار 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے
    تحریک آزادی کے شروع سے ہی اتنی بڑی قربانی دے کر کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ چاہے جتنی بڑی قربانی دینی پڑے وہ تیار ہیں اور بغیر سوچے قربانی دینگے اور تب سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری آزادی کشمیر کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
    ادھر موجود قابض ہندو مودی گورنمنٹ نے ڈوگرا راج کی طرح ظلم و تشدد کا راج قائم کرتے ہوئے پچھلے سال 5 اگست سے کرفیو لگا رکھا ہے تاکہ کشمیری آزادی کو بھول جائیں مگر کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے ہندو فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں
    ہم چھین کے لینگے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    شاید کشمیر کی صورتحال پر ہی شاعر نے یہ شعر کہا تھا
    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں
    ان شاءاللہ بہت جلد آزادی کشمیر اپنی تکمیل کو ہے اور یہی آزادی کشمیر بربادی ہند میں بدل جائے گی ان شاءاللہ کیونکہ دنیا کشمیریوں کی قربانیوں سے بخوبی واقف ہے
    کشمیری کٹ تو سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے کیونکہ کشمیریوں کا نعرہ ہے تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ

  • خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ

    خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ

    قصور
    کاروباری پریشانیاں،مہنگائی بے روزگاری اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر ملک میں خود کشیوں میں اضافہ ہو گیا کل پتوکی میں پیٹرول پمپ مالک نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا
    تفصیلات کے مطابق کل پتوکی میں واں آدھن روڈ پر نزد سنیارہ والا بھٹہ کے قریب واقع پی ایس او پیٹرول پمپ کے مالکان نے خودکشی کرلی
    پتوکی پٹرول پمپ کے مالکان نے اپنے دفتر کے اندر اپنے سر میں اپنے ہی پسٹل سے گولی ماری
    ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مذکورہ شحض کافی دنوں سے پریشان تھا

  • پولیس ناکام، ڈاکوؤں کی جیت

    پولیس ناکام، ڈاکوؤں کی جیت

    قصور
    تھانہ الہ آباد کی حدود میں دن دیہاڑے ڈکیتیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا آئے روز ڈاکو تاجروں سمیت عوام کو لوٹنے میں مصروف کل الہ آباد کے نواح تلونڈی غلہ منڈی میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ،تاجر برادری نے ڈاکو راج کے خلاف قصور دیپالپور روڈ بلاک کر دیا
    تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں سے تھانہ الہ آباد کی حدود میں دن دیہاڑے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے تاجروں اور عوام کا جینا محال بنا دیا ہے آئے روز ڈکیتی و چوری ہونا معمول بن گیا ہے کل بھی غلہ منڈی تلونڈی کے آڑھتی یاسر اور خالد الہ آباد کے نجی بینک سے رقم لیکر تلونڈی آرہے تھے کہ 3 مسلح نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے غلہ منڈی کی حدود میں لوٹ لیا ڈاکو ہزاروں روپے نقدی لوٹ کر دندناتے فرار ہوگئے 15 پر کال کرنے سے مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی تاجر برادر ی کا آئے روز ڈکیتی چوری نہ رکنے پر روڈ بلاک کرکے احتجاج