Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • سانحہ چونیاں کے ملزم کو سزا

    سانحہ چونیاں کے ملزم کو سزا

    قصور
    سانحہ چونیاں کے ملزم کو سزا سنا دی گئی لوگوں کا سزا پر اظہار اطمینان لوگوں کی طرف سے سرعام پھانسی کا بھی مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج اعجاز احمد بٹر نے سانحہ چونیاں کے ملزم سہیل شہزاد کو بچے علی حسنین سے زیادتی اور قتل کیس میں 3 بار سزائے موت کی سزا سنا دی ہے
    ملزم کا فیصلہ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں سنایا گیا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چونیاں پولیس نے بچوں سے زیادتی اور قتل کے الزام میں چالان پیش کر رکھا تھا اس کیس کی پوری سماعت کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی عدالت نے گواہوں کے بیانات اور وکلاء کے دلائل کے بعد ملزم پر جرم ثابت ہونے پر اس کو تین بار سزائے موت کی سزا سنا دی ۔فیصلہ جیل میں سنایا گیا ملزم کو اس سے قبل زیادتی فیضان نامی بچے کے ایک کیس میں تین دفعہ سزائے موت اور تیس لاکھ جرمانہ کی سزا ہو چکی ہے ملزم کے خلاف چونیاں پولیس نے دوہزار انیس میں مقدمہ درج کیا تھا۔

  • چائلڈ پروٹیکشن پر اہم پیش رفت

    چائلڈ پروٹیکشن پر اہم پیش رفت

    قصور
    ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن بیورو بینش فاطمہ اور ڈی سی قصور منظر جاوید علی کے زیر صدارت چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں ڈائریکٹر جنرل چائلڈ پروٹیکشن بیورو بینش فاطمہ ڈپٹی کمشنر قصورمنظر جاوید علی کے زیر صدارت چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے جائزہ اجلاس گزشتہ روز ڈی سی کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر ایڈمن چائلڈ پروٹیکشن بیورو حمیرا ارشاد، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد کاشف ڈوگر،ڈی ایس پی لیگل شیخ فیاض، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد جواد، ڈسٹرکٹ انچارج چائلڈ پروٹیکشن محمد عدنان لقمان، فوکل پرسن زرتاب راجہ اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں چائلڈ رائٹس اور چائلڈ ابیوز کے خاتمے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اورآئندہ کیلئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضلع قصور میں تمام محکمہ جات ملکر چائلڈ ابیوز اور چائلڈ رائٹس کیلئے کام کرینگے تا کہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے علاوہ شہریوں کو چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائیگا

  • 22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر  از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    22 مؤذنوں کی شہادت اور 13 جولائی یوم شہداء کشمیر از قلم ۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو کشمیریوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان قربانیوں میں سے ایک قربانی ایسی بھی ہے کہ جس سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر کیساتھ اسلام سے محبت کی انوکھی مثال بھی ملتی ہے جس کی مثال پہلے کوئی نہیں ملتی اور اس قربانی پر دنیا عش عش کر اٹھتی ہے
    13 جولائی 1931 کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے کہ جس دن 22 کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر اسلام کے فریضہ اذان کو مکمل کیا اور یوں دنیا میں یہ پہلی اذان بن گئی کہ جس کی تکمیل کیلئے 22 جانیں اللہ کی راہ میں دے کر اذان کو مکمل کیا گیا
    اس قربانی سے کشمیری قوم نے ثابت کر دیا کہ تحریک آزادی کا فرض ادا کرنے کیلئے فرائض اسلام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے چاہے کوئی بھی قربانی پیش کرنی پڑے وہ دریغ نہیں کرینگے
    یوم شہداء کشمیر کی مکمل تفصیل یہ ہے کہ آج سے تقریباً 89 سال قبل 25 جون 1931 کو سری نگر میں مسلمانان کشمیر نے اپنی آزادی کی خاطر ظالم قابض مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں شرکاء نے آزادی کیلئے خطاب کیا اس دوران ایک نامعلوم جوان عبدالقدیر آگے بڑھا اور سٹیج پر جا کر کشمیریوں کو قرآن و حدیث سے آزادی کیلئے ابھارا جس پر پورا مجمع پرجوش ہو کر مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف نعرے لگانے لگا اور آزادی کشمیر کے لئے مر مٹنے کو تیار ہوتا دکھائی دینے لگا اس پر سیخ پا ہو کر متعصب سرکار نے عبدالقدیر کو گرفتار کرکے اس پر بغاوت کا مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا جس پر مسلمانوں میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی
    13 جولائی 1931 کو عبدالقدیر کو عدالت پیش کیا جانا تھا اس لئے ہزاروں کشمیری اپنے محسن عبدالقدیر کے دیدار کے جمع تھے اتنے میں نماز ظہر کا وقت ہو گیا ظاہری بات ہے اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے فریضہ اذان لازم ہے سو اسلام پسند غیور کشمیریوں میں سے ایک اذان کیلئے آگے بڑھا ابھی اس نے اذان شروع کی ہی تھی کہ بغض و حسد میں مبتلا ڈوگرہ سپاہی نے مؤذن پر گولی چلا دی مؤذن کے گرتے ہی دوسرا کشمیری آگے بڑھا اور آذان کہنا شروع کر دی اس ظالم و متعصب سپاہی نے پھر گولی چلائی اور مؤذن کو شہید کر دیا اتنے میں بغیر خوف اور نتیجے کی پرواہ کئے تیسرا کشمیری اٹھا اور آذان جاری رکھی یوں مسلمانوں کی آزادی سے خوف زدہ ڈوگرہ فوج نے گولیاں چلائیں اور مؤذنوں کو شہید کرتے رہے ادھر کشمیری بھی جذبہ اسلام سے سر شار تھے وہ بھی ایک ایک کرکے سینے پر گولی کھاتے گئے اور آخر کار 22 مؤذنوں کی شہادت کے بعد اذان مکمل ہوئی اور دنیا کی تاریخ میں ایک ایسی اذان بن گئی کہ جس کیلئے 22 جانیں دینا پڑیں مگر کشمیریوں نے اذان کی تکمیل کی خاطر اپنی جانیں دینے سے دریغ نا کیا جس پر ڈوگرا راج دہشت کا شکار ہو گیا اور یوں کشمیر کی تحریک آزادی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور اسی دن کو یوم شہداء کشمیر کے نام سے منایا جاتا ہے
    تحریک آزادی کے شروع سے ہی اتنی بڑی قربانی دے کر کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ چاہے جتنی بڑی قربانی دینی پڑے وہ تیار ہیں اور بغیر سوچے قربانی دینگے اور تب سے اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری آزادی کشمیر کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے
    ادھر موجود قابض ہندو مودی گورنمنٹ نے ڈوگرا راج کی طرح ظلم و تشدد کا راج قائم کرتے ہوئے پچھلے سال 5 اگست سے کرفیو لگا رکھا ہے تاکہ کشمیری آزادی کو بھول جائیں مگر کشمیری پہلے سے زیادہ جوش و جذبے سے ہندو فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں
    ہم چھین کے لینگے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    شاید کشمیر کی صورتحال پر ہی شاعر نے یہ شعر کہا تھا
    ادھر آ ستم گر ہنر آزمائیں
    تم تیر آزماؤں ہم جگر آزمائیں
    ان شاءاللہ بہت جلد آزادی کشمیر اپنی تکمیل کو ہے اور یہی آزادی کشمیر بربادی ہند میں بدل جائے گی ان شاءاللہ کیونکہ دنیا کشمیریوں کی قربانیوں سے بخوبی واقف ہے
    کشمیری کٹ تو سکتے ہیں مگر جھک نہیں سکتے کیونکہ کشمیریوں کا نعرہ ہے تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ

  • خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ

    خودکشیوں میں خطرناک حد تک اضافہ

    قصور
    کاروباری پریشانیاں،مہنگائی بے روزگاری اور امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر ملک میں خود کشیوں میں اضافہ ہو گیا کل پتوکی میں پیٹرول پمپ مالک نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا
    تفصیلات کے مطابق کل پتوکی میں واں آدھن روڈ پر نزد سنیارہ والا بھٹہ کے قریب واقع پی ایس او پیٹرول پمپ کے مالکان نے خودکشی کرلی
    پتوکی پٹرول پمپ کے مالکان نے اپنے دفتر کے اندر اپنے سر میں اپنے ہی پسٹل سے گولی ماری
    ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مذکورہ شحض کافی دنوں سے پریشان تھا

  • پولیس ناکام، ڈاکوؤں کی جیت

    پولیس ناکام، ڈاکوؤں کی جیت

    قصور
    تھانہ الہ آباد کی حدود میں دن دیہاڑے ڈکیتیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا آئے روز ڈاکو تاجروں سمیت عوام کو لوٹنے میں مصروف کل الہ آباد کے نواح تلونڈی غلہ منڈی میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ،تاجر برادری نے ڈاکو راج کے خلاف قصور دیپالپور روڈ بلاک کر دیا
    تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں سے تھانہ الہ آباد کی حدود میں دن دیہاڑے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے تاجروں اور عوام کا جینا محال بنا دیا ہے آئے روز ڈکیتی و چوری ہونا معمول بن گیا ہے کل بھی غلہ منڈی تلونڈی کے آڑھتی یاسر اور خالد الہ آباد کے نجی بینک سے رقم لیکر تلونڈی آرہے تھے کہ 3 مسلح نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے غلہ منڈی کی حدود میں لوٹ لیا ڈاکو ہزاروں روپے نقدی لوٹ کر دندناتے فرار ہوگئے 15 پر کال کرنے سے مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی تاجر برادر ی کا آئے روز ڈکیتی چوری نہ رکنے پر روڈ بلاک کرکے احتجاج

  • شراب کی سپلائی جاری

    شراب کی سپلائی جاری

    قصور
    ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد رائے ناصر عباس کی بڑی کاروائی ولائتی شراب کی بہت بڑی کھیپ پکڑ لی
    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ اور مصطفی آباد اور چوکی انچارج بیدیاں محمد طیب نے سرحدی گاؤں میں ولائتی شراب سپلائی کرنے والے گروہ کے پانچ افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے چار لاکھ روپے مالیت کی مہنگے برانڈ کی ولائتی شراب بر آمد کر لی
    ملزمان لاہور سے رکشہ پر سرحدی دیہات میں شراب کی سپلائی کرتے تھے جس سے کئی لوگ شراب کے عادی ہو چکے تھے
    پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے حوالات میں بند کر دیا ہے

  • گلیاں،سڑکیں تالاب

    گلیاں،سڑکیں تالاب

    قصور
    بارش نے میونسپل کمیٹی الہ آباد کی ناقص کارکردگی کا پول کھول دیا سڑکیں اور گلیاں بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں کرپٹ اور نااہل عملہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز الہ آباد میں ہونے والی بارش نے میونسپل کمیٹی کے نااہل اور کرپٹ ملازمین کی نااہلی اور سستی کا پول کھول دیا سیوریج اور صفائی کی ناقص صورتحال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے الہ آباد شہر ندی نالوں کا منظر پیش کر رہا ہے دیپالپور روڈ اور کنگن پور روڈ کی سڑکیں پانی سے بھری پڑی ہیں گلی محلوں میں پانی کھڑا ہے میونسپل کمیٹی کا عملہ پانی نکالنے میں ناکام ہو چکا ہے میونسپل کمیٹی کے ملازمین کرپشن کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں شہر کی بہتری کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہے مقامی شہریوں محمد اقبال، سہیل احمد، مدثر رشید ،محمد طارق وغیرہ نے نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • شہر جواریوں کے رحم کرم پر

    قصور
    پتوکی میں۔تاش۔ پرچی ۔سنوکر اور کرکٹ میچ جوا عروج پر انتظامیہ بلکل خاموش کئی بار ہائی لائٹ کرنے کے باوجود سٹی پولیس نے چپ سادھ لی کوئی پوچھنے والا نہیں شہر کو جواریوں کے سپرد چھوڑ دیا
    تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف اہم خفیہ مقامات پر تاش۔ پرچی ۔سنوکر اور کرکٹ میچ جوا کے محفوظ ٹھکانے قائم ہو گئے جہاں روزانہ لاکھوں روپے کا جوا کھیلا جاتا ہے
    تاش۔ پرچی ۔سنوکر اور کرکٹ میچ جوا سے سینکڑوں شہری امیر ہونے کے لالچ میں جمع پونجی بھی گنوا بیٹھے۔ بعض ادھار اور سود پر رقم لینے پر مجبور ہیں
    یہ جوا کرانے والے معمولی بکیئے راتوں رات کروڑ پتی اور محلات و کوٹھیوں کے مالک بن گئے ہیں۔
    کرکٹ میچ جوا کرانے والے بکیوں نے غیر قانونی دھندہ کے لئے اپنی منی ٹیلی فون ایکسچینج قائم کر لی۔ ہے
    ۔ضلع اوکاڑہ.مانگا منڈی پھولنگر چونیاں ۔کوٹرادھاکشن کے جواریوں نے محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہوئے پتوکی کا رخ کر لیا۔
    پتوکی کے مختلف مقامات لاہور والا اڈا ۔کریم پارک ۔قصور والا اڈا۔پرانی منڈی مین بازار محلہ شریف پورہ ۔کاشف چوک ۔مدینہ کالونی ۔چوک جھلار ۔ملک پورہ ۔احمد نگر ملاں والا بائے پاس ۔میگھا روڈ ۔ادھن روڈ اور زاہد ہاوسنگ سکیم سمیت دیگر علاقوں میں تاش۔ پرچی ۔سنوکر اور کرکٹ میچ جواکے محفوظ ٹھکانے قائم
    کرکٹ میچ اور جوا کرانے والے بکی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے انکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔
    عوامی وسماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار آر پی او شیخوپورہ ۔ ڈی پی او قصور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • حقیقی بیٹے ہی باپ کے دشمن

    حقیقی بیٹے ہی باپ کے دشمن

    قصور
    پتوکی کے نواحی گاوں سہجووال کے رہائشی بابا عبدلکریم پر زمین کے تنازعہ پر تین حقیقی بیٹوں علی محمد وزیر محمد نے مسلحہ ساتھیوں سلیم شبیر حسین عرف لالی محمد اصغر محمد افضل کیساتھ ملکر قاتلانہ حملہ کیا
    تفصیلات کے مطابق پتوکی کے گاؤں سہجووال میں عبدالکریم نامی شخص فصلوں کو پانی لگا رھا کہ اسکے تین حقیقی بیٹوں نے اپنے مسلح ساتھیوں سمیت اپنے ہی حقیقی باپ عبدالکریم پر حملہ کر دیا اور اسے کلہاڑیوں کے وار کرکے شدید زخمی کردیا اور خود موقع سے فرار ہوگئے انکے ایک بیٹے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس سے پہلے چوکی حبیب آباد کو ان ملزمان بیٹوں کے خلاف متعدد بار درخواستیں بھی دی ہیں کہ ملزمان بیٹوں نے عبدلکریم کو جان سے مارنے دھمکیاں بھی دی ہیں لیکن پولیس والوں نے ان کیساتھ سازباز کر رکھی اور ہمیں کوئی تحفظ نہیں دیا
    لہذا ڈی پی او قصور سے اپیل ہے کہ ہمیں ان سے تحفظ دیا جائے اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے

  • بیٹے کا قاتل باپ ہی نکلا

    بیٹے کا قاتل باپ ہی نکلا

    قصور
    ظلم کی انتہاہ زمین پھٹی نا آسمان گرا سگا باپ ہی قاتل نکلا
    تفصیلات کے مطابق کل کھڈیاں بی آر بی نہر سے مردہ ملنے والے تین سالہ بچے کا باپ ھی قاتل نکلا
    ایس پی انویسٹیگیشن قصور نے بتایا کہ کل کھڈیاں نہر سے ایک بچے کی لاش ملی جس پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کیا اور تفتیش شروع کر دی اور یہ بات سامنے آئی کہ تین سالہ سبحان کو حقیقی والد نے سابقہ بیوی کے کہنے پر قتل کیا تھا اور لاش نہر میں پھینک دی تھی ندیم نامی شخص کی اپنی موجودہ بیوی سے ناراضگی چل رھی تھی جس پر پرسوں شام ندیم نے غصے میں اپنے بیٹے کو لیکر باھر گیا اور واپس آکر اسکے گم ھونے کا شور ڈال دیا
    پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مذید تفتیش کر رہی ہے