قصور
کوٹ رادھاکش میں چھوٹے تاجر معاشی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں لاک ڈاون نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے
ان خیالات کا اظہار مرکزی انجمن تاجراں الپاک بازار کے صدر ملک محمد ارشاد ، سرپرست چوہدری محمد ارشاد اسلم ،صدر منیاری مرچنٹ عبدالرشید کلاتھ مرچنٹ محمد افضل شوز مرچنٹ شیخ عرفان زرگر ایسوسی ایشن شہزاد اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتی ہو کیا انہوں نے کہا کہ لاک ڈاون میں تاجروں نے حکومتی ایس او پیز پر مکمل عمل کیا ہے لیکن اب ان کی معاشی حالت بلکل خراب ہو رہی ہے اور اگر حالات اسی طرح چلتے رہے تو وہ فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے حکومت کو لاک ڈاون میں مذید نرمی پیدا کر کے انہیں محدود پیمانے پر کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دینی چاہیے اور ساتھ ساتھ معاشی معاملات کی بہتری کے لئے بلا سود آسان اقساط پر قرضے بھی جلد سے جلد فراہم کرنے چاہیں جیسا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں وعدہ کیا ہے سو اس وعدے کو پورا کیا جائے تاکہ جلد سے جلد تاجروں کے ساتھ ملکی معیشت میں بھی بہتری آ سکے
Author: غنی محمود قصوری

تاجر شدید پریشان حکومتی تعاون کے منتظر

ایس ایچ او کی بدمعاشی ، صحافیوں کا احتجاج
قصور
سنیئر صحافی محمدحسین کے خلاف جھوٹھا مقدمہ درج کرنے پر صحافیوں کا مصطفی آباد للیانی میں احتجاجی مظاہرہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پریس کلب مصطفی آباد کے سنیئر صحافی محمد حسین کے خلاف پولیس تھانہ مصطفی آباد نے میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جھوٹا و بے بنیاد مقدمہ درج کیا تھا جس کے خلاف پریس کلب مصطفی آباد کی صحافی برادری نے ایس ایچ او تھانہ مصطفی آباد فاروق احمد رانجھا کی غنڈا گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے پولیس کی غنڈا گردی اور بلیک میلر حملہ آوروں کے خلاف نعرے بازی کی اور جھوٹا مقدمہ خارج کرکے حملہ آور دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا،اس موقع پر صدر پریس کلب مصطفی آبادللیانی محمد عمران سلفی ، سرپرست اعلی ڈاکٹر اصغر علی شہزاد، گروپ لیڈر زبیر احمد بھٹی ، سنیئر صحافی شاہد عمر ودیگر صحافیوں نے کہا کہ جھوٹا مقدمہ فوری خارج کرنے اور حملہ آور بلیک میلر دس افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے نیز مظاہرین نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او فاروق احمد رانجھا جھوٹا مقدمہ درج کرکے نہ جانے کون سے عزائم حاصل کرنا چاہتا ہے،اگر ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے صحافیوں کو خاموش کروانا چاہتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے،ہم آئی جی پنجاب، ڈی آئی جی ، وزیر اعلی پنجاب، وزیر اطلاعات، ڈی پی او قصور ودیگر اعلی حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے جھوٹھا مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، احتجاجی مظاہرہ میں بابا طارق مقبول، سیٹھ محمد حسین، محمد جمیل سندھو،، عبدالقیوم،محمد اکمل کھوکھر،الیاس ملک،سردارہا رون اقبال سندھو، ارشد علی شامی، زرار علی خاں ،واحد ملک،ملک جمیل احمد،منیر احمد بھٹی، ارشد علی جوئیہ،رانا توقیر احمد ، عبدالمنان سلفی، محمد طاہر میو، مہر علی مہران، حافظ محمد طاہر اقبال،مہر مراد علی ایڈووکیٹ،ملک اصغرعلی،ناصر سندھو، حاجی عبدالقادر، چوہدری اشتیاق، آصف امین ، ذوالفقار علی ودیگر صحافیوں کی طرف سے پولیس تھانہ مصطفی آباد کی غنڈا گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی
کیا ریاض نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہوئی؟ تحریر :غنی محمود قصوری
گزشتہ سال 5 اگست سے تاحال مقبوضہ وادی کشمیر میں کرفیو نافذ ہے جس کی بدولت کشمیریوں کا کاروبار زندگی معطل ہے انٹرنیٹ و موبائل سروس بند ہے کرونا کی وجہ سے پچھلے ماہ انٹرنیٹ کی بحالی چند علاقوں میں بطور مجبوری کی گئی تھی جسے اب ریاض نائیکو کی شہادت پر پھر بند کر دیا گیا ہے
اس وقت مقبوضہ وادی جموں و کشمیر میں تقریںا 10 لاکھ انڈین فوج و پولیس تعینات ہے جبکہ مقبوضہ وادی کی آبادی 80 لاکھ ہے یعنی ہر 8 کشمیریوں پر ایک قابض ہندو فوجی مسلط ہے اور یوں وادی کشمیر جنت نظیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے
90 کی دہائی سے غیور کشمیری انڈین فوج کے ساتھ مسلح نبرد آزما ہیں جس کی بابت ہندو آئے دن کرفیو لگائے رکھتا ہے مگر موجودہ مودی گورنمنٹ نے وادی میں طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے
اس لاک ڈاؤن سے قبل انڈین فورسز سے لشکر طیبہ،حرکت المجاہدین،البدر،جیش محمد اور حزب المجاہدین جیسی مسلح جہادی تنظمیں ہی متحرک تھیں مگر حیرت انگیز طور پر جب سے انڈیا نے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کرکے طویل ترین لاک ڈاؤن کیا ہے تب سے مسلح جہادی تنظیموں میں اضافہ ہوا ہے ان نئی تنظیموں میں تحریک ملت اسلامی جموں و کشمیر ،جموں و کشمیر غزنوی فورس،دی جوائنٹ کشمیر فرنٹ اور دی ریزیڈنس فرنٹ نامی مسلح جہادی تنظمیں بھی بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہیں
رواں سال جنوری سے اب تک انڈین فورسز نے ظلم و بربریت کو برقرار رکھتے ہوئے 27 بڑے آپریشن کئے ہیں جن میں 64 مجاہدین شہید اور 25 گرفتار ہوئے ہیں اور یہ شہادتیں اور گرفتاریاں تاریخی لحاظ سے اب تک سب سے زیادہ ہیں
6 مئی 2020 کو حزب المجاہدین کے ٹاپ کمانڈر ریاض نائیکو بھی انڈین فورسز کیساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے ہیں جس سے تحریک آزادی کشمیر سے پیار کرنے والے خاص طور پر فکر مند ہو گئے ہیں مگر جانتے ہیں کیا واقعی نائیکو کی شہادت سے تحریک آزادی کمزور ہو گی؟
33 سال قبل پلوامہ کے گاؤں بیگ پور میں اسد اللہ نائیکو کے گھر ریاض نائیکو نے آنکھ کھولی ریاض نائیکو تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریاضی ٹیچر مقرر ہوئے مگر ان کا خواب انجینئر بننا تھا مگر ان کے اندر کا ریاضی دان ہر وقت انڈین فورسز کے ظلم کو بھی جمع کرتا رہا 2003 میں ریاض نائیکو کی والدہ کے کزن کو انڈین فورسز نے جعلی مقابلے میں شہید کر دیا اور وقت فوقتاً ریاض نائیکو کے گھرانے کو بھی تلاشی کے بہانے تنگ کیا جاتا رہا جس پر نائیکو سخت نالاں تھے اور بالآخر 21 مارچ 2010 کو حزب المجاہدین سے اپنی مسلح زندگی کا آغاز کیا اور بہت جلد نائیکو نے ایک ماہر ریاضی دان ہونے کے ناطے انڈین فورسز کی مشکلات میں جمع کا اضافہ کیا 2016 میں ٹاپ کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ان کو حزب المجاہدین کا آپریشنل چیف مقرر کیا گیا اور جلد ہی نائیکو کی صلاحیتوں سے انڈین فورسز بوکھلا گئیں اور ان کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپیہ مقرر کر دی گئی وانی کی شہادت کے بعد وہ سب سے معتبر اور زندہ ٹاپ کمانڈر تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے انڈین فورسز نے کئی آپریشن کئے مگر ہر بار ناکام رہی 2 مئی کو انڈین فورسز اپنے ایک کرنل،میجر اور سپیشل آپریشنل گروپ کے کمانڈو کی ہلاکت کے بعد سخت ہواس باختہ ہو گئی ایسے میں 6 مئی کو گزشتہ 6 ماہ سے ایجنسیوں کے سپیشل ٹارگٹ ریاض نائیکو کی اطلاع سکیورٹی فورسز کو ملی جنہوں نے اپنی حال ہی میں بنی درگت کا بدلہ لینے کیلئے بہت بڑا آپریشن کیا مگر نائیکو کو زندہ پکڑنے میں ناکام ہونے پر نائیکو کے پناہ حاصل کئے ٹھکانے کو بارود سے اڑا کر نائیکو کو شہید کر دیا گیا ان کیساتھ اور مجاہد بھی شہید ہوئے نائیکو کی شہادت پر انڈین فوج نے ایک تاریخی خوشی محسوس کی اور ایسے اظہار کیا جیسے اب تحریک آزادی کمزور ہو جائے گی مگر وہ بھول گئے ہیں کہ ابو قاسم کی شہادت سے برہان وانی ابھر کر سامنے آیا تھا پھر اس کے بعد ریاض نائیکو انڈین فورسز کیلئے ڈراؤنا خواب بن گیا تھا حالانکہ اس وقت تک پہلے والی فریڈم فائٹرز تنظیمیں ہی تھیں جبکہ اب 4 مذید نئی مسلح عسکری تنظیمیں بھارت کے مدمقابل ہیں اور ان کے سربراہان انڈین فورسز کیلئے اپنے ویڈیو پیغام بھی جاری کر چکے ہیں جو کہ انڈین فورسز کے سینوں پر مونگ دل رہے ہیں
نائیکو کی شہادت سے نئے نوجوان تحریک آزادی کیلئے میدانوں میں اتریں گے جیسے نائیکو اترا تھا سو یہ تحریک آزادی مذید تقویت کیساتھ انڈین فورسز کیلئے سر درد بنے گی اور تقویت پائے گی کیونکہ تاریخ گواہ ہے کشمیریوں نے نا اپنے ارادے بدلے ہیں اور نا ہی اپنے نعرے اب ہر آنے والے دن میں کشمیریوں کے دلوں میں جذبہ آزادی ابھر رہا ہے
شہید کی جو موت ہے قوم کی وہ حیات ہے
ریوینیو میں کمی کے اسباب
قصور
حکومت کیطرف سے ریلیف پیکج کے باوجود پنجاب بھر کی رجسٹری برانچز اور قصور میں رجسٹریوں کی تکمیل صرف روبرو سب رجسٹرار اور رجسٹریوں کی تعداد محدود کرنے سے رئیل اسٹیٹ بہران کا شکار جائیداد کی خریدوفروخت کی دستاویزات کی تکمیل پر لوکل کمیشن مقرر نہ ہونیکی وجہ سے حکومتی ریونیو میں بھی کمی کا سبب بن گئیتفصیلات کے مطابق حکومت کی واضع ہدایت ہے کہ کرونا وائرس خطرہ کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کے تحت زیادہ تعداد میں افراد اکھٹے نہ ہوں اور مہنگائی کے باعث حکومت کی طرف سے منتقلی جائیداد میں خاطر خواہ عوامی ریلیف پیکج کے باوجود اب سب سے بڑی رکاوٹ رجسٹری برانچز میں پیشگی لمبی تاریخوں میں اپوائنٹمنٹ اور دستاویزات کی تکمیل صرف روبرو سب رجسڑار اور لوکل کمیشن بند کرنیکی وجہ بن گئی جسکی وجہ سے منتقلی جائیداد رجسٹریوں اور گورنمنٹ کے ریونیو میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے اور حکومتی خزانے اور عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے یہی وجہ ہےکہ حکومتی ریلیف پیکج کے باوجود زیادہ تر عوام پھر بھی اس پیکج سے محروم رہیگی ہر ضلعی انتظامیہ مارکیٹ کے حساب سے موجودہ شیڈول درستگی اور کم کرنیکے احکامات جاری کرے کیونکہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ ریڈھ کی ہڈی کی حثیت رکھتی ہے جسپر مقامی سماجی ،فلاحی، عوامی، تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا چوہدری محمد اسحاق،محمد یونس کیانی،چوہدری محمد انور ہنجرا،ایم یاسین فرخ،عبدالجبارلنگاہ، ملک عمیر شوکت،حافظ رضوان، ملک بلال،میاں شہباز،ملک عبدالرشید،چوہدری سلیم ساجد،ملک شاہد بشیر،عامر جاوید، بابو انور چوہدری ودیگر معززین ممبران نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، صوبائی وزیر مال،چیف سیکرٹری پنجاب، ڈپٹی کمشنر، اے سی،اور متعلقہ حکام بالا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس خطرہ کے پیش نظر دستاویزات کی تکمیل روبرو سب رجسڑار کے ساتھ ساتھ لوکل کمیشن مقرر کرنیکی اجازت کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ عوام کرونا وائرس سے محفوظ رہ سکے اور اس ریلیف پیکج سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے اور حکومتی ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہو اور ملک بہت جلد ترقی کی طرف گامزن ہو سکے

اندھے قتل کا ڈراپ سین
قصور
پولیس کی پیشہ وارانہ خدمات،تھانہ مصطفی آباد کے علاقہ لکھینیکے کے قریب20روز قبل اندھے قتل کا ڈراپ سین،دوست ہی قاتل نکلا،پیسوں کے لین دین کے تنازعہ پر قتل کیا، ملزم کا اعتراف جرم نوازمروت کی پولیس ٹیموں کو شاباش۔
تفصیلات کے مطابق 12اپریل کو تھانہ مصطفی آباد پولیس کو اطلاع ملی کہ لکھینیکے گاؤں کے قریب کھیتوں سے ایک نعش نامعلوم مرد جس کو کسی نامعلوم ملزم نے فائرنگ کرکے قتل کردیاہے واقعہ کی اطلاع پا کر فوری تھانہ مصطفی آباد پولیس موقعہ پر پہنچی،حالات واقعات کا جائزہ لیا، نعش کو قبضہ پولیس میں لیا گیا اور پوسٹمارٹم کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال روانہ کیا گیا اور نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ مقتول کی شناخت بعد ازاں ارشد عرف راشد ولد خالد قوم جٹ سکنہ بھمبہ کلاں سے ہوئی۔ نامعلوم ملزمان کی گرفتار ی کیلئے ڈی پی اوقصور زاہد نوازمروت کی خصوصی ہدایات، ڈی ایس پی صدر اشفاق حسین کاظمی کی زیر نگرانی، ایس ایچ اومصطفی آبادانسپکٹر محمد فاروق رانجھا و دیگر پولیس افسران پر مشتمل ایک سپیشل ٹیم تشکیل دی۔ تفتیشی ٹیم نے نامعلوم ملزم کو ٹریس کرنے کیلئے جدیدترین ٹیکنالوجی اور روائتی تفتیش کے ہر طریقہ کو اپنایا،کال ڈیٹیل کی مدد سے شک کی بنیاد پرمقتول ارشد عرف راشدکے دوست وحیدولد صدیق سکنہ رائیونڈ لاہور کو شامل تفتیش کیاجس نے دوران تفتیش انکشاف کیاکہ میر اپنے دوست کیساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہوگیا اور اپنے پسٹل سے فائرنگ کرکے قتل کرکے اسکی نعش کھیتوں میں پھینک دی اور اسکی موٹرسائیکل مصطفی آباد نہر میں پھینک دی۔ تھانہ مصطفی آباد پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل پسٹل اورمقتول کی موٹرسائیکل برآمد کرلی ہے جس سے مزید تفتیش جاری ہے، تاہم مقتول اور الزام علیہ کی سرگرمیاں بھی مشکوک پائی جارہی ہیں جن کے کریمنل ریکارڈ کے متعلق تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔ ڈی پی اوقصور زاہد نواز مروت نے اندھے قتل میں ملوث نامعلوم ملزمان کوٹریس کرکے گرفتار کرنے پرپولیس ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
آئندہ اپنی کارکردگی پر لڑونگا
قصور
الہ آباد
آئندہ الیکشن میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لڑونگا 35 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام اپنے حلقہ میں مکمل کروا چکا ہوں دو سالہ اقتدار کے دوران کسی تھانہ میں ایک بھی جھوٹی ایف آئی آر درج نہیں کروائی ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر پاپولیشن سردار محمد ہاشم ڈوگر نے اپنے ڈیرے پر سینئر صحافیوں مہر محمد اسماعیل جاوید، چوہدری مشتاق احمد، عبد الباسط حیدری، اشرف شہزاد، ڈاکٹر طفیل عابد، چوہدری ظہیر بابر، شیخ عرفان امین، محمد اقبال کمبوہ، ملک محمد اکرم اور ڈاکٹر عمران صابر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی بے لوث خدمت میرا مشن ہے تھانہ کلچر کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا اپنے عرصہ اقتدار میں ہر کام افہام و تفہیم سے کروا رہا ہوں لڑائی جھگڑوں کو طول دینے کی بجائے پنچائیت کے ذریعے صلع کروا دیتا ہوں اپنے دور اقتدار میں کسی تھانے میں ایک بھی جھوٹی ایف آئی آر درج نہیں کروائی اگر کوئی ثابت کر دے تو میں سیاست ہی چھوڑ دوں گا انہوں نے مزید بتایا کہ اپنے حلقہ میں اب تک تقریباًًً 35 کروڑ روپے کے ترقیاتی کام مکمل کروا چکا ہوں مزید کام جاری ہیں اور آئندہ الیکشن میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر لڑوں گا کورونا وائرس کے متاثرین غریب اور مزدور لاکھوں لوگوں کو اب تک وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر ستر ارب روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ستر سال سے اتنا بڑا ریلیف پیکج نہیں دیا گیا بارہ ہزار روپے فی کس وصول کرنے والے غریب عوام عمران خان کو دعائیں دے رہے ہیں
صحافی کے خلاف جھوٹا مقدمہ
قصور
سنیئر صحافی محمد حسین کے خلاف جھوٹھا مقدمہ خارج کیا جائے، بلیک میل کرنے کےلئے لاہور سے آنے والے دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے صحافی کے خلاف مقدمہ سراسر زیادتی ہے، ہم پولیس کی اس غنڈا گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، محمد عمران سلفی صدر پریس کلب مصطفی آباد، تفصیلات کے مطابق پولیس تھانہ مصطفی آباد نے لاہور سے بلیک میل کرنے کےلئے آنے والے دس افراد کے دباﺅ میں آکرپریس کلب مصطفی آباد کے سنیئر صحافی محمد حسین کے خلاف جھوٹھا مقدمہ درج کردیا، بلیک میلنگ کےلئے آنے والے دس افراد نے ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے خود ساختہ میڈیکل حاصل کرنے کے بعد پولیس پر دباﺅ ڈال کر مقدمہ درج کروا لیا، پولیس موقع پرموجود تھی مذکورہ افراد کو کسی قسم کی کوئی چوٹ نہ آئی تھی، اس سلسلہ میں پریس کلب مصطفی آباد للیانی رجسٹرڈکا ہنگامی اجلاس صدر محمدعمران سلفی کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں جھوٹھا مقدمہ درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب، ڈی آئی جی شیخوپورہ رینج، ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت ودیگر حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے جھوٹھا مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اجلاس میں خود ساختہ میڈیکل حاصل کرنے اور بلیک کرنے کےلئے حملہ آورڈاکٹر ذوالفقار ملک، علی رضا، فیصل بھٹی، خضر وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اجلاس میں چیئرمین پریس کلب بابا علیم شکیل،جزل سیکرٹری سہیل قمر سندھو، سعید احمد بھٹی، زبیر احمد بھٹی، منیر احمد بھٹی، ڈاکٹر اصغر علی شہزاد، ملک مختار شاہین، ملک محمد اقبال، شاہد عمر، عمر حیات خاں،ڈاکٹر محمد اسلم انصاری، بابا طارق مقبول، سیٹھ محمد حسین، محمد جمیل سندھو،، عبدالقیوم،محمد اکمل کھوکھر،الیاس ملک،سردارہا رون اقبال سندھو، ارشد علی شامی، زرار علی خاں ،واحد ملک،ملک جمیل احمد،منیر احمد بھٹی، ارشد علی جوئیہ،رانا توقیر احمد ، عبدالمنان سلفی، محمد طاہر میو، مہر علی مہران، حافظ محمد طاہر اقبال،مہر مراد علی ایڈووکیٹ،ملک اصغرعلی،ناصر سندھو، حاجی عبدالقادر، چوہدری اشتیاق، آصف امین ، ذوالفقار علی ودیگر صحافیوں کی طرف سے جھوٹھا مقدمہ فوری خارج کرنے کا مطالبہ
ذخیرہ اندوزوں کی شامت آ گئی
قصور
محکمہ خوراک سپیشل برانچ اور اسسٹنٹ کمشنر
انعم زاہد کاا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن تفصیلات کے مطابق رات 10 بجے کریک ڈاؤن کیا گیا قصور کے گاؤں مرزے والا اور سعد گاؤں میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں مرزے والا سے 2000 من گندم پکڑی گئی ذخیرہ اندوز غلام نبی کو پولیس نے اسسٹنٹ کمشنر قصور انم زاہد کے حکم پر گرفتار کرلیا اور تھانہ میں بند کر دیا کریک ڈاؤن کی ٹیم میں محکمہ خوراک کے کنٹرولر صغیر علوی انسپیکٹر محمد اکرم اسسٹنٹ کمشنر قصور انعم زاہد اور سپیشل برانچ کے ریاست علی شامل تھے
ڈاکو ناکہ لگا کر لوٹنے میں ماہر
قصور
سرائے مغل کے نواحی گاؤں کچہ پکہ کے قریب چار مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر ناکہ لگا کر راہ گیروں کو لوٹ لیا مذاحمت پر محمد افضل نامی شخص کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیاتفصیلات کے مطابق
کچہ پکہ لاہوریوں والے ٹیوب ویل پر چار مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر راہ گیروں کو لوٹتے رہے جبکہ مزاحمت کرنے پر افضل نامی شخص کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا جیسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ڈاکو نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے جبکہ مقامی پولیس وارداتیں رکوانے میں ناکام ہو چکی ہے تھانہ سرائے مغل کے علاقے میں چوری ڈاکتی اور قتل کی وارداتوں میں دن بہ دن اضافہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے
پولیس گردی سے ایک اور فرد جانبحق
قصور
پولیس گردی سے ایک اور جان چلی گئی
تفصیلات کے مطابق کوٹلی رائے ابوبکر کا رہائشی نواز ولد برکت عمر پچاس سال جو 6 بچوں کا باپ ہے اور جس نے اپنی زمین پر گائے بھینس رکھی ہوئی تھی جن کا دودھ بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا کچھ عرصہ پہلے مقتول کی زمین پر ایس ایچ او ملک سکندر نے ناجائز قبضہ کیا جس کی انکوائری ڈی پی او زاہد نواز مروت نے کی انکوائری میں ایس ایچ او قبضہ گروپ کا معاون نکلا جس پر ایس ایچ او ملک سکندر کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا مگر اس کے باقی ساتھی تھانہ شیخم میں ڈیوٹی پر موجود رہے اپنے پیٹی بھائی کا بدلا لینے کیلئے نئے ایس ایچ او تھانہ تھہ شیخم انسپکٹر اکبر موقعہ کی انتظار میں رہا مورخہ 2/5/2020 رات کے اندھیرے میں تھانہ شیخم پولیس کی 2 گاڑیوں کے ساتھ مقتول کی حویلی پر ریڈ کیا اور مقتول کو گرفتار کرکے اس پر تشدد شروع کر دیا مقتول کی بیوی اپنے شوہر کو چڑوانے کیلئے پولیس کی منت سماجت کرتی رہی پولیس نے کہا ہم آج اس کا پولیس مقابلہ کرینگے اور مقتول کو اپنے ساتھ لے گئے تھوڑی دیر بعد پولیس واپس آئی اور مقتول کی لاش وہاں پھینک گئی اور اس کا موبائل اس کی بیوی کو دیا اور کہا اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ اور وہاں سے پولیس فرار ہو گئی مقتول کی بیوی نے دیکھا کے اسکا شوہر مر چکا ہے اس نے رونا شروع کردیا مقتول کے بیوی بچوں کا کہنا ہے ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے آئی جی پنجاب وزیر اعلئ پنجاب سے اپیل ہے نواز کے قاتل پولیس ملازمین کو گرفتار کرکے سزا دی جائے









