Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • پتنگ بازی اور لوگوں کے زخمی ہونے کا سلسلہ جاری

    پتنگ بازی اور لوگوں کے زخمی ہونے کا سلسلہ جاری

    قصور
    تھانہ کھڈیاں کی حدود میں پتنگ بازی عروج پر کھڈیاں پولیس بے خبر
    تفصیلات کے مطابق کچا پکا نزد کھڈیاں کا رہائشی محمد رمضان نامی شخص اپنے گھر سے موٹر سائیکل پر سوار ہوکر کھڈیاں کی طرف آرہا تھا کہ گلے میں ڈور پھرنے سے زخمی ہوگیا زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے اپنی مدد اپنی مدد آپ کے تحت ہسپتال منتقل کیا
    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوے مطالبہ کیا کہ ڈور گڈی کے کا کام جو مقامی پولیس کی پشت پناہی پر ہورہا ہے کو فوری بند کیا جائے اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے

  • ایل پی جی کا بحران

    ایل پی جی کا بحران

    قصور اور گردونواح میں ایل پی جی کا مصنوعی بحران 200 سے 170 روپیہ فی کلو فروخت انتظامیہ بے خبر
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں ایل پی جی کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا گیا ہے دکاندار حضرات فی کلو گیس 200 سے 170 روپیہ فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں 42 کلو والا سلنڈر 8000 میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ 12 کلو سلنڈر 1850 روپیہ میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ دکانداروں نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی بدولت ایل پی جی ایران سے نہیں آ رہی جس سے بحران پیدا ہوا ہے
    لوگوں نے ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • ڈاکوؤں کی شامت آ گئی

    ڈاکوؤں کی شامت آ گئی

    چونیاں
    الہ آباد میں ایس ایچ او رمضان ڈوگر کی اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈاکووں کے خلاف کامیاب کاروئی
    پولیس نے زبردست کاروائی کرتے ہوئے دو مسلح ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا
    پولیس نے مخبر کی اطلاح پر کاروائی کی اور دو مسلح ڈاکوؤں عامر اور رضوان کو گرفتار کر لیا
    پولیس کے مطابق عامر اور رضوان نامی ڈاکو ڈکیتی کی نیت سے ڈہھٹے کی روڈ نزد جلو موڑ پر چھپے بیٹھے تھے
    پولیس کے مطابق ڈاکووں سے ناجائز اسلحہ ایک عدد رپیٹر گن 12 بور اور ایک عدد 30 بور پیسٹل اور متعدد گولیاں و پچاس ہزار نقدی اور ایک عدد گاڑی بھی برآمد کی گئی ہے

    عامر اور رضوان نامی ڈاکو پہلے بھی ایسی متعدد وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں
    پولیس نے مقدمہ درج کر تفشیش کا عمل شروع کر دیا
    عوامی اور سماجی حلقوں نے پولیس کی ڈاکووں کے خلاف کامیاب کاروائیوں پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے

  • پتنگ بازوں پر تشدد

    پتنگ بازوں پر تشدد

    قصور افسران کو خوش کرنے کے لئے ایس ایچ او نے لاقانونیت کا راستہ اختیار کرلیا
    تفصیلات کے مطابق تھانہ بی ڈویژن کے ایس ایچ او کی نوجوانوں پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آگئیں
    پتنگ بازی کے الزام میں پکڑے گئے نوجوانوں پر تھانے کے اندر تشدد کیاگیا ہے
    پولیس نے پکڑے گئے نوجوانوں کے خلاف کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ بھی درج کیا تھا
    اندراج مقدمہ کے باوجود پولیس نے نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ویڈیوز بنائیں
    ایس ایچ او بی ڈویژن نے ڈی پی او قصور سے داد وصول کرنے کے لیے تشدد کی ویڈیوز سرکاری گروپ میں بھیج دیں
    ایس ایچ او بی ڈویژن لاقانونیت کی منفرد کارکردگی دیکھانے پر ڈی پی او کی داد کا منتظر رہا

  • بڑے بڑے میڈیکل سٹور لوگوں کو لوٹنے لگے

    بڑے بڑے میڈیکل سٹور لوگوں کو لوٹنے لگے

    قصور بڑے میڈیکل سٹوروں پر لوگوں کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری دسکاءونٹ کرکے بھی اصل قیمت سے زیادہ منافع لینے لگے
    تفصیلات کے مطابق قصور کے رہائشی محمد علی نے لاہور سے واپسی پر کاہنہ کاچھہ روڈ نیو کاہنہ سٹاپ سے طالب میڈیکل سٹور سے ڈاکٹری نسخے پر دوائی لی جس کی قیمت 578 روپیہ بنی میڈیکل سٹور والوں نے 28 روپیہ ڈسکاءونٹ کرکے 550 روپیہ وصول کئے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ 5 پرسنٹ ڈسکاءونٹ کا لالی پاپ دینے والے میڈیکل سٹور مالکان 6 روپیہ والی سرنج کے 10 روپیہ وصول کر رہے ہیں حالانکہ سرنج پر درج قیمت 20 روپیہ ہے جبکہ مارکیٹ میں اس شفاء نامی سرنج کی 100 سرنج والی پیکنگ کی قیمت 570 روپیہ ہے اس لحاظ سے 5 پرسنٹ ڈسکاءونٹ کا دعوی کرنے والے لوگوں کو زائد قیمت لگا کر 5 پرسنٹ ڈسکاءونٹ کا لالی پاپ دے کر اصل قیمت سے بھی زیادہ قیمت وصول کر رہے ہیں جو کہ انتہائی غلط ہے
    لوگوں نے وزیر صحت اور ڈرگ کنٹرول اٹھارٹی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ لوگ ڈسکاءونٹ کے نام پر لوگوں کو لوٹ نا سکیں

  • پتنگ بازی کے خلاف مہم تیز

    پتنگ بازی کے خلاف مہم تیز

    قصور میں پتنگ بازی کے خلاف مہم تیز ترین کر دی گئی
    رواں سال کے دو ماہ کے دوران پتنگ بازوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر 167مقدمات درج کرکے 190ملزمان کو گرفتار کیا گیاباور ملزمان کے قبضہ سے18956پتنگیں، 752دھاتی ڈور کی چرخیاں اور آلات پتنگ سازی برآمد کیے گئے
    پتنگ بازی کی روک تھام کیلئے سپیشل مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت مساجد میں اعلانات کروائے گئے،سوشل میڈیا پر کمپین چلائی گئی اور اسکے ساتھ ساتھ سکولوں میں جا کر بچوں کو آگاہی لیکچر بھی دئیے گئے۔
    ڈسٹرکٹ پولیس و ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی خونی کھیل ہے کسی صورت بھی برداشت نہیں کی جائے گی

  • سرکاری ایمبولینس کا بطور ٹیکسی چلائے جانے کا انکشاف

    سرکاری ایمبولینس کا بطور ٹیکسی چلائے جانے کا انکشاف

    قصور
    حسین خان والا کی سرکاری ایمبولینس نجی گاڑی کے طور پر استعمال
    تفصیلات کے مطابق حسین خان والا میں سرکاری ہسپتال کی ایمبولینس جو کہ اردگرد کے نواحی گاؤں سے مریضوں کے لیے وقف تھی مگر اس کے دونوں ڈرائیور اپنے ذاتی مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال کرتے تھے کبھی برگر شاپس سے برگر لینے کیلئے چلے جستے تو کبھی رات کو ٹیکسی سروس بھی چلاتے تھے جس پر تحصیل چونیاں کے PTI کے نائب صدر چوہدری انعام اللہ خان نے عوامی شکایت پر کل CEO ہیلتھ قصور کو کہہ کر محمکہ کی کارستانی پر فوری کارروائی کا آغاز کروا دیا اب وہ ایمبولینس سرکاری ہسپتال حسین خان والا میں چوبیس گھنٹے موجود رھے گی اس زبردست عمل پر اہل علاقہ کا خراج تحسین

  • اہم سڑک پر گندگی کا راج انتظامیہ کا صفائی سے انکار

    اہم سڑک پر گندگی کا راج انتظامیہ کا صفائی سے انکار

    قصور کی اہم شاہراہ پر گندگی کے ڈھیر ویسٹ بکس نا ہونے کی بدولت علاقہ مکین کوڑا کرکٹ سڑک پر پھینکنے پر مجبور انتظامیہ غافل بیماریاں پھیلنے کا خدشہ
    تفصیلات کے مطابق قصور کے پرانی لاڑی اڈہ اور حالیہ ماڈل بازار کے باہر گندگی ہی گندگی جس سے سخت تعفن اور بدبو اٹھ رہی ہے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے لوگوں نے بتایا یہاں پر کوئی ویسٹ بکس نہیں جس کی بدولت ہم کوڑا کرکٹ یہاں پھینکنے پر مجبور ہیں مگر افسوس کہ ٹی ایم اے کا عملہ ہر روز صفائی نہیں کرتا جس سے یہ کوڑا کرکٹ کئی کئی دن جمع ہوا رہتا ہے جس سے تعفن اٹھنا شروع ہو جاتا ہے پھر جب صفائی کے عملے کا دل کرے ٹرالی میں لاڈ کر اس کچرے کو لیجایا جاتا ہے اس کوڑے کرکٹ پر گائے بھینسے بھی چلتی پھرتی رہتی ہیں جس سے اس مصروف شاہراہ پر ہر وقت حادثے کا خطرہ رہتا ہے
    لوگوں نے ڈی سی قصور اور ٹی ایم او قصور سے نوٹس لے کر اس غفلت کے مرتکب صفائی کے عملہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • 27 فروری سرپرائز ڈے  تحریر: غنی محمود قصوری

    27 فروری سرپرائز ڈے تحریر: غنی محمود قصوری

    یوں تو شروع دن سے ہی مار کھانا ہندوستان کا مقدر ہے جیسا کہ محمد بن قاسم ،شہاب الدین غوری،محمود غزنوی،ٹیپو سلطان و دیگر مسلمان جرنیلوں سے ہندوستان کی خوب درگت بنتی رہی مگر پچھلی صدی میں شاہ اسماعیل شہید،علامہ محمد اقبال و محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے جذبہ جہاد بلند کیا اور دو قومی نظریہ پیش کرکے اور پاکستان بنا کر ہندو کیساتھ انگریز کو بھی سرپرائز دیا
    مگر اپنی درگت بنوانے کا عادی ہندو سکون سے نا بیٹھ سکا اور مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کرنے سے انکاری ہو گیا جس پر پاکستان کے غیور قبائلیوں،افواج پاکستان اور وادی کشمیر کے شیروں نے مل کر ہندو کی خوب درگت بنائی اور وادی کشمیر کے کل 84474 مربع میل میں سے 32093 مربع میل آزاد کروا کر اسے ایک زبردست ترین سرپرائز دیا جس پر ہندو وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھاگم بھاگ اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل پہنچا اور جنگ بندی کیلئے منت سماجت کی ورنہ یہ سرپرائز بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہی مکمل ہونا تھا
    6 ستمبر 1965 کو ایک مرتبہ پھر ہندو کو اپنی درگت بنوا کر سرپرائز لینے کی سوجھی اور اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا جس پر امت محمدیہ کی پاک فوج نے ایسا سرپرائز دیا کہ 17 روزہ جنگ میں ہندو تو پریشان ہونا ہی تھا پورا عالم کفر اس سرپرائز پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور یوں ایک مرتبہ پھر ہندو اپنے آقا انگریز کے پاس سلامتی کونسل میں پہنچا اور جنگ بندی کروائی
    دو مرتبہ سرپرائز لینے کے بعد ہندو نے اپنا طریقہ بدلا وہ جان چکا تھا مغربی پاکستان میں اسے دو مرتبہ سرپرائز بہت مہنگا پڑا ہے لہذہ اس مرتبہ اس نے مشرقی پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کرکے کچھ غداران ملک و ملت کو اپنے ساتھ ملایا اور مکتی باہنی کے نام پر ایک مسلح لڑاکا تنظیم بنائی جس نے پاک فوج پر حملے شروع کر دیئے اور بنگلہ دیش کو الگ ملک بنانے کی تحریک شروع کر دی اس مرتبہ ہندو کا وار کچھ کارگر ہوا مکتی باہنی و انڈین فوج نے بنگلہ دیش کی عوام میں پاکستان کے خلاف خوب زہر بھرا اور یوں مکتی باہنی کی پاک فوج سے باقاعدہ جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کی کمان اینڈ کنٹرول انڈین فوج کے ہاتھ تھی آخر مکمل جنگ چھڑ گئی مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان تک گولہ بارود کی رسد ختم ہو کر رہ گئی مگر پھر بھی پاک فوج کے شیروں نے وسائل کی کمی اور اپنوں کی غداری کا غم سہہ کر بھی مردانہ وار مقابلہ کیا مگر فوجی افسران و جوان ہتھیار پھینکنے کو تیار نا تھے جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے بنگلہ دیش کے پاکستانی حامی لوگوں و مغربی پاکستان سے آئے سول اداروں کے اہلکاروں کے خاندان کے لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات تھی اس کے بعد بھارت نے ایک اور چال چلی اور جنگ بندی کا اعلان کردیا اور اپنی فوجیں ڈھاکہ میں لا کر ایسٹرن کمان کے امیر عبداللہ خان نیازی سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا جس پر جوانوں و افسروں میں تشویش کی لہر ڈور گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا جس پر مکتی باہنی اور انڈین فوج نے دوبارہ عام شہریوں کو شہید کرنا شروع کردیا اس پر مجبور ہوتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے بھی ہماری فوج کو اپنوں کی غداری کی بدولت 6 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور یوں 45000 فوجی اور 40000 سے کم سول محکموں کے اہلکار انڈین فوج کے ہاتھوں جنگی قیدی بن گئے مگر پاکستان کو فتح کرنے کا انڈین خواب پھر بھی شرمندہ تعبیر نا ہوسکا کیونکہ 1971 میں راجھستان کے محاذ لونگے والا میں انڈین فوج کو سخت جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا اور انڈین فوج اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر پیچھے بھاگی جس کا اعتراف خود انڈین جرنیل بھی کرتے ہیں اسی طرح سلیمانکی کے محاذ پر میجر شبیر شریف شہید نے دشمن کو بہت پیچھے تک دھکیل دیا اور ان کی کئی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا جبکہ قصور کے محاذ پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی کہ کھیم کرن کا محاذ چھوڑ کر انڈین فوج پیچھے کو بھاگ نکلی اور اس طرح تاریخی شکست انڈیا کو 1971 میں قصور کے محاذ پر ہوئی زندہ دلان قصور نے اپنی پاک فوج کیساتھ مل کر کھیم کرن شہر پر قبضہ کرکے پاکستانی پرچم لہرایا جس کی تصویریں آج بھی انڈین فوج اور عوام کے ذہنوں پر سوار ہیں غیور قصوریوں نے کھیم کرن سے خوب مال غنیمت حاصل کیا جس کے ثبوت کے طور پر آج بھی اہلیان قصور کے گھروں میں لگے انڈین شہر کھیم کرن سے لائے گئے دروازے ،کھڑکیاں،برتن و دیگر سامان ضرورت لوگوں کے پاس موجود ہے حتی کہ رائیونڈ قصور روڈ جو کہ کچہ راستہ تھا اسی کھیم کرن سے لائی گئی مال غنیمت کی اینٹوں سے بنا
    28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان نے ایک بار پھر انڈیا کو بہت بڑا سرپرائز دیا مگر شاید مار کھائے بغیر سرپرائز کو قبول کرنا انڈیا کی عادت نہیں سو اس نے 1999 میں کارگل کے مقام پر پاکستانی فوج اور مجاھدین کشمیر سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 مئی 1999 کو باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہوا جس میں انڈیا کے 30000 اور پاکستان کے 5000 فوجی آمنے سامنے ہوئے پہلے ہی ہلے میں انڈیا کے 1000 سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ 2000 کے قریب فوجی زخمی ہونے کیساتھ انڈین ائیر فورس کے 3 طیارے تباہ ہوگئے جس سے بھارتی فوج سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئی اور دونوں ملکوں پر ایٹمی قوت ہونے کی بدولت عالمی دباؤ بڑھ گیا اور یوں دونوں ملکوں کو بغیر کسی نتیجے کے جنگ بندی کرنی پڑی مگر نقصان کے لحاظ سے ایک بار پھر شکست انڈیا کی ہوئی
    14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈین فوج پر کشمیری مجاھدین کی مسلح آزادی پسند تحریک جیش محمد کی طرف سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد انڈین فوجی مارے گئے جبکہ سرکاری طور پر انڈیا نے صرف 44 فوجیوں کی موت تسلیم کی پلوامہ حملے کے بعد اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے انڈیا نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی جس پر پاک فوج کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جھڑپیں بڑھتی گئیں اور 26 فروری 2019 کو انڈیا نے ایک بار پھر رات کی تاریکی میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے طیارے پاکستانی حدود میں داخل کئے مگر ہمارے شاہینوں کی بروقت اڑان سے انڈین پائلٹ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اپنے جنگی جہاز کا پے لوڈ لائن آف کنٹرول کے نزدیک بالا کوٹ کے مقام پر گرا کر بھاگ گئے اور دعوی کردیا کہ ہم نے پاکستانی علاقے میں جاکر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپوں پر فضائی کاروائی کرتے ہوئے 350 سے زائد جیش محمد کے کارکنان شہید کر دیئے ہیں جس کے چند گھنٹوں بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اس جھوٹ کو جلد بے نقاب کرینگے اور ایک سرپرائز بھی دینگے جنرل صاحب کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستانی ائیر فورس کے دو شاہینوں اسکورڈن لیڈر حسن صدیقی اور ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے انڈین علاقے میں گھس کر اس کے دو طیارے مار گرائے جن میں سے ایک طیارہ مقبوضہ وادی کشمیر جبکہ دوسرا آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو کشمیری عوام نے گھیر لیا اور اس کی تاریخی دھلائی کرکے ایک بہت بڑا سرپرائز دیا اس کے بعد پاکستان نے انٹرنیشنل میڈیا کو بالاکوٹ کا دورہ بھی کروایا جس پر انٹرنیشنل میڈیا نے انڈین ائیرفورس کی ناکامی کا پول کھول کر اسے ایک اور ناکامی کا سرپرائز دیا
    ابھی نندن کی رہائی کیلئے انڈیا نے اقوام عالم کیساتھ پاکستان کی بھی منت سماجت شروع کر دی جس پر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو اچھی چائے اور کھانا کھلانے کے سرپرائز کے بعد واہگہ کے راستے انڈیا بھجوا دیا گیا
    معرکہ 27 فروری پر میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا تھا کہ انڈین اس سرپرائز کو کبھی بھی نہیں بھلا سکیں گے اور ان شاءاللہ ایسا ہی ہے پچھلے سرپرائزوں کی طرح انڈیا اس سرپرائز ڈے 27 فروری کو کبھی بھول نہیں سکے گا

  • رفع حاجت کرنے آئے نوجوان پر تشدد اور پرچہ

    رفع حاجت کرنے آئے نوجوان پر تشدد اور پرچہ

    قصور
    چونیاں باباثر زمیندار کے بیٹوں کا قضائے حاجت پر آئے ہوئے سلیم مسیح پر بہیمانہ تشدد مار مار کر برا حال کر دیا
    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاؤں بگھیانہ خورد میں سلیم مسیح کھیتوں میں قضائے حاجت کے لیے گیا تو وہاں پر موجود بااثر کسان کے بیٹوں الطاف وغیرہ نے چوری کے الزام میں پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور 15 پر کال کرکے پولیس کے حوالے کردیا
    ورثاء کے مطابق ہمارے بیٹے کا بازو بھی ٹوٹ چکا ہے بااثر کسان کے بیٹوں کے خلاف قانونی کارروائی پر متاثرین مسیح برادری نے قصور دیپالپور روڑ پر شدید احتجاج کیا اور ڈی پی او قصور وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتا رکرکے ہمیں انصاف دلوایا جائے