ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو
Author: غنی محمود قصوری
-

بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری
-

قصور میں 3 مشتبہ مریض داخل حتمی بات ٹیسٹوں کے بعد
قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں نور پور کے رہائشی کرونا وائرس سے مشتبہ شخص اور ایک فیمیل ٹیچر کیساتھ قادر آباد قصور کے رہائشی کو آئیسولیشن وارڈ میں داخل کرلیا گیا
تفصیلات کے مطابق علی احمد نور پور کا رہائشی اور پیشے سے ڈرائیو ہے جبکہ خاتون فیمیل ٹیچر اور ایک اور مشتبہ شحص قادر آباد قصور کا رہائشی ہے کو آئیسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے جن کے ٹیسٹ آنے پر پتہ چلے گا کہ ان کے ٹیسٹ پازیٹیو ہیں یاں نیگیٹو
پتہ چلا ہے کہ نور پور قصور کے رہائشی علی احمد کا دوست چائنا سے آیا تھا اور علی احمد اس کے ساتھ تین دن مانسہرہ رہا ہے
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے شک پر ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں رپورٹ آنے پر کنفرم ہوگا
مشتبہ کورونا وائرس مریضوں کے ٹیسٹٹ کے نمونہ جات کو لاہور بجھوا دیا گیا ہے -

صحافیوں کا عزم مثبت کردار کی یقین دہانی
قصور
الہ آباد میں صحافیوں کا اجلاس محسن چوہدری کی میزبانی میں چونیاں روڈ پر منعقد ہوا
جس میں صحافیوں کی ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں الہ آباد میں میڈیا کے حوالے سے اور شہری مسائل کے بارے میں خصوصی نشست کی گئی اور بھرپور انداز میں موجودہ حالات میں اپنا نمایاں اور مثبت کردار ادا کرنے پر اظہار خیال کیا گیا اس سلسلے میں میڈیا کے دوستوں کی مشاورت سوچ بچار کے بعد عوامی پریس کلب الہ آباد کے نام سے بانی و سرپرست چوہدری اختر ضیاء گہلن کی قیادت میں تکمیل ہوا جس میں چئیرمین و بانی چوہدری اختر ضیاء گہلن ۔۔صدر محمد اشفاق ندیم۔سینئر نائب صدر چوہدری جاوید شریف جٹ۔نائب صدر ڈاکٹر ظفر اقبال ۔جنرل سیکرٹری طاہر رضا انصاری ۔ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سردار بلال ڈوگر۔ڈپٹی جنرل سیکرٹری مہر وسیم یحییٰ۔ اور فنانس سیکرٹری سردار بدرالزمان انفارمیشن سیکرٹری محمد یسین بادل منتخب ہوئے۔۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کر کے علمی ادبی شخصیت جناب نصر خیالی کو چیف کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا۔چوہدری آصف جلال خاں ایڈووکیٹ۔اور رانا امتیاز خاں ایڈووکیٹ کو لیگل ایڈوائزر مقرر کیا گیا۔
تمام صحافیوں نے اس بات کا عزم کیا کہ علاقے میں مسائل کی بھر پور نشان دہی کرینگے -

دکانیں بند شادی بیاہ جاری
قصور اور گردونواح میں دکانیں بند میڈیکل سٹور و کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں کھلی لوگ شادی بیاہ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے سے باز نا آئے
تفصیلات کے مطابق پنجاب گورنمنٹ کی ہدایت کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے زبردستی دکانیں بند کروائی ہیں مگر میڈیکل سٹور،کلینک،نان بائی،بیکری اور موٹر سائیکل مرمت کی دکانیں کھلی ہیں گورنمنٹ کی طرف سے دفعہ 144 کے باوجود لوگ شادیوں سے باز نا آئے جن میں سے کافی لوگوں کے قصور پولیس نے پرچے بھی کئے ہیں اس کیساتھ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کم اور موٹر سائیکلوں و گاڑیوں کا رش ہے لوگ چھٹیوں کے باعث ایک دوسرے کو ملنے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک اور تشویشناک صورتحال ہے -

وبائی امرض میں احتیاط سنت نبوی کیساتھ!!! تحریر :غنی محمود قصوری
آجکل ایک وبائی مرض کرونا وائرس کا بہت زور اور شور ہے یہ مرض چین کے شہر ووہان سے شروع ہوئی اور پھیلتے پھیلتے ابتک دنیا کے 188 ممالک تک جا پہنچی ہے جس میں ابتک 308463 افراد متاثر ہوئے ہیں اور ابتک 13069 افراد اس بیماری کی بدولت مر چکے ہیں اور بہت سے متاثرہ مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 645 ہے جن میں سے 3 افراد جانبحق اور 13 صحت یاب ہو چکے ہیں
سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں چین ,ایران اور اٹلی ہیں اور سںب سے زیادہ اموات بھی اٹلی میں ہوئی ہیں جس کی وجہ اٹلی کی عوام کا اپنی گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نا کرنا اور اس وباء کا بہت تیزی کیساتھ پھیلنا ہے جس کی بدولت اٹلی میں اب تک 4825 اموات اس وبائی مرض کی بدولت ہو چکی ہیں
اس وقت پوری دنیا میں اس وبائی مرض کرونا کی بدولت خوف و ہراس کا سما ہے
دنیا بھر کی طرح پاکستان گورنمنٹ نے بھی احتیاطا دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا ہے مزارات و پبلک مقامات کو لوگوں کیلئے بند کر رکھا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ بغیر انتہائی ضرورت کے گھر سے نا نکلیں زیادہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں ہاتھ صابن سے بار بار دھوئیں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں ہاتھ ملانے سے گریز کریں اور مسجد میں زیادہ تعداد میں اکھٹے نا ہو وغیرہ
یہ سب احتیاطی تدابیر کروانے کا مقصد اس بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے جو کہ ہمارے اپنے حق میں ہی بہتر ہے مگر کچھ کم عقل لوگ نا تو خود احتیاط کر رہے بلکہ دوسروں کو بھی احتیاط نا کرنے کا کہہ رہے ہیں اور بطور مثال یہ بات کہہ رہے ہیں کہ موت کا وقت مقرر ہے جو کہ آ کر ہی رہنی ہے مگر ایسے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر بجلی کی ننگی تاروں کو بغیر احتیاطی تدابیر کے چھوا جائے تو یقینا کرنٹ لگتا ہے اور کرنٹ لگنے سے بعض مرتبہ موت بھی واقع ہو جاتی ہے مگر اسی ننگی تاروں کو جب احتیاط کرتے ہوئے بچاؤ کے دستانے پہن کر اور احتیاطی اوزاروں سے چھوا جائے تو کرنٹ نہیں لگتا مطلوبہ کام بھی ہو جاتا ہے اور جان بھی بچ جاتی ہے
ہم مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسلام کی محتاج ہے اگر ہم نے دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں اسلام و اپنے نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے طریقوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا کیونکہ نبی کریم نے فرمایا کہ کامیاب وہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے بتائے ہوئے رستے پر چلے گا لہذہ اب چونکہ کرونا کی شکل میں ایک وبائی مرض پوری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے چکی ہے تو ہمیں اس کیلئے نبی کریم کے فرامین کو دیکھنا پڑے گا تاکہ ہماری دنیاوی و اخروی کامیابی ہو اس لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک جزام کے مریض سے میرے نبی نے احتیاط کرتے ہوئے ہاتھ نہیں ملایا تھا اور بیعت بھی لے لی تھی
وبائی (وائرس) بیماری کے شکار انسان سے پرہیز کرنا سنت ہے
سنن ابن ماجه
كتاب الطب
٤٣. بَابُ : الْجُذَامِ
شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا: ”تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی“۔
حالانکہ دوسرے صحابہ کرام جن کو جزام کا مرض لاحق نا تھا ان کے ہاتھ پر نبی کریم نے بیعت لی
حکم: تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن النسائی/البیعة 19 (4187)، (تحفة الأشراف: 4837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)»
درج بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم بھی صرف زبانی السلام و علیکم و رحمتہ اللہ کہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کون شحض اس وقت اس وبائی مرض کرونا میں مبتلا ہے اور رہی بات ایک ہی جگہ یعنی اپنے گھروں میں رہنا جیسا کہ دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور مزارات و پبلک مقامات کو بند رکھا گیا ہے تو اس کے لئے اس حدیث کو دیکھتے ہیں
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بسند صحیح روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کے بارے میں فرمایا:
(( جو آدمی طاعون کے حالات میں صبر کے ساتھ اور اجر و ثواب کی نیت سے اپنے گھر میں ٹھہرا رہے یہ جانتے ہوئے کہ اسے جو کچھ بھی ہو گا صرف وہی ہوگا جو اللہ نے اس کے مقدر میں لکھا ہے تو ایسے شخص کیلئے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہے )
حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط البخاري.
شیخ سلیمان الرحیلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ ساتھ حسبی اسباب کو بروئے کار لانے کے بارے میں بنیادی قاعدے کا درجہ رکھتی ہے ۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وباء سے بچنے کے لیے گھر میں ٹھہرے رہنے کے بارے میں یہ حدیث بنیادی اصول ہے اور رہی بات بار بار ہاتھ کی تو نبی کریم کی مشہور حدیث الطہارت نصف الایمان یعنی صفائی نصف ایمان ہے پر عمل کیجئے تاکہ ہم اس وبائی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور ہمارا ملک پاکستان اس سے بچ سکے تو حکومت پاکستان کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرکے اس وبائی مرض کو پھیلنے سے روکئیے -

پولیس کی کرونا الرٹ کی خلاف ورزی
قصور پنجاب پولیس نے کورونا وائرس کے حفاظتی اقدامات کا حکم ہوا میں اڑا دیا
تفصیلات کے مطابق 4 سے 5 افراد کے اکٹھے ہونے کی پابندی کے باوجود 15 کے قریب ملزمان کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا
پتنگ بازی کا سامان بنانے کے جرم میں گرفتار افراد کو کھڈیاں پولیس کچہری لائی
15 کے قریب ملزمان و ملازمین بغیر حفاظتی ماسک کے عدالت میں پیش ہوئے
ملزمان کو ہتھ کڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا -

جیل میں دو گنا قیدی سہولیات کا فقدان
قصور ڈسرکٹ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی کرونا کے باعث صورتحال تشویشناک
تفصیلات کے مطابق 1929 میں بنائی گئی قصور جیل میں 596 اسیران کی گنجائش ہے مگر اس وقت جیل میں 1060کے قریب دوگنا قیدی ہیں اور ان قیدیوں کیلئے سہولیات بھی ناپید ہیں
ایک ہزار سے زائد اسیران کے لئے صرف12بیڈ کا ہسپتال ہے جو کہ بہت چھوٹا ہے اور یہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے
ہسپتال میں کرورنا کے مریضوں کے لئے آئسولیشن وارڈ بھی نہیں
گنجائش سے زائد اسیران کی تعداد میں کرونا کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے
پنجاب حکومت کی ہدایت کے باعث اسیران کو عدالتوں میں بھی پیش نہیں کیا جائے گا -

سامان جل کر خاکستر
قصور گھر میں پراسرار آتش زدگی سامان جل کر خاکستر
تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں کھارا میں محنت کش ہدایت کے گھر پراسرار آتشزدگی سے سارا سامان جل کر خاکستر ہو گیا کھارا کا رہائشی محنت کش ہدایت کل دوپہر اپنے بیوی بچوں کو لینے گھر کو تالا لگا کر گیا کہ شام کچھ دیر قبل اس کے گھر میں سے دھویں کے بادل اٹھنے لگے جس پر اس کے ساتھ والے گھر میں مقیم اس کی والدہ اور چھوٹے بھائی نے شور مچایا تو اہل محلہ نے آگ کو بجھانے کی کوشش شروع کر دی مگر آگ زیادہ ہونے سے سارا سامان جل گیا -

پبلک مقامات ویران مسجدیں آباد
قصور
لوگوں کی اجتماعات جمعہ میں جوق در جوق شرکت قانون کا احترام کرتے ہیں مگر حکم ربی بھی لازم ہے
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردنواح میں لوگوں نے جوق در جوق اجتماعاتات جمعہ میں شرکت کی لوگوں نے کہا کہ قانون و دفعہ 144 کا احترام کرتے ہیں حکومت کے اعلان کے مطابق پارکوں وغیرہ کا رخ نہیں کر رہے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ یہ سارے اقدامات گورنمنٹ نے ہماری حفاظت کے پیش نظر ہی کئے ہیں مگر نماز جمعہ کی ادائیگی رب کی طرف سے فرض ہے لہذہ ہم گورنمنٹ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کسی بھی ہجومی مقام کا رخ نہیں کرینگے مگر نماز جمعہ باجماعت اور مسجد میں ہی پڑہینگے مگر پارکوں و دیگر پبلک مقامات کا رخ بکل نہیں کرینگے -

پتنگ بازوں کی شامت آئی
قصور پولس کی بڑی کاروائی
کھدیاں خاص پولیس کی پتنگ بازوں کے خلاف بڑی کاروائی،اڈے لگا کر ڈور تیار کرتے ہوئے بین الاضلاعی گروہ کے 13ارکان گرفتار کرکے بھاری مقدار میں ہزاروں روپے مالیت کی تیار ڈور، دھاگہ، لچھے، مشین، شیشہ، چرخیاں وغیرہ برآمد کرلی۔ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔بتایا گیا ھے پولیس نے مخبری پر کھڈیاں خاص کے نواحی سرحدی گاؤں باقر کے میں پتنگ اڑانے والی دھاتی ڈور بنانے والی فیکٹری لگی ہوئی ہے اے ایس پی قصور عبد الحنان نے ایس ایچ او کھڈیاں حاجی محمد اشرف کی نگرانی میں مبشر احمد اے ایس آئی، لیاقت علی اے ایس آئی، رشید احمد اے ایس آئی سمیت دیگر پولیس ملازمین پر مشتمل چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی پولیس کی نفری نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا تو موقع پر ڈور بنانے والے تین اڈے لگے ہوئے تھے اور کافی لوگ کام کر رہے تھے جنھیں پولیس نے گھیرا ڈال کر 13ملزمان عباس علی، ندیم، نعیم، شہزاد، امجد، محسن، تنویر، عبدالرزاق، سعید، منظور احمد، صفدر، علی رضا وغیرہ کو گرفتار کر لیا جبکہ مشتاق نامی ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا