Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • قصور پولیس کا زبردست کارنامہ

    قصور پولیس کا زبردست کارنامہ

    قصور پولیس نے زبردست کاروائی کرکے عوام کے دل جیت لئےتفصیلات کے مطابق گزشتہ شام بستی برات شاہ کے رہائشی محمد شاہد کا 4 سالہ بیٹا صولت عباس لاپتہ ہو گیا تھاجس پر تھانہ بی ڈویژن پولیس نے شدید بارش میں مسلسل 5 گھنٹوں کی محنت کے بعد صولت عباس کو ڈھونڈ کر والدین کے حوالے کیا
    بچے کی برآمدگی کیلئے تین ایس ایچ اوز پر مشتمل سپیشل ٹیم تشکیل دی گئی تجی
    پولیس ٹیموں نے علاقے میں سرچ آپریشن کئے، مساجد میں اعلانات کروائے، علاقوں مکینوں سے پوچھ گچھ بھی کی
    بیٹے کی باحفاظت واپسی پر والدین و اہل علاقہ قصور پولیس کے مشکور و دعاگو جبکہ شہریوں نے پولیس خدمات کو سراہا

  • حقوق نسواں واک،عورتوں کے حقوق پر روشنی

    حقوق نسواں واک،عورتوں کے حقوق پر روشنی

    قصور
    جماعت اسلامی خواتین ونگ کی قصور گارڈن میں تکریم نسواں واک عورتوں کے اصولی حقوق اجاگر کئے
    واک کی قیادت ناظمہ ضلع راضیہ جاوید نے کی
    واک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی
    خواتین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے نعرے درج تھے
    پاکستانی معاشرے میں مغرب کی پروردہ مٹھی بھر خواتین کے ایجنڈے کو پورا نہیں ہونے دیں گے مقررین کا خطاب
    عورت کی حرمت اور تقدس کو کسی صورت پامال نہیں ہونے دیا جائے گا مقررین و شرکت دار خواتین کا عزم

  • 40 کلومیٹر کا فاصلہ محکمہ ڈاک نے 6 دن میں طے کیا

    40 کلومیٹر کا فاصلہ محکمہ ڈاک نے 6 دن میں طے کیا

    قصور محمکہ ڈاک نے 40 کلومیٹر کا سفر 6 دن میں طے کرکے ریکارڈ قائم کر دیا مراد سعید کی وزیراعظم کی طرح صرف تقریر ہی زبردست کارکردگی صفر
    تفصیلات کے مطابق محکمہ ڈاک سست روی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی 3 مارچ کو لاہور ڈی ایچ اے سے بیجھا گیا ڈاک لفافہ 8 مارچ کی شام کو قصور پہنچا حالانکہ ڈی ایچ اے لاہور اور قصور شہر کا فاصلہ صرف 40 کلومیٹر ہے جو کہ ایک پیدل انسان محض 4 سے 5 گھنٹوں میں طے کر لیتا ہے مگر محکمہ ڈاک نے اپنی کچھوے جیسی چال برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ وزیر ڈاک بڑھکیں اچھی لگا لیتے ہیں اور تقریریں بھی بہت اچھی اچھی کرتے ہیں جبکہ عملی طور پر کارکردگی صفر ہے
    شہریوں نے وزیراعلی پنجاب اور وزیر ڈاک سے محکمہ کی سست روری پر نوٹس لیتے ہوئے اس کی سپیڈ بڑھانے کی استدعا کی ہے

  • قصور کی عورتوں کا لبرل عورتوں کو پیغام

    قصور کی عورتوں کا لبرل عورتوں کو پیغام

    8 مارچ عالمی یوم خواتین کے موقع پر قصور کی عورتوں کا پیغام

    تفصیلات کے مطابق کل بروز ہفتہ قصور کے مختلف سکولز کےسٹاف اور طالبات نے لبرل عورتوں کو پیغام دیا کہ ہم اسلامی کلچر میں پروان چڑھنے والی بیٹیاں ہیں ہم لعنت بھجتی ہیں میرا جسم میری مرضی پر اور ان نعروں کے لگانے والوں پر ہمارے مرد ہمارے محافظ ہیں اور ہمارے جسم اللہ کی مرضی کے تابع ہیں ہم اپنے گھر کی شہزادیاں ہیں اور ہمارے مرد ہمارے حاکم
    آج 8 مارچ کو اتوار کی چھٹی ہونے کی بدولت کل 7 مارچ کو طالبات و اساتذہ کے علاوہ ہر شعبہ زندگی کی خواتین نے اپنا پیغام میڈیا تک پہنچایا

  • بارش سے نظام زندگی درہم برہم

    بارش سے نظام زندگی درہم برہم

    قصور
    پتوکی کے نواحی گاؤں جمشیر چک 24 میں بارش کے باعث نظام زندگی درہم برہم نکاسی آب کا انتظام نا ہونے کی وجہ سے گلیاں بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے

    پتوکی کے نواحی گاؤں میں بارش کے نظام زندگی درہم برہم بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا گلیاں اور بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگی دن رات کی مسلسل بارش سے جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا وہاں اہل علاقہ کی زندگی اجیرن بن گیا وہاں لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت کے نمائندوں نے آ ج تک ہمارے درینہ مسلہ نکاسی آب سولنگ نالیوں کے حل کیلئے توجہ نہیں دی انہوں نے وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ جمشیر چک 24 میں نکاسی آب کے مسئلے اور سولنگ کیلے فوری گرانٹ جاری کرکے اس درینہ مسئلے کو حل کیا جائے

  • رات 9 بجے سے تاحال بجلی بند پورا محکمہ چھٹی پر

    رات 9 بجے سے تاحال بجلی بند پورا محکمہ چھٹی پر

    قصور بیشتر علاقوں میں رات 9 بجے سے بجلی بند لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے لیسکو کے افسران و کمپلین سنٹرز کے نمبرز بند
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح کے اکثر دیہات میں رات 9 بجے سے بجلی بند ہے جو کہ تاحال بند ہی ہے جس سے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں جبکہ کاروباری حضرات اپنے کاموں سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں کل رات سے قصور کے بیشتر محلوں کے علاوہ،موضع کھارا،اوراڑہ نو و کلاں ،اٹھیل پور،کلے والا ،نول و دیگر گاؤں دیہات میں بجلی بند ہے
    لوگوں نے لیسکو قصور کے افسران و کمپلین سنٹرز کے نمبرز ملائے ہیں مگر اکثر نمبر بزی جا رہے ہیں اور جو ملتے ہیں انہیں کوئی اٹینڈ نہیں کر رہا

  • ہائیر ایجوکیشن کا اچانک چھاپہ

    ہائیر ایجوکیشن کا اچانک چھاپہ

    قصور
    ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجو کیشن طارق حمید بھٹی کا میٹرک کے امتحانی مراکز کا اچانک دورہ انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
    امتحانی عملہ انتہائی ذمہ داری اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے سخت نگرانی کریں‘کسی قسم کی بے ضابطگی یا بوٹی مافیا کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن طارق حمید بھٹی
    قصوروزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن پنجاب طارق حمید بھٹی کا میٹرک کے امتحانی مراکز کا اچانک دورہ‘انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن طارق حمید بھٹی نے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز قصور عبدالغفار ڈوگر کے ہمراہ گزشتہ روز گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور، گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول، گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول فار گرلز، اسلامیہ ہائی سکول فار گرلز، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول فار بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج قصور میں قائم میٹرک کے امتحانی سینٹروں کا اچانک دورہ کیا۔ انہوں نے تمام امتحانی مراکز میں سیکورٹی کے انتظامات، پینے کے پانی کی فراہمی، کمروں میں روشنی کے انتظام کو بھی چیک کیا اور طلباء و طالبات کی رول نمبر سلپیں بھی چیک کیں۔اس موقع پر انہوں نے تمام سینٹروں کے سپریٹنڈنٹس امتحان اور نگران عملے کو ہدایت کی کہ وہ انتہائی ذمہ داری اور جانفشانی سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے سخت نگرانی کریں۔ امتحانی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بوٹی مافیا کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ نقل ایک ناسور ہے جس سے طلباء و طالبات کو ہر صورت بچنا ہو گااور محنت سے ڈگریاں حاصل کر کے اپنے مستقبل کو روشن کرنا ہوگا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجو کیشن پنجاب نے گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں طلباء و طالبات کی صحت کے متعلق سٹوڈنٹ ہیلتھ پروفائلز، اساتذہ کی حاضری اور کالجز میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بھی چیک کیا

  • رکشہ سٹینڈ کی بدولت لوگ پریشان

    رکشہ سٹینڈ کی بدولت لوگ پریشان

    قصور
    پتوکی میں غیر قانونی رکشہ سٹینڈ کی بھر مار کم عمر رکشہ ڈرائیور بچوں کی وجہ سے حادثات معمول کا حصہ بن گئے
    تفصیلات کے مطابق پتوکی میں غیر قانونی رکشہ سٹینڈ کی بدولت لوگوں کا پیدل چلنا مشکل ہوگیا ہے جبکہ ڈیوٹی پر موجود پولیس والے انکو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں میگاروڑ چوڑی مارکیٹ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول گورنمنٹ گرلز ہائی سکول امام بارگاہ لاہور والہ اڈا اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے سامنے رکشے کھڑے ہونے کیوجہ سے ایمرجنسی میں ایمبولینس کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے لوگوں نے اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل کی ہے

  • بڑا گوشت بڑی قیمتوں پر فروخت

    قصور اور گردونواح میں قصابوں کی من مانیاں اپنی مرضی کے داموں پر گوشت فروخت لوگ پریشان
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں قصابوں نے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے بڑے گوشت کی قیمت 380 روپیہ فی کلو مقرر کی گئی ہے جبکہ قصاب 400 روپیہ سے 450 روپیہ فی کلو گوشت اور قیمہ 500 روپیہ فی کلو فروخت کر رہے ہیں زیادہ قصابوں کے پاس ریٹ لسٹیں بھی نہیں اور نا ہی گوشت پر ویٹرنری ہیلتھ و سلاٹر ہاءوس کی مہر لگی ہوتی ہے اکثر قصاب بیمار جانور ذبح کرکے لوگوں کو گوشت فروخت کر رہے ہیں
    شہریوں نے ڈی سی قصور،پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اور ویٹرنری ہیلتھ سے نوٹس لے کر کاروائی کی درخواست کی ہے

  • عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق  تحریر: غنی محمود قصوری

    عورتوں کا عالمی دن اور عورت مارچ کے حقائق تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و پاکستان کو لبرل بے دین لوگ بدنام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے مگر ہر بار ان کو منہ کی کھانی پڑتی ہے اس سال عالمی یوم خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں چند حقوق نسواں کی نام نہاد جعلی علمبردار عورتوں نے عورت مارچ کا اعلان کیا ہے جو کہ اس سے قبل بھی ہو چکا ہے اس عورت مارچ کو پہلے پاکستان کی عدالت نے روکا تھا پھر اچانک غیر مشروط طور پر یہ کہتے ہوئے اجازت دے دی گئی کہ ہر کسی کو تنظیم سازی کا حق ہے لہذہ عورتیں مارچ کریں مگر اخلاقی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھیں حالانکہ اس سے قبل ہوئے عورت مارچ میں اہلیان پاکستان کیساتھ پوری دنیا نے بھی دیکھا کہ کسطرح عورت مارچ کے نام پر بد تہذیبی بد اخلاقی اور بے شرمی کی گئی ان 3 درجن سے زائد مطلقہ آزاد خیال اور دین سے بے زار عورتوں نے جن میں سے سرفہرست ماروی سرمد نامی تجزیہ کار ہے ،کے زیر سایہ عورت مارچ میں عورتوں نے ایسے گندے بے حیائی پر مبنی پوسٹرز پکڑ رکھے تھے جن پر عورتوں کے مخصوص ایام کی تشریح،عورتوں پر تشدد و تیزاب گردی کی روک تھام،اگر مجھے مارو گے تو مار کھاءو گے،میری شادی نہیں آزادی کی فکر کرو،میں ماں ،بہن ہوں گالی نہیں، ساڈا حق ایتھے رکھ اور میری نسبت میری والدہ سے ہونی چایئے جیسے نعرے درج تھے
    پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا ملک ہے اور آئین پاکستان میں جہاں مردوں کو حقوق دیئے گئے ہیں وہاں عورتوں کو بھی حقوق فراہم کئے گئے ہیں جن کی واضع مثال ہر شعبہ زندگی میں عورتوں کی نمائندگی بکثرت دیکھی جا سکتی ہے یہی نہیں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی 3 بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک سفارتکاری میں بھی عورتیں ہیں ایک عام گھریلوں خاتون سے لے کر وزیراعظم تک کے حقوق عورتوں کو دیئے گئے ہیں مگر پھر بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان نام نہاد روشن خیال عورتوں کو کیا مسئلہ ہے جو آئے دن اپنے حقوق کا رونا روتی ہیں حالانکہ سب سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا خیال اسلام نے رکھا ہے
    خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی ذیشان نے فرمایا
    اور اگر وہ فرمانبرداری کریں تو ان پر (کسی قسم کی) زیادتی کا تمہیں کوئی حق نہیں
    مذید میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر تشدد روکتے ہوئے فرمایا
    تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔ مسند احمد 7119
    اس حدیث سے ثابت ہوا آقا کریم نے عورتوں پر بے جا تشدد کی ممانعت کی ہے اور ان کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھا ہے یہی نہیں عورت کو حق خلع دیتے ہوئے مذید اس کی شان کو بلند کیا گیا ہے اور جنت ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کی جعلی علمبردار بھول گئیں کہ اسلام سے قبل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے پھر میرے نبی رحمت تشریف لائے اور معصوم کلیوں کے محافظ بن گئے جس قدر اسلام نے عورت کے حقوق کا خیال رکھا دنیا میں اتنا خیال کسی مذہب نے نہیں رکھا اسلام نے عورت کو وراثت میں حق دلوایا اور میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران جنگ بچوں بوڑھوں کیساتھ عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ایک طرف قبل از اسلام عورت کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جاتا تھا تو دوسری طرف نبی ذیشان نے دوران جنگ بھی عورت کو قتل کرنے سے منع فرما دیا ہم اگر اسلام کا مطالعہ کریں تو مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو حقوق دیئے گئے عورت پر مرد کو حاکم مقرر کیا گیا اور اسی حاکم کے ذمے اسی عورت کی کفالت کا حکم دیا حالانکہ عام دستور یہ ہے جو حاکم ہوتا ہے وہ آرام کرتا ہے اور محکوم محنت مزدوری جبکہ اسلام نے مرد کو حاکم ہوتے ہوئے محنت مزدوری کا حکم دیا جبکہ عورت کو محکوم ہوتے ہوئے بھی شہزادی و ملکہ کا رتبہ دیا آئین پاکستان میں عورت کسی مرد کی طرف سے آنکھ مارنے کی سزا ایک سال قید رکھی گئی ہے 1988 ker.
    دفعہ اے 498 کے تحت جو شحض کسی عورت کو اس کی وراثت سے محروم کرے گا اسے 5 سے 10 سال کی سزا اور 10 لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا مقرر ہے
    دفعہ بی 371 کے تحت کسی بھی عورت کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا اور کرایے پر لینے کی سزا 25 سال مقرر ہے دفعہ 509 کے تحت کسی بھی عورت پر بہتاب بازی کی سزا ایک سال مقرر کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ گندی عورتیں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے خودساختہ حقوق کی بات کرتی ہیں دراصل ان کو تنگی آئین پاکستان و اسلام میں عورت کو دیئے گئے تحفظ سے ہیں یہ واہیات عورتیں چاہتی ہیں کہ ان قانین کو ختم کرکے ان کی مرضی کے مطابق ان کو بے لگام کر دیا جائے اور ایک بے لگام گھوڑی کی طرح جہاں دل کرے منہ مارتی پھریں
    پاکستان میں سرکاری سکولوں میں عورتوں کی نا صرف تعلیم مفت ہے بلکہ ان کیلئے مخصوص رقم بھی گورنمنٹ دیتی ہے تاکہ ان کی پرورش میں کسی قسم کی کمی نا آئے اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز ایسی ہیں جو غریب اور بے سہارا عورتوں کیلئے رہائش و کھانے کے علاوہ ان کے نکاح تک کا خرچ برداشت کرتے ہیں
    ماروی سرمد جیسی لبرل بے دین عورت یہ بھول گئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ہندو قوم رہتی ہے کہ جس میں عورت کے خاوند کو مرنے کے بعد یا تو اس کے مرنے والے خاوند کیساتھ دفن کر دیا جاتا ہے یا پھر باقی زندگی ایک ہی مخصوص لباس میں رہتے ہوئے دوسرے لوگوں کی باندی بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے اور لوگ اس کے سائے سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ ہونے والی عورت کی کفالت اس کے بھائی،سسر،باپ،بیٹے کی ذمہ داری بن جاتی ہے مگر افسوس کہ اس گھٹیا عورت نے آج دن تک ہندوستان میں عورت پر ہوتے ظلم پر آواز بلند نہیں کی جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ مخصوص آزاد عورتیں درحقیقت عورت کے حقوق کی نہیں آزاد معاشرے کے گندے غلیظ حقوق کی پیروی کرتے ہوئے انہیں اجاگر کر رہی ہیں اور یہ عورتیں مملکت پاکستان میں بے حیائی بے شرمی کو دوام دینا چاہتی ہیں جنہیں روکنا حکومت وقت اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ معاملہ چند خواتین کا نہیں یہ معاملہ اسلام و پاکستان کی بقاء کا ہے اگر آج ان کو نا روکا گیا تو کل اس،گندے واہیات نعروں کے نتائج انتہائی غلط نکلیں گے