اللہ رب العزت نے مختلف رنگ و نسل اور قد کاٹھ کے افراد پیدا فرمائے اور اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا
لقد خلقتنا الانسان فی احسن تقویم ( سورہ التین) ترجمہ _ بلاشبہ ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے
ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 30 کروڑ جبکہ پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ افراد ذہنی و جسمانی معذور ہیں جن کی فلاح و بہبود کیلئے اور ان افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے 1992 سے عالمی برادی کیساتھ پاکستان میں بھی 3 دسمبر کو عالمی یوم معذور افراد منایا جاتا ہے
یہ افراد ہماری خصوصی محبت کے حقدار ہیں مگر افسوس کے ہم ان کو ان کے حقوق دینے کی بجائے ان پر طنزیہ وار کرتے ہیں اور بعض خود سر جاہل لوگ تو ان افراد سے مار پیٹ بھی کرتے ہیں جوکہ انتہائی دکھ اور شرم کی بات ہے حالانکہ یہ افراد ہمارے لئے نصیحت کا باعث ہیں مثلا اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ان لوگوں کی بدولت ہمیں اپنے ہاتھ کی قدر ہوتی ہے اگر کوئی فرد ٹانگ سے محروم ہے تو ہمیں اللہ رب العزت کی عطاء کردہ اس عظیم نعمت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے لئے اللہ نے کتنی بڑی نعمت بنائی ہے دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارا رویہ جسمانی معذوروں سے زیادہ ذہنی معذور افراد کیساتھ زیادہ ہی غلط ہے یہ وہ افراد ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت ان کی نمازوں بارے بھی سوال نہیں کرینگے جب تک کہ یہ ذہنی معذور ہوش میں نا آ جائیں مگر ہم لوگ ان کو پتھر مارتے ہیں ان کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور ان کی تذلیل کرکے فخر محسوس مرتے ہیں حالانکہ صرف بے ضرر ذہنی معذور افراد کو ہی گھر پر رکھا جاتا ہے جبکہ خطرناک قسم کے ذہنی معذور پاگل افراد کو مینٹل ہسپتالوں میں داخل رکھا جاتا ہے بلکل اسی طرح زمانہ جاہلیت میں بھی ان ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا اور بعض معاشروں میں رواج تھا کہ جب کوئی بچہ ذہنی و جسمانی معذور پیدا ہوتا تو والدین اسے قتل کر ڈالتے تھے کیونکہ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان افراد میں بھوت پریت قابض ہیں اور ہم آج ان افراد کی تذلیل کرکے اسی زمانہ جاہلیت کی تصویر بنتے ہیں پھر میرے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور جانوروں، انسانوں کے حقوق وضع فرمائے ایسے افراد بارے حدیث ہے
تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون لحتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے ہے
(سنن نسائی 5495)
پاکستان میں ذہنی و جسمانی معذور افراد کیلئے کوئی خاص قانون موجود نہیں بحالی معذور افراد ایکٹ 1981 کے تحت معذور افراد کیلئے نوکریوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے اور ان افراد کیلئے صحت کی سہولتوں کیساتھ ان کی بحالی اعضاء کا کام بھی حکومت پر فرض ہے آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت تمام بنیادی سہولیات ان معذور افراد کا حق ہیں مگر افسوس کے ایسا دیکھنے میں بہت کم آیا ہے کہ ان افراد کو ان کی بنیادی سہولیات ملی ہو ورنہ ہسپتالوں ،تھانوں کچہریوں اور عدالتوں میں ان افراد کو اپنے حقوق کی جنگ لڑتے ہی دیکھا گیا ہے
ان افراد کی بحالی کیلئے پاکستان میں کئی این جی اوز کام کر رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ان افراد سے پیار کرنے کیساتھ ان این جی اوز سے بھی تعاون کریں تاکہ ایسے افراد اپنے بنیادی حقوق حاصل کرکے عزت سے جی سکیں اور گورنمنٹ کو چاہیے کہ ان افراد کے وظائف مقرر کئے جائیں اور ان افراد کو تنگ کرنے والوں کیلئے سخت سزائیں دینے کا قانون نافذ کیا جائے تاکہ یہ افراد عزت و توقیر سے جی سکیں
Author: غنی محمود قصوری

ذہنی و جسمانی معذور افراد کیساتھ ہمارا رویہ!!! تحریر غنی محمود قصوری

ایک ہی گھر سے 24 سانپ برآمد
قصور
کوٹ رادھا کشن میں ایک ہی گھر سے 24 سانپ برآمد
گھر کے مکین شدید خوف زدہ
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادہاکشن میں نہر کنارے آباد ایک ہی گھر سے 24 سانپ برآمد ہوئے ہیں گھر کے مکینوں نے اتنے سانپ دیکھ کر شور مچایا تو اہل علاقہ نے چیخ پکار سن کر متعلقہ گھر کی طرف دوڑ لگا دی اور دیکھا کہ
گھر کے مکین سہمے ہوئے ہیں لوگوں نے فوری ریسکیو 1122 کو کال کی
ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر تمام سانپوں کو زندہ پکڑ کر ڈبے میں بند کر دیا اور ساتھ لے گئے
اڑھائی سالہ بچے پر کتے کا حملہ
قصور
الہ آباد میں آوارہ کتوں کی بھرمار اڑھائی سال کے بچے کو منہ اور ہاتھ پر کاٹ کر لہو لہان کر دیا ہسپتال میں ویکسین موجود نہیں ڈیوٹی ڈاکٹر نے بچے کو چیک کرنا بھی گوارا نا کیا تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں آوارہ کتوں کی بھر مار نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے گزشتہ روز بھی بچوں کو کاٹنے کے تین کیس سامنے آئے ہیں مولا پور روڑ کے رہائشی اڑھائی سالہ اذان گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ آوارہ کتے نے منہ اور ہاتھ بری طرح نوچ ڈالا جسے فوری طور پر آر ایچ سی الہ آباد میں لیجایا گیا یہاں ڈاکٹرز نے چیک کرنا بھی گوارہ نہ کیا اور ویکسین نا ہونے کا کہہ کر چونیاں ریفر کر دیا والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سی قصور اور دیگر باعلی حکام سے فوری ویکسین کی دستیابی اور آر ایچ سی الہ آباد میں تعینات بدتمیز عملے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
پرائیوٹ ٹیسٹ 350 جبکہ سرکاری ہسپتال 630
قصور
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں مریضوں کی کھال اتاری جانےگی باہر سے 350 روپیہ کے ٹیسٹ سرکاری ہسپتال سے 630 میں
تفصیلات کے مطابق شہری محمد رفیق نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے چند سالوں سے جوڑوں کی درد کا مسئلہ ہے جس کے علاج کیلئے میں پچھلے سال ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قصور گیا جہاں پر میرا کمپلیٹ یورین ٹیسٹ اور ای سی جی ٹیسٹ کرکے مجھ سے 210 روپیہ وصول کئے گئے تھے اب چند دن پہلے وہی مسئلہ بنا تو پھر میں ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور گیا جہاں وہی ٹیسٹ پھر کئے گئے مگر اب مجھ سے 630 روپیہ لئے گئے جبکہ میں نے باہر لیبارٹری سے ان ٹیسٹوں کے متعلق پوچھا تو مجھے ان دونوں ٹیسٹوں کی فیس 350 روپیہ بتائی گئی اور مجھے ایک بلسٹر پیک 10 گولی کالپول دے کر فارغ کر دیا گیا
اس سے قبل بھی لوگوں نے میڈیا نمائندگان کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں پرائیویٹ لیبارٹریز سے زیادہ پیسے ٹیسٹ فیس کی مد میں لئے جا رہے ہیں جوکہ سراسر نا انصافی ہے لحاظہ وزیر اعلی پنجاب اور وزیر صحت نوٹس لیں اور غریب لوگوں کو ان کا حق دلوائیں کیونکہ گورنمنٹ عوام سے ٹیکس انہی سہولیات کیلئے لیتی ہے
اے سی کوٹ رادہاکشن کی زبردست کاوش
قصور
اے سی کوٹ رادہاکشن کی بدولت شہر میں صفائی کا نظام بہتر ہوا
تفصیلات کے مطابق اسٹنٹ کمشر کوٹ رادہاکشن نازیہ موہل صاحبہ کی کوششوں سے شہر کوٹ رادھاکشن میں صفائی ستھرائی کا کام نہایت کم عملے کے ساتھ تبدیلی ہو چکا ہے شہر کے بازاروں و پارکوں اور ںبس اڈا میں ہر جگہ صفائی کے حوالے سے تبدیلی نظر آ رہی ہے
لوگوں نے مس نازیہ موہل کو شہر کی صفائی ستھرائی کا نظام بہتر کرنے پر شاباش دی ہے
کوٹ رادہاکشن میں ڈاکو بے لگام ،پریشان عوام
قصور
کوٹ رادھا کشن میں ﮈکیتیوں کی بدولت خوف و ہراساندرون شہر میں مختلف مقامات پر ﮈکیتی کی تین وارداتیں
مسلح ﮈاکوؤں نے پولیس چوکی سے چند گز کے فاصلےپر فرحان نامی نوجوان سے گن پوائنٹ پرگیارہ ہزار روپے لوٹ لئے
3 عدد مسلح ﮈاکو کالے رنگ کی ہنڈا سی جی 125 پر سوار تھے
واردات کے بعد شہریوں کی جانب سے ﮈاکوؤں کو پکڑنے کی کوشش میں مسلح ﮈاکوؤں نے فائرنگ بھی کی
دوسری جانب اعظم پلازہ میں بھی مسلح ﮈاکوؤں نے ایک موٹرسائیکل شو روم اور میڈیکل سٹور مالکان کو لوٹ لیا
مسلح ﮈاکوؤں نے شو روم مالک سے دو لاکھ 75 ہزار جبکہ میڈیکل سٹور مالک سے پندرہ سو روپے لوٹے
تینوں وارداتوں میں ﮈاکو شہریوں سے لوٹ مار کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے
منشیات فروش گرفتار
قصور
چونیاں
ایس ایچ او صدر چونیاں ملک کفایت حسین کھوکھر کی بڑی کاروائی
سرکاری گاڑی 312 جس کا ڈرائیور بابر حسین 451d c محمد شریف 1659cحبیب اللہ227 بمع عملہ مگشت کر رھے تھےکہ بھیم روڈ پر موجود مخبر خاص نے اطلاع دی کہ ایک شخص مشکوک نظر ارہا ہےاور سواری کے انتظار میں کھڑا ہےاگر فوری طور پر کاروائی کی جائے تو پکڑا جا سکتا ہے
ایس ایچ او چونیاں ملک کفایت حسین کھوکھر نے فوری طور پر ریڈ کیا اور کھڑا ہوئے سخص کو پکڑ لیا جس نے اپنا نام عارف ولد محمد عاشق قوم ڈوگر ساکن بھیم کے بتایاجس کی جامع تلاشی لی گی جس میں ملزم سے 1460 گرام چرس برآمد ہوئے پولیس نے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے مقدمہ درج کر دیا ہے
پتوکی میں وارداتیں عروج پر
قصور
پتوکی میں ڈکیتیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا لوگ ڈاکوؤں سے لٹنے پر مجبور
ملانوالا بائی پاس کے قریب بحرین آٹوز پر تین موٹر سوار مسلح ڈاکووں کی گن پوائنٹ پر ڈکیتی کی واردات ڈاکو 135000 لوٹ کر موقع سے فرار ہوگئے
ڈاکو راج قائم ہونے سے شہری لٹنے لگے دن ہو یا رات ڈاکو آزادانہ طور پر وارداتوں میں مصروف ہیں گزشتہ کئی روز سے پے در پے وارداتوں سے کاروباری طبقے کیساتھ شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے
جبکہ پولیس ابھی تک سوراغ لگانے میں ناکام ہے
مل آٹا 1640 جبکہ چکی آٹا 2400 فی من فرخت
قصور
چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات قصور میں آٹے کی پھر مصنوعی قلت شہر کی 3 فلور ملز بے لگام چھوٹے دکانداروں کیلئے مل کے دروازے بند
تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح میں آٹے کا مصنوعی بحران اب بھی جاری ہے قصور شہر کی تین فلور ملز انتظامیہ کے قابو سے باہر ہو گئیں نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دکانداروں نے بتایا کہ ہم چھوٹے دکانداروں کیلئے اتفاق فلور مل رائیونڈ روڈ نیشنل فلور مل پرانی سبزی منڈی اور مستری فلور مل محلہ جماعت پورہ کے دروازے بند ہیں مل مالکان دو ڈھائی سو توڑا لینے والے بڑے ڈیلڑوں کو آٹا دے رہے ہیں جبکہ ہمیں گیٹ سے ہی توڑوں کی تعداد پوچھ کر کہہ دیا جاتا ہے کہ آٹا نہیں اس لئے ہم آٹا حاصل کرنے سے قاصر ہیں جس سے ہمارے گاہگ خراب ہو رہے ہیں گاہک کہتے ہیں جس سے آٹا لینے اسی سے دوسری اشیاء بھی خرید لینگے جبکہ ایک ڈیلڑ نے بتایا کہ مل ہمیں 397 روپیہ فی توڑا دی رہی ہے جوکہ ہم 410 روپیہ میں فروخت کر رہے ہیں مگر ہماری مانگ کیمطابق ہمیں آٹا نہیں دیا جا رہا جبکہ دوسری جانب چکی مالکان اب بھی 2400 روپیہ فی من کے حساب سے آٹا فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ زیادہ تر لوگوں کا بازاری آٹا نا کھانا ہے کیونکہ مل کے آٹے سے میدہ ،چوکر اور سوجی نکال لی جاتی ہے جس سے زیادہ افراد اسے پسند نہیں کرتے اور چکی کا آٹا کھاتے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چکی مالکان اپنی من مانیاں کر رہے ہیں
لوگوں نے ڈی سی قصور اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے استدعا کی ہے کہ مل مالکان کیساتھ آٹا چکی مالکان کا بھی نوٹس لیا جائے جو لوگوں کو مہنگا ترین آٹا فروخت کر رہے ہیں
10 سال سے اشتہاری ملزم گرفتار
قصور تھانہ الہ آباد کی بڑی کاروائی گجرات کا اشتہاری ملزم گرفتار کر لیا
تفصیلات کے مطابق تھانہ الہ آباد پولیس نے 2011 میں درج مقدمہ قتل نمبری 58/11 تھانہ صدر گجرات ضلع گجرات کے ملزم بشارت علی عرف شارا بھٹی سکنہ چک نمبر 16 شرقپور ضلع شیخوپورہ کو گرفتار کر لیا ہے ملزم 2011 سے اشتہاری ہے اور ملک کے کئی اضلاع میں روپوش رہا ہے قصور میں بھی کئی وارداتیں کرنے کا انکشاف ملزم کے ریمانڈ کیلئے آج عدالت پیش کیا جائیگا
لوگوں نے خوف کی علامت ملزم پکڑنے پر پولیس کو شاباش دی









