قصور
کوٹ رادھا کشن میں ہسپتال ملازم کا عورتوں پا سرعام تشدد،ویڈیو وائرل ،پاکستان بھر میں غم و غصہ
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن قصور کی تحصیل کوٹ رادھا کشن کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ رادھا کشن میں خواتین مریضوں پر ڈیوٹی پر موجود ملازم نے بیہمانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں حاملہ خاتون سمیت کئی خواتین زخمی ہو گئیں
عینی شاہدین کے مطابق کوٹ رادھا کشن کی رہائشی خواتین دوائی لینے ہسپتال پہنچیں تو رش کے باعث تقریباً دو گھنٹے تک خوار ہوتی رہیں اور جب مریض خواتین نے ڈاکٹر سے چیک اپ پر اصرار کیا تو ڈیوٹی پر موجود ملازم نے اچانک تشدد شروع کر دیا ملازم کا تھپڑوں، لاتوں اور مکوں کے وار سے سات ماہ کی حاملہ نادیہ بی بی سمیت ثمینہ بی بی اور کرن شہزادی زخمی ہو گئیں
ہسپتال میں موجود دیگر افراد نے فوری طور پر بیچ بچاؤ کر کے خواتین کو مذید تشدد سے بچایا
اس واقعہ کے بعد مریضوں اور شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حوا کی بیٹیاں محفوظ نہیں رہیں
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہو سکے
اس سارے وقوعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس کے بعد پاکستان بھر سے اس وقوعہ پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے
Author: غنی محمود قصوری
-

ہسپتال میں عورتوں پر تشدد کا وقوعہ،پاکستان بھر میں سخت غم و غصہ
-

نہر میں نہاتے ہوئے نوجوان جانبحق،پابندی لگانےکا مطالبہ
قصور
مصطفی آباد (للہانی) نہر میں نہاتے ہوئے نوجوان جاں بحق، شہریوں کا نہروں پر نہانے پر پابندی کا مطالبہ
مصطفی آباد کے علاقے للیانی نہر میں گزشتہ روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان گرمی کی شدت کے باعث نہر میں نہانے کے لیے اترا، تاہم پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی کے باعث وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور ڈوب گیا
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر تلاش کا عمل شروع کیا گیا۔ کافی کوششوں کے بعد نوجوان کی لاش نکال لی گئی، جس کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی اور اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال گرمیوں کے موسم میں متعدد نوجوان اور بچے نہروں میں نہاتے ہوئے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، لیکن اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہروں پر نہانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے، حفاظتی باڑ لگائی جائے اور متعلقہ مقامات پر وارننگ بورڈ نصب کیے جائیں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے
شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ نہروں کے کنارے نگرانی بڑھائی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں نہروں میں ڈوبنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں تیز بہاؤ اور گہرے پانی کے باعث نوجوان جان کی بازی ہار گئے -

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،ٹراسپوٹرز کا 10 فیصد کرایہ بڑھانے کا اعلان
قصور
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا کر 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فوری اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیاء، سبزیاں، پھل، آٹا، چینی اور دیگر ضروری سامان مزید مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زندگی اجیرن بنا رکھی تھی، اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جینا مزید دشوار کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں، مراعات اور اشرافیہ کے اخراجات کم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر ڈال رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں سفید پوش طبقہ بری طرح پس چکا ہے جبکہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب بھی مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں میں کمی، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر مہنگائی کا یہ طوفان مزید سنگین معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے -

بابا بلھے شاہ ہسپتال قصور میں سہولیات کا فقدان ،نوٹس کی اپیل
قصور بلھے شاہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں سہولیات کا فقدان، مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا، شہریوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ۔بلھے شاہ ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور میں بنیادی سہولیات کی کمی اور انتظامی مسائل کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال، جو ضلع بھر کے غریب عوام کے لیے واحد بڑا سہارا سمجھا جاتا ہے، وہاں علاج معالجے کی صورتحال تسلی بخش نہیں رہی۔متاثرہ افراد کے مطابق گائنی وارڈ سمیت مختلف شعبوں میں مریضوں کو بروقت توجہ نہیں دی جاتی اور عملے کے رویّے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے جیسی بنیادی سہولیات کے لیے انہیں باہر نجی لیبارٹریز کا رخ کرنا پڑتا ہے، جبکہ ادویات کی فراہمی بھی محدود ہے اور اکثر دوائیں مارکیٹ سے مہنگے داموں خریدنے کا کہا جاتا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمیلاں بی بی، ہارون ثاقب اور احسن علی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں بہتری کے دعوؤں کے باوجود عملی طور پر مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر خواتین وارڈز میں مریضوں کو زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں سہولیات کی فراہمی، عملے کے رویّے کی بہتری اور مفت ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں اور انہیں دیگر شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے
-

موٹر سائیکل چور گینگ نے شہریوں کا جینا حرام کر دیا،ڈی پی او سے نوٹس کی استدعا
قصور
شہر و گردونواح میں موٹر سائیکل چور گینگ متحرک،شہری لاکھوں روپیہ قیمتی موٹر سائیکل سے محروم،ڈی پی او قصور سے نوٹس کی اپیلتفصیلات کے مطابق قصور کوٹ غلام محمد کے رہائشی محمد اویس ولد محمد طارق کیساتھ تھانہ سٹی اے ڈویژن قصور کے علاقے سیٹھی کالونی میں موٹر سائیکل چوری کا واقعہ پیش آیا
شہری محمد اویس نے درخواست دی کہ وہ 18 اپریل 2026 کو رات تقریباً 10 بجے گھر پہنچا اور اپنی ہنڈا 125 موٹر سائیکل (رجسٹریشن نمبر AYV-3842، ماڈل 2024، سرخ رنگ بمعہ سیاہ ٹینکی) گھر کے باہر کھڑی کی تو کچھ دیر بعد موٹر سائیکل اسٹارٹ ہونے کی آواز سن کر باہر نکلا تو ایک نامعلوم شخص موٹر سائیکل لے کر فرار ہو چکا تھا
اس سے قبل بھی چوروں نے کئی شہریوں کو ان کی قیمتی موٹر سائیکلوں سے محروم کیا ہے
متاثرہ شہری نے ڈی پی او قصور سے نوٹس لے کر اپنی موٹر سائیکل برآمدگی کی استدعا کی ہے

-

بجلی چوروں اور سرکاری ملازمین پر حملے کرنے والے کے خلاف کارروائی ،گرفتاریاں
قصور
بجلی چوروں اور سرکاری ملازمین پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن
متعدد مقدمات درج
قصور ضلع بھر میں بجلی چوروں کے خلاف جاری مہم کے دوران متعدد افراد رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھا کشن کے علاقہ آرلہ چھینہ میں ایس ڈی او واپڈا مدثر سحر کی مدعیت میں وقاص وغیرہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، ملزمان نے بجلی چوری کی تصاویر بنانے پر واپڈا ٹیم پر دھاوا بول دیا اور تشدد کر کے ڈاکٹر افتخار کو شدید زخمی کر دیا، بعد ازاں ملزمان میٹر ریڈر اسلم اور ڈاکٹر افتخار کو گھسیٹتے ہوئے بیٹھک میں لے گئے اور حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح تھانہ تھہ شیخم کے علاقہ سدھو پورہ میں چوہدری الیاس اور تھانہ صدر پھول نگر کے علاقہ بھگیانہ کلاں میں محمد امین کو ڈائریکٹ تار لگا کر بجلی چوری کرتے ہوئے پائے جانے پر ایس ڈی او تنویر حسین کی مدعیت میں مقدمات درج کر لیے گئے -

سمارٹ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی،مرضی کے دکانداروں کو چھوٹ،نوٹس کی اپیل
قصور
سمارٹ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیاں، منتخب دکانداروں کو چھوٹ؟تفصیلات کے مطابق قصور میں سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باوجود مختلف علاقوں میں کھلے عام خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث انتظامیہ اور پیرا فورس کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں
بوائز ڈگری کالج چوک اور اس کے گردونواح میں کئی دکاندار مبینہ طور پر شٹر بند کر کے اندر گاہکوں کو بٹھا کر کھانا فراہم کرتے ہیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ تکہ شاپس، برگر پوائنٹس، ڈاکٹر ناصر کلینک کے قریب واقع دکانیں اور لاہور بیکرز کے اطراف موجود چند ہوٹلز رات گئے تک خفیہ طور پر کاروبار جاری رکھتے ہیںدوسری جانب عام ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کو سختی سے رات دس بجے سے پہلے دکانیں بند کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے جس پر متاثرہ افراد نے امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے مگر عملی طور پر کچھ مخصوص کاروباری افراد کو رعایت دی جا رہی ہے
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن پر بلا امتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے
-

واسا کی جانب سے پانی کا الگ اور سیوریج کا الگ بل،شہریوں کا احتجاج
قصو
شہریوں پر سیوریج بلوں کا اضافی بوجھ، واسا کے خلاف شدید احتجاجتفصیلات کے مطابق قصور کے علاقے کوٹ میر باز خان کے رہائشیوں نے واسا کی جانب سے بھیجے گئے بھاری سیوریج بلوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں ہزاروں روپیہ کے سیوریج بل موصول ہوئے ہیں حالانکہ ہمارے علاقے میں باقاعدہ سیوریج نظام سرے سے موجود ہی نہیںعلاقہ مکینوں کے مطابق محلے میں نکاسی آب کے لیے صرف کھلی نالیاں موجود ہیں جبکہ زیرِ زمین سیوریج لائن نہ ہونے کے باوجود واسا نے سیوریج کی مد میں الگ سے بل بھیجنا شروع کر دیا ہے
شہریوں نے بتایا کہ پہلے ہی مہنگائی نے زندگی مشکل بنا رکھی ہے ایسے میں اضافی بلوں نے ان کی پریشانی میں مذید اضافہ کر دیا ہےرہائشیوں نے شکایت کی ہے کہ پانی کے بل کے ساتھ اب سیوریج کے علیحدہ چارجز وصول کیے جا رہے ہیں جو کہ ان کے بقول سراسر ناانصافی ہے
متاثرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان بلوں کا نوٹس لیا جائے اور غیر منصفانہ چارجز واپس لیے جائیںشہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے
-

قصور کی صحافی برادری کی مولانا امیر حمزہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مذمت
قصور
صحافی برادری کی معروف کالم نگار و مذہبی اسکالر مولانا امیر حمزہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کی مذمتتفصیلات کے مطابق گزشتہ دن لاہور میں پیکو روڈ پر پاکستان کے مشہور مصنف،کالم نگار اور مذہبی اسکالر مولانا امیر حمزہ پر قاتلانہ حملہ ہوا
مولانا صاحب گزشتہ دن نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے کر واپس جا رہے تھے کہ حملہ موٹرسائیکل سواروں نے ان کا تعاقب کیا اور انتہائ قریب آ کر فائرنگ کرکے نشاہہ بنانے کی کوشش کی مگر اللّہ تعالیٰ کی خاص مدد سے گولی ان کت بازو سے ٹکراتے ہوئے واسکٹ کی سائڈ سے سوراخ کرتے ہوۓ سیدھی اسی سیٹ میں جا گھسی جہاں مولانا امیر حمزہ بیٹھے تھے
حساس اداروں اور پولیس کی جانب سے بروقت سرچ آپریشن کے بعد مشتبہ افراد کو حراست میں لی لیا گیا ہے
اس قاتلانہ حملے پر قصور کی صحافی برادری نے سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے -

ڈی پی ایس سکول قصور کے باہر بخوں کے والدین کو سخت مشکلات
قصور
ڈی پی ایس اسکول کے گیٹ نمبر 3 کے باہر والدین کے لیے بنیادی سہولیات کا فقدانقصور میں واقع ڈی پی ایس اسکول کے گیٹ نمبر 3 کے باہر بچوں کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں نہ تو کسی قسم کی چھاؤں کا انتظام موجود ہے اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے
روزانہ کی بنیاد پر درجنوں والدین اپنے بچوں کو لینے کے لیے سکول کے باہر طویل انتظار کرتے ہیں، جو کئی منٹوں سے بڑھ کر بعض اوقات گھنٹوں تک محیط ہو جاتا ہے شدید گرمی یا موسم کی سختیوں کے دوران یہ صورتحال مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے
والدین کا کہنا ہے کہ سکول انتظامیہ کی جانب سے اس اہم مسئلے کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے حالانکہ معمولی انتظامات جیسے شیڈ یا واٹر کولر کی فراہمی سے اس مشکل کو باآسانی حل کیا جا سکتا ہے
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے اور گیٹ نمبر 3 کے باہر انتظار کرنے والے افراد کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔