Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • شدید دھند سے موسم سرد و خشک،محکمہ موسمیات کی عوام سے اپیل

    شدید دھند سے موسم سرد و خشک،محکمہ موسمیات کی عوام سے اپیل

    قصور
    شدید دھند سے موسم سرد اور خشک،محکمہ موسمیات کی عوام سے اپیل

    تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ضلع قصور اور اس کے گرد و نواح میں شدید دھند کا خدشہ ظاہر کیا ہے
    تازہ رپورٹ کے مطابق موسم سرد اور خشک رہے گا جبکہ بالخصوص صبح سویرے اور رات کے اوقات میں درمیانی سے شدید دھند چھائی رہنے کا امکان ہے جس کے باعث حدِ نگاہ نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے
    محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں جبکہ سفر کی صورت میں گاڑیوں پر فوگ لائٹس کا استعمال اور رفتار کم رکھیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے
    ضلعی انتظامیہ نے بھی عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے

  • واپڈا میٹر سست کرنے پر مقدمہ درج،مذید تحقیات جاری

    واپڈا میٹر سست کرنے پر مقدمہ درج،مذید تحقیات جاری

    قصور
    لیسکو واپڈا نے قصور میں بجلی کے میٹر سست کرنے والے دو صارفین کے خلاف کارروائی کی ہے
    تفصیلات کے مطابق لیسکو واپڈا قصور ایس ڈی او واپڈا لیسکو پھول نگر محمد عبد اللہ کی جانب سے پولیس تھانہ سٹی پھول نگر میں مقدمات درج کرائے گئے۔
    دورانِ چیکنگ میانکے موڑ پھول نگر اور چاہ نائیانوالہ پھول نگر میں صارفین محمد اشرف ولد عبدالقیوم اور یوسف ولد نواب کے میٹر سست پائے گئے جنہیں ناجائز طریقے سے سست کیا گیا تھا
    پولیس نے ایس ڈی او واپڈا کی مدعیت میں دونوں افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے پولیس اور واپڈا حکام اس سلسلے میں مذید چھان بین کر رہے ہیں

  • 16 لاکھ روپیہ سے زائد کی چوری ،مقدمہ درج،تفتیش شروع

    16 لاکھ روپیہ سے زائد کی چوری ،مقدمہ درج،تفتیش شروع

    قصور
    تحصیل چونیاں کے تھانہ کنگن پور میں بڑی واردات،ایف آئی آر درج

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے تھانہ کنگن پور کی حدود موضع موکل میں چوری کی بڑی واردات پیش آئی ہے جس میں نامعلوم چور کپڑے کی ایک دکان سے تقریباً 16 لاکھ روپءہ مالیت کا کپڑا چوری کر کے فرار ہو گئے

    متاثرہ دکاندار عبدالووف ولد عبد الرحمن کی درخواست پر تھانہ کنگن پور پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے
    پولیس کے مطابق واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں
    پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر کے مسروقہ مال برآمد کر لیا جائے گا

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تاہم ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نا ہوئی

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تاہم ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نا ہوئی

    قصور
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، کرایوں میں کمی نہ ہو سکی
    یکم جنوری کو وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد عوام نے توقع کی تھی کہ اس کا براہِ راست فائدہ روزمرہ اخراجات خصوصاً ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ تاہم قیمتوں میں کمی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تاحال کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
    شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے باوجود بسوں، ویگنوں، رکشوں اور دیگر سواریوں کے کرائے بدستور سابقہ سطح پر برقرار ہیں، جس سے عوام کو شدید مایوسی کا سامنا ہے۔ مسافروں کے مطابق ہر بار پیٹرول مہنگا ہونے پر فوری طور پر کرایے بڑھا دیے جاتے ہیں، مگر جب قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ عام آدمی تک منتقل نہیں کیا جاتا

    دوسری جانب ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ کرایوں میں کمی فوری طور پر ممکن نہیں کیونکہ دیگر اخراجات جیسے پرزہ جات، مرمت، ٹائرز اور دیگر آپریشنل لاگت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایندھن کی قیمت کم ہونے سے مجموعی اخراجات میں نمایاں فرق نہیں پڑتا۔
    شہری حلقوں اور سماجی شہری تنظیموں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک پہنچانے کے لیے کرایوں میں مناسب کمی کو یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے

  • بچے کا دل پیدائشی طور پر جسم کے باہر،بچے کی حالت خطرے میں

    بچے کا دل پیدائشی طور پر جسم کے باہر،بچے کی حالت خطرے میں

    قصور
    نواحی گاؤں کھارا میں جسم کے باہر دل والے بچے کی پیدائش، والدین بچے کی جان بچانے کیلئے گورنمنٹ سے فریاد کناں

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں موضع کھارا نزد قصور بائی پاس میں 5 جنوری 2026 کو مقامی مزدور محمد دین ولد صاحب الدین قوم میو کی زوجہ کے ہاں بیسک ہیلتھ یونٹ کھارا میں نارمل ڈیلیوری سے ایک بچے نے جنم لیا جس کا دل قدرتی طور پر جسم کے اندر ہونے کی بجائے جسم کے باہر ہے
    بچے کے والدین نے فوری طور پر اسے چلڈرن ہسپتال لاہور ایڈمٹ کروایا تاکہ بچے کی جان کو بچایا جائے تاہم چلڈرن ہسپتال لاہور کے عملے نے 3 روز داخل رکھنے کے بعد بغیر کچھ بتلائے اور دوائی دیئے اتنا کہتے ہوئے چھٹی دے دی کہ اس کو گھر لیجائیں
    اب بچے کی حالت یہ ہے کہ اسکے دل کی سائیڈوں پر پیپ پڑ رہی ہے اور اس کو چھوٹے پیشاب کیساتھ خون بھی آ رہا ہے جس کی وجہ سے بچے کے لواحقین و اہلیان علاقہ سخت پریشان ہیں
    اہلیان علاقہ کی ضلعی انتظامیہ و صوبائی محکمہ صحت سے اپیل ہے کہ بچے کی جان بچانے کیلئے سرکاری طور پر وسائل بروئے کار لا کر اس کا علاج کیا جائے

  • چوری شدہ لوڈر رکشہ برآمد کرکے مالک کو واپس کر دیا

    چوری شدہ لوڈر رکشہ برآمد کرکے مالک کو واپس کر دیا

    قصور: پولیس کی بروقت کارروائی، محنت کش کا چوری شدہ لوڈر رکشہ برآمد
    تھانہ صدر پھولنگر پولیس نے محنت کش کا چوری ہونے والا لوڈر رکشہ برآمد کر کے اصل مالک کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے مطابق 25 December کو بلوکی کے رہائشی محنت کش مشتاق کا لوڈر رکشہ اولکھ بونگا کے علاقے سے چوری ہوا تھا۔
    ایس ایچ او حافظ عاطف نذیر کی سربراہی میں ASI عمران ہاشمی پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید تفتیشی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قلیل وقت میں رکشہ برآمد کر لیا۔
    چوری شدہ رکشہ واپس ملنے پر محنت کش مشتاق نے قصور پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

  • پولیس کی کاروائیوں سے منشیات فروشی نیٹ ورک بند،نشئیوں کا برا حال

    پولیس کی کاروائیوں سے منشیات فروشی نیٹ ورک بند،نشئیوں کا برا حال

    قصور
    ضلع بھر میں منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیاں، ایک نیا موقع، ایک بڑی ذمہ داری

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں پولیس کی جانب سے منشیات فروشی کے خلاف جاری سخت اور مسلسل کارروائیاں لائقِ تحسین ہیں جس کی بدولت منشیات فروشی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے
    اس باعث عام شہریوں، بالخصوص نوجوان نسل کو اس مہلک لعنت سے وقتی تحفظ بھی حاصل ہوا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے جس کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
    تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا اور زیادہ حساس رخ بھی ہے
    وہ افراد جو طویل عرصے سے نشے کے عادی تھے اب منشیات کی عدم دستیابی کے باعث شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں
    نشہ چھوٹنے کی یہ کیفیت اگر نظر انداز کی گئی تو یہ لوگ یا تو دوبارہ غیر قانونی راستوں کی طرف جائیں گے یا کسی اور تباہ کن عمل کا شکار ہو سکتے ہیں
    یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومت اور محکمہ صحت کو پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو ایک سنہری موقع میں بدلنا چاہیے
    ضرورت اس امر کی ہے کہ نشے کے عادی افراد کو مجرم نہیں بلکہ مریض سمجھا جائے اور انہیں طبی و نفسیاتی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ مستقل طور پر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں
    حکومت کو چاہیے کہ ڈی ایچ کیو، ٹی ایچ کیو، آر ایچ سی اور بیسک ہیلتھ یونٹس میں خصوصی سیلز قائم کرے جہاں نشے کے عادی افراد کے لیے مکمل طبی سہولیات میسر ہوں
    جہاں ان سیلز میں نہ صرف ضروری ادویات فراہم کی جائیں بلکہ ماہر ڈاکٹروں اور نفسیاتی معالجین کی خدمات بھی دستیاب ہوں جو ان افراد کی ذہنی بحالی اور نشے سے مستقل نجات میں مدد دے سکیں
    اگر ریاست واقعی منشیات سے پاک معاشرہ چاہتی ہے تو محض سپلائی لائن توڑنا کافی نہیں بلکہ نشے کے شکار انسانوں کی بحالی بھی اسی جنگ کا لازمی حصہ ہے
    ۔قصور میں جاری کارروائیاں ایک مضبوط بنیاد فراہم کر چکی ہیں، اب ضرورت اس بنیاد پر ایک جامع اور انسانی فلاح پر مبنی پالیسی کھڑی کرنے کی ہے

  • لیسکو واپڈا بہادر پورہ قصور کی غفلت سے نوجوان جانبحق

    لیسکو واپڈا بہادر پورہ قصور کی غفلت سے نوجوان جانبحق

    قصور
    لیسکو سب ڈویژن بہادر پورہ کی غفلت سے ایک اور قیمتی جان چلی گئی

    تفصیلات کے مطابق قصور لیسکو واپڈا کی سب ڈویژن بہادر پورہ کی غفلت نے ایک اور جان کو نگل لیا
    ماں باپ کا نوجوان بیٹا کرنٹ لگنے سے چل بسا
    قصور کے سب سے قریب گاؤں کھارا کے محلہ جھگیاں کا رہائشی محمد بلال ولد محمد وارث، عمر اٹھارہ سال، رہائشی محلہ جھگیاں، گزشتہ دن واپڈا کی ناقص تنصیبات کی وجہ سے کرنٹ لگنے سے اپنی جان گنوا بیٹھا
    واضع رہے کہ یہاں بجلی کی تاریں سڑک سے چھ سے سات فٹ اونچی ہیں جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ کئی بار مقامی لوگوں کو کرنٹ لگنے کے واقعات بھی ہوچکے ہیں
    اس کے باوجود متعلقہ واپڈا حکام نے انسانی جان کو اہمیت نہیں دی
    یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نوجوان کا قاتل کون ہے؟ لائن مین، لائن سپرنٹنڈنٹ، ایس ڈی او، ایس ای واپڈا قصور یا پھر تقدیر؟
    مقامی لوگ ہر بار یہی سوال دہراتے ہیں، کہ کب تک کرپٹ محکمے واپڈا کی وجہ سے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟
    یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی حفاظت میں حکومتی اداروں کی ناکامی کا عکس ہے
    ایسے حالات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں کسی اور گھر میں اسی طرح کا ماتم نہ ہو

  • موٹر سائیکلوں سے فائرنگ سے شہریوں کا جینا حرام،کب ہو گا آرام؟ شہری پریشان

    موٹر سائیکلوں سے فائرنگ سے شہریوں کا جینا حرام،کب ہو گا آرام؟ شہری پریشان

    قصور
    موٹر سائیکل کے سائلنسر سے فائرنگ کرنے والے کب قابو ہونگے؟ عوام کا سوال

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں قانون کا نفاذ یکطرفہ نظر آتا ہے
    ٹریفک پولیس کی جانب سے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر تو سرعام چالان ہو رہے ہیں مگر عوام کو ذلیل و خوار کرنے والے ون ٹو فائیو سواروں اور سائلنسر سے فائرنگ جیسی آوازیں نکالنے والی موٹر سائیکلوں کے خلاف مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی عوام کا کہنا ہے کہ شاید ہو گی بھی نہیں
    شہر کی سڑکوں پر بغیر سائلنسر موٹر سائیکلیں تیز اور اذیت ناک آوازوں کے ساتھ دندناتی پھرتی ہیں جن سے نہ صرف شہریوں کا سکون برباد ہو رہا ہے بلکہ مساجد، تعلیمی اداروں اور حتیٰ کہ گھروں تک میں مردوں،عورتوں،بوڑھوں اور بچوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہے
    یہ شور نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی اقدار اور انسانی وقار کی بھی توہین ہے
    اس سے پتہ نہیں چلتا کہ فائرنگ ہو رہی ہے کہ کوئی موٹر سائیکل کے سائلنسر سے ہوائی فائرنگ کا شوق پورا کرکے کمزور دل لوگوں کو مارنے کی کوشش کر رہا ہے
    سوال یہ ہے کہ جب قوانین موجود ہیں تو ان پر عملدرآمد کب ہو گا؟
    کیا ٹریفک قوانین صرف عام شہری کیلئے ہیں اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کیلئے کوئی ضابطہ نہیں؟
    قصور کے عوام مطالبہ کر رہی ہے کہ بغیر سائلنسر، خطرناک آوازیں نکالنے والی موٹر
    سائیکلوں اور ون ٹو فائیو کلچر کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر میں امن، سکون اور قانون کی بالادستی بحال ہو سکے

  • قاتل  ڈور کا شکار معصوم بچی کی زندگی خظرے میں،سرجری کر دی گئی

    قاتل ڈور کا شکار معصوم بچی کی زندگی خظرے میں،سرجری کر دی گئی

    قصور
    خونی ڈور نے معصوم زینب فاطمہ کی زندگی خطرے میں ڈال دی،الحمدللہ لاہور میں کامیاب سرجری ہو گئی

    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مان اڈا، حدود تھانہ صدر قصور میں چند دن قبل خونی ڈور پھرنے 6 سالہ معصوم بچی زینب فاطمہ شدید زخمی ہو گئی تھی
    معصوم بچی کو فوری طور پر بلھے شاہ ہسپتال قصور منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے لاہور کے جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا تھا
    الحمد للہ جناح ہسپتال لاہور میں زینب فاطمہ کی سرجری کامیابی سے مکمل ہو چکی ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
    یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ خونی اور کیمیکل لگی ڈور، غیر قانونی پتنگ بازی اور حکومتی غفلت کے باعث ہر سال معصوم جانیں زخمی اور ضائع ہو رہی ہیں۔
    کبھی کوئی بچہ، کبھی موٹر سائیکل سوار، اور کبھی کوئی راہگیر اس خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے
    کچھ لوگ اسے ثقافت،تفریح یا ریونیو کا ذریعہ قرار دے کر اس گھٹیا کھیل کا دفاع کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند لوگوں کا کاروبار اور تفریح انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟
    ایسے کاروبار پر لعنت ہے
    جس میں معصوم بچوں کا خون شامل ہو اور جس میں انسانی جانیں غیر محفوظ ہوں
    حکومت کی جانب سے بسنت یا کسی بھی صورت میں پتنگ بازی کی اجازت دینا، درحقیقت انسانی جانوں کی توہین ہے قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد نا ہونے کے برابر، پابندیاں کاغذوں تک محدود ہیں اور خونی ڈور آج بھی فروخت ہو رہی ہے
    عوام اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ
    خونی ڈور اور پتنگ بازی پر مکمل اور مستقل پابندی لگائی جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
    تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو ریونیو اور نام نہاد ثقافت پر ترجیح دی جائے
    ورنہ کل پھر کوئی اور زینب، کسی اور ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہوگی