Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • طوبیٰ عامر کے نئے فوٹو شوٹ کے چرچے

    طوبیٰ عامر کے نئے فوٹو شوٹ کے چرچے

    پاکستان کے معروف سیاسی کارکن ، قومی اسمبلی کے رکن اور میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت کی اہلیہ اداکارہ و میزبان سیدہ طوبیٰ عامر کے نئے فوٹوشوٹ کی تصاویر سوشل میڈیا پر چرچے ہیں تاہم صارفین کی جانب سے ان تصاویر پر ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے رکن اور میزبان عامر لیاقت حسین کی اہلیہ اداکارہ طوبیٰ عامر نے گزشتہ روز اپنے نئے فوٹوشوٹ کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کیں۔

    شئیر کردہ تصویر میں طوبیٰ عامر سفید لباس میں انتہائی خوبصورت لگ رہی ہیں اور انہیں سفید رنگ کی ہائی نیک ٹاپ اور سفید جینز میں ملبوس دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے فوٹوشوٹ کی تصویر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

    سیدہ طوبیٰ عامر کے نئے فوٹوشوٹ پر صارفین نے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے ان کے نئے انداز کی تعریف کی جب کہ کچھ لوگوں نے ان پر طنز کیا۔

    ایک صارف نے کہا ماشااللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔ ایک اور صارف نے لکھا میں اپنی آنکھیں آپ پر سے ہٹا نہیں پارہی۔ کوئی کس طرح اتنا پرفیکٹ ہوسکتا ہے؟ ایک صارف نے تو عامر لیاقت کو خوش قسمت قرار دیتے ہوئے کہا واہ عامر لیاقت تیری قسمت۔

    فراز نامی صارف نے سیدہ طوبیٰ عامر پر طنز کرتے ہوئے کہا جب بھی میں آپ کے نام کے ساتھ سیدہ دیکھتا ہوں حیران رہ جاتا ہوں۔ ایک اور صارف نے لکھا بھئی واہ عالم آن لائن کے عالم کی زوجہ۔

    واضح رہے کہ طوبیٰ عامر ان دنوں نجی ٹی وی چینل سے نشر ہونے والے ڈرامے ’بھڑاس‘ میں نظر آرہی ہیں ڈرامے میں ان کی اداکاری کو کافی پسند کیا جارہا ہے۔

  • ہم نے ہی انگریزی کو کُول اور اردو کو جہالت بنا دیا ہے   یاسر حسین

    ہم نے ہی انگریزی کو کُول اور اردو کو جہالت بنا دیا ہے یاسر حسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور کامیڈین اداکار یاسر حسین نے ریستوارن مالکان کا مینجر کی انگریزی کا تمسخر اُڑانے پر سوشل میڈیا صارفین کی مذمت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انگریزی کو ’کُول‘اور اردو کو جہالت بنانے والے ہم ہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : یاسر حسین نے اس حوالے سے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شئیر کی جس میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہوٹل مالکان نے اپنے مینجر کی انگریزی کا مذاق اڑایا اور مزے کی بات یہ کہ ساری دنیا میں موجود لوگوں نے مجھ سمیت انگریزی میں ہی آواز اُٹھائی۔

    یاسر حسین نے کہا کہ کسی نے یہ سوچا کہ اس مینجر کو انگریزی بولنے کی ضرورت کیوں پڑی، یہ کامپلیکس معاشرے میں آیا کہاں سے؟-

    اداکار نے لکھا کہ شرم کا مقام ہے کہ ہم نے ہی انگلش کو کُول یعنی اچھا اور انگریزی کو جہالت بنا دیا ہے۔

    خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خواتین جو خود کو ایک ریسٹورنٹ کا مالک بتاتی ہیں وہ اس ریسٹورنٹ کے منیجر کو بلا کر اس کے ساتھ انگریزی میں بات چیت کرتی ہیں جبکہ منیجر کی انگریزی اتنی اچھی نہیں ہوتی جس پر وہ اس کا مذاق بناتی ہیں اور تمسخر اڑاتے ہوئے ہنستی بھی ہیں۔

    بعدازں ریستوران کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں اپنی ٹیم کے ایک رکن کے ساتھ ’ہلکی پھلکی گفتگو‘ کو لوگوں کی جانب سے غلط انداز میں لیے جانے پر افسوس اور حیرانی ہے۔

    #BoycottCannoli ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

  • شرمین عبید چنائے نے اسرا بلجیک کو پاکستانی فنکاروں کے لئے خطرناک قرار دیا

    شرمین عبید چنائے نے اسرا بلجیک کو پاکستانی فنکاروں کے لئے خطرناک قرار دیا

    آسکرایوارڈ یافتہ پاکستانی ہدایت کارہ شرمین عبید چنائے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اسرا بلجیک المعروف حلیمہ سلطان کے پشاور زلمی کے برانڈ ایمبسیڈر بننے پر اسے پاکستانی فنکاروں کے لیے خطرناک قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی :چند روز قبل ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی میں حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی ترک اداکارہ اسرا بلجیک نے پشاور کے اسلامیہ کالج کی ایک خوبصورت تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئرکرتے ہوئے اسے ’’پھولوں کا شہر‘‘ قرار دیاتھا۔
    https://twitter.com/esbilgic/status/1351566285423992843?s=20
    بعد ازاں پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفریدی نے اسرا بلجیک کا یہ ٹوئٹ ری ٹوئٹ کراتے ہوئے بالکل یہی فقرہ ’’پھولوں کا شہر‘‘ لکھا تھا۔


    جس کے بعد سوشل میڈیا پرقیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں کہ اسرا رواں سال پاکستان سپر لیگ سکس میں پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسڈر بنیں گی اور پشاور زلمی کی نمائندگی کریں گی۔

    انسٹاگرام پر ایک میگزین کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جب اسرا کے پشاور زلمی کے برانڈ ایمبسیڈر بننے کے حوالے سے پوسٹ شیئر کی گئی تو آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کارہ شرمین عبید چنائے نے اس پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا-

    اس پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے شرمین عبید نے لکھا ایک ترک اداکارہ جس کے ملک میں اسپورٹس کھیلا ہی نہیں جاتا اب کرکٹ کا چہرہ بنے گی۔ ویسے پاکستانی اداکاراؤں کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا وہ سب غائب ہوگئیں کہ ہمیں ایک غیر ملکی اداکارہ کی ضرورت پڑگئی؟

    شرمین عبید نے مزید کہا اگر آپ اسی طرح ترک اداکاروں کو ملازمتوں کی ادائیگیاں کرتے رہے تو ہماری فلمی صنعت میں جو بھی بچاہے وہ مرجائے گا۔ ہمارے پاکستانی فنکار بھی یہ سب کرسکتے ہیں۔

    تاہم شرمین عبید چنائے کے اس کمنٹ کو سوشل میڈیا پر زیادہ پسند نہیں کیا گیا ایک سوشل میڈیا صارف نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا آپ بہت بہترین ہدایت کارہ ہیں ماشااللہ اور آپ دنیا بھر میں پاکستانی کی نمائندگی کرتی ہیں لہذا میں نے سوچا کہ آپ اس کی حمایت کریں گی لیکن بدقسمتی سے آپ بھی وہی سبق دے رہی ہیں۔

    کیا آپ جانتی ہیں غیر ملکی فنکاروں کو یہاں لاکر ان سے کام کروانا دراصل ہماری انڈسٹری کے لیے اچھا ہے اس طرح سے یہ لوگ پاکستانی انڈسٹری کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں واہ اسرا پاکستان میں کام کررہی ہے جس کا مطلب ہے پاکستان میں اتنی قابلیت اور پیسہ ہے کہ یہاں غیر ملکی فنکاروں سے کام لیا جاسکے۔

    شرمین عبید چنائے بھی اس کمنٹ پر چُپ نہ رہیں اوراپنی بات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آپ انڈسٹری سے متعلق کچھ نہیں جانتیں لہذا آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ غیر ملکی فنکاروں کا ہمارے یہاں کام کرناہماری صنعت کے لیے اچھا ہے؟ ہماری بہت چھوٹی سی انڈسٹری ہے اور ہمیں اسے اس وقت تک محفوظ کرنا ہے جب تک کہ یہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوجاتی۔

    شرمین نے کہا کہ مہربانی کرکے اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے تھوڑی ریسرچ کرلیا کریں۔ ہمارے ملک میں بہت کم فلمیں بنتی ہیں اور ہمارے یہاں پروڈکشن کا بجٹ بھی بہت محدود ہوتا ہے۔


    دیگر سوشل میڈیا صارفین نے شرمین عبید چنائے کے تبصرے کے جواب میں کہا اگر اسرا بلجیک پاکستان میں کرکٹ کی نمائندگی کرے گی تو اس طرح ہوسکتا ہے ترکی میں اسپورٹس متعارف ہوجائے لہذا حسد کرنا اور نفرت کرنا بند کریں۔

    اسرا بلجیک کی پشاور میں موجودگی سے متعلق خبریں سوشل میڈیا پر وائرل

  • اداکارہ میرا نے اپنی شادی کی تاریخ کا اعلان کر دیا

    اداکارہ میرا نے اپنی شادی کی تاریخ کا اعلان کر دیا

    پاکستان فلم انڈسٹری کی سکینڈل گرل کے نام سے مشہور اور معروف اداکارہ میرا نے اپنی شادی کی تاریخ کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق اداکارہ میرا نے حال ہی میں ایک ویب شو میں بطورِ مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے میزبان کے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اپنی شادی کے متعلق بھی اہم انکشاف کیا۔

    شو کی میزبان نے اداکارہ میرا سے اُن کی شادی سے تعلق سوال کیا کہ آپ شادی کب کر رہی ہیں؟

    میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میرا نے کہا کہ وہ رواں سال اکتوبر میں شادی کریں گی تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس سے شادی کرنے والی ہیں۔

    میرا نے ایک اور سوال کے جواب میں اداکار شان شاہد کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان فلم انڈسٹری کی سیاست کی کمان سنبھال لینی چاہیے۔

    ستھ ہی انٹرویو میرا نے انکشاف کیا کہ وہ جلد ہی ندیم بیگ کی ایکشن فلم میں جلوہ گر ہوں گی تاہم اداکارہ نے فلم کا نام نہیں بتایا۔

    اداکارہ میرا نے ویب شو میں گفتگو کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُنہیں بھارت سے کام کی پیشکش ہوئی تھی لیکن دونوں ممالک کے خراب تعلقات کی وجہ سے وہ پیشکش قبول نہ کرسکیں۔

    واضح رہے کہ اداکارہ میرا نے سال 2003 اور 2004 میں بھارت کا دورہ کیا تھا اور ان کی پہلی بالی وڈ فلم ’نظر‘ 2005 میں ریلیز ہوئی تھی اور ان کی بالی وڈ کی دوسری فلم ’کسک‘ سال 2006 میں ریلیز ہوئی تھی۔

  • قصور جنسی اسکینڈل:انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

    قصور جنسی اسکینڈل:انکوائری رپورٹ میں دل دہلا دینے والے انکشافات

    زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں جنسی استحصال کا واقعہ رونما ہوا ہے جس میں سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جس بچی نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی اسے عبرت کا نشان بنایا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے درندے کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی سرفہرست ہے۔

    پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا لڑکیوں کی طرف سے منتیں اور واسطے دینے پر انہیں مغلظات بکتا ہے اور انکی بات نہ ماننے پرانہیں کالج سے نکالنے اور پیپر میں فیل کرنے کی دھمکی دیتا ہے پپو نلکا نے جعلی نرسنگ سکول بھی قائم کررکھا ہے-

    تاہم اس ساری تحقیقات کے لیے مندرجہ ذیل افسران پر مشتمل ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جن میں یہ افسران شامل ہیں-
    1. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (چیئرمین)
    2. ایڈیشنل ایس پی ، قصور
    3۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈی ایچ او قصور
    مسز بشری انور ، پرنسپل اسکول آف نرسنگ ، ڈی ایچ کیو ، قصور

    اب اس 3 رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے وہ رپورٹ ڈی سی قصور نے ہیلتھ کئیر کمیشن کو بھیجی ہیں ان میں کہا گیا کہ زینب انسٹیٹیوٹ جس قانون کے تحت بنایا گیا اس قانون کے تحت کاروائی کریں-

    اور لوکل گورنمنٹ جس میں ٹی ایم اے اور ضلع کونسلر شامل ہیں کو زینب انسٹیٹیوٹ کو فوری طور پر سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ڈی سی قصور نے اس بلڈنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔

    اور انہوں نے جو پی این سی (پاکستان نرسنگ کونسل ) کا جو لیٹر لگایا ہوا ہے کہ ہمارے پاس پی این سی کا اجازت نامہ ہے اس کا بھی ہیلتھ کئیر کمیشن کو کہا گیا کہ اس کے بارے میں انکوائری کریں کہ کیا یہ جعلی ہے یا اصلی ہے- تاہم کمیٹی نے خیال کیا کہ یہ جعلی ہے اور کوئی حتمی رائے نہیں دی اس کے لئے مزید انکوائری کرنے کی ہدایت کی-

    اور یہ انسٹیٹیوٹ 3 سال پہلے بنا تھا جہاں نرسنگ کروائی جاتی تھی اور پپو نلکا نرسنگ کی جعلی ڈگریاں بیچتا تھا اس پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور انتظامیہ نے نرسنگ کونسل والوں کا بھی موقف جاننے کی کوشش کی ہے کہ آپ نے کس قانون کے تحت اس کی رجسٹریشن کی ہے تو پتہ چلا ہے کہ رجسٹریشن کی صرف انہوں نے درخواست دی تھی دی تھی لیکن اس کے بعد ان کا کوئی بھی وفد یہاں پر وزٹ کے لئے نہیں آیا اور کسی نے اس نرسنگ سکول کو پاس نہیں کیا تھا-

    قصور کی ہیلتھ کئیر کی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان کا گائنی سنٹر اس کا بھی ان کے پاس کوئی اجازت نامی نہیں ہے ان کے پاس کوئی کوالیفائیڈ ڈاکٹر نہیں ہے اور جعلی طریقے سے چل رہا ہے۔

    متاثرہ لڑکیوں نے پہلے تو کہا کہ وہ کاروائی کروانا چاہتی ہیں اوراس کے بعد جتنی بھی طالبات جن کو انتظامیہ ڈھونڈ سکی ان سے یہ لوگ ملے ہیں تو کچھ لوگ کاروائی کرانا چاہتے تھے کچھ لوگ کاروائی نہیں کرانا چاہتے تھے تو یہ ملا جلا رحجان ہے لیکن اس سے پہلے جو لڑکیاں ڈگریاں لے کر جا چکی ہیں اور ان سے انتظامیہ کا کوئی رابطہ نہیں ان کو ڈگریاں مل چکی ہیں ان کا کوئی ریکارڈ ان کو نہیں ملا اور انتظامیہ کل تک اس نرسنگ کالج جو سیل کر دے گی اور ایک بڑی تعداد کو جعلی ڈگریاں جاری کی جا چکی ہیں-

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جیسے ہی ضمانت ہوئی تھی پپو نلکا کی وہ دو لڑکیوں کے کیسز کے اندر تب اس نے اپنے ساتھ ملے دو مقامی صحافیوں کے ذریعے ان کو پریشرائز کرنے کی کوشش کی اور حقائق چھپانے کی بھی کوشش کی گئی تھی اسی لئے اس کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے ایک مہینے کے لئے جیل میں بند کیا گیا ہے-

    اس کے علاوہ یہ شخص شہر کے اندر چُپ شاہ کا گدی نشین بھی بنا ہوا ہے اس میں بھتہ خوری کرتا ہے لوگوں سے پیسے لیتا ہے ہیئروئن کے کاروبار میں بھی ملوث ہے اس کا ایک بھائی ہئروئن بیچتا اس کا ایک بھائی سرکاری بس ٹرمینل پر ایک سٹینڈ پر قبضہ کیا ہوا وہاں سے گاڑی نکلنے کے پیسے چارج کرتا ہے-

    اور گزشتہ کئی سالوں سے چُپ شاہ دربار کا غلہ جہاں پر لوگ پیسے ڈالتے ہیں زیارتیں دیتے ہیں اس پر بھی اس کا قبضہ ہے وہاں پر اس نے اپنے بندے بٹھائے ہوئے ہیں اور لوکل پولیس اسٹیشن اے ڈویژن سب کو اس کی وارداتوں کا پتہ تھا اور اس کے ساتھ ایک منظم گروہ ہے جو اس کے ساتھ یہاں پر دربار کے پیسے کھاتے ہیں-

    اور لڑکیوں کو جنسی ہراساں کرنے والی بات تو کوئی بھی لڑکی اب میڈیا کے سامنے نہیں آنا چاہتی لیکن انتظامیہ نے بتایا ہے کہ یہ دو تین سال سے اسی دھندے میں ہے اور پاکستان نرسنگ کونسل قصور کے دائرہ کار میں نہیں آتی ہے تو اگر کوئی اس پر سوال اٹھاتا بھی تھا تو کہتا تھا میں نے پی این سی سے لائسنس لیا ہوا ہے پی این سی اسلام آباد سے کوئی بھی ادھر نہیں آتا تھا تو اسی لئے اسے چھوٹ ملی ہوئی تھی-

    اور گائنی کے سسٹم میں اس کے ساتھ قصور کی مقامی ہیلتھ کئیر کمیشن ملی ہوئی ہے اور بچوں کے ناجائز حمل گرائے جاتے ہیں اور ساراایک باقاعدہ سسٹم بنا ہوا ہے اور اس کی بلڈنگ بھی غیر قانونی قرار دی گئی ہے اس کو انتظامیہ سیل کرنے جا رہی ہے-علاوہ ازیں یہ بھی چیک کیا جا رہا ہے کہ اس کو کس نے اجازت دی ہر محمکے کو ڈی سی قصور نے ہدایات جاری کر دی ہیں-

    اب اس پر دیکھتے ہیں یہ کیس کیا رُخ اختیار کرتا ہے لیکن اطلاعات یہی مل رہی ہیں کہ یہ بندہ پپو نلکا نرسنگ کی ہزاروں ڈگریاں جعلی سیل کرتا تھا اور ہزاروں نرسنگ کی جعلی ڈگریاں فروخت کر چکا ہے جس کی اماؤنٹ کروڑوں روپے کی بنتی ہے-

    واضح رہے کہ اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج ہوئیں جس میں عام سی دفعات لگائی گئیں تاکہ اس کی ضمانت ہو جائے حالانکہ اس اخلاقیات سے گری ہوئی آڈیوز چیٹس ساری سنی گئی تھیں ڈی پی او قصور سمیت پوری کمیٹی نے سنا تھا سارا کچھ سننے کے بعد دو ایف آئی آر کی گئیں اور بالکل عام سے دفعات لگائی گئیں جب اس کی ضمانت ہو گئی تو اس بندے پپو نلکا نے صحافیوں کو ساتھ لے کر ان لڑکیوں کے گھروں میں جا کر ان کو بلیک میل کیا تو وہ لڑکیاں مکر گئیں الڑکیوں نے انتظامیہ جس میں ڈی پی او اور ڈی سی کے سامنے تو بیان دے دیا تھا لیکن اس کے بعد وہ مُکر گئیں کیونکہ یہاں کا سارا میڈیا اس کو سپورٹ کرتا ہے-

  • قصور: قبضہ مافیا کا قبرستانوں کی زمینوں پر قبضہ ،انتظامیہ خاموش تماشائی

    قصور: قبضہ مافیا کا قبرستانوں کی زمینوں پر قبضہ ،انتظامیہ خاموش تماشائی

    قصور:سابقہ رجسٹری محرر فاروق چٹہ نے قبرستان کی زمینوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا-

    باغی ٹی وی :قبضہ مافیا نے قبرستانوں کی زمین پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ڈپٹی کمشنر قصور کے نوٹس میں بھی یہ معاملہ لایا گیا لیکن اس پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی-


    قصور شہر میں موجود منیر شہید کالونی نے فاروق چٹہ اور اس کے بھائی نے مل کر قبرستان کی جگہ پر قبضہ کیا یہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جو ایم این کا الیکشن بھی لڑ چکا ہے اور سابقہ رجسٹری محرر تھا اور کرپشن کی وجہ سے ڈسمس ہوا-

    اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ انہیں کئی بار کہا کہ یہ قبرستان ہے اس کو نہ چھیڑا جائے لیکن اس کے باوجود فاروق چٹہ اور اس کا بھائی بار بار اسلحہ کے زور پر غنڈہ گردی کرتے ہیں –

    بزرگ کا کہنا تھا کہ فاروق صدیق رجسٹری محرر تھا جو سسپنڈ ہوا اور ایک طاقتور مافیا ہے یہ 2004 سے لے کر اب تک اس طرح حملے کر رہا ہے-لیکن انتظامیہ ڈی سی صاحب کو دو ماہ ہو گئے ہیں درخواست دیئے ہوئے لیکن اس پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی-

    معروف میاں محمد معصوم جو کہ ریٹائرڈ نائب تحصیلدار اور ڈسٹرکٹ امن کمیٹی اور رکن امن کمیٹی بھی ہوں اس قبرستان کے سامنے رہتا ہوں یہ پچاس سال سے بھی پُرانا قبرستان ہے اس میں بابا سلطان شاہ کا دربار بھی ہے اور اس کے ساتھ جتنا بھی رقبہ تھا وہ قبرستان کی جگہ تھی لیکن فاروق چٹہ نے اس کو ریکارڈ میں ردو بدل کر کے ساری رجسٹریاں اپنی ساس کے نام کروا رکھی ہیں اور قبروں کے اوپر سے پلر لگا کر قبرستان پر قبضہ کیا جارہا ہے –

    انہوں نے انتظامیہ ڈی سی اور ڈی پی او سے اپیل کی کہ ان پر قانونی کاروائی کی جائے-

    جبکہ دوسری جانب پولیس کا کہنا تھا کہ یہ متنازع ایریا ہے اور اس پر ڈی سی صاحب اور ڈی پی او صاحب پوری کاروائی کر رہے ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں گے دونوں فریقین کو منظور ہو گا لیکن یہ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فریق کسی بھی جگہ پر قبضہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ہم اس کی اجازت دیں گے –

    شہریوں نے احتجاج کے دوران قبضہ مافیا فاروق چٹہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی –

  • یاسر نواز کے ساتھ ماضی میں کیا پراسرار واقعہ پیش آیا کہ انہیں شوٹنگ منسوخ کرنی پڑی

    یاسر نواز کے ساتھ ماضی میں کیا پراسرار واقعہ پیش آیا کہ انہیں شوٹنگ منسوخ کرنی پڑی

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار و ہدایت کار یاسر نواز نے ماضی میں پیش آنے والی خوفناک اور دلچسپ واقعہ شئیر کر دیا-

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی چینل کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے یاسر نواز نے بتایا کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے لیے جب وہ کراچی میں تین تلوار کے راستے میں آنے والی ایک خستہ حال عمارت میں گئے تو وہاں (عمارت کا) گارڈ خاصا پراسرار محسوس ہوا۔

    یاسر نےبتایاکہ چوکیدار سے جو بھی سوال کیا جاتا وہ اس کا جواب 2 سے 4 سیکنڈ بعد دیتا۔

    انہوں نے کہا کہ کیونکہ شوٹ کیے جانے والے سین رات کے تھے تو ہم نے منصوبہ بنایا کہ رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک شوٹ کیے جائیں، جب ہم عمارت میں داخل ہوئے تو مجھے اور میری ٹیم کو ایک عجیب سی وحشت محسوس ہوئی۔

    یاسر نواز نے مزید بتایا کہ رات کے30: 12 کے بعد جب میری نظر یونہی اوپر کی جانب پڑی تو میں نے دیکھا کہ سفید رنگ کا سایہ جس کے کندھے بھی نظر آرہے ہیں لیکن چہرہ نظر نہیں آرہا کمرے میں جھانک رہا ہے، جب میں نے اپنی ٹیم کے ایک لڑکی سے کہا کہ اوپر دیکھو کچھ نظر آرہا ہے تو اس نے کہا کہ سر میں آپ سے پہلے وہیں دیکھ رہی تھی ،ایسا لگ ہے جیسے کوئی جھانک رہا ہے۔

    یاسر کے مطابق میں نے ان سے کہا کہ خاموش رہو کیونکہ اگر ہم نے شور مچایا تو اداکار بھی شور مچائیں گے اور سین شوٹ نہیں کریں گے لیکن میری نظریں اوپر ہی تھیں مگر میں نے دیکھا وہ سایہ آہستہ آہستہ پیچھے جاتا رہا اور ختم ہوگیا۔

    اد کار کا کہنا تھاکہ میں اوپر ہی دیکھتا رہا لیکن کچھ دیر بعد وہی سایہ مجھے سیدھا کھڑا ہواکمرے کی دوسری کھڑکی میں نظر آیا اور پھر جب ہم نے شوٹ کےلیے کمرا تبدیل کیا تو وہ سایہ وہاں بھی ہمیں کھڑا دکھائی دیا، اس کے بعد ٹیم میں شامل ایک اور شخص نے با آواز بلند کہا کہ مجھے بھی یہی سایہ نظر آرہا ہے، اب میں اور میری ٹیم ڈر گئے تھے، میں نے اپنے ساتھ کھڑے شخص سے کہا یہاں شوٹ مناسب نہیں ہمیں نکلنا چاہیے۔

    ہدایتکار کا کہنا تھا کہ مجھے میری ٹیم کے ایک شخص نے یہاں تک کہا اگر سر آپ اجازت دیں تو میں لائٹس کا رخ اس سایے کی طرف کرتا ہوں اس سے یہ ہوگا جو بھی شے ہے فوراً لائٹس اس کے منہ پر پڑے گی لیکن یاسر کے مطابق انھوں نے اسے ایسا کرنے سے منع کردیا ۔

  • بلوچستان میں کینسر کا ہسپتال بنایا جائے مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    بلوچستان میں کینسر کا ہسپتال بنایا جائے مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    کینسر تیزی سے پھیلتا ہوا ایسا مہلک مرض ہے، جس کے علاج کی استطاعت ہر خاص و عام کی نا بس کی بات ہے اور نا ہی بدقسمتی سے پورے بلوچستان میں کینسر کے علاج کے لیئے کوئی ایک ہسپتال قائم ہے۔ اس مہلک مرض کے شکار مریضوں کے لیے کراچی ایک واحد شہر ہے جہاں جانا پڑتا ہے۔ چوںکہ ہر کسی کا نہ وہاں پہ گھر ہے نہ ہر کوئی وہاں رشتہ دار رکھتا ہے کہ جن کے گھر ٹہرا جائے۔ اس لیے ہم بلوچستانیوں کو علاج کا خرچہ اٹھانے کے ساتھ رہائش کا الگ خرچہ کرنا پڑتا ہے۔

    باغی ٹی وی :تاہم کینسر میں مبتلا چند لوگوں کے علاج کی خاطر مقامی سطح پر چندہ مہم سے کام چلایا گیا، جس کے وقتی طور پر بہتر نتائج تو نکلے مگر یہ مستقل حل نہیں ہے۔ کیوںکہ کسی مریض کے لیئے 70 یا 80 لاکھ چندہ اکھٹا کرنا ایک دو یا تین بار صحیح مگر بار بار ممکن نہیں ہے۔

    او لیول کی 13 سالہ طالبہ ایمن نے2017 میں کینسر ہسپتال کے قیام کی خاطر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مہم شروع کی تھی۔

    12 نومبر 2019 کو ایمن نے انڈیپینڈنٹ اردو کو ایک انٹر ویو میں بتایا تھا کہ کہ انہیں اُس وقت کینسر ہسپتال کی ضرورت زیادہ محسوس ہوئی جب انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ بلوچستان کے دو نوجوان شاہ مریداور ریحان رند کینسر کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔


    ایمن کے بقول انہوں نے جب کینسر کے مریضوں کے علاج معالجے کے لیے’ کوئٹہ آن لائن‘ نامی تنظیم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کی تو انہیں ایسے مریضوں کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔

    ایمن کے مطابق چونکہ کینسر کا علاج مہنگا ہوتا ہے لہذا وہ چاہتی ہیں کہ کوئٹہ میں ہی ہسپتال قائم کیا جائے تاکہ صوبے کے لوگوں کو دوسرے علاقوں میں نہ جانا پڑے۔

    کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کے لیے دو سو بیڈ پر مشتمل تین فلوز مختص کرنے کی منظوری ہو چکی ہےصوبائی محکمہ صحت کی دستاویزات کے مطابق شیخ زید ہسپتال کوئٹہ کے تین فلورزپر مشتمل 62 ہزار 936 اسکوائر فٹ کے حصے کو کینسر ہسپتال میں تبدیل کیا جائے گا۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق فیز ون کے تحت ہسپتال میں ریڈیو تھراپی مشین، سی ٹی سیمولیشن اورپلاننگ رومز اور ریڈی ایشن مشینوں کے لیے بنکر بنائے جائیں گے جبکہ فیز ٹو میں تعمیراتی اور کمروں کی تزہین و آرائش کے ساتھ اوپی ڈی کا شعبہ قائم ہو گا۔

    پہلےدونوں فیز مکمل ہونے کے بعد شیخ زید ہسپتال میں جامعہ کینسر کا شعبہ قائم کیاجائے گا جس میں اونکو لوجی سیٹ اپ بھی منتقل کیا جائے گا۔

    محکمہ صحت کی دستاویزات کے مطابق ہسپتال کے لیے دو ریڈیو تھراپی مشینوں کی ضرورت ہوگی، جن کی مالیت 200سے 250 ملین روپےہے۔

    تاہم 11 ستمبر 2020 کو خبریں شامنے آئیں کہ بلوچستان کے پہلے کینسر ہسپتال کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے ہسپتال دو سال میں مکمل ہو گا محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کوئٹہ شیخ زید ہسپتال کی اضافی اراضی کینسر ہسپتال کیلئے مختص کی گئی ہےہسپتال کا سنگ بنیاد گزشتہ سال وزیر اعلیٰ جام کمال نے رکھا تھا لیکن کورونا وائرس کے باعث ہسپتال کی تعمیر کا آغاز نہیں ہوسکا تھا-

    محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے بتایا تھا کہ کینسر ہسپتال کی تعمیر پر مجموعی طو ایک ارب ستر کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اورمنصوبہ دوسال میں مکمل ہوگاصوبائی حکومت نے ہسپتال کی تعمیر کیلئے ابتدائی طور پر چار کروڑ روپے کی رقم ریلیز کردی ہے ۔

    تاہم اب پھر بولچستان میں کینسر کا ہسپتال قائم کرنے جکا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے یہاں تک کہ ٹوئٹر پر #CancerHosp4Balochistan ٹرینڈ کر رہا ہے-اور سینکڑوں کی تعداد میں صارفین اس ٹرینڈ کا حصہ بن کر بلوچستان میں کینسر کے ہسپتال کے لئے مطالبہ کر رہے ہیں اور غریبوں کی آواز بن رہے ہیں-

    https://twitter.com/faujkashaheen/status/1352193558485340160?s=20
    https://twitter.com/Sdf_113/status/1352211954992087052?s=20
    صدف نامی صارف نے لکھا کہ بلوچستان میں نہ صرف بھوک ، غربت ، بلکہ بیماری نے بھی اپنی جڑیں گاڑھ رکھی ہیں ، کینسر کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےیہ قابل علاج ہے لیکن علاقے کے لحاظ سے یہ بیماری بلوچستان کے لئے غیر معمولی ثابت ہو رہی ہے۔
    https://twitter.com/Sdf_113/status/1352213645309206528?s=20
    اسی صارف نے مزید انکشافات کئے کہ بلوچستان میں 10 سے 12 ہزار افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ 90٪ مرد فوڈ ٹریک کینسر میں مبتلا ہیں جنہیں سگریٹ ، براؤن ، پان اور گٹگا فوڈ لاحق ہے جبکہ خواتین کی اکثریت چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہے۔
    https://twitter.com/Sdf_113/status/1352212295099805696?s=20
    https://twitter.com/AwaKashmir/status/1352211771277406211?s=20
    https://twitter.com/M___AAziz/status/1352210682821947396?s=20


    https://twitter.com/AwaKashmir/status/1352211109441372164?s=20

  • قصور جنسی سیکنڈل ۔مرکزی ملزم کہاں اور کس حالت میں ہے؟

    قصور جنسی سیکنڈل ۔مرکزی ملزم کہاں اور کس حالت میں ہے؟

    قصور:قصور شہر میں جعلی نرسنگ سکول اور گائنی سنٹر چلانے والے محمد احمد عرف پپو نلکا کو ضلعی انتظامیہ قصور ڈپٹی کمشنر قصور نے پنجاب مینٹینینس آف پبلک آرڈر کے تحت نیا مقدمہ درج کر کے ایک مہینے کے لئے جیل بھیج دیا ہے –

    باغی ٹی وی :پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے ان کو اس سے پہلے نرسنگ کی طالبات سے جنسی ہراساں کرنے پر اور ان کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینے پر تھانہ صدر قصور دو مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا جس پر ان کو عدالت نے نے ضمانت دی تھی تاہم اب پھر انتظامیہ نے نیا مقدمہ درج کرکے ان کو گزشتہ روز گرفتار کیا اور اب جیل روانہ کر دیا ہے-

    پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس حوالے سے تین رکنی افسران کی تفتیشی رپورٹ بھی قصور کو مل گئی ہے-

  • ہدایتکار ساجد خان پر ایک اور بالی وڈ اداکارہ نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کردیا

    ہدایتکار ساجد خان پر ایک اور بالی وڈ اداکارہ نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کردیا

    بالی وڈ کی بولڈ اداکارہ شرلن چوپڑا نے ہدایت کار ساجد خان پر ڈیڑھ دہائی قبل جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کردیئے۔

    باغی ٹی وی : معروف فلم ساز و کوریوگرافر فرح خان کے بھائی ساجد خان کو پہلے ہی کم از کم نصف درجن خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا ہے اور ان الزامات کی وجہ سے ہی انڈین فلم اینڈ ٹی وی ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن نے ان کی رکنیت معطل کر رکھی ہے۔

    ساجد خان پر ابتدائی طور پر اداکارہ سلونی چوپڑا، صحافی کرشمہ اوپاڈہے اور اداکارہ ریچل وائٹ نے اکتوبر 2018 میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

    بعد ازاں ساجد خان پر نامور اداکارہ بپاشا باسو نے بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم ساز کا خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ ہوتا ہے۔

    اگرچہ ساجد خان نے تمام الزامات کو مسترد کیا تھا تاہم اس کے باوجود ان کی رکینت کو متعدد ڈائریکٹرز و فلم ایسوسی ایشنز نے معطل کردیا تھا، جس کے بعد انہوں نے فلم سازی چھوڑ دی تھی۔

    حال ہی میں خبریں آئی تھیں کہ وہ 2021 میں دوبارہ فلم سازی کی جانب آئیں گے، لیکن اب ایک بار پھر ان پر خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

    بھارتی خبر رساں ادارے انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ شرلن چوپڑا نے ٹوئٹر پر ساجد خان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فلم ساز نے انہیں ڈیڑھ دہائی قبل جنسی طور پر ہراساں کیا۔

    شرلن چوپڑا کا ساجد خان پر جنسی ہراسانی کے الزامات فائل فوٹو :گوگل

    شرلن چوپڑا نے دعویٰ کیا کہ 2005 میں جب وہ ساجد خان کے پاس کام مانگنے گئیں تو فلم ساز ان کے سامنے بے لباس ہوگئے۔

    اداکارہ نے بتایا کہ ساجد خان نے بے لباس ہوجانے کے بعد انہیں نامناسب خواہش مکمل کرنے کے لیے بھی کہا، تاہم انہوں نے فلم ساز کو بتایا کہ وہ اس لیے نہیں بلکہ فلموں میں کام کے لیے آئی ہیں۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق شرلن چوپڑا نے ساجد خان پر ایک ایسے وقت میں جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں جب کہ حال ہی میں ایک دستاویزی فلم میں بھی فلم ساز پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے گئے۔

    حال ہی میں با لی وڈ کی خودکشی کرنے والی جیا خان کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم میں اداکارہ کی بہن نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بہن کو ساجد خان نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

    جیا خان کی بہن نے دستاویزی فلم میں بتایا کہ جیا خان نے انہیں بتایا تھا کہ ساجد خان نے ان سے لباس اتارنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    جیا خان کی بہن کے مطابق ساجد خان کے نامناسب مطالبے پر ان کی بہن کافی مایوس اور خوف زدہ تھیں اور وہ گھر پر آکر روئی تھیں۔

    مذکورہ دستاویزی فلم کے بعد شرلن چوپڑا نے بھی ساجد خان پر الزامات عائد کیے، جس کے بعد ٹوئٹر پر ساجد خان کا نام ٹرینڈ کرنے لگا اور لوگوں نے انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاہم ان کے خلاف باضابطہ طور پر کسی خاتون نے مقدمہ دائر کرکے قانونی کارروائی کا آغاز نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ ساجد خان پر الزام لگانے والی شرلن چوپڑا نے بھی 2 درجن کے قریب فلموں میں ہی کام کیا ہے، جن میں سے زیادہ تر بولڈ فلمیں ہیں، ساتھ ہی انہوں نے تامل اور تیلگو فلموں میں بھی کام کیا ہے۔

    شرلن چوپڑا کو 2017 میں ممبئی پولیس نے جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ وہ پیسوں کی خاطر لوگوں کو آن لائن جنسی لذت فراہم کرتی تھیں۔

    آنجہانی سوشانت سنگھ کی سالگرہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ، مداحوں کی جانب سے زبردست خراج تحیسن