Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • واشنگٹن میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی گونج دنیا بھر میں ہوتی ہے مہوش حیات نے ایسے کیوں کہا

    واشنگٹن میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی گونج دنیا بھر میں ہوتی ہے مہوش حیات نے ایسے کیوں کہا

    پاکستان کی معروف اور تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی اداکارہ مہوش حیات نے کہا ہے کہ 4 سال بعد امید کرتی ہوں کہ یہ امریکا میں میرے دوستوں اور ہم سب کے لئے ایک نئی شروعات کا اشارہ ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکہ کے نئے صدرجوزف بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے متعلق مہوش حیات نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ایک بار پھر ساری دنیا کی نظریں امریکہ پر ہیں آخر کار نئے صدر نے حلف اٹھا لیا ہے-


    مہوش حیات نے لکھا کہ واشنگٹن میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی گونج دنیا بھر میں ہوتی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ دلچسپ 4 سال بعد امید کرتی ہوں کہ یہ امریکا میں میرے دوستوں اور ہم سب کے لئے ایک نئی شروعات کا اشارہ ہے۔

    واضح رہے کہ جوزف بائیڈن نے امریکا کے 46 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی جو بائیڈن کو امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔

    ٹرمپ کے جاتے ہی پالیسیاں بدل گئیں،جوبائیڈن کا پہلا روز،کن صدارتی حکم نامے پرکیے دستخط؟

    ٹرمپ حلف برداری تقریب میں شرکت کیے بغیر وائٹ ہاؤس سے روانہ، میری لینڈ میں حامیوں سے خطاب

    نفرت،تقسیم اورتلخییوں کےبعد نئے دورکا آغازہے۔کرونا سےملک تباہ،معیشت تباہ:کچھ کرنا ہوگا،جوبائیڈن

    پہلاصدرہوں‌ جوکچھ نہیں چھوڑکرجارہا:ٹرمپ نے کس کی طرف اشارہ کردیا،قوم سےدعا کی…

    جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری:امریکی فوج سخت مشکل میں سیکورٹی اہلکاروں پربھی…

    جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں‌ شرکت کرنےکےلیے امریکا کی کون سی اہم شخصیات وائٹ…

    جوبائیڈن کی حلف برداری،سابق صدور کی شرکت متوقع،ٹرمپ بارے بھی اہم خبر آ گئی

    ٹرمپ نے صدارتی عہدے کے آخری گھنٹوں میں ایسا کام کر دیا کہ سب حیران رہ گئے

    نئے امریکی صدر نے خواجہ سرا کو اہم عہدہ دے دیا

    جو بائیڈن کی حکومتی ٹیم میں‌ پاکستانی اور کشمیری بھی شامل ، کون سی ذمہ داریاں…

  • میشا شفیع علی ظفر ہراسگی کیس:کورٹ میں مداحوں کی بڑی تعداد کی علی ظفر کے حق میں نعرے بازی

    میشا شفیع علی ظفر ہراسگی کیس:کورٹ میں مداحوں کی بڑی تعداد کی علی ظفر کے حق میں نعرے بازی

    سیشن عدالت میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت ہوئی اور میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح کی گئی-

    باغی ٹی وی:سیشن عدالت میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح ہوئی
    ایڈیشنل سیشن جج امتیاز احمد علی نے ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کی سماعت کی-

    میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جاری جرح میں علی ظفر کے وکیل نے عفت عمر سے کافی سخت سوال کئے-عدالت میں علی ظفر کے کافی زیادہ فینز موجود تھے جنہوں نے عفت عمر کے عدالت سے باہر نکلنے پر علی ظفر کے حق میں نعرے بازی کی-

    علی ظفر کے مداحوں نے نعروں میں کہا کہ علی ظفر کو پوری سپورٹ ،میشا شفیع کو واپس بُلاؤ اور میشا شفیع کو کورٹ میں آؤ، میشا شفیع علی ظفر کا سامنا کرو اور بھائی ہمارا حاظر ہے ،میشا غیر حاظر ہے جیسے نعرے استعمال کئے-

    ایک خاتون نے کہا کہ اتنے زیادہ کیسز ہوتے ہیں پاکستان کے اندر ان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں بولتا ایسے فیک کیسز ہوتے ہیں اس کو اتنی فوٹیج ملتی ہے اتنا فیم ملتا ہے ایسے کیوں ہے میں نے عفت عمر سے بھی اس کے متعلق سوال کیا لیکن انہوں نے آگے سے کہا کہ وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتی-

    خاتون نے عفت عمر پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں پر حیرت ہے جنہیں جواب کرنے کی تمیز نہیں انہیں بتانا چاہیئے تھا کہ وہ کس لئے آئی ہیں ان کا یہ مسئلہ تھا اور اس چیز کو سپورٹ کرنے آئی ہوں انہیں اگر کچھ پتہ ہی نہیں تووہ آئی کیوں ہیں-انہوں نے کہا کہ میشا شفیع کہتی ہیں نیوٹرل رہناچاہیئے فیمنیزم ہو نا چاہیئے اگر برابری چاہیئے تو پھر سزا بھی برابر کی ملنی چاہیئے-

    انہوں نے مزید کہا کہ میں کورٹ کی بہت عزت کرتی ہوں اگر کورٹ نے علی ظفر کو بے قصور ثابت کیا ہے تو میں ابھی اس بات کو فپل سپورٹ کرتی ہوں اور اگر میشا شفیع نہیں مانتیں ہیں تو سب کو پتہ ہونا چاہیئے کہ جھوٹا کون ہے کون نہیں کورٹ میں کیوں نہیں آ رہیں عفت عمر جیسے لوگوں کو بھیج رہی ہیں جنہیں کچھ پتہ ہی نہیں اور کورٹ میں آکر جھوٹ بول رہی ہیں –

    انہوں نے کہا کہ کیا ہو رہا ہے یہاں پر یہ کوئی مذاق چل رہا ہے کہ کوئی بھی آئے گا کورٹ روم میں بیٹھ جائے گا اور ٹائم ضائع کرے گا اس نے کہا کہ میشا شفیع کیا بتانا چاہ رہی ہیں ایسے جھوٹا کیس کر کے یہ کیسا فیمینزم ہے ہمیں نہیں چاہیئے ایسا فیمنیزم میں میشا شفیع کو اس معاملے میں سپورٹ نہیں کروں گی-

    علی ظفر کے ایک مداح نے کہا کہ ہم یہاں علی بھائی کے لئے اس لئے آئے ہیں لڑکیاں جو می ٹو کی مہم میں حصہ لیتے ہوئے الزام لگاتی ہیں کہ ہمیں ہراس کیا گیا اور اس طریقے سے اپنے فائدے پورے کروا لیتی ہیں تو ہم یہ کہیں گے کہ می ٹو کلچر پاکستان میں نہیں ہونا چاہیئے وہ پاکستان میں ایک سیکولرزم لانا چاہ رہے ہیں اور ہمیں نہیں لگتا کہ ایک اسلامی ریاست میں یہ سب ہونا چاہیئے اور ہمیں کورٹ سے پوری امید ہے کہ وہ غلط کو ہی غلط ثابت کرے گا-

    میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت ،میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح…

  • میں ریڈ والی شراب پیتا ہوں کیونکہ وہ انگور کی ہوتی ہے   مفتی عبدالقوی

    میں ریڈ والی شراب پیتا ہوں کیونکہ وہ انگور کی ہوتی ہے مفتی عبدالقوی

    عالم دین اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    گزشتہ روز ٹک ٹاک گرل حریم شاہ کے ہاتھوں مفتی قوی کے تھپڑ کھانے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس نے تہلکہ مچا دیا تھا۔

    اس ویڈیو کے بعد اب سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں مفتی قوی اور حریم شاہ سمیت دیگر لوگ ایک ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کھانے کی میز پر ان سے باتیں کی جارہی ہیں اور وہ اپنے حوالے سے انکشافات کیے جارہے ہیں۔
    https://twitter.com/Ayesha701900053/status/1351516232672047110?s=19
    مفتی قوی کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ ’پارٹی میں 5 قسم کی شراب ہوگی اور میں ریڈ والی پیتا ہوں کیونکہ وہ انگور کی ہوتی ہے اور اس لیے پیتا ہوں کہ میرے دل کے حوالے سے کہا کہ اچھی ہے‘۔

    پارٹی میں گرل فرینڈ سے متعلق سوال پر مفتی قوی کہتے ہیں کہ ایک نہیں بہت ساری ہوں گی، مفتی قوی کے قرب میں بیٹھنا خواتین کی خواہش ہے، کبھی عاشق حسین کو اداکارہ میرا کے پاس لے جاؤں گا۔
    https://twitter.com/Ayesha701900053/status/1351517100133781505?s=19
    مفتی قوی نشے سے متعلق حریم شاہ کے سوال پر وہاں موجود دوسری خاتون کو سرگوشی سے بتاتے ہیں کہ اس وقت میرے بریف کیس میں چرس کے 4 سے 5 سگریٹ ہیں۔

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مفتی قوی گفتگو لیک نہ ہونے کی ضمانت مانگتے ہیں جس کے بعد پھر شراب پینے کا اعتراف کرتے ہیں۔

  • قصور جنسی اسکینڈل: پپو نامی بہروپیا یا چھلاوا ،پولیس تاحال گرفتار کیوں نہ کرسکی؟ مبشر لقمان حقیقت سامنے لے آئے

    قصور جنسی اسکینڈل: پپو نامی بہروپیا یا چھلاوا ،پولیس تاحال گرفتار کیوں نہ کرسکی؟ مبشر لقمان حقیقت سامنے لے آئے

    پاکستان کے صف اول کے صحافی اور سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے قصور جنسی اسکینڈل کے سلسلے میں پولیس کی سستی اور خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سینئیر صحافی مبشر لقمان نے اپنے آفیشل یوٹویب چینل پر جاری ویڈیو میں قصور میں میڈیکل کالج میں سو سے زائد طالبات کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی پر پولیس کی جانب سے خاموشی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کی روک تھا م کے لئے کوئی واضح قانون بنائے-

    مبشر لقمان نے کہا کہ گزشتہ سال معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا اور اس وقت بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے واویلا کیا تھا جس کی وجہ سے قاتل پکڑا گیا اور اس کو سزا ہو گئی اور اسکے قاتل اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ہمارے پاکستان کی بچیاں محفوظ ہوئیں اورحکومت کی کوشش سے باقاعدہ قانون کی پاس ہوا ۔

    لیکن اب پھر وہ ٹائم آ گیا ہے کہ میں دوبارہ آپ کے اوپر زور لگاؤں تاکہ اس مسئلے پر پوری طرح قانون سازی ہو سکے اب اسی طرح کا ایک اور واقعہ زینب انسٹی ٹیوٹ نرسنگ کالج موضع بنگلہ کمبوہاں قصور شہر میں رونما ہوا ہے اور اب پھر جس میں بتایا جارہا ہے کہ سو سے زائد بچیوں کا جنسی استحصال کیا گیا ہے اور ان کو پیپرز میں پاس کرنے کے نام پر زیادتی کی گئی ہے اور معصوم بچیوں کے مستقبل کو اور ان کی زندگیوں کو داﺅ پر لگایا گیا ہے۔

    اور اس حوالے سے جس بچی نے بھی آواز بُلند کرنے کی کوشش کی اس کو عبرت کا نشانہ بنایا گیا-پنجاب پولیس نے تاحال صرف دو ایف آئی آر دو معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات کی درج کی ہیں جب کہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں 100 سے زائد بچیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا ہے ان کے ساتھ ظلم کیا گیا جبر کیا گیا اور یہ ظلم ان بچیوں کے ساتھ بار بار کیا گیا-

    مبشر لقمان کے مطابق کہ اب پنجاب حکومت پپو نلکا نامی اس جنسی درندے کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کررہی کیونکہ اس بہروپیے نے ایک جعلی صحافی کا بھی روپ دھار رکھا ہے لیکن اب وہ جعلی صحافی ہے یا اصلی صحافی ہے وہ بہروپیہ ہے یا کطھ لیکن اس کا اثرو رسوخ ہے کہ پنجاب پولیس اس کے خلاف پرچہ کاٹنے میں ہچکچا رہی ہے-

    انہوں نے پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ س طرح کرنا پنجاب پولیس کی پُرانی روایت ہے سینئیر صحافی نے مزید کہا کہ وہ خود بھی پولیس کے پاس دو مرتبہ پرچہ کروانے کے لئے جا چُکے ہیں لیکن انہوں نے پرچہ نہیں کیا دو سال سے درخواستیں پڑی ہوئی ہیں وہاں-

    مبشر لقمان نے بتایا کہ اہل علاقہ بنگلہ کمبوواں و متاثرین زینب انسٹی ٹیوٹ میڈیکل کالج قصور کا کہنا ہے کہ قصور کا میڈیا جس طرح زینب والے معاملے پر شروع سے خاموشی اختیار کئے ہوا تھا تاہم جب قومی میڈیا پر جب بات آئی تو عوام کو حقائق کا علم ہوا۔ایک بار پھر قصو ر کا مقامی میڈیا پپو نلکا جیسے بھیڑیا کو سپورٹ کررہا ہے جس میں پولیس بھی اس کی مدد کرنے میں سرفہرست ہے۔

    مبشر لقمان نے خیال ظاہر کیا کہ اس سب کا مطلب ہے کہ پیسوں کا لین دین ہو رہا ہے اور مجرموں سے پیسے لے کر مسب کو چُپ کروایا جا رہا ہے اب اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کون کون کس جگہ پر صحافت کے نام پر کیا کیا کر رہا ہے-

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پپو نلکا نرسنگ کی طالبات کو واٹس ایپ پرمیسیج کرکے اپنے کمرے میں بلاتا تھا اور اپنی جنسی ہوس پوری کرتا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس وہ واٹس ایپ چیٹ بھی موجود ہے جن میں وہ لڑکیوں کو اپنے پاس بلانے کے لئے ڈراتا دھمکاتا اور پیپرز میں پاس کرنے کا لالچ دیتا تھا اور اس کی مبینہ آڈیو بھی ان کے پاس آ چکی ہے لیکن اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے ان پر لازم ہے کہ وہ سب کے سامنے پیش نہ کریں لیکن یقین کریں کہ وہ اتنی غلیظ اور غلاظت سے بھر پور ہے کہ اگر آپ اور خاص طور پر والدین سنیں گے تو کانپ جائیں گے کہ ابھی تک اس کے اوپر پرچہ کیوں نہیں ہو رہا –

    سینئیر صحافی نے ویڈیو میں میڈیکل کالج کے بارے میں مزید انکشاف کیا کہ اس کالج کا لائسنس جعلی ہے اور اس کالج نے سینکڑوں طالبات کو جعلی ڈگریاں جاری کی ہیں جس پر مقامی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران بھی اس پر کاروائی کرنے پر گریزاں ہیں پتہ نہیں کس کس کو مہینہ جاتا ہفتہ جاتا ہے-

    مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ اگر اس درندے کے خلاف اگر جلد از جلد کاروائی نہیں ہوتی تو آپ سوچیں کہ معاشرے کے اندرلوگوں کی عزتیں محفوظ رہ سکیں گی لوگ کیا سکول ، یونیورسٹیز اور کالج میں اپنی بچیوں کو بھیج سکیں گے-

    انہوں نے بتایا کہ دو ایف آئی آر درج ہوئیں جبکہ باقی درخواستوں پر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی تاہم بعد ازاں باغی ٹی وی کی جانب سے خبر ریلیز ہو نے کے بعد قصور پنجاب پولیس کا موقف بھی سامنے آ یا، پنجاب پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ الزامات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے-جس میں کہا گیا ہے کہ 2 طالبات کو ہراساں کیا گیا جن کی شکایات پر مقدمات درج کر لیے گئے تھے ۔ مزید الزامات کی تحقیقات کے لیے مندرجہ ذیل افسران پر مشتمل ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جن میں یہ افسران شامل ہیں-
    1. ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (چیئرمین)
    2. ایڈیشنل ایس پی ، قصور
    3۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن ، ڈی ایچ او قصور
    مسز بشری انور ، پرنسپل اسکول آف نرسنگ ، ڈی ایچ کیو ، قصور

    کمیٹی 3 دن میں مثبت جانچ پڑتال اور سفارشات اور گزارشات پر مبنی رپورٹ کرے گی جس کے حوالے سے تفتیش جاری ہے سینئیر صحافی نے اس کمیٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی اور اس میں افسران کا مطلب یہ ہے کہ چھیچھڑوں کی رکھوالی پربلی کو بٹھا دینے والا حساب ہے –

    اینکر پرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور مقامی صحافی اتنے بڑے مجرم کو بچانے کے لئے زور لگا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کسی طرح بچ جائے جس کے اوپر الزام ہے کہ 100 سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی کی-

    مبشر لقمان نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ نہ صرف اس ویڈیو کو اتنا پھیلائیں کہ ہر آدمی کو پتہ چلے کہ اور یہ لوگ بے نقاب ہوں بلکہ ان کو پناہ دینے والے ان کی پشت پناہی کرنے والے ان کو بچانے والے جو لوگ اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں پولیس والا کہتا ہے سول سوسائٹی والا کہتے ہیں وہ سب کے سب بے نقاب ہوں اور ان سب کے اوپر بھی پرچے ہوں-

    سینئیر صحافی نے کہا کہ بچیوں کے اس معاملے پر آرام سے سونا نہیں ہے بچیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں یہ آپ کی بھی ہیں میری بھی ہیں مبشر لقمان نے کہا کہ وہ بچیوں کا نام نہیں لینا چاہتے اور واٹس ایپ چیٹس نہیں دکھا سکتے کیونکہ بہرحا ل ان کی بھی عزت ہے اللہ تعالیٰ ان کی عزتیں قائم رکھیں لیکن اس مسئلے کا سب سے بڑا پوائنٹ یہ ہے کہ حکومت اور پنجاب پولیس اس واقعے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور مجرموں کوچھوڑنے کا یا انہوں نے پورا ایک طریقہ کار بنایا ہوا ہے –

    انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس جو بھی میڈیا پر ہے سوشل میڈیا پر ہے اس واقعے کو خود سے اپنی زبانی شئیر کریں تاکہ وہ مجرم اور اس کی پشت پناہی کرنے والے ے نقاب ہوں-

  • علی ظفر کیخلاف مہم:عدالت میں پیش نہ ہونے پر علی گل پیر کے گرفتاری وارنٹ جاری

    علی ظفر کیخلاف مہم:عدالت میں پیش نہ ہونے پر علی گل پیر کے گرفتاری وارنٹ جاری

    لاہور :عدالت نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس میں ملزم علی گل کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی : گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کی سماعت ہوئی جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ ذوالفقار باری نے سماعت کی۔

    مقدمے میں ملوث ملزمان اداکارہ عفت عمر، لیناغنی، فریحہ ایوب، حسیم الزمان اور سید فیضان سمیت 5 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ چالان کے مطابق ملزمان عفت عمر،لینا غنی، فریحہ ایوب، علی گل، حسیم الزمان اور سید فیضان رضا ضمانت پر ہیں۔

    عدالت نے ملزم علی گل کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ عدالت نے میشاشفیع کے خلاف چالان پیش نہ کرنے پرایف آئی اے حکام پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی۔

    چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف ہتک آمیز پوسٹس لگائیں۔

    واضح رہے کہ علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ان کے خلاف ‘توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد’ پوسٹ کررہے ہیں۔

    علی ظفر نے الزام لگایا تھا کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام سے ہفتوں قبل کئی جعلی اکاؤنٹس نے گلوکار کے خلاف مذموم مہم کا آغاز کیا تھا انہوں نے اپنے دعوے کی حمایت میں ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔

    اداکار و گلوکار نے ایف آئی اے کو انسٹاگرام پر اپنے منیجر کو فروری 2018 میں ملنے والی دھمکیوں کے ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔

    علی ظفر کی درخواست پر ایف آئی اے نے مذکورہ کیس کی تفتیش کرکے گزشتہ ماہ 16 دسمبر کو عدالت میں ابتدائی عبوری چالان بھی پیش کیا تھا، جس میں میرا شفیع المعروف میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، ماہم جاوید، لینا غنی، حسیمس زمان، فریحہ ایوب، سید فیضان رضا، حمنہ رضا اور علی گل پیر کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔

  • عدالت نے امیتابھ بچن کے خلاف شہری کے حق میں فیصلہ دے دیا

    عدالت نے امیتابھ بچن کے خلاف شہری کے حق میں فیصلہ دے دیا

    بھارتی لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن کے خلاف شہری کی اپیل سن لی گئی اور حکومت نے کورونا وائرس سے متعلق انتباہی کالر ٹیون سے ان کی آواز ہٹادی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی اداکار اور بگ بی امیتابھ بچن کے خلاف ایک شخص عدالت پہنچ گیا تھا اور میگا اسٹار کی آواز کورونا وائرس کالر ٹیون سے ہٹانے کی درخواست کی تھی۔

    عدالت نے مذکورہ درخواست کو 18 جنوری کے لیے سماعت کے لیے مقرر کیا تھا، تاہم اب اس پر فیصلہ آگیا۔

    عدالت نے شہری کی درخواست پر فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ امیتابھ کی آواز ہٹانے کے بعد اس درخواست کی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

    عدالت نے امیتابھ بچن کی آواز کو کالر ٹیون سے ہٹانے سے متعلق درخواست کو نمٹاتے ہوئے وفاقی حکومت سے جواب بھی طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ مذکورہ شخص نے درخواست میں امیتابھ کی آواز ہٹانے کے لیے ان کا اور ان کے اہلِ خانہ کا کورونا وائرس کا شکار ہونا بنیاد بنایا تھا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے لڑنے والے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو فری میں اپنی خدمات دینا چاہتے ہیں۔

    درخواست گزار نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ حکومت نے عوام کو کوویڈ-19 سے متعلق احتیاطی تدابیر سمجھانے کے لیے امیتابھ بچن کا انتخاب کیا ہے جبکہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ اس وائرس سے خود کو نہیں بچاسکے۔

  • ریماخان کورونا ویکسین لگوانے والی پہلی پاکستانی فنکارہ بن گئیں

    ریماخان کورونا ویکسین لگوانے والی پہلی پاکستانی فنکارہ بن گئیں

    نیویارک : پاکستان کی معروف اداکارہ ریماخان کورونا ویکسین لگوانے والی پہلی پاکستانی فنکارہ بن گئیں‌-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی مقبول اداکارہ و ہدایتکارہ ریما خان نے ویکسیین لگوانے کی خبرسوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے مداحوں کے ساتھ شئیر کی –

    ریما خان 90 کی دہائی سے 200 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں اور اب وہ فلمی دنیا سے دور ہیں لیکن سوشل میڈیا پر فعال نظر آتی ہیں ۔ ریماخان 2011 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور تب سے امریکہ میں مقیم ہیں انہوں نےآج وہیں کورونا ویکسین لگوانے کی خبر اپنے مداحوں کے ساتھ شئیر کی ہے ۔

    فوٹو اینڈ ویڈیو شئیر نگ ایپ انسٹاگرام پر ویڈیو پیغام میں اداکارہ ریما خان نے کہا کہ وہ کورونا کی پہلی ویکسین لگوانے کیلئے آئی ہیں میری دعا ہے کہ جلدازجلد پاکستان میں بھی کورونا ویکسین آجائے ۔ ویکسین نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کی حفاظت کیلئے بھی بے حد ضروری ہے ۔

    ریما خان نے مداحوں کو کورونا ویکسین لگوانے کی بھی تاکید کردی ۔

    ریما خان کی شئیر کی گئی پوسٹ پر رد عمل دیتے ہوئے عمران عباس نے ان کے اس اقدام کو سراہا اور ان کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

  • حریم شاہ کے تھپڑ پر مفتی قوی کا رد عمل

    حریم شاہ کے تھپڑ پر مفتی قوی کا رد عمل

    مفتی عبدالقوی کو تھپڑ لگنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، اس حوالے سے حریم شاہ کا کہنا ہے کہ مفتی عبدالقوی دو روز سے اُن کے ساتھ نازیبا گفتگو کر رہے تھے۔

    باغی ٹی وی : مفتی قوی کو تھپڑ مارنے کی وجہ بتاتے ہوئے ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ کا کہنا تھا کہ مفتی قوی کل سے بہت غلط حرکتيں کررہے تھے،مفتی قوی نے ہمارے ساتھ انتہائی نازيبا گفتگو کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے صبر کا پيمانہ لبريز ہوگيا تھا تو ميں نے اپنی دوست کے ساتھ مل کر مفتی قوی کو مارا۔

    حریم شاہ کا مزید کہنا تھا کہ مفتی قوی کو مارنے کا کوئی افسوس نہيں ہے ان کی باتيں سن کر عوام خود فيصلہ کريں گے کہ مارنا چاہيے تھا يا نہيں۔

    دوسری جانب مفتی قوی کا کہنا تھا کہ ميں تو چائے پی رہا تھا ايک بچی نے آکر تھپڑ مار ديا،لڑکياں ايک سے2 منٹ کيلئے آئيں، تھپڑ مار کر چلی گئيں۔

    مفتی عبدالقوی کا مزید کہنا تھا کہ تھپڑ حریم شاہ نے نہیں، اُن کی سیکرٹری عائشہ نے مارا، مقصد ویڈیو وائرل کرا کے لاکھ دو لاکھ روپے کمانا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ميں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں،سانپ سانپ ہی ہوتا ہے چاہے جتنی دوستی کرلو -!!!’

    واضح رہے کہ قبل ازیں ویڈیوز اینڈ فوٹوز شیئرنگ ایپ انسٹا گرام پر مفتی عبدالقوی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حریم شاہ نے لکھا تھا کہ مفتی عبدالقوی کو تھپڑ کیوں مارا گیا، اس کا جواب بہت جلد مل جائے گا۔

    مفتی قوی کو تھپڑ کیوں مارا ؟ حریم شاہ کا موقف سامنے آگیا

    معروف مذہبی سکالرمفتی عبدالقوی کو حریم شاہ نے تھپڑرسید کردیا :آوازدورتک سنائی دی

  • پاک بحریہ کی بحری مشق امن21-   تحریر: فیاض عباسی

    پاک بحریہ کی بحری مشق امن21- تحریر: فیاض عباسی

    پاک بحریہ کی بحری مشق امن21-
    تحریر: فیاض عباسی

    دنیا بھر کے سمند رقدرت کی بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہیں جو تقریباً 360ملین مربع کلو میٹر پر محیط ہیں اور زمین کی کم و بیش 70فیصد سطح پر پھیلے ہوئے ہیں۔ سمندر میں پائے جانے والے قیمتی وسائل میں گیس، تانبا، لوہا، کوبالٹ، مختلف قسم کی دھاتیں اور خام تیل قابل ذکر ہیں۔قدرتی نعمتوں سے مالا مال سمندر دنیا کے مختلف خطوں کو ملانے کا سستا اور بہترین ذریعہ بھی ہیں۔

    سمندروں کی افادیت کے پیش نظر جب نوعِ انسانی نے سمندروں سے مستفید ہونے کی طرف توجہ دی تو ان وسائل کے ساتھ ساتھ انہیں بحری سفر کے بارے میں بھی آگہی حاصل ہوئی اور یوں سمندروں میں سفر کے ابتدائی خدوخال تشکیل پائے۔ ابتداء میں بحری سفر اور بحری وسائل سے آگہی محدود نوعیت کی تھی جس نے تجارتی بحری سفر اور بحری تحقیق کی ترقی کا طویل سفر طے کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دو ہزار سال قبل بحری تجارت کی ابتدائی شکل وجود میں آئی۔ بحری آمدورفت کے آغاز کے ساتھ ہی سمندروں میں لوٹ مار کے واقعات رونما ہونا شروع ہو گئے۔

    جیسے جیسے بحری تجارت نے ترقی کی منازل طے کیں اور بحری وسائل کی دریافت میں پیش رفت نے قدم آگے بڑھائے ویسے ویسے سمندروں میں خطرات نے جنم لینا شروع کیا۔بحری امن کے دشمنوں نے بحری قزاقی، بحری دہشت گردی اور سمندروں میں غیر قانونی نقل و حمل جیسی منفی سر گرمیوں کو اپنا ہتھکنڈہ بنایا۔ سماج دشمن عناصر دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیلتے گئے اور خود کو اس قدر منظم کر لیا کہ بحری امن کے لئے ایک مستقل خطرہ بن گئے۔ آج کے دور میں کئی بحری آماجگاہیں ان قزاقوں کا مسکن ہیں جن میں خلیج عدن، صومالیہ اور نائیجریا کے ساحلی خطے، آبنائے ملاکا اور بحرِ ہند شامل ہیں۔

    مندرجہ بالا منظر نامے اور موجودہ جدیدٹائم چیلنجز کے پیش نظر کئی اقوام اپنی تہی کاوشیں کر چکی ہیں کہ بحری قزاقی کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے لیکن ان کوششوں کے نتیجے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ انفرادی حیثیت میں کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کے بعداقوام عالم میں یہ احساس بیدار ہو چکا ہے کہ کوئی بھی قوم بحری قزاقی، سمندری دہشت گردی اور سمندری راستوں کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ کو اکیلے نہیں روک سکتی۔

    عالمی معاشی نظام کو بحری خطرات سے محفوظ بنانے اورقومی بحری وسائل کے تحفظ کے لئے سمندروں کے حامل ممالک ایک سوچ اور متفقہ لائحہ عمل کو وجود میں لانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہورہے ہیں اور بحری فوج ہونے کے ناطے بحری امن و استحکام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں عالمی بحری افواج پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

    پاک بحریہ بحرِہند خصوصاً بحیرہ عرب کی اقتصادی اور جغرافیائی اہمیت کا مکمل ادراک رکھتی ہے۔ خطے کے اور عالمی بحری امن و استحکام کو یقینی بنانے کے سلسلے میں پاک بحریہ نہ صرف علاقائی بحری افواج کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کئے ہوئے ہے بلکہ بحری سکیورٹی کے قیام کے لئے کی جانے والی عالمی کوششوں میں بھی بھر پور کردار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں دو طرفہ، سہ فریقی اور کثیر الملکی بحری مشقوں کا انعقاد پاک بحریہ کا خاصا ہے۔موجودہ مختلف النوع بحری چیلنجز سے نمٹنے کے لئے یکجاحکمت عملی کی تشکیل،متفقہ سوچ کی نمواورمشترکہ آپریشنز کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے سلسلے میں پاک بحریہ کی جانب سے ہر دو سال بعد منعقد کی جانے والی بحری مشق ”امن“نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

    پاک بحریہ نے سال 2007میں ایک لائق تحسین قدم اٹھایا جسے بحری مشق ”امن“ کا نام دیا گیا۔ امن مشقوں کے سلسلے کی پہلی مشق مارچ 2007میں منعقد کی گئی جس میں دنیا بھر سے 28 ممالک کی بحری افواج نے بحری جہازوں، ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشنز فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور مبصرین کے ساتھ حصہ لیا۔پہلی امن مشق میں عالمی افواج کی حوصلہ افزاء شرکت کے نتیجے میں پاک بحریہ نے مشق کے اس سلسلےکو ہر دو سال بعد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اوراسطرح بحیرعرب سال2013,2011,2009، 2017اور2019 میں بالترتیب دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں اورچھٹی امن مشق کا انعقاد کیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر مشق میں شریک بحری افواج کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور پاک بحریہ کے اس اقدام کو عالمی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔

    پاک بحریہ کی چھٹی امن مشق 8تا 12فروری2019 بحیرہ عرب میں منعقدہوئی جس میں 6 4 ممالک نے اپنے جہازوں، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز میرینز،دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور مبصرین سمیت شرکت کی۔اس سلسلے کی ساتویں کڑی امن 2021 فروری 21 میں منعقد کی جا رہی ہے جس میں چا لیس سے زا ئد ممالک کی شرکت متوقع ہے۔

    بحری مشق ”امن2021“ دو مرحلوں ہاربراور سی فیز پر مشتمل ہو گی۔ ہار برفیز کے دوران مشق میں شریک بحری افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھانے کے بھر پور مواقع فراہم کئے جائیں گے تا کہ یہ افواج سی فیز کے دوران اپنی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز کا بھر پور مظاہرہ کر سکیں۔ ہاربرفیز کے دوران منعقدہ سر گرمیوں میں مختلف ممالک کے بحری جہازوں کے دورے اورمیرینز ٹیموں کی جانب سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مظاہرے شامل ہوں گے۔

    انٹر نیشنل میری ٹائم کانفر نس کا انعقاد بھی مشق کی اہم سرگرمیوں میں شامل ہے۔ مشق کا اہم ترین مرحلہ مشق کا سی فیزہے جس میں عالمی بحری افواج کے جہاز بحیرہ عرب میں آہنی دیوار بنا کر انسانیت کے دشمن کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ انسانیت کے مشترکہ ورثے ”سمندر“ میں قیام امن کے لئے ہم بلا تفریق رنگ نسل متحد اور یکجا ہیں۔

    چالیس سے زائد ممالک کی بحری افواج کے آفیسرز و جوانوں، جہازوں، ایئر کرافٹ، ہیلی کاپٹرز، اسپیشل آپریشنز فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیموں اور عالمی مبصرین کی میزبانی اور اس قدر بڑی بحری مشق کا انعقاد اورایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں اور روایات کے حامل افراد کی روایتی میزبانی پاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگرکرنے اور اس مشق کے دوران قائم ہونے والی اعتماد سازی یقینا عالمی بحری امن خصوصاً بحرِہند میں امن و سلامتی کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کرے گی۔

    بحری مشق امن کے مسلسل انعقاد سے جہاں بحری امن و استحکام کے حصول کے لئے متفقہ سوچ اور عالمی کاوشوں کو یکجا کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا ہوگا وہاں پاکستان کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرنے میں یہ مشقیں مدد گار ثابت ہوں گی۔ ان مشقوں میں عالمی افواج کی بھر پور شرکت اس امر کی بھی دلیل ہے کہ دنیا کی جدید، باصلاحیت اور طاقتور ممالک خطے میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانے والی پاک بحریہ کی کاوشوں کوثمر آور مانتے ہیں اور بحری امن و استحکام کے لئے پاک بحریہ کی ان کاوشوں کا بھر پور ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

  • میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت ،میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح جاری

    میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت ،میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح جاری

    سیشن عدالت میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح جاری

    باغی ٹی وی :سیشن عدالت میشاء شفیع کیخلاف ہتک عزت دعوی کی سماعت میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جرح جاری
    ایڈیشنل سیشن جج امتیاز احمد علی نے ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کی سماعت کی

    میشاء شفیع کی گواہ عفت عمر کے بیان پر جاری جرح میں علی ظفر کے وکیل نے عفت عمر سے سوال کیا کہ آپ یوسف رضا گیلانی اور رحمن ملک کو جانتی ہیں؟

    عفت عمر نے کہا جی میں جانتی ہوں یوسف رضا گیلانی سابق وزیراعظم پاکستان ہیں رحمن ملک کو جانتی ہوں وہ سابق وزیر داخلہ ہیں،

    علی ظفر کے وکیل نے سوال کیا کہ آپ رحمن ملک اور سنتھیا رچی کیس سے متعلق جانتی ہیں؟

    عفت عمر میں نے اس کیس کے متعلق سنا ہے اور سنتھیا رچی نے رحمن پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا جس پرکمرہ عدالت میں عفت عمر کا سنتھیا رچی کیس سے متعلق بیان کی ویڈیو چلا دی گئی اورعفت عمر کے بیان کی ویڈیو کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا-

    جس پر عفت عمر نے کہا کہ میں نے اپنے پروگرام میں کہا تھا کہ سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کیلئے الزام لگایا میں نے سنتھیا رچی کا جنسی ہراسگی کا الزام سیاسی سٹنٹ ہونے کا بیان بھی دیا تھا کہ سنتھیا رچی نے یوسف رضا گیلانی اور رحمن ملک پر جنسی ہراسگی کا جھوٹا الزام لگایا-

    عفت عمر نے مزید کہا کہ پروگرام کے وقت میں سمجھتی تھی سنتھیا رچی جھوٹی ہے-

    عفت عمر نے عمیر رانا کے کیس کے حوالے سے کہا کہ میں نے ٹی وی پر سنا تھا کہ ایل جی ایس کے طالبات نے استاد پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا تھا لیکن طالبات کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تفصیل نہیں جانتی-

    علی ظفر کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا آپ نے عمیر رانا کی حمایت کی تھی؟ عفت عمر نے کہا کہ میں عمیر رانا کو جانتی ہوں وہ ایکٹر ہیں-

    جس پر علی ظفر کے وکہ نے کہا کہ آپ غلط بات کر رہی ہیں، آپ نے فیس بک پر عمیر رانا کو سپورٹ کیا اور آپ نے عمیر رانا کی فیس بک پوسٹ پر کمنٹ کیا تھا اورآپ نے عمیر رانا کے کردار کو سپورٹ کیا تھا-

    جس پر عفت عمر نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ عمیر رانا کو ذاتی طور پر جانتی ہوں اور جنسی ہراسگی جیسا کام نہیں کر سکتے-

    جس پرعلی ظفر کے وکیل کی عفت عمر کی پوسٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی عدالت سے استدعا کی اور عدالت کی اجازت پر عفت عمر کے اس بیان کے بعد عدالت میں عفت عمر کو فیس بک کی پوسٹ دکھا دی گئی اورعفت عمر نے فیس بک پر طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں عمیر رانا کی پوسٹ پر اپنے کمنٹ کو تسلیم کیا-

    علی ظفر کے وکیل نے سوال کیا کہ آپ ایل جی ایس کی طالبات کے حق کیلئے کیوں سامنے نہیں آئیں عفت عمر نے اس کے جواب میں کہا کہ ایل جی ایس کی طالبات خود سامنے نہیں آئی تھیں اس لئے میں نے انکو سپورٹ نہیں کیا-

    وکیل نے مزید کہا کجہ طالبات نے عمیر رانا کیخلاف شکایت درج کروائی تھیں جس ہر اداکارہ نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پتہ نہیں کہ کب طالبات نے شکایت درج کروائیں-

    علی ظفر کے وکیل نے مزید جرح جاری رکھتے ہوئے عفت عمر کے اس بیان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہی ہیں کہ آپ کو عمیر رانا کیخلاف شکایات کا پتہ نہیں تھا جبکہ یہ سارا معاملہ میڈیا پر بھی آیا تھا-

    عفت عمر نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ ایل جی ایس کی طالبات کی جنسی ہراسگی کا معاملہ میڈیا پر آیا تھا مگر طالبات تو سامنے نہیں آئیں-

    وکیل نے مزید سوال کیا کہ سنتھیا رچی غلط، عمیر رانا ٹھیک اور علی ظفر کو غلط قرار دینا آپ کی ذاتی پسند و نا پسند ہے؟

    عفت عمر نے کہا کہ ایسا نہیں کہ میشاء شفیع، علی ظفر، سنتھیا رچی کے درمیان میں کوئی پسند نا پسند کا عنصر لا رہی ہوں-

    وکیل علی ظفر نے مزید سوال کیا کہ یہ بتائیں کپی تان کون ہے؟ عفت عمر نے کہا کہ اپنے پروگرام میں عمران خان کے متعلق کپی تان کا لفظ استعمال کیا تھا پاس کر یا برداشت نام سے پروگرام میں عمران خان پر سیاسی طنز کیا تھا میں اکیلی طنز نہیں کرتی ساری دنیا عمران خان کے سپورٹرز کو یوتھیا کہتی ہے-

    میشاء شفیع کے وکیل ثاقب جیلانی نے علی طفر کے مذکورہ سوال پر اعتراض کیا لیکن عدالت نے ان کےا عتراض کو رد کرتے ہوئے علی ظفر کے وکیل کو جرح جاری رکھنے کا حکم دیا-

    علی ظفر کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا کوئی سیاسی جماعت آپ کو ایسے پروگرامز کرنے کا معاوضہ دیتی ہیں؟

    عفت عمر نے کہا کسی بھی سیاسی جماعت سے طنزیہ پروگرام کرنے کا معاوضہ نہیں لیتی-

    وکیل علی ظفر نے مزید کہا کہ آپ کے نزدیک لوگوں کو اجڑا ہوا تجربہ کہنا مذاق ہے؟

    عفت عمر کے مطابق میں پاکستانی شہری ہو- عمران خان کوئی لوگ نہیں وہ اس ملک کے وزیراعظم ہیں، ان پر طنز کرنا میرا حق ہے،

    کیا آپ عائشہ گلالئی کے وزیراعظم کیخلاف لگائے گئے الزامات سے متعلق جانتی ہیں؟ جی میں جانتی ہوں عائشہ گلالئی نے عمران خان پر کیا الزامات لگائے تھے میرا یقین ہے کہ عائشہ گلالئی سچی ہیں کیونکہ عمران خان سے ایسے فعل کر سکتے ہیں، عفت عمر

    کیا آپ کو نہیں لگتا کہ جھوٹے الزامات لگانے سے ریپ کے حقیقی متاثرین کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں؟ بالکل اگر الزام جھوٹا ہو تو اس سے فرق پڑتا ہےدرست ہے کہ پاکستانی عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا، یہ باتیں میں میرا کیساتھ پروگرام میں کہا تھا زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا، اکثر کیسز میں التواء ڈالا جاتا ہے

    عفت عمر نے مزید کہا کہ میرے ماں اور باپ کے درمیان مقدمہ بازی میں ہمیں انصاف نہیں ملا تھا درست ہے کہ پروگرام میں کہا تھا کہ انڈسٹری میں لوگ دوسروں پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں

    عدالت کی جرح ابھی جاری ہے مزید خبروں کی اپ ڈیٹ کے لئے باغی ٹی وی کے ساتھ رہیں-