Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بالی وڈ منشیات کیس:این سی بی نے ارجن رامپال کی بہن کو بھی طلب کر لیا

    بالی وڈ منشیات کیس:این سی بی نے ارجن رامپال کی بہن کو بھی طلب کر لیا

    بالی وڈ اداکار ارجن رامپال پر مبینہ طور پر منشیات کے استعمال کے کیس میں گرفت مضبوط ہونے کے بعد ان کی بہن کومل رامپال کو بھی نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی نیوز ایجنسی کے مطابق منشیات کیس میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں ارجن رامپل کی بہن کومل رامپال کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل ارجن رامپال کی گرل فرینڈ گیبریلا ڈیمٹریڈس سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی۔


    واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر کے ماہ میں منشیات کیس میں بھارتی اداکار ارجن رامپال کے گھر چھاپا مارا گیا تھا جہاں چھاپے کے دوران اداکار کے گھر سے الیکٹرانک گیجٹس اور ممنوعہ ادویات ضبط کی گئی تھیں۔

    این سی بی نے ارجن رامپال کو تفتیش کے لئے طلب کر لیا

    دوران تفتیش اداکار سے ممنوعہ ادویات سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی جس پر ارجن رامپال نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کو بتایا کہ ممنوعہ گولیوں میں سے ایک دوا ڈاکٹر کی جانب سے ان کے کتے کے لیے تجویز کردہ ہے جب کہ دوسری دوا ان کی بہن انزائٹی کے لیے بطور ایس او ایس استعمال کرتی ہیں جو کہ نئی دہلی میں مقیم نفسیاتی ڈاکٹر کی تجویز کردہ ہے-

    واضح رہے کہ این اسی بی کی جانب سے منشیات کیس اُس وقت شروع کیا گیا جب رواں سال سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد منشیات سے متعلق کچھ واٹس ایپ چیٹس منظر عام پر آئیں۔

    اس کیس میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے جن بالی وڈ اداکاروں کے خلاف تحقیقات کی تھی اُن میں صف اول اداکارہ دیپیکا پڈوکون اور اُن کی مینیجر کریشمہ پرکاش، کرن جوہر، ریا چکرورتی، سارہ علی خان اور شردھا کپور سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

    سوشانت سنگھ خودکشی کیس میں گرفتار ہونے والی ریا چکرورتی نے تحقیقات کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ سوشانت کی سابقہ گرل فرینڈ سارہ علی خان بھی اُن کے ساتھ مل کر منشیات کا استعمال کرتی تھیں۔

    ریا چکرورتی نے بتایا تھا کہ ناصرف وہ بلکہ اداکارہ سارہ علی خان، راکول پریت سنگھ اور سمن کھمباٹا بھی سو2قشانت کے ساتھ مل کر منشیات استعمال کرتے رہے ہیں۔

    بالی وڈ منشیات کیس:این سی بی نے ارجن رام پال کو ایک مرتبہ پھر طلب کر لیا

    بالی وڈ منشیات کیس: اداکار ارجن رام پال کے گھر این سی بی کا چھاپہ

  • انوشکا اور ویرات کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    انوشکا اور ویرات کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    بھارتی اداکارہ انوشکا شرما اور کرکٹر ویرات کوہلی کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : کرکٹرویرات کوہلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری پوسٹ میں ننھی پری کی آمد کی اطلاع دی۔

    انہوں نے بتایا کہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے پرجوش ہوں کہ آج دوپہر ہمارے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے انوشکا اور بچی دونوں خیریت سے ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ آپ کی نیک تمناؤں، پیار اور دعاؤں کا شکرگزار ہوں۔

    ویرات کا کہنا تھا کہ انوشکا اور میں اپنی زندگی کی اس نئے سفر پر بے حد خوش ہیں۔

    ساتھ ہی ویرات نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ سب اس وقت ہماری پرائیویسی کا خیال رکھیں گے۔

    خیال رہے کہ انوشکا اور ویرات 2017 میں شادی کے بندھن میں بندھنے تھے گزشتہ برس 27 اگست کو ویرات کوہلی اور انوشکا شرما نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے مداحوں کو یہ خوشخبری سنائی کہ’اور پھر ہم 3 ہونے جارہے ہیں۔

  • سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے زندگی کی 58 بہاریں دیکھ لیں

    سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے زندگی کی 58 بہاریں دیکھ لیں

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے زندگی کی 58 بہاریں دیکھ لیں-

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی واینکر پرسن 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں 50 اور 60 کی دہائی کے فلم ڈائریکٹر پروڈیوسر ، لقمان کے ہاں پیدا ہوئے- مبشر لقمان نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔

    مبشر لقمان نے بطور میزبان چینل بزنس پلس سے صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ٹیلی وژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران ، سینئیر اینکر پرسن نے پاکستان کے بہت سے معاشی و معاشی اور سیاسی مسائل کا احاطہ کیا تھا۔ ملک کے متعدد اہم امور کے بارے میں اپنے شاندار موقف کی وجہ سے صحافت کے میدان میں اپنی الگ شناخت بنائی-

    اس کے بعد وہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ، ایکسپریس نیوز میں بطور میزبان پروگرام پوائنٹ بلینک میں شامل ہوئے ، اور پھر بعد میں دنیا نیوز میں منتقل ہوگئے اور پروگرام کھری بات ود لقمان کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے-

    اس کے بعد انہوں نے کھرا سچ کی میزبانی میں اے آر وائی نیوز میں شمولیت اختیار کی ، جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کے کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک مایہ ناز اور پاکستان کے صف اول کے صحافی بلکہ انہوں نے شوبز میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں اور انہوں نے کئی سال تک پاکستان کی اشتہاری صنعت میں کام کیا اور کوکا کولا ، نیسلے اور بہت سے دوسرے ممالک سمیت پاکستان کے اعلی مقامی اور ملٹی نیشنل برانڈز کے اشتہار کے لئے اپنی اسکرپٹ کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد ، مبشر لقمان نے اپنی ایک پروڈکشن کمپنی قائم کی جس نے پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز کے لئے سافٹ ویئر اور مواد تیار کیا تھا۔

    بعد ازاں انہوں نے ریشم اور علی تابش کی اداکاری میں 2006 میں فلم پہلا پہلا پیار کی ہدایتکاری بھی کی-

    صرف یہی نہیں مبشر لقمان 2007 اور 2008 میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، مواصلات پنجاب کےنگران وزیربھی رہے اور اب فی الحال وہ ایک ٹاک شو کھرا سچ کی میزبانی کررہے ہیں۔

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر مداحوں سمیت معرف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے –

    اس حوالے سے اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے مبشر لقمان کو سالگرہ کی مابرکباد دی اور دعاؤں اور نیک خواہشات کا اظہار کیا-

  • بالی وڈ اداکارہ ایشا دیول کا بھی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک

    بالی وڈ اداکارہ ایشا دیول کا بھی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور لجینڈز اداکار ہیما مالنی اور دھرمیندر کی بیٹی ایشا دیول کا بھی انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہوگیا۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے اداکارہ ایشا دیول نے سماجی فابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی پوسٹ میں مداحوں کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے اگر کسی کو اس کاؤنٹ سے کوئی پیغام ملے تو اسے نظر انداز کردیں اور اس کا جواب مت دیں۔


    بعد ازاں 8گھنٹوں بعد ایشا دیول نے دوبارہ ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بحال ہوگیا ہے جس پر انہوں نے انسٹاگرام انتظامیہ اور فلمساز اریتراداس کا مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ بالی وڈ میں اداکاروں کے انسٹاگرام ہیک ہونے کا یہ سلسلہ عام ہو گیا ہے اس سے قبل گذشتہ ایک ماہ کے دوران بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہوچکا ہے جس میں گلوکارہ آشابھوسلے، ہدایت کار و اداکارہ فرح خان، اُرمیلا ماٹونڈکر، سشمیتاسین کی بیٹی اور دیگر افراد شامل ہیں۔

  • پیمرامیں افسران کی لاکھوں روپے تنخواہ کا معاملہ، خفیہ حقیت سامنے آگئی

    پیمرامیں افسران کی لاکھوں روپے تنخواہ کا معاملہ، خفیہ حقیت سامنے آگئی

    پیمرا میں خفیہ طور پر افسران کی لاکھوں روپے تنخواہ بڑھانے کا انکشاف-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں مسٹر سہیل آصف ڈی جی ایچ آر پمرا نے چیئرمین پیمرا کی تنخواہ دوبارہ متعین کرنے یعنی گیارہ لاکھ اسی ہزار روپے (1,180,000) کرنے کے لئے ایک ورکنگ پیپر بنایااور اس میں انفارمیشن منسٹری کے لیٹر نمبر M/o I&BU.O. No. 4(6)/2013-PEMRA (Vol.II), dated 17th October, 2018 کا حوالہ بھی دیا تاکہ اسے جسٹیفائی کیا جا سکے –

    اس لیٹر میں چیئرمین پیمرا اور ایگزیکیٹیو ممبر پیمرا کی تنخواہ کے معاملات پیمرا ایمپلائیز ریگولیشنز کے مطابق دیکھنے کی غیر قانونی بات لکھی گئی حقیقت میں یہ دونوں عہدے فیڈرل گورنمنٹ کی ثواب دید پر ہیں اور ان کی تنخواہ منسٹری آف انفارمیشن سے مشورہ کے بعد صدر پاکستان ہی مقرر کرنے کے مجاز ہیں – چیئرمین پمرا اور ایگزیکٹیو ممبر پمرا کا PEMRA Service Regulations سے کچھ لینا دینا نہیں –

    اس لئے کہ ان دونوں عہدیداروں کا شمار پیمرا ملازمین میں کسی صورت نہیں ہوتا فیڈرل گورنمنٹ ہی انہیں ایم پی ون یا ٹو میں اپوائینٹ کرتی اور انکا ماہانہ مشاہرہ مقرر کرتی ہے –

    اس سلسلے میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پیمرا کے گزشتہ دو چیئرمین یعنی ابصار عالم اور پرویز راٹھور کی تنخواہ خود منسٹری آف انفارمیشن ہی نے فکس کی تھی اور قانون کے مطابق اس وقت کے صدر پاکستان سے اس کی باقائدہ منظوری بھی لی گئ –

    یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ حال ہی میں وفاقی حکومت نے جون 2020 سے ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل پالیسی متعارف کروائ ہے – جون دو ہزار بیس کے بعد ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کے معاملات کو اسی پالیسی کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے –

    اس پالیسی کے پہلے صفحے پر ہی واضع طور پر لکھا ہے کہ ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کی تنخواہ اور دوسرے مالی معاملات منسٹری آف فنانس طے کرے گی اور اس کی منظوری باقائدہ طور پر وزیراعظم پاکستان سے لی جایا کرے گی –

    اب جس کسی کو بھی ایم ون یا ایم پی ٹو کے تحت تنخواہ دی جاتی ہے اس کی فائل منسٹری آف فنانس کے تھرو وزیراعظم سیکریٹیریٹ جاتی ہے آج کل یہی پالیسی چل رہی ہے اور پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کے پہلے سے اپوائینٹڈ لوگ بھی اسی پالیسی کے دائرہ کار میں آتے ہیں-

    لہذا ڈی جی ایچ آر سہیل آصف صاحب کا چیئرمین پمرا اور ایگزیکٹیو ممبر پمرا کی تنخواہ بڑھانے کے معاملے کو پیمرا اتھارٹی کے پاس ورکنگ پیپر کی صورت لیجانا مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر ضروری عمل ہے – اس لئے کہ اتھارٹی چیئرمین پمرا یا ایگزیکٹیو ممبر پمرا کی تنخواہ بڑھانے کی مجاز ہی نہیں –

    مجوزہ ورکنگ پیپر فراڈ کی ایک اعلی مثال ہے اس لئے کہ ورکنگ پیپر کا موضوع یا عنوان کچھ اور ہے جبکہ اسی ورکنگ پیپر کے آخر میں کمال ہوشیاری کے ساتھ چیئرمین پمرا اور ایگزیکٹیو ممبر پمرا کی تنخواہ بڑھانے کی استدعا بھی کر دی گئ ہے –

    یعنی ورکنگ پیپر میں بات ہو رہی ہے کہ پیمرا کے عہدوں کے نام تبدیل کر دیئے جائیں یعنی AGM سے اسسٹنٹ ڈائیریکٹر، DGM سے ڈپٹی ڈائیریکٹر اور اسی طرح GM سے ڈائیریکٹر – جبکہ ورکنگ پیپر کے آخری پیراگراف میں چیئرمین کی تنخواہ بڑھانے کا ذکر بھی گول مول الفاظ میں کر دیا گیا ہے تاکہ کوئی ممبر نوٹس نہ لے اور مطلوبہ مقاصد حاصل کر لئے جائیں تاکہ بعد میں اگر آڈٹ آبجیکشن ہو بھی تو ملبہ اتھارٹی کے سر ڈال کر اپنے اپ کو اس سے بری الذمہ ٹھہرایا جا سکے –

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈی جی فنانس موجودہ چیئرمین کو گزشتہ کچھ ماہ سے گیارہ لاکھ اسی ہزار کے حساب سے باقائدہ تنخواہ ادا کرتے رہے ہیں اور یہ بھی خبریں ہیں کہ بات کھل جانے پر اب ان سے ماہانہ کٹوتی ہو رہی ہے خدانخواستہ اگر اتھارٹی اس کی منظوری دے دیتی تو ہر دو افسران کو کروڑوں کے بقایاجات ادا کرنے کا بھی پروگرام تھا-


    ریفرنس کے طور پر منسٹری آف انفارمیشن کا مذکورہ لیٹر اور موجودہ گورنمنٹ کی ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل کی پالیسی بھی ساتھ لف ہے تاکہ کیس سمجھنے میں آسانی ہو –

    یہاں سے امر قابل ذکر ہے کہ اگست 2014 میں نیشنل اسمبلی آف پاکستان میں سابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان مسٹر بلند اختر رانا کے خلاف سرکاری خزانے سے اپنی مجوزہ تنخواہ سے زائد پیسے وصول کرنے پر تحقیقات کے لئے ایک سب کمیٹی بنائی گئی-

    تاہم مئی 2015 میں قومی اسمبلی کی سب کمیٹی نے آرٹیکل 2009 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنی رپورٹ کی روشنی میں بلند اختر رانا کے خلاف ایک ریفرنس دائر کیا –

    سپریم جوڈیشل کونسل کی پروسیڈنگز کے دوران ثابت ہوا کہ مسٹر رانا مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے مجموعی طور پر سرکاری خزانے کو 46 لاکھ سے زائد رقم کا نقصان پہنچایا ہے مسٹر بلند اختر رانا نے اپنے طور پر اپنی تنخواہ بڑھاتے ہوئے اپنی مجوزہ تنخواہ سے 31 لاکھ روپیہ زیادہ وصول کیا تھا جو تحقیقات میں ثابت ہو گیا –

    سپریم جوڈیشل کونسل نے مسٹر رانا کے خلاف اپنی ریکمنڈیشن صدر پاکستان کو بھجوائ جنہوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل (5)168 ریڈ ود آرٹیکل (6) 209 کے تحت بلند اختر کو نوکری سے برطرف کر دیا –

    اتنی بڑی مثال کے بعد پیمرا اتھارٹی کو اندھیرے میں رکھ کر چیئرمین پمرا کی تنخواہ بڑھانے اور پھر بقایاجات وصول کرانے کا یہ مبینہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام اتھارٹی ممبران کے لئے بہت پریشانی کا باعث بن سکتا ہے –

  • ابن انشاء کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے

    ابن انشاء کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے

    معروف شاعر اور مزاح نگار ابن انشاء کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے۔

    باغی ٹی وی :ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا وہ 15 جون 1927ء کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے، کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا، ان کی شاعری میں ’اس بستی کے ایک کوچے میں، چاند نگر، دل وحشی، بلو کا بستہ، کلام شامل ہیں۔

    انہوں نے یونیسکو کے سفیرکی حیثیت سے یورپی اور ایشیائی ممالک کے دورے بھی کیے، آوارہ گرد کی ڈائری، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے، دنیا گول ہے اور نگری نگری پھرا مسافر‘ جیسے سفرنامے مزاحیہ انداز تحریر کیے۔

    ابن انشاء نے چینی نظموں کے اردو میں تراجم کیے، مختلف اخبارات میں کالم لکھے، پاکستان ریڈیو اور ثقافتی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔

    ابن انشاء کی کئی غزلوں کو مختلف گلوکاروں نے گایا مگر ان کی ایک غزل ’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔

    ابن انشاء کو تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا ابن انشا کا 11 جنوری 1978ء کو لندن میں انتقال ہوا۔

  • پروگرام ’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘ میں مداح مجھے مختلف انداز میں دیکھیں گے    احسن خان

    پروگرام ’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘ میں مداح مجھے مختلف انداز میں دیکھیں گے احسن خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکارومیزبان احسن خان کا کہنا ہے کہ ڈراموں میں مختلف کرداروں سے متعلق مداح سمجھتے ہیں کہ ہم ویسے ہی ہیں جیسے ہمارے کردار ہوتے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوتا، پروگرام ’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘ میں وہ مجھے مختلف انداز میں دیکھیں گے۔

    باغی ٹی وی :احسن خان نے نجی ٹی وی چینل کے ایک شو میں اپنے نئے پروگرام ’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شو ’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘ کے 6 سے 7 حصے ہیں اور ہر حصہ منفرد ہے۔ پروگرام میں آنے والے مختلف مہمانوں سے میری بہت اچھی بات چیت ہے اورانہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میرے نئے پروگرام سے کوئی بھی منفی چیز آن ایئر نہیں ہوگی، اسی لیے ہم نے بڑے بڑے ناموں کو مہمان بنایا اوروہ خوشی خوشی آئے۔

    احسن خان نے کہا کہ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میں مثبت رہوں، میں شو کے دوران تہذیب، زبان اوراس طرح کی تمام چیزوں کا خیال رکھتا ہوں جو اپنے آپ میں بہت اہم ہوتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ڈراموں میں مختلف کرداروں سے متعلق مداح سمجھتے ہیں کہ ہم ویسے ہی ہیں جیسے ہمارے کردار ہوتے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوتا، پروگرام ’ٹائم آؤٹ ود احسن خان‘ میں وہ مجھے مختلف انداز میں دیکھیں گے۔

    پروگرام سے متعلق احسن خان نے کہا کہ ویسے تو پروگرام کے مختلف سیگمنٹس ہیں لیکن ان کا پسندیدہ ایک سیگمنٹ ہے جس میں اداکار، سیاست دان جس کا بھی نام منتخب کرکے اسے اس جیسا بولنا یا کچھ کرکے دکھانا ہوتا ہے۔ اوراس دوران بہت مزہ آتا ہے۔

    اداکار نے کہا کہ اتنا کام کرنے کے بعد بھی مجھے ایسا لگتا ہے میرا ہر دن نیا دن ہوتا ہے جہاں میں بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ میں محنت کرنے میں بھروسہ رکھتا ہوں، محنت اور کام سے محبت ہی وہ واحد چیزیں ہیں جو آپ کو ترقی دیتی ہے جو واقعی ترقی ہوتی ہے۔

    احسن خان نے کہا کہ اپنے ملک کے بڑے ناموں کے ساتھ سیٹ پربات چیت کرتے ہوئے یہ بھول جاتا تھا کہ شوٹنگ ہورہی ہے پاکستان کے تمام اداکارعزت کے حقدارہیں، وہ بہت محنت کرکے مختلف مقامات تک پہنچتے ہیں۔

    اداکار نے کہا کہ کورونا وبا نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو بھی تبدیل کیا، اب دور ڈیجیٹل میڈیا کا ہے ہماری مارکیٹ بہت بڑی ہے۔ دنیا میں پاکستانی ڈرامے کو بے حد سراہا جاتا ہے ہم اس میں اور بھی آگے جاسکتے ہیں، ہماری حکومت کو بھی اس طرٖف بہت توجہ دینا چاہیئے۔

    انٹرٹینمنٹ شوسے متعلق احسن خان نے کہا کہ ان پروگرامزسے عوام کو مزاح فراہم کیا جانا چاہیئے اور ہمارا شو مزاح سے بھرپور ہے جہاں عوام محظوظ ہوں گے اوراس کے پیچھے پوری ٹیم ہے۔

     

    حمزہ علی کی شوبز سے کنارہ کشی سے متعلق بیان کی وضاحت

    پنجاب میں پنجابی زبان اورپنجابی کلچر کے فروغ کے لئے ریڈیو پاکستان کی خصوصی کاوش

    خواب واقعی پورے ہوتے ہیں، دیپیکا پڈوکون کا اپنا بڑا خواب پورا ہونے پر خوشی کا…

  • وینا ملک کا سابق شوہراسد خٹک کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ

    وینا ملک کا سابق شوہراسد خٹک کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ

    گزشتہ برس نومبر میں پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابق اداکارہ و میزبان وینا ملک کے سابق شوہر اسد خٹک نے وینا ملک کو ان کے دونوں بچے غیر قانونی طریقے سے متحدہ عرب امارات سے پاکستان منتقل کرنے پر50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں پشاورمیں وینا ملک کے سابق شوہراسد خٹک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یواے ای میں مقیم میرے بچوں کواغوا کیا گیا، معصوم بچوں کوغیرمرد کے پاس رکھا جارہا تھا، بچوں کے اغوا میں یواے ای کے قونصل جنرل ملوث ہیں، بچوں کو آؤٹ پاس بنا کر غیر قانونی طورپرپاکستان منتقل کیا گیا۔

    اسد خٹک نے کہا تھا کہ بچوں کے پاسپورٹ چوری کرنے کے حوالے سے الزام لگایا جارہا ہے، وینا ملک کی جانب سے خاندان اور مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں، آئی جی خیبرپختونخوا مجھے اورمیرے خاندان کو تحفظ فراہم کرے۔

    اسد خٹک نے کہا تھا کہ بچوں کی حوالگی کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، میرے بچے پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہیں انہیں زبردستی رکھا جا رہا ہے اس متعلق وزیر اعظم عمران خان اورآرمی چیف سے مدد کی درخواست ہے۔

    اس سے قبل اسد خٹک کاکہنا تھا کہ وینا ملک میرے بچوں کو لے کر فرار ہوگئیں میں وینا کے خلاف سارے ثبوت لے کر پاکستان آیا ہوں۔

    اسد خٹک وینا ملک سے قانونی جنگ لڑنے کے لئے پاکستان پہنچ گئے

    انہوں نے کہا تھا کہ اب وہ وینا ملک کے خلاف قانونی جنگ لڑیں گے۔

    تاہم اب وینا ملک بھی میدان میں آگئیں ہیں اور انہوں ن نے سابق شوہر اسد خٹک پر ہتک عزت کا دعوی دائر کردیا ہے-

    دائر کئے گئے دعویٰ میں وینا ملک کہتی ہیں کہ اسد خٹک کے مذکورہ بالا الزامات سے ان کی شہرت متاثر ہوئی۔

    وینا ملک نے سابق شوہر کے خلاف سو کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا ہے-

    وینا ملک نے موقف اختیار کیا کہ سابق شوہر سوشل میڈیا اور میڈیا پر میرے خلاف جھوٹے الزامات عائد کررہا ہے، اسد خٹک سے خلع لے رکھی ہے اور بچوں کو عدالت نے میرے حوالے کیا ہے۔

    وینا ملک کا کہنا تھا کہ سابق شوہر جھوٹے الزامات عائد کرکے میری شہرت متاثر کررہا ہے، اسد خٹک مجھے بلیک میل کرنے کے لیے مجھ پر الزامات عائد کررہا ہے۔

    وینا ملک نے درخواست کی کہ عدالت اسد خٹک کو مجھے سو کروڑ روپے ہرجانے ادا کرنے کا حکم دے۔


    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وینا ملک اپنے شوہر کو بغیر کسی ثبوت کے میڈیا پر الزام تراشی کرنے پر پچاس کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجو چکی ہیں-

    وینا ملک کو سابق شوہر اسد خٹک کی جانب سے 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس

    گزشتہ برس نومبر میں اسد خٹک نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر وینا ملک پران کے بچے غیرقانونی طریقے سے پاکستان سمگل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ بچوں کی خاطر ہر چیز برداشت کی لیکن اب وقت آگیا ہے اس شرمناک عورت کی اصلیت سب کے سامنے لائی جائے۔ بہت سوچا لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا میری خاموشی کو بزدلی سمجھا گیا مجھے امید ہے کہ ایک باپ کو انصاف ملے گا کیونکہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں جس اذیت سے میں گزر رہا ہوں کسی کو جواب دینا ہوگا-

    اسد خٹک نے بتایا تھا کہ میں نے وینا ملک کو 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔

    بعد ازاںاداکارہ وینا ملک نے بھی کسی ثبوت کے بغیر میڈیا پر بدنام کرنے کے الزام پر سابق شوہر اسد خٹک کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا تھا۔

    وینا ملک نے بھی سابق شوہر اسد خٹک کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا

    اداکارہ وینا ملک نے اپنے وکیل تنویر کھوکھر ایڈووکیٹ کے وساطت سے اسد خٹک کو نوٹس ارسال کیا نوٹس میں کہا گیا کہ اسد بشیر میڈیا پر غلط بیانی کرکے کسی ثبوت اور قانونی جواز کے بغیر وینا ملک کو بدنام کررہے ہیں۔

    نوٹس میں کہا گیا کہ بچوں امل اور ابرام کی حقیقی والدہ کے خلاف اسمگلنگ اور اغوا جیسے الفاظ کا استعمال غیر قانونی اور بلاجواز ہے۔

    نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اسد خٹک کے بے بنیاد الزامات سے وینا ملک کی شہرت متاثر ہوئی اور وہ 90 روز میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر آکر معافی مانگیں وینا ملک سے معافی نہ مانگنے کی صورت میں اسد خٹک کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ وینا ملک اور اسد خٹک کی شادی 25 دسمبر 2013 کو ہوئی تھی اور ان کے دو بچے ہیں اور وینا ملک نے 2017 میں اسد بشیر خٹک سے خلع لے لی تھی۔

    دبئی کورٹ سے وینا ملک کی گرفتاری کے وارنٹ جلد جاری ہوجائیں گے اسد خٹک کا دعویٰ

    امریکی بچوں کا دبئی سے اغوا پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش کے سوا کچھ نہیں اسد خٹک

  • نامور شاعراور ماہر لسانیات نصیر ترابی انتقال کر گئے

    نامور شاعراور ماہر لسانیات نصیر ترابی انتقال کر گئے

    اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات، لغت نویس نصیر ترابی دل کا دورہ پڑنے سے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے-

    باغی ٹی وی : اردو زبان کے نامور شاعر، ماہر لسانیات، لغت نویس نصیر ترابی نامور ذاکر اور خطیب علامہ رشید ترابی کے فرزند تھے ۔ پاکستانی ڈراما سیریل ہمسفر کے ٹائٹل گیت وہ ہم سفر تھا ، انہیں کی مقبول عام غزل تھی ۔

    نصیر ترابی 15 جون 1945ء کو ریاست حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔ 1968ء میں جامعہ کراچی سے تعلقات عامہ میں ایم اے کیا۔ 1962ء میں شاعری کا آغاز کیا۔

    ان کا اولین مجموعۂ کلام عکس فریادی 2000ء میں شائع ہوا۔ ایسٹرن فیڈرل یونین انشورنس کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور افسر تعلقات عامہ مقرر ہوئے۔ عکسِ فریادی (غزلیات) ؛شعریات (شعر و شاعری پر مباحث اور املا پر مشتمل) ،لاریب (نعت، منقبت، سلام)،

    نصیر ترابی کو انک کی ادبی خدمات کی وجہ سے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے علامہ اقبال ایوارڈ ملا۔

    وہ ہمسفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
    کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

    نہ اپنا رنج، نہ اوروں کا دکھ، نہ تیرا ملال
    شب فراق کبھی ہم نے یوں گنوائی نہ تھی

    محبتوں کا سفر اس طرح بھی گزرا تھا
    شکستہ دل تھے مسافر شکستہ پائی نہ تھی

    عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں بہت
    بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نہ تھی

    بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
    غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی

    کسے پکار رہا تھا وہ ڈوبتا ہوا دن
    صدا تو آئی تھی لیکن کوئی دہائی نہ تھی

    کبھی یہ حال کہ دونوں میں یک دلی تھی بہت
    کبھی یہ مرحلہ جیسے کہ آشنائی نہ تھی

    عجیب ہوتی ہے راہِ سخن بھی دیکھ نصیر
    وہاں بھی آگئے آخر، جہاں رسائی نہ تھی

    (نصیر ترابی)

  • میشا شفیع علی ظفر کیس: میشا کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات غور طلب ہیں  عدالت

    میشا شفیع علی ظفر کیس: میشا کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات غور طلب ہیں عدالت

    میشا شفیع جنسی ہراسگی کیس میں سپریم کورٹ نے اداکار و گلوکار علی ظفر کے وکیل سے تحریری جواب طلب کرلیا-

    باغی ٹی وی : تحریری جواب حاصل کرنے کے بعد عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات غور طلب ہیں۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے میشا شفیع جنسی ہراسگی کیس کی سماعت کی ، فریقین کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے۔

    میشا شفیع کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہراسگی کی شکایت صرف متعلقہ ادارے کے ملازمین کر سکتے ہیں، جبکہ ہراسگی قانون کے تحت کسی کے خلاف شکایت کیلئے شکایت کنندہ کا اس کا ملازم ہونا ضروری نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھی ہراسگی کا قانون لاگو ہوتا ہے۔

    وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو نہ دیکھے، وفاقی محتسب اور لاہور ہائیکورٹ میشا شفیع کی درخواست خارج کرچکے ہیں۔

    جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ ہم کیس کا فیصلہ نہیں کر رہے، صرف قانونی نکات کی وضاحت کیلئے نوٹس کیا ہے، جو نکات اٹھائے گئے ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

    عدالت نے کیس کو جنسی ہراسگی کی تعریف کیلئے لیے گئے ازخود نوٹس کیساتھ منسلک کردیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ جنسی ہراسگی کی تعریف پر لیا گیا ازخودنوٹس بھی زیرسماعت ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا تھا کہ میشا شفیع علی ظفر کی ایمپلائی نہیں تھیں۔

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے تکنیکی بنیادوں پر میشا شفیع کی ہراسگی درخواست مسترد کی تھی جبکہ گورنر پنجاب کے فیصلے کو سیشن کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا-

    خیال رہے کہ اہور کی سیشن عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعوے پر تحریری حکم جاری کیا تھا یہ تحریری فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج امتیاز احمدنے جاری کیا۔

    تحریری حکم نامے میں عدالت نے شہادت مکمل کرنے کے لیے میشاشفیع کی گواہ عفت عمرکو دوبارہ طلب کیا حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت گلوکارہ میشاشفیع کے 6 گواہوں کے بیانات قلمبند کرچکی ہے۔

    علی ظفر میشا شفیع کیس: عدالت نے ہتک عزت کے دعوے پر تحریری حکم جاری کر دیا

    واضح ہے کہ گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزام میں ایک ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کررکھا ہے۔

    رواں برس اپریل میں میشا شفیع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں علی ظفر پر ایک سے زائد مرتبہ جنسی ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔

    میشا شفیع کا کہنا تھا کہ یہ واقعات اُس وقت پیش نہیں آئے جب وہ انڈسٹری میں داخل ہوئی تھیں بلکہ یہ سب اُس وقت ہوا جب وہ اپنا نام بنا چکی تھیں۔

    میشا شفیع کا کہنا تھا کہ بااختیار اور اپنے خیالات رکھنے کے باوجود ان کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آیا، اگر ان کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے تاہم علی ظفر نے ان الزامات کی تردید کردی تھی۔

    بعد ازاں گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ گلوکارہ نے ان پر جنسی ہراسانی کے بے بنیاد الزمات عائد کیے جس سے ان کے اہلخانہ کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی امیج بھی خراب ہوئی-

    علی ظفر میشا شفیع ہتک عزت کیس : عدالت نے میشا شفیع کو طلب کر لیا

    علی ظفر پگڑیاں اچھالنے والے مافیا کے سامنے ڈٹ گیا.

    میشا شفیع علی ظفرکیس: میشا شفیع نے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ بتا دی