Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ہمارے پاکستان کا ٹیلنٹ بہت اچھا ہے بس انہیں محنت کرنے کی ضرورت ہے   شاہدہ منی

    ہمارے پاکستان کا ٹیلنٹ بہت اچھا ہے بس انہیں محنت کرنے کی ضرورت ہے شاہدہ منی

    پا کستان کی معروف گلوکارہ و اداکارہ شاہدہ منی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاکستان کا ٹیلنٹ بہت اچھا ہے بس انہیں محنت کرنے کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں شاہدہ منی ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں شریک ہوئیں جہاں ان سے پاکستان کے مقبول گلوکاروں کی تصاویر دکھا کر ان گلوکاروں کے حوالے سے ان کی رائے پوچھی گئی۔ سب سے پہلے شاہدہ منی کو گلوکارہ آئمہ بیگ کی تصویر دکھائی گئی اور آئمہ سے متعلق ان کی رائے پوچھی گئی۔

    شاہدہ منی نے کہا سب ہی لوگ اپنے اسٹائل میں اچھا کام کررہے ہیں۔ آئمہ بیگ اس وقت انڈسٹری میں ہیں اور اچھا کام کررہی ہیں لیکن میں انہیں کہنا چاہوں گی کہ یہ ذرا ناک سے گانا بند کردیں۔

    علی ظفر کے بارے میں شاہدہ منی نے کہا علی ورسٹائل اور با ادب ہے علی ظفر اور میں نے پی ٹی وی میں ایک ساتھ کام کیا تھا اور علی شروع سے بہت تیز اور محنتی تھا اور جب یہ کمرشلز میں آتاتھا تو مجھے لگتا تھا اس میں کوئی کرنٹ ہے۔

    گلوکار بلال سعید کو شاہدہ منی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا لوگ مشہور ہوجاتے ہیں اور ان کے گانے بھی ہٹ ہوجاتے ہیں لیکن ان لوگوں کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

    گلوکارہ نے کہا کہ بلال سعید برا نہیں ہے لیکن اسے پرفارم کرنا نہیں آتا اسے اچھے گانے کی ٹریننگ لینی چاہئے اور ریاض کرنا چاہئے۔

    میشا شفیع کو شاہدہ منی نے اسمارٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میشا بہت اچھی دکھتی ہیں لیکن جیسی دکھتی ہیں ویسا گانا بھی گائیں۔

    عاطف اسلم کو شاہدہ منی نے خوش قسمت قرار دیتے ہوئے کہا عاطف اسلم نے تاجدار حرم قوالی بہت عقیدت سے گائی ہے۔

    گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ ہمارے پاکستان کا ٹیلنٹ بہت اچھا ہے بس انہیں محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

     

    منشا پاشا بھارتی فلمساز کی جانب سے لاہور ہیرا منڈی پر بنائی جانے والی فلم پرناراض

    بولڈ لباس میں فوٹو شوٹ پر شدید تنقید ، ارمینہ خان نے کمنٹ سیکشن بند کر دیا

  • ڈرامہ سیریل ڈنک کے خلاف وفاقی محتسب کا ایکشن ڈرامہ سیریل فوری طور روک کر پروڈیوسر اور چینل مالکان کو طلب کرلیا گیا

    ڈرامہ سیریل ڈنک کے خلاف وفاقی محتسب کا ایکشن ڈرامہ سیریل فوری طور روک کر پروڈیوسر اور چینل مالکان کو طلب کرلیا گیا

    وفاقی محتسب برائے تحفظ جنسی استحصال و ہراسیت برائے خواتین کشمالہ طارق نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کے ڈرامہ سیریل ڈنک کے بارے میں کہا ہے کہ ‘ایک خاتون کسی فرد کو بدنام کرنے کے لیے اپنی عزت و وقار داؤ پر لگاتے ہوئے جھوٹی شکایت درج کیوں کروائے گی؟-

    باغی ٹی وی : وفاقی محتسب برائے تحفظ جنسی استحصال و ہراسیت برائے خواتین کشمالہ طارق نے اے آر وائی ڈیجیٹل پر آن ایئر ہونے والے ڈرامہ سیریل ’ڈنک‘ میں خاتون کی جانب سے مبینہ طور پر جنسی ہراسیت کی جھوٹی شکایت درج کرانے کے تاثر کو تقویت دینے والی کہانی دکھائے جانے پر چیئرمین پیمرا، چینل کے سربراہ اور پروڈیوسر فہد مصطفیٰ کو طلب کر لیا ہے۔

    خاتون محتسب نے تینوں کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں حاضر ہو کر اپنا موقف پیش کرنے اور مزید احکامات تک ڈرامہ سیریل ’ڈنک‘ نشر کرنے سے روکنے کا حکم دیا ہے۔

    اس حوالے سے دیئے گئے نوٹس میں خاتون محتسب نے لکھا ہے کہ اس ڈارمے میں اب تک دکھائی جانے والی اقساط میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواتین عموماً جنسی ہراسیت کے جھوٹے الزامات عائد کرتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کا ڈرامہ انسدادِ ہراسیت بمقامِ کار ایکٹ 2010 کی روح کے منافی ہے جس کا مقصد پاکستان میں خواتین کو ہراسیت سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

    نوٹس میں کشمالہ طارق نے کہا کہ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت، خواتین کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر طرح کی ہراسیت کے خلاف خدمات سرنجام دے رہا ہے تاکہ خواتین معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ خواتین کو حقیقی آزادی دلانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

    کشمالہ طارق نے کہا کہ ریاست پاکستان نے انسداد ہراسیت ایکٹ 2010 جیسے قوانین کے ذریعے خواتین کو مرکزی دھارے میں کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے، لیکن اس طرح کے ڈرامے ان کوششوں اور ہراسیت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہیں۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جنسی ہراسیت ہمارے معاشرے میں ابھی ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ویسے بھی یہ عام فہم بات ہے کہ ایک خاتون کسی فرد کو بدنام کرنے کے لیے اپنی عزت و وقار داؤ پر لگاتے ہوئے جھوٹی شکایت درج کیوں کروائے گی؟-

    کشمالہ طارق نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمن جنسی تفریق مذہبی عدم برداشت اور بنیاد پرستی جیسے الزامات لگا کر پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ ہمارے ہمسائے کی جانب سے پاکستان کو انہی بنیادوں پر فیٹف کی بلیک لسٹ میں شامل کرانے کی کوشش اس کی ایک مثال ہے۔

    وفاقی محتسب کا کہنا ہے کہ یہ پیمرا کا فرض ہے کہ وہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈراموں کے مواد کو دیکھے اور یقینی بنائے کہ ان میں ریاست اور انسانی حقوق کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ اے آر وائی پر ان دنوں ڈرامہ سیریل ڈنک نشر کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر بھی منقسم رائے پائی جاتی ہے۔ بعض صارفین کا خیال ہے کہ اس ڈامے میں جنسی ہراسیت کے جھوٹے الزامات لگانے کے عمل کو فروغ دیا گیا ہے تاہم کچھ کہتے ہیں کہ یہ ڈرامہ جنسی ہراسیت کے خلاف آگہی پر مبنی ہے-

    پروڈیوسر فہد مصطفیٰ کے اس ڈرامے میں اداکار بلال عباس خان اور ثنا جاوید مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں نعمان اعجاز، فہد شیخ ، ازیکہ ڈینئیل اور یاسرہ رضوی شامل ہیں۔

    اس ڈرامے کے ڈائریکٹر فہد مصطفیٰ اور ڈاکٹر علی کاظمی ہیں اس ڈرامے کے پروڈیوسر بدر محمود ہیں یہ مشہور ڈرامے بلا اور چیخ بھی پروڈیوس کر چکے ہیں-

    ڈنک ڈرامہ سیریل کی کہانی ڈرامہ سیریل چیخ جیسے اسرار پر مبنی ہے۔ ثنا جاوید مرکزی کردار نبھال رہی ہیں “عمال” اور بلال عباس خان مرکزی اداکار کا کردار “حیدر” ادا کررہے ہیں۔

    ڈنک ڈرامہ کی کہانی یونیورسٹی کے ایک طالب علم امل کی جانب سے اپنے پروفیسر ہمایوں (نعمان اعجاز) کے خلاف دائر ہراساں کرنے کے کیس کے گرد گھوم رہی ہے۔ حیدر (بلال عباس) ہراساں کرنے کے معاملے میں امل کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن پروفیسر ہمایوں تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ہمایوں کی زندگی ہراساں کرنے کے الزامات کی وجہ سے دکھی ہوجاتی ہے۔

  • منشا پاشا بھارتی فلمساز کی جانب سے لاہور ہیرا منڈی پر بنائی جانے والی فلم پرناراض

    منشا پاشا بھارتی فلمساز کی جانب سے لاہور ہیرا منڈی پر بنائی جانے والی فلم پرناراض

    اداکارہ منشا پاشا کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں موجود حقیقی کہانیوں پر بھارتی فلم ساز فلمیں بنا کر ان سے پیسے کمانے کا سوچ رہے ہیں اور ہم افسانوی مواد پر بھی پابندی لگا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں منشا پاشا نے مشہور بالی وڈ فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی کی نئی فلم ہیرا منڈی (پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ماضی کے حالات پر بنائی جانے والی فلم) کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

    میڈیا رپورٹس میں کہا جارہا ہےکہ سنجے لیلا بھنسالی لاہور کی ہیرا منڈی میں ہونے والے جسم فروشی کے کاروبار پر فلم بنائیں گے جو بہت زیادہ بجٹ سے بنائی جائے گی اور ایک شاندار کاسٹ پر مشتمل فلم ہوگی۔

    منشا پاشا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں شکوہ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی لاہور کی ماضی کی رونقوں یعنی ‘ہیرا منڈی’ پر محض اس لیے فلم بنا رہے ہیں کیوںکہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں وہاں حقیقی مواد تو دور کی بات افسانوی مواد پر بھی پابندی عائد کردی جاتی ہے۔


    اداکارہ نے لکھا کہ ہم افسانوی مواد پر پابندی عائد کرکے اس بات پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ اخلاقی طور پر کیسا خیالی مواد دکھایا جانا چاہیے اور کیسا نہیں۔

    انہوں نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ہماری ان ہی کمزوریوں کی وجہ سے دوسرے لوگ ہمارے ملک اور سماج سے تعلق رکھنے والی حقیقی کہانیوں پر فلمیں بنا کر انہیں پوری دنیا میں فروخت کرکے پیسے کماتے ہیں۔

    انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے لکھا کہ آخر میں ایسا ہوگا کہ ہم اپنی ہی کہانیاں دوسروں کی زبانی سنیں گے۔

    ٹوئٹ کے آخر میں انہوں نے اس عمل پر دکھ کا اظہار بھی کیا۔

    منشا پاشا نے اگرچہ کسی بھی ادارے یا فلم ساز کا نام لیے بغیر ٹوئٹ کیں مگر ان کا اشارہ حال ہی میں سامنے آنے والی بھارتی فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی سے متعلق ان خبروں کی جانب تھا، جن میں بتایا گیا کہ وہ لاہور کی ‘ہیرا منڈی’ پر فلم بنائیں گے۔

    حال ہی میں خبریں سامنے آئی تھیں کہ سنجے لیلا بھنسالی لاہور کی ‘ہیرا منڈی’ پر بنائی جانے والی فلم کو پروڈیوس کریں گے اور انہوں نے مذکورہ فلم کی کاسٹ کے لیے عالیہ بھٹ کو کاسٹ بھی کرلیا جب کہ ایشوریا رائے، ودیا بالن، مادھوری ڈکشٹ اور دپیکا پڈوکون جیسی اداکاراؤں سے مذاکرات جاری ہیں۔

    رپورٹس میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ سنجے لیلا بھنسالی کب تک مذکورہ فلم پر کام شروع کریں گے تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ‘ہیرا منڈی’ پر بنائی جانے والی فلم پر رواں برس کے آخر تک کام شروع کردیا جائے گا۔

    بولڈ لباس میں فوٹو شوٹ پر شدید تنقید ، ارمینہ خان نے کمنٹ سیکشن بند کر دیا

    جواد احمد کا گانا بھارت میں مودی کی پالیسیوں کے خلاف کسانوں کی تحریک کا حصہ بن گیا

    خواب واقعی پورے ہوتے ہیں، دیپیکا پڈوکون کا اپنا بڑا خواب پورا ہونے پر خوشی کا…

    پیمرامیں افسران کی لاکھوں روپے تنخواہ کا معاملہ، خفیہ حقیت سامنے آگئی

  • 34 سال سے قتل کا بے گناہ مجرم باغی ٹی وی کی کوششوں سے رہا

    34 سال سے قتل کا بے گناہ مجرم باغی ٹی وی کی کوششوں سے رہا

    آج 1987ء سےقید فتح محمد کو سینٹرل جیل مچھ بلوچستان سے 34 سال بعد رہائی مل گئی-

    باغی ٹی وی : 1987ء سے سینٹرل جیل مچھ بلوچستان میں قید فتح محمد نے قید سے رہائی ملنے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر باغی ٹی وی کا ان کی رہائی کے لئے کاوشوں اور خصوصی طور پر باغی ٹی وی کے صحافی طہ منیب کا شکریہ اداکیا-


    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں باغی ٹی وی اور طہ منیب کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم باغی ٹی وی اور طہ صاحب کے بھی انتہائی مشکور ہیں جنہوں فتح کے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی ۔ وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے فتح کے کیس کو ہائی لائٹ کرنے میں کردار ادا کیا بہت بہت شکریہ-

    انہوں نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں محترمہ آمنہ جنجوعہ صاحبہ کےانتہائی مشکور ہیں جنکی اس کیس میں بلامعاوضہ قانونی معاونت نےاس ناممکن کوممکن کردکھایا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس نیکی کا دنیاوآخرت میں بہترین اجرعطافرمائے آمین-

    واضح رہے کہ فتح محمد کو 34 سال قبل جنرل ضیاء الحق کی قائم کردہ سپیشل عدالت نے 1988 دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت عمر قید ، تین بار سزائے موت، جرمانہ اور جائیداد کی ضبطگی کی سزا سنائی۔

     

    قتل کے کیس میں بے گناہ گرفتار فتح تیس سال سے انصاف کا منتظر

  • مجھے اپنا مقام اور عزت بنانے میں 34 سال لگے  سلمان خان

    مجھے اپنا مقام اور عزت بنانے میں 34 سال لگے سلمان خان

    بالی وڈ کے سلطان سلمان خان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنی عزت اور مقام بنانے میں 34 سال لگے –

    باغی ٹی وی : معروف بھارتی شو بگ باس کے میزبان اور سپراسٹار سلمان خان نے بگ باس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی میرے چاہنے والے ہیں وہ مجھے جانتے ہیں میں نے اپنا مقام اور یہ عزت بہت آسانی سے نہیں بنائی ہے، تمام تر محنت اور مشکلات کے بعد عزت بنائی اور مجھے اپنی عزت اور مقام بنانے میں 34 سال لگے مجھے اپنی اس عزت کو برقرار بھی رکھنا ہے۔

    سلمان خان گفتگو کرتے ہوتےبہت سنجیدہ تھے جبکہ انہیں سننے والے تمام افراد بھی بالکل غور اور سنجیدگی سے ان کی باتوں کو سن رہے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی بہت آگے جانا ہے، بہت عزت اور پیار کمانا ہے سلمان سے سلو، سلو سے بھائی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالئے گا یہی درخواست ہے۔

    سشمیتا سین کی بیٹی کی شوبز میں انٹری

    سیف علی خان نے پہلی بار خاندانی محل کے اندر مناظر کی عکس بندی کی اجازت کیوں دی

    انوشکا اور ویرات کے ہاں بیٹی کی پیدائش

    بالی وڈ منشیات کیس:این سی بی نے ارجن رامپال کی بہن کو بھی طلب کر لیا

  • ماڈل ٹاؤن الیکشن : صاحبزادہ سیف الرحمن کی گزشتہ 8 سالہ رپورٹ منظر عام پر

    ماڈل ٹاؤن الیکشن : صاحبزادہ سیف الرحمن کی گزشتہ 8 سالہ رپورٹ منظر عام پر

    صاحب زادہ سیف الرحمن خان نے پہلی مرتبہ مارچ 2012 میں میں بطور صدر ماڈل ٹاؤن سوسائٹی لاہور کا چارج سنبھالا اس وقت ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کے مالی حالات سازگار نہ تھے حکومت پنجاب نے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کر رکھی تھی جو اب تک بند ہے جبکہ بورڈ آف ریونیو کی طرف سے نیلام کرتا پلاٹ نمبر 82 ایچ کی رقم تقریبا ساڑھے آٹھ کروڑ پہ سوسائٹی کو ابھی تک نہ ملی بارات گھر کو مکمل کرنے کے لئے سرمایہ کی ضرورت تھی قصر نور نے پچاس لاکھ روپے کیش اور ڈیڑھ کروڑ روپے کی بینک گارنٹی دینی تھی انتظامیہ نے قصر نور سے گفت و شنید کی اور قصر نور سے بینک گارنٹی کی بجائے یہ رقم کیش کی صورت میں وصول کی-

    میٹرو کیش اینڈ کیری سٹور سوسائٹی کو ٹیکس نہیں دے رہا تھا انتظامیہ نے فیصلہ کیا اس کی اس کی بجلی کاٹ دی جائے اگلے ہی دن میٹرو کیش اینڈ کیری نے تیس لاکھ روپے ادا کر دیے نئے چناچی میٹرو انتظامیہ کی مدد سے سرکلر روڈ پر سوسائٹی ایل ای ڈی سٹریٹ لائٹس نصب کرائی جس سے سٹریٹ لائٹس کی مد میں 90 فیصد بجلی کی بچت ہوئی اور سوسائٹی کے مالی بوجھ میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی-

    بارات گھر میں نصب کرنے کے لئے سوسائٹی نے ہائر کمپنی سے اے سی پلانٹس خریدے ہائیر کمپنی کو تین کروڑ روپے سوسائٹی نے ادا کرنے تھے سوسائٹی نے ہائرکمپنی والوں سے بات کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کیا کمپنی سوسائٹی سے یہ رقم آسان اقساط میں وصول کرے بارات گھر میں شادی فنکشن کا انعقاد کیا جس سے سوسائٹی کی آمدن شروع ہوئی اور ممبر کی اپنی بیٹی بیٹے پوتی پوتے کی شادی پر چارج سے مستثنیٰ قرار دیا-

    2012میں صاحب زادہ سیف الرحمن خان نے سوسائٹی کا چارج سنبھالا تو بجلی کی مد میں صارفین کی ذمہ تقریبا دس کروڑ روپے واجب الادا تھے اور اس رقم کو حکمت عملی کے تحت وصول کیا گیا واپڈا کے لائن لوسز 20 سے 30 فیصد تک جا پہنچے تھے انہیں کم کرکے 10 سے 15 فیصد تک لایا گیا-

    2102 میں لوڈشیڈنگ اپنے عروج پر تھی تھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا تھا سوسائٹی نے دو ٹیوب ویلوں کو عارضی طور پر جنریٹر پر چلا کے دیکھا جس پر بہت زیادہ خرچہ آ رہا تھا چنانچہ سوسائٹی کے واٹر سپلائی سسٹم کے لیے پہلے سے نصب شدہ چھ ٹیوب ویل کے لیے بجلی کے ڈبل کنکشن لگا ئے 2012 میں کل 16 ٹیوب ویل چلتے تھے اب بہتر منصوبہ بندی سے10 ٹیوب ویل وہی کام سرانجام دے رہے ہیں جس سے سوسائٹی کو چھ ٹیوب ویل کے بجلی کے بل کی مد میں تقریبا 4 کروڑ روپے سالانہ کی بچت ہوئی تنخواہوں اور مشینری کی مرمت کی مد میں الگ سے بہت کی جاتی ہے –

    جے اور سی بلاک میں سیوریج کا مسئلہ :جے اور سی بلاک میں اکثر سیوریج لائن بند رہتی تھی جس کی وجہ سے بلاک میں سیوریج کا پانی سڑکوں پر گھر آتا تھا اسی سلسلے میں باقاعدہ سروے کروا کر سیوریج کے دیرینہ مسئلہ کو حل کروایا –

    بینک سکوائر مارکیٹ میں تقریبا سولہ شیشہ کیفے موجود تھے جہاں یقیناً منشیات بھی میسر تھی جس سے ہماری نوجوان نسل متاثر ہو رہی تھی مارکیٹ میں شریف فیملی کا آنا حال ہو چکا تھا نوجوان نسل کو شیشہ کیفے جیسی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے لئے تمام تر مخالفت کے باوجود ماڈل ٹاؤن میں شریف کو بند کروایا گیا اس کے بعد لاہور اور پھر پورے پنجاب میں بھی کیسے بند ہوئے-

    ماڈل ٹاؤن میں مختلف جگہوں پر پھل کی ریڑھیاں اور کھوکھے لگے ہوئے تھے جو ماڈل ٹاؤن کے حسن کو ماند کر رہے تھے اور بیجا ٹریفک جام کا باعث بنتے تھے انہیں ٹاؤن سے ختم کیا گیا اور قانونی کمرشلائزیشن انتظامیہ نے ہی غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خاتمے کو اپنا ولین مشن بنایا اور غیر قانونی کمرشلائزیشن سرگرمیوں میں ملوث افراد کی حوصلہ شکنی کی اور بارہ سی می سرگودھا یونیورسٹی کی برانچ کھلی تو انتظامیہ نے ان کی بجلی و پانی کو منقطع کیا یا کیا جس پر سکیورٹی اہلکاروں کو زدوکوب کیا گیا بجلی بند ہونے پر یونیورسٹی والوں نے جنریٹر پر کام جاری رکھنے کی کوشش کی غیرقانونی کمرشلائزیشن کے خلاف سوسائٹی کے سخت رویہ کے باعث سرگودھا یونیورسٹی کی برانچ کو کام بند کرنے پر مجبور کر دیا اسی طرح 2-کے میں کیڈٹ سکول کھلا تو اسے بند کروایا 116 میں اے آر وائے نیوز چینل 103 -جی میں میڈیا کا دفتر 73-جی میں نیوز 1 ٹی وی وی ،11 -ایف ٹی وی چینل اور اس کے علاوہ بے شمار غیر قانونی کمرشل دفاتر کو بند کروایا ہم نے غیر قانونی کمشن پر سخت موقف اختیار کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے غیر قانونی کمرشلائزیشن کرنے والا اور لینڈ مافیا سے ایک مستقل قانونی جنگ لڑ رہا ہے –

    سیکورٹی مانیٹرنگ کے لئے کیمرے لگائے گئے پیٹرولنگ کے لئے نئی مہران پانچ کاریں شامل کی گئی ہیں جو دن رات گشت کرتی ہیں جس سے جرائم کے روک تھام میں کافی بہتری آئی ہے چالیس عدد ہونڈا 125 موٹر سائیکل اور13 عدد سی ڈی سیونٹی سکواڈ میں شامل کی گئی اور ان کے اندر ہر بلاک میں انٹری پوائنٹس اور حساس لائنوں میں گارڈز کے لیے نئی چیک پوسٹس لگائی گئی تا کہ موسم کی خرابی کے دوران گارڈ اس لین میں موجود رہیں اور ڈیوٹی میں خلل پیدا نہ ہو-

    ٹاؤن سے کچرا اٹھانے والی پٹھان ، پکھی واس ، ریڑھی بان ،خانہ بدوش ، اور فقیروں و گدا گروں کا داخلہ بند کر دیا گیا سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے وائرلیس سسٹم کے لیے پرائیویٹ کمپنی کو سالانہ دس لاکھ روپے ادا کرنے پڑتےہیں سوسائٹی انتظامی- کی کوششوں سے اب پی ٹی اے کو صرف چالیس ہزار روپے سالانہ دا کیے جاتے ہیں-

    2008 میں ممبران کو کو پندرہ ہزار روپے نقد ادائیگی بذریعہ چیک کر لیا گیا تھا جن میں ممبران کو کسی وجہ سے نہ مل سکا تھا انھیں ریلیف دیا گیا بجلی کی فی یونٹ قیمت واپڈا اور لیسکو کی طرف سے وصول کی جانے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت سے کم رکھی گئی-

    ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپورٹس فیسٹیول منعقد کروائے جس میں معزز ممبران اور ان کی فیملی کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے لئے بہترین ماحول فراہم کیا ان فیسٹیول کو نہ صرف اپنوں نے بلکہ مخالفین نے بھی بے حد سراہا-

    جائیداد کی خریدوفروخت ٹرانسفر کے سلسلے میں بائیومیٹرک نظام متعارف کروایا –

    سینٹرل پارک میں ممبران کی فیملی کا داخلہ فری کیا گیا اور اب ماڈل ٹاون کے رہائشیوں کو بھی پارک میں مختلف داخلہ کی سہولت دے دی گئی ہے ہے علاوہ ازیں ٹریک پر سلرسسٹم نصب کیا اب خواتین بلا خوف و خطر شام رات کے وقت ٹریک پر واک کر سکتی ہیں نئے باتھ روم کی تعمیر کی گئی ا سینٹرل پارک میں جھیل کی توسیع کی گئی اور اس پر پل کی تعمیر کی گئی چلنے والے راستے پر ٹف ٹائلز لگوائی گئیں-

    لیڈیز ایکسرسائز ایریا کی تعمیر اور خواتین کے لیے یوگا انسٹرکٹر کی تعیناتی کی گئی جذبہ حب الوطنی کے پیش نظر سینٹر پارک کے پیش نظر سینٹرل پارک میں م مین انٹرس پر ایک سو دس فٹ اونچائی پر نیشنل فلیگ نصب کیا گیا ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لیے سوسائٹی کے رہائشیوں کی سہولت کے لیے ماڈل ٹاؤن لنک روڈ پر ش بس سروس کا آغاز کیا گیا مڈل ٹاؤن کی ہوا کو بہتر رکھنے کے لئے لیے چنگ چی رکشوں کا داخلہ بند کیا گیا جس سے آب و ہوا بہتر ہوئی –

    سوسائٹی روزانہ چالیس سے پچاس ٹن کوڑا ماڈل ٹاؤن سے باہرٹھکانے لگاتی ہے صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئےسوسائٹی نے اپنے ممبران رہائشیوں کو انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے ڈسٹ بن مفت فراہم کیے-

    ڈینگی کی روک تھام 2012 میں ماڈل ٹاؤن میں ڈینگی کے بہت سے کیسز سامنے آئے تھے اور ٹاؤن میں بہت سے لوگ ڈینگی کا شکار ہوئے ہوئے اینٹی ڈینگی مہم کو اس جگہ لاروا کو تلف کرنے کے لیے کئی بار ٹاؤن میں سپرے کروایا گیا جن ممبران کے گھر لاروا پایا گیا انہیں بذریعہ یہ خط و کتابت فون احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا ڈینگی کی روک تھام کے لئے کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب سے مل کر ڈینگی آگاہی اور سیمینار شعر کا انعقاد کروایا –

    ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کا نہری پانی کا کھال بوجہ تعمیر کلمہ چوک انڈر پاس اس کافی عرصہ سے رکا ہوا تھا جس کو سوسائٹی کے پارکس اور ہارٹیکلچر ڈپارٹمنٹ کی کاوش اور تگ و دو سے مکمل کروایا اور اس کی تعمیر کے لیے ایف سی کالج ج سنچری ٹاور اور پی ٹی سی ایل ایل واسا ایریگیشن ٹیپا ایل ڈی اے اور دیگر ڈیپارٹمنٹس سہ رابطہ کیا گیا اور نہری پانی کے کھال کو مختلف جگہوں سے پختہ کروا کر بحال کروایا –

    الیکٹریکل مکینیکل ورکشاپ : سو سا ئٹی بجلی کے خراب ٹرانسفارمرز جس کو بازار سے مرمت کروا دی تھی جس پر کروڑوں روپے کے اخراجات آتے تھے ہم نے الیکٹریکل اور مکینکل ورکشاپ کو اپ گریڈ کیا اور خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کو واپڈا لیسکو کی سپیسیفیکیشن کے مطابق ٹرانس فارمرز کو مرمت اوورہال کروایا جس سے سوسائٹی کو کروڑوں روپے کی بچت ہوئی-

    ادارہ ہذا کے کم وسائل ہونے کے باوجود بڑی بڑی ادائیگیوں اور وصولیوں میں توازن پیدا کیا خصوصاً بجلی کے بلوں میں کی مد میں بھاری بھرکم ادائیگیوں ،ملازمین کی تنخواہ پنشن کی بروقت ادائیگی اور روزمرہ کے اخراجات میں توازن صدر ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کی بہترین حکمت عملی کا نمونہ ہے-

    مارچ 2012 میں سوسائٹی کا چارج سنبھالنے کے بعد جہاں دوسرے امور زیر بحث لائے وہی ماڈل ٹاؤن کے مکینوں کو پینے کے پانی کو ارزاں نرخوں پر سپلائی کی طرف بھی خاص توجہ دی-

    ماڈل ٹاؤن موڑ پر سوسائٹی کی کم وبیش دس ارب مالیت کی 55 کنال لال کمرشل زمین جو 40 سال سے لوگوں کے قبضہ میں تھی واگزار کروائیں ماڈل ٹاؤن کلب کی کم و بیش4 ارب مالیت کی 37 کنال زمین سابقہ کلب انتظامیہ کے چنگل سے واگزار کروائیں-

    ماڈل ٹاؤن ہسپتال کم و بیش 40 سال ساڑھے چار ارب عرب مالیت 38 کنال زمین پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے واپس لیں جو اس کو چھوڑنے کو تیار نہ تھا دھوبی گھاٹ کی کم و بیش کے تین ارب مالیت تیس کنال کمرشل زمین جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے قبضہ کیا ہوا تھا اس کو خالی کروایا لنک روڈ ماڈل ٹاؤن پ چار کنال کمرشل زمین شیل کمپنی سے واپس لیں اور اس میں 18 کنال 12 مرلے زمین شامل کر کے بائیس کنال 12 مرلے پلاٹ کا کمرشل پلاٹ بنایا سٹور ایریا مارکیٹ کے بلاگ سے ملحقہ پٹرول پمپ کی لیزختم ہونے کے بعد پی ایس او سے ایک کنال کی کمرشل زمین واگزار کروائیں آئی کے بلاک مڑھیاں پمپ کی لیز ختم ہونے کے بعد پی ایس او سے ایک کنال چودہ مرلے کمرشل زمین واگزار کروائیں –

    ماڈل ٹاؤن ہسپتال پر عرصہ دراز تک ک پنجاب ہیلتھ رہا ہم نے بڑی مشکل سے یہ جگہ خالی کروائیں اس میں دس روپے کی پرچی کے عوض او پی ڈی میں مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے اور پی ٹی آئی کے علاوہ او بی ایس اور گائنی آؤٹ ڈور میں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ویکسینیشن سینٹر فیملی پلاننگ سینٹر صدر کلینک فرسٹ ایڈ آئی سینٹر سر اور ڈائگنوسٹک بینک کی سہولیات کی مد میں ایکسرے الٹرا ساؤنڈ اور لیبارٹری کی سہولت موجود ہے-

    بارات گھر کی بیسمنٹ کا کام مکمل کروایا اس میں فنکشن کا انعقاد کروایا جس سے سوسائٹی کے آمدن میں اضافہ ہوا کمرشل یریا کا رقبہ تیس کنال 3مرلے بنتا ہے اس پر سوسائٹی نے تین جدید طرز کے شادی ہال کی تعمیر فروری 2016 میں شروع کی جس کو 20 ماہ کی قلیل مدت میں میں مکمل کیا گیا –

    سینٹر کمرشل مارکیٹ میں کار پارکنگ کا دیرینہ مسئلہ تھا جس کو وسیع کارپارکنگ کی تعمیر کروا کر حل کیا گیا ما ڈل ٹاون موڑ تا سینٹرل پارک ایل ای ڈی لائٹس لگوائیں آئی ایم ماڈل ٹاؤن کے ممبران کے بچوں کی کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے فٹ بال اور کرکٹ اکیڈمی کا قیام عمل میں لایا گیا ان کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے 55 کلومیٹر تک پورے ٹاؤن کی سڑک کو ری کارپٹ کیا گیا دو عدد سکوائش کورٹس پر مشتمل بلڈنگ تعمیر کے آخری مراحل میں ہے تین عدد ٹینس کورٹ پر مشتمل ایریا کی تکمیل آخری مراحل میں ہیں سوئمنگ پول بلڈنگ میں خواتین اور حضرات کے لیے لیے سوئمنگ پول اور بچے اور بچیوں کے لئے بھی علیحدہ علیحدہ سوئمنگ پول شامل ہیں جن میں ٹھنڈے گرم پانی کی سہولت میسر ہوگی

    جمنازیم بلڈنگ میں خواتین اور مرد کے لئے علیحدہ علیحدہ جم ایریا خواتین کے لئے جدید طرز کا بیوٹی پارلر وغیرہ کی سہولیات شامل ہیں ماڈل ٹاون کلب کی تکمیل بھی آخری مراحل میں ہے ر ماڈل ٹاؤن ہسپتال کے ساتھ ملحقہ نو کنال زمین پر سوسائٹی نے دو عدد سینما ہالز پر مشتمل ایک جدید طرز کی بلڈنگ بنانے کا ارادہ کیا ہے ہے امید کرتے ہیں کہ اس سال کے آخر تک یہ سینما بھی صارفین کے لیے کھول دیا جائے گا-

    آمدن میں اضافہ اور دیگر سیلولر کمپنی سے سوسائٹی کوسالانہ تقریبا ساڑھے چار کروڑ روپے آمدن تھی تھی ہم نے ان کمپنیوں سے گفت و شنید کی کی جس کے نتیجے میں سوسائٹی کے سالانہ انکم ساڑھے چار کروڑ سے بڑھ کرچھ کروڑ سے زائد ہوگئی سیل کمپنی سے سے دو پٹرول پمپس ایک کو ماہانہ سات لاکھ بیس ہزار روپے آمدن تھی شیل کمپنی سے بینک روڈ پر واقع پٹرول پمپ کی زمین واپس لی اور اب صرف 15 سے سوسائٹی کو ماہانہ 22 لاکھ روپے آمدن ہوتی ہے-

    کرونا وائرس کے خلاف انتظامات: موجودہ کرونا وائرس کے دوران سوسائٹی کی تمام سڑکوں بشمول مارکیٹس س مساجد وغیرہ کو کلورین واٹر سے دھویا گیا اس کے ساتھ ساتھ ساتھ ڈینگی کے خلاف بھی سوسائٹی کی ٹیم نے اپنا کام جاری رکھا-

    نیٹ میٹرنگ پاکستان بھر میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی نے سب سے پہلے نیٹ میٹرنگ کو متعارف کروایا ہے جس سے ماحول میں بہتری کے ساتھ ساتھ ممبران اپنے گھروں کی پیداکردہ سولر بجلی کو سوسائٹی گریڈ میں شامل کرکے فروخت کر سکتے ہیں ہیں جس سے ان کے ماہانہ بجلی کا بل کم آنے کے ساتھ ماحول دوست بجلی کو پیداوار کو فروغ ملے گا-

  • وکاس کوہلی کی سوشل میڈیا پر وائرل ویرات اور انوشکا کی بیٹی کی تصویر پر وضاحت

    وکاس کوہلی کی سوشل میڈیا پر وائرل ویرات اور انوشکا کی بیٹی کی تصویر پر وضاحت

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کی جانب سے ننھی پری کی آمد کے اعلان کے بعد سے جوڑی کو مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ویرات کوہلی کے بھائی وکاس کوہلی نے انسٹاگرام پر کمبل میں لپٹی بچی کے پیروں کی تصویر شیئر ننھی پری کا استقبال کیا۔

    شیئر کی گئی تصویر میں بچی کو خوش آمدید کہا گیا اور ساتھ ہی بے حد خوشی، فرشتہ گھر میں کا عنوان درج کیا گیا۔

    ویرات کوہلی کے بھائی کی جانب سے تصویر شیئر کیے جانے کے بعد یہ انٹرنیٹ پروائرل ہوگئی اور صارفین نے اسے انوشکا اور ویرات کی بیٹی تصویر سمجھ لیا۔

    انوشکا ویرات کے مداح اس تصویر میں موجود بچی کو ویرات انوشکا کے بچی سمجھ کر مبارکباد دینے لگے۔

    تاہم دو گھنٹے قبل وکاس کوہلی کی جانب سے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے وضاحت کی گئی کہ گزشتہ روز شیئر کی گئی تصویر انوشکا اور ویرات کی بیٹی کی اصل تصویر کے بجائے عام بچی کے پیروں کی تصویر ہے ۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ویرات کوہلی نے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کے ذریعے ہی بیٹی کی پیدائش کی اطلاع دی تھی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ انوشکا شرما کا ووگ میگزین سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ میں اور ویرات کوہلی اپنے بچے کو بدتمیز نہیں بنانا چاہتے اس لیے بچے کو سوشل میڈیا سے دور رکھیں گے، ہم نے اس بارے میں بہت سوچا اور ہم یقینی طور پر اپنے بچے کو عوام کی نگاہوں سے بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے لہٰذا ہم اپنے بچے کوسوشل میڈیا میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔

  • بولڈ لباس میں فوٹو شوٹ پر شدید تنقید ، ارمینہ خان نے کمنٹ سیکشن بند کر دیا

    بولڈ لباس میں فوٹو شوٹ پر شدید تنقید ، ارمینہ خان نے کمنٹ سیکشن بند کر دیا

    اداکارہ ارمینہ خان کو بولڈ لباس میں تصویر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ اداکارہ نے کمنٹس سیکشن ہی بند کر دیا-

    باغی ٹی وی :اداکارہ ارمینہ خان سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں اور اکثر اپنی تصاویر اور ملکی معاملات پر خیالات کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتی ہیں۔ گزشتہ روز ارمینہ خان نے اپنی ایک پرانی تصویر سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شیئر کی جس میں وہ نہایت مختصر سیاہ رنگ کے لباس میں نظر آرہی ہیں۔

    اداکارہ کی جانب سے تصویر شیئر کرنے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ان کی تصویر پر ایک صارف نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان بےغیرتوں کو بالی وڈ بھیجو۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ارمینہ خان کے لیے نازیبا لفظ استعمال کیا۔ ارمینہ خان نے بھی اس صارف کو جواب دیتے ہوئے کہا میں وہاں جا چکی ہوں وہ اچھی جگہ ہے۔

    سدرہ نامی خاتون نے ارمینا خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا اس طرح کی فضول حرکت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ پھر یہ واحیات عورتیں کہتی ہیں کے لوگوں کی سوچ گھٹیا ہے۔ ہمارا جسم ہماری مرضی کے نعرے کستی ہیں میں خود ایک لڑکی ہوں کسی لڑکی کی مخالفت کرنا میرے لیے بھی مشکل ہے مگر یہ پوسٹ دیکھ کر میرا خون کھول گیا ہے۔

    ملک ان کو اسلامی طور طریقوں کے مطابق چاہیے۔ انصاف ان کو اسلام کے مطابق چاہیے۔ حتٰی کے ان کو تحفظ بھی اسلام کے مطابق چاہیے۔ مگر خود اس پر عمل نہیں کریں گی۔ بہت سی ایسی اداکارائیں ہیں جو ایک دائرے میں رہ کر اپنا کام کرتی ہیں جیسے کے سارہ خان، ایمن، منال خان۔ کیا ان کی شہرت میں کمی آئی؟ بلکہ لوگوں نے ان کو سراہا۔

  • سشمیتا سین کی بیٹی کی شوبز میں انٹری

    سشمیتا سین کی بیٹی کی شوبز میں انٹری

    بھارتی فلم انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ سشمیتا سین کی بیٹی نے بھی اداکاری کی دُنیا میں قدم رکھا دیا۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سشمیتا سین کی بیٹی نے اپنی اداکاری ک ایک آغاز ایک مختصر فلم سے کیا ہے جس کا نام ’سوٹا بازی‘ ہے جبکہ یہ فلم لاک ڈاؤن کے دوران ہی شوٹ کی گئی ہے۔

    اس فلم میں سشمیتا سین کی بیٹی رینی سین نے نوجوان نشہ آور لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جو اپنے والدین سے چھپ کر تمباکو نوشی کرتی ہے۔

    اس حوالے سے رینی سین نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی پہلی فلم کی تشہیر کے لیے فلم کا پوسٹر بھی شیئر کیا ہے اور بتایا کہ ان کی یہ فلم ڈزنی پر ریلیز کی جائے گی-

  • سیف علی خان نے پہلی بار خاندانی محل کے اندر مناظر کی عکس بندی کی اجازت کیوں دی

    سیف علی خان نے پہلی بار خاندانی محل کے اندر مناظر کی عکس بندی کی اجازت کیوں دی

    بالی وڈ ادکار سیف علی خان نے پہلی بار اپنے خاندانی محل ‘پٹودی پیلس’ کے اندر شوٹنگ کی اجازت دی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف علی خان کی جانب سے یہ اجازت ان کی اپنی ویب سیریز ‘تانڈو’ کے لیے دی گئی ہے۔

    اس سے قبل پٹودی خاندان کے محل کے باہر سے تو شوٹنگ کی اجازت دی گئی ہے تاہم یہ پہلی بار ہوا ہے کہ محل کے اندر مناظر کی عکس بندی کی گئی ہو۔

    اس حوالے سے سیف کا کہنا ہے کہ آج کل فلم کا عملہ زیادہ سمجھ دار اور ذمہ دار ہے اور شوٹنگ کی جگہ کا خیال رکھتا ہے تاہم میں اب بھی محل کے اندر شوٹنگ کی اجازت دے کر کنفیوز ہوں، تاہم میں نے ‘تانڈو’ کے لیے خاص طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس میں کردار کے مطابق شاہانہ ماحول نظر آتا ہے۔

    خیال رہے کہ علی عباس ظفر کی ہدایت کاری میں بننے والی ویب سیریز’تانڈو‘ میں سیف ایک سیاست دان کا کردار ادا کررہے ہیں جو کہ شاہانہ زندگی گزارتا ہے، سیریز کا ٹریلر بھی جاری ہوچکا ہے جسے کافی پذیرائی مل رہی ہے۔

    واضح رہے کہ ‘پٹودی پیلس’ بھارتی ریاست ہریانہ کے قصبے پٹودی میں واقع ہے جو کہ سیف علی خان کو ان کے والد نواب منصور علی خان پٹودی کے انتقال کے بعد ورثے میں ملا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس محل کی مالیت تقریباً 8 ارب انڈین روپے جبکہ 17 ارب پاکستانی روپے سے زائد ہے۔

    یہ عمارت 10 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جہاں پٹودی خاندان سال میں کچھ دن ہی چھٹیاں گذارنے آتا ہے۔

    سیف علی خان کے مرحوم والد منصور علی خان نے اس عمارت کو 17 سالہ لیز پر ایک ہوٹل نیٹ ورک کو دیا تھا جسے سیف علی خان نے دوبارہ 2014 میں حاصل کیا تھا۔

    محل میں150کمرے موجود ہیں، جن میں7 ڈریسنگ روم،7بیڈروم،7بلیئرڈ روم اور ایک بڑاسا ڈرائنگ روم موجود ہے، ساتھ ہی کئی گراؤنڈز، گیراج اور جانوروں کے اصطبل بھی بنائے گئے ہیں۔