Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 سال ہو گئے

    پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 سال ہو گئے

    پاکستان کی مقبول ترین شاعرات میں شامل ، عورتوں کے مخصوص جذبوں کو آواز دینے والی معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 26 سال گزر گئے-

    باغی ٹی وی : پروین شاکر 24 نومبر 1952 ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ان کا اصل وطن بہار کے ضلع دربھنگہ میں لہریا سراے تھا۔ان والد ،شاکر حسین ثاقب جو خود بھی شاعر تھے،قیام پاکستان کے بعد کراچی میں آباد ہو گئے تھے۔پروین کم عمری سے ہی شاعری کرنے لگی تھیں، اور اس میں ان کو اپنے والد کی حوصلہ افزائی حاصل تھی۔پروین نے میٹرک کا امتحان رضویہ گرلز اسکول کراچی سے اور بی اے سر سید گرلز کالج سے پاس کیا۔

    1972 میں انھوں نے انگریزی ادب میں کراچی یونیورسٹی سے ایم ۔اے کی ڈگری حاصل کی، اور پھر لسانیات میں بھی ایم۔ اے پاس کیا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ عبداللہ گرلز کالج کراچی میں بطور ٹیچر ملازم ہو گئیں۔1976ء میں ان کی شادی خالہ کے بیٹے نصیر علی سے ہوئی جو ملٹری میں ڈاکٹر تھے۔یہ شادی پروین کی پسند سے ہوئی تھی، لیکن کامیاب نہیں رہی اور طلاق پر ختم ہوئی۔

    ڈاکر نصیر سے ان کا ایک بیٹا ہے۔کالج میں 9 سال تک پڑھانے کے بعد پروین نے پاکستان سول سروس کا امتحان پاس کیا اور انھیں 1982 میں سیکنڈ سکریٹری سنٹرل بورڈ آف ریوینئو مقرر کیا گیا۔بعد میں انھوں نے اسلام اباد میں ڈپٹی کلکٹر کے فرائض انجام دئے۔محض 25 سال کی عمر میں ان کا پہلا مجموعہ کلام "خوشبو” منظر عام پر آیا تو ادبی حلقوں میں دھوم مچ گئی۔انھیں اس مجموعہ پر آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    پروین کی شخصیت میں بلا کی خود اعتمادی تھی جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔اسی کے سہارے انھوں نے زندگی میں ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔

    18 سال کے عرصہ میں ان کے چار مجموعے خوشبو ،صدبرگ،خودکلامی اور انکار شائع ہوئے۔ان کی کلیات ماہ تمام 1994 ء میں منظر عام پر آئی۔ 1985 میں انھیں ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ اور 1986 میں یو ایس آئی ایس ایوارڈ ملا۔اس کے علاوہ ان کو فیض احمد فیض انٹرنیشنل ایوارڈ اور ملک کے وقیع ایوارڈ "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔26 دسمبر 1994ء کو ایک کار حادثہ میں ان کا انتقال ہو گیا-

    پروین شاکر نئے لب و لہجہ کی تازہ بیان شاعرہ تھیں جنھوں نے مرد کے حوالہ سے عورت کے احساسات اور جذباتی مطالبا ت کی لطیف ترجمانی کی۔ان کی شاعری نہ تو آہ و زاری والی روائتی عشقیہ شاعری ہے اور نہ کُھل کھیلنے والی رومانی شاعری۔ جذبہ و احساس کی شدّت اور اس کا سادہ لیکن فنکارانہ بیان پروین شاکر کی شاعری کا خاصہ ہے۔

    ان کی شاعری ہجر و وصال کی کشاکش کی شاعری ہے جس میں نہ ہجر مکمل ہے اور نہ وصل۔جذبہ کی صداقت،رکھ رکھاؤ کی نفاست اور لفظیات کی لطافت کے ساتھ پروین شاکر نے اردو کی نسائی شاعری میں اک ممتاز مقام حاصل کیا۔بقول گوپی چند نارنگ نئی شاعری کا منظر نامہ پروین شاکر کے دستخط کے بغیر نامکمل ہے۔

    پروین شاکر خاتون شاعروں میں اپنے منفرد لب و لہجے اور عورتوں کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل پیش کرنے کے باعث اردو شاعری کو اک نئی جہت دیتی نظر آتی ہیں۔ وہ بےباک لہجہ استعمال کرتی ہیں، اور انتہائی جرات کے ساتھ جبر و تشدد کے خلاف احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ وہ اپنے جذبات و خیالات پر شرم و حیا کے پردے نہیں ڈالتیں ۔ان کے موضوعات محدود ہیں، اس کے باوجود قاری کو ان کی شاعری میں نغمگی،تجربات کی صداقت،اور خوشگوار تازہ بیانی ملتی ہے۔

    نمونہ کلام۔

    اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں

    اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

    نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں

    آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

    شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری

    بھولنے والے میں کب تک ترا رستا دیکھوں

    ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں

    آج میں خود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں

    کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر

    اتنے غیروں میں وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

    تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات

    جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں

    بند کر کے مری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے

    بوجھے جانے کا میں ہر روز تماشا دیکھوں

    سب ضدیں اس کی میں پوری کروں ہر بات سنوں

    ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

    مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح

    انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

    پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے

    پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایا دیکھوں

    میں نے جس لمحے کو پوجا ہے اسے بس اک بار

    خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

    تو مری طرح سے یکتا ہے مگر میرے حبیب

    جی میں آتا ہے کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں

    ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے

    تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

  • ڈرامہ ڈنک ان تمام متاثرین کو خراج تحسین ہے جو ہراسانی کے جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں   فہد مصطفیٰ

    ڈرامہ ڈنک ان تمام متاثرین کو خراج تحسین ہے جو ہراسانی کے جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں فہد مصطفیٰ

    سوشل میڈیا صارفین نے ریپ کے جھوٹے الزامات کا شکار ہونے والے افراد کو خراج تحسین پیش کرنے پر فہد مصطفیٰ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے

    باغی ٹی وی :فہد مصطفیٰ کا ایک انٹرویو کے دوران اپنے نئے ڈرامے ’ڈنک‘ کے بارے میں کہناتھا کہ 95 فیصد جنسی ہراسانی کے کیسز حقیقی ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات لوگوں پر جھوٹے الزام عائد کیے جاتے ہیں لہذا ہمیں ہر طرح کی کہانی سنانی ہوگی۔ ڈرامہ سیریل ’ڈنک‘ کی کہانی جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جھوٹے الزامات کے گرد گھومتی ہے۔

    فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ڈراما سیریل ’ڈنک‘ ان تمام متاثرین کو خراج تحسین ہے جو ہراسانی کے جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین فہد مصطفیٰ کی اس بات سے بالکل خوش نہیں ہیں اور انہوں نے ریپ کے ملزمان کو خراج تحسین پیش کرنے پر فہد مصطفیٰ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کس بات کا خراج تحسین؟ کیا ہراسانی کے واقعے میں ملوث ہونا ( چاہےجھوٹا الزام ہی سہی) کامیابی ہے؟


    https://twitter.com/BarneySendars/status/1342154040650698757?s=20
    ایک خاتون نے واضح طور پر فہد مصطفیٰ پر الزام لگاتے ہوئے کہا مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جس آدمی نے یہ ڈراما بنایا ہے وہ خواتین کو ہراساں کرنے میں ملوث ہے اور اس بات سے خوفزدہ ہے کہ کہیں اس کا کیا اس کے سامنے نہ آجائے۔
    https://twitter.com/AamnaFasihi/status/1342088416863932416?s=20
    ایک خاتون نے لکھا کہ ہراساں کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہراساں کرنے کے جعلی الزامات (جو اصل ہراساں کرنے کے مقابلے میں تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں)۔ واہ
    https://twitter.com/AssmaShahid/status/1342263201547890692?s=20
    اسمانامی خاتون نے طنز کرتے ہوئے کہا اس معاشرے میں جہاں 90 فیصد ہراسانی کے معاملات کو دبا یاجاتاہے وہ معاشرہ اب ہراسانی کے جھوٹے الزامات میں ملوث مردوں کو خراج تحسین پیش کرنے جارہا ہے۔
    https://twitter.com/karamel_cookie/status/1342141462490869766?s=20
    ایک صارف نے کہاجہاں 99 فیصد ہراسانی کے کیسز سچ ہوتے ہیں وہاں انہوں نے اس موضوع پر ڈراما بنانے کا انتخاب کیا۔ پاکستان ٹی وی انڈسٹری کبھی بھی ہمیں مایوس کرنے میں ناکام نہیں ہوتی۔
    https://twitter.com/randiirona/status/1342204547587051522?s=20
    ایک اور خاتون نے کہا ہاں ضرور خراج تحسین پیش کریں کیوکنہ ہر عورت جھوٹی اور پر مرد فرشتہ ہے جس پر صرف جھوٹے الزامات ہی لگائے جاتے ہیں۔ بیچارے مرد۔
    https://twitter.com/bzainab27/status/1342152546790600706?s=20
    زینب نامی خاتون نے کہا خراج تحسین؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں روزانہ کی بنیاد پر متعدد خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔انہوں نے (ڈراما بنانے والوں نے) ان خواتین کو کمزور مخلوق جب کہ ہراسانی کے جھوٹے الزام کا شکار ہونے والے ملزم کو الگ ہی درجے پر بٹھادیا گیا۔

  • صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا سے صحتیاب

    صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا سے صحتیاب

    معروف اداکارہ و میزبان صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا سے صحتیاب ہو گئیں ہیں-۔

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی دوسری کی لہر کا شکار ہونے والی اداکارہ صنم جنگ نے فوٹو اینڈ ویڈیو شئیرنگ ایپ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بیٹی کے ہمراہ اپنی ایک خوبصورت تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ دو نوں جھولے سے لطف اندوز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

    صنم جنگ نے مذکورہ تصویر کے کیپشن میں لکھا کہ الحمد اللہ میں اور میری بیٹی کورونا وائرس سے صحتیاب ہوگئے ہیں۔

    اداکارہ نے لکھا کہ میں اُن تمام لوگوں کی تہہ دل سے شکرگزار ہوں جنہوں نے میری بیٹی اور میری جلد صحتیابی کے لیے دُعائیں کیں میں اس پوسٹ کے ذریعے آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ اب ہم مکمل طور پر صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    صنم جنگ نے لکھا کہ قرنطینہ کے دوران مجھے بہت سارے پیغامات اور فون آئے جس کے لیے ایک بار آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جس طرح آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں بالکل اُسی طرح میں بھی اپنے چاہنے والوں سے بہت محبت کرتی ہوں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں صنم جنگ نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کی تھی۔

    اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا تھا کہ میں اپنے تمام خیر خواہوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے میں اور میری بیٹی مکمل طور پر قرنطینہ ہوگئے ہیں اور شکر گزار ہوں کہ کوئی شدید علامات موجود نہیں ہیں۔

    اداکارہ نے اپنی اسٹوری میں لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ کورونا کی وبا کو مذاق نہ سمجھیں اور اس سے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں وہ فیس ماسک کا استعمال کریں بھیڑ میں جانے سے گریز کریں اور گھر تک ہی محدود رہیں تو اچھا ہے۔

    واضح رہے کہ کئی فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں مزاح نگار انور مقصود اداکارہ ماہرہ خان ،نیلم منیر، بہروز سبز واری،مریم نفیس،عامر لیاقت حسین اور ان کی اہلیہ طوبی عامر ،اداکار امیر گیلانی ،گلوکارجواد احمد ،عثمان مختار ، فروا علی کاظمی ،ماڈل صحیفہ جبار ، روبینہ اشرف ، اداکار یاسر نواز اور ان کی اہلیہ ندا یاسر ،واسع چوہدری اور دیگر شامل ہیں-

    صنم جنگ بیٹی سمیت کورونا وائرس کا شکار

  • سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

    سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سارہ خان کے والد انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر سارہ خان کی شادی کی ایک یادگار تصویر گردش کر رہی ہے مذکورہ تصویر میں سارہ خان اور فلک شبیر اداکارہ کے والد کو بوسہ دیتے نظر آرہے ہیں۔

    انسٹاگرام پر تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ سارہ خان اور نور خان کے والد گزشتہ رات انتقال کرگئے۔

    سوشل میڈیا صارفین سارہ خان کے والد کی مغفرت کے لیے دُعا کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے سارہ خان سمیت اُن کے اہلخانہ کو اس مشکل گھڑی میں صبر و جمیل عطا کرنے کی دعائیں کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو اداکارہ سارہ خان اور نامور گلوکار فلک شبیر رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شوبز انڈسٹری کی اس جوڑی کو 2020ء کی بہترین جوڑی قرار دیا گیا تھا۔

  • لیلیٰ اور لیلیٰ کے بعد علی ظفر کے گیت ’الے‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیئے

    لیلیٰ اور لیلیٰ کے بعد علی ظفر کے گیت ’الے‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کر دیئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار علی ظفر کے حال ہی میں ریلیز ہونے والے سندھی گیت ’الے‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کردیئے۔

    باغی ٹی وی :بلوچی گیت ’ لیلیٰ او لیلیٰ ‘ کے سپر ہٹ ہونے کے بعد علی ظفر نے گزشتہ ماہ سندھی زبان میں گایا ہوا گیت ’الے‘ ریلیز کیا تھا جسے کافی پسند کیا گیا۔

    دونوں گانوں میں علی ظفر کے ساتھ 13 سالہ عروج فاطمہ نے بھی گلوکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

    لیلیٰ او لیلیٰ کی مقبولیت کے بعد ’الے‘ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ماہ کے دوران اس گیت کو یوٹیوب پر ایک کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے جوکہ دیگر گیتوں کے مقابلے میں اس گیت کی بڑی کامیابی ہے۔

    دوسری جانب علی ظفر نے بھی اپنے گیت کی کامیابی پر ’اَلے‘ گیت کا پوسٹ بھی جاری کیا ہے میں گانے میں اُن کے ساتھ شامل فاطمہ عروج اور عابد بروہی بھی نظر آرہے ہیں۔

  • کشمیر پریمئیر لیگ  پر پاکستانی عوام کا جوش و خروش ،نعرہ کھیلو آزادی سے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    کشمیر پریمئیر لیگ پر پاکستانی عوام کا جوش و خروش ،نعرہ کھیلو آزادی سے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    حال ہی میں وفاقی وزیر ،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کشمیر پریمیئر لیگ کا افتتاح کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان کا ٹیلنٹ اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا، کشمیر کے نوجوان نے دنیا کو دکھنا ہے کہ اس میں کتنا دم ہے،کشمیر پریمئر لیگ کشمیر کو پوری دنیا میں مقبول بنانے میں مدد دے گی-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں وفاقی وزیر ،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی، شاہد آفریدی، سردار مسعود خان، اظہر محمود ، عارف ملک اور شہزاد اختر شریک ہوئے، کشمیر پریمیئر لیگ میں 6 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ،لیگ میں میرپور رائلز، کوٹلی پینتھرز، باغ سٹالینز، راولاکوٹ ہاکس، اوورسیز واریرز، مظفرآباد ٹائگرز شامل ہیں-

    چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کا کشمیر پریمئر لیگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کشمیر پریمیئر لیگ کو PCB، وفاقی حکومت اور عوام کی حمایت حاصل ہے،کے پی ایل سے جموں و کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر لارہے ہیں، ہمارے نوجوان کا ٹیلنٹ اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا، کشمیر کے نوجوان نے دنیا کو دکھنا ہے کہ اس میں کتنا دم ہے،کشمیر پریمئر لیگ کشمیر کو پوری دنیا میں مقبول بنانے میں مدد دے گی-

    شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ یہ لیگ آگے جا کر کشمیر کی بچیوں کو بھی آگے آ کر کھیلنے کا موقع دے گی، ہمارے کرکٹر ہمارے ملک کی پہچان بنے ہیں،کھیل لوگوں کو قریب لانے میں مدد دیتے ہیں، ہم سب کے پی ایل کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کے ساتھ مل کر اس لیگ کو آگے لے کر جائیں گے، کے پی ایل کا لوگو ‘ کھیلو آزادی سے ‘ دنیا بھر میں گونجے گا۔ کے پی ایل کے ساتھ کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر رکھا جائے گا،

    کشمیر پریمیئر لیگ کی افتتاحی تقریب،شہر یار آفریدی کا بڑا اعلان

    شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر کے فورمز پر کشمیر کو اجاگر کریں گے، کشمیر کمیٹی اس مقصد کے تحفظ اور فروغ کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گی،

    سی ای او کشمیر پریمیئر لیگ کا کہنا تھا کہ کشمیر پریمیر لیگ سے پہلے ٹیلنٹ ہنٹ کیمپ لگائے جائیں گے، آزاد کشمیر بھر سے ہر ٹیم میں 2 سے 3 کھلاڑی پلئنگ الیون کا حصہ ہوں گے،یکم اپریل سے کشمیر پریمیر لیگ کا آغاز کیا جائے گا-

    تاہم کے پی ایل کے سامنے آنے پر پاکستانی عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور اس بات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے نعرہ کھیلو آزادی سے سلوگن سامنے آیا یہاں تک کہ یہ نعرہ اس وقت پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پر سرفہرست ٹرینڈز میں آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔


    حیا بنت حیا نامی صارف نے اس ٹرینڈ میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ شاہد آفریدی نے کہا: "میں نے اپنے پورے کیریئر میں کئی ٹیموں کے لئے کھیلا ہے ، لیکن میں کشمیر کے عوام سے ملنے والی محبت کو واپس کرنے کے لئے کے پی ایل کی طرف سے کھیلنا پسند کروں گا۔”
    https://twitter.com/MughalAAziz/status/1342071512128434177?s=20
    عزیزالرحمن نامی صارف نے لکھا کہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہریارآفرید ی نے کہا کہ حکومت پاکستان اور کشمیر کمیٹی اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لئے مکمل تعاون کرے گی کیونکہ یہ واقعہ کشمیر سے منسلک ہے۔


    https://twitter.com/AisheGull313/status/1342066950281830401?s=20
    ایک عائشے نامی صارف نے لکھا کہ کے پی ایل کشمیر کو کھیلوں کے عالمی نقشے پر ڈال دے گا۔ ہم کشمیر کو دنیا بھر کے تمام فورمز پر اٹھائیں گے۔ کشمیر کمیٹی کشمیر کی شناخت اور ثقافت کے تحفظ ، منصوبے اور فروغ کے لئے ہر کام کرے گی۔ ‘کے’ لفظ اب بز کا لفظ ہے۔
    https://twitter.com/HurtMe2468/status/1342063171826307072?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے ہفتے کو کشمیر پریمیر لیگ (کے پی ایل) کا آغاز آزاد جموں و کشمیر کے پہلے پریمیر کرکٹ ٹورنامنٹ کے طور پر کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بلند کرنے کے لئے ثقافتی اور کھیلوں کے مختلف پروگراموں کا سلسلہ شروع کرنے کا عزم کیا۔
    https://twitter.com/Adiusra/status/1342067815575154688?s=20
    عدنان الرحمن نامی صارف نے لکھا کہ شاہد آفریدی جو کے پی ایل کے برانڈ سفیر بھی ہیں ، اظہر محمود ، کے پی ایل کے چیف کوچ ، صدر کے پی ایل عارف ملک اور شہزاد اختر چوہدری کے پی ایل کے سی ای او ، شہریار آفریدی نے کہا کہ کے پی ایل کشمیر کو ورلڈ اسپورٹس میپ پر رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔


    حیا بنت حیا نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ کشمیری نوجوانوں کا ہنر اس لیگ کے ذریعے دنیا تک پہنچے گا۔کشمیری نوجوانوں کو دنیا کو دکھانا ہے کہ ان میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔
    https://twitter.com/Kami1_here/status/1342067054413807620?s=20

  • ارطغرل غازی کی موت میری زندگی کا مشکل ترین سین تھا   بامسی بے

    ارطغرل غازی کی موت میری زندگی کا مشکل ترین سین تھا بامسی بے

    کورلش عثمان سیزن 2 میں ‘ارطغرل غازی’ کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کے قریبی دوست ’بامسی‘ کا کردار اداکرنے والے نورالدین سونمیر بھی ڈرامے میں’ارطغرل غازی‘ کی وفات سے افسردہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : نورالدین سونمیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ تاریخی ترک سیریز ’کورلش عثمان‘ سیزن 2 میں ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے تامیر یگت کے ہمراہ ڈرامے کے ایک منظر کی تصویر شیئر کی۔

    انہوں نے شُوٹنگ کے دوران کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے تُرک زبان میں لکھا کہ یہ میری زندگی کا ایک مشکل ترین سین تھا۔

    ترک اداکار نے لکھا کہ یہ ایک بہت ہی مشکل منظر تھا جذبات سے بھر پور اور نہ ختم ہونے والا لمحہ تھا۔

    بامسی بے نے لکھا کہ میرے بازوؤں میں ایک زبردست اداکار تامیر یگت تھے جبکہ میری آنکھوں میں ارطغرل غازی تھے۔

    نورالدین سونمیر نے اپنی پوسٹ میں ’ارطغرل غازی‘ میں ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے انگین آلتان کو بھی ٹیگ کیا۔

    خیال رہے کہ کورلش عثمان کے ٹریلر کے مطابق کورلش عثمان کے سیزن 2 کی گزشتہ رات قسط میں موت دکھائی گئی تھی تاہم آج رات نشر ہونے والی 40 ویں قسط میں ’ارطغرل غازی‘ کا کردار اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

    ایک عہد تھا جو تمام ہوا ،ارطغرل غازی کی موت ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • عدنان صدیقی کے بعد عمران عباس نے بھی سال 2020 کی سب سے اچھی بات بتا دی

    عدنان صدیقی کے بعد عمران عباس نے بھی سال 2020 کی سب سے اچھی بات بتا دی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار عدنان صدیقی کے بعد مقبول اداکار عمران عباس نے بھی اپنے سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے مداحوں کو رواں سال کی سب سے اچھی بات بتا دی۔

    باغی ٹی وی :سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر عمران عباس نے 2020 کے اختتام کے حوالے سے ایک خصوصی پوسٹ شیئر کی ہے۔

    عمران عباس نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 2020 میں سب سے اچھی چیز جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم آج یہ پیغام پڑھ رہے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مشکل سال میں بھی زندہ رکھا ہے۔

    اداکار نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنا چاہیے۔

    عمران عباس نے اس معنی خیز پوسٹ کو ایک خصوصی کیپشن بھی دیا انہوں نے لکھا کہ ہمیں زندہ رکھنے کے لیے اللہ کا شکر ادا کریں۔

    اداکار نے مزید لکھا کہ زندگی اور صحت ہی خدا کا سب سے بڑا تحفہ ہے لہٰذا ہمیشہ اُس کے شُکر گزار رہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اداکار عدنان صدیقی نے بھی رواں سال کو بہترین قرار دیا تھا اداکار نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا تھا کہ جلد سال 2020 ماضی کا قصہ بن جائے گا تاہم یہ سال ان سمیت ہر کسی کی زندگی کے لیے اہم سبق چھوڑ جائے گا۔

    انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اب سے تین ہفتوں میں ، 2020 ماضی ہو جائے گا۔ ایک انتہائی غیر معمولی سال۔ جب ہم اس کی بات کرتے ہیں تو ، مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو بھی مبہم خیال تھا کہ اس میں تین ماہ اور ہماری زندگی ، جیسے ہم جانتے ہیں ، رک جائیں گے۔ ایک فروغ پزیر دنیا اچانک رک گئی اور ہم اب بھی معمول کی واپسی کے منتظر ہیں۔ تعجب کی بات نہیں ، مارچ 2020 کے بعد سے ہماری سب سے عام سوچ یہ ہے کہ ، ’’ زندگی کب معمول پر آئے گی ‘‘۔

    عدنان صدیقی نے سال 2020 کو بہترین سال قرار دیا

    انہوں نے لکھا کہ رواں برس ان سے اکثر پوچھا گیا کہ وہ 2020 کو بہترین سال کیوں قرار دیتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے اس سال کورونا کی وجہ سے ‘لاک ڈاؤن’ نافذ ہونے سے انہیں مصروفیت سے چھٹکارہ حاصل ہوا اور انہوں نے بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا۔

    انہوں نے لکھا تھا کہ ‘لاک ڈاؤن’ کو خدا نے ہی بھیجا تھا اور وہ ان کے لیے نیند مکمل کرنے، کتابیں پڑھنے، شاعری لکھنے، موسیقی سننے اور اپنی اولاد کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کا ذریعہ بنا۔

    اداکار نے لکھا تھا کہ صرف تین ماہ کے ‘لاک ڈاؤن’ نے اس سال دنیا کو بہت کچھ سکھایا اور کاروبار زندگی معطل ہوتے ہی ہم سب کا یہی سوال تھا کہ زندگی معمول پر کب آئے گی؟

    انہوں نے بتایا تھا کہ سال 2020 میں انہیں زندگی اور دنیا کو دوسرے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا اور اس سال ان سمیت ہر کسی نے کچھ ایسے کام کیے، جو ‘لاک ڈاؤن’ کے بغیر کرنا ممکن نہیں تھے۔

    اداکار نے لکھا تھا کہ رواں سال میں نے یہ سیکھا کہ انسان ، چاہے وہ خود کو قادر مطلق قرار دے ، فطرت کو کبھی فتح نہیں کرسکتا۔ 2020 میں بھی مجھے تھوڑا سا آہستہ ہونا ، اپنے پیاروں کو قریب رکھنا ، دعا کرنا ، اور زندگی کو کبھی بھی حرام نہیں سمجھنا سکھایا گیا۔

  • صنم سعید نے سال 2020 کو کٹھن سال قرار دیا

    صنم سعید نے سال 2020 کو کٹھن سال قرار دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ صنم سعید کا کہنا ہے کہ رواں سال ہم سب کیلئے بہت کٹھن رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ صنم سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ دوربین پکڑے ہوئے کچھ دیکھنے میں مصروف ہیں۔

    انہوں نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ 2021 کے آنے کا انتظار کر رہی ہیں کیونکہ رواں سال ہم سب کے لیے بہت کٹھن تھا اور امید کرتی ہیں کہ آئندہ سال ان کے لئے اچھا ثابت ہو۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل عدنان صدیقی نے رواں سال 2020 کو بہترین قرار دے رہے ہیں اداکار نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا تھا کہ جلد سال 2020 ماضی کا قصہ بن جائے گا تاہم یہ سال ان سمیت ہر کسی کی زندگی کے لیے اہم سبق چھوڑ جائے گا۔

    انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ اب سے تین ہفتوں میں ، 2020 ماضی ہو جائے گا۔ ایک انتہائی غیر معمولی سال۔ جب ہم اس کی بات کرتے ہیں تو ، مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو بھی مبہم خیال تھا کہ اس میں تین ماہ اور ہماری زندگی ، جیسے ہم جانتے ہیں ، رک جائیں گے۔ ایک فروغ پزیر دنیا اچانک رک گئی اور ہم اب بھی معمول کی واپسی کے منتظر ہیں۔ تعجب کی بات نہیں ، مارچ 2020 کے بعد سے ہماری سب سے عام سوچ یہ ہے کہ ، ’’ زندگی کب معمول پر آئے گی ‘‘۔

    انہوں نے لکھا تھا کہ رواں برس ان سے اکثر پوچھا گیا کہ وہ 2020 کو بہترین سال کیوں قرار دیتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے اس سال کورونا کی وجہ سے ‘لاک ڈاؤن’ نافذ ہونے سے انہیں مصروفیت سے چھٹکارہ حاصل ہوا اور انہوں نے بچوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا۔

    انہوں نے لکھا تھا کہ ‘لاک ڈاؤن’ کو خدا نے ہی بھیجا تھا اور وہ ان کے لیے نیند مکمل کرنے، کتابیں پڑھنے، شاعری لکھنے، موسیقی سننے اور اپنی اولاد کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کا ذریعہ بنا۔

    اداکار نے بتایا تھا کہ صرف تین ماہ کے ‘لاک ڈاؤن’ نے اس سال دنیا کو بہت کچھ سکھایا اور کاروبار زندگی معطل ہوتے ہی ہم سب کا یہی سوال تھا کہ زندگی معمول پر کب آئے گی؟ سال 2020 میں انہیں زندگی اور دنیا کو دوسرے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا اور اس سال ان سمیت ہر کسی نے کچھ ایسے کام کیے، جو ‘لاک ڈاؤن’ کے بغیر کرنا ممکن نہیں تھے۔

    عدنان صدیقی نے سال 2020 کو بہترین سال قرار دیا

  • 2020 میں  سب زیادہ سنے اور سرچ کئے جانے والے  پاکستانی گانے

    2020 میں سب زیادہ سنے اور سرچ کئے جانے والے پاکستانی گانے

    رواں برس عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث لگے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے بہترین وقت گزاری کیلئے فلموں ،ڈراموں ،موسیقی اور انٹرٹینمنٹ کا سہارا لیا۔

    باغی ٹی وی : اسی حوالے سے پاکستان کے میوزک اسٹریمنگ پلیٹ فارم پٹاری نے اپنے ’روائینڈ 2020 راؤنڈ اپز‘ جاری کیے ہیں کہ عالمی وبا کے دوران لوگوں نے سب سے زیادہ کون سے گانے سنے اور کن گلوکاروں اور بینڈز کو سب سے زیادہ سرچ کیا۔


    تاہم گلوکار شمعون اسمٰعیل اس سال کے سب سے مقبول فنکار رہے ان کا گانا ’رنگ‘ پٹاری پر سب سے زیادہ سنا گیا جبکہ ان کا ایک اور گانا ’میریوانا‘ (Marijuana) اس فہرست میں تیسرے نمبر پر رہادوسری جانب گلوکار بلال سعید اور مومنہ مستحسن کا گانا ’باری 2‘ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا چوتھے نمبر پر مصطفیٰ زاہد اور یشعل شاہد کا گانا رانجھا ، پانچویں نمبر پر عاطف اسلم کا ویلو ساؤنڈ اسٹیشن پر گایا گیا گانا کدی تے یس بول، چھٹے نبمر پر قراقورم بینڈ کا کا گانا راستہ، ساتویں نمبر پر گوہر ممتاز کا گانا عادت ، آٹھویں نمبر پر فواد خان اور آئمہ بیگ کا کھیل جا دل سے، نویں نمبر پر بیان بینڈ کا گانا تیری تصویر اور دسویں نمبر پر اسٹرنگز کا گانا سجنی رہا-

    دوسری جانب پٹاری پر سال 2020 میں سب زیادہ سنے جانے والے میوزک بینڈز میں ’اسٹرنگز‘ پہلے اور ’جنون‘ دوسرے نمبر پر ہے
    جبکہ تیسرے نمبر پر نوری ،چوتھے نمبر پر بیان ،پانچویں نمبر پرجل، چھٹے نمبرپر کشمیر ،ساتویں نمبر پر کال ، آٹھویں نمبر پر قراقرم، نویں نمبر پر ای شارپ اور دسویں نمبر پر انٹائٹی پراجم بینڈ رہے-

    2020 میں سب سے زیادہ سنے جانے والے البمز میں میوزک بینڈ ’ بیان ‘ کا البم ’ سُنو ‘ ، پہلے نبمر رہا جبکہ ’ کشمیر ‘ بینڈ کا البم ’ خواب ‘ دوسرے نمبر رہا اسی طرح بتدریج شمعون اسماعیل کا ’ جوس‘ ،تیسرے نمبر پر ینگ سٹنرز کا ’ اے ٹیل آف ٹو طلحاز‘ رہا-

    پٹاری پر سال 2020 میں سب زیادہ سُنی جانے والی فی میل گلوکارہ میں حدیقہ کیانی پہلی نمبر پر، دوسرے نمبر پر ’ نورجہان‘ تیسرے نمبر پر’ تیسرے نمبر پر قرۃالعین بلوچ ‘ ، چوتھے نمبر پر ’عابدہ پروین‘ ، پانچویں نمبر پر ’نتاشا بیگ‘،چھٹے نمبر پر ’نیرہ نور‘ ،ساتویں نمبر پر ’نازیہ اقبال‘ ،آٹھویں نمبر پر ’زیب بنگش ‘ ،نویں نمبر پر ’زوئی ویکاجی ‘،دسویں نمبر پر ’زیب اور ہانیہ‘ رہیں-

    پٹاری پر سال 2020 میں سب زیادہ سرچ کئے جانے والے میل گلوکاروں میں پہلے نمبر پر علی سیٹھی، دوسرے نمبر پر ’نصرت فتح علی خان ‘،تیسرے نمبر پر ’ شمعون اسماعیل ‘ ،چوتھے نمبر پر ’عابدہ پروین‘ پانچویں نمبر پر ’ فارس شفیع‘ چھٹے نمبر پر ’سجاد علی‘ ساتویں نمبر پر ’علی ظفر‘ آٹھویں نمبر پر’عاطف اسلم‘ نویں نمبر پر ’نازیہ حسن‘ اور دسوین نمبر پر ’راحت فتح علی خان رہے-

    پٹاری پر سال 2020 میں سب زیادہ سُنے جانے والے میوزک شوز میں پہلے نمبر پر کوک اسٹوڈیو‘ ،دوسرے نمبر پر ’ نیسکیفے بیسمنٹ‘ ،تیسرے نمبر پر’ان دا باکس ، چوتھے نمبر پر ’پیپسی بیٹلآف دا بینڈز‘، پانچویں نمبر پر ’ ویلو ساؤنڈ اسٹیشن‘ ،چھٹے نمبر پر ’کوک فیسٹ 2020‘ ساتویں نبمر پر ’‘بگ فوٹ میوزک ، آٹھویں نمبر پر’بوس مین‘ ،نویں نمبر پر’کارنیٹو پاپ راک‘ اور دسویں نمبر پر’میوزکی‘ رہے-

    پٹاری پر سال 2020 میں سب زیادہ سرچ کئے جانے والے گانوں میں ایک بار پھر ’باری‘ بازی لے گیا اورنمبر پر رہا ، دوسرے نمبر پر ڈرامہ سیریل ’الف ‘ کی او ایس ٹی ،تیسرے نمبر پر عادت، چوتھے نمبر پر سجنی ، پانچویں نمبر پر بول ہو ، چھٹے نمبر پر ڈرامہ سیریل رہد وفا کی او ایس ٹی ، ساتویں نمبر پر نہ کہو ، آٹھویں نمبر پر ثبی سانگ ، نویں نبمر پر میریوانا ، دسویں نمبر پر پنڈی آئے رہا-