Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مہوش حیات کا ملک میں جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک پر برہمی و افسوس کا اظہار

    مہوش حیات کا ملک میں جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک پر برہمی و افسوس کا اظہار

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور تمغہ امیتاز اداکارہ مہوش حیات نے پاکستان میں چڑیا گھر ہونے اور ان میں جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک پر حکام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ جانوروں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو چڑیا گھروں کو بند کردیں۔

    باغی ٹی وی : 14 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو ریچھوں کو اردن منتقل کرنے کے اپنے مئی میں دیے گئے احکامات کا کیس نمٹاتے ہوئے قرار دیا تھا کہ چڑیا گھر حراستی مراکز کی طرح ہوتے ہیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکامات کے باوجود تاحال ببلو و سوزی نامی دو ریچھوں کو اردن منتقل نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔

    عدالت نے ریچھوں کو بھی کسی بھی چڑیا گھر کے بجائے محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے چڑیا گھروں کو حراستی مراکز قرار دیا۔

    افسوس ہم کاون کو وہ گھر نہ دے سکے جس کا وہ حقدار تھا شنیرا اکرم

    عدالتی فیصلے کے بعد اداکارہ مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں ایک میڈیا رپورٹ شیئر کرتے ہوئے ملک میں جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک پر برہمی و افسوس کا اظہار کیا۔


    مہوش حیات نے لکھا کہ حکام کو اب تمام چڑیا گھر بند کردینے چاہیے۔

    کاون کا کمبوڈیا سے یاسر حسین کے لئے خط

    اداکارہ نے لکھا کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں تاحال انسانوں کے حقوق کی جنگ لڑی جا رہی ہے ایسے میں یہاں جانوروں کے حقوق کی بات کرنا دور کی بات ہے۔

    ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت اس وقت ہی جانوروں سے متعلق کیوں ایکشن لیتی ہے جب بیرون ممالک کی کوئی شخصیت پاکستان میں جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک پر آواز اٹھاتی ہے۔

    قدرت نے جانوروں کو انسانوں کی انٹرٹینمنٹ کے لیے پیدا نہیں کیا،عدالت

    مہوش حیات نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ جانور آزاد پیدا ہوئے اس لیے اب ان کی آزادی کی خاطر حکام کو تمام چڑیا گھر بند کردینے چاہیے۔

    مہوش حیات کی جانب سے شئیر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کو بند کیے جانے اور اس میں موجود جانوروں کو دوسری جگہ منتقل کیے جانے کے دوران کم از کم 12 جانور اور پرندے ہلاک ہوگئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی دوران ہی 530 جانور و پرندے چوری ہوگئے جب کہ محض 92 جانوروں و پرندوں کو دوسرے 6 چڑیا گھروں یا جنگلات میں منتقل کیا گیا۔

    یہ وہی چڑیا گھر ہے جس سے متعلق اپریل 2020 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے احکامات دیئے تھے کہ وہاں سے جانوروں کو دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور اسی چڑیا گھر میں موجود تنہا ہاتھی کاون کو بھی 30 نومبر کو کمبوڈیا منتقل کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ 1985 میں سری لنکن حکومت کی جانب سے صدارتی تحفے کی حیثیت سے پاکستان آنے والے کاون کو اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر سے کمبوڈیا منتقل کردیا گیا۔

    مرغزار چڑیا گھر میں کاون پر جارحانہ رویہ اپنانے پر اسے ’تنہا ترین ہاتھی‘ قرار دیا گیا اور پھر عوام کے شور مچانے پر کاون کی زنجیریں ہٹادی گئیں۔

    کمبوڈیا منتقلی سے قبل کاون کے اعزاز میں الوداعی پارٹی کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد معروف شخصیات نے شرکت کی، جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے بھی کاون کو الوداع کہنے کے لیے چڑیا گھر کا دورہ کیا۔

    امریکی گلوکارہ عمران خان کوتلاش کرتے کرتے پاکستان پہنچ گئی ،کپتان سے ملاقات

  • پاکستان میں اردو فلکس لانچ کرنے کی تاریخ سامنے آ گئی

    پاکستان میں اردو فلکس لانچ کرنے کی تاریخ سامنے آ گئی

    اکتوبر میں وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے عندیہ دیا تھا کہ حکومت جلد ہی اسٹریمنگ ویب سائٹ ‘نیٹ فلیکس’ کے ٹکر کی ویب سائٹ متعارف کرائے گی۔

    باغی ٹی وی :فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے اسٹریمنگ ویب سائٹ کا کافی کام مکمل کرلیا ہے اور وزارت نے پاکستان الیکٹرنک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے مواد آن ایئر کرنے سے متعلق ہدایات تیار کرنے کو کہا ہے۔

    حکومت کی جانب سے اسٹریمنگ ویب سائٹ شروع کیے جانے کے اعلان کے بعد شوبز شخصیات سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی حکومتی اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔

    حکومت کی جانب سے تو اسٹریمنگ ویب سائٹ متعارف کرائے جانے سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی لیکن ایک نجی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم نے جلد اسٹریمنگ ویب سائٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

    خبریں تھیں کہ ای میکس میڈیا نامی ڈیجیٹل پلیٹ فام جلد ہی نیٹ فلیکس کی طرح کی ویب سائٹ اردو فلکس متعارف کروائے گا۔

    پرو پاکستانی ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں ایک اور ویب سائٹ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ای میکس میڈیا گروپ کے بانی فرحان گوہر نے تصدیق کی کہ ان کا گروپ جلد ہی اسٹریمنگ ویب سائٹ متعارف کرائے گا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ڈیجیٹل میڈیا گروپ، جو پہلے ہی اسٹریمنگ ویب سائٹ چلا رہا ہے، وہ نیٹ فلیکس طرز کی ویب سائٹ ‘اردو فلکس’ متعارف کرائے گا، جس میں خالصتا اردو ڈرامے، فلمیں، دستاویزی فلمیں، کامیڈی اور ریئلٹی شوز سمیت ترکی کے اردو زبان میں ترجمہ کیے گئے ڈرامے نشر کیے جائیں گے۔

    پاکستان میں نیٹ فلکس کی طرز پر پہلی تیز ترین او ٹی ٹی سروس شروع کرنے کے اعلان پر شوبز ستارے فواد چوہدری کے متعرف

    حال ہی میں اردو فلکس کی جانب سے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ای میکس میڈیا آئندہ سال جنوری میں اردو سروس لانچ کردے گا۔

    پوسٹ میں کہا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کردہ ڈیجیٹل نیٹ ورک ای میکس میڈیا نے پاکستان میں پہلے اردو او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے اعلان کے ساتھ آن-ڈیمانڈ اسٹریمنگ سیگمنٹ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔

    مزید کہا گیا کہ اس او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر دنیا بھر میں اردو زبان میں اصل اور خصوصی مواد پیش کیا جائے گا۔

    پوسٹ میں کہا گیا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم جنوری 2021 کے وسط میں باضابطہ طور پر لانچ ہونے کا امکان ہے۔

    علاوہ ازیں اردو فلکس کی ویب سائٹ بھی متعارف کرادی گئی ہے جس کے مطابق اردو فلکس کے صارفین کو اوریجنل اردو سیریز، فلمز، ویب سیریز، ڈراما سیریز اور اردو میں ڈَب کیے گیے ترک ڈراموں تک رسائی حاصل ہوگی۔

    ای میکس میڈیا کے مذکورہ اعلان اور اردو فلکس آفیشل کے انسٹاگرام کا اکاؤنٹ کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے اردو او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر فراہم کی جانے والی اوریجنل ویب سیریز کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ایسی ویب سائٹس پر صارف اس وقت ہی کوئی ڈراما یا فلم دیکھ سکتا ہے جب وہ اس ویب سائٹ کی پیسوں کے عوض سبسکرپشن کرواتا ہے صارف کو ماہانہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے، جس کے عوض مذکورہ ویب سائٹ صارف کو فلموں، ڈراموں اور شوز دیکھنے تک رسائی دیتی ہے۔

    عام طور پر ایسی ویب سائٹس کی ماہانہ فیس پاکستانی ایک ہزار روپے سے 1500 تک ہوتی ہے، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں ٹی وی اور سینما کے مقابلے اسٹریمنگ ویب سائٹس کے رجحان میں اضافے کے باعث ان کی فیس میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ‘اردو فلکس’ کی ماہانہ فیس کتنی ہوگی، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کی ماہانہ فیس 750 سے لے کر 1200 تک ہوسکتی ہے۔

    نجی ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم اردو فلکس متعارف کرانے کو تیار

  • معروف بھارتی گلوکار بھی کوک اسٹوڈیو 2020 کے گانے گل سن کے معترف

    معروف بھارتی گلوکار بھی کوک اسٹوڈیو 2020 کے گانے گل سن کے معترف

    کوک اسٹوڈیو 2020 کی پہلی قسط کی کامیابی کے بعد اب اس کی دوسری قسط بھی جاری کردی گئی ہے جس کو شائقین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار سے بھی خوب سراہا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی :کوک اسٹوڈیو کی پہلی قسط کو رواں برس گزشتہ ہفتے 3 دسمبر کو ریلیز ہوئی تھی، کوک اسٹوڈیو کے نئے سیزن کا آغاز خواتین کے ترانے نہ ٹٹیا وے سے کیا گیا تھا جس میں میشا شفیع کی گلوکاری کو سب سے زیادہ سراہا گیا تھا۔

    کوک اسٹوڈیو کی پہلی قسط میں 3 گانے جاری کیے گئے تھے جن میں مہدی ملوف کا دل کھڑکی اور فریحہ پرویز اور علی نور کا جاگ رہی پیش کیا گیا تھا۔

    جبکہ گزشتہ دنوں جاری ہونے والی کوک اسٹوڈیو کی دوسری قسط میں بھی 3 گانے ریلیز کیے گئے اور ان تینوں کو صارفین کی جانب سے بہت زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔

    دوسری قسط میں استاد راحت فتح علی اور زارا مدنی کا ‘دل تڑپے’ جاری کیا گیا جس کے حوالے سے کہا جارہا ہے اس میں ترانے کو ایک نیا ٹوئسٹ دیا گیا ہے گانے کے آخری ایک منٹ میں ان کے مخصوص کلاسیکی انداز کو بہت پسند کیا جارہا ہےجبکہ صارفین کی جانب سے اس گانے کو راحت فتح علی خان کا ایک اور ماسٹر ہیس قرار دیا جا رہا ہے-

    اس گانے کے بول راحت فتح علی خان نے لکھے ہیں جب کہ موسیقی راحت اور زارا مدنی دونوں نے خود ترتیب دی ہے۔

    دوسری قسط میں گلوکارہ وجیہہ نقوی کا گانا ‘یقین’ پیش کیا گیا جس کے بول گلوکارہ نے خود لکھے ہیں۔1960 کی دہائی کے راک میوزک کے ماڈرن انداز پر مبنی اس گانے میں دراصل وجیہہ نقوی نے خود پر یقین کے سفر کو بیان ہےیقین گانے کو بھی مداحوں کی جانب سے بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے-

    کوک اسٹوڈیو 2020 کی دوسری قسط نے بھی دھوم مچا دی کون کون سے گلوکاروں نے جگایا اپنی…

    کوک اسٹوڈیو سیزن 2020 کی دوسری قسط میں گلوکارہ میشا شفیع اور علی پرویز مہدی کا گانا ‘گل سن’ بھی پیش کیا گیا گانے کے بول علی پرویز مہدی اور احسن پرویز مہدی نے لکھے ہیں جبکہ میشا شفیع کے گائے گئے بول عاصم رضا اور منظور جھلا نے دوہرا لکھا ہےگل سن کو بھی بہت زیادہ پسند کیا گیا ہے نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار بھی کافی پسند کیا جا رہا ہے اور بھارت کے معروف گلوکار دلیرمہندی نے اسے سراہا۔

    حال ہی میں گلوکار دلیر مہندی کی جانب سے گلوکار علی پرویز مہندی اور میشا شفیع کے گانے ‘گل سن’ کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔

    دلیر مہندی کی یہ ویڈیو علی پرویز مہدی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی جس میں بھارتی گلوکار نے ان کے گانے کی تعریف کی ہے۔

    انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ آج مجھے بہت خوشی ہوئی میں نے پرویز مہدی صاحب کے بڑے صاحبزادے علی پرویز مہدی کا گانا سنا انہوں نے کوک اسٹوڈیو میں بہترین ٹریک گایا ہے۔

    دلیر مہدی نے مزید کہا کہ میشا شفیع نے بھی گل سن گل سن ڈھولا بہت کمال گایا ہے-

    بھارتی گلوکار کا کہنا تھا کہ مجھے بہت سالوں سے انتظار تھا کہ کوئی ایسا دن آئے کہ علی پرویز مہدی کا گانا آئے لوگوں تک ان کی آواز پہنچے اور وہ ہٹ ہو مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے، مجھ سمیت استاد پرویز مہدی کے جتنے بھی چاہنے والے لوگ ہیں ہم سب کو بہت خوشی ہوئی ہے۔

    گزشتہ روز کوک اسٹوڈیو 2020 کا آغاز خوبصورت گیت ‘نہ ٹُٹیا وے’ سے ہوگیا

    دلیر مہندی نے کہا کہ کاش پرویز صاحب ہوتے ہیں علی پرویز کے دادا جی ہوتے تو انہیں بہت خوشی ہوتی۔

    انہوں نے مداحوں سے کہا کہ وہ بھی کوک اسٹوڈیو میں علی پرویز مہدی کا گانا ‘گل سن’ سنیں اور اسے شئیر کریں-

    گلوکار علی پرویز مہدی نے دلیر مہندی کا یہ ویڈیو پیغام شیئر کرتے ہوئے ان کا گانا پسند کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ دلیر مہندی پا جی! یہ ایک اعزاز ہے آپ ہماری فیملی جیسے ہیں آپ کی محبت اور تعاون کو جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔

    دوسری جانب گلوکارہ میشا شفیع نے بھی کوک اسٹوڈیو کے گانے کو اتنی پذیرائی ملنے پر دلیر مہندی کا شکریہ ادا کیا کہا کہ ‘گل سن ‘ کے لیے لیجنڈری دلیر مہندی سے داد حاصل کرنا ایک اعزاز ہے، انہوں نے علی پرویز مہدی کو مبارکباد بھی دی۔

  • سجاد علی کا 1986ء میں ریلیز ہونے والا گیت صارفین کو پھر سے بھا گیا

    سجاد علی کا 1986ء میں ریلیز ہونے والا گیت صارفین کو پھر سے بھا گیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے مقبول ترین گلوکار سجاد علی کا مشہور زمانہ گیت ’ دھواں ‘ 35 سال بعد صارفین کو پھر سے بھا گیا۔

    باغی ٹی وی : گلوکار سجاد علی کا 1986ء میں ریلیز ہونے والا گیت ’دھواں‘ اپنے دور کا مقبول ترین گیت سمجھا جاتا تھا اور اُن کے کیریئر کے بہترین گیتوں میں شمار کیا جاتا تھا لیکن اب نئے انداز کے ساتھ پیش کیے جانے والے اس گیت نے پھر سے مداحوں کے دل جیت لئے ہیں-

    ایک برانڈ کی جانب سے ماضی کے مشہور گیتوں کو ری مکس کرکے پیش کیا جا رہا ہے اس بار ماضی کا گیت ’دھواں‘ بھی نئے ورژن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس میں اس بار بھی سجاد علی نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔

    اس حوالے سے انہوں نے ایک ویب سائٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ میں ماضی کا وہ گیت پھر گا رہا ہوں جو میں نے 35 سال قبل گایا تھا لیکن اس بار یہ گیت موجودہ دور کے میوزک کے ساتھ پیش کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس گیت کو یوٹیوب پر 3 روز قبل ریلیز کیا گیا ہے جس اب تک 80 ہزار سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔

  • فرحان سعید اور عروہ حسین کی کورونا وبا کے دوران پی ڈی ایم کی جانب سے جلسوں پر تنقید

    فرحان سعید اور عروہ حسین کی کورونا وبا کے دوران پی ڈی ایم کی جانب سے جلسوں پر تنقید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور گلوکار فرحان سعید اور اداکارہ عروہ حسین نے سوشل میڈیا پر کورونا وبا کے دوران پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کی جانب سے ملک بھر میں منعقد کیے جانے والے جلسوں پر تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر گزشتہ کئی ماہ سینما گھروں، شادی ہالزاور مجمع اکھٹا کرنے سمیت تقریباً تمام سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی ہے –

    اس صورتحال میں اپوزیشن کی جانب سے پاکستان میں جلسے منعقد کئے جانے پر فرحان سعید اور عروہ حسین نے تنقید کی ہے پی ڈی ایم کی جانب سے 13 دسمبر کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے جلسے پر گلوکار و اداکار فرحان سعید کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مطابق اگر جلسے بے ضرر ہیں اور ان سے وائرس نہیں پھیلتا تو کنسرٹس، شادی ہالز اور سینما گھروں پر پابندی کیوں؟


    فرحان سعید نے اپنی ٹوئٹ میں نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن وسیم بادامی کو اپنی ٹوئٹ میں مینشن کرتے ہوئے کہا براہ کرم حکام سے پوچھیں کیونکہ اس پابندی کی وجہ سے بہت سارے لوگ مشکل میں ہیں۔

    ساتھ ہی اداکار و گلوکار نے سید زلفی بخاری اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو بھی ٹیگ کیا-

    دوسری جانب اداکارہ عروہ حسین نے بھی اپوزیشن کی جانب سے منعقد کیے جانے والے جلسوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا عالمی وبا کو صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔


    اداکارہ نے کہا کہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے یہ صرف طاقت اور پیسے کے بارے میں سوچتے ہیں جب کہ اس عالمی بحران میں انسانیت مزید خطرے میں ہے۔

    مینار پاکستان پی ڈی ایم جلسے کے باعث ہونے والے نقصان پر جرمانے کا نوٹس

    مینار پاکستان کے جلسے کے بعد پی ڈی ایم کیا کرنے جارہی؟قیادت نے پلان بتا دیا

    مینار پاکستان جلسہ میں ناکامی،مریم نواز پھٹ پڑیں،لیگی رہنما "مکھن”…

    مینار پاکستان جلسہ ٰمیں ناکامی کے بعد مریم نے سب کو بلا لیا، اجلاس جاری

  • شاہ رخ کی فلم ’کل ہو نہ ہو‘  کی چائلڈ اسٹار ٹرینڈنگ پر کیوں؟

    شاہ رخ کی فلم ’کل ہو نہ ہو‘ کی چائلڈ اسٹار ٹرینڈنگ پر کیوں؟

    بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کی مقبول ترین فلم ’کل ہو نہ ہو‘ میں چھوٹی بچی جیا کپور کا کردار ادا کرنے والی چائلڈ اسٹار اب بڑی ہوگئی ہے جس کی تصویروں کے سوشل میڈیا پر خوب چرچے ہو رہے ہیں یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ پر ہیں-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سال 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کل ہو نہ ہو‘ میں چھوٹی بچی جیا کپور کا کردار نبھانے والی چائلد فلم اسٹار جھنک شکلا نے سوشل میڈیا پر اپنی نئی تصویریں شیئر کی ہیں۔

    جھنک شکلا کی نئی تصویریں دیکھنے کے بعد اُن کے مداح دنگ رہ گئے ہیں کیونکہ جھنک بہت چھوٹی تھیں جب وہ فلم ’کل ہو نہ ہو‘ میں شاہ رخ خان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی تھیں جبکہ اب وہ 20 سال کی ہوگئی ہیں۔


    رپورٹس کے مطابق جھنک شکلا نے شاہ رخ خان کی سالگرہ کے موقع پر اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فلم ’کل ہو نہ ہو‘ کی ایک یادگار تصویر شیئر کی تھی

    تصویر پوسٹ کرتے ہوئے اُنہوں نے لکھا کہ ایک شاندار انسان کو سالگرہ مبارک ہو۔

    واضح رہے کہ فلم ’کل ہو نہ ہو‘ نے دو نیشنل ایورڈز بھی جیتے تھے جن میں ایک گلوکار سونو نگم کو ٹائٹل گانے ’کل ہو نہ ہو‘ پر دیا گیا جبکہ دوسرا ایوارڈ موسیقار شنکر احسان کو دیا گیا نومبر 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم کی کہانی کرن جوہر نے لکھی تھی –

    سارہ علی خان کی حالیہ بغیر میک اپ دلکش تصاویر نے مداحوں کے دل جیت لئے

    اہلیہ کو ایوراڈ ملنے پر شاہ رخ خان کا مزاحیہ تبصرہ

  • بھارتی اداکارہ سشمیتا سین کی بیٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک

    بھارتی اداکارہ سشمیتا سین کی بیٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک

    بھارتی فلم انڈسٹری کی ماضی کی معروف اداکارہ اور مس ورلڈ سشمیتا سین کی بیٹی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر سشمیتا سین نے اپنی بیٹی رینی سین کے ہیک شدہ اکاؤنٹ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے مداحوں کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ برائے مہربانی نوٹ فرمالیں میری بیٹی رینی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ کسی بے وقوف نے ہیک کرلیا ہے جسے ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ رینی نے نیا اکاؤنٹ بنالیا ہے اور بہت خوش ہے۔

    اداکارہ کی اس پوسٹ پر صارفین مشورہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی پولیس کو کمپلین کریں جبکہ انسٹاگرام کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں-

    دوسری جانب ہیکرز کی جانب سے رینی سین کے اکاؤنٹ کو پرائیویٹ کردیا گیا ہے اور فالوورز کو بھی ان فالو کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ 20 سالہ رینی سین بھی اپنی والدہ کی طرح فلم انڈسٹری میں پہچان بنانا چاہتی ہیں اور جلد ہی وہ شارٹ فلم ‘سُٹا بازی میں نظر آئیں گی۔

    ممبئی ائیر پورٹ پرجوہی چاولہ کی 15 سال پرانی بالی کھو گئی

  • اہلیہ کو ایوراڈ ملنے پر شاہ رخ خان کا مزاحیہ تبصرہ

    اہلیہ کو ایوراڈ ملنے پر شاہ رخ خان کا مزاحیہ تبصرہ

    بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان نے اہلیہ گوری خان کو 100 معروف شخصیات کی فہرست میں شامل ہونے اور ایوارڈ سے نوازے جانے پر پُرمزاح تبصرہ کیا ہے جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ان کی اہلیہ گوری خان کو ایک میگزین کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’آرکیٹیکچرل ڈائجیسٹ‘ (اے ڈی) کی جانب سے گوری خان کو 100 معروف شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا اور انہیں ٹرافی بھی دی گئی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گوری خان نے اس حوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں اے ڈی 100 کا حصہ بننے اور ٹرافی حاصل کرنے پر کافی پرجوش ہوں۔


    اس پوسٹ پر شاہ رخ خان نے اپنا جواب کچھ یوں دیا کہ پڑھنے والے حیران ہوگئے شاہ رخ خان نے لکھا کہ چلو گھر میں کسی کو تو ایوارڈز مل رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ شاہ رخ خان خود طویل عرصے سے سپر ہٹ فلم دینے میں ناکام رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ایوارڈز بھی نہیں مل رہے۔

    ممبئی ائیر پورٹ پرجوہی چاولہ کی 15 سال پرانی بالی کھو گئی

    شاہ رخ خان سدھارت آنند کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’پٹھان‘ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ ایجنٹ کا کردار ادا کریں گے فلم میں ان کے مدمقابل ڈپیکا پڈوکون مرکزی کردار نبھائیں گی اور اس کے علاوہ جان ابراہم بھی اہم کردار میں دکھائی دیں گے۔

    دوسری جانب یہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ بالی وڈ کے سلطان سلمان خان بھی شاہ رخ خان کی فلم ’پٹھان‘ میں انٹری دیں گے اور وہ اپنی کامیاب ترین فلم ’ٹائیگر زندہ ہے‘ کے کردار ٹائیگر میں دکھائی دیں گے جب کہ فلم میں ان کا کردار مختصر نہیں ہوگا بلکہ فلم میں ان کی انٹری 20 منٹ سے زیادہ ہوگی جب کہ سلمان خان اورشاہ رخ خان، عامر خان کی نئی فلم لال سنگھ چڈھا میں بھی ایک ساتھ دکھائی دیں گے۔

    سلمان خان شاہ رخ خان کی نئی آنے والی فلم میں جلوہ گر ہوں گے

  • وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے  سفرنامہ نگار: فلک زاہد   (پہلی قسط)

    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے سفرنامہ نگار: فلک زاہد (پہلی قسط)

    لکھاریوں کی معروف تنظیم "اپوا” نے رواں سال ستمبر کے مہینے میں کمراٹ اور جہاز بانڈہ کا دورہ کیا تھا جس میں مجھ سمیت دس لکھاری حضرات شامل تھے.اس یادگار سفر کی روداد کو میں نے سفرنامے کی صورت میں ڈھال دیا ہے،

    مارگلہ نیوز: وادی کمراٹ میں سیاحت
    وادی کمراٹ جہاں قدرت گلے ملتی ہے
    سفرنامہ نگار: فلک زاہد
    (پہلی قسط)

    اس بار میرا سفر "وادی کمراٹ” کی جانب تھا جس کے بارے میں سبھی کا کہنا تھا کہ وہ ایک دلکش و دلنشین وادی ہے جس کا حسن انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے جس کی خوبصورتی میں انسان ایسا غوطہ لگاتا ہے کہ دوبارہ اس میں سے ابھر نہیں پاتا جسکے گھنے جنگلوں میں ایک سرسراہٹ سی ہے جسکی برف پوش پہاڑیوں میں لاتعداد کہانیاں سی ہیں جسکی جھیلوں میں صدیوں کے راز پوشیدہ ہیں جسکے پہاڑوں میں عجب بادشاہوں سا وقار ہے اور جسکی ہواؤں میں الگ ہی بدمستی ہے-

    ایسی تعریفیں سن سن کر میں نے نجانے کتنی ہی بار اپنے خوابوں میں خیالوں میں تصورات میں وادی کی سیر کی تھی اور شدت سے میرا دل اس دن کا منتظر تھا جس دن میرے قدم اس جنت نظیر وادی میں رنجا ہونے تھے.

    میں ایک بہادر, نڈر سخت جاں اور مہم جو لڑکی واقع ہوئی ہوں مجھے نئ نئ جگہیں دیکھنے اور دنیا گھومنے کا بہت شوق ہے..چاہے کتنے ہی گھنٹوں پر سفر محیط کیوں نہ ہو لمبے سے لمبا سفر مجھے نہیں تھکاتا راہ میں آئی کوئی مشکل میرے حوصلوں کو پست نہیں ہونے دیتی کیونکہ میں راجپوتوں کی جواں سالہ دوشیزہ ہوں جس کے ارادے مستحکم اور مضبوط ہیں جسکے قدم لڑکھڑاتے اور ڈگمگاتے نہیں ہیں جسکا دل ذرا سی مشکل سے گھبراتا نہیں ہے جس کا سر پہاڑوں کی بلندیوں کو دیکھ کر چکراتا نہیں ہے اور نہ ہی جسکی ٹانگیں پہاڑوں کے نشیب کو دیکھ کر کانپتی ہیں.

    میں تو وہ ہوں جو بلا خوف و خطر گبن جبہ کے دریا اور اس کی آبشار میں موجود بڑے بڑے دیوہیکل پتھروں پر یکے بعد دیگرے کسی شیرنی کی مانند چھلانگ لگاتی چلی جاتی یے.

    میں تو وہ ہوں جو بہرین کی پہاڑیوں کی بلندیوں سے بغیر کسی سپیڈ بریکر کے نشیب کی جانب بھاگتی چلی جاتی ہے.
    میں تو وہ ہوں جو ٹھنڈیانی کی برف پوش پہاڑیوں پر اکیلے دور بہت دور خود کلامی کرتے ہوئے ناک کی سیدھ چلتی چلی جاتی ہے
    میں تو وہ ہوں جو نیلا واہن کی آبشار دیکھنے کے جنون میں کئ فٹ اونچا پہاڑ چڑھ بھی لیتی ہے اور اتر بھی لیتی یے
    میں تو وہ ہوں جس نے مالم جبہ کی سرد رات میں اکیلے سڑک پر نکل کر کسی جن بھوت کے ملنے کی خواہش کی ہے.
    میں تو وہ ہوں جس نے کلام کی مال روڈ پر رات دیر تک مٹر گشتی کی ہے
    میں تو وہ ہوں جس نے سردیوں کی راتوں میں ایبٹ آباد کی سڑکوں پر لانگ ڈرائونگ کی ہے-

    جی ہاں یہ میں ہی ہوں جس نے خان پور ڈیم کے پانیوں سے دل کی باتیں کی ہیں یہ میں ہی ہوں جس نے ٹیکسلا کے کھنڈرات میں سرگوشیاں سی سنی ہیں اور یہ بھی میں ہی ہوں جس نے مری گلیات اور نتھیا گلی کے حسن کو اپنی آنکھوں میں جذب کر لیا ہے.

    وہ بھی میں ہی تھی جس نے ناران کاغان کی جھیل سیف الملوک سے رازونیاز کیا ہے جس نے دریا سوات کی گہرائیوں میں اپنے برہنہ پیروں کو اتارا ہے..میرا رشتہ ان دریاؤں اور پہاڑوں سے بہت گہرا اور پرانا ہے.یوں لگتا ہے میرا ان پہاڑوں میں نام لکھا جاچکا ہے یہ پہاڑ اور دریا بھی اب بن اداس ہوجاتے ہیں جبھی چند ماہ بعد مجھے آوازیں دینے لگتے ہیں اور جنکی آواز ہواؤں کے دوش پر لہراتیں بل کھاتیں میرے دل تک پہنچ جاتی ہیں.

    اور اب میری اگلی منزل "وادی کمراٹ” تھی.
    کمراٹ کے پہاڑ مجھے آوازیں دینے لگے تھے وہاں کی یخ ہوائیں مجھ تک پیغام محبت ارسال کرنے لگی تھیں. کمراٹ کی یہ آوازیں میں نے دل کی آواز سے سنی تھیں اور انکی آوازوں پر لبیک کہا تھا.

    ہمیشہ کی طرح میری والدہ ماجدہ کی اس بار بھی یہی کوشش تھی کہ مجھے ٹور پر جانے نہ دیا جائے اور کسی بہانے روک لیا جائے یہ جاننے کے باوجود کہ بات جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی ہو تو یہ لڑکی کہاں رکنے والی ہے.

    مگر اس بار کچھ الگ تھا کچھ ایسا جو اس سے قبل نہ کبھی ہوا تھا اس بار ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کو مدِنظر رکھتے ہوئے والد صاحب کا دل بھی گھبرا رہا تھا جنہوں نے کبھی مجھے "نہ” نہیں کی تھی.

    "نہ” تو خیر اس بار بھی نہیں کی تھی تاہم اتنا کہہ کر مجھے بھی پریشان کر دیا تھا کہ "میرا دل نہیں مان رہا حالات ٹھیک نہیں باقی آپ خود دیکھ لو جیسے دل چاہے-”

    پہلی بار والد صاحب کے لبوں سے ان کلمات نے سوچنے پر مجبور کر دیا اور میں جو جانے کا ارادہ ملتوی کرنے ہی والی تھی کہ معاً خبر ملی کہ ان علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری ہونے کی صورت میں لکھاریوں کی تنظیم "اپوا” نے ٹور کینسل کر دیا ہے..پوری ٹیم میں مایوسی سی پھیل گئ سب کو اب یہی امید تھی کہ یہ ٹور اب نہ جا سکے گا اگلے سال ہی روانہ ہوگا کیونکہ کمراٹ کے پہاڑ شائد فی الحال ہمیں استقبال کرنے کو راضی نہیں تھے مگر چند دن بعد وہاں سے حالات کے بہتر ہونے کی خبریں موصول ہونا شروع ہوگئیں اور "اپوا” کے بانی ہمارے لیڈر ایم ایم علی بھائی نے اعلان کر دیا کہ ٹور اگلے ہفتے روانہ ہوگا سابقہ شیڈول کے مطابق.

    ایک بار پھر سے مرجھائے چہروں اور مردہ دلوں میں نئ روح پھونک دی گئ تھی اور سب ایک بار پھر ایک نئے جوش اور ولولے سے جانے کی بھرپور تیاری کرنے لگے تھے.

    میں جو کبھی کسی ٹور سے بھاگی نہ تھی ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی اس بار دل کو کچھ گھبراہٹ سی تھی اسکی وجہ یقیناً یہی تھی کہ اس بار میری بڑی بہنا میرا جگر گوشہ میرے ساتھ کچھ مصروفیت کی بنا پر جا نہیں پا رہا تھا…میرے ہر سفر میں میرا ہم راہی میرا ساتھی میرا رفیق میرا دوست میری بہن فضہ زاہد رہی ہے جو اس بار ساتھ نہ تھی تو اداسی ہر طرف سے حملہ آور تھی اور دوسری طرف میری عزیز از جان سہیلیاں مہوش احسن اور قرۃ العین خالد کا ساتھ بھی میسر نہ ہونے کے باعث تنہائی کسی ناگ کی طرح ڈس رہی تھی.کیونکہ ہم تکون تقریباً ہر سفر میں ایک ساتھ رہے ہیں اور اس بار ان میں سے کسی کا نہ جانا بہت ہی دل سوز تھا.

    میں نے اپنے ان خدشات کا اظہار علی بھائی سے کیا تو انکے ساتھ ساتھ آپی حفصہ خالد اور آپی شانیہ چوہدری کے بھرپور حوصلہ دینے پر میں نے اپنے دل کو بہ مشکل قابو کیا اور جانے کے لیے نیم رضا مندی ظاہر کر دی تھی. تاہم دل میں برابر ایک عجیب سے گھبراہٹ طاری رہی.

    چونکہ اس بار میرا سفر کمراٹ جیسی دیو مالائی وادی کی جانب تھا لہذا اس بار میری تیاری بھی بھرپور تھی میں نے اپنے لیے نئے رنگ برنگے لباس خریدے تھے تاکہ وہاں کے سبزہ زاروں پر میں تتلیوں کی مانند اچھل کود کرتی ہوئی کمیرے میں اتاری تصایر میں کسی شہزادی سے کم نہ لگوں. اور یہ تیاری میری دوسری خواتین کی مانند ہی کئ روز چلتی رہی تھی.

    بلاآخر نو ستمبر جمعرات کی رات کو ہم دس ممبرز پر مشتمل لکھاریوں کی ٹیم جن میں پانچ مرد اور پانچ ہی خواتین تھیں نے اپنی اپنی رہائش گاہ سے احمد ٹریولرز لاہور کی جانب پیش قدمی کی.کمراٹ پہلے ہم سب اپنی گاڑی پر جانا چاہتے تھے تاکہ جہاں دل کرے گاڑی روک کر تازہ دم ہو لیا جائے مگر یوں اخراجات زیادہ آرہے تھے چنانچہ طے یہی پایا کہ لاہور سے دھیر تک لوکل جایا جائے جو مناسب اور سستا بھی تھا.

    ہم سب احمد ٹریولرز کس طرح پہنچے یہ ایک الگ کہانی ہے تاہم میرے ساتھ صحافی توقیر کھرل اور شاعرہ شانیہ چوہدری تھیں چونکہ رات کا وقت تھا اور ہماری گاڑی کہاں سے روانہ ہونی تھی اس بارے ہم میں سے کسی کو صحیح طور سے معلوم نہ تھا اس لیے ہم تینوں نے ساتھ جانے کا ارادہ کیا تھا کیونکہ ہم تینوں کا روٹ ایک ہی تھا.ہم شانیہ آپی کے کزن کی گاڑی پر جسکو وہ ڈرائیو کر رہا تھا گوگل میپ پر اس لوکیشن کو فالو کرتے جاتے تھے جو علی بھائی نے شئیر کر رکھی تھی اللہ اللہ کر کے جب ہم لاہور کی طویل اور کوفت میں مبتلا کر دینے والی ٹریفک کو روند کر اپنی منزل پر پہنچے تو وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہماری گاڑی جو کہ آٹھ بجے کی تھی جاچکی ہے اور ہم سب ساڑھے آٹھ بجے پہنچ پائے تھے اور اب اگلی گاڑی رات بارہ بجے ہی روانہ ہوگی.

    یہ سن کر ہم سب کے دل ڈوبنے لگے تھے بعداذاں معلوم پڑا کہ یہ محض علی بھائی کا ہم سے ایک مذاق تھا تاکہ ہم سب وقت پر پہنچ جائیں کیونکہ گاڑی نو بجے کی تھی جو روانہ ہونے کے لیے تیار کھڑی تھی.اس خبر سے سب کی سانس میں سانس آئی تھی اور سب یکدم سے ہلکے پھلکے ہوگئے تھے.
    چند لمحوں میں سارا سامان بس پر لاد دیا گیا تھا اور ہماری گاڑی ٹھیک رات کے نو بجے لاہور سے دھیر کی جانب عازمِ سفر ہوچکی تھی.
    یہاں پر اپنی ٹیم کا تعارف کروا دینا ضروری سمجھتی ہوں.

    صحافی توقیر کھرل پہلی بار اپوا ٹیم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جو آن لائن وڈیو گرافک ڈیزائنر عبداللہ ملک کے ساتھ براجمان تھے.عبداللہ بھائی اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ کلر کہار, نیلا واہن اور کھیوڑہ مائنز کا سفر کر چکے تھے.

    چیف آرگنائزر آپی ثنا آغا خان بھی اس بار پہلی مرتبہ ہمارے ساتھ سفر میں شریک تھیں جو بہت ہی خوش اخلاق اور بہت زیادہ محبت اور خیال رکھنے والی انسان ہیں ان کو جاننے سے قبل انکے متعلق جو میرے خیالات تھے انکا ذکر آگے چل کر ہوگا.

    سینیئر نائب صدر آپی فاطمہ شیروانی نہایت نرم اور شفیق طبیعت کی مالک انسان جن کے بغیر ہمارا کوئی سفر کبھی بھی مکمل نہیں ہوسکتا.آپ کی ایک کتاب "تیرے قرب کی خوشبو” بھی شائع ہوچکی ہے..یہ دونوں خواتین ایک ساتھ براجمان تھیں.

    میرے ساتھ کتاب "گردشِ ایام” کی شاعرہ آپی شانیہ چوہدری سیکرٹری کو آرڈنیشن اپوا دھیر تک براجمان تھیں جو بہت ہی محبت رکھنے والی فیاض دل انسان ہیں.

    صدر صاحب بھائی ایم ایم علی جو کہ کتاب "صدائے حق” کے مصنف ہیں, جوائنٹ سیکرٹری و مقرر حفصہ خالد کے ساتھ جبکہ سیکرٹری اطلاعات سفیان علی فاروقی نائب صدر محمد اسلم سیال کے ساتھ نششت رکھے ہوئے تھے.

    چونکہ رات کا سفر تھا لہذا پوری بس مدھم رشنیوں میں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی لیکن ہم دوست جب اکٹھے سفر پر ہوتے ہیں تو سفر میں مشکل سے ہی سو پاتے ہیں ہمارا زیادہ تر سفر ہنستے بولتے قہقے لگاتے جاگتے ہوئے گزرتا ہے ہم آنے والے لمحوں کے لیے اس قدر پرجوش ہوتے ہیں کہ نیند ہماری آنکھوں سے میلوں دور ہوتی ہے.خاص طور پر جب ہمارے ساتھ زندہ دل حفصہ خالد ہوں جن کے بنا ہمارا کوئی سفر نہیں ہوا کبھی اور محفلِ جاں علی بھائی ہوں تو سفر کا مزہ دو گناہ بڑھ جاتا ہے اس بار حس مزاح سے بھرپور سفیان علی بھائی بھی پہلی بار ہمارے ساتھ سفر میں موجود تھے جن کی شخصیت بظاہر تو سنجدیگی سے بھرپور ہے مگر وہ اس قدر پرمزاح اور اچھے انسان ہیں یہ سفر کےدوران معلوم ہوا.

    پاکستان کے مختلف علاقوں کی سیر میں نے زیادہ تر انہی لوگوں کے ساتھ کی ہے لہذا انکے ساتھ تجربہ ہمیشہ خوشکن اور خوشگوار رہا ہے مگر کمراٹ کا سفر سب سے زیادہ یادگار رہا ہے جسکی یادیں ہمیشہ میرے دل کے نہاں خانوں میں موجود رہیں گی.
    جو سفر میرا اس ٹیم کے بنا ہوا ہے وہ خاص خوش آئندہ کبھی نہیں رہا کیونکہ سفر میں ہم خیال دوست ساتھ ہوں تو سفر طویل اور بوجھ نہیں لگتا بلکہ سفر کا مزاہ دوبالا ہوجاتا ہے.

    ہمارا پہلا پڑاؤ تقریباً بیس بچیس منٹ کا رات ایک بجے پشاور موڑ پر ہوا جہاں تمام مسافر تازم دم ہونے کے لیے بس سے اتر آئے جن میں ہم بھی شامل تھے.اس موڑ پر موجود دکان سے اسلم بھائی نے ہم سب کو چائے پلائی جسکا ذائقہ آج بھی زبان پر محسوس ہوتا ہے اس سفر کی شروعات کی یہ پہلی چائے تھی جس کے بعد ایسی بہترین چائے دوبارہ پورا سفر پینا نصیب نہ ہوئی.
    (جاری ہے)

  • سارہ علی خان کی حالیہ بغیر میک اپ دلکش تصاویر نے مداحوں کے دل جیت لئے

    سارہ علی خان کی حالیہ بغیر میک اپ دلکش تصاویر نے مداحوں کے دل جیت لئے

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کی بیٹی کیدار ناتھ سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کرنے والی اداکارہ سارہ علی خان کی بغیر میک اپ کے تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جسے مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اسٹارز اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر زیادہ تر میک اپ میں اور پھر پور ایڈیٹنگ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں کیدارناتھ فلم سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والی سارہ علی خان نے اپنی پرفارمنس سے مداحوں کے دل جیتے ہیں اور اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہی ہیں-

    شوبز کے علاوہ بھی سارہ علی خان سوشل میڈیا پر سرگرم رہتی ہیں اور اپنی پوسٹ کے ذریعے بھی مداحوں کو خوش کرتی رہتی ہیں۔

    حال ہی میں انہوں نے فوٹوا اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں بغیر میک اپ کے دیکھا جاسکتا ہے اور وہ تصویر میں دلکش لگ رہی ہیں اوروہ پرسکون ماحول میں چائے پیتی دکھائی دے رہی ہیں۔

    اپنی پوسٹ کے کیپشن میں اداکارہ نے لکھا کہ ’ونٹر چائے، سیٹنگ اسکائی‘-آسمان تلے بیٹھ کر سردیوں کی چائے کا لطف –

    ان کی اس تصویر کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند بھی کیا جارہا ہے اور مداح اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں-