Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کیا ہم فرانس بائیکاٹ حقیقت میں کرنے کے متحمل ہو سکیں گے؟ تحریر:اسداللہ

    کیا ہم فرانس بائیکاٹ حقیقت میں کرنے کے متحمل ہو سکیں گے؟ تحریر:اسداللہ

    فرانس بائیکاٹ

    تحریر: اسداللہ
    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فیصل آباد

    آج کی دنیا کو گلوبل ویلیج بولا جاتا ہے یہاں بسنے والے تمام لوگ چاہتے نا چاہتے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے نتھی ہو چکے ہیں کہ اب جدا ہو ہی نہیں سکتے حتی کہ بسا اوقات ان کی آپسی دشمنیاں بھی انکو ایک دوسرے سے جدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔

    ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں بھارت سے سخت متنفر ہوں لیکن اگر دل پر ہاتھ رکھ کر اپنا محاسبہ کروں تو پتہ چلے گا کہ شاہ رخ میرا بچپن سے ہیرو رہ چکا ہے، سلمان خان جیسی باڈی میرا خواب ہے اور ہریتک روشن جیسا ڈانس مجھے بہت پسند ہے جبکہ ایشوریا، کاجول، پریتی زنٹا، مادھوری، پریانکا، دیپیکا وغیرہ وغیرہ جیسی ایک لمبی لسٹ الگ ہے جس پر ہم نوجوانی میں صدقے واری جاتے رہے ہیں۔

    ہم عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھارتی گانوں پر ڈانس کی ویڈیوز بھی دیکھ چکے ہیں اور چودہ اگست والے دن ہماری گاڑی جب سٹارٹ ہوتی ہے تو اس میں لگی یو۔ایس۔بی پر بالی ووڈ گانے خودبخود بجنے لگتے ہیں۔

    میں پاکستانی ہوکر بھی اس چنگل سے آزاد نہیں ہو سکا کیوں؟ کیونکہ یہ گلوبلائزیشن کا دجالی نظام ہمارے جسموں میں ناخن ماس کی طرح لازمی جزو بن چکا ہے۔ ہم اسرائیل کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن انکا سودی بینکنگ سسٹم ہماری معیشت کی نس نس میں رچا بسا ہے۔ فرانس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں علماء کرام نے سفارتی تعلقات کی معطلی کیلئے تحاریک بھی چلا رکھی ہیں لیکن کیا ہم ایسا بائیکاٹ حقیقت میں کرنے کے متحمل ہو سکیں گے؟

    ہمارے ملک میں بسکٹ، دوائیاں ، پرفیوم اور پیٹرول وغیرہ کا بائیکاٹ اگر کر بھی دیا جائے تو کیا ہم اپنی ہی پاک فضائیہ میں مستعمل میراج 3 اور میراج 5 جیسے ائیر سکواڈز کو ختم کر سکیں گے؟ کیا ہم آرمی کی ایوی ایشن میں موجود ایس اے 20 پوما اور ایلویٹی 3 جیسے ہیلی کاپٹرز کو گراؤنڈ کر سکتے ہیں؟

    صرف یہی نہیں ہمارے ائیر ڈیفنس، میزائیل ڈیفنس سسٹمز میں بھی فرانسیسی ٹیکنالوجی کا اچھا خاصا حصہ موجود ہے۔ جبکہ زندگی بچانے والی بہت سی ادویات فرانسیسی کمپنیوں کی بنائی ہوئی ہیں اور ایمرجنسی میں آئے مریض کو فرانس بائیکاٹ کی کہاں سوجھتی ہوگی؟

    یہ ہمارا ہی حال نہیں بلکہ ساری دنیا کا یہی حال ہے بھارت میں چائنا مخالف تحریک کا آغاز ہوا تو اسکی تشہیر کا سامان بھی چائینا سے تیار ہو کر آیا۔ ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک بھارتی نیتا چائنا مخالف بیان دے رہا تھا کہ ہم چائنا کی چیزوں کا استعمال بند کر رہے ہیں اسی لمحے سامنے کھڑے صحافی نے کہا "جناب آپکے جلسے میں آپ ہی کی انتظامیہ کی جانب سے آپ کے سامنے لگا یہ مائیک بھی چائنا کا ہے اور آپکے ہاتھ میں پکڑ رکھا یہ موبائل بھی چائنا کا ہے، پہلے تو اپنے ہاتھ سے اس موبائل کو زمین پر پٹخ دیجئے” اس پر وہ نیتا برہم ہو گئے-

    لیکن ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا کیونکہ چائنا وہ ملک ہے جو پوری دنیا کو انکی ضرورت کی چیزیں بنا کر ان کے منہ کے مطابق چماٹ مارتا ہے۔ پاکستان میں چودہ اگست کے باجے اور ٹوپیاں ہوں یا بھارتی یوم آزادی کا سامان سب چائنا کا ہے۔ ایسٹر، کرسمس ٹری، سانتا کلاز جیسی چیزیں ہوں یا ہماری عید میلاد النبی کی لائٹیں یا ہندو پوجا پاٹ کا سامان حتی کہ انکے جگمگ کرتے چھوٹے بڑے بھگوان تک، یہ سب کچھ چائنا سے بن کر آتا ہے۔ بے چارے ہندو چائنا کا بائیکاٹ کریں تو کہاں کہاں۔

    اس گلوبلائزیشن نے ہمیں مکڑی کے اس تانے بانے میں جکڑ دیا ہے جہاں سے مفر اب ناممکن نظر آتا ہے۔ اگر ہم ان ملکوں کا بائیکاٹ کرنا ہی چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنی نااہلیوں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا پہلے ہمیں اس قابل بننا ہوگا کہ ہماری دفاعی، معیشی، طبی ضروریات کی وجہ سے دوبارہ ان کے در پر نا جانا پڑے۔

    ہمارے علماء کرام کو اور ہمارے سائنسدانوں کو ایسے نظام لانے ہوں گے جن پر عمل کرکے ہم ان قوموں کے محتاج نظر نہ آئیں۔ بظاہر یہ کہنا تو آسان ہے لیکن ایسا کر گزرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ستر سال میں ہم نے آزادی لینے کے بعد بھی برطانوی قانون کو تو بدلا نہیں، اپنے لباس، معاشرتی نظام، تعلیمی نظام کو تو بدلا نہیں باقی سب کیا خاک بدلیں گے۔

    یہ نظام بدلنا اتنا آسان ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ ہم خالی نعرے لگانے والوں میں سے ہیں ہمیں اسلامی بینکنگ کے نام پر "سجی دکھا کر کھبی ماری جارہی ہے” ہمارے علماء کرام خود اپنا پیسہ انہی بینکوں میں رکھ کر سکون کی نیند سوتے ہیں۔ ہم میانہ روی کی تقاریر تو کرتے ہیں لیکن کسی مولوی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح یعفور نامی گدھے کا تذکرہ کرتے سنا ہے ؟ وہ باقی فضائل سنائیں گے لیکن ایسی تلخ باتیں حذف کر جائیں گے کیونکہ ان پر عمل کرکے گدھے کی سواری کرنا پڑےگی؟ جی ہاں وہ باقی سب بائیکاٹ تو کروایں گے لیکن یہودو نصاریٰ کی بنائی گاڑیوں اور ائیر کنڈیشنروں کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔

    یہ معاملہ صرف مولویوں کا نہیں ہے بلکہ ہماری ساری قوم کا ہے کہ ہم فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات تو کرتے ہیں لیکن اپنی کھانے پینے کی اشیاء کو ملاوٹ سے پاک کرنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے۔ ہم بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن اسکی ثقافت کو ہندوانہ لغو رسومات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم نے انگریز سے آزادی تو لے لی لیکن اس غلامی کا طوق گلے سے اتارنا نہیں چاہتے۔

    03004593871
    asad.bin.saeed86@gmail.com
    Twitter: @AsadBinSaeed4
    Instagram: Asad_Bin_Saeed

  • پاکستان میں کورونا کب تک رہے گا ؟ پاکستان کا مشکل وقت کب ختم ہو گا؟

    پاکستان میں کورونا کب تک رہے گا ؟ پاکستان کا مشکل وقت کب ختم ہو گا؟

    آسٹرولوجسٹ سعدیہ ارشد کا کہنا ہے کہ کرورونا کی صورتحال کو ابھی ہمیں اگلا پوراسا ل یعنی2021 تک سہنا ہوگا اگر میں کہوں گی کہ یہ بڑی جلدی ختم ہوگا تو یہ غلط ہے اور ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے اور مارچ اپریل تک تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : آسٹرولوجسٹ سعدیہ ارشد نے حال ہی میں سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان کے آفیشل یو ٹیوب چینل میں سئنیئر ایکر پرسن سے پاکستان کے حالات اور کورونا وبا کے بارے میں بات کی-

    مبشر لقمان نے آسٹروجر سے پوچھا کہ این ایل پی کیا ہوتا ہے؟

    جس پر سعدیہ ارشد نے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ یہ سب سے آسان طریقہ ہے سب سے اسموتھ طریقہ ہے خود کو ریلیکس کرنے کا کیونکہ انزائٹی اور پریشر میں فرق ہے انزائٹی کا مطلب ہے کسی چیز سے گھبراہٹ ہونا اور پریشان ہونا جب اس کا تسلسل رہتا ہے اسی فیز میں آپ بار بار آپ کئی کہنوں تک مسلسل رہتے ہی تو یہ ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پریشن ہو گیا چھوٹی سی بات پر لوگ کہتے ہیں ہمیں ڈپریشن ہو گیاوہ ڈپریشن نہیں پوتا وہ عارضی ایک انزائٹی ہوتی ہے ایک فکر جہاں تک این ایل پی کی بات ہے اس کا مطلچب ہے نورولینگویئسٹک پروگرامنگ –

    جبکہ اس کا آسان مطلب کہ مختلف سچویشن میں ذہن کو کیسے تربیت دینی ہے کیونکہ ہم نے سب سے پہلے اپنا خیال رکھنا ہے اور اپنے آپ کو ٹھیک رکھنا ہے ہم خود ٹھیک ہوں گے تو میں گھر والوں کا خیال رکھ سکیں گے خود ٹھیک نہیں ہوں گے تو دوسروں کو ڈانٹتے رہیں گے کسی بھی ایک اسٹیٹ آف مائنڈ میں ہر وقت رہنا یا غصے میں رہنا یا غم میں رہنا ہر وقت اپنے آپ میں رہنا یہ بھی غلط ہوتا ہے کہ میں مجبور ہوں اس میں این یل پی کیا کرتی ہے جیسے کہ ہماری پانچ حسیں ہوتی ہیں ہم سب کو پتہ ہے اب ان سب حسوں میں ہم سب میں اللہ کی طرف سے قابلیت ہوتی ہے کہ کوئی ایک یا دو حسیں سب سے زیادہ کام کرتی ہیں جیسے کہ کچھ لوگ سونگھنے کی حس سب سے زیادہ اچھی رکھتے ہیں کچھ کی دیکھنے کی حس سب سے زیادہ اچھی ہوتی ہے –

    سعدیہ ارشد نے کہا کہ چھٹی حس کا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ لوگوں چھٹی حس بہت اچھی ہے وہ سب کی بہت اچھی ہے لیکن اس کو پالش کرنے پر منحصر ہے –

    پانچ حسوں دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا،محسوس کرنا ہوتی ہیں مثال کے طور پر کہ آپ کسی سے بات کر رہے ہوتے ہیں تو آپ ان کے شکل کی طرف غور سے دیکھ رہے ہوتے ہیں دراصل ہو آپ کی بات آپ کے فیس ایکسپریشن کو دیکھ کر سمجھنا چاہ رہے ہوتے ہیں کچھ لوگ ادھر ادھر دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں اور آپ کی بات کو سن بھی رہے ہوتے ہیں اس کا مطلب انکی سننے کی حس ہے اچھی ہوتی ہے ذہن کی بھی آٹینشن ہوتی ہے بعض مرتبہ ایک حس اور بعض مرتبہ دو حسیں بہت سٹرونگ ہوتی ہیں –

    تو اس میں ٹرینر دیکھ لیتا ہے کہ اس کی پانچ حس میں سے کونسی حس بہت اسٹرونگ ہے پھر ہم لوگوں سے ان کی زندگی میں ہونے والے مسائل پوچھتے ہیں اور اس کو سمجھتے ہیں کہ اب اس کیا مسئلہ کیا ہے اس کو زندگی کے کس حصے میں کون سی چیز فٹ کی اور کہاں سے پرابلم آئی کئی دفعہ صرف اور صرف دماغ میں پرابلم ہوتی ہے اور جسمانی طور پر وہ چیز ایگزسٹ نہیں کر رہی ہوتی پھرہم اس کی اس اسٹیج سے کہ اس پرابلم سے اسے باہر نکالنا ہوتا ہے –

    اس کے لئے مختلف ایکسرسائزز ہوتی ہیں اور اس میں ہپنو تھراپی بھی آ گئی اس کے بھی دو طرح کے پروسیس ہوتے ہیں ایک ڈائریکٹ ہپنو سس اور ایک ان ڈائریکٹ ہپنوسس نمبر ایک میں آپ کو سٹانز کی پرام میں لے کر جاتے ہیں آپ کو سلایا جاتا ہے باہر نکالا جاتا ہے اور کببھی آپ کو کاؤنٹنگ گنوائی جاتی ہے اور بعض اوقات گھڑی دیکھ کر بھی سلایا جاتا ہے

    ان ڈئریکٹ میں آپ سامنے بیٹھے شخص کے آئی بالز کی روٹیشن سے اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے اور اور کیا کہنا چاہتا ہے-

    مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ پاکستان کے ہوروسکوپ میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے لئے پریشان کن ہوں؟

    اس پر سعدیہ ارشد نے کہا کہ اتنی سی بات کہوں گی کہ جو ہمارے لئے جنوری تک کا ٹائم ہے یہ تھوڑا سا مشکل ہو سکتا ہے ہر کسی صورت میں سیاسی ہو یا کورونا کا جیسے فیز چل رہا ہے اس حوالے سے ہو کوروناکا فیز ہے اس میں بھی کئیر فل رہیں اور اس کو ابھی ہم نے 2021 پورا سہنا ہے اگر میں کہوں گی کہ یہ بڑی جلدی ختم ہوگا تو یہ غلط ہے اور ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے اور مارچ اپریل تک تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے-

    اور باقی گورنمنٹ کے لئے بھی تھوڑا سا مشکل وقت ہو گا گورنمنٹ اور اپوزیشن سب کے لئے مشکل ہے تو یہاں پر اپنی احتیاط خود کرنے والی بات ہے-

    مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ گورنمنٹ کے لئے رہنا کتنا مشکل ہے؟

    گورنمنٹ کے لئے رہنا کچھ سیاروں کی ایسی پوزیشن کے جو کہ اپریل تک ہے وزیراعظم عمران خان لبرا کے حوالے سے ہے کہ ان کے کچھ ایسے فیصلے جو ماضی میں لئے گئے تھے ان کا رزلٹ واپس آئے گا سوچنے کا رزلٹ واپس آئے گاتو ان پر کنٹرول نہ کیا جائے تو اس پر خود کو ریلیکس نہ کیا جائے تو پھر غلطیاں ہوتی ہیں اور خود سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں-

    جبکہ اپریل میں جو ستاروں کی جو سچویشن تبدیل ہونی ہے وہ صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں پوری دنیا میں چینج ہو گی-

    سینئہر اینکر پرسن نے پوچھا کہ پاکستان کے حالات کب بہتر ہونا شروع ہوں گے لوگوں کو نوکریاں ملیں روزگار ہوں مہنگائی کم ہو؟

    اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ2021 نومبر تک ہمارے لئے ایک مشکل فیز ہے اور اس کو قبول کرنا پڑے گا-جبکہ ٹریولنگ کے لحاظ سے اسٹروجر نے بتایا کہ یہ صورتحال اب مسلسل ایسے ہی رہے گی-

  • سلمان خان کون سے کھانوں کو تر جیح دیتے ہیں

    سلمان خان کون سے کھانوں کو تر جیح دیتے ہیں

    بالی وڈ سپر اسٹار سلمان خان نے کہا ہے کہ انھیں اپنی والدہ کے ہاتھوں کے تیار کیے گئے کھانے بہت زیادہ پسند ہیں اور وہ ہمیشہ گھر کے پکے ہوئے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ جب شوٹنگ پر ہوتے ہیں تب بھی وہ گھر سے بنا ہوا کھانا ہی کھاتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارسلمان خان نے یہ بات اچھی صحت اور غم و فکر سے دور رہنے کے حوالے سے گُر بتانے والی اسکاٹش نژاد بھارتی خاتون دینی پانڈے کی نئی تصنیف ’دی سیکرٹ ٹو ٹرو ہیلتھ اینڈ ہیپی نیس ان 13ویز‘ ( اچھی صحت اور خوش رہنے کے 13 طریقے) کی تقریب رونمائی کے موقع پر بتائی۔

    سلمان خان اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے انہوں نے دینی پانڈے سے کتاب کے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے گھر کے تیار کھانوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنی والدہ کے ہاتھوں کے تیار کیے گئے کھانے بہت زیادہ پسند ہیں اور وہ ہمیشہ گھر کے پکے ہوئے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ جب شوٹنگ پر ہوتے ہیں تب بھی وہ گھر سے بنا ہوا کھانا ہی کھاتے ہیں۔

    میری زندگی کاسب سے بڑا ’ہچکی‘ لمحہ میرے والدین کی موت ہے شاہ رخ خان

    بالی وڈ سپر اسٹار سلمان خان نے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران اپنی والدہ کے طریقہ کار کے مطابق کھانے تیار کرتے رہے ہیں لیکن پھر بھی انکے ہاتھوں وہ ذائقہ نہیں ہوتا جوکہ انکی والدہ کے تیار کردہ کھانوں میں ہوتا ہے۔

    سلمان خان نے مزید بتایا کہ ان کے منہ کو یہ ذائقہ بچپن سے لگا ہوا ہے اور اب یہ تبدیل نہیں ہوسکتا دبنگ اداکار نے کہا کہ کئی بار لاک ڈاؤن کے دوران خود کھانے پکانے کی کوشش کی اور انڈے بھرجی، دال، روٹی اور چند دیگر کھانے تیار کیے اور یہ سب والدہ کے کھانے بنانے کے طریقے کے مطابق بنائے لیکن پھر بھی ان میں وہ ذائقہ نہیں آیا جو کہ والدہ کے تیار کردہ کھانوں میں ہوتا ہے۔

    اس موقع پر دینی پانڈے نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ اس تقریب رونمائی میں سلمان خان مہمان خصوصی ہوں اسکی وجہ یہ ہے کہ سلمان اور انکا خاندان اچھی صحت اور خوش رہنے کے حوالے سے ان تمام طریقوں پر عمل کرتے ہیں جوکہ ان کی کتاب میں بتائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ خاص کر گھر کے تیار کھانے لوگوں کی مدد کرنا، معاشرے کو اچھی روایات لوٹانا، صحت کا خیال رکھنا، اچھے تعلقات قائم رکھنا اور اسکی حوصلہ کرنا شامل ہیں۔

    سلمان خان نے آخر میں کہا کہ انہیں غصہ بہت آتا ہے ٹھیک ہے اسکی ضرورت بھی ہے لیکن یہ اس وقت ضروری ہے جب آپ کسی معاملے پر ایک پوزیشن لیتے ہیں لیکن غصے کی ایک حد ہوتی ہے میرے اندر ایسا نہیں ہے جوکہ اچھی بات نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں مثلاً کسی کے دیر سے آنے یا شوٹ وقت پر شروع نہ کرنے پر غصے میں آجاتے ہیں میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ اپنے ارد گرد دیکھیں ہمیں کیا کچھ میسر نہیں ہے اس پر ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے۔

    سارہ کا کرینہ کپور خان کوآنٹی کہنے پر سیف علی خان کا حیران کن رد عمل

  • وزیرا عظم عمران خان کا تصوف میں دلچسپی رکھنے والوں کو ترک ڈرامہ یونس ایمرے دیکھنے کا مشورہ

    وزیرا عظم عمران خان کا تصوف میں دلچسپی رکھنے والوں کو ترک ڈرامہ یونس ایمرے دیکھنے کا مشورہ

    پاکستان میں ڈرامہ سیریل ’ارطغرل غازی‘ کی بے پناہ مقبولیت کے بعد اب ایک اور ترکش ڈرامہ ’یونس ایمرے‘ وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر بہت جلد پی ٹی وی پرپیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : رواں برس اپریل میں رمضان المبارک میں ترکی کا مشہورڈرامہ ’دیریلش ارطغرل‘ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پراردو میں ڈب کرکے ’ارطغرل غازی‘ کے نام سے پی ٹی وی پرپیش کیا جا رہا ہے جس نے مقبولیت کے وہ ریکارڈ توڑے جسے دیکھ کر ترک فنکار بھی حیران رہ گئے۔

    ’ارطغرل غازی‘ کی مقبولیت کے بعد اب ایک اورترک ڈرامہ ’یونس ایمرے‘ بہت جلد پی ٹی وی پرپیش کیا جائے گا رواں برس مئی میں اس ڈرامے کے بارے میں سینیٹر فیصل جاوید نے اپنے ٹوئٹر پر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک اور ترک ڈرامے ’یونس ایمرے‘ کو پی ٹی وی پر دکھائے جانے کی ہدایت کی ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام خاص کر نوجوان یہ ڈرامہ دیکھیں۔

    تاہم پھر رواں ماہ فیصل جاوید خان نے ٹوئٹرپرر ’یونس ایمرے‘ کو پی ٹی وی پر دکھائے جانے سے متعلق ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یونس ایمرے (صوفی درویش) 13 ویں صدی کے اسلامی صوفیانہ شاعراور گاؤں میں رہنے والے فقیر تھے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ڈرامہ ان کی زندگی کے بارے میں ہے جنہوں نے اپنی زندگی مکمل طور پر اللہ کے لیے وقف کردی تھی اس ڈرامے کو وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پی ٹی وی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے رواں ماہ ’یونس ایمرے‘ کا ٹریلر اردو میں ڈب کرکے جاری کیا گیا اس ڈرامے کو پاکستان میں ’راہ عشق‘ کے نام سے پیش کیا جائے گا۔

    تاہم اب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنے ٹوئٹ میں پاکستانی عوام تصوف میں دلچسپی رکھنے والوں کو ترک ڈرامہ سیریل یونس ایمرے دیکھنے کا مشورہ دے دیا-


    وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ میں پی ٹی وی پر ان تمام افراد کے لئے سیریل یونس ایمرے کو دکھائے جانے کی بھر پور سفارش کرتا ہوں جو تصوف میں دلچسپی رکھتے ہیں-

    واضح رہے کہ ونس ایمرے (1320-1238) ترک زبان کے مشہور صوفی شاعر تھے جو 13 ویں صدی عیسوی میں اناطولیہ میں جس کا بیشتر حصہ دور حاضر کا ترکی کہلاتا ہے رہائش پذیر رہے۔

    یونس ایمرے کی زندگی کے بارے میں بہت سی مصدقہ معلومات تو تاریخ کے اوراق میں گم ہو کر رہ گئیں لیکن ان کی زندگی کے بہت سے قصے آج بھی ترک لوک داستانوں کا اہم حصہ ہیں جنھیں بہت شوق سے پڑھا، سنا اور گایا جاتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرارطغرل غازی کے بعد ایک اور ترک ڈرامہ پا کستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا جائے گا

  • دوستوں نے میرے مرنے کی دعا مانگی ہے     عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی

    دوستوں نے میرے مرنے کی دعا مانگی ہے عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی

    پاکستان کے لیجنڈ گلوکار عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی موت سے متعلق افواہیں پھیلانے کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں لیجنڈ گلوکار سے متعلق تیسری بار یہ افواہیں منظرِ عام پر آئی تھیں کہ اُن کا انتقال ہوگیا ہے تاہم ایسی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے پہلے ایک پوسٹ پھر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔

    گلوکار نے فیس بُک پر اپنا ویڈیو پیغام جاری کیا اور بتایا کہ میں زندہ اور صحت مند ہوں انہوں نے شاعرانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ مجھے میری موت کی اطلاع مل گئی تھی: دشمنوں اٹھاؤ ہاتھ کہ میں جیوں برسوں ، دوستوں نے میرے مرنے کی دعا مانگی ہے-

    انہوں نے مداحوں اورچاہنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ سب مجھے اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔

    عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کا کہنا تھا کہ میں پانچ 6 گھنٹے سفر کے بعد میں لاہور پہنچا ہوں اور اب دوبارہ میانوالی جانے کا ارادہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آپ سے اگلی ملاقات وہیں ہوگی جہاں میں آپ کو اپنا نیا گانا بھی سناؤں گا۔

    واضح رہے کہ اگست 1951 میں میانوالی میں پیدا ہونے والے گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ 2018 کے بعد مختلف اوقات میں کچھ بیماریوں کے باعث مختصر وقت کے لیے ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے اور اسی دوران ہی ان کے حوالے سے غلط خبریں وائرل ہوئیں۔

    گزشتہ 2 سال میں متعدد بار ان کے حوالے سے غلط خبریں وائرل ہوئیں اور رواں برس اپریل میں بھی ان کے حوالے سے غلط خبریں وائرل ہوئی تھیں اور اب حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ان کے حوالے سے خبریں وائرل ہوئیں تو انہوں نے وضاحتی پیغام جاری کیا-

    عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی نے ایک بار پھر موت سے متعلق خبروں کی تردید کر دی

  • سارہ کا کرینہ کپور خان کوآنٹی کہنے پر سیف علی خان کا حیران کن رد عمل

    سارہ کا کرینہ کپور خان کوآنٹی کہنے پر سیف علی خان کا حیران کن رد عمل

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کا کرینہ کپور خان کو آنٹی کہہ کر بلانے پر سارہ کے والد سیف علی نے حیران کن رد عمل دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیف علی خان اورامرتا سنگھ کی بیٹی سارہ علی خان کے لیے وہ لمحہ مشکل تھا کہ وہ اپنے والد کی دوسری بیوی و اداکارہ کرینہ کپورخان کوکیا کہہ کر بلائیں۔

    سارہ علی خان کے کرینہ کپور کے ساتھ بہت اچھا رشتہ ہے۔ کرینہ سارہ کے والد سیف کی دوسری بیوی ہیں لیکن ان دونوں اداکاراؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی بہت حمایت کرتی ہیں اور اکثر شوز یا ایونٹس میں ایک دوسرے کی تعریف کرتی نظر آتی ہیں۔

    دراصل ،شو کافی ود کرن میں ، کرن جوہر نے سارہ سے پوچھا تھا کہ کیا سیف نے کبھی کرینہ کو چھوٹی ماں کہنے کو کہا ہے؟

    جواب میں سارہ علی خان کا کہنا تھا کہ کرینہ کپورخان نے خود اس بات پرکہا تھا کہ تمہاری ماں موجود ہے تومیں اورتم ایک دوست کی طرح رہ سکتے ہیں۔

    بالی وڈ اداکارہ ہیما مالنی کی بیٹی کے ہاں جڑواں بیٹیوں کی پیدائش

    سارہ نے کہا کہ ان کے والد سیف علی خان نے بھی دوسری ماں سے متعلق کبھی کچھ نہیں کہا۔ جس پرشو کے میزبان کرن جوہر نے کہا کہ وہ کرینہ کو”چھوٹی ماں” بھی کہہ سکتی تھیں جس پرسارہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ شاید کرینہ کو اچھا نہیں لگتا۔

    ساتھ ساتھ سارہ نے یہ بھی بتایا کہ شروع میں وہ اس متعلق خاصا کشمکش کا شکارتھیں کہ میں کرینہ کو کیا کہوں گی؟ کیا میں کرینہ کو "آنٹی "کہوں گی جس پروالد سیف علی خان نے کہا تھا کہ نہیں نہیں مجھے معلوم ہے کہ تم کرینہ کو آنٹی کہنا نہیں چاہوگی۔ جس کے بعد اداکارہ نے بتایا کہ کرینہ کویا تو وہ کرینہ یا صرف "کے” پکارتی ہیں۔

    بھارتی اداکارہ راہول رائے دماغی فالج کے باعث ہاسپٹل منتقل

    سارہ کی پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بات کریں توحال ہی میں ان کی فلم کُلی نمبر 1 کا ٹریلر جاری کیا گیا ہے۔ فلم میں سارہ کے ساتھ ورون دھون نے کام کیا ہے۔ ٹریلر کو بے حد پسند کیا جارہا ہے۔ فلم کی ہدایت کاری ورون کے والد ڈیوڈ دھون نے کی ہے۔ فلم گووندا اور کرشمہ کپور کی فلم کُلی نمبر کا ری میک ہے۔

    جبکہ کرینہ کپور خان اب فلم لال سنگھ چڈھا میں نظر آئیں گی۔ اس فلم میں کرینہ کے ساتھ عامر خان مرکزی کردار میں نظر آئیں گے –

    کرینہ کپور خان کا خود پر ٹرولنگ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب

  • مایا علی اپنی ہی اداکاری کی ویڈیو دیکھ کررو پڑیں

    مایا علی اپنی ہی اداکاری کی ویڈیو دیکھ کررو پڑیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مایا علی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں اداکارہ اپنی ہی اداکارہ کی ویڈیو دیکھ کر رو پڑیں-

    باغی ٹی وی : مایا علی کا شمار پاکستان شوبز کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے انہوں نے کئی ہٹ ڈراموں کے ساتھ دو سپر ہٹ فلموں ’طیفا ان ٹربل‘ اور ’’پرے ہٹ لو‘میں بھی کام کیا ہے۔

    مایا علی کافی عرصے سے چھوٹی اسکرین سے دور تھیں جب کہ فلم ’پرے ہٹ لو‘ کے بعد وہ کسی اور فلم میں بھی نظر نہیں آئیں۔ تاہم اب وہ ڈراما سیریل ’پہلی سی محبت‘ کے ذریعے ٹی وی پر دوبارہ واپسی کررہی ہیں۔

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    مذکورہ ڈرامے کا ایک سین موبائل فون پر دیکھتے ہوئے مایا علی اتنی زیادہ جذباتی ہوگئیں کہ ان کی آنکھیں بھر آئیں۔موبائل کی اسکرین پر واضح طور پر دیکھاجاسکتا ہے کہ اس سین میں مایا علی اداکار شہریار منور کے ساتھ اداکاری کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈراما سیریل ’پہلی سی محبت‘ میں شہریار منور مایا علی کے مقابل مرکزی کردار ادا کررہے ہیں اور انہوں نے بھی اس ڈرامے کے ذریعے چھوٹی اسکرین پر کافی عرصے بعد واپسی کی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے نامور ڈیزائنر حسن شہریار یاسین ڈرامہ سیریل’پہلی سی محبت‘ سےٹیلی ویژن پر اداکاری میں ڈیبیو کریں گے-

    مایا علی جلد ہی نئے ڈرامے میں جلوہ گر ہوں گی

    نامور ڈیزائنر اور میزبان حسن شہریار یاسین ٹیلی ویژن پر اداکاری کرنے کے لیے تیار

  • قصور کرپشن کیس:مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    قصور کرپشن کیس:مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی

    قصور: مسلم لیگ ن کے رہنماؤں باپ بیٹے کے خلاف ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق قصورمیں مسلم لیگ ن کے صدر لاہور ڈویژن شیخ وسیم اختر اور بیٹے ایم این اے سعد وسیم شیخ کے خلاف کرپشن پر ڈپٹی کمشنر نے کاروائی کا حکم دے دیا-

    سابق ایم این و موجودہ صدر مسلم لیگ وسیم اختر شیخ نے توحید ٹینری کے ساتھ جگہ پر قبضہ کیا اور وسیم اختر شیخ نے ٹریٹمنٹ پلانٹ کے مینجر ساتھ مل کر ٹیکس و دیگر معاملات میں سرکار کو نقصان پہنچا یا-


    رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے موجودہ ایم این اے سعد وسیم شیخ نے غیر قانونی ھاوسنگ سوسائٹی بنائی سوسائٹی کا نام پہلے سعد ٹاون بعد میں مکہ ٹاون رکھا گیا جس میں وسیع پیمانے پر کرپشن کی گئی

    علاوہ ازیں مسلم لیگی ایم این اے نے ایل ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کی اجازت کے بغیر متعلقہ سوسائٹی میں زمین فروخت کی-

    ڈپٹی کمشنر نے کرپشن اختیارات سے تجاویز و گورنمنٹ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے پر مقدمہ کی سفارش کر دی-

    ڈپٹی کمشنر نے دونوں ن لیگی باپ بیٹے وسیم شیخ اورسعد وسیم شیخ کے خلاف مقدمہ کے لئے اینٹی کرپشن کو بھی تحریری طور پر لکھ دیا-

  • فلم ’زندگی تماشا‘ کی آسکرمیں نامزدگی اس تاریک سال کے آخر میں میرے لیے روشنی کی کرن بن کر آئی ہے   سرمد کھوسٹ

    فلم ’زندگی تماشا‘ کی آسکرمیں نامزدگی اس تاریک سال کے آخر میں میرے لیے روشنی کی کرن بن کر آئی ہے سرمد کھوسٹ

    پاکستانی اداکار و ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کی متنازع فلم ’زندگی تماشا‘ کو 93ویں اکیڈمی ایوارڈ کی بین الاقوامی کیٹیگری کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :زندگی تماشا کے ہدایت کار سرمد سلطان کھوسٹ کا کہنا ہے کہ جو درد دل اس فلم نے مجھے دیا اس نے اب آرٹ پر میرے یقین کو بحال کردیا ہے زندگی تماشا کی آسکر میں نامزدگی کا اعلان اس تاریک سال کے آخر میں میرے لیے روشنی کی کرن بن کر آیا ہے۔

    سرمد سلطان کھوسٹ کا کہنا تھا کہ یہ فلم میں نے پاکستان اور یہاں کے لوگوں کے لیے بنائی ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں لوگ اس سے دیکھنے سے محروم رہے جو کہ میرے ضمیر پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

    پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ آسکر ایوراڈز کے لئے نامزد

    ان کا کہنا تھا کہ آسکر کے لیے نامزدگی فخر کی بات ہے تاہم فلم ’زندگی تماشا‘ آسکر میں پورے پاکستان کی نمائندگی کرے گی، مجھے خود پر اور اپنی ٹیم پر فخر ہے اور میں کمیٹی کا بے حد مشکور ہوں۔

    واضح رہے کہ فلم ‘زندگی تماشا’ کو پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے آسکر ایوارڈز کی بین الاقوامی فلم کیٹیگری کے لیے منتخب کیا گیا ہےاس فلم کا ورلڈ پریمیئر 2019 میں بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا تھا جہاں ‘زندگی تماشا’ نے اعلیٰ ترین ’کم جیسوئک‘ ایوارڈ جیتا تھا۔

    سینٹ نے فلم ’زندگی تماشا‘ کو کورونا بحران کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دے دی

    خیال رہے کہ فلمی دنیا کے سب سے متعبر اور اعلیٰ فلمی ایوارڈ آسکر کے لیے پاکستانی فلموں کا انتخاب کرنے والی پاکستانی آسکر سلیکشن کمیٹی میں رواں برس ڈائریکٹر اسد الحق، اداکارہ مہوش حیات اور موسیقار فیصل کپاڈیہ، شرمین عبید چنائے اور نامور فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (ایچ ایس وائے) شامل تھے۔

    بین الاقوامی کیٹیگری کی نامزدگی کا فیصلہ اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس کی جانب سے آئندہ برس کیا جائے گا۔

    مہوش حیات اور حسن شہریار یاسین آسکر سیلیکشن کمیٹی 2020 کا حصہ بن گئے

    سرمد کھوسٹ کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں ایمان سلیمان، عارف حسین اور سامیہ ممتاز نے مرکزی کردار نبھایا فلم اپنے ٹریلر کے جاری ہونے کے بعد ہی تنازع کے شکار ہوئی مذہبی جماعت نے فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد فلم ساز نے ابتدائی طور پر فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹایا تھا جبکہ بعد ازاں حکومت نے فلم کی نمائش بھی روک دی تھی۔

    سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر تا حیات پابندی لگانے کی درخواست دائر

    اگرچہ فلم سینسر بورڈ نے ابتدائی طور پر فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا تاہم مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے فلم کی نمائش روکتے ہوئے معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

    فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوائے جانے کے بعد سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق ذیلی کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فلم کا جائزہ لیا اور بعد ازاں کمیٹی نے فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا۔

    اس کی نمائش روکے جانے اور مذہبی تنظیم کی جانب سے فلم کے خلاف مظاہروں کی دھمکیوں کے بعد فلم ساز سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی۔

    آسکرز 2020 انتظامیہ نے مدعو افراد کی فہرست جاری کر دی

    ’زندگی تماشا‘ پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ فلم ساز ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم کی کہانی ایک اچھے مولوی کے گرد گھومتی ہے اور فلم میں کسی بھی انفرادی شخص، کسی فرقے یا مذہب کی غلط ترجمانی نہیں کی گئی۔

    علاوہ ازیں ‘زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی کے لیے انجمن ماہریہ نصیریہ نامی سماجی تنظیم نے 16 جولائی کو لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔
    فلم سے متعلق سرمد کھوسٹ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ میں نے یہ فلم زندگی تماشا کسی کو دکھ پہنچانے یا الزامات لگانے کے لیے نہیں بنائی، یہ ایک اچھے مسلمان کی کہانی ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فلم میں انھوں نے کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا-

    کورونا وائرس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کی تقریب 2 ماہ کے لئے موخر

  • مداح آج لازوال دھنوں کے خالق نثاربزمی کی 96 ویں سالگرہ منا رہے ہیں

    مداح آج لازوال دھنوں کے خالق نثاربزمی کی 96 ویں سالگرہ منا رہے ہیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری لازوال دھنوں کے خالق نثاربزمی کی آج 96 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : نثار بزمی کا اصل نام سید نثار احمد تھا۔ نثاربزمی 1924 میں ممبئی کے نزدیک خاندیش کے قصبے میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو ڈرامے ”نادرشاہ درانی“ کی موسیقی ترتیب دینے سے کیا جبکہ بطورموسیقار ان کی پہلی فلم ’جمنا پار‘ تھی جو 1946 میں ریلیز ہوئی-

    انہوں نے تقریبا 40 بھارتی فلموں میں موسیقی کی ترتیب کی ممبئی میں ان کا ستارہ اس قدر عروج پرتھا کہ لکشمی کانت پیارے لال جیسے موسیقار اُن کی معاونت میں کام کر چُکے تھے لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کے معمار فضل احمد فضلی کے بلاوے پر انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی

    ان کی بطور موسیقار پاکستان میں پہلی فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے‘ تھی جس میں ان کے گیت’محبت میں تیرے سرکی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘ پر احمد رشدی اور میڈم نور جہاں نے اپنی مدھر آوازوں کے جادو جگائے۔

    جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکرنہیں دیکھا اور ’صاعقہ‘،’انجمن‘، ’میری زندگی ہے نغمہ‘، ’خاک اور خون‘ اور ’ہم ایک ہیں‘ جیسی فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔

    1966 میں انھوں نے ’لاکھوں میں ایک کی‘ موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے –

    موسیقار نثار بزمی کو ان کی فنی خدمات کے باعث پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

    نثاربزمی کو نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک اور پاپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے محمد رفیع، احمد رشدی، مہدی حسن اورنورجہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی آوازوں کو بھی نکھرنے اور سنورنے کا موقع دیا۔

    تاہم میوزک کے میدان کےعظیم موسیقار22 مارچ 2007 کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ موسیقی آج بھی کروڑوں لوگوں کو مسحورکردیتی ہے۔