مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کی گلگت جلسے کے دوران لی گئیں تصاویر سوشل میڈی اپر وائرل ہو رہی ہیں جن میں مریم نواز دنیا بھر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے والے ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے مرکزی کردار حلیمہ سلطان جسیے روپ میں دکھائی دے رہی ہیں-
باغی ٹی وی : مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کبھی بھی اپنے فیشن سینس سے متاثر کرنے اور حیران کرنے میں ناکام نہیں ہوتیں چاہے عدالت میں پیش ہوں یا کسی عوامی جلسے میں خطاب کے لئے جائیں ان کے فیشن کا انتخاب بہترین اور بعض اوقات سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتا ہے ان کی ڈریسنگ کے انتخاب پر جہاں ناقدین تنقید کرتے ہیں وہیں ان کے چاہنے والے تعریفوں کے پُل باندھتے ہیں
تاہم س بار مریم نواز کے نئے روپ نے مداحوں کے دل جیت لئے ہیں جہاں وہ بدھ کے روز گلگت بلتستان میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دیکھی جاسکتی ہیں اور ان کا یہ روپ ایسرا بلجک یعنی حلیمہ سلطان کی کاپی لگ رہا ہے-
سوشل میڈیا چینلز پر مریم کی تصویر اور ویڈیو وائرل ہوگئی ہے اور مداحوں کی جانب سے مریم نواز کی اس لُک کی تعریفیں کی جا رہی ہیں جبکہ مریم نواز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی مداحوں کی جانب سے تعریف و تحسین کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور باصلاحیت اداکارہ سونیا حسین کا کہنا ہےکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سال میں وہ ایک ڈرامہ ایسا ضرور کریں جس سے دیکھنے والوں کو کچھ سیکھنے کو ملے اور وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کا سوچیں۔
باغی ٹی وی :اداکارہ سونیا حسین ہمیشہ منفرد کرداروں میں نظر آتی ہیں اور ان کے ہر کردار کو مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی ملتی ہے ڈرامہ سیریل ’سراب‘ میں بھی وہ ایک ایسی ذہنی مریضہ کا کردار ادا کر رہی ہے جو بیمار تو ہیں، لیکن اُن کے گھر والے اُن کو بیمار نہیں سمجھتے –
حال ہی بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں سونیا حسین نے مختلف موضوعات کے ساتھ اپنے ڈرامے ’سراب‘ کے بارے میں بات کی اور ڈرامے کے دوران انے والے مسائل اور چیلنجز کے بارے میں بتایا انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سال میں وہ ایک ڈرامہ ایسا ضرور کریں جس سے دیکھنے والوں کو کچھ سیکھنے کو ملے اور وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کا سوچیں۔
سونیا نے کہا کہ میرے نزدیک ایک آرٹسٹ ہونے کے ناطے ہماری بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم ان مسائل پر بات کریں جن پر لوگ عام طور پر بات نہیں کرتے معاشرے میں جہاں غیر اہم مسائل پر غیر ضروری باتیں ہوتی ہیں، وہیں اہم چیزوں پر بھی ہونی چاہییں جیسا کہ ذہنی امراض۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری سوسائٹی میں بڑا مسئلہ ہے ہمارے ہاں چیزوں کو بہت پچیدہ کر دیا جاتا ہے ہمارے ہاں چاہے کسی بھی چیز کی بات لے لیں چاہے خواتین کے حقوق ہوں یا کملیکشن ہو یا کسی کے موٹے پتلے ہونے کی بات ہو چیزوں کو اتنا کمپلیکیٹ کیا گیا ہے کہ اس کو ڈسکس نہیں کیا جاتا اس لئے زیادہ مشکل ہو جاتی ہے-
’ڈپریشن، اینگزائیٹی، سٹریس جیسی بیماریاں ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں لیکن جن کو یہ لاحق ہوتی ہیں ہمارے ہاں انھیں لوگ ’پاگل‘ یا ’ابنارمل‘ قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ اور یہ چیزیں گھر سے ہی شروع ہوتی ہیں اسی طرح سکٹزوفرینیا کا معاملہ بھی ہے جس کے بارے میں لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا اور اگر کسی کو گھر میں یہ بیماری ہوتی ہے تو اسے چھپا دیا جاتا ہے ناکہ اس کا علاج کرایا جائے-
ڈرامہ سیریل سراب میں سونیا حسین نے ایک ذہنی مریضہ کا کردار ادا کیا ہے جو سکٹزوفرینیا کا شکار ہے۔ عام طور پر ہیروئنز اس قسم کا کردار کرنے سے منع کر دیتی ہیں، تاہم سونیا کا کہنا ہے کہ جب انہیں ڈرامہ آفر ہوا تو انھیں اس لیے بھی اچھا لگا کیونکہ یہ ڈرامہ پروڈکشن ہاؤس اور چینل ریٹنگز کے لیے نہیں کہ لوگ خوش یوں گے ٹی آر پی آنی ہے کہ ساس نے بہو کو جلا دیا نند نے تھپڑ مار دیا وغیرہ بلکہ لوگوں کو آگاہی دینے کی کوشش کر رہا ہے یہ دوسرے اسکرپٹس سے ہٹ کر تھا –
سکرپٹ پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ جب ایک چینل اور پروڈکشن ہاؤس اتنا بڑا رسک لے سکتے ہیں تو بطور اداکارہ میرا بھی تو فرض بنتا ہے کہ میں بھی اس کوشش میں اپنا حصہ ڈالوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ذہنی مریضہ کا کردار نبھانا میرے لیے چیلنج تو تھا، میرے پیچھے ایک پوری ٹیم تھی محسن طلعت صاحب جو ڈائریکٹرر ہیں نے میرا بھرپور ساتھ دیا میرے خیال میں ڈائریکٹر ’کیپٹن آف دی شپ‘ ہوتا ہے، جب وہ اپنے کاندھوں پر ذمہ داری لے لیتا ہے تو ہم ایکٹرز کا کام آسان ہو جاتا ہے، جب میں نے سکرپٹ سائن نہیں کیا تھا تب ہی پروڈکشن ہاؤس اور ہدایتکار نے کہا تھا کہ آپ بے شک ڈرامہ سائن نہ کریں لیکن ایک بار ری ہیب سینٹر جا کر لوگوں سے مل لیں دیکھتے ہیں اپ کو سمجھ آتا ہے یا نہیں آتا-
سونیا حسین نے بتایا جب میں ری ہیب سینٹر گئیں تو وہاں دیکھا کہ مینٹل خواتین نارمل انداز میں اپنے بیگ کندھے پر لٹکائے بڑے مزے سے گھوم رہیں تھیں ہم خود سے ہی سوچتے ہیں کہ وہ کیسی ہوں گی بال بکھرے ہوں گے وغیرہ لیکن ایسا کچھ نہیں تھا-اس نے انھیں یہ ڈرامہ سائن کرنے پر ایک طرح سے مجبور کیا۔
ایک ری ہیب سینٹر میں میں نے ایک خاتون سے کافی دیر بات کی اس نے مجھے بتایا کہ میں 15 دن جاب کرتی ہوں کسی ریسٹورنٹ میں اور پھر 15 دن یہاں رہتی ہوں کیونکہ میں ذہنی مریضہ ہوں نا تو مجھے تھراپی کی ضرورت ہے اسی لئے میں 15 دن یہاں گزارتی ہوں سونیا نے بتایا کہ مجھے بڑی یہ مناس بات لگی کہ یہ تو بڑی سمجھداری کی بات کر رہی ہے تو شاید یہ اس پورے پروسیسی سے نکل گئی ہے ٹرینمنٹ ہو چکا ہے اس کا – میں نے اس سے جاب کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ آپ کو 15 دن آف دے دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں ناں کہ میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے-
میں انہیں دیکھ کر حیران ہوئی کہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر بیمار دِکھتے نہیں، لیکن دراصل ہوتے ہیں۔ ہماری ملاقات کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کا علاج جاری ہے اور وہ ایک دماغی عارضے میں مبتلا ہیں جو وہ کہہ رہی ہیں وہ سب خیالی ہے اور اُن کی اپنی طرف سے بنایا ہوا ہے۔
یہ ساری چیزیں سراب کی سکرپٹ میں تھیں جس کی وجہ سے میں نے اسے کرنے کی ٹھانی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ میرے خیال میں جیسے ہم جسمانی بیماری اور تکالیف کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اسی طرح ذہنی امراض کے لیے بھی ہمیں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور ڈرامے کے ذریعے ہم نے یہی بتانے کی کوشش کی ہے۔
سونیا ھسین نے کہا کہ آج کل کی جنریشن کتابیں نہیں پڑھتی اگر پڑھتی بھی ہے تو کتابوں کے ساتھ تربیت نہیں ہوتی سونیا حسین کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کو اچھا کانٹینٹ (مواد یا موضوع) ملے گا تب ہی وہ بُرے کانٹینٹ کو بُرا سمجھیں گے۔
اداکارہ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پروڈیوسروں نے سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ کانٹینٹ دینا کیا ہے۔ ان کے نزدیک جو دِکھ رہا ہے وہ بِک رہا ہے، اگر کچرا بھی بک رہا ہے تو چل رہا ہے۔ میرے خیال میں خراب کانٹینٹ دیں گے تو وہی لوگ بھی پسند کریں گے، ضروری ہے کہ ابھی سے لوگوں کی تربیت کریں تاکہ ان کی سوچ وسیع ہو اور ان کا ذہن کھلے۔
انہوں نے اپنے ساتھ سراب ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار سمیع خان کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اگر وہ نہ ہوتے تو شاید میں یہ کردار نہ کر پاتی-
سونیا حسین کا کہنا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ ان کے حصے میں ’ایسی ہے تنہائی‘ ’میری گڑیا‘ اور ’عشق زہے نصیب‘ جیسے ڈرامے آئے، جو معاشرے کے کسی نہ کسی سنجیدہ موضوع کو اجاگر کرتے تھے۔
شادی کے بعد شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی پاکستان کی سابقہ اداکارہ عائشہ خان اور میجر عقبہ نے سال میں دوسری بار بیٹی ماہ نور کی سالگرہ منائی۔
باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کی سابق اداکارہ عائشہ خان نے گزشتہ روز سال میں دوسری بار بیٹی ماہ نور کی سالگرہ منائی واضح رہے کہ اس سے قبل اداکارہ کی والدہ نے اسلامی تاریخ کے لحاظ سے بیٹی کی سالگرہ منائی تھی تاہم اب عائشہ خان اور ان کے شوہر میجر عقبہ نے 10 نومبر کو بیٹی کی پیدائش کے دن کو بھرپور طریقے سے منایا-
عائشہ خان نے انسٹاگرام پر عالمی وبا کورونا وائرس کے سالگرہ کی تقریب کو مناسب رکھتے ہوئے گھر میں ہی کیک کاٹا۔
سالگرہ کی تصویریں شیئر کرتے ہوئے عائشہ خان نے بتایا کہ 10 نومبر 2020 ان کی زندگی کا یادگار دن ہے اس دن ماہ نور کے آنے سے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں بیٹی کو سا لگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے اور شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ماہ نور ہماری زندگیوں میں روشنی اور خوشیاں بکھیرنے کیلئے تمہارا بے حد شکریہ۔
واضح رہے کہ 15 اپریل 2018 کو عائشہ خان اور میجر عقبہ ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے جس میں عزیز و اقارب سمیت قریبی دوستوں نے شرکت کی تھی اُن کے ہاں گزشتہ سال 12 ربیع الاول کو بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی جس کا نام اُنہوں نے ’ماہ نور‘ رکھا۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی باصلاحیت ادکارہ سونیا حسین نے اپنے مداحوں کو ’خود‘ کو سمجھنے کا مشورہ دے دیا۔
باغی ٹی وی : اداکارہ سونیا حسین اکثر و بیشتر معنی خیز پیغامامت شئیر کرتی رہتی ہیں بالخصوص انزائٹی ، ڈپریشن کے حوالے سے مداحوں کو اپنے مشوروں سے نوازتی رہتی ہیں تاہم اب اداکارہ نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کو اچھی صحت اور خوش رہنے کا طریقہ بتا تے ہوئے خود کو سمجھنے پر زور دیا-
سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر سونیا حسین نے لکھا کہ تنہا رہیں، اکیلے کھائیں، اکیلے سوئیں اور اکیلے سیر و تفریح کریں۔
سونیا نے لکھا کہ یہ ضروری ہے کہ ہم کچھ عرصے میں اپنے معمولات سے الگ ہوجائیں اور کچھ وقت تنہا گزاریں اور اپنے آپ کو سمجھیں- خود پر غورو فکر کریں-
https://www.instagram.com/p/CHUpt_Igbj8/?igshid=gijxq6ew8z36
داکارہ ا نے اپنے آپ کو سمجھنےپر زور دیتے ہوئے لکھا کہ اپنے آپ کو سمجھیں کہ آپ کون ہیں اور اور جب آپ کو یہ سمجھ آجائے گی تو خود سے پیار بھی کرنے لگیں گے۔
ساتھ ہی اداکارہ نے امریکی نو منتخب صدر جوبائیڈن کو مزاحیہ انداز میں مبارکباد بھی دی۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی ناموراداکارہ صنم سعید کی موٹر وے زیادتی کیس سے متعلق فلم ’اب بس‘ یوٹیوب پر ریلیز کردی گئی۔
باغی ٹی وی : موٹروے حادثے پر مبنی فلم کی کہانی میں لوگوں کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔ 10 منٹ اور 24 سیکنڈ کی اس مختصر فلم میں اداکارہ صنعم سعید نےاداکاری کی ہے۔
فلم میں صنم سعید نے مایا نامی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جس کے والد کو دل کا دورہ پڑتا ہے اور اسے ان کے پاس جانے کے لیے اکیلے سفر کرنا ہوتا ہے اکیلے سفر کرنے سے پہلے وہ اپنی حفاظت کے لیے مختلف قسم کی چھریاں، بندوق اور دیگر چیزیں اپنے ساتھ رکھتی ہے۔
اس فلم کی ہدایت کاری محسن طلعت نے دی ہے جب کہ فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر سیمین نویس ہیں اور اس کی کہانی شاہد ڈوگر نے لکھی ہے۔
بھارتی ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی نے بومبے ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
باغی ٹی وی : بھارتی خبر ایجنسی ای این آئی کے مطابق ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی نے بومبے ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں رجوع کیا ہے جس نے اسے خودکشی کے معاملے میں 2018 کی عبوری میں عبوری ضمانت دینے سے انکا کردیا تھا۔
Republic TV Editor-in-Chief Arnab Goswami moves Supreme Court challenging Bombay High Court's order which refused to grant him interim bail in the 2018 abetment to suicide case. (File photo) pic.twitter.com/ZS4fEupZAK
دوسری جانب انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ڈی وائے چندرچوڑ اور اندرا بینرجی پر مشتمل بھارتی سپریم کورٹ کا 2 رکنی بینچ کل (12 نومبر کو) ارنب گوسوامی کی درخواست پر سماعت کرے گا۔
ریاستی حکومت کے علاوہ صحافی و اینکر ارنب گوسوامی نے علی باغ پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسرام اور ممبئی پولیس کمشر پرم بیر سنگھ کو سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں فریق بنایا ہے۔
گزشتہ روز بومبے ہائی کورٹ نے 2018 میں درج ہونے والے خودکشی پر اکسانے کے مقدمے میں ارنب گوسوامی اور دیگر 2 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔
ملزمان آئندہ 4 روز میں سیشنز کورٹس میں ضمانت کے لیے رجوع کرسکتے تھے اور انہوں نے علی باغ کی سیشن عدالتوں سے رجوع کیا تھا۔
تاہم عدالت نے تینوں ملزمان کی درخواستیں مسترد کردی تھیں، ارنب گوسوامی کے وکلا ہریش سیلو اور آباد نے درخواست میں کہا تھا کہ ارنب گوسوامی کی گرفتاری ‘ مکمل طور پر غیرقانونی ‘ تھی۔
خیال رہے کہ 4 نومبر کو ممبئی پولیس کے سینئر افسر سنجے موہت نے کہا تھا کہ ریپبلک ٹی وی کے بانی ارنب گوسوامی کے خلاف مقدمہ ایک انٹیریئر ڈیزائنر انوے نائیک اور ان کی ماں کی موت سے منسلک ہے جسے پولیس نے خود کشی قرار دیا تھا
انوے نائیک کا لکھا ہوا خود کشی کا جو نوٹ پولیس کو ملا اس میں تحریر تھا کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ اس لیے کررہے ہیں کیوں کہ ارنب گوسوامی اور دیگر افراد نے ان سے بھاری رقم لے رکھی ہے جسے واپس کرنے سے انکاری ہیں تاہم اینکر نے اس الزام کی تردید کی۔
خیال رہے کہ ارنب گوسوامی اپنے شوز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی قوم پرست پالیسی کی شدت سے حمایت کرتے ہیں اور اکثر حریفوں پر چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔
گرفتاری کے بعد ارنب گوسوامی کو پہلے علی باغ کے عارضی قرنطینہ مرکز منتقل کیا گیا تھا تاہم موبائل فون کے مبینہ استعمال کے بعد انہیں تلوجا سینٹرل جیل منتقل کیا گیا۔
بالی سپر اسٹار اور خطروں کے کھلاڑی اکشے کمار نے اپنی سب سے بری عادت بتادی۔
باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرن جوہر کے پروگرام میں اداکار رنویر سنگھ کے ساتھ ایک قسط میں اکشے کمار جلوہ گر ہوئے جہاں ان سے سوال کیا گیا کہ وہ بطور شوہر کس بات کو اپنی بری عادت سمجھتے ہیں۔
اس سوال کا اکشے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ شام ساڑھے چھ بجے اپنے کام سے گھر واپس آتے ہیں تو وہ پاجامہ پہن کر ٹی وی پر اسپورٹس چینل دیکھتے ہیں اوراس دوران بیوی کی باتوں کو سننے کے بجائے اسکور بورڈ دیکھنے کو اپنی سب سے بری عادت سمجھتے ہیں۔
53 سالہ اکشے کہنا تھا کہ انھیں اب بھی یاد ہے جب آپ لوگ کتاب کی رونمائی میں شریک ہوتے تھے تو میں کرکٹ اور کھیل دیکھنا زیادہ پسند کرتا تھا اور جب میری بیوی مجھ سے کوئی بات کرتی ہے تو میں ایک نظر اسکور پر ڈالتا تو وہ سمجھ جاتی ہے کہ میں اسکور دیکھ رہا ہوں، تو یہ میری سب سے بری عادت ہے اور یہ اب تک جاری ہے۔
واضح رہے کہ اکشے اپنے بہت زیادہ مصروف پیشہ ورانہ شیڈول کے باوجود اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں کہ وہ اپنے خاندان کو بھی بھرپور وقت دیں۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک پر ایک صارف کی 3 سالہ پُرنی چیٹ کی تصویر گردش کر رہی ہے جس میں صارف نے لڑکی سے دوستی کرنے کے لئے 4 سال تک انتظار کیا-
باغی ٹی وی : یوں تو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر آئے دن نت نئی پوسٹس گردش کرتی رہتی ہیں جن کو دیکھ کر صارفین حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے اور دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں کچھ پوسٹس لوگوں کے لئے تفریح و دلچسپی کا باعث بن جاتی ہیں یہاں تک کہ کچھ پوسٹس تو گمنام لوگوں کو راتوں رات لوگوں شہرت کی بلدیوں پر پہنچا دیتی ہیں-
تاہم اب بھی سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر گردش کر رہی ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا موجودہ کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراسمنٹ اور بلیک میل کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور آئے دن ان گنت خواتین سوشل میڈیا ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں-
لیکن سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں فیس بُک صارف نے فیس بُک پر اپنی دوست کے 18 سال ہونے تک کا انتظار کیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی-
تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صارف 14 دسمبر 2103 کو رات 9 بجکر 53 منٹ پر اپنی فیس بُک فرینڈ کو فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے دوستی کرنے کو کہتا ہے لیکن اس کے جواب میں لڑکی بتاتی ہے کہ وہ ابھی صرف 14 سال کی ہے –
جس پر وہ صارف افسردگی کا اظہار کرتا ہے تاہم ٹھیک 4 سال بعد 14 دسمبر 2017 کو 9 بجکر 58 منٹ پر لڑکی کے 18 سال کی ہونے پر میسج کرتا ہے کہ اب آپ 18 سال کی ہوگئی ہیں؟
پاکستان شوبز انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان نے نیشنل ایمیچر شارٹ فلم فیسٹیول (این اے ایس ایف ایف) پلیٹ فارم روایتی طریقوں سے ہٹ کر صلاحیتوں کو ڈھونڈنے اور منوانے کیلئے ایک اہم قدم ہے۔
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے ساتھی فنکاروں کے ہمراہ ایک گروپ فوٹو شیئر کیا گروپ فوٹو شئیر رکتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ بہت سے نوجوان فنکار ہیں جو ہدایت کاری، اداکاری اور کچھ لکھنے کے حوالے سے انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اس اقدام کا حصہ بننے جارہی ہوں۔
ماہرہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ایمیچر شارٹ فلم فیسٹیول (این اے ایس ایف ایف) جدید فلم سازوں کی خواہش رکھنے والے ، پاکستان کے نوجوانوں کو تحریک دینے کے لئے ایک بہت بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مذکورہ پلیٹ فارم ان جیسے مواقع کے ساتھ ، روایتی طریقوں سے ہٹ کر صلاحیتوں کو ڈھونڈنے اور منوانے کیلئے ایک اہم قدم ہے۔
یاد رہے کہ این اے ایس ایف ایف ایک یاد دہانی ہے کہ ہر نوجوان پاکستانی فلمساز تجربات اور نقطہ نظر کا ایک انوکھا سیٹ رکھنے والا ایک انوکھا ادارہ ہے اور مجموعی طور پر دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے این اے ایس ایف ایف نے نوجوان فلم سازوں اور دستاویزی فلموں کے پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں کو ایسے کام کرنے کی دعوت دی ہے۔
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان انوشے اشرف کا کہنا ہے کہ یہ مفروضہ غلط ہے کہ خواتین ایک دوسرے سے جیلس ہوتی ہیں اور تعریف نہیں کرتیں۔
باغی ٹی وی : اداکارہ انوشے اشرف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر خواتین کے ڈائریکٹ میسیجز (ڈی ایمز) شیئر کیے اور کہا کہ دنیا بھر سے خواتین نے انہیں متعدد مواقع پر یہ پیغامات بھیجے۔
اداکارہ کا کیپشن میں کہنا تھا کہ مرد میری تعریف کرتے ہیں اور یہ یقینی طور پر بہت اچھا لگتا ہے لیکن جب خواتین میری تعریف کرتی ہیں تو اس سے مجھے دلی اور روحانی خوشی ملتی ہے۔
انوشے اشرف نے کہا کہ یہ پیغامات مجھے دنیا بھر کی خواتین نے گزشتہ 2 روز میں بھیجے ہیں جنہوں نے خاص طور پر مجھے سراہا ہے اور محبت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان خواتین نے کسی کو یہ بتانے کے لیے وقت نکالا کہ وہ باصلاحیت اور متاثر کن ہے۔
اداکارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر تعریفیں صرف ان کی خوبصورتی تک محدود نہیں تھیں انہوں نے تمام خواتین کی جانب سے اس محبت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ غیر جسمانی تعریفیں بھی کبھی کبھار بہت اچھی محسوس ہوتی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس بہنوں کا ایک بڑا سپورٹ سسٹم ہے میں ان سے کبھی نہیں ملی لیکن چاہتی ہوں کہ ان میں سے ہر ایک جانے کہ میں ان کی بہت شکر گزار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا نہیں دکھاتیں، وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے جیلس نہیں ہوتیں، یہ غلط فہمیاں ہیں لوگ ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں ، لوگ ان کی صنف سے قطع نظر ، بعض اوقات ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں۔ یہ پیغامات اس کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ مرد جو مجھ سے اور میرے کام سے محبت کرتے ہیں میں ان سب کی بہت شکر گزار ہوں اور وہ خواتین و جو ایسا کرتی ہیں کاش میں انہیں گلے لگاسکتی اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
اداکارہ انوشے اشرف نے پیغامات بھیجنے والی خواتین کے نام ظاہر نہیں کیے اور کہا کہ انہوں نے خواتین کی رضامندی نہیں لی ہے یہ پوسٹ بہت اچانک لگائی ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں چند ہیش ٹیگ sisters #womensupportingwomen #bestfeeling# بھی استعمال کئے-