Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ماہرہ خان کی حالیہ تصاویر کے سوشل میڈیا پر چرچے

    ماہرہ خان کی حالیہ تصاویر کے سوشل میڈیا پر چرچے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان کی سفید لباس میں تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

    باغی ٹی وی :ماہرہ خان نے حال ہی میں اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پراپنی دلکش تصاویر پوسٹ کیں جس میں انہوں نے یونانی فیشن ڈیزائنر کا تیار کردہ اسٹریپ لیس سفید لباس زیب تن کر رکھا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CFdxrg5hrfU/?igshid=19xp7i8bzi13n
    عالمی شہرت یافتہ اداکارہ نے یونانی فیشن ڈیزائنر سیلیا کرتھیروتی کا تیار کردہ رفلز کا گاؤن پہن رکھا ہےجس میں وہ انتہائی خوبصورت نظر آ رہی ہیں جبکہ ہلکے میک اپ اور جیولری نے اداکارہ کے حسن کو مزید چار چاند لگا دیئے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CFdqKkkhWVz/
    تصویریں شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے پتوں کی ایموجی کا استعمال کیا جس سے شائد ماہرہ خان نے موسم خزاں کےا استقبال کرنے کے لیے بے چین کا اظہار کیا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CFdpav6BpIl/
    ماہرہ خان کی پوسٹ کی گئی تصاویر پر جہاں مداحوں نے تعریف بھرے تبصرے کئے وہیں ساتھی اداکاراؤں نے بھی اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا جن میں آئمہ بیک ، میرا سیٹھی ، عائشہ عمر اور دیگر شامل ہیں-

    خیال رہے کہ اس سے قبل ماہرہ خان نے ایک انسٹا گرام پر ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں وہ بائک چلاتی ہوئی نظر آئیں ماہرہ خان نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں فہد مصطفیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آجا میری موٹر بائیک پر بیٹھ جا ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ میں نے اپنی نئی آنے والی فلم ’قائد اعظم زندہ باد‘ کے لئے بائیک چلانا سیکھی ہے-
    https://www.instagram.com/p/CFR8pxHBqbS/
    ماہرہ خان نے مزید بتایا تھا کہ مجھے مکمل بائیک سیکھنے کے بعد سرٹیفکیٹ سے بھی نوازا گیا ہے اداکارہ نے اس موقع پر پنک رائیڈرز پاکستان کی لڑکیوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگ اصل فاتح ہو۔

    واضح رہے کہ ماہرہ خان کا شمار پاکستان کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے ماہرہ خان کے کا کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ سرحد پار بھی سراہا جاتا ہے اوران کے دنیا بھر میں لاکھوں مداح موجود ہیں-

    جب سے ماہرہ خان نے بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے ساتھ فلم’رئیس‘ میں بطور ہیروئن کام کیا ہے پاکستان کے ساتھ ساتھ سرحد بھارت میں بھی کافی پسند کیا جاتا ہے جن میں عوام کے ساتھ بالی وڈ شخصیات بھی شامل ہیں-

    ہرتھیک روشن بھی ماہرہ خان کے مداحوں میں شامل ہو گئے

    ماہرہ خان کی موٹر سائیکل چلانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    ہراسانی ہر جگہ موجود ہے لیکن اصل مسئلہ ذہنیت ہے ماہرہ خان

    ماہرہ خان کامن ویلتھ کی ٹیم کے ساتھ خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی…

  • جگن کاظم نے اپنے گھر نئے مہمان کی متوقع آمد اور جنس سے مداحوں کو آگاہ کردیا

    جگن کاظم نے اپنے گھر نئے مہمان کی متوقع آمد اور جنس سے مداحوں کو آگاہ کردیا

    شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان جگن کاظم نے اپنے گھر نئے مہمان کی متوقع آمد اور جنس سے مداحوں کو آگاہ کردیا۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر جگن کاظم نے اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ تصویر شئیر کی جس کے کیپشن میں جگن کاظم نے لکھا کہ آپ لوگوں نے مجھے جو بے حد محبت اور دعائیں دی ہیں اس کے لئے میں آپ سب کا کبھی بھی شکریہ ادا نہیں کرسکتی۔

    انہوں نے لکھا کہ میں اللہ کی بہت شکر گزار ہوں جس نے مجھے جلد ہی ایک اور بچے سے نوازا ہے۔

    اداکارہ نے مداحوں سے کہا کہ براہ کرم میری دلی التجا ہے کہ آپ مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ساتھ ہی انہوں نے اپنے یوٹیب چینل کی ایک ویڈیو کا لنک شئیر کیا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ اس بار اُن کے ہاں بیٹی کی پیدائش متوقع ہے۔

    یوٹیوب پر جاری اپنی ویڈیو میں جگن نے اپنی صحت کے حوالے سے بتایا اور حاملہ خواتین کو مشورے بھی دیے۔
    https://www.instagram.com/p/CFSJH1IhPe6/
    اداکارہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر 10 منٹ اور 30 سیکنڈ پر مبنی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ان کے دونوں بیٹے حمزہ اور حسن بھی موجود ہیں۔

    ویڈیو میں جگن نے نئے بچے کی جنس کا اعلان دونوں بیٹوں کی موجودگی میں کیا اداکارہ نے کہا کہ میں نے یہ ویڈیو انہوں نے مداحوں کے اصرار پر بنائی ہے-

    دونوں بیٹوں کے ہمراہ دلچسپ انداز میں بنائی جانے والی مذکورہ ویڈیو میں جگن نے مداحوں کو بتایا کہ انہیں ہمیشہ سے ہی بیٹی کی خواہش تھی اور انہیہں ہمیشہ سے ہی بہت شوق تھا کہ ان کے ہاں بیٹی پیدا ہو-

    جگن اپنے یوٹیوب چینل پر ہیلتھ، بیوٹی، فوڈ،اور اپنی زندگی کے تجربات سمیت دیگر موضوعات پر مختلف ویڈیوز شیئر کرتی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CFOTdR1BFQx/
    اس سے قبل اداکارہ نے اپنی ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ وہ بہت جلد ایک ویڈیو شیئر کریں گی جس میں گھر آنے والے ننھے مہمان کی جنس سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔
    https://www.instagram.com/p/CBsJZRPhN5G/?utm_source=ig_embed
    اس سے قبل کی گئی ایک پوسٹ میں اداکارہ نے بتایا تھا کہ وہ اُمید سے ہیں اور جلد ہی تیسرے بچے کی والدہ بن جائیں گی۔ انہوں نے مزید لکھا تھا کہ آپ کی دعاؤں اور مثبت توانائی کی ضرورت ہے۔

    40 سالہ جگن پہلی شادی ناکام ہونے کے بعد 27 جون 2013 کو فیصل سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں جن سے ان کے دو بیٹے ہیں۔

    شوہر کی سالگرہ کے موقع پر جگن کاظم کا محبت بھرا پیغام

     

  • سعودی عر ب کی وزارت اطلاعات نے پہلی دستاویزی فلم ریلیز کر دی

    سعودی عر ب کی وزارت اطلاعات نے پہلی دستاویزی فلم ریلیز کر دی

    سعودی عر ب کی وزارت اطلاعات نے پہلی دستاویزی فلم ریلیز کر دی جس میں کنگڈم میں کورونا وائرس وبائی امراض کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کارکنوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عر ب کی وزارت اطلاعات کی ریلیز کردہ پہلی دستراویزی فلم دشوار مرحلہ کوریاض کے اے ایم سی سینما گھر میں دکھایا گیا۔

    غیر ملکی ویب سائٹ العریبیہ کی رپورٹ کے مطابق یہ دستاویزی فلم انسانی کہانیوں کا مجموعہ ہے جس میں کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے ہرطرح کی قربانیاں دینے والے فرنٹ لائنرز اور ہیلتھ ورکرز کی قربانیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    سعودی عرب کے سیکریٹری ابلاغ عبداللہ المغلوث نے کہا کہ دستاویزی فلم قائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی کی ہدایت پر تیار کی گئی۔


    اس دستاویزی فلم کے واقعات کی ریکارڈنگ اور منظر کشی کو سعودی عرب کے قائم مقام وزیر برائے میڈیا ڈاکٹر ماجد القصبی کی ہدایت اور جی سی جی کی نگرانی میں 75 دن میں تیار کیا گیا ہے-

    رپورٹ کے مطابق فلم کی تیاری میں 70 سے زیادہ سعودی نوجوان شریک ہوئے فلم کی عکس بندی 5 علاقوں میں کی گئی جہاں عالمی وبا کے باعث نافذ کئے گئے کرفیو کے دوران کے مناظر ریکارڈ کیے گئے۔

    واضح رہے کہ مملکت میں مجموعی طور پر 329،754 کورونا وائرس کے کیسز ہیں۔ اتوار کے روز تک، ملک میں پانچ مہینوں میں سب سے کم روزانہ COVID-19 کیس رپورٹ ہوئے۔

    جبکہ گذشتہ ہفتے ، سعودی عرب نے کورونا وائرس پھیلنے پر قابو پانے کے لئے مارچ کے اوائل میں رکھے گئے تمام بین الاقوامی سفر پر عائد پابندی ہٹا دی تھی ۔

    اسرائیلی اور اماراتی فلم اداروں کے درمیان معاہدہ اور انٹرنشینل فلم لیب میں پہلی مرتبہ اماراتی فلم…

    آرٹس کونسل آف پاکستان میں نوجوان ہدایت کاروں کا کراچی تھیٹر فیسٹیول منعقد کرنے کا…

    شوبز دنیا کا پہلا رئیلٹی شو جس میں جیتنے والے کو خلاء کی سیر کرائی جائے گی

  • پی ٹی وی کو ہماری اسلامی اور مشرقی ثقافتی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے  علی محمد خان

    پی ٹی وی کو ہماری اسلامی اور مشرقی ثقافتی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے علی محمد خان

    وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی وی کو ہماری اسلامی اور مشرقی ثقافتی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نیوز کے ایک مارننگ شو میں ورزش کے سیگمنٹ کی ویڈیو شیئر کرنے پر معروف صحافی انصار عباسی کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب 2 روز قبل انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی وی کے مارننگ شو میں ورزش کے سیھمنٹ کی ویڈیو شیئر کی تھی۔

    شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک خاتون ورزش کررہی تھی اور انہیں ایک مرد ٹرینرکی جانب سے ہدایات بھی دی جارہی تھیں۔

    انصار عباسی نے ویڈیو شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران، وزیراطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کو ٹیگ کیا اور لکھا کہ یہ پی ٹی وی ہے۔

    تاہم مذکورہ ٹوئٹ پر انصار عباسی کو سوشل میڈیا پر عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن کچھ لوگوں نے ان کی حمایت بھی کی تھی۔

    اب وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے انصار عباسی کی جانب سے ٹوئٹ کی گئی ویڈیو سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں علی محمد خان نے صحافی انصار عباسی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اسلام ایسی چیزوں کی اجازت نہیں دیتا۔


    وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے لکھا کہ پی ٹی وی کو قومی نیٹ ورک ہونے کے ناطے ہمارے اسلامی اور مشرقی ثقافتی اصولوں پر عمل کرنا چاہئے۔

    علی محمد خان نے مزید لکھا کہ کسی جگہ یہ حد بندی ضروری ہے کہ ہم کس حد تک لبرل اور مغربی بن سکتے ہیں؟

    انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے لکھا کہ مدینہ کی ریاست کے تصور کو اس کی روح کے مطابق اختیار کیا جانا چاہئے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل انصار عباسی کی ٹوئٹ پر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے تنقید کی تھی۔

    فواد چوہدری نےاپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ اگر ورزش اور اشتہاری بورڈز پر بھی خواتین کی تصویر آپ کو دلبرداشتہ کرتی ہے تو آپ کو حقیقت میں نفسیاتی تھراپی اور مشورے کی ضرورت ہے۔


    جس پر انصار عباسی نے جواب دیا تھا کہ آپ ایسی حکومت کا حصہ ہیں جو ریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق پاکستان کی تعمیر نو کا دعویٰ کرتی ہے۔


    انصار عباسی نے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا تھا کہ کیا آپ وضاحت کریں گے کہ قرآن و سنت یا آئین پاکستان کی روشنی میں آپ کس چیز کی حمایت کرتے ہیں؟

    جبکہ اینکر پرسن رابعہ نے اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان کوطنزیہ انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان دیکھیں کہ صرف خاتون ورک آؤٹ کررہی ہے جبکہ مرد نہیں کررہا، یہ صحت مندانہ نہیں دنوں کو ورک آؤٹ کرنا چاہیے۔

    مارننگ شو میں ورزش کرتی خاتون کے متعلق تبصرہ کرنا انصار عباسی کو مہنگا پڑ گیا

    شان شاہد نے حکومت سے ملکہ ترنم نورجہاں کے گھر کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا مطالبہ…

  • تماش بینی کب تک؟ قومی تعمیر کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے  بقلم :عدنان عادل

    تماش بینی کب تک؟ قومی تعمیر کے اصل مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بقلم :عدنان عادل

    تما ش بینی کب تک؟

    سیاست کے بکھیڑوں سے جان چھڑوائیں تو ہم قومی تعمیر کے معاملات پر بات چیت کریں‘ ملک کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں سوچیںاور انکے حل پر گفتگو کریں کہ ہمیں بحیثیت قوم کس طرح آگے بڑھنا ہے‘ ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں‘ طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔ ماضی میں ملک کو صرف حکومت میں شامل لوگوںکی کرپشن سے ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ غلط ترجیحات نے بھی شدید بحران پیدا کیے۔ پاکستان اسوقت جن معاشی ‘ سماجی مسائل کا شکار ہے وہ راتوں رات پیدا نہیں ہوئے۔ دہائیوں کی غفلت‘ غلط ترجیحات اور پا لیسیوں کے باعث ہم اس مقام پر پہنچے ہیں۔ غربت‘ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ پاکستانی روپیہ کی قدر بہت کم رہ گئی ہے۔ غیرملکی اور ملکی قرضوںکا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ لگتا ہے ہم کسی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی۔موجودہ صورتحال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومتوں نے بے تحاشا قرضے لیے لیکن انکا استعمال غیرپیداواری کاموں کی خاطر کیا حالانکہ قرض کی رقم کو سوچ سمجھ کر ایسے منصوبوں پر استعمال کرنا چاہیے تھا جن سے ہماری آمدن میں اضافہ ہوتا۔ لاہور کی اورنج ٹرین کو دیکھ لیجیے کہ چین سے ڈیڑھ سو ارب روپے قرض لیکر بنائی ہے لیکن اس سے آمدن تو کیا ہوگی اُلٹا حکومت کو اسے چلانے کے لیے سالانہ اربوں روپے کی سبسڈی دینا پڑے گی۔ یہی حال موٹرویز اور ائیرپورٹس کا ہے۔ بھارت نے کوئی موٹروے نہیں بنائی لیکن اسکی معیشت ہم سے کہیںزیادہ مستحکم ہے ‘ اسے بھاگ بھاگ کر آئی ایم ایف اور سعودی عرب سے قرضے لینے نہیں جانا پڑتا۔ وجہ یہ ہے کہ بھارت نے پہلے اپنی جڑیں مضبوط کیں‘ ملک کی صنعتی ترقی پر توجہ دی‘ جدید تعلیم کے بڑے بڑے ادارے بنائے۔ بھارت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ امریکہ اور جاپان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ان ملکوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر بھی یہ لوگ معاشی ترقی کے قیادت کررہے ہیں۔ جب دنیا کمپیوٹر انقلاب کے دور میں داخل ہورہی تھی تو بھارت نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم اور صنعتکاری میں کثیر سرمایہ کاری کی۔ آج بھارت آئی ٹی کی برآمدات سے سوا سو ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ کما رہا ہے۔ جبکہ ہم صرف سواارب ڈالر کیونکہ ہماری حکومت کو بڑی بڑی سڑکیں بنانے کا خبط سوار تھا ‘ تعلیم میں سرمایہ کاری ہماری ترجیح نہیں تھی۔ یہ جھوٹی شان و شوکت کے منصوبے ہیں جن کے باعث ہماری معیشت بحران کا شکار ہے۔ حتی کہ بنگلہ دیش ہم سے بہتر حالت میں ہے۔ بنگلہ دیش نے کوئی بڑا ائیر پورٹ نہیں بنایا نہ کوئی موٹروے۔اسکی برآمدات پینتالیس ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ ہیں اور ہماری تئیس ارب ڈالر۔ اسی بنگلہ دیش کا کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے لوگ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ صحیح ترجیحات اور پالیسیوں کی بدولت بنگلہ دیش کی کرنسی ٹکا ہمارے روپے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایک بنگلہ دیشی ٹکا تقریبا دوپاکستانی روپے کے برابر ہے۔1971 میںجب مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہوکر بنگلہ دیش بنا تو اسکی آبادی ہمارے ملک سے تقریباً ایک کروڑ زیادہ تھی۔آج ہم سے پانچ کروڑ کم ہے۔ہم نمائشی کاموں میں پھنس کر رہ گئے یانام نہاد جہادی‘مسلح فرقہ وارانہ گروپوں کے نرغے میں گھرے رہے جنہوں نے ملک کے امن و امان کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا۔ ان حالات میںکوئی ملک خاک ترقی کرسکتا ہے۔ کوئی مسیحا نہیں ہوتا جو کسی ملک کو راتوںرات مسائل سے با ہر نکال دے۔ چٹکی بجاتے تمام مسائل حل کردے۔مہنگائی ختم کردے اور سب کو روزگار مہیا کردے۔ ہتھیلی پر سرسوں نہیں جما کرتی۔جو لوگ سال دو سال میں دکھاوے کے پراجیکٹ کھڑے کرتے ہیں وہ شعبدہ باز‘ مداری ہوتے ہیں۔ اُلجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے کی خاطر غور و فکر کے بعد پالیسیاں تشکیل دینا پڑتی ہیں اوربرسوں مستقل مزاجی سے ان پر عمل کرنا پڑتا ہے تب دس پندرہ سال بعد مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایسے منصوبے جو قرضے لیکر ایک دو سال میں مکمل کرلیے جائیں سادہ لوح عوام کواچھے لگتے ہیں لیکن ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً ملک کو پانی کے بڑے ذخائر کی ضرورت ہے‘ آبپاشی کے نئے ترقی یا فتہ نظام کی تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی زرعی اور گھریلو استعمال کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ جب دریاؤں میں پانی زیادہ آتا ہے اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ ایک بڑا ڈیم بنانے کے لیے دس بارہ برس درکار ہوتے ہیں۔ لیکن جب یہ مکمل ہوجاتا ہے تو اسکے ملکی معیشت کو بے بہا فوائد پہنچتے ہیں۔ ملکی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ہم بیس پچیس سال پہلے بڑے ڈیمز پر کام شروع کردیتے تو آج زیادہ خوشحال ہوتے۔ زیادہ رقبہ زیرکاشت ہوتا۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوچکا ہوتا۔ ہمیں آج گندم باہر سے درآمد نہ کرنا پڑتی۔ کراچی کو دریائے سندھ سے اضافی پانی سپلائی کرنے میں آسانی ہوتی۔ بجلی زیادہ اور سستی دستیاب ہوتی۔ اسی طرح ہمیں قدامت پسند طبقات کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کرنا ہوگا جس طرح ایران اور بنگلہ دیش نے بہبود آبادی کے پروگرام کامیابی سے چلا کر کیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہے جہاں آبادی میں اضافہ کی رفتار بہت زیادہ ہے۔خاص طور سے ہمارے دیہات میں اور قبائلی معاشرت کے علاقوں میں۔ حکومت اگر اس معاملہ پر مستحکم اور طویل المعیاد منصوبہ بندی نہیں کرے گی توملک میں جتنی بھی معاشی ترقی ہوجائے عوام کی غربت کم نہیں ہوگی۔ بیروزگار نوجوانوں کے جتھے کے جتھے ہوں گے جو بدامنی اور لاقانونیت کا باعث بنیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور اپنی ترجیحات کو درست کریں۔ تعصبات‘ توہم پرستی اور احمقانہ بیانیہ پھیلانے والوں سے نجات پائیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ مصنوعی ذہانت ‘ روبوٹکس ‘ بائیوٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کریں تاکہ اگلے دس پندرہ سال بعد ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو ۔ جدید تعلیم میں سرمایہ کاری‘ صنعتی کارخانوں کا قیام‘ پانی کے وسائل کی ترقی‘ آبادی میں کمی کے لیے پروگرام‘ نظام عدل و انصاف کی اصلاح‘ اقتدار و اختیار کی نچلی سطح پر منتقلی ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان کی بقا ‘ سلامتی اور خوشحالی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں کم سے کم ان موضوعات پر سیر حاصل بحث مباحثہ تو کرنا چاہیے۔ کب تک ہم بے معنی سیاست کی تماش بینی میں مصروف رہیں گے؟

  • ضدی خواتین ناکام ہیںئی

    ضدی خواتین ناکام ہیںئی

    ضدی خواتین ناکام ہیں۔

    ضدی عورتیں اپنی شادیوں میں ،بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بھی ناکام ہوجاتی ہیں۔

    ایسی خواتین جو لوگوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھتیں، اور معاملات میں لچک نہیں رکھتیں ، ان کی شادیاں مکمل ناکام ہوجا تی ہیں ۔ بلکہ
    ان کی زندگیاں بہی ناکام ہو جاتی ہیں ۔ کیوں؟

    1- وہ اپنے شوہر کے ساتھ اپنی انا کی جنگ لڑتی رہتیں ہیں ، شوہر پر قابو پانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ اس جنگ میں ہمیشہ وہ ہار جاتی ہیں،وہ کبھی یہ جنگ نہیں جیت سکتیں ۔ کیونکہ مرد ضد کرنے والی بیوی اور ضدی بہن کے سامنے اور زیادہ ضدی ہوجاتے ہیں ، اور وہ ایک نرم اور فرمانبردار عورت کے سامنے بہت زیادہ نرم ہو جاتے ہیں۔

    2- ایک ضدی عورت سوچتی ہے کہ وہ اپنی رائے پر اصرار کر کے جیت جائیگی ، اور وہ کسی بھی مخالفت کا سامنا کرلیگی ۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ یہ جنگ وہ اپنی ضد اور زبان سے جیت بہی جائے تو وہ اس دل سے محروم ہوجائیگی جو اسے پیار کرتا تھا اور اس کی فکر میں لگا رہتا تھا۔

    3- تمام ثقافتوں اور حکمتوں میں ایک آسان ، نرم ، ہمدرد ، صابرہ اور در گذر کرنے والی عورت کی تعریف کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے ایک ایسی عورت کی تعریف کی ہے جو اپنے شوہر کا احترام کرتی ہے اور نرمی اور حکمت کے ساتھ بولتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ اس سے ہمیشہ محبت کرے گا اور اسے کبھی
    دور نہیں جائیگا۔

    4- وہ عورت جو اپنے شوہر کی بات مانے لیتی ہے اور طوفان کے گذرنے تک صبر کرلیتی ہے۔ وہ عقلمند عورت ہے ، اپنے کنبہ کو بکہرنے سے بچا لیتی ہے ۔ اور وہ عورت جو خشک چھڑی کی طرح بے لچک کھڑی ہوتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے ، جسکا دوبارہ جڑنا ممکن نہیں ۔

    5- سمجھوتہ نہ کرنے والی عورت اپنی رائے سے چمٹی رہتی ہے۔ وہ مسلسل اپنی فتح کا وہم برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے: اس زعم میں رہتی ہے کہ میں جیت گئی اور آپ ہار گئے ، میں ٹھیک ہوں اور آپ غلط ہیں۔ ایسی عورت دوسروں کو تباہ کرنے سے پہلے خود کو تباہ کر دیتی ہے۔ اور وہ دنیا اور آخرت میں غمزدہ اور مایوسی کی زندگی بسر کرتی ہے چونکہ اسے پیار اور محبت چاہئے جو ہارا ہوا مرد نہیں دے سکتا۔اسکی زبانی جیت حقیقت میں اسکی زندگی کی ہار تہی-

    ازدواجی مشاورت کے لمبے تجربات میں، میں نے دیکھا کہ ضدی خواتین کی زندگی ہمیشہ طلاق سے دو چار ہوتی ہے ۔ اور ان کی خاندانی اور معاشرتی زندگی ہمیشہ تلخیوں سے بہری رہتی ہے ۔

    7- ایک بدوی عرب عورت نے شادی کے دن اپنی بیٹی کو جو نصیحت کی تہی ، تمام کامیاب خواتین اسے ایک عورت کے لئے بہترین تحفہ سمجھتی ہیں۔ اسکی نصیحت تہی :
    ” تم اسکی لونڈی بن جائو …… اور یقینا بہت جلد وہ تمہارا غلام بن جائیگا” ۔
    "مرد مہربان، فیاض ہمدرد ہوتے ہیں ، لیکن ایک ضدی ، بے وقوف عورت انہیں دشمن بنا دیتی ہے۔”

    آخر میں ایک عقلمند شیخ رحمہ اللہ کا قول نقل کرتی ہوں:

    میں 27 سال تک ایک عدالت کا قاضی رہا ……… اور میں نے دیکھا کہ طلاق کے زیادہ تر واقعات مرد کے غصے اور عورت کے بے وقوفانہ ردعمل کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔
    دوسرے لفظوں میں ، عورت کی ضد مرد کو اس سے دس گنا زیادہ ضدی بناتی ہے۔

  • سعودی عرب کا قومی دن ” الیوم الوطنی ”  بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سعودی عرب کا قومی دن ” الیوم الوطنی ” بقلم: عبدالرحمن ثاقب سکھر

    سعودی عرب کا قومی دن ” الیوم الوطنی ”

    بقلم:- عبدالرحمن ثاقب سکھر

    مملکت توحید سعودی عرب کا نام ذہن میں آتے ہی انسان خوشی سے سرشار اور نہال ہو جاتا ہے۔ اور اس کے دل میں بیت اللہ اور مسجد نبوی کا پاکیزہ اور مقدس ماحول آجاتا ہے اور انسان تصورات کی دنیا میں گھومتا ہوا بیت اللہ کے صحن اور بیت النبی کے پڑوس مسجد نبوی میں چلا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد و منشا ہے۔ جب کہ مدینہ منورہ آپ کی ہجرت گاہ اور مدفن ہے۔ اور دونوں شہر بے شمار رحمتوں برکتوں اور فضیلتوں کے حامل ہیں مکہ مکرمہ میں جنت کا پتھر حجراسود ہے تو مدینہ منورہ میں روضہ مسجد نبوی جنت کا حصہ ہے۔ اسلامی ورثہ کی مثالی مملکت سعودی عرب کا قومی دن 23 ستمبر ایسا روشن باب ہے جسے امت مسلمہ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ عرب دنیا کی سب سے بڑی مملکت سعودی عرب کی بنیاد یاد 1932 میں شاہ عبدالعزیز یزید بن عبد الرحمن آل سعود نے رکھی۔ 87 لاکھ ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے ہوئے اس خطے میں جو کہ بر اعظم ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے۔ ایک جدید اسلامی اور مثالی مملکت قائم کی گئی تھی۔ جس کی تعمیر قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرکے ملک کو استحکام کا گہوارہ بنا پائیدار مسلم معاشرے کے طور پر اقوام عالم میں عزت و وقار سے روشناس کرایا گیا۔ سعودی عرب اقوام عالم میں میں واحد ایسا ملک ہے جس کا دستور قرآن و سنت ہے۔ اور سعودی عرب کے حکمرانوں کا مقصد نظام اسلام کا قیام اور مسلمانان عالم کے لئے ملی تشخص کا جذبہ ہے۔ سعودی عرب کے حکمران خادمین حرمین شریفین نے امت مسلمہ کے لئے جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے دنیا بھر میں جہاں کہیں اور کبھی امت پر سخت وقت آیا سعودی عرب سب سے پہلے وہاں اعانت اور مدد کے لئے پہنچا۔ بلکہ اگر عادلانہ موازنہ کیا جائے تو امت مسلمہ کے لیے پیش کردہ دیگر اسلامی ممالک کی خدمات سعودی عرب کی خدمات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے چاہے فکری و نظریاتی میدان ہو یا معاشی بحران ہو۔ ہر میدان میں سعودیہ عربیہ مسلمانوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہا ہے۔
    اہل پاکستان سعودی عرب اور خادمین حرمین شریفین سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ اور سعودی عرب کی ترقی و خوشحالی کو اپنی ترقی و خوشحالی سمجھتے ہیں۔ آل سعود کی حکومت میں توحید کا علم بلند ہوا، خرافات و بدعات کا خاتمہ ہوا اور شرک کا کھلے عام بطلان کیا گیا۔مملک سعودیہ عربیہ میں نےحدود اللہ کا نفاذ ہے جہاں پر قاتل کو قصاص میں قتل کیا جاتا ہے اور چور کے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں اور اس نظام عدل میں چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ بلکہ شرعی حدود کے نفاذ کا اسلام جس طرح سے مطالبہ کرتا ہے ہے اسی طرح سے حدیں قائم کی جاتی ہیں۔ کسی اور اسلامی ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
    إقامة حد من حدود الله خير من مطر أربعين ليلة فى بلاد الله عز وجل. ( ) زمین پر حدوداللہ کو قائم کرنا چالیس دن کی موسلادھار بارش سے بہتر ہے۔ آج سعودیہ عربیہ حدود اللہ کے نفاذ کی وجہ سے امن و سلامتی کا گہوارہ بنا ہوا ہے وہاں پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔

    مملکت توحید سعودی عرب کے اہم کارنامے
    مساجد کی تعمیر اور ان کا اہتمام:-
    حکومت سعودی عربیہ نے اسلام کی دعوت کو عام کرنے کی غرض سے اہم ذریعہ مساجد کو بنایا ہے۔ سعودی حکومت اور پرائیویٹ اداروں کی طرف سے پوری دنیا میں بے شمار مساجد تعمیر کی گئی اور ان میں علماء و مدرسین کا تقرر کیا گیا۔ کیونکہ مساجد اسلام کا محور اور مرکز ہوتی ہیں۔ مسجد امت مسلمہ کے لیے وہ مدرسہ اور اسکول ہوتا ہے جہاں سے مسلمان طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اور انہی مساجد کے ذریعے سے لوگوں کو کے عقائد و اعمال درست ہوتے ہیں۔ اور مساجد ہی اسلامی تعلیمات کو پھیلانے اور عام کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔
    دعاۃ اور معلمین کا تقرر:-
    دعوت دین اور صحیح اسلامی عقیدہ کی اشاعت ہر مسلمانوں پر فرض ہے۔ مسلمان کو جس قدر بھی اسلامی تعلیمات ہوں انہیں پھیلانے اور عام کرنے کا شرعی حکم ہے۔ انسانوں کی اسی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سعودی حکومت نے مستقل بنیادوں پر مختلف ممالک کے مراکز اسلامی اور مساجد میں دعوت دین کا کام کرنے اور تعلیم دینے کے لیے دعاۃ کو مبعوث کیا۔ جن کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان کی سرپرستی سعودی حکومت اور سعودی خیراتی ادارے کرتے ہیں۔ یہ مبلغین ومعلمین خالص توحید اور قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح عقیدہ کی دعوت دیتے ہیں۔ علوم قرآنی اور علوم حدیث ہی کو بنیاد بناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے عقائد کی اصلاح اور لوگ ان کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام بھی ہوتے ہیں۔ یہ مبلغین اور معلمین اسلامی تعلیمات کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ عربی زبان کو عام کرنے پر بھی توجہ دیتے ہیں۔
    خدمت انسانیت:-
    سعودی حکومت جہاں بھی کسی صورت میں بھی عام انسانوں یا مسلمانوں کو مصائب و آلام میں مبتلا پاتی ہے۔ تو وہ ان کی مدد کے لیے وہاں پہنچ جاتی ہے۔ یہ عمل کسی سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے کہ سعودی حکومت باہمی ہمدردی، شفقت و محبت اور دوستی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مظلوم انسانوں کی مدد کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے غذائی، ادویاتی اور مالی اعانت جاری رکھتی ہے۔ دنیا میں جہاں بھی اور جب بھی طوفانوں زلزلوں، بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے نقصان ہوا سعودی حکومت فوری طور پر ان نقصانات کا ازالہ کرتی نظر آئی ہے. سعودیہ عربیہ کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی اور ہیئۃ الاغاثۃ الاسلامیۃ وغیرہ ہمیشہ آگے نظر آئی ہیں۔
    خدمت حرمین شریفین:-
    وہ بڑے عظیم لوگ ہیں جو دن رات ان دونوں مقامات یعنی حرم مکی اور مدنی کی خدمت و نگہبانی کرتے ہیں اور ان کی توسیع، طہارت و نظافت اور ضیوف الرحمان کی خدمت میں دن رات کوشاں رہتے ہیں۔
    حرمین شریفین کی زیارت کرنے والے حجاج کرام اور معتمرین جو دنیا کے کونے کونے سے حاضر ہوتے ہیں جب وہ ان مقدس اور متبرک شہروں میں جاتے ہیں اور حرم کی توسیع اور اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار آل سعود یعنی خادمین حرمین شریفین کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے محنت، لگن اور محبت سے کس طرح ان کو خوبصورت بنانے کی سعی و کوشش کی ہے۔ آج یہ عمارت اپنے وسیع رقبے، خوبصورت ڈیزائن اور مناسب سہولتوں کے سبب زیارت کرنے والوں متاثر کرتی ہے۔
    خادم حرمین شریفین نے ان دونوں مقامات کی زیارت کرنے والوں کے لیے بنیادی سہولتیں اور ان کے مکمل تحفظ کا خیال رکھا ہے تاکہ ضیوف الرحمن حجاج کرام اور معتمرین کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو بلکہ حجاج کرام مناسک حج ادا کرنے کے لیے جن مقامات مثلا منیٰ، عرفات اور مزدلفہ جاتے ہیں وہاں بھی ان کا مکمل خیال رکھا جاتا اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
    سعودی فرمانروا حرمین شریفین کی کھلے دل کے ساتھ خدمت کر کے خادم الحرمین الشریفین کہلانے کے حقدار ہیں اور اس پر انہیں فخر ہے اور ہونا بھی چاہیے۔
    شاھ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس:-
    قرآن مجید اللہ تعالی کی مضبوط رسی اور سیدھا راستہ ہے جو کہ ہدایت ربانی ہے۔ وہ دراصل خالق کون و مکان کی طرف سے انسانیت کے لیے عربی زبان میں خطاب ہے جس کے پہچاننے کا حکم اس خالق نے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا خاص اہتمام کیا ہے۔
    خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی طباعت اور تقسیم کے لیے "شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس” قائم کیا. آپ نے 16 محرم 1403ھ بمطابق دو نومبر نمبر 1982 اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا. اس کمپلیکس کا رقبہ 250000 مربع میٹر ہے اور یہ کمپلیکس فن تعمیر کا ایک دلکش اور خوبصورت نمونہ ہے۔ اس پرنٹنگ کمپلیکس میں اعلی معیار غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخے طبع کیے جاتے ہیں۔ قیام سے لے کر اب تک اس کمپلیکس سے مختلف انواع سائز کے 320 ملین نسخے شائع ہو چکے ہیں اور دنیا کے تقریبا 80 ممالک کے لوگ استفادہ کر چکے ہیں۔ یہ کمپلیکس اب تک 40 زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم طبع و تقسیم کر چکا ہے۔ شاہ فہد رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کو گھر گھر پہنچانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دنیا کی مختلف زندہ زبانوں میں اس کے ترجمے و تفاسیر اور اس کی توضیح اور تقسیم کر کے کے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا اور ان کے حسانات کے میزان میں بہت بڑا صدقہ جاریہ ہو گا ان شاءاللہ۔
    مجمع خادم الحرمین الشریفین الملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود للحدیث النبوی:-
    تقریبا دو سال قبل سعودی فرماں رواں جناب ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ نے اپنے ایک حکومتی فرمان کے ذریعے "مجمع خادم الحرمین الشریفین الملک سلمان بن عبدالعزیز آل السعود للحدیث النبوی” یعنی خدمت حدیث کے لئے ایک مستقل کمپلیکس قائم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ جس کی علمی کمیٹی دنیا بھر سے زائد علماء حدیث پر مشتمل ہوگی۔ اور اس کے رئیس سعودی "ھیئۃ کبار العلماء” کے رکن اور امام مجدد الدعوۃ الشیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے خاندان کے چشم و چراغ شیخ محمد بن حسن حفظہ اللہ ہوں گے۔ قرآن کمپلیس کی طرح حدیث کمپلیس کے لیے بھی مدینہ تو رسول کو منتخب کیا گیا ہے۔ خدمت حدیث کے لیے سلمان بن عبدالعزیز کا یہ عالم اسلام میں سب سے بڑا منصوبہ، اشاعت حدیث کا بہت بڑا منصوبہ، اور اشاعت حدیث کا بہت بڑا ذریعہ اور منکرین حدیث کا منہ توڑ جواب بھی ہوگا۔
    واضح رہے کہ گذشتہ سال سے اس مجمع کا آغاز ہوچکا ہے۔ مسجد نبوی کے قریب اس کا مکتبہ علمی ہے اس وقت اس میں مختلف علمی مشاریع جاری ہیں۔ قریب میں ہی "موسوعۃ الاحادیث الثابتۃ”، جمع و تخریج کا وسیع کام مکمل ہوچکا ہے۔ پچاس کے قریب باحثین نے سینئر اساتذہ حدیث کی زیر نگرانی اس پر کام مکمل کیا ہے۔ اب اس کی تصدیق و مراجعت کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ جس میں سعودی عرب کے حدیث کے معروف اساتذہ، احادیث کی مراجعت کر رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں میں عالم اسلام کی علم حدیث میں معروف شخصیات سے سے مراجعت کروائی جائے گی ان شاء اللہ۔
    آل سعود کی حقیقی کامیابی:-
    آل سعود کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کو بطور دین اپنایا ہوا ہے اور قرآن و سنت کو اپنا دستور بنائے رکھا ہے۔ اور وہ علم (جھنڈا) جو کلمہ طیبہ سے مزین ہے اس کو کبھی بھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ اس لئے حکومت کو کبھی بھی عوام کے سامنے شرمسار نہیں ہونا پڑا۔
    یوم آزادی الیوم الوطنی:-
    عقیدت و محبت کے مرکز و محور اور پاکستان کے محسن و مخلص ملک سعودی عرب کا 90 واں "الیوم الوطنی” قومی دن ہے تو اہل سعودیہ کی طرح اہل پاکستان بھی نہایت شاداں و فرحاں رہیں اور ان کے دل بھی اپنے سعودی بھائیوں کی طرح طرح معطر و منور ہو رہے ہیں۔ اور ہر کسی کے جذبات ہیں کہ ہماری جانے تک اس مقدس سرزمین پر قربان، ہم اپنے لہو سے وہاں کے چراغوں کو روشن رکھیں گے ان شاءاللہ
    ہم آل سعود شاہ سلمان بن عبدالعزیز، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز و دیگر اعیان مملکت سعودی عربیہ کو 90ویں آزادی پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور بارگاہ رب العالمین میں دست بدعا ہیں کہ اللہ تعالی ان کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے تاکہ یہ خاندان حرمین شریفین اور سعودی عوام کی مزید خدمت کر سکیں۔

  • وہ مجھے مار دیں گے سوشانت سنگھ کی موت سے پانچ دن قبل اپنی بہن کو کال

    وہ مجھے مار دیں گے سوشانت سنگھ کی موت سے پانچ دن قبل اپنی بہن کو کال

    سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا جہاں آنجہانی اداکار نے خود کو ماردینے سے متعلق انکشاف کیا تھا۔

    بھارتی شوبز کے ستارے سشانت سنگھ راجپوت 14 جون کی ممبئی میں واقع اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھےاور سی بی آئی کے علاوہ ، این سی بی اور ایس ایس آر بھی سوشانت کی موت کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

    اس کیس کو پولیس نے خودکشی قرار دیا تاہم دیگر تحقیقاتی ادارے اس کی مختلف زاویوں سے انکوائری کر رہے ہیں ایسے میں بھارتی میڈیا میں نئی رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں جنھوں نے اس کیس کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔

    بھارتی ویب سائٹ tellychakkar کے مطابق این سی بی کی تحقیقات کے دوران ریا چکرروتی اور اس کے بھائی کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں لیا گیا تھا بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کا نام منشیات بھی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔ جب کہ اطلاعات کے مطابق ریا نے بالیووڈ میں منشیات کے معاملے میں سارہ علی خان اور رکول پریت سنگھ کا نام لیا ہے ایک نیا واٹس ایپ چیٹ سامنے آیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ دپیکا پڈوکون ‘کے’ سے "مال” مانگ رہی تھی ، جو مبینہ طور پر ان کی منیجرکرشمہ پرکاش ہیں-

    تاہم اب رپورٹ کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت کے فون کا ریکارڈ دیکھا گیا جس میں انھوں نے اپنے آخری ایام میں اپنی دوست ریا چکرورتی کو مختلف اوقات میں فون کالز کیں۔

    tellychakkar کی رپورٹ کے مطابق این سی بی بالی وڈ کے منشیات کے متعلق تحقیقات کررہی ہے ، سوشانت سنگھ راجپوت کیس کی تازہ ترین رپورٹ میں یہ کہا جارہا ہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت کے انتقال سے پانچ دن قبل سوشانت نے اپنی بہن میتو سنگھ کو ایس او ایس بھیجا۔

    مبینہ طور پر 9 جون 2020 کو ، سوشانت نے ریا چکرورتی کو "متعدد بار” فون کرنے کی کوشش کی اور یہاں تک ایسے میں تحقیق دانوں کے سامنے ایک اور حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت نے اپنی بہن کو ایک ایمرجنسی کال کرکے انھیں خود کو درپیش خطرے سے آگاہ کیا۔

    tellychakkar نے اپنی رپورٹ میں ٹائمز ناؤ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سوشانت سنگھ اداکارہ ریا کے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہے تھے جو 8 جون کو گھر چھوڑ گئیں تھیں اور اس کے بعد سوشانت نے خوف کے عالم میں اس کال میں اپنی بہن میتو سنگھ کو کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے پھنسائیں گے یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔

    روینا ٹنڈن کا بالی وڈ انڈسٹری میں ڈرگز مافیا کے خلاف آپریشن کا خیرمقدم

    منشیات کیس: دیپیکا پڈوکون کی منیجر کو این سی بی نے تفتیش کے لئے طلب کر لیا

    منشیات کیس میں سارہ علی خان اور شردھا کپور کو بھی شامل تفتیش کئے جانے کا امکان

    سوشانت سنگھ راجپوت کے قریبی دوست کا سوشانت اور سارہ علی خان کے درمیان تعلقات کا…

    سوشانت سنگھ کو منشیات فراہمی کے معاملے میں اداکارہ ریا چکرورتی جیل منتقل

    بالی وڈ اداکارہ ریا چکر وتی منشیات کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار

    تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جسکی بنیاد پر کہا جاسکے کہ سوشانت سنگھ کو قتل کیا گیا ہے سی بی آئی

    ریا چکرورتی کے والد اور سابق بھارتی فوجی اندرجیت نے فوج سے مدد مانگ لی

    سی بی آئی کی تفتیش میں سوشانت سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے کیس کو مزید اُلجھا دیا

    ریا چکربورتی انٹرویو کی نہیں بلکہ تفتیش کی مستحق ہیں سوشل میڈیا صارفین

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی 50 خواہشات

    بھارتی آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم میں پاکستانی اداکار حسن خان مرکزی کردارادا کریں گے

    بھارتی لیجنڈری اداکار نصیرالدین شاہ نے بالی وڈ میں اقربا پروری اور مافیا کی بحث کو…

  • مارننگ شو میں ورزش کرتی خاتون کے متعلق تبصرہ کرنا انصار عباسی کو مہنگا پڑ گیا

    مارننگ شو میں ورزش کرتی خاتون کے متعلق تبصرہ کرنا انصار عباسی کو مہنگا پڑ گیا

    پاکستان کے معروف صحافی انصار عباسی کی جانب سے پی ٹی وی نیوز پر مارننگ شو میں ایک ورزش کے سیگمنٹ کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر شئیر کرکے اس پر ٹوئٹ کرنے سے سوشل میڈیا پر طوفان مچ گیا-

    باغی ٹی وی :پاکستان میں انٹرٹینمنٹ اور نیوز چینلز پر مارننگ شوز نشر کیے جاتے ہیں جو مختلف سیگمنٹس پر مشتمل ہوتے ہیں ان شوز میں کبھی شادی بیاہ کی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں کبھی مختلف مقابلے منعقد کروائے جاتے ہیں تو کبھی مختلف شخصیات کو بطور مہمان مدعو کیا جاتا ہےاس کے ساتھ ہی یہ مارننگ شوز کوئز، ورزش اور کوکنگ جیسے مختلف سیگمنٹس پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔

    کچھ ایسا ہی گزشتہ روز ہوا جب پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نیوز پر مارننگ شو میں ایک ورزش کا سیگمنٹ جاری تھا تو معروف صحافی انصار عباسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مارننگ شو کی ویڈیو شیئر کی تھی۔

    شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک خاتون ورزش کررہی تھی اور انہیں ایک مرد کی جانب سے ہدایات بھی دی جارہی تھیں۔

    انصار عباسی نے ویڈیو شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران، وزیراطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کو مینشن کیا اور لکھا کہ یہ پی ٹی وی ہے۔


    تاہم مذکورہ ٹوئٹ پر انصار عباسی کو سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔


    ایک صارف نے لکھا کہ اس میں کیا برائی ہے؟ گھر بیٹھی خواتین کو اگر ایکسرسائز کے زریعے تندرست رہنا سکھایا جا رہا ہے تو کیا غلط ہے؟ اپنی سوچ کو ڈیٹول سے دھوئیں.


    ایک صارف نے لکھا کہ دماغ گندہ ہو تو عورت ورزش کرتے اور بالنگ کرتے بھی بیہودہ لگتی ہےاپنا علاج کرواؤ بھائی.


    ایک صارف نے لکھا کہ بڑے ہی بدذہن جنسی مریض ہیں آپ پھر اپنی بیٹیوں بہنوں , گھر اور ورکنگ نیٹ ورک کی دیگر کو بھی اسی وحشت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں دراصل یہ آپ کی ذہنی گندگی کا گلا سڑا اظہار ہے جو آپ مذہب کے نام پر نکال رہے ہیں اپنی نظروں میں حیا پیدا کریں-


    خواتین کے حقوق کی حامی ماروی سرمد نے لکھا کہ اور اس میں بالکل غلط کیا ہے؟ وہ بھی کام کر رہی ہے۔ کس طرح بیمار خراب زہن اس میں کوئی بھی جنسی چیز دیکھتا ہے؟ عباسی صاحب ، سنجیدگی سے ، آپ کو زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔


    ایک صارف نے لکھا کہ یہاں کیا غلط ہے؟آپ کو اپنے سسٹم سے کچھ غلاظت کو فلٹر کرنے کی ضرورت ہے-


    ایک صارف نے لکھا کہ انصار عباسی مجھے نہیں معلوم پی ٹی وی پر اس میں کیا حرج ہے۔ سچ میں اگر آپ اتفاق کرتے ہیں تو ، میں آپ کی دماغی حالت کی جانچ کرنے کے لئے کسی ڈاکٹر کوادائیگی کروں گا۔ یہاں تک کہ میں دوائیوں کے اخراجات بھی ادا کروں گا۔ معاشرے میں یہ میری شراکت ہوگی کہ کم از کم 1 طے ہوگا!


    ایک صارف نے لکھا کہ خدا کا نام لیں انصر عباسی صاحب کم وبیش 20 سالوں سے یہ ورزش سگمنٹ پی ٹی وی پہ چل رہا ہے اسے کیوں خان کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔
    https://twitter.com/maulana_banana/status/1308064101919326210?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ آپکی سوچ اور نظر میں کتنی ہوس اور ناپاکی بھری ہے کہ ورزش کرتی عورت دیکھ کہ آپکو گندے خیال آگئے!


    ایک صارف نے لکھا کہ انصار عباسی جیسوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا کہ "جج صاحب ان ملاؤں کے شہوانی جذبات تو ریل گاڑی کے انجن کی چمنی دیکھ بھڑک جاتے ہیں، میرا افسانہ کیا چیز ہے(منٹو پر مولویوں نے کیس کیا تھا کہ انکی تحریر سے شہوانی جذبات بھڑکتے ہیں۔)


    ایک صارف نے لکھا کہ اپنے دماغ کی غلاظت صاف کریں اگر یہ وڈیو دیکھ کر شہوت کا شکار ہو رہے ہیں تو۔ آپکی والی ذہنیت ہی دراصل وجہ ہے تمام افسوسناک واقعات کی۔
    https://twitter.com/absurdreality_/status/1308314741992022018?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ آپ نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے دوسروں کے نہی، آپکو حکم ہے نظر نیچی رکھنے کا آپ وہ کام کریں۔ دھونس، زبردستی سے اپکو کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔اپنی نظر، اعمال، لین دین درست رکھیں، لوگوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں۔


    دوسری جانب وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی انصار عباسی پر تنقید کی اور لکھا کہ اگر ورزش اور اشتہاری بورڈز پر بھی خواتین کی تصویر آپ کو دلبرداشتہ کرتی ہے تو آپ کو حقیقت میں نفسیاتی تھراپی اور مشورے کی ضرورت ہے۔

    جس پر انصار عباسی نے جواب دیا کہ آپ ایسی حکومت کا حصہ ہیں جو ریاست مدینہ کے اصولوں کے مطابق پاکستان کی تعمیر نو کا دعویٰ کرتی ہے۔


    انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ وضاحت کریں گے کہ قرآن و سنت یا آئین پاکستان کی روشنی میں آپ کس چیز کی حمایت کرتے ہیں۔


    اینکر پرسن رابعہ انعم نے بھی طنزیہ انداز میں ٹوئٹ کی اور لکھا کہ عمران خان دیکھیں کہ صرف خاتون ورک آؤٹ کررہی ہے جبکہ مرد نہیں کررہا، یہ صحت مندانہ نہیں دنوں کو ورک آؤٹ کرنا چاہیے۔

    جہاں صارفین نے ویڈیو پر انصار عباسی کو تنقید کا نشانہ بنایا وہاں کچھ صارفین نے ان کی حمایت بھی کی-


    ایک صارف نے قرآنی آیات کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ لوگوں کو اس میں کچھ غلط نہیں لگتا کیونکہ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی برائی نہیں کہ عورت بے پردہ گھر سے باہر نکلے ، پھر بغیر دوپٹے کہ آج ٹائیٹس میں کل اسکرٹ میں ، پرسوں بیکینی میں اور پھر آگے مجھے وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں۔


    ایک صارف نے لکھا کہ ہمارے یہ ذرائع ابلاغ جس انداز میں نئی نسل کی تربیت کررہے ہیں اس کے بعد معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی جرائم کی شرح اور موٹر وے پر رونما ہونے والے سانحے جیسے واقعات کا تسلسل کیا ہماری اس تربیت کا فطری ردعمل نہیں؟https://twitter.com/TheLaibaKhan/status/1308111948140212230?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ ہمارا مذہب بھی خواتین کو "نعرمحرم” کے سامنے نہیں چلنے دیتا – وہ ٹی وی پر اقتباسات لے رہے ہیں! لبرل ہونے کا واقعتا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے مذہب کو بھول جاتے ہیں اور مغرب کے کاموں کو انجام دیتے ہیں۔


    ایک صارف نے لکھا کہ ہم صرف نام کے مسلمان رہے گے ہیں اگر یہ کچھ ہو گا تو ریپ کے کیس کیسے رکیں گے ؟


    ایک صارف نے لکھا کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے مگر افسوس یہاں کوئی کام اسلامی نہیں ہوتا یہ بے حیائی پروموٹ کرنے کا ایک طریقہ ہے-

  • کبریٰ خان کو ہر جگہ اپنی بہن دکھائی دینے لگیں

    کبریٰ خان کو ہر جگہ اپنی بہن دکھائی دینے لگیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اور باصلاحیت اداکارہ کبریٰ خان کوہر جگہ اپنی بہن نظر آ نے لگ گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : کبریٰ خان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے انکشاف کیا ہےکہ جہاں بھی دیکھتی ہیں اُنہیں ہر جگہ اپنی بہن نظر آنے لگ گئی ہیں-

    جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامے الف میں حسن جہاں کا کردار ادا کرنے والی با صلاحیت اداکارہ اداکارہ کبریٰ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے –

    کبریٰ خان کی جانب سے سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے سفید لباس میں ملبوس کبریٰ خان بے حد خوبصورت نظر آ رہی ہیں اور وہ گھر کا شیشہ صاف کر رہی ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CFKBrH4nqYJ/?igshid=fhnmqwi7gp0x
    کبریٰ خان نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ساتھ میں اپنی بہن کو یاد کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ہے کہ جب آپ اپنی بہن کو بے حد یاد کر رہے ہوں تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کو ہر جگہ نظر آنے لگتی ہے۔

    کبریٰ خان کی جانب سے شئیرکی گئی ویڈیو میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے کہ شیشہ تو وہ صاف کر رہی ہیں مگر شیشے میں بار بار اُ ن کی بہن بھی نظر آ رہی ہیں۔

    کبریٰ خان کی اس ویڈیو پر اُن کی بہن کی جانب سے بھی کمنٹ کیا گیا جن میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ بھی کبرٰی خان سے بے حد محبت کرتی ہیں اور اُنہیں بہت یاد کر رہی ہیں ۔

    کبریٰ خان کی پوسٹ پر پاکستان کی معروف اداکارہ اُشنا شاہ نے بھی کمنٹ کرتے ہوئے کہا کہ کبریٰ خان کی یہ پوسٹ دیکھ کر اُنہیں اپنی بہن کی یاد ستانے لگی ہے۔