Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پنجاب میں گیس بحران شدت اختیارکر گیا،400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز بند

    پنجاب میں گیس بحران شدت اختیارکر گیا،400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز بند

    پنجاب میں گیس بحران شدت اختیارکر گیا، گیس اور بجلی نہ ملنے پر 400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز بند ہو گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب میں چوتھے روز بھی ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی سپلائی بند ہے،گیس نہ ملنے پر 400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز کی بندش سے ایک ارب ڈالر کی برآمدات کم ہوں گی-

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن(آپٹما) کے ذرائع کے مطابق ٹیکسٹائل ملز کو برآمدی آرڈر پورے کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ ٹیکسٹائل ملز کی بندش سے ہزاروں ڈیلی ویجز ملازمین فارغ ہو گئے ہیں۔

    آپٹما نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر ٹیکسٹائل برآمدات میں ممکنہ کمی سے آگاہ کردیا ہ اپٹما کے پیٹرن ان چیف گوہراعجاز نے کہا ہے کہ گیس کی بندش سے ایک ارب ڈالرز کا زرِمبادلہ ضائع ہو جائے گا،وزیراعظم شہباز شریف فوری نوٹس لیں اورگیس بحال کی جائے مہنگے ڈیزل سے ٹیکسٹائل ملز چلانا ممکن نہیں-

    دوسری جانب سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈسٹریل بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے انرجی سپلائی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،انڈسٹریل،برآمدی سیکٹر کے مسائل کے فوری حل میں پاکستان کی معاشی بقا پوشیدہ ہے ان سیکٹرز کی مدد سے مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

  • بجلی کا بحران برقرار،بجلی کا شارٹ فال 7000 میگاواٹ سے زیادہ

    بجلی کا بحران برقرار،بجلی کا شارٹ فال 7000 میگاواٹ سے زیادہ

    بجلی کا بحران برقرار،ملک میں بجلی کا مجموعی شارٹ فال 7800 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 29ہزار اور پیداوار 21ہزار 200 میگا واٹ کے لگ بھگ ہے جبکہ بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے-

    ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز سے 10ہزار 241 میگاواٹ،وِنڈ پاور سے ایک ہزار 629 ، سولر پلانٹس سے 123،بگاس سے 120،جوہری پلانٹس سے 2ہزار 275 اور ہائیڈل پاور سے 5 ہزار میگاواٹ سمیت دیگر ذرائع سےبجلی پیدا ہو رہی ہے۔

    اُدھر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) ذرائع کے مطابق لیسکو کو تقریباً 800 میگاواٹ شارٹ فال کا سامناہے،لیسکو نے ساڑھے 3 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول دیا ہے ۔

    تاہم کئی کئی گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، لوڈمیں کمی سے ٹرانسفارمرز اور میٹر جلنےکی شکایات بھی بڑھ گئی ہیں۔

    روہڑی میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے ،عوام کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج جاری ہے جبکہ مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی ہے-

    قبل ا زیں وزیراعظم کی زیر صدارت منقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کابینہ کو پاور ڈویژن کی طرف سے لوڈشیڈنگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جون 2022 میں بجلی کی جنریشن کی کیپسٹی 23 ہزار900 میگا واٹ تک تھی اجلاس میں بجلی کی فراہمی کے دوران ہونے والے لائن لاسز کے حوالے سے بحث کی گئی۔

    اجلاس میں اتفاق کیا گیا تھا کہ لائن لاسز میں کمی کے لیے ایک مکمل پلان مرتب کیا جائے گا، گردشی قرضے میں کمی لانے کی کوششوں میں تیزی لائے جائے گی۔ شرکائے اجلاس نے پاور سیکٹر میں موجود گردشی قرضے کے حوالے سے تشویش کا بھی اظہار کیا۔

    وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہماری حکومت کا مختصر وقت باقی ہے، ہمیں اسی عرصے میں بہتری لانی ہے، کوشش کی جائے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 2 گھنٹے سے زیادہ نہ ہو بجلی منصوبے بروقت مکمل ہوتے تو لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی، پچھلی حکومت نے وقت پر گیس نہیں خریدی، پاور پلانٹس کیلئے ہمیں تیل کی خریداری کرنا پڑی۔

    میاں شہباز شریف نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کو صوبوں کے حوالے کرنے سے متعلق تفصیلی پلان بنانے کی ہدایت دی انہوں نے کہا صوبائی حکومتوں کے پاس ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے بہتر حکمت عملی کی صلاحیت ہوتی ہے۔

    وفاقی وزیر توانائی کو وزیراعظم نے ہدایت دی کہ 2 بہترین اور 2 سب سے خراب کارکردگی والی ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا دورہ کریں، دونوں کمپنیز کی کارکردگی کے فرق کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ کابینہ میں جمع کروائیں اور ٹیوب ویلز کی سولر انرجی پر منتقلی کے حوالے سے پلان جلد از جلد مرتب کریں۔

  • پی آئی اے: ٹرانفسر، پوسٹنگ اور ترقیوں کیلئے یکساں اور شفاف طریقہ کار اپنا یا جائے،خواجہ سعد رفیق

    پی آئی اے: ٹرانفسر، پوسٹنگ اور ترقیوں کیلئے یکساں اور شفاف طریقہ کار اپنا یا جائے،خواجہ سعد رفیق

    وفاقی وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق کو پی آئی اے کے ایچ آر شعبے کی بریفنگ د گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر ہوا بازی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما خواجہ سعد رفیق کو پی آئی اے کی کل افرادی قوت، انتظامی امور، انضباتی کاروائیوں اور مختلف ملازمین کی جانب سے کئے گئے مقدمات پر بریفنگ دی گئی-

    پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ہوابازی خواجہ سعد رفیق نے پی آئی اے کو ایچ آر شعبے کی اصلاحات میں پیش رفت تیز کرنے کی ہدایات دیں-

    انہوں نے پی آئی اے کو ہر شعبہ خصوصاً بیرون ملک پوسٹنگ کو صریحاً میرٹ پر کرنے کی ہدایات دیں انہوں نے کہا کہ ٹرانفسر، پوسٹنگ اور ترقیوں کیلئے یکساں اور شفاف طریقہ کار اپنا یا جائے-

    سری لنکا کی کنڈیشنز کے لیے تیار ہیں،بابر اعظم

    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پی آئی اے اپنے سالانہ کارکردگی کو جانچنے کی نظام کو بھی اصلی کارکردگی کے ساتھ منسلک کرے-

    خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت میٹنگ میں پی آئی اے کو درپیش مالی مشکلات اور کئی دہائیوں پر مبنی نقصانات کا بھی جائزہ لیا گیا اور پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا قرضہ جات اور ان سے متعلق لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا-

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

  • شاہین شاہ آفریدی خیبرپختونخوا پولیس کے اعزازی خیرسگالی سفیر مقرر

    شاہین شاہ آفریدی خیبرپختونخوا پولیس کے اعزازی خیرسگالی سفیر مقرر

    پشاور: قومی کرکٹ ٹیم کے نوجوان کھلاڑی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کوخیبرپختونخوا پولیس کا اعزازی خیرسگالی سفیر مقرر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے پشاور میں قومی کرکٹر شاہین شاہ آفریدی کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں آئی جی پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری اور دیگر پولیس حکام نے شرکت کی۔


    تقریب میں قومی کرکٹر کے پی پولیس کی وردی پہن کر شریک ہوئےاس موقع پر شاہین شاہ آفریدی کو اعزازی ڈی ایس پی کے اعزازی بیجز بھی لگائے گئے۔ قومی کھلاڑی نے پولیس وردی میں سب سے پہلے اپنے والد کو سلامی پیش کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ اصل سپر اسٹار ہماری فورسز ہیں مجھے کے پی پولیس کا سفیر بننے پر فخر ہے میرے والد بھی 25 سال تک پولیس فورس کاحصہ رہے ہیں اور بھائی اب بھی پولیس میں ہیں، پولیس کی ڈیوٹی کافی مشکل ہے بہادرپولیس فورس نے ملک و قوم کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں۔

    قومی کرکٹر کا کہنا تھا کہ تقریب میں موجود فخر زمان سمیت تمام کرکٹرز کے پی پولیس اور فورسز کے ساتھ ہیں۔

    چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گھٹن زدہ ماحول میں ایسے ایونٹ کا انعقاد قابل تعریف ہے ، شاہین شاہ آفریدی ہمارا فخر اور اسٹار ہیں۔

    انسپکٹر جنرل کے پی پولیس معظم جاہ انصاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2022 کے 6 ماہ کے دوران پولیس کے 54 آفیسرز اور جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا ۔ شاہین شاہ آفریدی کے سفیر منتخب ہونے سے خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی شاہین شاہ آفریدی کی خدمات قابل ستائش ہیں پولیس سماج دشمن عناصر کے چھکے چھڑائے گی اور شاہین شاہ کرکٹ کے میدان میں چھکے لگائیں گےشاہین شاہ آفریدی پولیس کی کامیابیوں اور خدمات میں ساتھ کھڑے ہوں گے۔

    کشمیر پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا این او سی جاری

  • سری لنکا کی کنڈیشنز کے لیے تیار ہیں،بابر اعظم

    سری لنکا کی کنڈیشنز کے لیے تیار ہیں،بابر اعظم

    قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہم سری لنکا کی کنڈیشنز کے لیے تیار ہیں ،اس کنڈیشنز میں پاکستان ٹیم اچھا کھیلتی رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نےسری لنکا کے دورے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ہمارے پاس کافی وقت تھا اور اسی سیریز کے پوائنٹس خاصےاہم ہیں، ہوم سیریز میں ہر ٹیم مضبوط ہوتی ہے جس سے فائدہ ہوتا ہے۔

    بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے وکٹیں لینی ہیں اور اسی پر فوکس کرنا ہے،وہاں کی وکٹوں اور اسپنرز کے مطابق سویپ پربھی کام کیا ہےٹیسٹ میں ایڈجسٹ ہونےمیں وقت لگتا ہےہم نے بحیثیت ٹیم اس پر کام کیا ہے کہ صورتحال کے مطابق ہم نے کیسا کھیلنا ہے اور ہم ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ٹریک پر آرہے ہیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ اسپنرز کا شعبہ اچھا ہے،یاسر شاہ واپس آئے ہیں، وہاں اسپنرز کو مدد ملےگی، مجھے اپنے فاسٹ بولرز پر بھی اعتماد ہے ،وہ ہر کنڈیشن میں اچھا پرفارم کرسکتے ہیں، ٹف کنڈیشنز میں چیلنجز ہوتے ہیں لہٰذا اسی کے مطابق خود کو تیار بھی کیا ہے سابق فاسٹ بولرشعیب اختر نے کیمپ میں آکر فاسٹ بولروں کی بہت حوصلہ افزائی کی-

    کشمیر پریمیئر لیگ سیزن ٹو کا این او سی جاری

    بابر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم اچھا کھیل رہی ہے سب کو خوش ہونا چاہیےہمیں چیئرمین اور بورڈ سے اسپورٹ ملی، ہم اچھا کھیلے اسی کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے، ابھی کمبی نیشن پر کہنا قبل ازوقت ہے، سری لنکا میں سائیڈ میچ بھی ہے اس کے بعد پلیئنگ الیون کا سوچیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں قومی کپتان نے یہ بھی کہا کہ میں ٹیسٹ میں ڈبل محنت کر رہا ہوں تاکہ میری رینکنگ اس میں بھی مزید بہتر ہو،بگ بیش لیگ (بی بی ایل) میں ابھی بہت وقت ہے، ہماری اپنی کرکٹ بہت زیادہ ہےلہٰذا ابھی اس کے بارے میں نہیں سوچا۔

    ومبلڈن اوپن:اعصام الحق کو دوسرے راؤنڈ میں شکست

  • کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید (نشانِ حیدر) کی داستان

    برف پوش پہاڑ، موسم ایسا کہ سانس بھی جم جائے لیکن جذبہ اور حوصلہ ایسا کہ چٹان بھی جُھک جائے۔ دُنیا کے بُلند ترین محازِ جنگ کارگل پر دشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے مزموم عزائم ناکام بنا کر کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے یہ ثابت کر دیا کہ بہادر مشکلات میں گھبرایا نہیں کرتا۔

    یہ ایسے بہادر سپوت کی داستان ہے جس نے جان تو دے دی لیکن وطن کی حُرمت پر آنچ نہ آنے دی۔ نہ اپنا سر جھکایا اور نہ ہی قوم کا سر جُھکنے دیا۔ یہی وہ بہادر ہیں جن کی ہمت، جرات، وطن سے محبت اور بہادری کا بر ملا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔ جنہوں نے اپنے خون سے وطن کا دفاع کیا۔بھروقت قوتِ فیصلہ، بھرپور جوابی وار اور اللہ پر ایمان نے کیپٹن کرنل شیر خان کو یہ اعزاز بخشا کہ دُشمن کو نہ صرف آگے بڑھنے سے روک دیا بلکہ واپس لوٹنے پر بھی مجبور کر دیا۔

    آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
    اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روبائی

    تاریخ ہمیشہ بہادروں کو یاد رکھتی ہے۔ جب جب جرأت اور دلیری کا ذکر آئے گا، کیپٹن کرنل شیر خان ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔کیپٹن کرنل شیر خان1970میں صوابی میں پیدا ہوئے۔ صوابی کے اس جوان نے 1992ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کی۔1994میں پاک فوج کی27 سندھ رجمنٹ جو کہ ان کی بہادری کی وجہ سے شیرِ حیدری کے نام سے پہچانی جاتی ہے اور 1999میں کارگل کے محاذ پر12این ایل آئی جو کہ ان کی جرات کی وجہ سے حیدران پلٹن جانی جاتی ہے، کا حصہ تھے۔ کیپٹن کرنل شیر خان شروع ہی سے مہم جو اور انتہائی نڈر آفیسر تھے۔

    8نومبر1992ء کو کرنل شیر پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت کے حصول کیلئے پہنچے۔ ٹریننگ کے تلخ اوقات سے وہ پہلے ہی واقف تھے مگر یہاں کے شب و روز کچھ زیادہ ہی کٹھن اور حوصلہ آزما ہیں۔

    کرنل شیر کو ”عبیدہ“ کمپنی میں بھیجا گیا۔ وہ اپنے ساتھیوں میں بُلند ہمت، مستقل مزاج اور زندہ دل مشہور تھے۔ ڈرل، پی ٹی ہر جگہ ان کی مستعدی کی تعریف کی جاتی۔ کرنل شیر خان ہتھیاروں، فیلڈ کرافٹ اور جنگی مہارت میں پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتے تھے۔ ایمان کی مضبوطی کا ثبوت یہ ہے کہ کرنل شیر کاکول کے یخ بستہ موسم میں، مشکل ترین اوقات میں بھی نفلی روزے رکھتے۔

    کیپٹن احمد وحید (بارہ این ایل آئی) بتاتے ہیں کہ:کرنل شیر نے سب جونئیر کو جمع کر کے ایک لیکچر دیا کہ میں آپ لوگوں کو صرف ایک دفعہ بلاؤں گا۔ وہ بلاوا، فجر کی نماز کے لیے ہو گا۔ لہذا نماز کے وقت سب کیڈٹ باہر جمع ہو جاتے اور کرنل شیر انہیں ساتھ لے کر مسجد کی طرف چلے جاتے۔اور ان کی شخصیت کا تاثر کچھ ایسا تھا کہ کسی لڑکے کو حکم عدولی یا بے ضابطگی کی جرأت نہ ہوتی۔ آج بھی ان کا مسکراہٹ بھرا چہرہ ہماری یادوں کا حصہ ہے۔

    لیفٹیننٹ ظہیر اعظم، کرنل شیر سے جونئیر تھے اور ان کا تعلق93لانگ کورس سے تھا۔ اپنی یادوں کے دریچے وا کرتے اور محافظ پاکستان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ: ”مجھے کرنل شیر کے ہمراہ اکیڈمی اور27سندھ رجمنٹ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ کرنل شیر کے تعلیمی نتائج بہت اچھے تھے۔ ان کی صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنل شیر کو ایک اعزازی عہدہ دے دیا گیا۔

    کرنل شیر کو ابتداء ہی سے ہتھیاروں سے بہت پیار تھا۔ وہ ایک ممتاز فائرر، نشانے باز بھی تھے۔ آپ پی ایم اے کی شوٹنگ ٹیم کا مستقل حصہ رہے۔ وہ سخت جان تھے اور اپنے قوت بازو پر مکمل بھروسہ تھا۔ پی ایم اے کے ہر شوٹنگ مقابلے کا حصہ رہے۔ انہیں بہت سے اعزازات سے بھی نواز گیا۔ پی ایم اے کے اسالٹ کورس میں کرنل شیر نے اپنے سینئرز اور ساتھیوں کو بہت متاثر کیا۔ ان کا ہتھیار تھامنے کا انداز، مشقوں میں جسمانی چستی اور ہمت و حوصلہ کما ل تھا۔ انہیں اس پر ہمیشہ تعریف اور تحسین ملی۔

    کرنل شیر کی خواہش تھی کہ انہیں انفنٹری میں بھیجا جائے۔ انہوں نے اپنی منتخب کی ہوئی برانچ میں دلچسپی کے بارے میں سب کو بتایا تھا کہ ”دشمن سے دوبدو لڑنے کا موقع انفنٹری میں سب سے زیادہ ہے“اور پھر وہ دن آگیا جس کا ہر کیڈٹ کو انتظار ہوتا ہے۔ تکمیل آرز و کا دن۔دعاؤں کی تکمیل اور وفاؤں کی پاسداری کا دن۔ اسے ”پاسنگ آؤٹ“ کہتے ہیں۔14اکتوبر 1994ء کی شام کرنل شیر پاک آرمی کے باقاعدہ سیکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔ انکے کندھے پر چمکتے ستارے در حقیقت قوم کی امانت تھے۔ یہ مقدس ذمہ داریوں کا ثبوت ہے، جو جوانوں پہ ڈال دی جاتی ہیں۔ یہ پاک فوج کا فرض اور قوم کا قرض ہے۔ نصب العین بھی ہے۔ پاک افواج تو ہمیشہ قوم کی امیدوں کا مرکز رہی ہیں اور ہمیشہ توقعات پر پوری اتری ہے۔

    جوش طوفاں، دیدہِ نمناک سے کیا کیا ہوا
    دیکھ لے دنیا میں مشتِ خاک سے کیا کیا ہوا
    27سندھ رجمنٹ:

    کرنل شیر اکیڈمی سے ستائیس سندھ رجمنٹ میں راہ راست پوسٹ ہونے والے پہلے آفیسر ہیں۔یونٹ میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اقبال محمود نے سیکنڈ ان کمانڈ ہونے کی حیثیت سے نئے آفیسرز کا خیر مقدم کیا۔
    وہ بتاتے ہیں کہ ”سیکنڈ ان کمانڈ ہونے کے باعث کرنل شیر کی پیشہ ورانہ تربیت اور شخصیت پروان چڑھانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی“۔

    انہوں نے بتایا کہ میں نے کرنل شیر کو پیشہ ورانہ فرائض میں بہت سنجیدہ اور پر اعتماد پایا۔”پاک فوج میں شمولیت میرا سب سے بڑا خواب تھا جو آج پورا ہو گیا“۔ یہ الفاظ کرنل شیر نے مجھے پہلے انٹرویو میں بتائے اور میں نے پہلے روز ہی اندازہ لگا لیا کہ یہ نوجوان کوئی خاص کام کرنا چاہتا ہے۔ وہ دانشمندہی نہیں بہادر بھی تھا۔ ٹریننگ کے دوران ہر کام میں باہمت اور آگے آگے رہنے والا۔پڑھائی کا شعبہ ہو یا حرب و ضرب کا فلسفہ، کھیل کا میدان ہو یا فائرنگ کا مقابلہ، کیپٹن شیر ہر کہیں اپنے یونٹ کے لیے اعزازات حاصل کرتے تھے۔ فزیکل ٹریننگ، اسالٹ کورس اور یونٹ کے دیگر مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ کرنل شیر نے ڈویژن کے پیرا میچز میں حصہ لیااور ڈویژن کی فائرنگ ٹیم کے ممبر تھے۔

    نائب صوبیدار قاسم ستائیس سندھ رجمنٹ میں اسی روز تعینات ہوئے جس روز کیپٹن کرنل شیر یونٹ پہنچے تھے۔ یہ ایک حسن اتفاق تھا۔ قاسم اپنی یادوں کے گوشے وا کرتے ہیں کہ ایک جونیئر سپاہی کے طور پر مجھے کرنل شیر خان جیسا رول ماڈل میسر آیا۔ میرے لئے یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ میں انہیں یونٹ میں ہر وقت متحرک اور مصروف دیکھتا۔ سائیکل پر سوار یہ نوجوان افسر یونٹ کی ہر سر گرمی میں پیش پیش ہوتا تھا۔ قاسم اپنے ٹریننگ سنٹر جب کہ کرنل شیر خان پی ایم اے سے 27سندھ رجمنٹ کا حصہ بنے تھے۔ وہ قاسم کو بہت پسند کرتے تھے، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ قاسم جسمانی مشقت اور مختلف سرگرمیوں میں کرنل شیر کے ہمراہ رہتے تھے۔ قاسم بتاتے ہیں کہ؛

    کرنل شیر خان جسمانی مشقت کے عادی تھے۔ پی ٹی، ڈرل اور مختلف سر گرمیوں میں ان کو کوئی مقابل نہیں ہو تا تھا۔ یونٹ کی شوٹنگ ٹیم کو لیے پہروں فائرنف رینج پر پریکٹس کراتے، انہیں مختلف تکنیک سمجھاتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ سائیکل یا موٹر سائیکل پر سوار ہر وقت نظر آتے اور یونٹ کی ہر سر گرمی میں اپنا کردار ادا کرتے تھے۔

    کرنل شیر خان کو اپنی یونٹ27سندھ رجمنٹ سے بہت محبت تھی۔ ان کی ہر چیز میں 27کا ہندسہ جھلکتا تھا۔ شیر خان کے سینئرز میں وہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

    14جولائی1995ء کو انہیں لیفٹیننٹ کے رینک پر ترقی ملی۔ 29جولائی1995ء میں انہیں سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹکس کوئٹہ میں کورس کے لیے بھیجا گیا۔ اس کورس کی تکمیل14دسمبر 1995ء کو ہوئی اور نتائج ایک مرتبہ پھر بہترین رہے۔اس کورس کی تکمیل کے بعد 5جنوری1996ء کو انہیں اسی کمپنی کا کمانڈر بنا دیا گیا۔

    17اکتوبر 1996ء کو انہیں کیپٹن کے عہدہ سے سرفراز کیا گیا۔ آپ کے رینک کی خوشی میں ایک تقریب کا اہتمام ہوا۔ اس تقریب میں کرنل شیر نے اپنی یونٹ کو ایک جی تھری رائفل کا ماڈل بھی پیش کیا۔ وہ ماڈل آج بھی 27سندھ رجمنٹ میں محفوظ ہے۔ اس کے جوانوں اور افسروں کے لئے ایک سنگِ میل ہے۔ان کی بات بات اور تمام حرکات و سکنات سے عسکری رنگ جھلکتا تھا۔ کرنل شیر نے دو مرتبہ اپنے یونٹ میں کمانڈو پلاٹون تیار کی۔ کمانڈ وپلاٹون کی تیاری بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس میں 37کلو میٹر کا فاصلہ، ہتھیار اور37کلو گرام وزن کے ساتھ طے کرنا ہوتا ہے۔ یہ سفر دشوار گزار راستوں سے کیا جاتا ہے۔

    رات کو منزل کی نشاندہی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور بچاؤ اور فائرنگ بھی اس کورس کا حصہ ہیں۔ کرنل شیر ایک سچے سپہ سالار کی طرح ہمیشہ آگے آگے ہوتے تھے۔ان کے کندھوں پر ایک کی بجائے تین تھیلے لدے ہوتے تھے، یعنی ساٹھ کلو وزن کے ساتھ وہ لیڈر شپ کا عملی نمونہ پیش کرتے تھے۔ ان کی کمانڈو پلٹن کی تیاری کے دوران بولا گیا ایک فقرہ اب بھی27سندھ رجمنٹ کے جوانوں کو رُلا دیتا ہے”ماڑا بھاگنے میں کیا انگریزی ہے، پچھلا پاؤں اٹھا کر آگے رکھ دو“-

    فوج میں فائرنگ رینج پہ قوانین و ضوابط کی پابندی ضروری اور اہم ذمہ داری ہے۔یہاں پر ہونے والی فائرنگ کے دوران کرنل شیر سارا دن کڑی دھوپ میں گزار دیتے۔ جب وہ اپنی پارٹی کو تیار کرواتے تو کچھ دوسرے لوگ بھی فائرنگ رینج پہ فائرنگ کی مشق کر رہے ہوتے۔ کرنل شیر فائر ختم کروا کرفوراََ ٹارگٹ کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے، حالانک یہ حفاظتی اقدامات کے خلاف ہے۔ مگر وہ ہمیشہ کہتے ماڑا جو گولی نہیں لگنی، وہ نہیں لگے گی اور موت اسی گولی سے ہوگی،جس پر امارا نام لکھا ہو گا-

    نام انسانی شخصیت کا عکاس ہوتا ہے، نقاش بھی، زندگی کے دائروں پہ یقینا اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بعض نام پہچان ہونتے ہیں اور کچھ نشان بن جاتے ہیں۔ نشان منزل بھی ہو سکتے ہیں۔ کرنل شیر بھی ایک ایسا ہی منفرد نام ہے۔ ایک ایسا نام جس کو بہادری اور جوانمردی کی علامت سمجھا جا تا ہے۔

    اس بہادر سپوت نے جنوری1999ء میں خود کو لائن آ ف کنٹرول پر تعیناتی کے لئے پیش کیا۔ کارگل کی جنگ کے دوران 12این ایل آئی میں تعینات ہوئے۔ آپ نے پلٹون کمانڈر کے طور پر بے شمار خدمات سر انجام دیں کارگل جنگ کے دوران مشکل ترین چوٹیوں پر وطن کا دفاع کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی۔

    کارگل جنگ کے دوران کیپٹن کرنل شیر خان نے متعدد آپریشنز کی قیادت کی۔آپ نے دُشمن کے بہت سے حملوں کو پسپا کر کے انہیں بھاری نقصان پہنچایا۔5جولائی1999کو کیپٹن کرنل شیر اوراُن کے14ساتھیوں کو کاشف اور وکیل پوسٹ کے درمیان موجود مزاحمتی ناکہ بندہ کو ختم کرنے کا مشن سو نپا گیا۔

    اِس دوران کیپٹن کرنل شیر خان کو دشمن کی ایک اور مزاحمتی پوزیشن اور کاشف پوسٹ کی جانب بڑے حملے کی غرض سے آگے بڑھتی دُشمن کی سپاہ کی کثیر تعداد نظر آئی۔اِن سخت کٹھن حالات کے باوجود آپ نے اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے ہمراہ دُشمن پر بھرپور حملہ کر کے اُسے ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اِس جرأت مندانہ معرکے میں آپ دشمن کے سنائپر فائر کی زد میں آگئے اور5جولائی1999کو شہادت کا تمغہ اپنے سینے پر سجا یا۔

    پاک فوج کے اس جوان نے بھارتی فوج کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ اُن کا نام ہندوستان کے میں بھی خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی اِس دلیرانہ کارروائی نے دشمن کے قدم اکھاڑ دئیے اور اُسے بھاری نقصان اُٹھانا پڑا۔ ہندوستانی بریگیڈ کمانڈر بریگیڈئیر ریٹائرڈ مہندر پراتاب سنگھ نے آپ کی بے خوفی اور دلیری کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ”اُن کی قیادت میں بھرپور جوابی حملوں نے ہمارے قدموں کو اُکھاڑ دیا تھا“۔دن کی روشنی میں جوابی حملہ صرف شیر خان ہی کا کام تھا۔

    کیپٹن کرنل شیر خان نے اپنی ہمت، جرات، بہادری اور بہترین حکمت عملی سے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ دن کی روشنی میں دُشمن کی چوٹی (ٹائیگر ہل اور اردگرد کے ملحقہ پہاڑوں) پر بھرپور حملہ کیا۔اس حملے کی ایسی دہشت تھی کہ ہندوستان کی 8سکھ بٹالین کو اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کے لئے اضافی نفری منگوانی پڑی۔کرنل شیر خان اس چوٹی کے حصول کے لئے آخری دم تک لڑتے رہے حتیٰ کہ جامِ شہادت کے وقت بھی اُن کی اُنگلی بندوق کے ٹریگر پر تھی۔

    کیپٹن کرنل شیر خان کی دلیری اور بہادری کا بھرپور اعتراف کیا گیا تھا اور دُشمن کی طرف سے خط میں لکھا گیا کہ ”کیپٹن شیر خا ن نے جس طرح خود اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مقابلہ کیا اُنھیں اس بہادری پر اعلیٰ اعزاز سے نوازا جانا چاہیے“۔

  • لودھراں میں تیزاب سے جلی ہوئی لڑکی کی لاش برآمد،بہاولنگر میں بھی 18 سالہ لڑکی قتل

    لودھراں میں تیزاب سے جلی ہوئی لڑکی کی لاش برآمد،بہاولنگر میں بھی 18 سالہ لڑکی قتل

    پاکستان کے ضلع پنجاب کے علاقے لودھراں میں کھیتوں سے ایک لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق نامعلوم ملزمان نے لڑکی کو تیزاب سے جلا کر قتل کیا گیا اور لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحویل میں لے لیا اور مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے-

    تین سال قبل بہن کو بھگا کر شادی، سالے نے بہنوئی کو گلا دبا کر قتل کر دیا

    دوسری جانب بہاولنگر میں 18سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کردیا گیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے لڑکی کی لاش پنکھے سے لٹکا کر خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے پولیس کو لگتا ہے کہ یہ قتل غیرت کے نام پر کیا گیا ہے تاہم پولیس نے لڑکی کے والد کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا ہے-

    فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی

    قبل ازیں لاہوروحدت کالونی کے علاقے میں تین سال قبل بہن کو بھگا کر شادی کرنے پر سالے نے بہنوئی کو گلا دبا دیا تھا مقتول کی شناخت 23 سالہ نفرعباس کے نام سے ہوئی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم اسد نے نوجوان نفر عباس کو قتل کیا ،مقتول کا بہنوئی اور بہن بھی زخمی تھے-

    نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے ڈاکٹر اور اس کا بیٹا ہلاک

    ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ03 سال قبل مقتول نفر قاتل کی بہن کو بھگا کر لے گیا تھا بعد ازاں صلح کے بعد قاتل کی بہن اپنے گھر واپس چلی گئی مقتول نفر اور اسد آپس میں رابطہ میں رہے قاتل اسد مقتول کے گھر ہی تھا آج صبح نفر کو قتل کرکے اور مقتول کی بہن اور بہنوئی کو زخمی کرکے فرار ہو گیا-

    اٹلی میں برفانی تودہ گرنے سے 6 کوہ پیما ہلاک اور 8 زخمی

  • حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں  ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کا مریڈ میدان جمہوریت میں ازقلم :غنی محمود قصوری

    حاجی صاحب بمقابلہ کامریڈ میدان جمہوریت میں

    ازقلم غنی محمود قصوری

    کہتے ہیں کہ لالچ بری بلا ہے اور ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے ایک اور بات بہت مشہور ہے کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے ایک معروف قصہ ہے کہ ایک حاجی صاحب کی دکان کے ساتھ والی کامریڈ صاحب کی دکان خوب چلتی تھی سارا دن رش رہتا اور ساتھ کی دکان والا کامریڈ خوب پیسہ کماتا جس سے حاجی صاحب نے بھی شارٹ کٹ مار کر پیسے حاصل کرنے کا سوچا-

    حاجی صاحب نے بات سن رکھی تھی کہ پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے حاجی صاحب نے بھی تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک دن کامریڈ صاحب کی دکان پر گیا اور بولا کامریڈ صاحب سنا ہے پیسے کو پیسہ کھینچتا ہے اور میں اس بات کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں سو مجھے اپنے گلے تک رسائی دیجئے-

    کامریڈ نے کہا حاجی صاحب سو بار کیجئے ہم بھی دیکھ لیں گے کہ کامیابی کیسے اور کتنے پیسے والے کی ہوتی ہے حاجی صاحب نے ایک چھوٹا سا سکہ جیب سے نکالا اور گلے میں بنے سکے ڈالنے والے سوراخ کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا مگر فضول کوئی ردعمل نا ہوا اور کامریڈ کا کوئی پیسہ حاجی صاحب کے پیسے کو نا چمٹا –

    خیر حاجی صاحب نے ہمت نا ہاری اور دوبارہ عمل شروع کر دیا تھوڑی دیر بعد حاجی صاحب کا اپنا سکہ بھی سوراخ سے کامریڈ کے گلے میں گر گیا یہ دیکھ کر کامریڈ نے تالی ماری اور بولا واقعی جناب آپ نے سچ ہی سنا تھا کہ پیسے کو پیسہ ہی کھینچتا ہے مبارک ہو آپ کا تجربہ کامیاب رہا ہے-

    یہ سن کر حاجی صاحب کا رنگ فق ہو گیا اور مارے غصے سے چلانے لگے او نامراد غلط تجربہ ہوا ہے میرا تو اپنا بھی چلا گیا اب میں کیا کروں گا میرے پاس تو یہی ایک سکہ تھا جبکہ تمہارا تو گلا پیسوں سے بھرا ہوا ہے-

    اس بات پر کامریڈ مسکرایا اور بولا حاجی صاحب آپ نے دیہان نہیں دیا کہ زیادہ طاقت کم طاقت کو کھا جاتی ہے اسی طرح زیادہ پیسہ کم پیسوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور میرے گلے میں زیادہ پیسے تھے اور آپ کے پاس محض ایک سکہ آپ نے ایک معمولی طاقت سے میری زیادہ طاقت کو کھینچنے کی کوشش کی تھی اور لالچ میں اپنی طاقت بھی ضائع کروالی اب فرمائیں کہ سکون ہے آپ کو تجربے سے-

    کامریڈ حاجی صاحب سے مخاطب ہوا کہ آپ کو چائیے تھا کہ اس بات کو ذہن نشین رکھتے کہ پیسے کو پیسہ اس صورت کھینچتا ہے جب اس کا استعمال کرکے اس سے کاروبار کیا جائے مگر آپ نے لالچ میں آکر غلط رنگ کو اپنایا سو اب آپ اپنی بھی طاقت کھو بیٹھے ہیں-

    قارئین بلکل اسی حاجی صاحب کی طرح ہماری کچھ سیاسی جماعتیں بہت سے اسلامی نظریات کا نعرہ لگا کر میدان میں أتی ہیں کارکنان بھی بڑے پرجوش ہوتے ہیں کہ چلو کسی نے اسلام کی بات کی سو اس بار ووٹ ان کا پکا لیکن پھر وہی لالچ اور ہوس کہ جلد شہرت، اقتدار اور کرسی حاصل کرنے کیلئے کسی دوسری بڑی سیاسی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہی حاجی صاحب والا طریقہ اپنا کر اپنی طاقت بھی ضائع کر بیٹھتی ہیں-

    ان کا مقصد ہوتا ہے کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی تعریفیں کرکے اپنے کارکنان تک اس جماعت کی حمایت کا پیغام پہنچانا اور بالآخر الیکشن کے بعد اپنے کارکنان بھی اس حاجی صاحب کی طرح کامریڈ کی جماعت میں پھینک چھوڑتی ہیں-

    حالانکہ کہ ہونا تو یہ چائیے کہ اپنی سیاست کی جائے اور آہستہ آہستہ اپنے نظریات کو اپنے کارکنان تک پہنچا کر کارکنان کو اس رنگ میں رنگا جائے اور پھر چند سالوں بعد مطلوبہ اقتداری ہدف حاصل کیا جائے مگر جلد بازی و لالچ میں غلط راستے کا انتخاب کرکے وہ جماعتیں آخر ختم ہی ہو جاتی ہیں اور کارکنان پہلے سے بنی بڑی اور مضبوط جماعت کی آواز بن کر اس کی أواز و نظریات کو بول جاتے ہیں-

  • پاکستان میں سعودی سفیر کا دورہ سوات، جڑواں بہنوں سے ملاقات

    پاکستان میں سعودی سفیر کا دورہ سوات، جڑواں بہنوں سے ملاقات

    پاکستان میں سعودی سفیر نواف المالکی نے اتوار کو سوات کا دورہ کیا، جہاں سعودی سفیر نے جڑواں بہنوں فاطمہ اور مشاعل سے آپریشن کے 7 سال بعد خصوصی ملاقات کی آپریشن سے قبل جڑواں بچیاں پیٹ اور سینے سے جُڑی ہوئی تھیں-

    باغی ٹی وی: (پیراسیٹک ٹون) پیدائشی جڑواں بہنوں کا آپریشن 2016 میں ہوا تھا، دونوں بچیوں کے والد نے سعودی حکومت اور قیادت کی طرف سے بچیوں کی دیکھ بھال اور توجہ دینے پر اشکریہ ادا کیا۔


    واضح رہے کہ سعودی عرب میں اب تک 22 ملکوں کےایک دوسرےسے جڑے ہوئے 118 بچوں کے کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں د سمبر 1991 میں ریاض کے شاہ فیصل ہسپتال میں ڈاکٹرعبداللہ الربیعہ کی سربراہی میں مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا سیامی بچوں کا آپریشن کیا گیا جو سوڈانی بچیوں ‘سماح اورھبہ’ کا تھا۔ بچیاں پیٹ اور سینے سے جڑی ہوئی تھیں۔


    تین دہائی قبل سعودی عرب میں اس نوعیت کا آپریشن کرنا انتہائی اہم پیش رفت اور چیلنج تھا۔ اس وقت کی رپورٹوں کے مطابق آپریشن میں کامیابی کا تناسب 55 سے 60 فیصد تھا تاہم پہلا کامیاب آپریشن سیامی بچوں کے آپریشن کے میدان میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

    واضح رہے کہ پیراسیٹک ٹون (parasitic twins) عام جڑواں بچوں سے اس طرح مختلف ہوتے ہیں کہ ماں کے پیٹ کے اندر ایک بچے کی نشو و نما رک جاتی ہے اور وہ دوسرے نارمل بچے کے ساتھ پیدائش کے بعد بھی نامکمل حالت میں جڑا رہتا ہے۔

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 380 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے،امریکی تجزیہ کار

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 380 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے،امریکی تجزیہ کار

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 380 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی بینک جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے اگر روس نے امریکہ اور یورپ کی جانب سے عائد پابند یوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اورخام تیل کی پیداوار میں کمی کر دی تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 380 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

    روس کا یورپ کو گیس سپلائی کرنیوالی پائپ لائن بند کرنے کا اعلان

    تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں ممکنہ کمی دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے جبکہ پیداوار میں 30 لاکھ بیرل کمی لندن میں خام تیل کی قیمتوں کو 190 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دے گا۔

    تجزہہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پیداوار میں 50 لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی کی جاتی ہے تو خام تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 380 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    دوسری جانب روس نے یورپ کو گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن نارڈ اسٹریم ون کو 10 دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    روس یوکرین تنازعہ،یورپ میں سنگین بحران کا خدشہ

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ نارڈ اسٹریم ون گیس پائپ لائن 11 جولائی سے 21 جولائی تک بند رہے گی، پائپ لائن کو مرمت کی غرض سے بند کیا جارہا ہے، تاہم گیس پائپ لائن بند ہونے سے یورپ میں گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    یورپ کو 60 فیصد گیس نارڈ اسٹریم پائپ لائن سے سپلائی کی جاتی ہے جو بند ہونے سے یورپ کو گیس کی سپلائی آدھی رہ جائے گی۔

    روس اورچین کا مغرب کے(G7) کےمقابلے میں نیاگروپ بنانےکافیصلہ