Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مسجد آیا صوفیہ نماز جمعہ میں دیریلیس ارطغرل اداکاروں کی شرکت

    مسجد آیا صوفیہ نماز جمعہ میں دیریلیس ارطغرل اداکاروں کی شرکت

    گزشتہ روز 24 جولائی کو ترکی کی قدیم مسجد آیا صوفیہ میں 86 برس بعد نماز جمعہ ادا کی گئی جس میں ترک صدر سمیت متعدد معروف شخصیات نے بھی شرکت کی سعادت حاصل کی-

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز 24 جولائی کو ترکی کی قدیم مسجد آیا صوفیہ میں 86 برس بعد نماز جمعہ ادا کی گئی جس میں جہاں ترک صدر سمیت متعدد معروف شخصیات نے بھی شرکت وہیں مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز ’دیرلیش ارطغرل‘ کے بھی چند اداکاروں نے بھی شرکت کرنے کی سعادت حاصل کی-
    https://www.instagram.com/p/CDCN3ELps2E/?igshid=fqwewb5k7fxc
    دیرلیش ارطغرل میں مرکزی کردار اطغرل کے خاص سپاہی کا کردار ادا کرنے والے عبدالرحمٰن ’سیلال‘ نے بھی با جماعت نماز ادا کی اور آیا صوفیہ مسجد کا دورہ کیا ۔
    https://www.instagram.com/p/CDBt4nqpiAB/?igshid=1r0gxy89pk8xg
    سیلال نے صوفیہ مسجد میں لی گئیں خوبصور ت تصاویر اورویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں اور اللہ کا شکر ادا کیا –

    دوسری جانب دیرلیش ارطغرل غازی کے سیزن 3 اور 4 میں اصلیحان خاتون کا اہم ترین کردار ادا کرنے والی اداکارہ گُلسم نے بھی تاریخی مسجد آیا صوفیہ کا دورہ کیا۔
    https://www.instagram.com/p/CDBY5s-nz3E/?igshid=arot2whbpzyq
    گُلسم نے آیا صوفیہ مسجد میں لی گئی اپنی ایک خوبصورت تصویر اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر شیئر کی –

    واضح رہے کہ گذشتہ روز ترک صدر رجب طیب اردوان کے علاوہ ترکی کی دیگر سیاسی شخصیات نے بھی آیا صوفیہ میں نمازِ جمعہ ادا کی، نماز کی ادائیگی کے لیے نہ صرف ترکی کے لوگ بلکہ اس روھ پرور منظر کو دیکھنے کے لئے دوسرے ممالک سے بھی مسلمانوں نے شرکت کی –

    یاد رہے کہ رواں ماہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔

  • وفات کے امور میں رہنمائی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف

    وفات کے امور میں رہنمائی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف

    وفات کے موقع پر بعض امور میں ہر فرد رہنمائی اور مدد کا طلب گار ہو تا ہے اس سلسلے میں تعلیم ، آگاہی اور مدد کی فراہمی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : بے شک ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، وفات کے بعض امور میں ہر فرد رہنمائی اور مدد کا طلب گار ہو تا ہے اس سلسلے میں تعلیم ، آگاہی اور مدد کی فراہمی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف کروائی گئی ہے جو بیماری وفات ،نماز جنازہ ،کفن تدفین ،قبرستان اور تعزیت کے احکام اور مسائل کے سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے-
    https://twitter.com/Ayesha701900053/status/1286986284876144640?s=19
    مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن سے نہ صرف ان تمام امور کے سلسلے میں رہنمائی کو تحریری بلکہ آڈیو اور ویڈیو سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور میت کے کفن دفن کا طریقہ سیکھا جا سکتا ہے علاوہ ازیں اس میں روابط کی کیٹگری بھی شامل ہے جس میں ایمبولیس ، میت بس ، فری کفن کا حصول ،میت کے غسل لئے غسال ،سرد خانوں اور مختلف علاقوں میں قبرستانوں کے محل وقع اور رابطہ نمبر بھی دستایب ہیں –

    مزید اس ایپ میں سوالوں جوابوں کی کیٹگری بھی شامل کی گئی جس میں کسی بھی مسئلے پر سوالات کے جوابات علامء اکرام سے حاصل کئے جا سکتے ہیں –

    یہ ایپ گوگل پلے سٹور پر دستیاب ہے اس سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اسے گوگل پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں-

    مسنون جنازہ ایپ

  • سفرِ محمود سے سفر آخرت تک   تحریر:ساحل توصیف

    سفرِ محمود سے سفر آخرت تک تحریر:ساحل توصیف

    ۔سفرِ محمود سے سفر آخرت تک۔
    ۔۔۔۔۔۔۔ساحل توصیف۔۔۔۔۔۔
    ِوہ وقت نہیں آنے والا ساحل
    اگر وقت کوکوئ روک لیتا تو میں زمانے کو ہی روک لیتا۔۔
    آج سے دوسال پہلے میرے ابو حج کی سعادت کے لئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے تھے۔اس سے پہلے اتنے بیمار ہو گئے تھے کہ ہم نے اةن کے زندہ رہنے کی آس چھوڑ دی تھی مگر اللہ کا کرنا کچھ اور تھا اور بلکل صحتیاب ہو گئے تھے پھر وہ دن بھی آگئے اللہ نے اُنہیں حج کرنے کی توفیق بھی بخش دی ۔میرے ذہن میں اب بھی وہ دن وہ پَل یاد ہیں جب ائرپورٹ جانے کے دوران بس میں میرے ابو ہاتھ ہلا ہلا کہہ رہے تھے کہ اب گھر جاؤ جیسے کہ رب نے ان کا انتخاب مکہ مکرمہ کے طواف کے لئے کیا تھا مدینہ سے آنے والی ہوائیں اُن کے استقبال کے لئے رب نے مقرر کی تھی اور مکہ مکرمہ کی وادیاں اُن انتظار میں بیٹھی ہیں ایسے خوش تھے جیسے رب نے بُھلاوا بیجا تھا کہ آ اب تجھے میں اپنی پاک سرزمیں کی سیرکرا کے پھر اپنے پاس بُلا لونگا۔میں بھی بہت خوش تھا کیونکہ میرے ابو کی دیرینہ خواہش تھی کہ کب میرے نصیب میں رب کے گھر کی زیارت نصیب ہو ۔وہ تو بہت خوش تھے اور دوسری طرف میری آنکھوں میں آنسو بھی رواں تھے کیونکہ میں زندگی میں اپنے ابو بہت جدجہد کرتے دیکھا تھا ۔بہت محنت ومشقت کرکے اُنہوں نے ہمیں پالا تھا اُن کی محنت وجدوجہد کا یہ عالم تھا کہ دن میں کبھی کبھار آرام فرماتے تھے۔اب وہ دن بھی آگئے تھے کہ اُنہیں سفر محمود پے روانہ ہونا تھا اور ہاتھ ہلا کر کہہ رہے تھے اب گھر جاؤ۔مکہ مکرمہ پہچتے ہی دوسرے دن جب فون کیا تو تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہو رہے تھے جوں جوں دن گُزرتے گئے وہ ہمیشہ فون پے بتاتے تھے کہ یہاں جتنا سکون مجھے ملتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اب گھر کبھی نہ آؤ پر جب فریضہ انجام دینے کے بعد گھر وآپس آگئے تو بار بار کہہ رہے تھے کہ میں پھر سے حج بیت اللہ کرنے کے لئے جانا چاہتا ہوں کیونکہ اُنہیں اُس سر زمیں سے اتنی محبت تھی کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا ۔کیونکہ اُنہیں وہاں بہت سکون ملا تھا کیوں نہیں ملتا آخر انسان جس سے محبت کرتا ہے اُس کے پاس سکون قلب بھی ملتا ہے۔اور ہمیں کیا پتہ تھا کہ سفر محمود سے آکر سفر آخرت اُن کے انتظار میں بیٹھی ہیں ۔سفر محمود پے جاتے وقت اُن کی خوشی دیدنی تھی ۔اور سفر آخرت پر جاکے پُرسکون نیند میں سوئے تھے جیسے کہہ رہے تھے اب رب سے ملنے کا وقت ہے میری زندگی کی سانسیں یا مہلت اس دُنیا سے ختم ہو چُکی ہیں اب رب سے ملنے کاوقت ہے پُرسکون چہرہ جس کو میں اپنی زندگی کی آخری سانس تک نہیں بُھلا سکتا
    ہمیں بتا رہا تھا اب مجھے چین کی نیند سونے دو کیونکہ زندگی میں بہت سی سختیاں برداشت کی ہیں بہت سے دُکھ سہے ہیں بہت سی مشکلاتوں کا سامنا کیا ہیں بہت محنت اور جدوجہد کی ہیں میں نے اب میں پُرسکون ہو کر سونا چاہتا ہوں میں اُس ابدی زندگی کی طرف روانہ ہو رہا ہوں جہاں نہ کوئ غم ہو گا نہ کوئ پریشانی۔وہ تو پُرسکون ہو کر سو گیا اللہ کی رحمتوں میں مگر مجھے بے آسرا کر گیا مجھے تو اب ایسا لگ رہا ہے کہ اوپر چھت آسمان ہے آسمان تک مجھے کوئ آسرا دکھائ نہیں دیتا ہے ۔
    اب تو زندگی اُداس سی لگنے لگی ہے زندگی کی رونقیں ختم سی ہو گئ ہیں کیونکہ بچپن سے ماں اور باپ دونوں کا پیار ابو سے ہی ملتا تھا ماں تو بچپن میں ہی داغ مفارقت دے چُکی تھی اب تو ابو ہی ایک سہارا تھا وہ بھی داغ مفارقت دے چُکے ہیں ۔۔
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو اس دُنیا میں آتا ہے اُس کو یہاں سے جانا پڑتا ہے مگر کچھ یادیں کچھ باتیں انسان کے روح کو اثر انداز کرتی ہیں ۔میرے ابو تو چلے گئے مگر یادیں ایسی چھوڑ گیا کہ اُنہیں زندگی میں بُھلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اُن کی جدوجہد بھری زندگی کبھی بھولے سے بھی نہیں بھول سکتے۔میرے لئے وہ ایک جہاں تھا ایک دُنیا تھا کہ جس سے میں روٹھتا تھا اور وہ مناتا تھا ۔
    بچپن میں ۔میں ایک بار روٹھا تھا رات کے بارہ بجے تک میں میں ایک ڈرم میں چُھپا ہوا تھا اور وہ مجھے ڈھونڈ رہے تھے جب میں نا ملا تو وہ تھکے ہارے آکے کچن میں بیٹھ گئے تبھی مجھے بھوک لگی اور میں اُن کے سامنے نمودار ہوا ۔اُنہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور دیر تک چومتے رہے۔ تب جاکے میری امی اور ابو نے میرے ساتھ ساتھ کھانا کھایا اور پھر سو گئے۔ ایسے ہی بہت سارے واقعات جو میرے قلب وذہن کو بہت اثر انداز کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن کی یادیں ذہن سے جانے کا نام ہی لے رہے ہیں اور مجھے بہت تڑپا رہے ہیں اب بس اللہ سے یہ ہی دُعا ہے کہ اُنہیں جنت کے باغوں میں سے ایک باغ عطا کرے بس یہ خواہش ہے کہ جب بھی آخرت میں اُن سے ملاقات ہو تو وہ خوشی خوشی ہمارا استقبال کرے۔۔۔
    ۔آسمان اُن کی لحد پر شبنم افشانی کرے۔۔۔۔

  • قربانی کی اہمیت و فضیلت   تحریر:عبیر عطاء الرحمٰن علوی

    قربانی کی اہمیت و فضیلت تحریر:عبیر عطاء الرحمٰن علوی

    عبیر عطاء الرحمٰن علوی
    قربانی کی اہمیت و فضیلت:
    ⦁ قربانی رسول کریمﷺ کا دائمی عمل، سنت مؤکدہ اور سنت ابراہیمی بھی ہے ۔ لہٰذا ہر صاحب استطاعت کو اس سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔
    (بخاری:5553، الصافات : 99 تا 108)
    ⦁ ایک آدمی ایک سے زائد قربانیاں کر سکتا ہے (بخاری: 5553)
    ⦁ ایک جانور پورے گھر والوں کی طرف سے کفایت کر جائے گا۔(بخاری:7210)
    ⦁ کسی کو قربانی کے لیے جانور عطیہ کرنا جائز ہے ۔ (بخاری:5547)
    ⦁ جس شخص کو قرضہ ادا کرنے کی امید ہو وہ قرضہ لے کر بھی قربانی کر سکتا ہے اسی طرح استطاعت ہونے پر مقروض کے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
    (مجموع الفتاویٰ : 26/305)
    ⦁ قربانی کے لیے آدمی کا صاحب نصابِ زکوۃ ہونا ضروری نہیں کیوں کہ اس قید کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔
    ⦁ میت کی طرف سے قربانی: یہ مسئلہ اہل علم میں اختلافی ہے اور دلائل کے لحاظ سے قوی بات یہ ہےکہ میت کی طرف سے الگ جانور کی قربانی کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔ البتہ اپنی قربانی میں فوت شدگان کو اور دیگر قربانی نہ کرنے والوں کو دعا میں شامل کرنا ثابت ہے۔بعض لوگ رسول اللہﷺ کی طرف سے قربانی کرتے ہیں جب کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
    قربانی کرنے والوں کے اوصاف:
    ⦁ قربانی کرنے والا عقیدہ توحید پر پختہ ہو، جس کے عقیدے میں شرک ہو اس کے اعمال مردود ہیں۔
    ⦁ خلوص سے قربانی کی جائے ، رضائے الٰہی مقصود ہو ، ریاء کاری سے اعمال برباد ہوتے ہیں ۔
    ⦁ رزق حلال ہو ۔
    ⦁ سنت پر کاربند ہو۔
    قربانی کے جانور اور ان کے اوصاف:
    ⦁ قربانی کے جانور ’’بھیمۃ الانعام ‘‘ یعنی بھیڑ ، بکری، گائے، اونٹ (مذکر و مؤنث ) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر حلال جانوروں کی قربانی درست نہیں کیوں کہ وہ ثابت نہیں۔
    ⦁ بھینس کی قربانی میں علماء کا اختلاف ہے لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی قربانی سے بچا جائے اور جو نبی کریمﷺ کے دور میں جانور ذبح ہوئے وہ میسر ہیں تو انہی کی قربانی کی جائے۔
    ⦁ قربانی کے لیے صحت مند ، خوب صورت، موٹے تازے جانوروں کا انتخاب کیا جائے۔(بخاری: 5565، ابوداؤد:2796) بخاری قبل حدیث :5553
    ⦁ سینگوں اور بغیر سینگوں ولے ، خصی ، غیر خصی جانوروں کی قربانی جائز ہے ۔ (ابوداؤد :2796، 2792، بخاری :5564)
    ⦁ حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے ، اس صورت میں بچہ زندہ نکل آئے تو اسے الگ ذبح کیا جائے گا، اگر مر چکا ہو تو ماں کا ذبح ہی اس کے لیے کافی ہے ، کسی کا دل چاہے تو وہ حلال ہے کھایا جا سکتا ہے۔(ابوداؤد :2827)
    ⦁ گائے میں 7 اور اونٹ میں 10 حصوں کی گنجائش ہے ایک شخص ایک سے زائد حصوں میں بھی شریک ہو سکتا ہے۔ (ترمذی :1511)
    ⦁ بعض لوگ گائے یا اونٹ میں کچھ حصے عقیقے کے ڈالتے ہیں جب کہ عقیقے میں گائے یا اونٹ ذبح نہیں کیے جا سکتے ۔ (بیہقی : 19280) اور جو لوگ اس کے متعلق روایات پیش کرتے ہیں وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابلِ حجت ہیں۔
    ⦁ قربانی کا جانور کم از کم دو دانتا ہو اس سے کم عمر کی قربانی جائز نہیں ، مجبوری کی صورت میں ایک سالہ بھیڑ کا بچہ ذبح کیا جا سکتا ہے۔ (مسلم :1963)
    ⦁ قربانی کا جانور عیوب سے پاک ہو، واضح لنگڑا ، واضح کانا، واضح کمزوری و نقاہت والا، کان کٹا (چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو) کان میں سوراخ ہونا سب عیوب ہیں۔ ان کی قربانی درست نہیں۔ (ابوداؤد:2803، نسائی :4381)
    قربانی کے ایام و اوقات:
    ⦁ قربانی کے تین دن اتفاقی ہیں چوتھے دن کی قربانی کے لیے دیکھیں صحیح الجامع الصغیر :4537۔
    ⦁ 10 ذوالحجہ کا دن قربانی کا افضل دن ہے۔ نبی ﷺ کا معمول بھی 10 ذوالحجہ کو قربانی کرنے کا تھا ۔ (بخاری :9690)
    ⦁ رات کے وقت بھی قربانی جائز ہے۔ (نیل الأوطار : 5/133)
    ⦁ قربانی کا وقت عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے اگر کسی نے پہلے قربانی کر دی تو وہ قربانی نہیں ہو گی اسے اگر استطاعت ہو تو دوسرا جانور قربانی کے طور پر ذبح کرنا چاہیے۔(بخاری : 5563-5561)
    ⦁ بعض مقامات پر نمازِ عید کے وقت میں فرق ہوتا ہے لہٰذا جب قربانی کے جانور میں حصہ ڈالنے والے سب کے سب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں تو پھر جانور ذبح کرنا چاہیے اور جس حصے دار نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو اور اس کا جانور ذبح ہو گیا ہو تو اس کی قربانی نہیں ہو گی۔
    ذبح کے مسائل:
    ⦁ صاحب قربانی کا خود جانور ذبح کرنا افضل ہے ، البتہ ذبح کرتے ہوئے کسی دوسرے سے تعاون لینا جائز ہے۔ (بخاری:5565، مسند احمد:5/373)
    ⦁ صاحبِ قربانی کا موقع پر ہونا ضروری نہیں۔ (بخاری: 5559، 5548، مسلم:1218)
    ⦁ عورت بھی جانور ذبح کر سکتی ہے۔ (بخاری تعلیقا ً قبل حدیث :5559)
    ⦁ ذبح کرتے وقت جانور کا منہ قبل رخ کیا جائے (ابوداؤد :2795)
    ⦁ جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرنا جائز ہے ۔ (ابوداؤد :1765)
    ⦁ جانوروں کو اچھے طریقے سے ذبح کیا جائے اور انھیں تکلیف سے بچایا جائے۔ (مسلم :1955)
    ⦁ جانور کو قبل رخ لٹا کر یہ دعا پڑھیں ’’ انِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا مُسْلِماً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ۔‘‘ ’’میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، یک سو اور فرماں بردار ہوتے ہوئے اور میں شرک کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت رب العالمین ہی کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور اللہ سب سےبڑا ہے۔ اے اللہ یہ قربانی تیری ہر طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ (ابوداؤد : 2795، مسند احمد : 3/375) اس کے بعد کہے ’’ اللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی ‘‘ اے اللہ ! تو میری طرف سے اور میرے اہل خانہ کی طرف سے قبول فرما۔ (بخاری: 7399، مسلم :1967)
    قربانی کا گوشت:
    ⦁ قربانی کا گوشت خود کھائیں، فقراء و مساکین ، ہمسائیوں اور رشتے داروں کو کھلائیں۔ (الحج :27) چاہے زیادہ خود کھالے یا دوسروں کو کھلا دے ، ضرورت کے تحت اس کی صوابدید پر ہے۔
    ⦁ کسی کافر کو ، عیسائی کو تالیف قلب کے لیے قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے ۔ (فتاوی اسلامیہ : 2/427)
    ⦁ قربانی کا گوشت فروخت کرنا یا قصاب کو بطورِ اجرت دینا جائز نہیں۔ (مسلم: 1317)
    قربانی کی کھالیں:
    ⦁ کھالوں کا بھی وہی مصرف ہے جو گوشت کا ہے۔ لہٰذا قربانی کی کھالیں ذاتی استعمال میں لانا، صدقہ کرنا یا ہدیہ کرنا جائز ہے۔ (مسلم :1971)
    ⦁ قربانی کرنے والے کا کھال فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ وہ صدقہ کرے گا اور جس کو صدقے کے طور پر دی گئی ہے وہ فروخت کرسکتا ہے۔ (مسلم:1971)
    ⦁ قصاب کو کھال اجرت میں دینا جائز نہیں۔(مسلم:1971)
    صاحب قربانی پر پابندی:
    ⦁ قربانی کرنے والا ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد جس کے کسی حصے کے بال نہیں کٹوائے گا اور نہ ہی ناخن کٹوائے گا حتی کہ قربانی کر لے۔ (مسلم:1977)
    ⦁ کنگھی کرنے سے غیر ارادی طور پر بال گر جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
    ⦁ جو شخص قربانی کا ارادہ نہ رکھتا ہو اس پر بال کاٹنے کی کوئی پابندی نہیں البتہ وہ اگر عید کے دن اپنے بال کاٹ لے ، ناخن تراش لے، مونچھیں کاٹ لے، زیر ناف بال مونڈ لے تو اسے بھی مکمل قربانی کا ثواب مل جائے گا۔(ابوداؤد :2789)

  • ماں وفاؤں کی جہدِ مسلسل   تحریر:جویریہ بتول

    ماں وفاؤں کی جہدِ مسلسل تحریر:جویریہ بتول

    ماں…وفاؤں کی جہدِ مسلسل…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    لفظ ماں زبان سے ادا ہوتے ہوئے بھی ایک گہرا احساس رگ و پے میں چھوڑ جاتا ہے…
    وہ ہستی جو ہم جیسوں کو نو ماہ پیٹ میں اُٹھا کر اذیتوں پہ اذیتیں سہتی ہے…
    مگر زبان پر شکوہ نہیں لاتی…
    پھر جنم دے کر اک ایک سانس کی نگرانی کرنے والی ماں بچے کی خوشی میں خوش اور دکھ میں نڈھال ہو جاتی ہے…
    جس کی رات کی نیند اور سکون،تمام ناز اور نخرے اس تربیتی توڑ پھوڑ کے بعد بکھر کر رہ جاتے ہیں اور وہ ایک نئی زندگی کے آغاز میں قدم رکھ دیتی ہے…
    اس کے رہنے سہنے کے انداز بدل جاتے ہیں اور اسے صرف ایک ہی غم ستائے رکھتا ہے کہ میری اولاد کسی نہ کسی طرح منزل سے ہمکنار ہو جائے۔
    باپ کماتا ہے گھر سے دور،بہت دور رہ کر بھی لیکن اولاد کی پرورش اور تربیت میں جس قدر قربانی ماں دیتی ہے، لاریب اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔
    خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو ماں کی عظمت کا احساس رکھتے ہیں اور دنیا میں موجود اپنی اس جنت کی عزت ،رفعت اور خدمت کا حق ادا کرتے ہیں۔
    لیکن فی زمانہ اس فکر میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے کہ ماں کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟
    بیٹے تو الگ رہے،بیٹیاں بھی ماں کی عظمت کو صحیح طریقہ سے سمجھ نہیں پاتیں۔
    ماں وہ شجرِ سایہ دار ہے جہاں دمِ آخر تک خزاؤں کا گزر نہیں ہوتا…
    پیار کا وہ سمندر جس کی گہرائی کو ناپنا ممکن نہیں ہے…
    جس کی روح میں محبت اور مہربانی کا خمیر گندھا ہوا ہے…
    انسانیت کا پہلا مکتب ماں ہے…
    پھول سے زیادہ مہک رکھنے والی ہستی،جس کی عظمت کی بلندی کو آج تک کوئی ماپ نہیں سکا…
    یہ ماں تو نام ہی ممتا،راحت،ٹھنڈک،سکون اور آسودگی کا ہے…
    جس کے بوڑھے ہاتھوں کا لمس چہرے پر تازگی اور سینے میں ٹھنڈ بھر دیتا ہے…
    میں اکثر جب بیمار ہو جاؤں تو کثرت سے مسنون دعائیں یاد ہونے کے باوجود خود دم کرلیتی ہوں لیکن حیرانگی کا عالم ہے کہ جب ماں ہاتھ پھیرتے ہوئے چند دعائیں ہی پڑھ دیں تو تپتے بخار سے بھی آنکھیں کھلنے لگتی ہیں۔
    یہ بات مجھے اس قدر شدت سے جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے اور زیادہ دعاؤں کے یاد ہونے کا فخر دم توڑنے لگتا ہے کہ واقعتًا دعا کی قبولیت،مقام،مرتبہ،پارسائی اور عظمت کو بھی دیکھتی ہے…
    اور ماں کے مرتبہ اور محبت پر آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔
    میں نے اس بات کو کثرت سے نوٹ کیا ہے…
    کوئی چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ ہو یا بڑے سے بڑا…
    اپنے تئیں بہت کچھ سمجھنے کے باوجود میں نے ماں کی دعا کے بغیر حل ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔
    ماں وہ بلند درجہ رشتہ ہے جسے دعاؤں اور مسیحائی کی قوت ملی ہے۔
    کتنی حیسن پکار ہے یہ ماں کہ جس کی ناراضگی جنت کی چابی گم کر دینے کے مترادف ہے…
    ماں محبت و اُمید کا رواں دریا ہے،جس کا غصہ صرف اور صرف وقتی ہوتا ہے، اس مطلبی اور بے مہر کھوکھلی دنیا میں رحم کا موجزن سمندر دل میں لیئے بہت جلد مان جانے والی ہستی ہے۔
    ماں کی تعظیم شاہ و فقیر تک سب کے لیئے یکساں لازم ہے۔
    دنیا میں بڑے سے بڑے مرتبہ پاکر بھی انسان اس ہستی سے غافل نہیں رہ سکتا…
    کہیں یہ حکم نہیں ملا کہ اگر تم بہت مصروف ہو جاؤ تو ماں باپ کو چھوڑ دو…
    نہیں…!!!
    ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی نہ آنے پائے،اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو ایسا بندوبست کرنا لازم ہے کہ والدین پریشانیوں کا سامنا نہ کرنے پائیں…!!!
    آج اکثریت تو پڑھائی اور نوکری کے نام پر سالہا سال والدین سے جدا رہتی ہے۔
    اگر چہ رابطے تو آسان ہیں مگر خدمت کا الگ معیار ہے…
    کئی لوگ شادی کرنے کے بعد ماؤں کو بوجھ تصور کر لیتے ہیں اور بیویوں کے بھڑکانے پر آئے روز ماؤں سے لڑائیاں کرتے اور توہین کے مرتکب ہوتے ہیں…
    کئی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں…
    کئی بد قسمت تو تشدد پر بھی اُتر آتے ہیں…
    العیاذ بااللہ بھاری بھرکم ہتھیار کا استعمال کرتے ہیں…
    ایک دفعہ سنا تھا کہ ایک ڈگری ہولڈر بیٹے نے ماں کو گولی مار دی…
    یعنی کس قدر عدم برداشت کے رویے ہیں جو ہماری سوسائٹی میں ترویج پاتے جا رہے ہیں اور آج کی ہائپر اولاد اچھے،برے کی تمیز سے تہی دست دکھائی دیتی ہے۔
    جنہیں ان کی عظمت کا اعتراف ہے، انہیں تو ہے ہی…لیکن معاشرے کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔
    منبر و محراب سے لے کر…درسگاہوں اور اعلٰی تعلیمی اداروں تک والدین کے مقام و مرتبہ کی اہمیت ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔
    زندگی کے کسی بھی موڑ پر ان کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے کی تربیت درکار ہے۔
    دین کے معاملے میں اگر والدین ہم نوا نہ بھی ہوں تو دنیوی معاملات میں ہر صورت حقوق ادا کرنے اور ساتھ نبھانے کی تعلیم ہے۔
    ان کی بات کو باقی تمام خواہشات پر فوقیت دینے کی ضرورت ہے…
    ان کی قربانی کے سفر کی لاج رکھنے کی ضرورت ہے…
    ان کی اُمیدوں پر پورا اترنے اور ان کی تھکاوٹ کو سکون سے ہمکنار کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اولاد اُن کی اُمیدوں پر پانی ہی پھیر دے…انہیں رُلا دے،تڑپا دے…!!!
    بات بے بات تنگ کرے،ناجائز اور ناممکن مطالبات کرے…
    یہ تمام چیزیں کسی بھی کردار اور خوشگوار زندگی کے لیئے گہرا ناسور ہیں…!!!
    وہ اپنا سب کچھ لٹا آتے ہیں اولاد کو جوانی کی دہلیز پار کرانے تک…!!!
    اپنی جوانی،اپنا مال،وقت اور صلاحیتیں سب نچھاور کر چکے ہوتے ہیں…
    ان عظیم محسنوں کے اسی مقام کی وجہ سے خالقِ کائنات نے عرش سے کہا:
    فلا تقل لھما اُفِِ ولا تنھرھما و قل لھما قولًا کریما¤
    [بنی اسرائیل:23)۔
    آہ جنہیں اف تک نہ کہنے کا حکم ملا تھا۔
    جن سے بات بھی انتہائی باادب اور عاجزانہ لہجے میں کرنا تھی،ہم انہیں جھڑکتے ہیں…؟؟
    وہ ہاتھ جو نرمی سے ہمارے گالوں اور سروں پر پھیرے جاتے تھے ہم انہیں جھٹکتے ہیں؟
    جو تھپکیوں سے ہمیں سکون فراہم کرتے تھے نوجوان اولاد ان پہ ہاتھ اُٹھا لے…
    یہ بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے؟
    سفرِ زندگی میں چلتے چلتے اکثر ایسی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ کئی والدین کی طرف سے عدم مساوات اور تفریق کا رویہ سامنے آتا بھی ہے تو بہر حال اولاد کا فرض ہے کہ وہ درگزر کرے،خاموشی اختیار کر لے…
    اللّٰہ تعالٰی ضرور راہیں کھول دیتا ہے،دلوں کو بدلنا اسی کی قدرت ہے…!!!
    لیکن اولاد والدین کے مقام و مرتبہ پر سودے بازی کبھی اور کبھی نہ کرے…!!!
    اپنے بازو جھکائے رہے…
    اپنے ہاتھ پھیلائے رہے…
    دعاؤں کی سوالی رہے…
    ترشی و بد اخلاقی کو چھوڑ دے…
    شکوؤں اور غلط حرکات سے خود کو بچائے رہے…
    کوئی معذرت بھی کرنا چاہے تو نہایت عمدگی و نرمی سے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    بے شک اللّٰہ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،
    پھر تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے،،
    پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے…!!!(رواہ البخاری فی الادب المفرد)۔
    ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے آ کر سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم…!!!
    میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
    آپ نے فرمایا:
    تیری ماں…
    پوچھا اس کے بعد؟
    فرمایا:
    تیری ماں…
    پھر پوچھا اس کے بعد کون؟
    فرمایا:
    تیری ماں…
    اس نے پوچھا اس کے بعد کون ہے ؟
    فرمایا:
    تمہارا باپ…!!!
    (صحیح بخاری کتاب الادب)۔
    اللّٰہ اکبر…
    اتنی بھاری ذمہ داری کو آج اولاد کیسے نبھا رہی ہے؟
    اہلِ دانش پہ کچھ پوشیدہ نہیں ہے…!!!
    یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے…
    یاد رکھیں کہ والدین کے جھڑیوں زدہ چہروں پر آنسو جھلملاتے اچھے نہیں لگتے بلکہ ان کی دور اندیش آنکھوں میں خوشی کی چمکتی کرنیں بھلی لگتی ہیں اور اس کا احساس ہم میں سے ہر اولاد کو اپنے دل اور کردار میں بیدار کرنا ہو گا…!!!
    کہ ماں:
    تری محبتوں کے بحر وبر…
    تری اداؤں کے سب ثمر…
    تری وفاؤں کا یہ سفر…
    کیسے ہو مجھے اس سے مفر…؟
    تیرا ضبط و ربط کمال ہے…
    ترا لہجہ حُسن و جمال ہے…
    افکار بلند،ارفع خیال ہے…
    ترے مقام کو نہ کوئی زوال ہے…!!!
    ترے گزرتے پَل زندگانی کے…
    اور مٹتے آثار جوانی کے…
    ترے لڑھکتے قدموں میں مگر…
    رنگ عزم کی جولانی کے…!!!
    ہر سانس کے سنگ تو…
    دے جو دعاؤں کی خوشبو…
    ترے کپکپاتے ہونٹوں پہ…
    لکھی ہے جو تحریرِ آرزو…!!!
    تو اولاد کے درد کی رہی درماں…
    تو بلاؤں کی زد سے ہے اماں…
    ترے لہجہ کا ہے انداز ہی اور…
    تو بدلے سے بے پرواہ ہے "ماں”…
    ماں تری وفاؤں کا چاہیئے ساتھ…
    ماں کیسے کٹے سفر یہ خالی ہاتھ…؟
    ترے مشوروں کی جاری رہی گر برسات…
    تو ماں یقیں ہے سدھر جائے گی ہر بات…!!!
    ترے دامن کو تو جو جھٹک کر چلیں…
    سچ ہے کہ ہر گام وہ ہاتھ ہی مَلیں…!!!
    ماں ترے بن ہو کیسے صرف اک دن…؟
    ماں یہ خیال ہی تڑپائے روح وبدن…!!!
    ماں مری زندگی کا ہر لمحہ رہے ترے نام…
    ماں بس ترے ہی سنگ گزریں… میری زندگی کے یہ صبح و شام…
    ماں بس تری دعاؤں کی پونجی میری ہم سفر ہو…
    ماں یقیں ہے کہ پھر کسی بَلا کا نہ گزر ہو…!!!
    یاد رکھیں کہ ماں باپ کی مسرتیں اور خوشیاں پوشیدہ ہوتی ہیں،اور وہ اپنے غموں اور اندیشوں کا اظہار بھی نہیں کرتے…!!!
    ان کے بے غرض دامن میں برکتیں ہی برکتیں ہوتی ہیں کہ جہاں شبنم گرے تو لعل بن جائے اور پتھر قیمتی جواہرات…!!!
    ان کی دعاؤں سے تہی دست انسان کچھ بھی نہیں…ہاں کچھ بھی نہیں…
    اور یہ درد شدت بن کر تب ستاتا ہے اور ضمیر پر گہری ضربیں لگاتا ہے کہ جب یہ ہمیں چھوڑ کر کہیں دور منوں مٹی تلے تھک ہار کر سوجاتے ہیں…
    خدارا…ان کی قدر کیجیئے کہ یہ امتحان تھوڑے وقت کے لیئے ہوتا ہے لیکن اس کے مثبت یا منفی نتائج بہت طویل ہوا کرتے ہیں…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • محبت کا شرعی تصور تحریر: عمر یوسف

    محبت کا شرعی تصور تحریر: عمر یوسف

    محبت کا شرعی تصور
    عمر یوسف

    احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین و تبع تابعین عظام رح نے عورتوں کو پیغام نکاح بھیجا ۔۔۔ بعض کا پیغام نکاح قبول کرلیا گیا اور بعض کا رد کردیا گیا ۔۔۔

    یہاں دو صورتیں ہیں پہلی صورت یہ کہ اگر آپ کو کوئی عورت اچھی لگتی ہے پر کشش ہے مال کے اعتبار سے حسن و خوبصورتی کے اعتبار سے منصب و مقام کے اعتبار سے تو بجائے اس کے بارے میں برے خیال پالنے کے یا اس کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے کے منصوبے بنانے کے آپ کسی بڑے کے ہاتھوں نکاح کا پیغام بھجوا دیں ۔۔۔

    ان کو مناسب لگے گا تو وہ ہاں کردیں گے اور مناسب نہ لگے گا تو وہ نہ کردیں گے ۔۔

    اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن بزرگوں کا پیغام نکاح رد کردیا گیا اور شادی کی پیشکش ٹھکردی گئی ان کے بارے میں ذخیرہ حدیث میں کہیں نہیں ہے کہ وہ پاگل و مجنون بن گئے یا خود پر عاشق ہونے کا لیبل لگا گلی گلی کی چھان چھاننے لگے ۔
    بلکہ انہوں نے صبر کا دامن پکڑا اور کسی اور سے شادی کرلی ۔۔۔

    ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے بہت ہی غلط تصورات رائج ہیں ۔۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی کے تصور محبت کو ہی گناہ عظیم گردانا جاتا ہے اور اور اس طرح کے معاملے پر دونوں پر تشدد کیا جاتا ہے ۔۔
    یہ بات سمجھنے کے قابل ہے انسانی فطرت کے ہاتھوں اگر کوئی مجبور کسی کو پسند کر بیٹھے تو فرعون نہیں ہے اس کا مطلب وہ بھی ایک سادہ انسان ہے جو جذبات رکھتا ہے اگر کوئی اس کے دل کو بھا رہا ہے تو یہ عین فطرتی عمل ہے ۔۔۔

    موجودہ معاشرے میں اگر کوئی پیغام نکاح بھیج دے تو اگر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا جائے تو پھر ایک منفی رد عمل سامنے آتا ہے لڑکی خود کشی کرنے کی کوشش کرتی ہے لڑکا بھی نس کاٹ لیتا ہے یا منشیات کا عادی ہوجاتا ہے ۔۔۔
    جو بالکل جاہلانہ رد عمل ہے یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صبر کے علاوہ کوئی چارا نہیں۔۔
    چاہیے تو یہ کہ بندہ کوئی دوسری لڑکی ڈھونڈ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمان کو بھی سمجھے جو اس صورت حال میں رہنمائی کرتا ہے کہ جب تمہیں کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئے اور تمہارا نفس تم کو تنگ کرنا شروع کردے تو فورا اپنی بیوی کے پاس آجایا کرو کیونکہ جو کچھ اس خوبصورت لڑکی پاس ہے وہی کچھ تمہاری بیوی کے پاس ہے ۔۔۔۔
    اب اگر کوئی خوبصورت لڑکی پیغام نکاح رد کررہی ہے تو دوسری عورت جو بکاح کا پیغام قبول کرے گی اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس خوبصورت عورت کے پاس ہے ۔۔۔
    اور انسان کی نیت یہ بھی ہونی چاییے کہ اگر میں فساد و برائی سے بچتے ہوئے کسی خوبصورت لڑکی کو چھوڑ رہا ہوں تو اللہ اس پر عظیم اجر دینے پر قادر ہے دنیا میں ایسی بیوی دے دے جو وفا شعار ہو اور آخرت میں ایسی حوریں جو بے مثال ہو ۔۔۔

    برائی و فحاشی پر مبنی محبت ، محبت نہیں ہوتی یہ محض شیطانی بہکاوے ہیں جو انسان کی جوانی کو برباد کرنے اور اسے نکما و نکھٹو بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔

    اللہ ہمیں پرفتن دور میں رشتہ ازدواج کو اپنانے سمجھنے اور عمل کی توفیق دے ۔

  • مہوش حیات کی حالیہ تصویر پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

    مہوش حیات کی حالیہ تصویر پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات نے اپنی ایک حال ہی میں لی گئ تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کی تصویر کو مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ مہوش حیات نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں وہ نہایت خوبصورت لگ رہی ہیں، مہوش سفید لباس میں ملبوس ہیں اور ساتھ میں اُنہوں نے لال رنگ کی لپ سٹک لگا رکھی ہے اور لاتھ میں مگ پکڑ رکھا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDCFmZpnN5U/?igshid=174of1hxzfahy
    مہوش حیات نے اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ صبح ایسے جاگیں-

    مہوش کی اس تصویرکی جہاں ان کے ساتھ فنکاروں نے تعریف کی وہیں مداحوں نے بھی ملے جلے کمنٹس کئے ہیں جن میں تعریفیں زیادہ تھیں جبکہ چند مداحوں نے دلچسپ اور تنقیدی کمنٹس بھی کئے ۔

    اداکارہ زارا نور عباسی ، سمانتھا سٹیفن ، آئمہ بیگ اور مہوش حیات کے دوست اظفر رحمن کشمیری اور فہد نے تعرفی بھرے کمنٹس کئے-

    مہوش حیات انسٹاگرام سکرین شاٹ
    مہوش حیات کے ایک مداح کا کہنا تھا کہ وہ بالکل امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ جیسی دکھ رہی ہیں۔


    مہوش حیات انسٹاگرام سکرین شاٹس
    ایک انسٹاگرام صارف کی جانب سے کہا گیا کہ ایسے جاگنا امیروں کے چونچلے ہیں میں اٹھتا ہوں تو 15 منٹ تک سوچتا ہوں کہ کدھر ہوں-


    مہوش حیات انسٹاگرام سکرین شاٹس
    ایک مداح نے کہا کہ میک اپ کر کے کون سوتا ہے-جبکہ ایک صارف کا کہنا ہے کہ یہ نیند دے جاگنے کی لُک بالجل بھی نہیں لگ رہی پراپر میک اپ اور سٹائل کے ساتھ تصویر لی گئی ہے –

  • راحت فتح علی خان کے نئے گانے کا ٹیزر جاری

    راحت فتح علی خان کے نئے گانے کا ٹیزر جاری

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے لیجنڈری اور عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان نے اپنے نئے گانے ’غم عاشقی‘ کا ٹیزر جاری کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر عالمی شہرت یافتہ گلوکار نے اپنے تصدیق شُدہ اکاؤنٹ پر گانے کا ٹیزر جاری کرتے ہوئے اس کی ریلیز تاریخ کا اعلان بھی کیا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDD0jEIp-8P/?igshid=1c45uj415cvlt
    راحت فتح علی کا نیا گانا ’غم عاشقی‘ شاعرہ پروین شاکر کی غزل سے ماخوز ہے۔ یہ گانا عید سے پہلے رواں ماہ کے آخر میں 30 جولائی 2020 کو ریلیز کیا جائے گا-

    29 سیکنڈ کے مختصر دورانیے کے ٹیزر میں راحت فتح علی خان اپنے مخصوص متاثر کن انداز میں گانا:غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گُزر گئے گا رہے ہیں-

    گانے کے پروڈیوسر سلمان احمد ہیں جبکہ میوزک کامران اختر نے ترتیب دیا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CDDh8gvFvfq/?igshid=1sxcb0raiq1eu
    اس سے قبل ایک پوسٹ میں گلوکار نے اپنے گانے کو ریلیز کرنے کی تاریخ مداحوں کے ساتھ شئیر کی تھی-
    https://www.instagram.com/p/CDBZqxjFlYv/?igshid=14itbyz2nndo3
    ایک پوسٹ میں راحت نے مداحوں سے اپنے نئے گانے کے حوالے سے چار آپشن دے کر ایک سوال کیا کہ ان میں سے راحت فتح علی خان کے نئے گانے کا نام بوجھیں اور صحیح جواب دینے والوں کو خوشخبری سنائی کہ گلوکاران سے ویڈیو کال پر روبرو ملاقات کرسکیں گے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اداکار عدنان صدیقی نے اپنی ایک انسٹا گرام پوسٹ میں بتایا تھا کہ وہ اور گلوکار راحت فتح علی خان جلد ہی کورونا کے حوالے سے نئے پروجیکٹ دعا میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے-

    عدنان صدیقی اور راحت فتح علی خان جلد ہی ایک ساتھ نئے پروجیکٹ میں دکھائی دیں گے

  • عاصم اظہر کے نئے گانے سوہنیا کے لئے ہانیہ عامر کا شاعرانہ انداز میں تعریفی پیغام

    عاصم اظہر کے نئے گانے سوہنیا کے لئے ہانیہ عامر کا شاعرانہ انداز میں تعریفی پیغام

    پاکستانی خوبرو اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنے دوست اور پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار عاصم اظہر کے 23 جولائی کو ریلیز کئے گئے گانے سوہنیا کی شاعرانہ انداز میں تعریفی پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہانیہ عامر نے طحہٰ خان نامی صارف کے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے شاعرانہ انداز میں عاصم اظہر کے نئے گانے ’سونیا‘ کے لیے تعریفی پیغام جاری کیا۔
    https://twitter.com/realhaniahehe/status/1286455135095394308?s=19
    اپنے پیغام میں ہانیہ عامر نے لکھا کہ دل کو تو لگتا ہے، سال پہلے بھی، آج بھی-

    ہانیہ عامر نے عاصم اظہر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ واہ عاصم کیا گانا ہے، واقعی مزیدار کام ہے۔

    عاصم اظہر نے ہانیہ عامر کے اس ٹوئٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ دُنیا یہ جاننے کے لیے بے چین ہے کہ میں نے آپ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیوں کیا تھا۔
    https://twitter.com/AsimAzharr/status/1286635904451387392?s=20
    عاصم اظہر نے لکھا کہ مجھے یاد ہے کہ آپ نے پہلی بار یہ گانا سُننے کے بعد اِس میں کچھ تبدیلیاں کروائی تھیں مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ گانا پسند آیا۔

    دو روز قبل 23 جولائی کو عاصم اظہر کے ریلیز کئے گئے گانے کو اب تک 9 لاک سے زائد بار دیکھا جا چُکا ہے- اس گانے کو کُنال ورما نے تحریر کیا ہے جبکہ اس کمپوز خود عاصم اظہر نے کیا ہے-

  • سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم دل بیچارہ ریلیز

    سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم دل بیچارہ ریلیز

    گذشتہ ماہ 14 جون اتوار کوخودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والے بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ ڈزنی پلس ہاٹ اسٹار پر ریلیز کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : فلم دل بیچارہ ہالی وڈ فلم ’دی فالٹ ان آر اسٹار‘ کا ہندی ریمیک ہے، اس فلم میں سوشانت کے ہمراہ سنجنا سانگھی مرکزی کردار ادا کررہی ہیں، سنجنا نے اس فلم کے ساتھ بالی وڈ میں بطور مرکزی کردار اپنا ڈیبیو کیا ہے اس سے قبل سنجنا سانگھی پہلے راک اسٹار اور ہندی میڈیم جیسی فلموں میں چھوٹے کرداروں میں نظر آچکی ہیں-

    فلم دل بیچارہ میں کیزی (سنجنا سانگھی) اور مینی (سوشانت سنگھ راجپوت) کی کہانی دکھائی گئی ہے سوشانت اور سنجنا کی کیمسٹری کو بڑے شاندار طریقے سے دکھایا گیا ہے موذی مرض کینسر میں مبتلا کیزی مینی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہیں ٹریلر کے ہر سین میں جذبات دکھائے گئے ہیں ہے جو دل کو چھو جاتے ہیں۔

    فلم دل بے چارہ کے ڈائریکٹر مکیش چھابڑا ہیں جو بطور ڈائریکٹر اُن کی پہلی فلم ہے-

    واضح رہے کہ فلم ’دل بیچارہ پہلے مئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی تھی-

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم کا ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر وائرل

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    سوشانت سنگھ کی فلم کا ٹریلر ریلیز

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم کے پرومو نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی

     

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم دل بیچارہ کے ہدایتکار مکیش چھابڑا کا سوشل میڈیا پرسوشانت سنگھ راجپوت کے لئے جذباتی پیغام

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ کے گلوکاروں کا سوشانت کو خراج عقیدت پیش