Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں  تحریر: عشاء نعیم

    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں تحریر: عشاء نعیم

    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں پرتھوی کے نہیں

    #تحریر عشاء نعیم

    چاچا رحمت ! سنیا ای کچھ
    نئیں، کی ہویا؟ چاچا نے پوچھا
    چاچا اسلام آباد میں حکومت اپنے خرچے پہ مندر بنا رہی ہے ۔
    کیا کہہ رہا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی (چاچا رحمت اللہ جو نوے سال کا بوڑھا تھا کمر پہ ہاتھ اور جھکا ہوا تھا ایک دم اوپر ہوا )
    شاید تو ہندوستان کی بات کر رہا ہے وہاں حکومت مندر بنا رہی ہے ؟
    نئیں نئیں چاچا !
    پاکستان کی حکومت مندر بنا رہی ہے ۔( کریمو نے پھر بات دہرائی)
    چاچا نے جھریوں سے بند ہوتی آنکھوں کو کھولا اور پھر پوچھا مندر گرا رہی ہے حکومت اسلام آباد میں؟
    کریمو اس بار بلند آواز سے بولا
    چاچا ! پاکستان کی حکومت اسلام آباد میں اپنے خرچے پہ مندر بنارہی ہے ۔
    اب جو آنکھیں جھریوں سے چنی چنی لگتی تھیں جیسے پھٹ کر باہر آ گئیں
    جھکی کمر ایک دم جیسے سیدھی ہو گئی ۔
    چاچا کھڑا ہو گیا
    کہتا
    کیا کہتا ہے کریمو ؟
    یہ کیسے ممکن ہے ؟
    کیا بھارت نے پھر اللہ نہ کرے قبضہ کر لیا ؟
    مجھے کیوں کچھ پتہ نہیں چلا ؟
    میں اتنا تو بے خبر نہیں ابھی ۔
    کریمو نے دیکھا چاچا رحمت کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے اور جسم جیسے کانپنے لگا
    اس نے چاچا رحمت کو پکڑ کر بٹھایا، پانی پلایا
    اور کہا حوصلہ کر چاچا ایسا کچھ نہیں ہوا
    پاکستان پہ اللہ نہ کرے کسی نے قبضہ نہیں کیا ۔
    فیر یہ مندر کیوں بنا رہے ؟
    چاچا نے پوچھا
    کریمو نے جواب دیا
    چاچا !بس باہر سے جو مطالبہ ہوتا ہے حکومت وہی کرتی ہے ۔
    ہماری کون سنتا ہے۔
    اب چاچا رحمت ذارو قطار رونے لگا اور کہنے لگا
    کریمو!اگر یہاں بھی ہم نے خود مندر بنانے تھے تو پھر میری تین جوان بیٹیاں، دو بیٹے ۔ان کے 4 بچے ،میری بیوی سب میں نے کیوں کٹوایا؟
    صرف ایک پتر بچا تھا جسے میں لے کر پاکستان پہنچا
    سارے راستے میں اپنے پیاروں کے صدقے دیتا آیا ۔
    رشتہ دار بھی گاجر مولی کی طرح کاٹے انھوں نے ۔
    اور وہ ۔۔۔۔۔
    اس کے بعد چاچا سے بات نہیں کی جارہی تھی ۔
    کریمو نے کندھے پہ ہاتھ رکھا حوصلہ دیا اور پوچھا
    وہ کیا چاچا ؟
    چاچا بڑی دیر بعد سنبھلا اور بولا
    وہ میری بہن، جسے ہندو پکڑ کر لے گئے ۔۔۔ ۔
    جس کا آج تک نہیں پتہ کہاں گئی ۔۔۔زندہ ہے یا مر گئی ۔۔
    چاچا کی حالت بری ہو گئی تو کریمو نے کہا
    چاچا آرام کر ،پھر بات کریں گے ۔امید ہے مندر نہیں بنے گا ۔لوگ کافی بول رہے ہیں تو پریشان نہ ہو ۔۔۔
    لیکن چاچا رحمت کا تو دل ہی پھٹ گیا تھا ۔۔
    وہ ماضی میں کھو گیا اور 1947 میں پہنچ گیا
    جب وہ اور محلے دار گھر سے راتوں رات مارے خوف کے قافلہ بنا کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔
    اس کی آنکھوں کے سامنے مناظر تھے ۔
    جب قافلہ چل رہا تھا تو ست سری اکال کے نعروں کے ساتھ برچھے ، نیزے بھالے نمودار ہوئے اور پھر نہتے مسلمان کٹنے لگے ،بچے نیزوں میں پروئے جانے لگے، ماوں کی چیخوں سے آسمان بھی کانپنے لگا ،اور ان چیختی ماوں اور جوان لڑکیوں کو بھی کاٹا جانے لگا ،کچھ کی عزت آنکھوں کے سامنے لٹی جن میں چاچا کی اپنی بہن بھی شامل تھی اور پھر اسے اور کچھ اور کو مال مفت کی طرح ساتھ لے گئے اور ماں باپ صدمے سے چور روتے پیٹتے پاکستان کی طرف چل پڑے، کچھ غم سے مر گئے ۔اور چاچا کے بھائی اور ماں باپ اگلے حملے میں کٹ گئے۔
    اور ان کے دوست نے بھی ایک دوست متین الرحمن کا واقعہ سنایا کیسے پاکستان پہنچا۔
    وہ بتاتا ہے وہ قافلے کی صورت میں پاکستان چل پڑے کہ
    کسی حادثے یا واقعے کے سبب بھگڈر مچی اور بدقسمتی سے قافلہ 2حصو ں میں بٹ گیا۔ ایک میں والدین، تیسرے چھوٹے بھائی اور بہن اور دوسرے حصے میں متین الرحمن اور ان کا بھائی معین تھے، جنہوں نے قریبی گاؤں کی جانب سفر شروع کردیا۔ اب دوسرے قافلے کی کوئی ترتیب اور حفاظتی اقدامات نہ تھے، مردوں کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ نہتے بھی تھے۔ رات کی تاریکی بڑھ رہی تھی۔ غیر ہموار سا میدانی راستہ، جگہ جگہ جھاڑیاں کٹی ہوئی تھی اور کٹے ہوئے سرکنڈوں کے گٹھے تھے۔ سرکنڈوں کے درمیان سے گزرنا دشوارتھا کیونکہ ہاتھوں اور چہروں پر خراشیں آرہی تھیں۔ اچانک ایک موٹر کی آواز سنی جس سے قافلے میں بھگدڑ مچ گئی لوگ افراتفری میں جھاڑیوں کے اندر کود کر چھپنے لگے۔ سلطا ن چاچا(محلے دار) نے لڑکوں (متین، معین اور چاچا کا بیٹا امین اللہ) کو زمین پر لٹا کر سر کنڈوں کے گٹھے بگھیر دیے۔ جب موٹر کی آواز غائب ہوئی، لڑکوں کو نکالا گیا تو سرکنڈوں کی چھال کی پھانسوں سے جسم کے کھلے حصوں پر خراشیں آچکی تھیں اور کہیں کہیں سے خون رس رہا تھا۔ سحرکے قریب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے متین الرحمن لکھتے ہیں کہ اب ہمارا سفر نہر کے کنارے کسی سڑک پر ہورہا تھا۔ کہ اچانک پیچھے سے ایک دلدوز چیخ ابھری۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو چچی (محلے دا ر کی بیوی)5,4 سکھوں کے نرغے میں تھی۔ چچی نے نہر میں چھلانگ لگادی تھی اور ایک سکھ بالوں سے پکڑ کر باہر کھینچ رہا تھا۔ چچا تیزی سے واپس بھاگے اور ایک سکھ کا گنڈاسہ چھین کر بالوں سے کھینچنے والے سکھ پر حملہ کر دیا۔ باقی سکھوں نے چچا پر حملہ کر دیا۔ قافلے کے کچھ لوگ چچا کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور دو بدو لڑائی ہوئی، قافلے میں بھگدڑ کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ صبح کا اجالا پھیلنے پر قافلے کا سفر از سر نو شروع ہوا لیکن اس میں مجھے نہ چچا دکھائی دیے اور نہ چچی۔ سورج چڑھ آیا توغالباََ وہ گاؤں دکھائی دیا جو منزل تھی۔ گاؤں میں داخل ہونے والی گلی کے قریب پہنچے تو ’جائے ماندن نہ پائے رفتن‘ والی کیفیت سے دوچار ہوئے۔ گلی سے ننگی پنڈلیوں تک پیلے رنگ کے چغوں میں ملبوس اکالی سکھوں کا جتھا برآمد ہوا جن کے ہاتھوں میں خون آلود تلواریں تھیں۔ کپڑوں اور ہاتھوں پر خون کے دھبے لیے وہ ست سری یا کال اور دوسرے نعرے لگا رہے تھے۔ ڈرے سہمے بچے کچے قافلے کو گھیرے میں لے کر گاؤں سے کچھ دور ہٹایا گیا۔ اکالیوں میں ایک سکھ ڈھول پیٹ رہا تھا، کبھی کبھی سنکھ بجایا جاتا۔ قافلہ سوچ رہا تھا کہ سکھ اب انتظار کس کا کررہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد گاؤں سے دھواں اٹھنا شروع ہوا اور پھر اس سے شعلے اٹھنے لگے۔ فضا میں نا گوار سی بو پھیلنا شروع ہوئی جو لاشوں کے جلنے کی بو تھی۔ پاکستان کی آزادی کی قیمت ادا کرنے والے ان گمنام جانثاروں کے خون اور گوشت کے بھننے کی بو جو محض مسلمان ہونے اور پاکستان کے تصور سے ہمدردی کے جرم میں جل رہے تھے، فضا دہشت ناک ترین اور جنونی انداز میں پیٹے جانے والے ڈھول کی لرزہ خیز آواز، دھوئیں، آگ، جلتی لاشوں کی بو، بستی راکھ، بھوک سے ہلکتے بچوں کی آوازیں اوراکالیوں کے نعروں سے معمور تھی۔ سنکھ کی کریہہ آواز میں اضافہ ہوا اور ایک سکھ نے نو عمر ماں کی گود میں شیرخواہ بچے کے پیٹ میں تلوار کی نوک جھونکی اور بچے کو نوک شمشیر پر فضا میں بلند کر دیا۔ ننھی سی جان سے خون کا فوارہ ابلا، ممتا تلوار کی نوک پر لٹکے بچے کو چھیننے کے لیے جھپٹی تو دوسری تلوار نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد خوفناک رقص شروع ہوا۔ ہر طرف تلواریں اور ان سے کٹتے ہوئے جسم دکھائی دے رہے تھے اور ایک دوسرے پر گررہے تھے۔ ہم دونو ں بھائی دوسروں کے خون میں نہا چکے تھے لیکن مجھ میں ایک دو منٹ سے زیادہ اس کیفیت کو دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔ مجھ پر کوئی گرا اور پھر مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ جب ہوش آیا تو ایک لاش کے نیچے میرا سر دبا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنا سر اور ریت سے دبا ہوا اپنا چہرہ نکالا، گرم ریت سے منہ، ناک اورآنکھوں میں اذیت ناک جلن ہو رہی تھی۔ طبیعت سنبھلی تو معین کی تلاش شروع کی جو کہ قریب ہی لاش کے نیچے نیم بے ہوشی میں دبا ہوا تھا۔ منظر دیکھا تو ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ کچھ زخمی تھے لیکن چلنے پھرنے سے معذور اور بری طرح زخمی تھے۔ ہمیں دیکھ کر زخمیوں نے پانی مانگا قریبی کھیت میں پانی دینے والا نالہ تھا۔ جس میں قمیض ڈبو ڈبو کر ان زخمیوں کے منہ میں نچوڑتے رہے۔ کئی زخمیوں نے پانی پی کر ہمارے سامنے آخری ہچکی لی۔ متین الرحمن لکھتے ہیں کہ ’آخری ہچکی لے کر زندگی کا سفر ختم کردینے کا غم انگیز منظر ذہن کو کیسا ماؤف کر دینے والا ہوتا ہے۔ اس تاثر کو میں آج تک فراموش نہیں کر سکا‘۔ اس کے بعد متین الرحمن اور ان کے بھائی زندہ دفن ہونے سے بچے اور ایک کھیت میں کچھ عرصہ اذیت ناک حالات میں چھپ کر گزارا۔ سکھوں کے ہاتھوں زخم کھائے، پھر ایک سکھ کی پناہ میں آئے اور پھر اسی سکھ کے غلام بننے سے بچے اور آخر کار ٹرین کے ذریعے لاہور پہنچے جہاں انہیں انار کلی مشہور جوتوں کی دکان چاؤلہ بوٹ ہاؤس کے مالک نیک دل شخصیت شیخ افتخار الدین نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد یہ اپنے والدین سے مل گئے۔
    یہ کہانی صرف ایک متین الرحمن کی نہیں بلکہ 1947ء کا سال پاکستانیوں کے لیے بھرا پڑا ہے ان ہولناک و درد ناک واقعات سے ۔
    ایسے ایسے واقعات کہ دل پھٹ جائے ۔
    چاچا رحمت روتے روتے تقریبا بے ہوش ہو گیا ۔
    کریمو نے اسے چپ کروا کر پانی پلایا اور کہا چاچا ہم ہیں ناں آپ کے بیٹے ہم نہیں بننے دیں گے یہ مندر ۔
    چاچا رحمت پھر بولا کریمو !ہم نے پقکستان اپنے خرچے پہ مندر بنانے کے لیے عزتیں،لٹوائی تھیں ؟
    بھائی ،بہن ہر رشتہ ،جائیداد سب کچھ قربان کیا تھا ؟
    کریمو نے کہا چاچا وہ کہتے ہیں یہ مذہبی رواداری ہے ۔
    چاچا بولا
    اوئے کریمو ! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا اور عام معافی کا اعلان کیا تو کیا آپ نے مکہ کے مشرکین کے لیے کوئی بت کدہ بنایا تھا ؟
    کیا مدینہ کے یہودیوں کے لیے کوئی معبد بنایا تھا ،کیا آپ نے عیسائیوں کے لیے کوئی گرجا بنایا تھا ؟
    نہیں ناں؟
    تو آج کا مسلمان رحمت العالمین سے بڑھ کر کیسے رحیم ہو گیا ؟
    یہ لوگ ان سے بڑھ کر انسانیت کو جانتے ہیں؟
    اللہ سے بڑھ گئی ان کی عقل یا ان کا رحم ؟
    کریمو بولا سچ کہہ رہا ہے چاچا تو ،پریشان نہ ہو ان شا اللہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
    ہم پرتھوی کے بیٹے نہیں
    ہم غزنوی کے بیٹے ہیں ،ہم بت شکن ہیں ۔
    ہم سومنات توڑنے والے کبھی مندر نہیں بننے دیں گے ۔
    چاچا کو کچھ حوصلہ ملا اور نم آنکھوں سے دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا ۔

  • جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے  تحریر: ساجدہ بٹ

    جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے تحریر: ساجدہ بٹ

    جھلک رہا ہے ہمارا لہو شگوفوں سے

    رُخ بہار پہ یہ بانکپن یونہی تو نہیں

    جشن آزادی۱۴ اگست۱۹۴۷ کی یاد تازہ کرتے چلیں۔۔۔

    تحریر: ساجدہ بٹ

    میرا دلکش وطن لہلہاتا چمن قربان ہے اس پر ہمارا من و تن سرحدوں پر کھڑے ہیں وطن کے سپاہی کہ کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے میرے وطن کو کیوں کہ شامل ہے اس میں میرے آباؤ اجداد کی قربانی۔۔۔۔
    تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوئی کہ برصغیر پاک وہند میں دو قومیں آباد تھیں جن کا نسب العین ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھا۔۔۔۔
    ایک طرف انگریز کی نظر میں مشکوک تھے تو دوسری جانب ہندوؤں کی مخالفانہ اقدامات کی زد میں تھے۔
    گویا مسلمان چکی کے دو پاٹوں میں پھنس چکے تھے اور ان کے وجود کو شدید قسم کے خطرات لاحق تھے ان حالات میں لامحالہ مسلمانوں میں اپنے وجود کی بقا کی خاطر قومی وحدت کا وہ احساس اُجاگر ہونے لگا جو مدت سے ان کے لاشعور میں پنہاں تھا۔پھر اس الگ قومی تصور کی بنیاد پر انہوں نے ایک متحد اور منظم جدوجھد کا آغاز کیا تا کہ اپنی طرز زندگی اور ثقافت کو مٹنے سے بچایا جائے اور مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت کی جائے۔۔
    ہندوؤں کے ظالمانہ اقدامات سے مسلمان اس حد تک مایوس ہو چکے تھے کہ وہ اپنے لیے الگ راستہ اپنانے پر مجبور ہو گئے اس مُشکِل گھڑی میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مسلمانوں کو اتحاد،تنظیم اور فعالیت کی اشد ضرورت تھی۔
    اس صورت حال اسلام ہی ان کے اتحاد کا موثر ذریعہ اور سہارا تھا اس لیے ہمارے قائدین نے اسلامی قومیت کی ترویج پر بھرپور توجہ دی۔۔۔۔۔
    مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے والے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح تھے
    جن کے ذریعے لوگوں میں آزادی کا جذبہ پیدا ہونے لگا مسلمان آپ پر اعتماد کرنے لگے عوام کی بڑی تعداد مسلم لیگ پرچم تلے جمع ہونے لگی ۔۔۔۔
    رفتہ رفتہ کئی قرار دادیں پاس ہونے لگی اور جلد ہی بڑی طاقت انگریز اور ہندوؤں کی سمجھ میں آ گیا۔ دو الگ نظریات کی حامل قومیں ایک ساتھ نہیں رھ سکتیں۔۔۔۔
    بات مختصر کرتے چلیں۔۔۔۔۔
    کہ اس پاک وطن میں جس ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوا بلکہ آج جو ہم کشمیر کی حالت زار دیکھ رہے ہیں بلکل اسی طرح کی غلامی میں اسی طرح کی اجیرن زندگی ہمارے آباؤ اجداد بسر کر رہے تھے اسی طرح اپنے لاکھوں جگر گوشوں کو قربان کیا اسی طرح ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں نیلام ہوئیں کئی بہنوں کے سہاگ اُجڑ گئے خون کی ندیاں بھیں ۔۔۔۔۔
    ہمارے بزرگوں نے آزادی کے حصول کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے جی قارئین کرام۔۔۔۔۔
    بلکل بلکل بلکل اسی طرح جیسے آج کشمیر میں خون بہہ رہا ہے آزادی کے لیے تڑپ رہا ہے پر کوئی سننے والا نہیں ۔۔۔
    میرے عزیز ہم وطنو یہ ہی حال ہمارے آباؤ اجداد کا کیا گیا تھا وہ بھی اس طرح سسک رہے تھے لیکن اُن میں متحدہ اور منظم ہونے کی خوبی پائی گئی تھی
    کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ۔۔۔۔۔۔
    ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب
    ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے
    اُس وقت مسلمان پرامید تھے اور ساتھ ہی ساتھ
    ایک سچا اور امانت دار لیڈر مل گیا تھا جسے ذاتی مفادات سے کوئی غرض نہیں تھی جسے شہرت نہیں چاہیئے تھی جسے دولت نہیں چاہئے تھی جسے صرف اقتدار نہیں پیارا تھا۔۔۔۔
    اُس عظیم الشان لیڈر کو تو بس مظلوم کا ساتھ دینا تھا مظلوم کا بازو بننا تھا حقوق انسانیت سے دنیا کو آگاہ کرنا تھا صرف سیاست جیسی آنکھ مچولی نہیں کھیلنی تھی ۔۔۔۔۔۔
    بلکہ ڈٹ گئے اپنے مقصد میں لگا جان کی بازی پھر حاصل ہوا یہ پیارا وطن جس میں اب ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں دنیا کو فخر سے بتاتے ہیں کہ

    سنو دُنیا والو!!!!!!…………
    ہم ہیں پاکستانی ہم ہیں آزاد ملک کے باسی۔۔۔۔۔۔
    آج اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو قائد اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر تلاش کرنا ہو گا ویسی متحد قوم بننا ہو گا جیسی 14 اگست1947 کے وقت تھی پھر دیکھیں کیسے ہوتا ہے بحران آٹے کا ،کیسے چینی ذخیرہ ہوتی ہے ،کیسے قیمتوں میں اضافے ہوتے ہیں کیسے جرأت ہوتی ہے قوم کے افراد کی کہ وہ مہنگائی کریں پیٹرول چھپا لیں ۔۔۔۔۔
    قائد اعظم محمد علی جناح جیسا لیڈر ہو تو کیونکر ممکن ہے کشمیر آزاد نہ ہو ،کیونکر ممکن ہے کہ کشمیر پاکستان نہ ہو
    بس افسوس کہ اُن کے بعد اُن جیسا لیڈر نہیں مل پایا ورنہ مظلوم کا آج یہ حال ہر گز نہ ہوتا ۔۔۔
    قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں شعر عرض ہے۔۔۔

    کوئی تصویر نہ اُبھری تیری تصویر کے بعد

    ذہن خالی ہی رہا کاسہ سائل کی طرح
    اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ میرے وطن کی رونقیں سلامت رہیں پاکستانیوں میں متحدہ و منظم رہنے کی توفیق عطا فرما میرے وطن کو دشمنوں سے محفوظ فرما یا رب العزت میرے وطن کے رکھوالوں کی حفاظت فرمانا آمین ثم آمین یا رب العالمین

    خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اُترے
    وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

    (جہد مسلسل)

  • وطن کی مٹی گواہ رہنا   تحریر:راقم الحروف

    وطن کی مٹی گواہ رہنا تحریر:راقم الحروف

    وطن کی مٹی گواہ رہنا
    بلوچستان کے لاشاری قبیلے کا عظیم سپوت جس نے محرومیوں کا رونا دھونے کی بجائے ان محرومیوں کو بطور پروپیگنڈہ استعمال کرکے معصوم بلوچ نوجوانوں کو دہشتگرد بنانے کے مشن پر کار بند بیرونی قوتوں اور ان کے آلہ کاروں کے عزائم کو خاک میں ملادیا وہ جری اور محب وطن بلوچ پاکستانی جس نے بلوچستان میں روٹی کپڑا مکان و دیگر سہولیات زندگی کی کمی یا بے وقعت سیاسی دنگل کو موضوعِ جرح یا مقصد زندگی نہیں بنایا بلکہ اس مرد کہن نے ان اندرون و بیرون ملک قوتوں کا قلع قمع کرنے کو مقصد حیات بنالیا جنہوں نے محب وطن پاکستانی بلوچ قوم بالخصوص اس کے نوجوانوں کو پہاڑوں کا رخ کرنے اور دشمنانِ وطن کے ہاتھوں میں کھلونا بننے پھراس غدارانہ عمل کے نتیجے میں مارے جانے بعدازں مزید پروپیگنڈہ کے لیے میسنگ پرسنز بن جانے پر مجبور کردیا اس نڈر فرزندِ وطن نے پاک سرزمین کے محافظ دستے میں شمولیت اختیار کرکے خونِ شہیداں سے مزین دھرتی کو اپنے پاکیزہ لہو سے مزید سیرابی و خوشحالی اور اس کے پریشان حال عوام کے چہروں پر خوشیاں لٹانے کا عزم کرتے ہوئے بلوچستان بالخصوص و بالعموم پاکستان بھر میں دہشتگردانہ کاروائیوں کو ترتیب دینے والی بدنامِ زمانہ انڈین انٹیلی جنس ایجنسی راء کے (پاکستان میں خللِ امن کے لیے) متعین سرکردہ دہشت گرد جاسوس کلبھوشن یادیو کو پکڑوانے میں اہم کردار ادا کیا
    اور آخر کار وطن عزیز کا یہ سجیلا نوجوان دہشتگرد ریاست بھارت کی دہشتگرد ایجنسی کے دہشتگرد جاسوس کلبھوشن کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کے مشن پر کام کرتے کرتے 23 جولائی 2016 کو
    جام شہادت نوش کرکے فردوسِ بریں کی طرف عازمِ سفر ہوگیا۔
    جی میرے ہم وطنوں میرے دل کے قریب بلوچ پاکستانی بھائیوں آپ کے اس عظیم بیٹے،بھائی اور جانباز سپاہی کا نام اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ایس آئی “اسامہ لاشاری شہید” تھا جس کا شمار ہمارے روشن اور پرامن مستقبل اور ہماری اصل محرومیوں کو دور کرنے کی مشن پر ڈٹے ہوئے لوگوں میں ہوتا تھا۔

    (آخر میں راقم الحروف اپنے بے ربط و بے وزن شعر کی صورت میں شہداء پاک فوج کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے
    اے وطن تیری آغوش محبت کا قرض
    تیر ے بیٹے لہو کی قسطوں سے اتارتے رہے گے)

  • تا ابد سلامت مان رہے  تحریر:جویریہ بتول

    تا ابد سلامت مان رہے تحریر:جویریہ بتول

    تا ابد سلامت مان رہے…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    چودہ اگست کا دن جوں جوں قریب آتا ہے تو دل میں شکر کے جذبات شدت سے انگڑائی لینا شروع کر دیتے ہیں…اور وہ داستانِ کرب اس احساس کے زخم کو پھر جگا دیتی ہے کہ ہمارے آباء نے اس وطن کی تعمیر میں کتنی گراں تکالیف برداشت کی تھیں…؟اور آج ہم اک آزاد وطن کے باسی ہیں…!!!
    یہ خنک ہوائیں،گاتی فضائیں،طوفانوں کو روکتے ساحل، آزاد ،اُڑتے اور گاتے طیور،
    چہکتے مکین،لہلہاتی فصلیں،
    عبادات کی آزادی، پرسکون معمولات،آسان معاملات،خوشگوار سفر،دلکش تفریح گاہیں،آزاد اقلیتیں دل میں بہاروں کے خوشگوار جھونکوں کا احساس بھر بھر دیتے ہیں…
    اور اتھاہ گہرائیوں سے اللّٰہ تعالٰی کے شکر کے کلمات لبوں پر مچلنے لگتے ہیں…
    بانیانِ پاکستان کے درجات کی بلندی کے لیئے دعائیں نکلنے لگتی ہیں کہ جن کی دور اندیشی، حکمت اور تدبر نے ہماری کشتی انگریز و ہندو کی دوہری غلامی کے منجدھار سے نکال کر ساحل تک پہچانے کی لازوال کوششیں کیں…
    اس سفرِ آزادی میں شریکِ سفر لوگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں ان کا احاطہ کسی مختصر سی تحریر میں ہر گز ممکن نہیں ہے۔
    وہ ایک خونچکاں داستاں تھی جس میں گھرانوں کے گھرانے،
    خاندانوں کے خاندان لُٹ گئے۔
    لاکھوں مسلمانوں کو سفاک ہندو اور سکھ جتھوں نے جس بے دردی سے صفحۂ ہستی سے مٹایا تھا تاریخ میں دلچسپی رکھنے والا ہر طالب علم اس کو بخوبی تلاش اور پڑھ سکتا ہے…
    تب آنکھیں کھلی اور پھٹی رہ جاتی ہیں کہ یہ آزادی کس قدر گراں قیمت ہے کہ جان کی بازی ہار دینا بھی پھر مشکل نہیں لگتی…!!!
    یہ کتنی عظیم نعمت ہے مگر یہ بے مول نہیں ملا کرتی…
    وہ کربناک اور دلدوز داستان پڑھنے کے بعد زندہ ضمیر انسان تمام عمر کے سجدوں سے بھی اس نعمت کا شکر بجا نہیں لا سکتا…
    یہ کوئی ہفتوں یا مہینوں کی تحریک نہیں تھی بلکہ عشروں کی جہدِ مسلسل کا نتیجہ تھا یہ پاک وطن…!!!
    لیکن قیام پاکستان کے قریب کی تحریک میں
    شاعرِ مشرق نے 1930ء میں خطبہ الٰہ آباد میں اس ضرورت پر زور دیا تھا۔
    لفظ پاکستان کے خالق چودھری رحمت علی نے 1933ء میں ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں لفظ پاکستان پہلی دفعہ استعمال کیا گیا۔
    23 مارچ 1940ء لاہور میں منٹو پارک کے مقام پر پاس ہونے والی قرارداد لاہور جو بعد میں قراردادِ پاکستان مشہور ہوئی نے مسلمان لیڈران کو ایک خاص نظریہ پر مجتمع کر دیا تھا۔
    جس کی بنیاد پر اس سفر کا آغاز کیا گیا۔
    محمد علی جناح رحمہ اللّٰہ پر ہندو کی تنگ نظری کھل کر واضح ہو گئی تھی۔
    یہ بابرکت اور عظیم تر مقصد سے مزین سفر اپنی بنیاد کی مضبوطی پر اپنے واضح مطالبے 1940ء کے بعد جلد ہی پایۂ تکمیل تک جا پہنچا لیکن اس سفر کی داستانِ عزیمت کو مدنظر رکھنا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے کہ کس مقصد کی خاطر ہم نے یہ پاک وطن حاصل کیا تھا؟
    اور اس کی بنیادوں میں کتنا پاکیزہ لہو بہا اور اس دھرتی کے سینے پر کتنے آنچل قربان ہوئے؟
    آج بھی ہمارا ازلی دشمن اور ہمارے وجود کے درپے رہنے والا ملک کبھی سرحدوں پر،کبھی ملک کے اندر،کبھی بھائی چارے اور دوستی کے ڈھونگ سے دنیا کو دھوکہ دینے میں مصروفِ عمل ہے:
    مجھے مغلوب کرنے کو مرے دشمن کی جانب سے
    کبھی نفرت کے تیر آئے،کبھی چاہت کا دام آیا…
    لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آزادی کا سفر بے معنی شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے واضح مقاصد اور لازوال نظریات ہوا کرتے ہیں اور ہم نے جس لازوال نظریہ کی بنیاد پر یہ وطن حاصل کیا تھا اسی کا دفاع کر کے ہم اپنے دیس کی جغرافیائی،معاشی،معاشرتی،
    اخلاقی اور دفاعی سرحدوں کی حفاظت کر سکتے ہیں…
    ہمارے تمام مسائل کا حل اس نظریہ میں ہی پوشیدہ ہے…
    ہمارے نوجوانوں کو دشمن کے واروں کا اسیر ہونے کی بجائے اس وطن اور سبز ہلالی پرچم کی سر بلندی کے لیئے دن رات ایک کر دینا چاہیئے کہ جس وطن نے ہمیں آزاد سانسیں لینے کے لیئے یہ صاف ہوا فراہم کی…
    ہماری پہچان،آن اور شان ہے…!!!
    ہمارا ایک نام،وقار اور کردار ہے…
    جس اتحاد و یکجہتی سے کل اس کا قیام ممکن ہوا تھا،آج اسی سے اس کا دفاع اور مضبوط ہونا ممکن ہے…
    ہم سب کو وطنِ عزیز کے مسائل مل بیٹھ کر قومی یکجہتی سے حل کرنا ہوں گے۔
    مخالفت برائے مخالفت اور تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔
    یہ مٹی بڑی زرخیز ہے اور یہاں کے باسیوں نے دنیا میں اپنا آپ منوایا ہے اسے ذرا نم کرنے کی اور اپنے اپنے فرائض کی بجا آوری کا بھر پور احساس زندہ کرنے کی ضرورت ہے…
    حکمران ہوں یا عوام ہر اس اقدام سے گریز لازم ہے کہ جس سے ملک کے اندر انتشار یا عدم اتفاق کی فضا بننے لگے…!!!
    ہر میدان میں اس کی کامیابی کے لیئے وہ طب کا ہو یا تعلیم کا…
    ایجادات کا ہو یا دفاع کا…
    سیاست کا ہو یا معاشرت کا سنجیدگی سے کوشش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں اس پیارے دیس کا وقار بلند ہو…
    دشمن کی سوچ اور ایجنڈوں کے آلۂ کار بننے کا نتیجہ سراسر رسوائی ہے…
    ہمیں اپنے قلوب و اذہان کو صاف کر کے اس عظیم نظریاتی سرزمین کے لیئے اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کا عہد کرنا ہو گا کہ یہ گھر بڑی بھاری قربانیوں کے عوض ملا تھا اور اب اس کی حفاطت کا بوجھ ہم میں سے ہرہر شہری کے کندھوں پر ہے…ہمیں دل کی نامحکمی کو دور کر کے ان پھیلتی دیرینہ بیماریوں کا علاج دریافت کر کے آگے کی جانب قدم بڑھانا چاہئیں…
    محب وطن لوگوں کی قدر و قیمت اور ان کے مسائل کو بھر پور طریقے سے حل کیا جائے…
    کہ کثرت ہم مدعا وحدت شود…
    اور یہی وحدت کسی بھی قوم کی مضبوطی،وقار اور بقاء کی علامت بن جایا کرتی ہے…!!!
    اسے سینچا خوں سیاروں نے
    اور جان لُٹائی پیاروں نے…
    تا ابد سلامت مان رہے…
    میرے دیس کی اُونچی شان رہے…!!!
    اس کے رُخ پر بہاریں مسکرائیں…
    اس کی کلیاں اور شگوفے سدا چٹکیں…
    یہ چمن یونہی لہلہاتا رہے اور خزاؤں کو کبھی یہاں گزرنے کی بھی مجال نہ ہو…
    ہمیں صدقِ دل،عملِ پیہم اور وفا کے جذبات سے معمور ہو کر اس گلستان کی آبیاری میں کردار ادا کرنا ہے…
    یقیں محکم،عمل پیہم،محبت فاتح عالم…
    جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں…!!!
    ==============================

  • قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد  تحریر:مریم وفا

    قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد تحریر:مریم وفا

    میں پاکستان ہوں…!!!
    [تحریر:مریم وفا]۔
    14 اگست کی روشن صبح اور ایک گہری یاد…
    قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد…
    وطن عزیز پاکستان کے قیام
    کے پیچھے قربانیوں کی ایک انمٹ داستان پوشیدہ ہے….جوانوں نے اپنی جوانیاں لٹائیں،ماوں نے اپنے جگر گوشے قربان کئے….معصوم پھول انیوں میں پروئے گئے….عفت مآب آبگینے کرچی کرچی ہوئے….گھر بار قربان ہوئے….مال ودولت سے ہاتھ دھونے پڑے….ہجرت کی صعوبتیں سہنا پڑیں….غرضیکہ ہر دکھ درد کے راستے سے گزر کر یہ ملک خداداد پاکستان ہمارا مقدر بنا…
    وطن عزیز کے قیام کے پیچھے ایک لمحے، دن، ہفتوں یا پھرمہینوں کی جدوجہد پوشیدہ نہیں بلکہ عشروں کی جہدمسلسل کے بعد یہ آذاد وطن معرض وجود میں آیا….لیکن دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی یہ ارض وطن اپنے قیام سے لےکر آج تک ایک ایسے المیے سے دوچار رہی کہ جس کے رد کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دیں….اور آج بھی اسی غلط سوچ کی تشہیر بڑے شدومد سے کی جاتی ہےاور یہ بات ازبر کروانے کی ایک سعی لاحاصل کی جاتی ہے کہ الگ قیام کے بغیر بھی پڑوسی ملک کے ساتھ رہا جا سکتا تھااور وہی غیر اسلامی وغیراخلاقی رسومات بڑےپیمانےپر پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے جن سے نجات کے لئے خون کی ندیاں عبور کی گئیں….دشمنان وطن،وطن عزیز کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیےقیام پاکستان سے لےکر آج تک ہر میدان میں سرگرداں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس اسلامی قلعے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اپنے عزائم کی تکمیل کی جائے….اب یہ اہلیان وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے ہر وار کاشدومد سے ہی مقابلہ کریں وہ وار چاہے اسلامی اقدار پر ہو،رنگ ونسل کی بنیاد پر کیا جائے یاصوبائیت کی آگ بھڑکا کر کیا جائے،ہمیں ہر حال میں اس دھرتی کی حفاظت کا عزم لے کر آگے بڑھنا ہے کہ یہ پاک وطن ہے تو سب کچھ ہے ورنہ ہماری سب پہچان نا مکمل ہے…..یہ وطن قربانیوں کی بدولت ملا اب اسے سنبھالنے کے لیے بھی قربانیاں ہی درکار ہیں….یہ قربانیاں چاہے اغیار کی رسومات کے بائیکاٹ کی صورت دینا پڑیں….چاہے یہ مالی ہوں یا جانی….ہمیں ہر صورت اپنی ملی ومذہبی اقدار کوسینے سے لگا کر آگے بڑھنا ہے چہ جائیکہ اپنے اور اسلام کے دشمنوں کی اندھی تقلید میں اندھے ہو کر اپنی پیاری روایات کو پس پشت ڈالا جائے…. وطن عزیز کی یہی صدا ہے…!!!
    میں پاکستان ہوں!
    اپنوں کا مان ہوں
    غیروں کی آنکھ میں
    کٹکھتا تھان ہوں
    میں بنا شہیدوں کے خوں سے
    میں بڑھا شہیدوں کے خوں پہ
    میں قربانیوں کی اک
    عظیم داستان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میرے محسن مجھ پہ واری ہیں
    میرے دشمن مجھ سے عاری ہیں
    میں اپنوں کی چاہت کی اک
    روشن پہچان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میں پاکستان ہوں!!!
    ====_====_====__====

  • تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو  تحریر:عمر یوسف

    تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو تحریر:عمر یوسف

    تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو

    تحریر :عمر یوسف

    گھنی چھاوں والے درخت کا کام مسلسل آکسیجن اور چھاوں فراہم کرنا ہے ۔۔
    اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ چھاوں سے فائدہ حاصل کریں یا نہ کریں۔۔۔
    اور یہ لوگوں کا ظرف ہے کہ وہ اس چھاوں کی تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔

    بہتے ہوئے سمندر دریا نہروں کا کام تو بہتے ہی جانا ہے اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ بہتے پانی کو قابل استعمال بنائیں یا نہ بنائیں اور پانی جو عظیم نعمت ہے اس پر مشکور ہوں یا نہ ہوں ۔۔۔

    مضبوط پہاڑوں نے زمین کو ہلنے سے روکنا ہے اور زمین پر توازن و بیلنس قائم کرنا ہی ہے لوگ اس کو برا کہیں یا بھلا کہیں ۔۔

    سورج کی تمازت نے سردیوں میں لوگوں کو گرمائش فراہم کرنی ہی ہے اور گرمیوں میں لوگوں کی فصلوں پکانا ہی ہے چاہے لوگ تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔۔

    چلتی ہواوں نے انسانیت کو آکسیجن فراہم کرنی ہی ہے وہ ہوائیں لوگوں کو اچھی لگیں یا نہ لگیں ۔۔۔

    یہ سب مخلوقات اللہ کی فوجیں ہیں جو صرف انسانیت کو فائدہ پہنچانے میں محو ہیں ۔۔۔
    انہیں تعریف وتنقید سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔

    تم بھی اگر کوئی اچھا کام کررہے ہو تو نیت کو خالص کرو اخلاص پیدا کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہو اور خدائی فوجوں میں شامل ہوجاو ۔۔۔

    تنقید تمہارے حوصلے پست نہ کرے ۔۔
    تعریف تمہارے اندر گھمنڈ پیدا نہ کرے ۔۔۔
    حوصلہ افزائی کا نہ ملنا تمہیں بددل نہ کرے ۔۔

    لوگ برا کہہ رہے ہیں یا لوگ تعریف نہیں کررہے ہیں ۔۔۔
    یہ سب سوچیں آپ کو اچھے کام سے روکتی ہیں ۔۔

    خدا کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ عزم مسلسل کر لو کہ جیسے یہ چیزیں انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہیں تمہارے فیض کا سلسلہ بھی منقطع نہ ہو

  • بلال مقصود نے اسٹرنگز بیںڈ کے 30 سالہ سفر کو 2 تصویروں میں بیان کر دیا

    بلال مقصود نے اسٹرنگز بیںڈ کے 30 سالہ سفر کو 2 تصویروں میں بیان کر دیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار و گٹارسٹ اور عالمی شہرت یافتہ پاپ راک بینڈ اسٹرنگز کے ممبر بلال مقصود نے مذکورہ بینڈ کے 30 سالہ سفر کو 2 تصویروں میں بیان کردیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر گلوکار و گٹارسٹ بلال مقصود نے بینڈ کے 30 سال مکمل ہونے پر انتھک محنت کے اس سفر کی دو تصاویر شیئر کیں۔
    https://www.instagram.com/p/CC6Ruw-J0AZ/
    گلوکار بلال مقصود نے تصاویر شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ 30 سالہ محنت کی دو تصاویر-

    گلوکار و گٹارسٹ اور اسٹرنگز بینڈ کے ممبر بلال مقصود کی جانب سے شئیر کی گئیں تصاویر میں بلال مقصود اور فیصل کپاڈیہ کو لائیو کنسرٹ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے-

    بلال مقصود اکثر و بیشتر ماضی کی یادوں کو شئیر کرتے رہتے ہیں جن کو مداحوں کی طرف سے بجی کافی پسند کیا جاتا ہے-

  • خوش قسمت ہوں کہ بشری آپا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا فرحان سعید کا بشری انصاری کو خراج تحسین

    خوش قسمت ہوں کہ بشری آپا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا فرحان سعید کا بشری انصاری کو خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے اداکار اور گلوکار فرحان سعید نے پاکستان کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں پہلے انہوں نے شوبزاور کھیل کی شخصیات اور معروف مذہبی سکالر اور عالم دین مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین پیش کیا تھا تاہم اب انہوں نے لیجنڈری اور ورسٹائل اداکارہ و گلوکارہ بشری انصاری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ فرحان سعید نے بشریٰ انصاری کی کچھ تصاویر پوسٹ کیں اور ان کے کیپشن میں لکھا کہ میں خود کو انتہائی خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں کہ میں نے بشریٰ آپا کے ساتھ ڈرامہ ’اُڈاری‘ میں کام کیا اور اُن کے ساتھ کئے گئے ہر ایک منظر میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
    https://www.instagram.com/p/CC6HpX_FgPu/
    فرحان سعید نے بشریٰ انصاری کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ بشریٰ آپا کا ہنر مہارت سے ماورا ہے اور وہ اپنے ہر کردار سے سامعین کو متاثر کرتی ہیں بلاشبہ بشریٰ آپا پیشہ ور شخصیات میں سے ایک ہیں۔

    گلوکار نے لکھا کہ ہم کئی سلاوں سے دیکھ رہے ہیں کہ تھیٹر، ٹیلی وژن، فلم اور موسیقی کی دُنیا میں بشریٰ انصاری کی خدمات بے مثال ہیں اورشائقین نے فنی صنعت کے ہر شعبے میں اُن کے کام کی خوب تعریف کی ہے بشریٰ آپا کے تجربہ کی دولت بےمثال ہے اور ان کا نظم و نسق قابل ذکر ہے۔

    اداکار و گلوکار نے لکھا کہ پاکستان کے لیے بشریٰ انصاری کی خدمات بے تحاشہ ہیں ان کا فنی کیرئیر کئی دہائیوں تک محیط ہے لیکن ہر کرداور کے ساتھ وہ ایک نئی جہت لاتی ہیں –

    فرحان سعید نے اداکارہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ بشری آپا آپ ناقابل یقین ہیں آپ کی لازوال اداکاری سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا اس کے لیے ہم آپ کے شُکر گزار ہیں، ہم سب آپ سے بہت محبت کرتے ہیں

    نہوں نے ہیش ٹیگ LivingLegends #PakistaniHeroes# بھی استعمال کئے-

    واضح رہے کہ اس قبل فرحان سعید نے ملک کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا جن میں اداکار قوی خان، صوفی گلوکارہ عابدہ پروین اور معروف کامیڈین عمر شریف ،سکواش پلئیر جہانگیر خان اور قومی کرکٹر جاوید میاںداد اور معروف مذہبی سکالر و عالم دین مولانا طارق جمیل شامل تھے۔

    فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین

    فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین

    مولانا صاحب کا خطبہ سن کر عبارت فصاحت کی شان معلوم ہوئی اور تبلیغ کے صحیح معنی کا احساس ہوا فرحان سعید کا مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین

  • سوشل میڈیا پر ارطغرل کے ہمشکل پاکستانی نوجوان کے چرچے

    سوشل میڈیا پر ارطغرل کے ہمشکل پاکستانی نوجوان کے چرچے

    لوگوں کے درمیان یہ بات معروف ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کے کم از کم 7 ہم شکل افراد موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کم از کم 2 افراد ایسے ہوتے ہیں جو ہوبہو ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں ایسے ہی پاکستان میں موجود مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز دیریلیس ارطغرل کے مرکزی کردار ارطغرل (انجن التان)کی ہو بہو مشابہت رکھنے والے پاکساتی نوجوان کے بھی چرچے ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انجن التان کے ہمشکل کا نام مصطفے حنیف ہے اور وہ شہر قائد کے رہائشی ہیں مصطفے حنیف نے بین الاقوامی تعلقات(آئی آر) میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں اس کے علاوہ وہ اپنا یوٹیوب چینل چلا رہےہیں اور اس پر اکثر سیر و سیاحت سے متعلق ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں۔

    کراچی سے تعلق رکھنے والے انجن التان کے ہمشکل مصطفے حنیف کے سوشل میڈیا پربہت چرچے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایک معروف شخصیت بن گئے ہیں انجن التان سے مشابہت کی وجہ سے انہیں ’پاکستانی ارطغرل‘ کہا جاتا ہے-

    مصطفے حنیف نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ڈرامے کے پاکستان میں نشر ہونے سے قبل ان کے دوست کہا کرتے تھے کہ اس کے مرکزی کردار ارطغرل سے میری شکل بہت زیادہ ملتی ہے لیکن میں نے کبھی اُن کی بات پر غور نہیں کیا تھا پھر جب میں نے ڈرامہ دیکھا تو میں یہ اتنی مشابہت دیکھ کر حیران رہ گیا-

    ارطغرل غازی کے پاکستان میں نشر ہونے اور مقبولیت کے بعد مصطفے حنیف نے سیاحت کے ساتھ ساتھ اس ڈرامے پر اپنے ریویوز کی ویڈیوز بھی شیئر کرنا شروع کیں جنھیں سوشل میڈیا پر بے پناہ پذیرائی مل رہی ہے۔

    انہوں ںے ارطغرل غازی کے لباس میں گھڑ سواری کرتے ہوئے بھی ایک ویڈیو اپنے فیس بک پیچ پر اپ ڈیٹ کی جسے صارفین کی جانب سے کافی پسند کیا گیا –

    ارطغرل کے پاکستانی ہمشکل کا کہنا تھا کہ یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر مقبولیت کے بعد اب کہیں جاتا ہوں تو وہاں بھی لوگ مجھے پہنچان لیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک کام سے بازار گیا ماسک نہیں تھا تو چار پانچ لوگوں نے مجھے پہنچانا اور مجھ سے بات بھی کی –

    مصطفے حنیف نے ارطغرل غازی ڈرامے کا مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار انجن التان سمیت کاسٹ کے دیگر اہم کرداروں سے ملنے کے لیے ترکی جانے کی خواہشکا بھی اظہار کیا-

    واضح رہے کہ اس سے قبل ارطغرل غازی ڈرامے کے ایک اور اہم کرادر ترگت الپ کے پاکستانی ہمشکل کے بھی سوشل میڈیا پر کافی چرچے تھے- تُرگت الپ کے پاکستانی ہمشکل لاہور کے حافظ محمد علی خان نے باغی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لگتا تھا کہ ان کا فیس لُک ارطغرل سے ملتا ہے لیکن میرے دستوں کے مطابق میرا فیس تُرگت سے ملتا ہے-
    انہوں نے بتایا جب میرے بال بڑے یو گئے تو سوسائٹی کے لوگوں اور فیس بُک پر میری تصویریں دیکھ کر لوگ مجھے ترگت کہنے لگے-

    ارطغرل ڈرامے کے اہم کردار پاکستانی ترگت کا باغی ٹی وی پر خصوصی انٹرویو

  • یوٹیوب پر پابندی،شوبز فنکاروں کا برہمی کا اظہار

    یوٹیوب پر پابندی،شوبز فنکاروں کا برہمی کا اظہار

    پاکستان میں یو ٹیوب کی پابندی کے خلاف جہاں عوام میں غم و غصہ پایا گیا وہیں پاکستان شوبز ستاروں کی جانب سے بھی شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان میں یو ٹیب پر پابندی کے خلاف عام عوام کے ساتھ شوبز ستاروں نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کیا اور ساتھ ہی پی ٹی اے کو مشوروں سے بھی نواز دیا-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مہوش حیات نے اپنے ٹوئٹ میں سوالیہ انداز میں لکھا کہ ’کیا واقعی یوٹیوب پر پابندی لگائی جارہی ہے؟ پھر کیا اس کے بعد ٹوئٹر، انسٹاگرام، نیٹ فلیکس، فیس بُک اور یہاں تک کے واٹس ایپ پر بھی پابندی لگائی جائے گی؟


    اداکارہ نے کہا کہ آزادی اظہاررائے کسی بھی معاشرے کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ پاکستان میں ، سوشل میڈیا چیک اور بیلنس فراہم کرتا ہے جو مین اسٹریم میں نہیں ہوتا ہے۔ ترقی پسند ریاستوں پر پابندی کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے-


    اداکار اعجاز اسلم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہم نامناسب مواد شائع کرنے والے اکاؤنٹس کو کیوں نہیں بند کر سکتے ہیں .. اس طرح کیوں پوری قوم کو محروم کر رہے ہیں یہ انتہائی شرم کی بات ہے-

    زارا نور عباس نےاپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ پاکستان میں مواد تخلیق کرنے والوں اور ڈیجیٹل بنانے والوں اور تفریح ​​کاروں کی ایک بہت بڑی صنعت موجود ہے جو کہ یوٹیوب کے ذریعے کام کر رہی ہے۔


    اداکارہ نے لکھا کہ نامناسب مواد پر پابندی عائد کرنا ایک بہترین آئیڈیا ہے افراد لیکن یوٹیوب پر پابندی لگانے سے پیشہ ور افراد اور عوام میں صرف میں منفی سوچ ہی پیدا ہوگی۔

    زارا نور عباس نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ہم اس وبائی مرض کورونا کی وجہ سے پہلے ہی بہت سے لوگ نوکریوں سے محروم ہو چکے ہیں۔


    انہوں نے لکھا کہ چلیں یوٹیوب کی طرف اس پابندی میں اعتدال اختیار کریں اگر اس طرح کمی اور بے روزگاری کا سلسلہ جاری رہا تو ، اگلی بڑی وبائی بیماری ذہنی غیرفعالیت ہوسکتی ہے جو مزید جرائم کا سبب بنے گی اور منفی پن کا باعث ہوگی۔

    اداکاراحمد علی بٹ نے اس حوالے سے ایک انسٹاگرام اسٹوری شئیر کی جس میں انہوں نے لکھا کہ پی ٹی اے صرف پابندی ہی کیوں لگاتی ہے، وہ مواد کو کنٹرول کیوں نہیں کرتی؟

    احمد علی بٹ انسٹا گرام سکرین شاٹ
    اداکار نے کہا فنکاروں سمیت کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو یوٹیوب کے ذریعے نہایت مناسب طریقے سے کماتے ہیں، پابندی سے بہت بہترہے کہ حفاظتی اقدامات پرتوجہ دی جائے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ میں سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لیتے ہوئے یو ٹیوب کو بین کرنے کا عندیہ دیا ہے-

    حکومت نے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے تو ہمیں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے حریم شاہ