Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سارہ خان کی شادی کے بعد پہلی پوسٹ میں مداحوں کے لئے خوبصورت پیغام جاری

    سارہ خان کی شادی کے بعد پہلی پوسٹ میں مداحوں کے لئے خوبصورت پیغام جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی پُرکشش اداکارہ سارہ خان نے اپنی شادی کے بعد پہلی پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے اپنے مداحوں کے لیے ایک خوبصورت پیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پرسارہ خان نے اپنی شادی کے خوبصورت لمحات کی ایک خوبصورت ویڈیو شیئر کی ہے –
    https://www.instagram.com/p/CC6jlNsFMJ8/
    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں اداکارہ نے لکھا کہ میں خود کو اپنی شادی کے تمام لمحات آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے سے نہیں روک سکی آپ سب لوگوں نے میری شادی کو اور بھی خاص بنایا ہے-

    سارہ خان نے لکھا کہ ماشاء اللہ ماشاءاللہ میں اللہ تعالی کی بہت شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے اتنی عزت دی اور آپ سب لوگوں کا پیار دیا، بے شک عزت دینے والا خدا ہے۔

    اداکارہ نے لکھا کہ آخر میں میری شادی کے دنوں کو اپنے تصورات سے بھی زیادہ خوبصورت بنانے کے لیے تمام ڈیزائنرز اور میک اپ ٹیم کےلیے ایک چھوٹا سا شکریہ نوٹ ہے ، اپنی سالگرہ کے دن (14 جولائی) سے لے کر نکاح کے دن (16 جولائی) تک میں نے ہر لمحے کو انجوائے کیا ہے، الحمدللہ۔

    سارہ خان نے اپنی بہن ’عائشہ ظفر‘ کا بھی خاص شکریہ ادا کیا ہے اور لکھا کہ میری منگنی، مایوں، بارات (نکاح) اور ولیمے کے دنوں کوخوبصورت بنانے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ آپ ایک بہترین ویڈنگ پلانر ہیں

    علاوہ ازیں انہوں نے ایک ’عبدالصمد ضیاء‘ نامی فوٹوگرافر کا بھی شکریہ اداکیا ہے جنہوں نے اُن کی زندگی کے حسین لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا اداکارہ نے لکھا کہ شکریہ ’عبدالصمد ضیاء‘ ان حسین لمحوں کو قید کرنے کا ہم نے آپ پر بھروسہ کیا اور آپ نے ہمارا اعتماد اور بھروسہ جیت لیا ہے-

    سارہ خان اور فلک شیر کی منگنی اور مایوں کی خوبصورت تصا ویر سوشل میڈیا پر وائرل

  • موسیقار خلیل احمد کو دنیا سے رُخصت ہوئے 23 برس بیت گئے

    موسیقار خلیل احمد کو دنیا سے رُخصت ہوئے 23 برس بیت گئے

    پاکستان فلم ٹی وی اور ریڈیو کے لئے گیتوں، غزلوں اور ملی نغموں کی موسيقی ترتيب دينے والے نامور موسیقارخلیل احمد کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے 23 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی: 3 مارچ 1936 میں آگرہ میں پیدا ہونے والے خليل احمد قيام پاکستان کےبعد کراچی آگئے اور بے شمار گیتوں ، غزلوں اور ملی نغموں کی موسیقی ترتیب دی-

    انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1962 میں فلم آنچل سے کیا تھا اور 1960 کی دہائی میں پاکستان کے نامور میوزک ہدایت کاروں میں سے ایک رہے۔

    موسیقار نے 1962ء میں فلم آنچل کی موسیقی ترتیب دی تو راتوں رات ان کی پہچان صف اول کےموسیقاروں میں ہونےلگی، انہوں نے 1962 سے 1990 تک 2 پنجابی اور31 اردو فلموں کی دھنوں کے علاوہ متعدد ملی نغموں کی بھی موسیقی ترتیب دے کر وطن سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا-

    خليل احمد کو موسیقی میں خدمات پر نگار ايوارڈز سميت متعدد اعزازات سے نوازا گيا-

    موسیقار خلیل احمد 61 سال کی عمر میں 22 جولائی 1997ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے اور میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک ہوئے ۔ لیکن ان کی موسیقی کی دُھنیں آج بھی شائقین کے کانوں میں گونجتی ہیں-

  • نبیل قریشی کا لیاری گینگ وار پر ویب سیریز بنانے کا اعلان

    نبیل قریشی کا لیاری گینگ وار پر ویب سیریز بنانے کا اعلان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور ہدایتکار نبیل قریشی ’لیاری گینگ وار‘ پر ویب سیریز بنائیں گے-

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور ہدایتکار نبیل قریشی ’لیاری گینگ وار‘ پر ویب سیریز بنائیں گے جس کا اعلان ہدایتکار نے ٹوئٹر پر کیا-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نبیل قریشی نے اپنے ٹوئٹ میں اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ہم کافی مدت سے اس پر کام کررہے ہیں لیکن یہ ویب سیریز کے اعلان کا بہترین وقت ہے۔


    نبیل قریشی نے لکھا کہ اس پراجیکٹ کو فلم والا پکچرز کے بینر تلے تیار کیا جائے گا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے نبیل قریشی نے کہا کہ ویب سیریز کی شُوٹنگ بہت جلد شروع ہوگی اور اس نئے پراجیکٹ کی ہدایات نبیل قریشی اور فضا علی مشترکہ طور پر دیں گے-

    نبیل قریشی نے بتایا کہ لیاری گینگ وار پر بننے والی اس ویب سیریز میں فزا علی پروڈیوسر کے طور پر بھی کام کریں گی۔

    نبیل قریشی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اس نئی ویب سیریز کو ’او ٹی ٹی‘ پلیٹ فارم پر ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    نبیل قریشی نے بتایا کہ اس ویب سریز کو لال کبوتر کی کہانی لکھنے والے مصنف علی عباس اور باسط نقوی نے تحریر کیا ہے، ہم موسم سرما میں اس ویب سریز کی شوٹنگ کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ موسم اچھا ہوگا اور ایسے میں کام کرنا آسان ہوگا-

    ہدایت کاروں کی جانب سے مزید تفصیلات تو شیئر نہیں کی گئیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی بڑی ویب سیریز ہوگی جسے پاکستان کے ہی پلیٹ فارم پر ریلیز کیا جائے گا۔

    ہدایتکار نبیل قریشی ، پروڈیوسر فزا علی مرزا اور ان کی ٹیم نے خود کو پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی ایک مستند پاکستانی آواز کے طور پر اُبھارا کیا ہے۔ نامعلوم افراد ، ایکٹر ان لاء ، اور لوڈ ویڈنگ جیسے منصوبوں کے ساتھ ، انھوں نے ہمیشہ ان کہانیوں اور کرداروں کولیا ہے جن کا پاکستان میں ایک عام فرد سب سے زیادہ وابستہ ہے۔

    واضح رہے کراچی ہمیشہ نبیل کا ہوم ٹریف رہا ہے۔ لہذا ، ان کا کراچی میں اپنی پہلی ویب سیریز کو بنیاد بنانے کا فیصلہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لیاری گینگ وار کا موضوع ہے کیوں کہ اس میٹروپولیٹن شہر کی ایک اہم حقیقت ہونے کے باوجود اس کی نمائندگی کبھی بھی کسی فلم یا ڈرامے نے کسی بڑے انداز میں نہیں کی ہے۔

    پاکستانی سامعین ہمیشہ سے ہی حقیقی دنیا کے جرائم اور گینگ وار کے موضوع پر مبنی ویب سیریز اور فلموں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ یقینا اس موضوع پر ایک ویب سیریز دیکھنا دلچسپ ہوگا جو پاکستان کی اپنی حقیقت کی نمائندگی بھی کرے گا-

    انبیل قریشی کی فلموں میں فہد مصطفیٰ اور ماہرہ خان قائد اعظم زندہ باد دوسرا احمد علی بٹ کا فٹ مین ہے ، اور تیسری مذکورہ فلم جس کا عنوان ابھی تک ویب سیریز ہے۔


    ہدایتکار نبیل قریشی کے اس ٹویٹ اعلا ن کے بعد جرنلسٹ ہارون راشد نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

    ڈرامہ سیریل دھوپ کنارے کے بعد آہٹ اور تنہائیاں بھی سعودی عرب میں نشر کئے جائیں گے

  • مثبت اشاریے  بقلم : عدنان عادل

    مثبت اشاریے بقلم : عدنان عادل

    مثبت اشاریے
    بدھ 22 جولائی 2020ء

    ملک پر چھائے کالے بادل چھٹ رہے ہیں۔ روشنی کی کرنیں نمودار ہورہی ہیں۔کورونا وبا تیزی سے کم ہورہی ہے۔ معیشت میں مثبت رجحانات واضح ہورہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ بڑھتی چلی جارہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ملک میں آنے والی ترسیلاتِ زر بڑھ گئی ہیں۔ چین کی شراکت سے سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہوگیا ہے۔ ملکی سرمایہ کاروں کیلئے بینکوں کی شرح ِسود بہت کم کردی گئی ہے۔ دوبرس پہلے ملک زر مبادلہ کے شدید بحران کا شکار تھا۔ بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کے لیے قومی خزانہ میں ڈالرز نہیں تھے۔ نئے منتخب وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی بیرونی ممالک کے دورے شروع کیے ‘ دوست ملکوں سے زرِمبادلہ کا بندوبست کیا ‘ ملک کو نا دہندہ ہونے سے بچایا۔ حکومت نے حد سے بڑھی ہوئی درآمدات پربھی کٹوتی لگائی تاکہ آنے والے وقت میں ڈالرز کی مزید قلت نہ ہو۔ پاکستانی روپیہ کی قدر مصنوعی طور پر بلند سطح پر رکھی گئی تھی اسے گرا کر اُسکی قدرتی حد پر لایا گیا ۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈز سے معاہدہ کیا جسکے تحت حکومتی اخراجات کو کنٹرول کیا گیا۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار آہستہ ہوگئی۔ ان اقدامات سے مہنگائی کا سیلاب آیا۔ تجارت کو بریکیں لگیں۔ شرح ترقی کی رفتار سست ہوگئی۔ مندی کا ماحول بن گیا۔ خیال تھا کہ ایک دو سال کی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی۔ معیشت مستحکم ہوجائے گی تو زیادہ مضبوط و مستحکم بنیاد پر استوار ہونے کے بعد آگے بڑھے گی۔ لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔اس سال کے شروع میں دنیا کورونا وبا کی زد میں آگئی۔ پوری دنیا کے ساتھ پاکستان کی بھی اُلٹ بازی لگ گئی۔ کاروبار‘تجارت تقریبا ًبند ہوگئے۔معیشت کا پہیہ جو پہلے ہی سست رفتاری کا شکار تھا بالکل ہی رُک گیا۔معاشی ترقی کی شرح تین فیصد کے بجائے منفی نصف (0.5)ہوگئی۔ تاہم پاکستان کی معیشت ہمیشہ کی طرح سخت جان ثابت ہوئی ہے۔ یہ موجودہ بحران سے بھی توقع سے پہلے باہر نکل رہی ہے۔ مثبت اشاریے سامنے آرہے ہیں۔ اندیشہ تھا کہ بیرونی ممالک سے پاکستانی جو رقوم ملک میں بھیجتے ہیں ان میں کمی آجائے گی مگر یہ بھی نہیں ہوا۔ تیس جون کوختم ہونے والے مالی سال میں ترسیلاتِ زر اس سے گزشتہ برس کی نسبت دو ارب ڈالر زیادہ رہی۔تئیس ارب ڈالر ز ملک میں وصول ہوئے۔ وبا کے باوجود بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں اضافہ بہت خوش آئند بات ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ محنت کش پاکستانی خطرناک عالمی وبا سے گھبرائے نہیں اُن کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ملک پر اُن کے اعتماد میں کمی نہیں آئی۔ بیرون ملک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے بھی پہلے سے زیادہ پُر امید ہیں۔ جون میں ختم ہونے والے مالی سال میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ رہی جو اس سے پہلے آنے والے سال میںسوا ارب ڈالر سے کچھ زیا دہ تھی۔ یعنی اس میں تقریباًنوّے فیصد اضافہ ہوگیا۔ دوسرے الفاظ میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا۔ حالانکہ ہمارا میڈیا ملکی معیشت کی اتنی تاریک تصویر پیش کررہا تھا کہ لگتا تھا کہ اس ملک میں کچھ بھی اچھا نہیں۔اسٹاک مارکیٹ بھی گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل آگے بڑھتی جارہی ہے۔ اسکی ترقی کی رفتار حالیہ برسوں میںایک ریکارڈ ہے۔گزشتہ ایک ماہ میں چار ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں مندی کا تاثر بھی پوری طرح درست نہیں۔ عید کے موقع پر عوام نے وبا کے باوجود کھُل کر خریداری کی۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اس جون میں پاکستان نے بیرون ملک سے تین گنا زیادہ مالیت کے موبائل فون درآمد کیے ہیں۔ موبائل فون بنیادی ضرورت کی شے نہیں۔ اسکی خریداری اور درآمد میں زبردست اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کا متوسط طبقہ اچھی حالت میںہے اور پہلے کی طرح شاپنگ کی طرف مائل ہے۔چار ماہ سے کورونا وبا کے باعث ملک میں کاروبار جزوی طور پر بند ہیں لیکن غریب لوگ بھوک سے دوچار نہیں ہوئے۔ حکومت نے تقریبا ڈیڑھ سو ارب روپے سوا کروڑ سے زیادہ خاندانوں میں تقسیم کرکے انکو روٹی پانی سے محروم نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ بارہ ہزار فی خاندان کی رقم بہت کم ہے لیکن حکومت کے محدود وسائل دیکھتے ہوئے یہ بھی جرات مندانہ اقدام تھا۔ حکومت نئے مالی سال میں دو سو ارب روپے بانٹنے کااعلان کرچکی ہے۔سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جارہی ہیں۔ اسٹیٹ بنک نے بنیادی شرح سود کو پونے چودہ سے کم کرکے سات فیصد کردیا ہے تاکہ بزنس میں آسانی ہو۔ مکان خریدنے کے لیے حکومت نے قرضوں کو آسان بنادیا ہے۔ عوام صرف پانچ سے سات فیصد شرح سود پر قرض لیکر مکان خرید سکتے ہیں۔ اگر اس شعبہ میں حکومت نے اپنی پالیسی میں مستقل مزاجی کا ثبوت دیا تو روزگار پیدا ہوگا اور مکانات میں کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ سب سے اہم‘ وفاقی حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر ایکسی لیٹر دبا دیا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کا سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہونا ایک بڑا اِشارہ ہے کہ ریاست اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس منصوبہ کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتی ہے۔ سکھر سے حیدرآباد موٹر وے کا منصوبہ وفاقی حکومت نے منظورکرلیا ہے جس پر کام شروع ہونے جارہا ہے۔ چین کے تعاون سے کراچی سے پشاور تک نئے ‘ جدید ریلوے ٹریک کا منصوبہ جسے ایم ایل ون کہا جاتا ہے منظوری کے حتمی مراحل میں ہے ۔ فیصل آباد میں قائداعظم معاشی زون کا قیام ملک میں صنعتی عمل کو تیز کرنے کی جانب ایک انقلابی اقدام ہے۔ اس صنعتی شہر میںلگنے والی صنعتوں کو دس سال کے لیے متعدد ٹیکسوں سے چھوٹ ہوگی۔ پنجاب حکومت بہاولپور سمیت متعدد شہروں میںنئے انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ اگر یہ کام سست رفتاری کا شکار نہ ہوا تو ملک میں پائیدار معاشی ترقی کا راستہ کوئی روک نہیں سکتا۔ یوں لگتا ہے کہ حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی عائد کردہ بندشوں کو توڑتے ہوئے چین کے ساتھ شراکت داری میں سی پیک منصوبے تیزی سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکا ہے ۔اگر شورش پسند سیاستدان قوم کو سکون کا سانس لینے دیں تو ملک کے تیزی سے آگے کی طرف بڑھنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہے۔

  • بھارتی پولیس نے سماجی فاصلہ سمجھانے کے لئے شاہ رخ خان کی فلم سے مدد لے لی

    بھارتی پولیس نے سماجی فاصلہ سمجھانے کے لئے شاہ رخ خان کی فلم سے مدد لے لی

    دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے متعلق اپنی عوام کو متعلق آگاہی پیغام دینے کے لئے بھارتی رایست آسام کی پولیس نے شاہ رخ خان کی فلم سے مدد لے لی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست آسام کی پولیس نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے اکاؤنٹ پر ایک دلچسپ پیغام جاری کیا ہے-


    اپنے‌ٹویٹ میں آسام پولیس نے شاہ رخ خان کے مخصوص انداز میں ان کی ایک تصویر شیئر کی جس میں کمپیوٹر ایڈیٹنگ کی مدد سے ان کے چہرے پر ماسک پہنایا گیا تھا۔

    اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہ رخ خان کے دونوں بازوں کھلے ہوئے ہیں ان کے دونوں ہاتھوں کی لمبائی کو 6 فٹ کے سماجی فاصلے کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    شاہ رخ خان کی ایڈٹ کی گئی تصویر شئیر کرتے ہوئے پولیس نے بالی وڈ کنگ کی 90 کی دہائی کی فلم ’بازیگر‘ کا ایک ڈائیلاگ ٹوئٹ کیا۔

    ڈائیلاگ کو تبدیل کرتے ہوئے پولیس لکھا کہ ’کبھی کبھی پاس آنے کے لیے کچھ دور جانا پڑتا ہے، اور دور جا کر پاس آنے والے کو بازیگر کہتے ہیں۔

    پولیس نے اپنے پیغام میں لکھا کہ سماجی دوری زندگیوں کو بچاسکتی ہے- چھ فٹ کے فاصلے پر رہیں اور بازیگر بنیں!

    واضح رہے کہ شاہ رخ خان کی فلم بازیگر 1993 میں ریلیز ہوئی جس میں شاہ رخ خان کے مقابل کے مرکزی کردار کاجول اور شلپا شیٹھی نے نبھائے۔

    اس فلم کے ایک سین میں کردار اجے شرما (شاہ رخ خان) ایک ریس جان بوجھ کر ہار جاتا ہے اس شکت کے بعد وہ یہی کہتا ہے کہ کبھی کبھی جیتنے کے لیے ہارنا بھی پڑتا ہے، اور ہار کر جیتنے والے کو بازیگر کہتے ہیں اس فلم میں مذکورہ ڈائیلاگ کو بھی غیر معمولی شہرت ملی۔

  • میرا نے مالی امداد کے لیے لاہورآرٹس کونسل میں درخواست جمع کرادی

    میرا نے مالی امداد کے لیے لاہورآرٹس کونسل میں درخواست جمع کرادی

    پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف اور اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی رہنے والی اسیکنڈل گرل کے نام سے مشہور ادکارہ میرا نے مالی امداد کے لیے لاہورآرٹس کونسل میں درخواست جمع کرادی ہے اور امداد کی فوری اپیل بھی کی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خبروں کی زینت بنی رہنے والی اداکارہ میرا اب ’مالی مشکلات‘ کا بھی شکار ہوھئی ہیں اداکارہ میرا نے مستحق فنکاروں کےلیے قائم سپورٹ فنڈ حاصل کرنے کے لیے الحمرا آرٹس کونسل کو درخواست دیدی ہے۔

    الحمرا آرٹس کونسل ہر ماہ مستحق فنکاروں کو سپورٹ فنڈ سے 5 ہزار روپے امداد فراہم کرتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق امدای فارم میں اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ ڈی ایچ اے میں رہتی ہیں سات افراد زیر کفالت ہیں جبکہ انہوں نے اپنی عمر 42 سال اور تجربہ 25 سال ظاہر کیا ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل اداکارہ میرا نے دعوی کیا تھا کہ وہ ان دنوں شدید مالی بحران کا شکا ر ہیں۔

    رائع کے مطابق میرا نے اپنے ایک قریبی دوست سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے دبئی والے گھر کی پوری قسطیں ادا نہیں کیں جس کی وجہ سے گھر سے محروم کر دیئے جانے کا ڈر ہے اور اس حوالے سے مجھے جلد ہی نوٹس بھی ملنے والا ہےاس لئے مجھے فوری طور ایک کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔

    میرا کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور مختلف این جی اوز سے بھی رابطہ کریں گی تاکہ ان کی مالی مدد کی درخواست کی جائے۔

    میرا نے اپنے دوست کو یہ بھی بتایا تھا کہ مجھے امریکہ میں بھی لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہوا جہاں میں نے پروڈکشن شروع کی ہوئی تھی۔

    امریکہ میں لاکھوں ڈالرز کا نقصان ہونے کے باعث اداکارہ میرا شدید مالی بحران کا شکار

  • شان شاہد عاصم سلیم باجوہ کی حمایت میں میدان میں آگئے، ٹویٹر صارفین کو کھری کھری سُنادیں

    شان شاہد عاصم سلیم باجوہ کی حمایت میں میدان میں آگئے، ٹویٹر صارفین کو کھری کھری سُنادیں

    پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد نے سی پیک کے چئیرمین عاصم سلیم باجوہ کی حمایت کرتے ہوئے ان کے خلاف بولنے والوں کو کھری کھری سُنا دیں-

    باغی ٹی وی : اداکار شان شاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں عاصم سلیم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ زمین کا بہادر کبھی بھی اپنے مادر وطن کی حفاظت اور ان کی خدمت کے لئے اپنے حلف کو نہیں بدلتا ہے۔


    شان شاہد نے کہا کہ ہم پاکستان کے مستقبل کو محفوظ اور خوشحال رکھنے کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    شان شاہد نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں ٹویٹر پرعاصم سلیم باجوہ پر تنقید کرنے والے ٹویٹر صارفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ٹویٹر باز جو پاک آرمی کے خلاف لکھ رہے ہیں بکے ہوئے ہیں-


    اداکار نے شیدی غصے کا اظہار کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کئے لکھا کہ تُم سب پر لعنت جو پیسے لے کر پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں-

    انہوں نے لکھا کہ عاصم سلیم باجوہ سے حساب مانگنے والے پہلے خود تو حساب دیں وہ حساب مانگے جو اپنا حساب دے سکتا ہے-

    اداکار کی اس ٹویٹ پر جہاں کچھ لوگوں نے سراہا وہیں متعدد لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا-


    طیب منیر نامی صارف نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ ہمیں ٹرالرز نہیں دیئے جاتے ہیں ، ہم پاکستان کے اتنے ہی وفادار شہری ہیں جیسا کہ شان بھائی آپ ہونے کا بہانہ کرتے ہیں..مجھے اپنی دفاعی افواج کا سارا احترام ہے کیونکہ وہ اگر ہماری آزادی لیکن کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہئے ، ایک سویلین اور سپاہی کے لئے ایک ہی قانون ہونا چاہئے-
    https://twitter.com/Marlebro/status/1285557338183806976?s=20
    ایک صارف نے کہا کہ بکے ہوئے تو آپ ہیں صبح وردی میں کٹیروں سے پیسے لیتے ہو اور شام میں تویٹر پر حلال کرتے ہو باجوہ کے پاس اثاثے ہیں / غلط قرار دیئے گئے۔ جس طرح سے آپ چاہیں اس کا دفاع کریں ، آپ ہر وقت لوگوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے ہیں۔


    ایک صارف نے کہا کہ آپ کیوں اتنا گسہ کر رہے ہیں جس پر شان شاہد نے کہا کیونکہ یہ میرے وطن کے محاظ ہیں-


    عبدالرحمن سیٹھ نامی صارف نے لکھا کہ پاکستان آرمی زندہ باد تھی ہے اور ہمیشہ رہے گی .. اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے ، اس وطن پر قُربان ہونے والوں کا ہر خون کا قطرہ ہم پر فرض ہے ہم تو صرف اثاثہ جات پر سوال اُٹھا رہے ہیں-


    غُلفان نامی صارف نے کہا کہ ہم ان کے فرائض پر ان کے شُکر گزار ہیں لیکن ہم نے سیکیورٹی اسٹیٹ سے سوشل سٹیٹ کی طرف سفر کرنا ہے انشاءاللہ لیکن اس کے لئے فوج کا کردار بُہت اہم ہے-
    https://twitter.com/humaira_abro/status/1285499331437568000?s=20
    حمیرا نامی صارف نے شان شاہد کو لکھا کہ تمہیں خود ہی شرم آنی چاہئے


    حمیرا نامی صارف کی اس ٹویٹ پر شان شاہد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا کہ میں کچھ بہت سخت لکھ سکتا تھا لیکن میں خواتین کا احترام کرتا ہوں۔ تو اگلی بار ہوشیار رہنا۔ اگر آپ اپنی رائے دینا چاہتی ہیں تو یہ اس انداز میں کریں کہ آپ کے والدین نے جو مینرز آپ کو سکھائیں ہوں آپ کے الفاظ آپ کی پرورش اور اپنی شخصیت کو ظاہر کرتے ہیں

    سی پیک بہت اہم، کوئی پروجیکٹ رکنا نہیں،قرضے سے بہتر ہے سرمایہ کار لے کر آئیں،عاصم سلیم باجوہ

  • غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر  بقلم :عمر یوسف

    غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر بقلم :عمر یوسف

    غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر

    عمر یوسف

    انسان عزت چاہتا ہے اس لیے تکبر کو اپناتا ہے تاکہ لوگ میری عزت کریں
    حالانکہ عزت غرور میں ہے ہی نہیں بلکہ عزت تو عجز و انکساری اور تواضع میں ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ میرا مال محفوظ و سلامت رہے اور بڑھتا ہی جائے اس لیے وہ پیسہ سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اور خرچ نہیں کرتا مال کا حق ادا نہیں کرتا ۔
    حالانکہ مال کا محفوظ ہونا اور اس کے بڑھنا کا راز صدقہ کرنے میں ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ میرے سارے کام حل ہوجائیں میرے پاس فراغت ہو اور ایک وقت میں زیادہ کام نمٹا لوں اس لیے وہ اپنے رب کی یاد اور عبادت سے غفلت و سستی برتتا ہے۔۔
    حالانکہ کاموں کا احسن طریقے سے انجام پانا اور فراغت ملنا یہ اللہ کی عبادت میں ہے اللہ وعدہ کرتے ہیں کہ۔جو بندہ کام چھوڑ کر عبادت کی طرف مشغول ہو اس کے سارے کام حل کردیے جاتے ہیں اور اسے کے دل کو غنی اور بے پرواہ کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ روحانی سکون حاصل ہو دماغ پرسکون رہے اس لیے وہ موسیقی سنتا ہے۔۔۔۔

    حالانکہ روح کو سکون پہنچانے کا حقیقی راز تو ذکر خدا اور تلاوت قرآن میں ہے موسیقی تو ایسے ہی ہے جیسے شراب ہے وقتی نشہ دیتی ہے لیکن بعد میں شراب جگر کو کسی قابل نہیں چھوڑتی اسی طرح موسیقی بھی دل پر ایسی مہریں لگاتی ہے کہ بعد میں انسان غور و فکر اور تدبر سے محروم کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    بدقسمتی سے میرے معاشرے میں ان جائز چیزوں کے حصول کا غلط راستہ اپنایا جاتا ہے منزل تو ملتی نہیں الٹا انسان ذہنی و روحانی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے

  • آئیے!دلوں کو زندہ کریں  بقلم : مریم وفا

    آئیے!دلوں کو زندہ کریں بقلم : مریم وفا

    آئیے!دلوں کو زندہ کریں…!!!
    (بقلم : مریم وفا)
    دل،انسانی جسم کا بادشاہ…یہ شاداں و فرحاں ہو تو پورا جسم خوش باش،اور اگر یہ ملول وغمزدہ تو سارا جسم پریشاں حال…!!!
    لیکن آج ہم میں سے اکثر کا یہی شکوہ ناں کہ کیا کریں کہ اللہ کا دیا بہت کچھ لیکن نہ جانے کیوں دل بہت پریشان،
    کسی چیزکی کمی نہیں لیکن دل کو قرار نہیں ،اور یہی حقیقت بھی ہے کہ آج ہمارےگھروں میں کسی چیز کی کمی نہیں…مال ودولت کی فراوانی،آرائش و زیبائش کی کثرت،الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی بھرمار،سوشل میڈیاکا چسکا اور نہ جانے کیا کچھ کہ سب نعمتیں اور لذتیں بیان سے باہر…لیکن ذہنی سکون اور دلی قرار سے ہم پھر بھی تہی دست…مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود بھی ہم بے قرار…؟؟؟
    ذہنی آسودگی ہم سے دور بھاگتی ہے…دل کی آلائشیں برھتی ہی جارہیں…لیکن ہم پھر بھی دنیاوی لذات میں سکون ڈھونڈنے کے متلاشی…
    حقیقت سے پھر بھی منہ موڑے ہوئے ہیں کہ قلب کی آسودگی اور ذہنی اطمینان کا علاج آخر کوئی تو ہو گا…نعمتوں کی بارش کرنے والا رب ہمیں یہ بھی تو یاد کروا رہا ہے ناں کہ نعمتوں کی کثرت کے باوجود بھی دل کی زمین پر بہار لانے کے لئےایک نسخہ لاجواب ہے،کہ میری یاد سے ہی تمہارے خزاں رسیدہ دلوں پر بہار آئے گی…تمہاری زندگیوں میں سکون در آئے گا…میری نعمتیں تمہارے لیے باعث صد سکون ثابت ہوں گی…بس میری یاد کی شمع اپنی زندگی میں روشن کرو, تمہاری زندگی کی اندھیر نگری چمک اٹھے گی…خزاں زدہ دلوں پر بہاریں لوٹ آئیں گی…کہ یہی توایک نسخہ!شافی ہے,بے سکون زندگیوں میں سکون و قرار کی روح پھونکنے کا…کرب واضطراب سے مضمحل دلوں میں راحت ونشاط کے گل کھلانے کا…!!!
    یہ مال و دولت کے انبار،یہ سونے چاندی کے ڈھیر مانا کہ دنیاوی نعمتوں میں عظیم سہی لیکن قلبی سکون و اطمینان کے لیے ہمیں نعمتوں کے عطاکرنے والے رب کی یاد سے دلوں کو بسانا ہے کہ یہی ایک صورت ہے ہماری زندگیوں میں سکون و اطمینان لانے کی،ورنہ دنیاوی لذات کی کثرت ہمارے لئے کبھی بھی قلبی سکون کا موجب نہیں بن سکتی جب تک کہ ہم اپنے دلوں کو اپنے رب کی یاد سے نہ بسالیں….!!!

  • شہزاد رائے نے اپنا گانا ’بھول جا‘ نئے انداز میں گا کر مداحوں کے دل جیت لئے

    شہزاد رائے نے اپنا گانا ’بھول جا‘ نئے انداز میں گا کر مداحوں کے دل جیت لئے

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے 2002 میں گائے گئے اپنے پُرانے گانے کو نئے انداز میں گا کر ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کر دی-

    باغی ٹی وی : سماجی کارکن و گلوکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں وہ گٹار نجاتے ہوئے اپنا گانا ’بھول جا‘ گا رہے ہیں-


    گلوکار نے ایک منٹ اور 40 سیکنڈ پر مشتمل اپنے پرانے گانے کی نئی ویڈیو میں بالی وڈ فلم ’کل ہو نہ ہو‘ کے گانے کے بول بھی نہایت عمدگی سے شامل کئے۔

    ویڈیو کے کیپشن میں شہزاد رائے نے گانے کے بول بیکار ہوتا ہے، جو پیار ہوتا۔۔، لیکن یہ سچ ہے یہ، ایک بار ہوتا ہے لکھے-

    شہزاد رائے نے مزید لکھا کہ میں نے اختتام کو تبدیل کردیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ سب بھول جا کی پرانی یادیں محسوس کریں گے-

    مداحوں کی جانب سے گانے کے اختتام کو خُوب پسند کیا جارہا ہے۔


    https://twitter.com/shaikhyy1/status/1284949756565950466?s=20


    اس سے قبل گلوکار کی جانب سے پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کا گانا گنگناتے ہوئے ویڈیو شیئر کی تھی اور ساتھ لکھا تھا کہ خالی کمرے میں محبت بھرے گیت گنگنانے کا الگ ہی مزہ ہے۔