Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سوشانت سنگھ کی آخری فلم کے پرومو نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم کے پرومو نے ریلیز ہوتے ہی دھوم مچا دی

    گذشتہ ماہ 14 جون کو خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والے بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ کا ٹریلر ریلیز کر دیا گیا جس نے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں-

    باغی ٹی وی : سوشانت سنگھ کی اس فلم کا دنیا بھر میں موجود اُن کے مداحوں کو بے صبری سے انتظار تھا تاہم ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر وائرل ہو گیا ہے اور اس سنے سوشانت سنگھ کے مداحوں کو پھر سے دُکھی کر دیا ہےدل بیچارہ کا ٹریلر نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان ٹوئٹرپینل پر بھی ٹرینڈ میں رہا اور سوشل میڈیا پر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں-

    فلم کے ٹریلر کو مختصر عرصے میں یو ٹیوب پر 4 کروڑ 46 لاکھ 9 ہزار 4 سو ننانوے بار دیکھا جا چکا ہے-

    فلم ’دل بیچارہ‘ کے 02 منٹ اور 44 سیکنڈ پر مشتمل ٹریلر میں دل بیچارہ کیزی (سنجنا سانگھی) اور مینی (سوشانت سنگھ راجپوت) کی کہانی دکھائی گئی ہے موذی مرض کینسر میں مبتلا کیزی مینی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہیں ٹریلر کے ہر سین میں جذبات دکھائے گئے ہیں ہے جو دل کو چھو جاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم دل بے چارہ ہالی وڈ فلم ’دی فالٹ ان آر اسٹار‘ کا ہندی ریمیک ہےسنجنا نے اس فلم کے ساتھ بالی وڈ میں اپنا ڈیبیو کیا ہے فلم ’دل بیچارہ پہلے مئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی تھی تاہم اب یہ فلم 24 جولائی کو ڈزنی پلس اور ہاٹ اسٹارز پر ریلیز ہوگی –

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم کا ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر وائرل

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    سوشانت سنگھ کی فلم کا ٹریلر ریلیز

  • عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی اپنی موت کے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید

    عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی اپنی موت کے متعلق جھوٹی خبروں کی تردید

    پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنے انتقال سے متعلق وائرل جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مداحوں کے لئے ایک پیغام شئیر کیا ہے-

    باغی ٹی وی: گذشتہ روز سے عطاء اللہ کے انتقال کی جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر ائرل ہیں جس کے بعد گلوکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے اپنا پیغام جاری کیا ہے-

    لیجنڈ ری گلوکار نے لکھا کہ اب پھر میرے بارے میں غلط خبریں گردش میں ہیں۔

    عطاءاللہ خان نے لکھا کہ الحمداللہ آپ کی دُعاؤں سے میں بالکل ٹھیک ہوں۔

    علاوہ ازیں انہوں نے فیس بُک پر اپنا ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کیا –
    عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی
    ویڈیو پیغام میں عطاء اللہ نے آواز کی دُنیا کے اپنے تمام چاہنے والوں کو سلام کیا اور اُن کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ الحمداللہ آپ کی دعاؤں اور محبتوں کے ساتھ میں بھی بالکل ٹھیک اور خیریت سے ہوں۔

    عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ آپ سب مجھے اپنی دُعاؤں میں یاد رکھیے گا اور اللہ آپ کا حامی و ناصر ہوں۔اللہ حافظ –

    واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال اپریل میں بھی سوشل میڈیا پر عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی کے انتقال کی افواہیں پھیل رہی تھیں جس کے بعد اُن کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اُنہوں نے تمام جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث اسپتال میں زیرعلاج تھے لیکن وہ زندہ ہیں۔

  • بہت سے "اسباق” مستقبل میں مُشک کے منتظر ہیں  یمنیٰ زیدی

    بہت سے "اسباق” مستقبل میں مُشک کے منتظر ہیں یمنیٰ زیدی

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اور خوبرو اداکارہ یمنیٰ زیدی کا کہنا ہے کہ بہت سے "اسباق” مستقبل میں مُشک کے منتظر ہیں-

    باغی ٹی وی : جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ سیریل ’رازِ اُلفت‘ میں مُشک کا مرکزی کردار نبھانے والی اداکارہ یمنیٰ زیدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پر ڈرامہ سیریل ’رازِ اُلفت‘ کے ایک سین کی خوبصورت تصویر شیئر کی-
    https://twitter.com/yumnazaidiactor/status/1280554481399275521?s=19
    تصویر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ بہت سے "اسباق” مستقبل میں مُشک کے منتظر ہیں۔

    یمنیٰ زیدی نے اپنی پوسٹ میں مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’رازِ اُلفت‘ دیکھنے کا بہت شکریہ-

    واضح رہے کہ اس سے قبل ٹویٹر پراداکارہ یمنی زیدی کی جانب سے اپنے مداحوں کے لیے ایک خصوصی ویڈیو سامنے آئی تھی ویڈیو میں انہوں نے پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے اور پلے کارڈ کے ذریعے انڈسٹری میں انٹری سے متعلق اپنے مداحوں کو بتایا تھا –

    انہوں نے کہا تھا کہ وہ مداحوں کو کچھ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ بچپن میں ایک ایسی بچی تھیں جس میں اعتماد کی کمی تھی لیکن میں خواب بھی دیکھا کرتی تھی۔

    اداکارہ نے پلے کارڈزکے ذریعے بتایا تھا کہ میں ہمیشہ ٹی وی پراداکاری کرنے کی خواہشمند تھی جس کے لیے مختلف آڈیشنز دیئے جن میں مجھے ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اورآج میں انڈسٹری میں اچھا کام کررہی ہوں۔

    اداکارہ نے مداحوں کومشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کبھی بھی خواب دیکھنا بند نہ کریں کیونکہ یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔

    کبھی بھی خواب دیکھنا بند نہ کریں کیونکہ یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یمنی زیدی

  • نیا ٹیلنٹ سیل فون سے دور رہ کر اپنے وقت کو انجوائے کریں ، علی ظفر کا نئے فنکاروں کو مشورہ

    نیا ٹیلنٹ سیل فون سے دور رہ کر اپنے وقت کو انجوائے کریں ، علی ظفر کا نئے فنکاروں کو مشورہ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و گلوکار علی ظفرکا نئے آنے والے فنکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیل فون سے دور رہ کراپنے اچھے وقتوں کو انجوائے کریں-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر علی ظفر نے گانے کی ریہرسل کے دوران لی گئی اپنی 13 سال پرانی ایک تصویر شیئر کی جس میں ان کے ساتھ اداکارہ ریما خان بھی ہیں انہوں نے تصویر شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ انہیں اسٹائل ایوارڈز شو 2007ء کی ریہرسل کی ایک تصویر ملی۔
    https://www.instagram.com/p/CCVe__UFydD/
    علی ظفر نے بتایا کہ انہوں نے اپنے گانے ’مستی‘ پر اداکارہ ریما کے ساتھ پرفارم کیا تھا جس کی ریہرسل کی گئی تھی۔

    انہوں نے لکھا کہ یہ پورا ایونٹ ملائیشیا میں ہوا تھا، اس میں مزہ آیا وہ بہت سادہ اور آسان وقت تھا نہ ہی فخر کرنے کے لئے سوشل میڈیا کی پوسٹ تھی اور نہ ہی اسے بوسٹ کرنا تھا۔

    انہوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ میوزک انڈسٹری کے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پوری برادری کو ایک پرسکون اور خوشگوار ماحول ملا تھا-

    علی ظفر نے اپنے پیغام میں نئے فنکاروں کے لیے لکھا کہ میری خواہش ہے کہ آج نیا ٹیلنٹ سیل فون سے دور رہ کر ایسے وقتوں کا تجربہ اور لطف اٹھائے-

    پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں میں کس کا کونسا نمبر ہے؟

  • جذباتی مداح نے تصویر نہ کھنچوانے پرعاطف اسلم کی گاڑی کے ساتھ کیا کیا؟

    جذباتی مداح نے تصویر نہ کھنچوانے پرعاطف اسلم کی گاڑی کے ساتھ کیا کیا؟

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے جذباتی مداح کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے مداح نے تصویر نہ کھنچوانے پر ان کی گاڑی کو نقصان پہنچایا تھا۔

    باغی ٹی وی : گلوکار عاطف اسلم کے پاکستان اور سرحد پار بھارت سمیت دنیا بھر میں لاکھوں مداح موجود ہیں جو ان سے بے حد محبت کرتے ہیں فنکاروں کے ساتھ ان کے جذباتی مداحوں کے واقعات اکثر منظر عام پر آتے رہتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ مداح اپنے پسندیدہ فنکاروں کے لیے کس حد تک جذباتی ہوتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCSkdkFhA-F/
    اسی طرح کا ایک واقعہ عاطف اسلم کے ساتھ بھی پیش آیا تھا عاطف اسلم کی نجی ٹی وی چینل کے شو مذاق رات میں واسع چوہدری کو دیئے ایک انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ایک واقعہ کیا انکشاف کیا جس کو سُن کر شو کے میزبان واسع چوہدری، شو میں موجود گلوکارہ آئمہ بیگ اور دیگر لوگ حیران رہ گئے تھے۔

    عاطف اسلم نےایک پاگل مداح کا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ میری گاڑی میرے ایک دوست کے گھر کے باہر کھڑی ہوئی تھی اس وقت میرا ایک مداح آیا اور کہا کہ مجھے آپ کے ساتھ تصویر کھنچوانی ہے۔

    تو میں نے کہا مجھے یاد پڑتا ہے میں نے تین دن پہلے آپ کے ساتھ تصویر کھنچوائی ہے جس پر اس مداح نے کہا نہیں وہ میں نہیں کوئی اور تھا جس پر عاطف اسلم نے کہا نہیں میں آپ کے ساتھ تصویر نہیں کھنچواؤں گا کیونکہ میں آپ کے ساتھ تصویر کھنچوا چکا ہوں اور پھر اس نے مجھے کہا میں آپ سے پیار کرتا ہوں میں نے کہا او کے اورمیں اندر چلا گیا۔

    عاطف اسلم نے مزید کہا کہ جب میں دو گھنٹے بعد باہر آیا تو میری پوری گاڑی پر نشانات بنے ہوئے تھے اور گاڑی پر آئی لو یو عاطف اسلم لکھا ہوا تھا

    بہت کم وقت میں اداکاری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے احد رضا نقل اتارنے میں بھی ماہر نکلے

  • ماڈل و اداکار سید صائم علی بھی شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    ماڈل و اداکار سید صائم علی بھی شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے ماڈل اور اداکار سید صائم علی بھی نکاح کے بندھن میں بندھ گئے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پرماڈل و اداکار سید صائم علی نے اپنے نکاح کی خوبصورت تصویر شیئر کی سید صائم علی نے اپنی شریک حیات کے صرف ہاتھوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ چلو آؤ ایک نئی زندگی شروع کریں۔
    https://www.instagram.com/p/CCTsK4Hn_Zz/
    اداکار کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں-

    اپنی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے صائم علی کا کہنا ہے کہ چھ ماہ پہلے انہوں گھر والوں کی پسند سے منگنی کی اور گزشتہ روز سادہ سی تقریب میں نکقاح کر لیا۔

    جب کہ ولیمے کی تقریب بھی اسلام آباد مٰیں گذشتہروز7 جولائی کو سادگی سے رکھی گئی تھی، جس میں قریبی رشتہ دار اور دوستوں نے شرکت کی تھی۔ اہلیہ کے حوالے سے صائم نے بتایا کہ وہ دبئی سے تعلق رکھتی ہیں اور پردہ کرتی ہیں لہذا اسی لئے شادی کی کوئی تصویر شیئر نہیں کی جارہی۔

    اداکار نے بتایا کہ انہوں نے شادی کے موقع پراہلیہ سے گزارش کی کہ ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جائے مگر انہوں نے منع کر دیا تھا جس وجہ سے انہوں نے اہلیہ کی کوئی تصویر شیئر نہیں کی۔

    سید صائم علی سے قبل گلوکار ہارون بھی لاک ڈاؤن میں خاموشی سے اسلام آباد میں ایک سادہ سی تقریب میں شادی کر کے نئی زندگی کا آغآز کیا تھا-

    صدف کنول سے صدف سبزواری تک کا سفر

     

    لاک ڈاؤن کے دوران رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے فنکار

    شوبز انڈسٹری کی ایک اور جوڑی قرنطینہ میں شادی کے بندھن میں بندھ گئی

     

    سجل علی اور احد رضا میر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے

  • برہانِ کشمیر  بنا جنتوں کا مہمان    ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    برہانِ کشمیر بنا جنتوں کا مہمان ازقلم : محمد عبداللہ گِل

    برہانِ کشمیر بنا جنتوں کا مہمان
    ازقلم
    محمد عبداللہ گِل
    آزادی ایک وہ عظیم الشان نعمت ہے جس کا اندازہ اس کے کھو جانے کے بعد ہوتا ہے۔دنیا کا ہر جاندار آزاد رہنا پسند کرتا ہے حتی کے جب ہم پرندوں کو یا دوسرے جانوروں کو پنجروں میں قید بناتے ہیں تو وہ بھی اپنی آزادی کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق جستجو کرتے ہیں۔کچھ یہی فطرت حضرت انسان کی ہے۔
    جب موجودہ غلام قوموں کی طرف ہم نظر پھیریں تو سب سے پہلے ہماری نظر جنت نظیر اس کی طرف جاتی ہے۔کشمیر ہی وہ اس ہے جسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔لیکن جیسے مشہور ہے کہ خوبصورت چیزوں کو نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے۔اسی طرح وادی کشمیر کو بھی نظر لگ گئی اور وہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک انڈین درندوں کی قید میں ہے۔
    ‎برہان مظفر وانی شہید کشمیر کی خوبصورت جنت نظیر وادی میں جنم لینے والا عظیم سپوت، شجاع، بہادر، دلیر اور نڈر نوجوان تھا جو کہ جذبۂ شہادت اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار تھا۔ جوانی نے ابھی انگڑائی ہی لی تھی کہ اپنی قوم پر ظلم کے ٹوٹتے ہوئے پہاڑ دیکھ کر برداشت نہ کر سکا قوم کی حوصلہ افزائی و ہر قسم کی قربانی اور مدد کیلئے ہمہ تن کمر بستہ ہوا۔ پھر اس بہادر نوجوان نے اپنی مظلوم کشمیری قوم کی جدوجہد آزادی کو خون جگر سے سیراب کیا اور اپنے مقبوضہ خطے کی تحریک آزادی اور اپنی قوم کی حق خودارادی کی خاطر اپنی جان کا عظیم اور قیمتی نذرانہ پیش کر کے زندۂ و جاوید ہو گیا۔ تو پھر اس باصلاحیت سرفروش نوجوان کی شہادت نے مقبوضہ ‎ کشمیر کی تحریک جدوجہد آزادی اور حق خودارادی اور جذبۂ شہادت ایمانی ‎کو ایک نیا موڑ، نیا ولولہ، نیا جذبہ دیا خاص کر اس نوجوان کی شہادت نے کشمیری نوجوان نسل کے اندر حق خودارادیت اور کشمیر کی تحریک جدوجہد آزادی کی ایک نئی جہت پیدا کی اور ان کے سینوں میں شہادت کی نئی امنگ پیدا کر دی اور ایسی روح پھونک دی ہے کہ جس کیلئے کبھی بھی فنا اور موت نہیں ہے کیونکہ جس قوم کی آزادی میں شہداء کا خون شامل ہو جائے وہ قوم کبھی بھی موت سے نہیں ڈرتی اور نہ ہی شکست سے دوچار ہو سکتی ہے۔ وادی کشمیر کی تحریک آزادی کو تو الحمدللہ ہزاروں مجاہدین، غازیوں اور شہداء کے خون نے سیراب کیا ہے ‎ایسی قوم جس کا مطمع نظر شہادت ہو اور شہادت کو اپنے لئے باعث فخر بھی سمجھتی ہو اور شہادت کے بدلہ میں جنت کا خوبصورت اور حسین ترین منظر سامنے ہو اللہ تعالی اور اس کے محبوب پاکؐ کی رضا اور خوشنودی کا بھی یقین ہو وہ قوم بھلا شہادت کی موت سے کیسے پیچھے ہٹ سکتی ہے ان شاءاللہ آزادی کشمیری عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ کشمیری عوام پر سفاک درندہ صفت بھارتی سامراج نے 73سال سے قتل وغارت، بربریت اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ دنیا کے طاقتور ترین ارباب اقتدار و صاحب اختیار اپنے کانوں میں روئی اور آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر دنیا ومافیہا سے بے نیاز ہو کر سوئے ہوئے ہیں جیسا کہ دنیا کی کوئی خبر ہی نہیں، رات دن گولیوں کی بوچھاڑ اور ٹینکوں کے گولوں کی گڑگڑاہٹ عورتوں، بچوں بوڑھوں بیماروں، زخمیوں اور بے سہارا نہتے کشمیریوں کی چیخ و پکار خون کے بہتے ہوئے دریا عالمی ادارہ تحفظ انسانی، اقوام متحدہ، یورپی یونین و دیگر عالمی اداروں کو کیوں دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔ ظلم کی انتہا ہو چکی ہے اب تو مقبوضہ کشمیر کی زمین کا چپہ چپہ ان مظلوم کشمیریوں کے خون سے رنگین ہو چکا ہے بھارت کے ظلم کی وجہ سے ان مظلوم کشمیریوں کی آہ وبکا، دلوں کو ہلا دینے اور چیر دینے والی چیخوں سے زمین و آسمان کا خلا بھی بھر چکا ہے تن تنہا نہتے مظلوم غیور کشمیری عوام اپنی حق خودارادی اور جدوجہد تحریک آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ جس طرح دوسری قومیں آزادی سے اپنی زندگی گزار رہی ہیں اسی طرح کشمیریوں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کی زندگی گزاریں اپنی قسمت کے خود فیصلے کریں
    کشمیری قوم نے بھی اپنی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے جس تحریک آزادی کشمیر کہتے ہے۔اس تحریک آزادی میں ہزاروں نامور شہدا کا لہو موجود ہے۔لیکن جب ہم بات کرتے ہیں ایک ایسے شیر کی جو کہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر ہے

    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

    برہان وانی شہید رحمتہ اللہ کو آج 4 سال ہو گئے شہید ہوئے لیکن ایک وجہ جو ان کو یاد کیے ہوئے ہیں ان کی شجاعت و بہادری ہے جس کے ساتھ انھوں نے اپنی جان راہ خدا میں جہاد فی سبیل اللہ میں قربان کر دی۔
    برہان وانی شہید کی بھی چاہت تو ڈاکٹر بنے کی تھی اور ذہین بھی تھے۔لیکن جن سے رب تعالی نے جہاد کا کام لینا ہو،انھوں نے دنیاوی تعلیم کو خیرباد کہ کر حزب المجاہدین میں شمولیت کر لی
    جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ کی شہادت نے کشمیر اور دوسرے مظلوم ممالک کی تحریکوں میں ایک ولولہ اور جوش بھر دیا ہے۔جب انسان اپنا جان و مال اللہ کی راہ کے لیے وقف کر دیتا ھے تو رب جلیل بھی اس دنیا و آخرت میں صلہ دیتا ہے۔کیونکہ بہترین صلہ نے والا تو اللہ ہی ہے۔اللہ کے صلہ کو دیکھا جائے تو دین سے وفا کے بدلے میں غلام حضرت بلال کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوتا ہے۔یہ ہی حال ادھر کشمیر کے شیر کا ہے جس نے مظالم کی دنیا میں ہی جنم لیا۔یہ تصور کر کے ہی خوف آتا ہے کہ آپکا جنم ایک ایسی جگہ پر ہوا ہو جسے اسیر بنا لیا گیا ہو۔

    بقول اقبال:-
    غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
    جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

    قارئین گرامی! اگر اس شعر کو دیکھا جائے تو آج شاعر اسلام علامہ اقبال کہ اس شعر کی حقیقی تصویر جنت نظیر وادی کشمیر کی صورتحال برہان وانی اور دیگر شہدا کی شہادت کے بعد دیکھی جا سکتی ہے۔انسان جب دوسروں کے بارے غور و فکر کرنا شروع کر دے تو اللہ اسے عزتوں سے نوازتے ہیں

    کیونکہ ارشاد ربانی ہے:-

    قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الۡمُلۡکِ تُؤۡتِی الۡمُلۡکَ مَنۡ تَشَآءُ وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ۫ وَ تُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ ؕ بِیَدِکَ الۡخَیۡرُ ؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۲۶﴾

    آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے ۔

    آج آپ دیکھ لیں کمانڈر برہان مظفر وانی شہید کی شہادت کو 4 برس بیت گئے لیکن دنیا اسلام ان کو یاد کر رہی ہے کشمیر میں بھی آزادی پسند ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں

    I am Burhan Waani
    I am Pakistani

    کشمیر کے اس شعر کی شہادت کے بعد غاصب فوجیوں نے یہ کہا ہم نے برہان وانی کو مٹا دیا لیکن حقیقت یہ ھے کہ برہان وانی کی محبت اور عقیدت لوگوں کے دلوں سے نہیں نکل سکتی۔اس پر مجھے جگر مراد آبادی کا شعر یاد آ رہا ہے

    ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

    یہ مقام و مرتبہ تو اللہ نے دنیا میں دیا ہے آگے جو رب تعالی نے وعدے کر رکھے ہیں کہ خون کے قطرے گرنے سے پہلے ہی جنت میں داخلے کا فیصلہ کر دیا جاتا ھے۔

  • آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں  بقلم: اخــتِ طلحـہ بــٹ

    آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں بقلم: اخــتِ طلحـہ بــٹ

    آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں

    اخــتِ طلحـہ بــٹ

    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

    ہمارے معاشرے میں فکری انتشار نے جنم لیا ہے اور یہی فکری انتشار ہمارے اسلامی معاشرہ کو کمزور کر رہے ہیں۔مسلمان ایک دوسرے سے تنگ نظری کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں اتحاد و یکجہتی اور وحدت اور فکر و عمل غائب ہوتے جا رہے ہیں
    اور اختلافات’چپقلش’کدورتیں اور تنازعات ظاہر ہوتے جا رہے ہیں۔فکری انتشار اور باہمی جھگڑے معاشرہ کی بنیاد ہلا کر رکھ دیتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالی نے مسلمانوں کے مابین اتحاد’اتفاق’وحدتِ فکرو عمل اور صلح و مفاہمت قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    "اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔” (الانفال:46)

    تفرقہ بازی کا آغاز اور مقصد……
    اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی یا انتشار فکری کے آغاز کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا

    "لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا’اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے” (الشوری:14)

    یہ تفرقہ بازی اللہ کی طرف سے علم آ جانے کے بعد شروع ہوا۔اس لیے اللہ اس کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ لوگ خود اس کہ ذمہ دار ہیں جنہوں نے دین کے صاف صاف اصول اور شریعت کے واضح احکام سے ہٹ کر نئے نئے مذاہب و مسالک بنائے۔

    اس تفرقہ بازی کا محرک کوئی نیک جذبہ نہ تھا’بلکہ یہ ایک الگ فکر پھیلانے اور ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش اور مال و جاہ کی طلب کا نتیجہ تھی۔

    قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے تفرقہ بازی کو ظلم قرار دیا گیا اور تفرقہ برپا کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر دی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

    "لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے تمہارا رب بھی۔اسی کی عبادت کرو’یہی سیدھا راستہ ہے مگر اس (صاف تعلیم کے باوجود)گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا’پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب سے” (الزحرف63_65)

    تفرقہ بازی سے بچاؤ کا حکم…….
    اللہ تعالی نے فرمایا۔
    "(اے محمد ﷺ) اب آپ ﷺ
    کی طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے،اور جس کی ہدایت ہم ابراھیم اور موسیٰ علیہ السلام کو دے چکے ہیں’اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ”۔ (الشوریٰ:13)

    فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

    "انتشار فکری یعنی تفرقہ بندی سے بچنے اور اتحاد امت کے فروغ کے لیے اللہ تعالٰی نے ایک اور جگہ پر حکم فرمایا کہ:

    اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔” (آل عمران: 103)

    اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان والوں کو باہم مل کر ایک جماعت بناتا ہے ۔
    اس رسی کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو،اسی سے ان کو دلچسپی ہو،اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ
    "کتــاب الــلــه حبــل الـلــه المـمدود من السـماء الـی الارض” (ابن کثیر)

    "اللہ کی کتاب ہی وہ رسی (حبل اللہ)ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔”

    مرکز اتحاد کے بارے میں دنیا کی اقوام کی راہیں مخلتف ہیں۔کہیں نسل اور نسب کے رشتوں کو مرکز وحدت سمجھا گیا،کہیں رنگ کا تفاوت وحدت کا مرکز بن گیا اور کہیں زبان مرکز وحدت قرار پائی۔
    قرآن مجید نے مومنوں کو ایک قوم بنا کر حبل اللہ (اللہ کی رسی)سے وابستہ کیا۔
    لہذا ملت اسلامیہ کا مرکز نظریہ اور عقیدہ جو ان کے پاس قرآن کریم اور دین اسلام کی شکل میں ہے۔اس مرکز سے وابستہ رہنے ہوئے مسلمانوں کو انتشار اور فرقہ بندی سے روکا گیا ہے

    عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی’ذہن ہندی’نطق اعرابی

    آخری گزارش

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جس میں نیکی و خیر کی جدو جہد کی جاتی ہو
    اور منکرات و مفاسد اور بدعات کی رسموں کو ختم کیا جائے،تبھی ہمارے معاشرے میں اللہ تعالی کی طرف سے فیوض و برکات نازل ہو گی۔
    معاشرے کو اچھے حکمران عطا ہونگے ،وباو بیماریوں کو خاتمہ ہو گا
    پھر ایسا معاشرہ کامیاب و مستحکم ہو گا ،اس کی بنیاد مضبوط ہو گی
    اس معاشرے کے افراد کتاب اللہ اور رسول ﷺ کی اتباع و تقلید کا جذبہ پیدا ہو گا۔
    اس سبب سے یہ معاشرہ ناقابلِ تسخیر بن جائے گا۔

    اختکم اختِ طلحہ بٹ

  • خرید و فروخت میں بھی نرمی اور آسانی    تحریر:ساجدہ بٹ

    خرید و فروخت میں بھی نرمی اور آسانی تحریر:ساجدہ بٹ

    خرید و فروخت میں بھی نرمی اور آسانی

    تحریر:ساجدہ بٹ *
    سیدنا جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور فیاضی سے کام لے

    آپ کے خیال میں نرمی اور فیاضی سے یہ مراد کہ بیچتے وقت میٹھا میٹھا اچھے لہجے میں بات چیت کرنا؟؟؟؟
    ارے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!
    نرمی سے مراد یہاں یہ ہے کہ مناسب قیمت وصول کریں منافع کے لالچ میں پڑ کر گاہک کی کھال مت اتاریئے ۔۔۔۔۔۔۔جیسا کہ اس عید الفطر پر دکانداروں نے عوام کی اُتاری !!!!!!
    اور خوب جم کر کھال اُتاری گئی اور عوام نے خوب جم کر اپنی کھال اتروائی ۔کھال تو چلو اوتروا ہی لی لیکن ساتھ ساتھ بیماری بھی لگوا لی لاک ڈاؤن کی دھجیاں اڑائی گئیں اور اب الزامات ہم کبھی حکومت پر اور کبھی ڈاکٹروں پر لگاتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔
    سنیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!! ہمارے نبی مُحترم دو جہاں کے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے کچھ پروا نہ کی جہاں سے چاہا مال کمایا۔۔۔
    سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ آدمی کو اس بات کی کُچھ پروا نا ہو گی کہ حلال طریقہ سے کمایا یا حرام طریقہ سے
    (صحیح بُخاری)
    آج یہ کھلم کھلا ہو رہا ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی صدیاں پہلے آگاہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں حلال مال حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا،آپ فرماتے تھے؛؛
    جس شخص کو یہ اچھا معلوم ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو جائے یا عمر بڑھ جائے اسے چاہیے کہ اپنے قرابت والوں کے ساتھ نیک سلوک کرے
    صحیح البخاری۔۔۔۔

    اور ہمارا طرز عمل آج اس سے ذرا مختلف ہے ہم اپنے غریب رشتے داروں کو بھول جاتے ہیں جب ہمارے پاس مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے۔۔۔۔۔

    سیدنا ابو ہریرہ رز کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا،،جھوٹی قسم مال کو کھوٹا کر دیتی ہے اور برکت کو مٹا دیتی ہے،،،،،،

    اور اب قسم کھانا تو دکاندار کا عام ہو گیا تا کہ اُن کی بتائی ہوئی قیمت پر گاہک آنکھیں بند کرکے یقین کر لے ۔آپ اس طرح منافع تو ڈھیر سارا کما لیں گے لیکن یاد رکھیں آپ کے مال میں نہ تو برکت ہو گی اور نہ ہی آپ کی زندگیوں میں سکون اور اطمنان قلب نصیب ہو گا۔۔۔۔۔۔
    آپ نے دیکھا ہو گا جس شخص کے پاس جتنا مال و دولت ہے وہ اتنا ہی بےچین ہے سکون کی نیند کی تلاش میں ہے ۔یاد رکھیے بے ایمانی سے ایمان کی لذت ہمارے اندر سے جاتی رہتی ہے ہم کھوکھلے سے ہو جاتے ہیں جیسے پھلوں کی بھرئی ٹوکری میں اوپر تو خوبصورت ترو تازہ پھل ہوں اور اندر گلے سرٹرے بدوبو دار پھل ہوں سوچو خریدنے والے کے دل پر کیا گزرے گی جب اُسے خریدے گا۔۔۔۔؟
    ہم لوگ تو کاروباری معاملات میں دھوکہ دہی کرنے پر تو عروج پر پہنچ چکے ہیں کھانے پینے والی چیزوں میں دھوکہ دہی ملاوٹ حد سے تجاوز کرگئی ہے دل کا کیا حال سنائیں جس اسلامی ملک میں گدھے کتے بلیاں مینڈک اور پتہ نہیں کیا کیا حلال کے طور پر بنا کر بیچا جاتا ہے جو اسلامی روح سے بھی حرام اور گناہ ہے اور دیکھ کر بھی كراہت آتی ہے وہ ہمیں نہایت عمدہ انداز میں کھانے میں پیش کر دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔
    ان حالات میں وطن عزیز کیا خاک ترقی کرے گا جب اپنے ہی اپنوں کو دھوکہ دے رہے ہوں۔۔۔۔

    اجڑا ہے یوں چمن کہ گزرا ہے یہ گماں

    اس کام میں شریک کہیں باغباں نہ ہو

    ( جہد مسلسل )

  • دریائے جہلم کی سیر  تحریر: اسد عباس خان

    دریائے جہلم کی سیر تحریر: اسد عباس خان

    دریائے جہلم کی سیر

    جولائی کے مہینہ میں شدید گرمی اور حبس سے گٹھن کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار مون سون کے آغاز سے قبل ہی بن بتلائے بادلوں کی کوئی ٹولی آتی ہے اور یکلخت چہار سو برکھا برسنے سے کچھ دیر تک گرمی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ یا پھر طوفانی و گرد آلود جھکھڑ ہر ظاہری چیز کو یک رنگ کر دیتا ہے۔ گزشتہ روز جب عین دوپہر آسمان سے آگ اگلتے سورج کو بادلوں کے ساتھ اٹکیلیاں کرتے دیکھا تو اچانک بچوں کو نہ جانے کیا سوجھی۔۔۔
    کہنے لگے دریا پر چلتے ہیں۔ دریا کا نام سن کر زمانہ طفل کے خیالات میں گم ہوا تو فضل عدنان کی آواز نے جھنجوڑا کہتا ہے ماموں کیا ہوا جلدی کریں موسم بہت اعلٰی ہے۔ پلیز لے چلیں ناں۔۔۔
    دریائے جہلم گھر سے زیادہ دور نہیں پیدل چلیں تو پندرہ منٹ کی مسافت پر ہے۔ موسم کی انگڑائی دیکھ کر اپنا بھی جی للچایا کہ گھر میں بیٹھنے سے باہر کی ہوا خوری دل، دماغ اور جُسہ کے لیے زیادہ مفید ہے لہذا طے ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد رخت سفر باندھیں گے۔ کھانے سے فراغت کے فوراً بعد فیصل عدنان خان بھائی سے رابطہ کیا اور انہیں بھی دعوت دیکر ہمسفر بنا لیا۔ پرجوش بچوں عمر فاروق اور فضل عدنان کے ساتھ برادر فہیم خان بھی دریائی نظارے کے شوق دیدار میں گرمجوشی سے تیار تھے۔ گاؤں کے فطری خوبصورت اور سادہ نظارے شہروں کی مصنوعی چکا چوند کو مات دیتے ہیں۔ کچے راستے، لہلہاتے کھیت، ہری بھری فصلیں، مٹی کی سوندی سوندی خوشبو اور شور شرابے کے پاک فضاء زندگی کی خوبصورتی کا احساس دلاتی ہے۔ یوں تو پنڈ دادنخان کے علاقہ میں اور کھیوڑہ سالٹ رینج کے نزدیک تمام زمینیں کلر ذدہ اور ناقابل کاشت ہیں۔ لیکن دریائے جہلم کے نزدیک زمینیں سونا اگلتی ہیں۔ مکئ کی تیار فصل اور زمین پر بکھرے اس کے سنہری خوشے واقعی ماحول کو بھی سنہرا کیے ہوئے تھے۔ ان زمینوں پر مکئ کے علاوہ آلو، مٹر، گندم، گنا، جوار جبکہ دیگر سبزیوں میں لہسن، پیاز، ٹماٹر، سبز مرچ، بھنڈی، کدو، گوبھی سمیت ہر قسم کی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ اگر راستے پر فطرت کے رنگ بکھرے ہوں تو نظارے اپنی فرحت بخشی سے ایک قرار کا سا احساس پیدا کرتے ہیں، جس کا اپنا ہی الگ لُطف ہوتا ہے۔ باتوں باتوں میں ہی مسافت کٹ گئی اور ہم دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ وہ دریا جسے ہم نے بچپن میں دیکھا تھا کہیں نظر نہ آیا۔ وہ دریا جس کے پاٹ کی چوڑائی اتنی تھی کہ دوسرا کنارہ نظر تک نہ آتا تھا آج سکڑ کر چند میٹر تک محدود ہو چکا تھا۔ اور یہاں کھڑا ہوا پانی کچھ دن پہلے آنے والے ریلے کا۔۔۔۔
    دریا میں رسی کی مدد سے چلنے والی کشتی احتیاطاً تھی تاکہ برساتی موسم میں اگر طغیانی آۓ تو اس کشتی کی مدد سے پانی کو عبور کیا جا سکے۔ جسے ہم نے بھی بچوں کو تفریح فراہم کرنے کی خاطر استعمال کیا۔ پانی کے دوسرے پار دریا کے اندر ہی قابل کاشت زمینیں اور دیہاتی لوگوں کے ڈیرے ہیں۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی کہ اس خوبصورت ترین جزیرے کے دوسرے سرے پر بھی اتنا ہی دریا بہتا ہے جتنا ہم کراس کر کے یہاں پہنچے تھے اور تقریبا ایک کلو میٹر تک کا چوڑا یہ درمیانی علاقہ سرسبز ترین اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہ بھی کبھی دریا تھا لیکن اب شاید قیامت تک کبھی دریا نہ بن پائے گا۔
    پاکستان ’ماحولیاتی تبدیلی‘ سے متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر پانی کے بحران کی صورت میں نمایاں ہو رہا ہے۔ کوہ ہمالیہ سے نکلنے والا دریائے جہلم کبھی پنجاب کا سب سے اہم دریا ہوا کرتا تھا مگر آج ہندوستانی آبی جارحیت کا شکار یہ دریا خود پیاس کے ہاتھوں دم توڑ رہا ہے۔
    دریا کے تالاب میں تبدیل ہونے کا احساس انسانوں کے ساتھ ساتھ شاید جانوروں کو بھی بخوبی ہے۔ دریا میں درجنوں بھینسیں اور گائیں نہاتی اور تیرتی نظر آئیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ دریا انتہائی آلودہ ہوگیا ہے۔ جانوروں کی غلاظت پانی میں شامل ہو رہی ہے جس سے آبی حیات کی بقا بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
    انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق پانی کے بہاؤ میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ دریا کی خشکی نے جانوروں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چہل قدمی کا راستہ بھی فراہم کر دیا ہے۔ بھینسوں کی کثیر تعداد سے واضح ہوتا ہے کہ دریا کی آلودگی کا عمل بہت تیزی سے جاری ہے۔ اگر یہی حال رہا تو دریا کے سبب بننے والے قدرتی مناظر تک ناپید ہو جائیں گے۔۔۔
    اور شاید اگلی نسلیں دریائے جہلم کی موجودگی کے آثار پر ’ریسرچ‘ کرتی رہ جائیں گی۔ ہم انہیں سوچوں میں گم خوبصورت نظاروں کے مزے لے رہے تھے اور بچے ہریالی وادی دیکھ کر کلہاڑی ہاتھوں میں لیے "ارتغرل غازی” اور "ترگت” بنے ہوئے تھے۔ اس وقت تک آسمان پر موجود بادلوں نے طوفانی ہواؤں کو دعوت عام دیدی۔ خشک ریت ہوا میں اڑنے لگی اور گردوغبار کا شدید طوفان پاؤں اکھیڑنے پر آ گیا۔ فیصل عدنان بھائی کے ساتھ مل کر بچوں کو سنبھالا اور واپس گھر جانے کی تگ و دو میں لگ گئے۔
    سامنے سے آنے والے طوفان کے باعث گھر کے رخ پر چلنا بھی شدید دشوار تھا۔ پندرہ منٹ کا راستہ آدھ گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے ہوا۔
    اور سارے راستے ریت اور مٹی کے تھپیڑوں سے لڑ کر حالت ایسی ہو گئی کہ گھر پہنچنے پر گھر والے ہی پہچان نہ پاۓ۔

    صدائے اسد
    اسد عباس خان