Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • حسد اور غرور کیا ہے؟      از قلم مشی حیات

    حسد اور غرور کیا ہے؟ از قلم مشی حیات

    حسد اور غرور کیا ہے_؟

    از قلم__مشی حیات

    ہمارے معاشرے کے تقریبا ہر فرد میں یہ دونوں برائیاں انتہائی حد تک موجود ہیں۔۔۔۔
    لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کوئی بھی خود کا محاسبہ نہیں کرتا۔۔۔۔
    قارئین۔۔۔۔۔!!
    ہم دیکھتے ہیں کہ حسد کیا ہے اور کیا ہم حاسد تو نہیں۔۔؟
    امام راغب اصفہانی حسد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، "جس شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں”

    یعنی کہ کسی دوسرے کی خوشحالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوشحالی دور ہو کر اسے مل جائے۔۔۔۔!!
    اب سوچیں۔۔۔!!
    کیا یہ برائی آپ کے اندر ہے۔۔۔؟
    کیا آپ بھی ایسا سوچتے ہیں کہ کسی کی نعمت اس کی بجائے آپ کے پاس ہو یا اس کی خوشحالی پر خوش ہوتے ہیں۔۔۔۔!!
    حسد کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا فرمایا۔۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔“۔۔۔۔۔!!

    دوسرے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو ) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
    البخاری__حدیث نمبر 73

    یعنی کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔۔۔۔
    ایک یہ کہ اللہ نے اپنے بندے کو دولت دی تاکہ وہ اسے استعمال میں لائے مگر اس نے اس دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے اپنی قدرت رکھ لینا کہ یہ مال میرا ہے جب میرا جی چاہے میں استعمال میں لاوں ورنہ نہیں۔۔۔۔
    اب سوچیں۔۔۔۔!!
    کیا یہ دونوں باتیں آپ کے اندر موجود ہیں۔۔۔۔؟
    اللہ نے آپ کو مال دیا اور آپ نے اس میں کہیں حسد کو تو شمار نہیں کیا کہ وہ مال صرف آپ کے پاس رہے کسی اور پاس نہ جائے۔۔۔۔۔؟

    تیسری جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے کہ۔۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا .

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
    البخاری حدیث نمبر 6064

    قارئین۔۔۔۔!!
    بار بار تلقین کی گئی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسد نہ کرو۔۔۔کسی مسلمان کلمہ پڑھنے والے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے بھائی کے پاس موجود نعمت پر شکر اور خوش ہونے کی بجائے حسد کا شکار ہو۔۔۔۔۔!!
    حسد زندگی تباہ کر دیتا ہے۔۔۔۔!!
    *نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا۔۔۔!!
    قیامت کے نزدیک ایک ایسی قوم ہو گی جس میں حسد بہت پایا جائے گا۔۔۔۔۔!!

    قارئین۔۔۔۔!!
    اب ہمیں خود سے محاسبہ کرنا ہے کہ کیا ہم حاسد ہیں۔۔۔؟
    ہمارے اندر حاسد کی علامات ہیں۔۔۔؟
    اگر موجود ہیں تو ان کا محاسبہ کریں۔۔۔۔!!
    اس پہلے کہ اجل کا فرشتہ آئے اور ہمیں ان برائیوں کے ساتھ اچک لے۔۔۔۔!!

    حسد کے ساتھ بہت بڑی دوسری برائی غرور ہے۔۔۔۔۔!!

    غرور کیا ہے۔۔۔؟

    ایک ایسی انسانی کیفیت اور حالت کہ جس میں انسان اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے زیادہ فضیلت اور فوقیت دیتا ہے ۔۔۔۔۔!!

    غرور دکھاوے کو بھی کہتے ہیں۔۔۔۔اور تکبر کے معنی میں بھی آتا ہے۔۔۔!!

    غرور کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں ۔۔۔۔!!

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا کپڑا ( پاجامہ یا تہبند وغیرہ ) تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے ( اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں ) موسیٰ نے کہا کہ میں نے سالم سے پوچھا، کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں یہ فرمایا تھا کہ جو اپنی ازار کو گھسیٹتے ہوئے چلے، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا لٹکائے۔
    البخاری حدیث نمبر 3665
    اس حدیث سے بات بلکل واضح ہو چکی ہے۔۔۔۔!!
    اگر ایک انسان کوئی لباس پہنتا ہے اور اسے لوگوں کے درمیان دکھاوا کرتا ہے۔۔ اکڑ اکڑ کر چلتا ہے۔۔۔تاکہ لوگوں کی نگاہیں اس پر جم جائیں تو اللہ رب العزت اس شخص کی طرف رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں۔۔۔۔!!
    ہمارے ہاں اکثریت ہوچکی ہے شلوار ٹخنوں کے اوپر رکھنے کا حکم تھا مگر یہاں زمین پر گھسیٹ رہے ہیں۔۔۔!!
    کیا ایسی حالت میں اللہ ہماری طرف دیکھے گا جب ہم نے اس کا حکم ہی نہ مانا۔۔۔۔۔!!

    مزید اللہ تعالی نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کیا فرمایا۔۔۔۔۔!!

    {‏ قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده‏}
    وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏””‏ كلوا واشربوا والبسوا وتصدقوا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ في غير إسراف ولا مخيلة ‏””‏‏.‏ وقال ابن عباس كل ما شئت والبس ما شئت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما أخطأتك اثنتان سرف أو مخيلة‏

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ يخبرونه ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ .

    ” اے رسول ! کہہ دو کہ کس نے وہ زیب وزینت کی چیزیں حرام کیں ہیں جو اس نے بندوں کے لیے ( زمین سے ) پیدا کی ہیں ( یعنی عمدہ عمدہ لباس ) “
    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھاؤ اور پیو اور پہنو اور خیرات کرو لیکن اسراف نہ کرو اور نہ تکبر کرو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جو تیرا جی چاہے ( بشرطیکہ حلال ہو ) کھاؤ اور جو تیرا جی چاہے ( مباح کپڑوں میں سے ) پہن مگر دو باتوں سے ضرور بچو اسراف اور تکبر سے ۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
    صحیح بخاری 5783

    اللہ تعالی نے بار بار تلقین کی کہ اپنی امت سے کہہ دیجئیے۔۔۔۔۔اا
    کھاؤ پیو اور پہنو ساتھ خیرات بھی کرو مگر اسراف اور تکبرنہ کرو۔۔۔۔۔۔!!
    جس شخص کے اندر غرور یعنی تکبر کی علامت آ گئی کپڑے پہنیں اور اسے زمین پر گھسیٹ کر چلا اللہ رب العزت ایسے شخص کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔۔۔۔۔۔!!

    قارئین۔۔۔۔۔۔!!
    آئیں سوچیں۔۔۔۔!!
    کیا ہمارے اندر حسد کے ساتھ ساتھ غرور بھی موجود ہے۔۔۔۔؟؟
    کیا ہم بھی دکھاوے کے لیے کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔۔؟
    جب ہم بازار نکلتے ہیں تو ہمارے زیب تن کیےکپڑے تکبر کی وجہ سے زمین پر تو نہیں لٹک رہے۔۔۔۔۔!!
    اگر واقعی ایسا ہے تو خدارا ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔۔۔۔!!
    ہم رب کی رحمت کے بنا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔!!
    اگر ہم پر رب کی رحمت نہ ہوئی تو ہم کیا جہنم برداشت کر سکے گے۔۔۔۔!!؟

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
    الترمذی 2404

    ہم اپنی ذاتی زندگی کا محاسبہ خود ہی کرسکتے ہیں۔۔۔۔!!
    اللہ ہمیں موقع دیتا ہے فتنوں کو دور کرنے مگر ہم صم بکم والے رویے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!
    ابھی بھی وقت ہے اگر سانس چل رہی ہے تو خود کو بدلیں اور اپنی آخرت بہتر کریں۔۔۔۔۔!!
    اللہ رب العزت ہم سب پر اپنی رحمت کا سایہ تا قیامت رکھے۔۔۔!!
    اور ہمیں ہر برائی سے سرخرو کرے۔۔۔۔!!
    دعاوں کی طالب ۔۔۔۔۔۔
    مشی حیات
    وما علینا الا البلاغ المبین

  • ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں    بقلم:اخت عمیر

    ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں بقلم:اخت عمیر

    بیٹیاں…!!!
    بقلم:اخت عمیر
    بابا کا مان ہیں یہ بیٹیاں
    ماوں کی شان ہیں یہ بیٹیاں
    والدین پر جان نچھاور کرنے والی…
    جنت میں لے جانے کا سبب یہ بیٹیاں…
    گھروں میں رونق کا سبب ہیں یہ
    چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو بہاتی یہ بیٹیاں
    ہوتی ہیں کس قدر نازک یہ کلیاں…؟
    ذرا سی چوٹ پہ مرجھا جاتی ہیں یہ بیٹیاں
    نکاح کے بندھن میں جب یہ بندھ جاتی ہیں
    کر جاتی ہیں بابا کا گھر ویران یہ بیٹیاں
    نیا گھر گلستان بنانے کی خاطر…
    دل و جان وار دیتی ہیں یہ
    ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں…
    لیکن افسوس ہے اس معاشرے کی بے حسی پر
    دل غمگین ہے بیٹیوں کی بے بسی پر
    ہیں ناکردہ گناہوں کی بھی ذمہ دار یہ بیٹیاں
    جہیز کی کمی پر طعنوں کا شکار ہیں
    لڑکیوں کی پیدائش پر بھی یہ قصوروار ہیں
    اپنی بیماریوں کی بھی خود ہی ذمہ دار ہیں یہ بیٹیاں
    کہیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں…
    کہیں بے جا پابندیوں میں جکڑ دی جاتی ہیں یہ بیٹیاں
    وہ سب حق جو لڑکوں کے لیے ہیں جائز…
    ان پر نا حق رہتی ہیں یہ بیٹیاں…
    بیٹیاں رحمت ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا…
    پھر کیوں ان کو زحمت معاشرے نے بنایا ؟
    ہیں کیوں اس دور میں پریشان یہ بیٹیاں؟
    الہی دعا ہے کہ لکھ دے تو ہر بیٹی کا نصیب اچھا
    یا رب ہمیں کر دے تو پھر سے اسلام پر عمل پیرا
    پھر خوش رہیں، سدا مسکراتی رہیں یہ بیٹیاں…!!!!!!

  • قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان    بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    درد امت
    ظلم و ستم کی انتہا ہے وادئ کشمیر میں
    سسک رہی ہےانسانیت وادئ کشمیر میں

    کیوں خاموش ہے اس سربریت پہ سارا جہان
    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان

    حقوق انسانی کے دعویدار بھی خموش ہیں
    یا سب دعویدار ہی یاں ضمیر فروش ہیں

    ان معصوموں پہ ڈھایا گیا ظلم کا کوہ گراں
    ان کو بھی ملے دنیا میں ان کے درد کا درماں

    کوئی تو کرے بلند صدا بنے ان کا غمگسار
    کہ جل گئے سب کھیت گھر گلستان و گلزار

    پنجئہ جبر میں اذیتیں، مصیبتیں، صعوبتیں
    ہیں کس قدر کٹھن ان کی حیات کی مسافتیں

    خواب خرگوش میں گم ہوئے ہیں دنیا کے حکمران
    یو۔این سمیت سعودیہ، انڈونیشیا و پاکستان

    ہیومن رائٹس و میڈیا کا بھی یاں فقدان ہے
    ہر باضمیر فردا اس جبر پہ ہاں پریشان ہے

    سلامتی کونسل اور مسلم اتحاد کا کیا کمال ہے
    شاہین کا انسانیت کے نام لیواؤں سے یہ سوال ہے

    قرأةالعين عینیہ شاہین

  • کورونا سے بچاؤ کے لئے ہمیں کب تک فیس ماسک پہننا پڑے گا؟

    کورونا سے بچاؤ کے لئے ہمیں کب تک فیس ماسک پہننا پڑے گا؟

    دنیا بھر میں پھیلے وبائی مرض کورونا وائرس نے گذشتہ برس دسمبر سے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے ماہرین نے اس بیماری سے محفوظ رہنے کے لئے چند احتیاطی تدابیر بتا ئی ہیں جن پر عمل کر کے اس وبائی مرض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ان میں ایک ماسک پہننا بھی ہے ماسک پہننے سے اور سماجی دوری اختیار کرنے سے اس وبا سے خود کے ساتھ دوسروں کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے تاہم اب یہ سوال جو سب کے ذہن میں ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں چہرے کا ماسک کب تک پہننا ہے؟

    یہ واضح ہے کہ چہرے کا ماسک پہن کر اور معاشی فاصلے کو برقرار رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن اس سے ہماری معمول کی زندگیوں میں واپس جانے کے لئے خطرہ کم ہوسکتا ہے؟

    ماہرین صحت کے مطابق ، ہمیں اب بھی آنے والے وقت تک چہرے کا ماسک پہننا پڑے گا۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے ایک ڈاکٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ ہم کئی سالوں سے چہرے کے ماسک پہن سکتے ہیں — ہاں ، یہاں تک کہ اگر ہمارے پاس ویکسین بھی ہے۔

    اگرچہ بہت سے لوگ وبائی مرض سے قبل کی زندگی میں واپسی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ، حالیہ کورونا وائرس کے اضافے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کی طرف سے ماسک پہننے پر زور دیا جارہا ہے-

    جان ہاپکنز سنٹر فار ہیلتھ سیکیورٹی کے ایک سینئر اسکالر اور عالمی رہنما ، نے CNET سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے لگتا ہے کہ ہم ماسک پہن کر کئی سالوں تک خوشی اور امید بھری زندگی گزار سکتے ہیں-

    جیسا کہ بیسٹ لائف میں ذکر کیا گیا ہے ، ٹونر نے کہا کہ آج ماسک پہنے ہوئے رہنما اصولوں پر عمل کرنا ایک واحد راستہ ہے جس سے ہمیں یقین ہوسکتا ہے کہ ہم زیادہ لمبے عرصے تک چہرہ ڈھانپ کر اس جان لیوا مرض سے بچ سکیں گے۔ انہوں نے کہا ، "اگر ہم اپنے چہروں کو ڈھانپتے ہیں ، اور آپ اور آپ کے ساتھ جس سے بھی بات چیت ہو رہی ہے دونوں ماسک پہنے ہوئے ہیں تو ، وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔”

    ماہرین صحت کے مطابق ، کوویڈ ۔19 کی ویکسین 2022 تک نہیں مل سکے گی ، اور پھر بھی ، ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مریضوں کو ایک سے زیادہ خوراک کی ضرورت ہوگی ، اسی وجہ سے ماسک کا استعمال کئی سالوں تک جاری رکھنا پڑے گا-

    کچھ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہا کہ مستقبل قریب کے لئے یا جب تک ہم اس جان لیوا وبائی مرض سے استثنیٰ حاصل نہیں کرتے ہیں تو ہمیں ماسک پہننا پڑے گا۔ وائرس کی قوت مدافعت اس وقت ہوتی ہے جب آبادی کی اکثریت ویکسینیشن کے ذریعے اور وائرس سے مدافع ہوجاتی ہے۔

    بدقسمتی سے ، اس جان لیوا مرض کا استثنیٰ ایسا لگتا ہے جیسے یہ حال ہی میں مزید آگے بڑھ رہا ہے۔ امپیریل کالج لندن میں امیونولوجی کے پروفیسر ڈینی الٹ مین نے سی این بی سی کو بتایا ، "اس چیز سے استثنیٰ انتہائی نازک نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس کچھ مہینوں تک اینٹی باڈیز ہوں گی اور پھر اس کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

    پاک بھارت جنگوں کے غازی 105 سالہ ریٹائرڈ فوجی نے کرونا کو شکست دے دی

  • ‏جب غیرت بانٹی جارہی تھی تب شریف خاندان کا شاپڑ پھٹ گیا تھا، وینا ملک

    ‏جب غیرت بانٹی جارہی تھی تب شریف خاندان کا شاپڑ پھٹ گیا تھا، وینا ملک

    پاکستان کی معروف اداکارہ وینا ملک کا کہنا ہے کہ ‏جب غیرت بانٹی جارہی تھی تب شریف خاندان کا شاپڑ پھٹ گیا تھا-

    باغی ٹی وی : اداکارہ و میزبان وینا ملک پی ٹی آئی کی سپورٹر ہیں اور سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر پاکستان مسلم لیگ کے لیڈر نواز شریف شہباز ، مریم نواز سمیت پارٹی کے سینئیر رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سرگرم رہتی ہیں اور ان پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں جس پر انہیں ٹویٹر صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے-


    وینا ملک نے حال ہی میں ٹویٹر پر شریف خاندان کے خلاف بولتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ جب غیرت بانٹی جارہی تھی تب شریف خاندان کا شاپڑ پھٹ گیا تھا-

    وینا ملک کی اس تنقید بھرے ٹویٹ پر صارفین نے انہیں خوب تنقید کا نشانہ بنایا-

  • مجھے کشمیر کہتے ہیں    بقلم:مریم وفا

    مجھے کشمیر کہتے ہیں بقلم:مریم وفا

    کشمیر…!!!
    [بقلم:مریم وفا]۔
    میں دنیا کا ایک خطہ ہوں،مجھے کشمیر کہتے ہیں…
    میری جنت سی دھرتی پر دریا خون کے بہتے ہیں…
    میرے پھولوں کے چہروں پر،وحشت رقص کرتی ہے…
    کہ میرے گلشن کے آنگن میں درندے راج کرتے ہیں…
    میں اپنوں کا بھی ستایا ہوں،مجھے غیروں سے کیا شکوہ؟
    میرے اپنے بھی اب تو دمِ اغیار بھرتے ہیں…
    میری ماؤں کی چیخوں کو نہیں سنتا کوئی اب تو…
    وہ جن ماؤں کے بیٹوں کے لاشے روز ہی گرتے ہیں…
    میرے گلشن کے پیڑوں پر بسیرا ہے خزاؤں کا…
    مگر میرے مکین اب بھی اُمیدِ بہار رکھتے ہیں…!!!!
    ==============================

  • مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم   تحریر:ثناء صدیق

    مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم تحریر:ثناء صدیق

    مسئلہ کشمیر اور بین الاقوامی انارکیل سسٹم۔
    تحریر:ثناء صدیق۔
    ترقی پذیر ممالک جنہوں نے برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی ان تمام ممالک کا مسئلہ آزادی کے بعد سیاسی استحکام کا حصول رہا ہے- مگر کشمیر جو برطانوی سامراج کے دور کی ایسی ریاست ہے جو اج تک سیاسی طور پر آزاد اور مستحکم نظر نہیں آ سکی- آزادی کی تحریکوں اور قربانیوں کے باوجود کشمیر پر بھارت کا تسلط اب ایک عام بات بن چکی ہے- کشمیر پر قبضہ کر لینے کے بعد بھارت نے کشمیری عوام کا استحصال کرنے اور کشمیر کی عوام کے تحفظ کے لیئے لاتعداد مسائل کھڑے کئے ہیں- کانگریسی قیادت کی رائے شماری کی گارنٹی کے باوجود تب سے لے کر آج تک تمام ہندوستاتی حکومتوں نے کشمیری عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کی بجائے ہمشہ انتقام کا نشانہ بنایا -بھارت سے اگرچہ کشمیر کے مسلمانوں نے آزادی کی جنگ لڑی ہے مگر ایک دو گروپ کے متحرک ہونے سے پوری قوم کی تقدیر بدل نہیں جاتی-
    ان مظلوموں کو دنیا کی غیر متزلزل اور حقیقی مدد درکار ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو ہمشہ ہندوں کی تنگ نظری اور ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے -7 دہائیوں کے گزرنے کے باوجود کشمیر کی تقدیر نہیں بدل سکی – کشمیر کے لوگ پاکستان سے اپنی امنگوں کا اظہار کرتے ہیں- مگر پاکستان نے ہمشہ امریکہ سے دوستی کا ساتھ نبھایا کہ شاید امریکہ مسئلہ کشمیر پر ٹھوس طریقے سے بات کرے گا- مگر امریکہ کے رسمی جملوں کے علاوہ کشمیر کے لوگوں کے لیے کچھ نہ نکلا – دنیا جانتی ہے جنوبی اشیاء میں مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا- مگر بھارت کو منصفانہ طریقوں سے کشمیر کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں اور امریکہ اس بات پر اپنے منہ سے بھاپ بھی نہیں نکالتا- کشمیر میں کیا کیا نہیں ہو رہا؟
    جہاں ہر طرح کے انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں- انسانیت اور انسانی جان کی کوئی قدر نہیں- کشمیر کے اوپر بھارت کی موجودہ صورتحال ،انارکی، کی ہے- جس میں کشمیر کے اوپر کوئی رول اور کوئی مثبت گورنمنٹ نہیں ہے جو کشمیریوں کا کوئی بھی مطالبہ مان سکے- مسئلہ کشمیر کے لیے دنیا کے منصفوں کی کوئی ،لیگ آف نیشن وجود میں نہیں آئی جو انسانیت کی گرتی لاشوں اور کشمیر کے انسانی،طبی سیاسی اور ،تعلیمی مسائل کو گرنے سے بچا لے- UN کشمیر کے نام پر برائے نام جملے ادا کرتی ہے- UN تنظیم مسئلہ کشمیر کے نام پر دنیا کو لیڈ کیوں نہیں کرتی؟ UN کے پاس ایسا سسٹم کیوں موجود نہیں ہے کہ جو دوممالک کے جھگڑے کو ختم کر سکے اپنے ہیومین رائٹس کی تنظیموں کے قانون کو لاگو کروا سکے یا بین الااقوامی سطح پر مثبت سیاست کا حکم دے سکے- اجکل کے دور میں مسئلہ کشمیر جو ایک عالمی مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے دنیا کے اندر پاور اور رولز ہونے کے باوجود حل نہیں ہو سکا- اس مسئلے کو لے کر جنوبی اشیاء کے ممالک ایک جھگڑے کی صورتحال میں ہے- دنیا کا بین الااقوامی سسٹم مسئلہ کشمیر کے بارے میں انارکیل سسٹم ہے- دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہ سکتے ہے UN کے پاس کوئی رول اور قانون نہیں ہے جو دنیا کو منظم کر کے مسئلہ کشمیر کے اوپر اپنی قرارداد اور رولز کو لاگو کر سکے- بھارت کا کشمیر میں فری ہینڈ ہونا اور اپنی من مرضی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ UN کے اصولوں اور قانون اس کے مثبت رویہ کی غیر موجودگی ہے- کشمیر کو بھارت کے پنجے میں گے کو 74 سال ہو چکے ہیں لیکن بھارت تب سے آب تک کشمیر کی سالمیت کے لیے بڑی مضطرب ہے- بھارت کا سیکولر چہرہ کشمیر کے اندر بڑا واضح ہے- کشمیر پر بھارت کے قبضے کے بعد تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو برداشت کا سلوک بھارت نے کیا ہے- بالخصوصB.J.P کی دور حکومت میں جو مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے- یہ بھارت اور دنیا کے منصفوں کے لیے سوالیہ نشان ہے؟ بھارت کے اندر مسلمانوں کے لیئے بالخصوص کشمیر کے لوگوں کے لیے ہندوجنونیت کا رنگ بہت غالب ہے- اس کی واضح مثال B.J.Pکے وحشیانہ رویہ کی ہے جو وہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے نفرت کا اظہار کرتے ہیں- بھارت کو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ سیکولر کا چہرہ اپنانا چھوڑ دے اگر اپنانا ہے تو کشمیر کے لوگوں کو حقوق آزادی کی عملی شکل دے- بھارت پر یہ بات عائد ہوتی ہے کہ ہندو جنونیت کا اثر ختم کر کے کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو ہر طرح کے حقوق کی آزادی دے- ہندو جنونیت کی لہر کو ختم کر کے کشمیر کامسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرے-
    =============================

  • بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے    بقلم:جویریہ بتول

    بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے بقلم:جویریہ بتول

    بھُلا کر…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے…
    راہوں میں چلتے، ہوئے چھپے جو وار سارے…
    کہیں نفرتوں کے طوفان میں لی تھیں جو سانسیں…
    کہیں طنز کے لپٹے تھے جو طومار سارے…
    صرف دُکھ کی چادر تان لینے سے کیا ہو گا ؟
    کیجیئے معاف انہیں،انتقام کے تھے جو سزاوار سارے…
    صرف منفی سوچوں کو ہی نہ گِنا کرو سدا …
    کبھی ہوں مثبت لمحے بھی شمار سارے…
    جہاں میں ہر طرف اضطراب کے سائے ضرور ہیں…
    پھر بھی کئی لہجوں میں ملتے ہمیں لطف و پیار سارے…
    ہم صرف دیکھتے ہیں اکثر،سمجھتے نہیں کبھی…
    جہاں میں لوگ بہت ہیں اعلٰی ظرف،نہیں بیمار سارے…!!!
    یہ زندگی رکنے کا نہیں،آگے بڑھنے کا ہے نام…
    یاں اتارنے پڑتے ہیں،ہوتے ہیں دل پہ جو غبار سارے…!!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • سوشانت سنگھ کی فلم کا ٹریلر ریلیز

    سوشانت سنگھ کی فلم کا ٹریلر ریلیز

    گذشتہ ماہ 14 جون کو خودکشی کر کے موت کو گلے لگانے والے بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ کا ٹریلر ریلیز کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشانت سنگھ کی اس فلم کا دنیا بھر میں موجود اُن کے مداحوں کو بے صبری سے انتظار تھا تاہم ٹریلر نے ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر وائرل ہو گیا ہے اور اس سنے سوشانت سنگھ کے مداحوں کو پھر سے دُکھی کر دیا ہےدل بیچارہ کا ٹریلر نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان ٹوئٹرپینل پر بھی ٹرینڈ میں رہا۔

    فلم ’دل بیچارہ‘ کے 02 منٹ اور 44 سیکنڈ پر مشتمل ٹریلر میں دل بیچارہ کیزی (سنجنا سانگھی) اور مینی (سوشانت سنگھ راجپوت) کی کہانی دکھائی گئی ہے موذی مرض کینسر میں مبتلا کیزی مینی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہیں ٹریلر کے ہر سین یں جذبات دکھائے گئے ہیں ہے جو دل کو چھو جاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم دل بے چارہ ہالی وڈ فلم ’دی فالٹ ان آر اسٹار‘ کا ہندی ریمیک ہےسنجنا نے اس فلم کے ساتھ بالی وڈ میں اپنا ڈیبیو کیا ہے فلم ’دل بیچارہ پہلے مئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی تھی تاہم اب یہ فلم 24 جولائی کو ڈزنی پلس اور ہاٹ اسٹارز پر ریلیز ہوگی –

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم کا ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر وائرل

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

  • سوشانت سنگھ کی  آخری فلم کا ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر وائرل

    سوشانت سنگھ کی آخری فلم کا ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر وائرل

    رواں سال 14 جون کو خودکشی کرنے والے بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم ’دل بیچارا‘ کے ٹریلر میں شامل اُن کا ایک ڈائیلاگ سوشل میڈیا پروائرل ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی : رواں سال 14 جون کو خودکشی کرنے والے بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم ’دل بیچارا‘ کے ٹریلر میں زندگی سے مایوس اور ڈپریشن کا شکار افراد کیلئے امید اور اچھا وقت آنے کے یقین پر مبنی ڈائیلاگ سوشل میڈٰا پر خوب وائرل ہو رہا ہے-


    ٹریلر میں شامل وائرل ہونے والا اُن کا ڈائیلاگ جنم کب لینا ہے اور کب مرنا ہے اس کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے لیکن جینا کیسے ہے اس کا فیصلہ ہم کر سکتے ہیں مداحوں میں تیزی سے مقبول ہورہا ہے جس پر وہ مختلف تبصرے کرتے ہوئے اداکار کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

    ایک صارف نے لکھا کہ مذکورہ ڈائیلاگ سوشانت سنگھ کی آواز میں انہیں ہمیشہ یاد رہے گا۔


    ایک صارف نے لکھا کہ میرا مکمل ٹریلر دیکھنے کا کوئی دل نہیں ہے .. اس کا یقین نہیں ہے کہ سوشانت چلا گیا ہے .. وہ بہت ساری چیزوں سے گزر رہا تھا لیکن ٹریلر میں وہ بہت خوش نظر آیا .. ایسے ہی ایک حقیقی اداکار ..بالی وڈ کو اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کے لئے کبھی معاف نہیں کیا جاسکے گا-


    ایک صارف نے لکھا کہ فلم کا ٹریلر دیکھنے کی ہمت نہیں ہے


    ایک صارف نے ڈائیلاگ لکھتے ہوئے کہا کہ ٹریلر میں شامل یہ بات بہت خوبصورت اور دل کو چُھو لینے والی ہے، سوشانت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
    https://twitter.com/m_Saqlain_w/status/1279981344118865921?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ زندگی میں پہلی بار ، میں بالی ووڈ کی ریلیز کے انتظار میں ہوں۔ میرے خیال میں سوشانت کی وجہ سے ہے۔ یہ ہماری ستاروں کی فلم (ناول جو جان گرین) میں فالٹ کا ہندی ورژن ہے۔ایک سال قبل جب اس کا اعلان کیا تھا تو مجھے اس کے خیال سے بھی نفرت تھی۔ لیکن اب ، میں اس کے لئے ترس رہا ہوں۔


    ایک صارف نے لکھا کہ جب میں نے دل بیچارا کا ٹریلر دیکھا تو میں مدد نہیں کرسکتا تھا لیکن روتا ہوں۔ پہلے ہی فریم میں ہی ، سوشانت اپنی طاقت ورانہ صلاحیت کے ساتھ اسکرین پر نظر آتا ہے۔ کوئی مدد نہیں کرسکتا بلکہ اس اداکاری کی تعریف کرسکتا ہے جس کے ساتھ وہ اتنے مہارت کے ساتھ اپنے کرداروں کو اداکرتا ہے۔ ایک سچا موتی!
    https://twitter.com/AshCardoz13/status/1280093109854986240?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ یہ ہالی وڈ فلم کا ری میک بنانے کے خیال سے نفرت کرتا تھا ، لیکن میں اب اس کا منتظر ہوں اور اسے (شاید آنسوؤں کا ایک دھارا) صرف سوشانت کے لئے دیکھوں گا۔
    https://twitter.com/dontwannashare/status/1280093508955594752?s=20
    ایک صارف نے لکھا کہ دل بیچارا دیکھنے کے درمیان مکمل طور پر داس ا ہوں کیونکہ یہ سوشانت کی آخری فلم ہے اور اسے نہیں دیکھ رہی کیونکہ یہ ان کی آخری فلم ہے۔


    ایک صارف نے لکھا کہ دل بیچارا کا ٹریلر اتنا پیارا تھا کہ زیادہ تر لیڈ اداکار ایسی فلم کرتے ہوئے غیر محفوظ محسوس کریں گے جہاں فلم کا مرکزی کردار عورت ہے۔ لیکن سوشانت نے پھر فلم میں بھی حصہ لیا اور وہ اسے مار رہا ہے۔ وہ بہت پیارا لگتا ہے اور اس کی اداکاری پہلے ہی مجھے رلا رہی ہے


    ایک صارف نے لکھا کہ میری خواہش ہے کہ اب جس طرح ہر شخص سوشانت کے کام کی تعریف کر رہا ہے اور اس کا انتظار کر رہا ہے ، انہوں نے یہ کام پہلے کیا ہوتا-


    ایک صارف نے لکھا کہ “جنم کب لینا ہے ، اور مرنا کب ہے ، یہ ہم فیصلہ نہیں کرو۔ پیرس کس جینا ہے؟ وہ ہم فیصلہ کرو سکتے۔ ”
    آپ کے بارے میں نہیں جانتے ، لیکن سوشانت کی آواز میں اس مکالمے نے مجھے سخت متاثر کیا! ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا-

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ کی اس فلم کا دنیا بھر میں موجود اُن کے مداحوں کو بے صبری سے انتظار تھا تاہم ٹریلر ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے دل بیچارہ کا ٹریلر نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کے بھی ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر موجود رہا۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم دل بے چارہ ہالی وڈ فلم ’دی فالٹ ان آر اسٹار‘ کا ہندی ریمیک ہے اس فلم میں سوشانت کے ہمراہ سنجنا سانگھی مرکزی کردار ادا کررہی ہیں، سنجنا نے اس فلم کے ساتھ بالی ووڈ میں اپنا ڈیبیو کیا ہے۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی آخری فلم ’دل بیچارہ‘ 24 جولائی کو ڈزنی پلس اور ہاٹ اسٹار پر ریلیز ہوگی یہ فلم اس سے قبل مئی میں ریلیز ہونے جا رہی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی تھی-

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی