Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    بھارت کشمیر میں اپنے نوآبادیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے کوویڈ 19 کی صورتحال کا استعمال کررہاہے: مقررین

    :اسلام آباد:اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 43 ویں اجلاس کے موقع پر عالمی مسلم کانگریس (ڈبلیو ایم سی) کے تعاون سے کشمیر ٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کےآئی آر) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبنار میں مقررین نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت فاشسٹ حکومت نے کشمیریوں کے خلاف اپنے وحشیانہ مظالم کو مزید تیز کرنے کے علاوہ کشمیر میں اپنے غیر قانونی لاک ڈاؤن کو بڑھانے کے بہانے بے شرمی کے ساتھ کوویڈ 19 کی وبائی بیماری کا استعمال کیا ہے۔

    اس ویبنار میں برطانوی پارلیمنٹیرین جناب خلیل محمود، برطانیہ کے سائے وزیر جناب سلیمان الیاس خان، جنوبی افریقہ سے انسانی حقوق کی کارکنوں محترمہ کلیئر بڈویل، مسٹر حسن اشرف برطانیہ، لبنان کی تجربہ کار انسانی حقوق کارکن لنڈیا کینن سید فیض نقشبندی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ویبینار کے مقررین نے موجودہ غیر یقینی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے دوہرے لاک ڈاؤن میں پھنسے کشمیریوں کو بھارتی قابض حکام کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس وبا کی آڑ میں خطے میں اختلاف رائے کی آواز کو دبانے کی ایک شرمناک کوشش کی جس میں وہ ناکام ہوچکا ہے۔ کورونا ٹیسٹنگ کٹس اور کشمیر کے اسپتالوں میں دیگر ضروری صحت کے آلات کی کمی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وبائی بیماری کے دوران ہندوستان نے خطے کے صحت کے شعبے کو مجرمانہ طور پر نظرانداز کیا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وبائی امراض کے دوران اسپتالوں میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس کے علاوہ صحت کے سامان کی بھی شدید قلت تھی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کے باوجود جان بوجھ کر ہوا ہے۔ کشمیر کی آبادیاتی تشکیل کو تبدیل کرنے کے ہندوستان کے مذموم ڈیزائنوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49 ذیلی شق 6 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قبضہ کرنے والی طاقتیں کشمیر کے علاقے کی حیثیت یا آبادی کو تبدیل نہیں کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی اس طرح کی کوئی بھی کوشش چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 146 اور 147 کے تحت جنگی جرائم کی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ بہت ساری عالمی حکومتوں نے خطے کی غیر معمولی صورتحال پر خاموش اور خاموش رہنے کا انتخاب کیا۔ بااثر حکومتوں کی جانب سے یہ مجرمانہ خاموشی انہوں نے کہا کہ IOK میں مودی کے اقدامات کی ایک مکمل حمایت ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیش کش کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنہری موقع تھا کہ پرامن حل تلاش کریں لیکن ہندوستان جس کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہراس اقدام کو روکا جائے جس کا مقصد ایک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا ہے نے ایک بار پھراس پیش کش سے انکار کر دیا۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں میں کس کا کونسا نمبر ہے؟

    پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں میں کس کا کونسا نمبر ہے؟

    پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان کے خوبرو اور پُرکشش اداکار عمران عباس پہلے نبمر پر ہیں-

    باغی ٹی وی : اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ اس کی سرکاری زبانیں انگریزی اور اردو ہیں اور اس کی تسلیم شدہ علاقائی زبانیں پنجابی ، پشتو ، سندھی اور بلوچی ہیں۔

    1956 پاکستان اسلامی جمہوریہ بن گیا تھا۔ 1973 میں ، جنوبی ایشین ملک نے ایک نیا آئین منظور کیا جس میں کہا گیا تھا کہ قرآن و سنت میں درج تمام احکامات اسلام کے احکامات کے مطابق ہوں۔

    ایٹمی ہتھیاروں والی ریاست ، پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹی بڑی کھڑی مسلح افواج ہیں۔ یہ ملک اسلامی فوجی انسداد دہشت گردی اتحاد ، دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ کا رکن ہے۔

    پاکستان دنیا کے سب سے خوبصورت لوگوں کا گھر ہے۔ 2020 میں 35 خوبصورت مردوں کی فہرست ہے جو پاکستانی نژاد ہیں یا جنوبی ایشین ملک کے شہری ہیں۔

    خبر رساں ادارے کانن ڈیلی کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس کے مطابق نامور اور ور سٹائل اداکار عمران عباس پہلے نمبر پر ہیں جبکہ اداکار عماد عرفانی دوسرے اور بہروز سبزواری کے بیٹے شہروز سبزواری تیسرے نمبر پر ہیں ۔

    پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر اداکار و میزبان دانش تیمور ہیں پانچویں نمبر پر عمر شہزاد، چھٹے پر شہزاد نور، ساتویں نمبر پر ماڈل حسنین لہری، آٹھویں نمبر پر اداکار آغا علی، نوویں نمبر پر سکندر رضوی اور دسویں نمبر پر زیان ملک ہے۔

    فہرست میں 11ویں نمبر پر فرحان طاہر، 12ویں نمبر پر شہباز شگری، 13ویں نمبر پر اداکار شہریار منور ،14 ویں نمبر پر عدیل چوہدری، 15 ویں نمبر پر گیبی گرے سید فواد احمد، 16ویں نمبر پر معروف اداکار میکال ذوالفقار، 17ویں نمبر پر سیف الوہاب ،18ویں نمبر پر اسد شان ، 19ویں نمبر پر اداکار نبیل زبیری، 20 ویں نمبر پر جہان خالد ، 21ویں نمبر پر عطا یعقوب ، 22ویں نمبر پر اداکار و ٹک ٹاک اسٹار نور حسن ،23 ویں نمبر پر چیمپ ایمی ،24ویں نمبر پر نامور اداکار شان شاہد، 25ویں نمبر پر اداکار عثمان مختار ہیں-

    اس فہرست کے مطابق 26ویں پر اداکار فواد خان، 27ویں نمبر پر ایمل خان ، 28 ویں نمبر پر عبداللہ اعجاز ،29 ویں پر فلم انڈسڑی کے اداکار بلال اشرف جبکہ 30 ویں نمبر پر بلال لاشاری ہیں

    فہرست کے مطابق 31ویں نمبر پر باکسر عامر خان اور 32ویں نمبر پر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک جبکہ 33ویں نمبر پر زاہد احمد ہیں اس فہرست میں 34واں نمبر اداکار احسن خان اور 35واں نمبر قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی کا ہے-

    دوسری جانب سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکار عمران عباس نے اپنی ایک فوٹو شیئر کی ہے جس پر لکھا ہے کہ وہ پاکستان کے 35 خوبصورت ترین مردوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں –

    واضح رہے کہ اس قبل اداکار عمران عباس اور فواد خان کو کو ٹی سی کینڈلر اورا نڈیپینڈنٹ کرٹکس کی جانب سے 2020 کے 100 پر کشش چہروں کے لیے بھی نامزد کیاگیا ہے –
    https://www.instagram.com/p/CCTCjnen-Le/

    عمران عباس 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل

     

    فواد خان 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل

  • فخر عالم نے بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کردی

    فخر عالم نے بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کردی

    پاکستان کے معروف اعجاز اسلم کے بعد اب نامور گلوکار و اداکار فخر عالم نے بھی کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی آواز بلند کردی ہے ۔

    باغی ٹی وی : سماجی رباطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فخر عالم نے لکھا کہ میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی دُنیا کے سب سے بڑے شہر کراچی کے شہریوں کو روازنہ کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کے بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو ان حالات میں کراچی کے شہری کو کیسا محسوس کررہے ہوں گے۔


    اُنہوں نے لکھا کہ میں کسی پر الزام تراشی نہیں کررہا ہوں بلکہ یہ افسوسناک اور مایوس کن ہے کہ شہریوں کو بجلی ، پانی ، پٹرول اور گیس کے لئے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔


    فخر عالم کے ٹوئٹ پر کراچی میں مقیم ٹوئٹر صارفین نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ہم آپ کے شُکر گزار ہیں کہ آپ نے کراچی کے شہریوں کے لیے آواز اُٹھائی کراچی کے لوگ الیکٹرک کی وجہ سے ہم بے بس اور بے یارو مددگار ہوگئے ہیں۔


    جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ہم یہاں کراچی میں بالکل ٹھیک ہیں ، بجلی ، گیس اور پانی کی کمی نہیں۔ براہ کرم معلومات کے بغیر ان ٹویٹس سے پرہیز کریں۔

    واضح رہے کہ کراچی میں جاری اعلانی اور غیر اعلانی لوڈشیڈنگ سے شہری سخت پریشان ہیں

    کیا مافیا چلانے والے لوگ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں؟ اداکار اعجاز اسلم کا وزیراعظم عمران خان سے سوال

  • آئٹم نمبر کے ہرگز خلاف نہیں ہوں چاہتی ہوں کہ اگر میں کسی فلم میں آئٹم نمبر کروں تو وہ بہت اچھا ہو   اُشنا شاہ

    آئٹم نمبر کے ہرگز خلاف نہیں ہوں چاہتی ہوں کہ اگر میں کسی فلم میں آئٹم نمبر کروں تو وہ بہت اچھا ہو اُشنا شاہ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکا رہ اُشنا شاہ کا امعروف اداکار احسن خان کے بارے میں کہنا ہے کہ احسن خان اداکار کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے کا بہت عمدہ تجربہ رہا۔

    باغی ٹی وی : ڈارمہ سیریل الف اللہ اور انسان میں رانی کا کردار بنھانے والی اداکارہ اُشنا شاہ کا گذشتہ ماہ نئے ڈرامے بندھے اک ڈور سے کا آغاز ہوا ہے جس میں وہ احسن خان اور حنا الطاف کے ساتھ کام کررہی ہیں۔

    انڈیپینڈنٹ اردو کوحال ہی میں دیئے گئے انٹر ویو میں اُشنا شاہ نے اپنے نئے ڈرامے اور فنی کیرئیر کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے دپچسپ جواب دیئے-

    اداکارہ نے اڈرامے میں اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کردار اس ڈرامے میں پوزیٹیو ہے اس میں وہ اچھی سُلجھی ہوئی اور میچور لڑکی ہے جو اپنی لائف میں قربانیاں کسی ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ رشتوں اور دوستی کو بچانے کے لئے کرتی ہے کیونکہ وہ دوستی کو اہمیت دیتی ہے –

    اداکارہ نے کہا کہ مشہور ڈرامے ‘اڈاری’ کے مرکزی کردار احسن خان کے ساتھ کام کرنے کا پہلا موقع ہے احسن کے بارے میں اشنا کا کہنا تھا وہ اداکار کے ساتھ ساتھ ایک اچھے انسان بھی ہیں وہ بہت محنتی اور ورسٹائل اداکار ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے کا بہت عمدہ تجربہ رہا۔اور مجھے ایک اچھا دوست بھی مل گییا ہے احسن خان کی صورت میں-

    اُشنا شاہ نے اس سے پہلے ’بلا‘ نامی ایک ڈرامے میں منفی کردار بھی کیا تھا جس سے ان کو کافی شہرت ملی تھی۔ اس ڈرامے کو یاد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ منفی کردار کرتے ہوئے یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں آپ پر اس کی اثر نہ پر جائے لیکن کیونکہ میں نے ابتدا ہی سے مثبت کردار ادا کیے ہیں، اس لیے میں ایک طرح کے کردار کرتے کرتے اکتا گئی تھی، میں ہر کردار کو علیحدہ علیحدہ دیکھتی ہوں اسے مثبت یا منفی نہیں دیکھتی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں انہیں ہر طرح کے کریکٹر ملیں اور وہ اپنے کیرئیر میں یر طرح کے کردار ادا کریں-

    اشنا شاہ کو ڈرامے میں پہلی بار شہرت ‘بشر مومن’ سے ملی تھی جس میں انہوں نے فیصل قریشی کے ساتھ کام کیا تھا، اس ڈرامے کے بارے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ شکرگزار ہیں کہ انہیں یہ کردار دیا گیا انہیں بہت اچھا موقع ملا تھا کیونکہ وہ ان کا پہلا میگا سیریل تھا اور اس میں بہت مزہ آیا اور وہ کردار ایک فینٹسی کی طرح تھا-

    اداکارہ نے کہا کہ ان کو نیگیٹیو کردار میں بھی بہت پیار ملا مداحوں سے انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود کو ایک اداکار سجھتی ہیں اور اس صنعت میں ہیروئن بننے نہیں آئی تھی وہ اداکاری کرنے آئیں تھیں بطور اداکار ان کا کام ہے کہ وہ مختلف قسم کے کردار نبھائیں اور وہ یہی کرنا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں مزہ ہی تب آتا ہے۔

    اشنا شاہ نے ایک فلم ’تیری میری لو اسٹوری ‘ میں کام کیا تھا اس کے بعد انہوں نے پنجاب نہیں جاؤں گی میں ایک کلب ڈانس نمبر کیا تھا اس کے علاوہ انہوں نے کوئی فلم نہیں کی اس بارے میں انہوں نے کہا کہ سٹیون اپیلبرگ ہالی وڈ سے فون آتا رہتا ہے مگر ابھی انہیں ہولڈ میں رکھا ہوا ہے-

    انہوں نے کہا وہ ایسی فلموں میں کام کرنا چاہتی ہیں جہاں چیلنجنگ کردار ہو اور جن میں انہیں اداکاری دکھانے کا بھرپور موقع ملے۔

    آئٹم نمبر سے متعلق بات کرتے ہوئے اشنا شاہ نے کہا کہ وہ آئٹم نمبر اس کے ہرگز خلاف نہیں ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ اگر میں کسی فلم میں آئٹم نمبر کروں تو وہ بہت اچھا ہو۔

    واضح رہے کہ اشنا شاہ نے سات سال قبل اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا تھا اور اب تک وہ بلا ، بشر مومن اور الف اللہ اور انسان کے علاوہ دیگر ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چُکی ہیں –

    پاکستان میں آپ کو عزت حاصل کرنے کے لیے آئٹم نمبر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہ ایک واحد ملک ہے جہاں آپ جتنے زیادہ کپڑے پہنیں گے وہاں آپ کو اتنی زیادہ عزت ملے گی ماہرہ خان

    سارہ علی خان نے فلموں کا حصہ نہ بننے کی وجہ بتادی

  • ہر حال میں مثبت رہیں اور زندگی کے روشن پہلو دیکھیں

    ہر حال میں مثبت رہیں اور زندگی کے روشن پہلو دیکھیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار عمران عباس نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کے لیے ایک معنی خیزپیغام جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر عمران عباس نے اپنی ایک تصویر شئیر کی اور تصویر کے ساتھ ایک معنی خیزپیغام بھی لکھا۔عمران عباس نے لکھا کہ اُمید پسندی ایک اچھی انسانی شخصیت کی بہترین علامت ہوتی ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CCQSysln0Wd/
    عمران عباس نے اپنے مداحوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا کہ ’چاہے جیسے بھی حالات ہوں ہمیشہ مثبت رہیں اور اپنی زندگی کے روشن پہلو دیکھیں۔

    اداکار نے لکھا کہ اُمید پسندی انسانی شخصیت کا ایک ایسا رویہ ہے جو اُسے بڑی سے بڑی مشکلات، ناامیدی کا بھی سامنا کرنا سیکھا دیتا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CCSk6w5Hg4D/
    عمران عباس نے اپنی ایک اور تصویر شئیر کی اور لکھا کہ آپ اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جتنی زیادہ محنت کریں گے تو آپ اُس کو حاصل کرنے کے بعد خود پر اُتنا ہی زیادہ فخر محسوس کریں گے۔لہذا کام زیادہ کریں اور خود کو محدود نہ کریں کیونکہ آپ کی حدود صرف آپ کی خیالی سوچ ہے-

  • ‏کہتے ہیں جنہوں نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا، آئیے ہم آپ کو اس ڈاکومنٹری میں لاہور کے دروازوں کی سیر کرواتے ہیں جو وائس آف پاکستان کے ایگزیکٹو ممبر سید محمد اسد کی کاوش ہے۔

    ‏کہتے ہیں جنہوں نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا، آئیے ہم آپ کو اس ڈاکومنٹری میں لاہور کے دروازوں کی سیر کرواتے ہیں جو وائس آف پاکستان کے ایگزیکٹو ممبر سید محمد اسد کی کاوش ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں قدیم شہر موجود ہیں ہر شہر کی اپنی تہذیب و ثقافت تہوار اور طرز تعمیر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسرے شہروں میں ممتاز ہوتا ہے اسی طرح پاکستان کا قدیم ترین شہر لاہور ہے جس کی تاریخ کم و بیش 3000 ہزار سال قبل کی ہے اسے ایک ہندو راجہ رام چندر کے بیٹے لوہ چندر نے دریائے راوی کے کنارے ایک اونچے ٹیلے پر آباد کیا تھا-اس کا پہلا اور ابتدائی نام لوہ پور تھا -اس کا نام بدلنے کے بعد لاہور ہوا-

    لاہور میں موجود بہت سی قدیم عمارتیں سلطنت مغلیہ کی یادگار ہیں شہرلاہور کی تعمیر کچھ اس انداز میں کی گئی کہ اس کے اطراف کاروباری مراکز بنائے گئے اور وسط میں رہائشی علاقے آباد ہوئے ہر بازار میں محلے محلوں میں کوچے اور پر کوچے میں تنگ اور تاریک گلیوں کی گزر گاہیں بنائی گئیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ تمام کوچے اور محل ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    شہر لاہور میں داخل ہونے کے لئے 13 راستے بنائے گئے یہ دروازے دن میں لاہور میں داخل ہونے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے اور رات کو بند کر دیئے جاتے تھے پہریدار پہرہ دیا کرتے تھے اور جنگی حالات مین شہر کا دفاّ انہی دروازوں سے کیا جاتا تھا-شہر کو ہنگامی حالاتوں سے بچانے کے لئے یہ دروازے اور فصیل اہم کردار اد کرتے تھے ان دروازوں کے نام کچھ یوں ہیں-

    ویڈیو سکرین شاٹ

    مستی دروازہ، کشمیری دروازہ، شیرانوالہ دروازہ، یکی دروازی، دہلی دروازہ ، اکبری دروازہ ، موچی دروازہ ، شاہ عالم دروازہ، لوہاری دروازہ، موری دروازہ، بھاٹی دروازہ، ٹیکسالی دروازہ ، روشنائی دروازہ

    یہ تمام دروازے لاہور کے ڈیفنس کے لئے بنائے گئے تھے جیسے کوئی جنگی حالات ہو ں یا مسئلہ ہو تو دروازوں کو بند کر کے فصیلوں سے دشمن کے حملوں کو روکا جا سکے اور ان سے مقابلہ کر کے منہ توڑ جواب دیا جا سکے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    دہلی دروازہ:
    اس میں سب سے پہلے دہلی دروازہ ہے یہ چار سو سال پُرانا دروازہ ہے اور مغلوں کے دور کا بنا ہوا ہے مغلوں کے ٹائم میں یہ سب سے مصروف گزرگاہ ہوا کرتی تھی اور دہلی گیٹ کو دہلی گیٹ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا منہ دہلی کی طرف ہے اور اسیہلی میں لاہوری گیٹ ہے اسے اس لئے لاہوری گیٹ کہتے ہیں کیونکہ اس کا رُخ لاہور کی طرف ہے- دہلی دروازے سے شاہی وفد لاہور میں داخل ہوتا تھا-اس دروازے کے عقب میں شاہی حمام اور وزیر خان مسجد بوجود ہے


    ویڈیو سکرین شاٹ
    وزیر خان مسجد کی تعمیر دسمبر 1461 میں سات سال کی طویل مدت کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچی مسجد وزیر خان مغلیہ حکومت میں تعمیر کی گئی اب تک کی نفیس کاشی کاکانسی کار کی خوبصورت مسجد ہے- یہ مسجد بادشاہی مسجد کی تعمیر سے 32 سال قبل تکیمیل کو پہنچے

    ویڈیو سکرین شاٹ
    کشمیری دروازہ:
    کشمیری دروازے کا نام اس لئے ہے کیونکہ اس کا رُخ کشمیر کی طرف ہے اس دروازے کے اندر کی جانب لاہور کا ایک اندرون لاہور کا بہت بڑا بازار ہے جو کشمیری بازار کے نام سے منسوب ہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    اس میں ایک سنہری مسجد بھی واقع ہے یہ مسجد 1750 میں تین خوبصورت سنہری گنبدوں کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    شیرانوالہ دروازہ:
    یہ دروازہ بھی اپنی حیرت انگیز معلومات رکھتا ہے اس دروازے پر حفاظت کے لئے شیروں کو پنجرے میں رکھا جاتا تھا جس کی وجہ سے کوئی بیرونی مداخلت نہیں کرتا تھا اس کو مغل کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا اس کا پُرانا نام خطری دروازہ بھی تھا-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    مستی دروازہ :
    یہ شاہی قلعہ کے بالکل عقب میں واقع ہے اس دروازے کو خوشی کا دروازہ کہا جاتا ہے اس لئے اس کا نام مستی دروازہ رکھا گیا اس دروازے کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہاں جوتوں کا وسیع کاروبار ہے جس میں ثقافتی اور غیر ثقافتی جوتوں کی خریدو فروخت کی جاتی ہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    یکی دروازہ:
    یکی دروازہ ایک صوفی پیر زکی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے یکی پیر نے مغلیہ حملہ آوروں سے شہر لاہور کو محفوظ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا پہلے اس دروازے کا نام زکی تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نام بدل کر یکی دروازہ پڑ گیا-

    موچی دروازہ:
    موچی دروازہ بھی اپنا وجود کھو چکا ہے مگر اس دروازے کے نام میں تضاد پایا جاتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ا سدروازے کے پاس موچی بیٹھا کرتے تھے اور جوتے ٹھیک کرتے تھے اس وجہ سے اس کانام موچی دروازہ پڑ گیا تھا کوئی کہتا ہے کہ اس کے محافظ کا نام موچی تھا اس لئے اس کا نام موچی رکھ دیا گیا تھا-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    شاہ عالم دروازہ:
    یہ بادشاہ اورنگزیب کے بیٹے شاہ عالم کے نام سے منسوب ہے ان کی وفات کے بعد اس دروازے کا نام شاہ عالم دروازہ رکھ دیا گیا تھا-اس دروازے کے اندرون جانب بہت بڑا رہائشی اور کمرشل علاقہ اور بہت بڑے مارکیٹ شاہ عالم مارکیٹ موجود ہے –

    ویڈیو سکرین شاٹ
    لوہاری دروازہ:
    لوہاری دروازہ ھی تاریخی دروازوں میں سے ایک ہے جو افراد تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس دروازے کا نام لوہار سے منسوب کیا گیا ہے –

    ویڈیو سکرین شاٹ
    موری دروازہ:
    موری دروازہ لاہور کے تمام دروازوں سے چھوٹا دروازہ ہے اور یہ لوہاری اور بھاٹی دروازے کے درمیان میں واقع ہے اس دروازے کو شہر سے ضائع شدہ سامان کو باہر لے جانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    بھاٹی دروازہ:
    شہر کے مغرب میں واقع ہے یہ دروازہ ان چھ دروازوں میں سے جو بھی تک سلامت ہیں اس کو چیلسی دروازہ بھی کہا جاتاہے – اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس کے اندر کی جانب بہت لذیذ پکوان ملتے ہیں بھاٹی گیٹ سے باہر حضرت داتا علی ہجویری رحمۃاللہ علیہ کا مزار واقع ہے علاوہ ازیں شاعر مشرق علامہ اقبال بھی 1901 سے 190 تک بھاٹی دروازے کے قریب مکین رہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    ٹیکسالی دوارزہ:
    ٹیکسالی دروازہ بھی مغلوں کے دور عہد میں تعمیر کیا گیا تھا یہاں ایک بہت بڑا جوتوں کا بازار بھی ہے جو شیخوپورہ بازار کے نام سے مشہور ہے اس دروازے کے اندر کی جانب بہت لذیذ پکوان کی بہت سی اقسام ملتی ہیں بادشاہی مسجد اس کے قریب واقع ہے اور لاہور کا حسن جسے المعروف شاہی محلہ بھی کہا جاتا ہے وہ بھی اس کے قریب واقع ہے-

    ویڈیو سکرین شاٹ
    روشنائی دروازہ:
    روشنائی دروازہ اپنے نام سے ہی ثابت کرتا ہے کہ یہ روشنیوں کا دروازہ ہے اس دروازے کو حکمرانوں اور دوسرے شاہی افراد کے لئے مغلیہ دور حکومت میں اور سکھ دور عہد میں گزر گاہوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اس دورازے کو راہگیروں کو راستی دکھانے کے لئے روشن کیا جاتا تھا-

    لاہور کے ان تمام دروازوں میں لاہور کی ایک منفرد ثقافت موجود ہے مگر گزرتے وقت کے ستم اور اتظامیہ کی عدم توجہی لاہور کی تاریخی پہچان ان دروازوں کا ذکر تو اکثر سننے جکو ملتا یہے مگر یہ دروازے نہیں ان میں کئی دروازے تو سرے سے اپنا وجود کھو چکے ہیں جو ابھی موجود ہیں وہ بھی خود پر گزرنے والی داستانیں بیان کر رہے ہیں کیونکہ اب اگر کوئی اندرون شہر جائے تو اسے جابجا ٹوٹی سڑکیں گلیاں تجاوزات کی بھر مار ٹریفک کا بے ہنگم شور اور کچھ ایسے نشان ملیں گے جنس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ئہاں کبھی کوئی ضخوبصورت دروازہ یا حویلی ہوا کرتی تھی حویلیوں کی جگہ پلازوں اور جابجا تجاوزات نے اندرون شہر کی گزر گاہوں کو تنگ کر دیا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس خزانے کو بچانے کے لئے کسی نھی بھی کوشش کی نہیں کی کئی حکومتیں آئیں یہاں سے لوگ منتخب ہوئے لیکن حالتیں سنورنے کی بجائے بگڑتی چلی گئیں ہمارے رارے رہنماؤں کو احساس ہی نہیں کہ تاریخی ورثوں کو بچانا کتنا ضروری ہے کیونکہ جو قومیں اپنے ورثے کی حفاظت نہیں کرتیں وہ ختم ہو جاتی ہیں قومی ورثے کی اس خستہ خالی نے ان دروازوں کے بیچ و بیچ بسنے والوں کوہجرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور بس رنگ سازوں اور کاروباوروں کی صدائیں سننے کو ملتی ہیں-

  • فرحان سعید کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ملک کے لئے ناقابل فراموش خدمات پر خراج تحسین

    فرحان سعید کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ملک کے لئے ناقابل فراموش خدمات پر خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے اداکار اور گلوکار فرحان سعید نے پاکستان کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں پہلی انہوں نے شوبزاور کھیل کی شخصیات اور معروف مذہبی سکالر اور عالم دین مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین پیش کیا تھا تاہم اب انہوں نے پاکستان کے محسن کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فرحان سعید نے لکھا کہ کچھ ایسے افراد ہیں جن کے انفرادی اثرات نے ایک ملک کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا ہے – بلاشبہ ڈاکٹر عبد القدیر خان ان میں سے ایک ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCGo3PHFQ4E/
    فرحان سعید نے لکھا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر ، ڈاکٹر خان اور ان کی ٹیم نے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارے ملک کا مقام بلند کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ ان کے کام نے نہ صرف پاکستان کے بین الاقوامی بیانیہ کو تبدیل کیا بلکہ یہ بھی ثابت کردیا کہ پاکستانی ایک پرعزم لوگ ہیں جو اپنے مستقبل کی تشکیل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    اداکار و گلوکار نے مزید لکھا کہ ڈاکٹر خان ، پاکستان اور اس کی عوام آپ کی بے مثال خدمات کے لئے ہم آپ کے مقروض ہیں۔

    انہوں نے LivingLegends #PakistaniHeroes# بھی استعمال کیا-

    واضح رہے کہ اس سے قبل فرحان سعید نے ملک کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا جن میں اداکار قوی خان، صوفی گلوکارہ عابدہ پروین اور معروف کامیڈین عمر شریف ،سکواش پلئیر جہانگیر خان اور قومی کرکٹر جاوید میاںداد اور مولانا طارق جمیل شامل تھے۔

    فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین

    فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین

    مولانا صاحب کا خطبہ سن کر عبارت فصاحت کی شان معلوم ہوئی اور تبلیغ کے صحیح معنی کا احساس ہوا فرحان سعید کا مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین

  • عاصم اظہر اور اریکا حاق کے گانے تم تم  نے سوشل میڈیا پر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے

    عاصم اظہر اور اریکا حاق کے گانے تم تم نے سوشل میڈیا پر نئے ریکارڈ قائم کر دیئے

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار عاصم اظہر اور اریکا حق کے نئے گانے ’تم تم‘ نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : گلوکار عاصم اظہر اور ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کے نئے گانے نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کرد یئے ہیں گانے ’تم تم‘ کے یوٹیوب پر 20 لاکھ 31 ہزار 3 سو 77 ویوز آچکے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCQyOpkl5r6/
    اس حوالے سے عاصم اظہر نے سماجی رابطے انسٹاگرام پر اپنی تصویر پوسٹ کی اور گانے ’تُم تُم‘ کی کامیابی پر اپنے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ لکھا کہ یوٹیوب میوزک چارٹس پر۔ 3 دن میں 3 ملین سے زائد ویوز آ چکے ہیں آپ کی اس محبت کے لئے آ کا شکریہ-

    6 منٹ11سیکنڈز پر مشتمل عاصم اظہر کے گانے کی ویڈیو میں ایک ایسی لڑکی کو دکھایا گیا ہے جو صرف پیسوں سے محبت کرتی ہے اور اپنی محبت میں گرفتار لڑکوں کو دھوکا دیتی ہے جبکہ گانے کے آخر میں اداکارہ ہانیہ عامر کی انٹری بھی ہوتی ہے۔

    عاصم اظہر کے اس گانے میں اریکا حق عاصم اظہر، اُردو ریپ سانگ کے گلوکار رامس، طلحہ یونس، طلحہٰ انجم اور گلوکار و اداکار تیمور صلاح الدین عرف مورو نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

    اریکا حق کے بعد ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا گلوکار بلال سعید کے نئے گانے کی ویڈیو میں شامل

    صبا قمر ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کی حمایت میں بول پڑیں

    لوگ پہلے ڈپریشن اور مینٹل ہیلتھ پر لیکچر دیتے ہیں اور کچھ دن بعد خود کسی کو اپنی نفرت سے ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں عاصم اظہر

    عاصم اظہر اور ٹک ٹاک اسٹار ارکا حق کے گانے کا ٹیزر جاری

  • منزل کی آس میں      تحریر:جویریہ بتول

    منزل کی آس میں تحریر:جویریہ بتول

    منزل کی آس میں…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کشمیری قوم نے کئی راجوں کا سامنا کیا،ڈوگرہ راج،سکھ راج،فرنگی راج اور اب ہندو راج سے نبرد آزما یہ قوم آزادی کی اُمید لیئے اپنے خونِ جگر سے لاکھوں قربانیاں دے کر جہدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہے…
    یہ وہ جدوجہد آزادی ہے کہ جسے عالمی برادری کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کا اعزاز حاصل ہے اور اقوامِ متحدہ جیسے عالمی طاقتوں کے مجموعے کے فورم اور ریکارڈ پر درجنوں منظور شدہ قراردادیں آج تک عالم انسانیت کا منہ چڑا رہی ہیں…!!!
    ہر موسم اور ہر انداز میں لہو سے راہ کے چراغ روشن کرتی یہ تحریک عشروں سے جانبِ منزل چل رہی ہے…
    13 جولائی 1935ء میں سرینگر جیل میں جن بائیس افراد نے اذان کی تکمیل کے لیئے جانیں دے دی تھیں،اس طوفان نے آزادئ کشمیر کو ایک سیاسی پلیٹ فارم مہیا کر دیا تھا…
    ایسے اندوہ ناک واقعات کشمیر کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں اور ہزاروں یتیم بچے،بیوائیں اور ہاف وڈوز جن کے شوہر لاپتہ ہونے کے بعد گھروں کو نہیں لوٹے…
    اجتماعی قبروں کی دریافتیں اور تعلیم و صحت کی انتہائی ابتر صورتحال کی ایک تصویر کشمیر ہے…
    اسی ماہِ جولائی 2016ء میں اس تحریک کو ایک نیا رنگ،ولولہ اور مہمیز ملی جب 8 جولائی کو نوجوان کشمیری برہان مظفر وانی کو قابض افواج نے ساتھیوں سمیت شہید کر دیا تھا…
    ایک سکول پرنسپل کا بچہ جسے تعلیم و قلم سے پیار تھا…آخر کس احساس نے گن تھما دی تھی کہ سوشل میڈیا کا کھلاڑی کشمیریوں کی ایک مضبوط آواز بن گیا تھا…؟
    اور ظالم فورسز نے اسے شہید کر کے تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور یہ سوچ اور تجزیہ ایک آواز بن گئے کہ قبر میں لیٹا برہان زندہ برہان سے زندہ وانی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گا…
    برہان مظفر وانی کی تاریخی نمازِ جنازہ نے قابضین کے ہوش اڑا دیئے تھے،جس میں تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی تھی اور نمازِ جنازہ 45 مرتبہ ادا کی گئی تھی۔
    کشمیری نوجوان برہان وانی کو شہید کر کے بھارتیوں نے تحریکِ آزادی کو کچلا نہیں بلکہ پروان چڑھاتے ہوئے قافلے کو رواں اور نوجوانوں کو عزم و ہمت فراہم کر دیئے ہیں…
    یہ بے گناہ اور مظلوم لہو تہہِ خاک سے آزادی کی پر نور صبح تک زادِ سفر بن چکا ہے…!!!
    گزشتہ گیارہ مال سے طویل لاک ڈاؤن کا سامنا کرتی قوم کے حوصلے اب بھی پست نہیں ہیں،اگر چہ ان کی آوازوں کو پابندِ سلاسل کیا جا چکا ہے،مگر آزادی کے مقصد کی خاطر بہایا گئے لہو کی گونج زندانوں سے ایوانوں تک ٹکرا رہی ہے…!!!
    کشمیری نوجوان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک طرف رکھ کر راہِ آزادی کا مسافر جس چیز نے بنایا ہے وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور اسی ظلم اور ظلمت کی اوٹ سے صبحِ انقلاب کا ظہور دکھائی دیتا ہے…
    پیلٹ گن کے چھروں کے وار اور نابینا آنکھیں اب انسانیت سوز مظالم پر اتمامِ حجت بن چکے ہیں…
    اس سفرِ آزادی کے کارواں میں بوڑھے،جواں،بچے اور عورتیں سبھی شامل ہو کر ہم کیا چاہتے ہیں…”آزادی” کی پکار سے دنیا کے ضمیر پر ایک ضرب بن کر لگ رہے ہیں…!!!
    اور تمام عالمی اداروں اور حقوقِ انسانی کے کنونشنز سے سوال کناں ہیں…!!!
    کشمیر کے نوجوان کی جوانی،کاروبار اور تعلیم سب اس راہ میں ہار چکی ہیں مگر وہ صبحِ آزادی کے تعاقب سے پلٹ نہیں رہا ہے…
    منزل کی آس میں پیہم چل رہا ہے…
    جس کی واضح مثال برہان وانی شہید ہے…!!!
    اُمید سحر کی آس میں…
    میں چلا گیا ہوں آبلہ پا…
    میں نے ہر صلاحیت دے کر…
    چراغِ رہ دیا ہے جَلا…
    مجھے جاں سے بھی پیاری…
    ہے یہ اپنی صبح آزادی…
    میں نے نقد جاں ہار کر…
    اَدا سفرِ وفا کا کیا تقاضا…
    مرے ہاتھ میں قلم کی جگہ…
    جس نے نعرۂ آزادی دیا…
    اسی وجہ کو کھوج لو…
    کرتا ہے سوال یہ بچہ بچہ…؟
    رہِ وفا میں ہواؤں سے…
    شبِ ظلمت کی گھٹاؤں سے۔۔…
    اُلجھ کر جو چلتے رہے…
    ہم وہ دِیے جلا چلے ہیں…
    جنہیں کوئی بھی نہ سکے گا بُجھا…!!!
    ==============================

  • "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”

    "سوچوں پر حملہ آور ہونے کی کہانی”
    بقلم : شعیب بھٹی
    آج سے تقریبا پون صدی پہلے جب ٹی وی سکرین کی ایجاد ہوٸی تو یہ ایک تفریح کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعے تھا اور معاشرے میں موجود براٸیوں کو دور کرنے کے لیے اس پہ پروگرام نشر کیے جاتے تھے۔ دوسروں تک اپنے خیالات و آرا پہنچانے اور دوسری کی سوچ میں اپنے نظریاتی منتقل کرنے کا عمل ریڈیو کی ایجاد سے ہی شروع ہوچکا تھا اس کو مزید تقویت ٹی وی کی ایجاد نے دی۔
    اب اس جدید ٹیکنالوجی(کمپوٹر، انٹرنیٹ، موباٸل) کی ایجادات نےاس کو مزید پھیلایا۔ اب دنیا ایک گاٶں کی حثیت اختیار کرچکی ہے۔
    ٹیکنالوجی کی ایجادات نے جنگ کے طریقہ کار بدل دٸیے ہیں۔
    شروع دنیا سے اب تک جنگ میں مخالف قوم کو شکست دینے کے لیے افواہوں کا سہارا لیا جاتا تھا تاکہ قوم کو ذہنی طور شکست دی جاۓ اس سے ان کے حوصلے کمزور ہوجاتے تھے۔
    دشمن کو عصابی طور پہ کمزور کرنے اور اپنے نظریات کی ترویج کے لیے شروع سے ہی کوٸی نا کوٸی طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔

    اب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوۓ یہ کام میڈیا انڈسٹری سے لیا جارہا ہے۔
    میڈیا وار کے ذریعے اپنے خیالات کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بہترین اور پرکشش شکل دے کر دوسروں میں منتقل کیا جارہا ہے۔
    ڈراموں کے ذریعے اپنی تاریخ اور مخالف قوم کی تاریخ دیکھاٸی جارہی ہے اور اس میں کرداروں کو مسخ کرکے دیکھایا جاتا ہے اور تاریخ سے ناعلم لوگوں کو آسانی سے بے وقوف بنادیا جاتا ہے۔ میڈیا وار کے ذریعے مخالف حکمرانوں کی ذاتی زندگی کے واقعات میں رنگ بھر کر انکی کردار کشی کی جاتی ہے۔
    فلمز اور ڈراموں کے ذریعے عوام کو دشمن کے خلاف کھڑے کرنا اور دشمن ممالک کو انسانیت کا دشمن ثابت کرنے کا کام بہت عرصے سے عروج پہ ہے۔
    امریکہ سمیت یورپ کے اکثر ممالک،روس،انڈیا اور اب عرب ممالک بھی اس ساٸبر اور میڈیا وار میں تیزی لاۓ ہیں۔
    حالیہ وقت میں بہت سے یورپی ممالک نے اپنے میڈیا اور فلم انڈسٹری کو اسلام مخالف استعمال کیا ہے اور اسلاموفوبیا مہم کو اپنی پہلی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ مسلمانوں کی کردار کشی اور مسلمانوں کے پیارے نبی ﷺ کے خلاف کارٹون مقابلےکرواۓ اور سیریز بناٸی گٸی جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوٸی۔ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑا اور مسلمانوں کے اس احتجاج کو دہشتگردی کہا گیا اور اظہار راۓ کی آزادی کے خلاف گردانا گیا۔ اسی طرح انڈین میڈیا اور فلم انڈسڑی نے بھی اسلام و پاکستان کو نشانے پہ رکھا ہوا ہے۔
    انڈیا نے گزشتہ سال "پانی پت” کے نام پر فلم ریلیز کی ہے۔ پانی پت ایک تاریخی لڑاٸی ہے جو افغان بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے ہندٶ مرہٹوں کے خلاف لڑی تھی اور اس جنگ میں مرہٹوں کو شکست ہوٸی تھی۔ اس متنازعہ فلم کو انڈیا نے بابری مسجد کی شہادت کے دن ریلیز کیا۔ اس میں احمد شاہ ابدالی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ افغانستان کے قاٸمقام وزیر خارجہ ادریس زمان نے انڈین سفارتکار ونے کمار کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
    میڈیا کے ذریعے اسلام دشمنی کے بعد مسلمان نے بھی اس کے ازالہ کی کوشش کی اور عمر بن خطاب پر عمر سیریز بناٸی لیکن علما نے اس کو دیکھنا حرام قرار دیا۔
    اب موجودہ وقت میں ترکی سیریز ارطغل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
    ارطغل سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے سلطان عثمان کا والد تھا۔
    یہ سیریز ارطغل کی زندگی پر مشتمل ہے۔ قاٸی قبیلے کی سلطنت کے قیام کے لیے جہدوجہد کو اسکا موضوع بنایا گیا ہے۔ 1191 عیسوی کی تاریخ کو ترکی کی بے مثال تاریخی جدوجہد کے طور پر دیکھایا جارہا ہے۔ دوسرے بہت سارے ممالک کی طرح پاکستان میں اسے سرکاری ٹی وی پہ ڈبنگ کرکے دیکھایا جارہا ہے پاکستان میں اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسکی یوٹیوب پر پہلی قسط کو 16 گھنٹوں میں 34 لاکھ افراد نے دیکھا اور پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل کو صرف 15 دنوں میں ریکارڈ 10 لاکھ لوگوں نے سبسکراٸب کیا۔
    دوسری طرف عرب میں ترک عثمانیہ سلطنت کے حوالے سے ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ جس کا نام "ممالکة النار” یعنی آگ کی بادشاہت ہے۔ جسے انگلش میں
    #Kingdom_Of_Fire
    کہا گیا ہے۔ گزشتہ سال نومبر 17 سے معروف عالمی چینل #MCB پر دیکھایا جارہا ہے۔
    ترکی سیریز ارطغل کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈرامے کو مصری راٸٹر نے لکھا، برطانوی ڈاٸریکٹر نے ڈاٸیریکٹ کیا، تیونس میں شوٹ ہوا، متحدہ عرب امارات نے پروڈیوس کیا ہے۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کی مصر پر قبضہ اور سلیم اول کے ہاتھوں مملوک سلطنت کے خاتمے کی منظر کشی کی گٸی ہے۔
    یاد رکھیں مملکوک سلاطین بھی ترک ہی تھے۔

    اسی طرح مصر میں بھی ایک سیریز یکم رمضان سے شروع کی گی جس کا نام "النہایہ” ہے۔ جوکہ مستقبل کے بارے میں ہے جب 2120ٕ میں امریکہ کے تقسیم اور برباد ہوجانے کے بعد صیہونی ریاست اسراٸیل تباہ کردی جاتی ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک ڈرامہ ہے لیکن اس سے اسراٸیل کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اسراٸیلی وزیر خارجہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو مخاطب کرکے اسے رکوانے کا کہا ہے۔ اس ڈرامے کو پروڈکشن کمپنی سینرجی نے تیار کیا ہے اور اسے معروف ٹی وی چینل (آن) پر دیکھایا جارہا ہے۔
    دوسری طرف یکم رمضان کو ہی عرب ممالک میں ایک ڈرامے کی پہلی قسط نشر ہوٸی۔ جس کا نام "ام ہارون” ہے۔ اسکی 30 اقساط ہیں یہ ڈرامہ کویت کی پروڈکشن کمپنی نے بنایا، اس میں کام کرنے والوں کا تعلق بحرین سے، اس میں کرداروں میں رنگ بھرنے والے اداکاروں کا تعلق کویت سے ہے اور اس کی شوٹنگ متحدہ عرب امارات میں کی گٸی ہے۔
    اس ڈرامے کے بارے کہا گیا کہ یہ عرب اسراٸیل تعلقات کے متعلق ہے لیکن یہ کہانی بحرین کی ایک یہودی نرس کے متعلق ہے جو فلسطین سے جبرا نکالے گٸے خاندانوں کا علاج کرتی ہے جو بحرین اور کویت میں پناہ لیتے ہیں اس میں ام ہارون کا کردار حیات الفہد نامی مسلم اداکارہ نے کیا ہے۔
    یہ حالیہ وقت میں مقبول اور متنازعہ ڈراموں کا تعارف ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اسی طرح عوامی تاثر کو تبدیل کرنے اور نظریات کی منتقلی کے لیے میڈیا اور فلم انڈسڑی کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ کو توڑ مروڑ اور جھوٹ کو سچ کے ساتھ ملا کر کہانیاں بنا کر ممالک اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ فلمز اور ڈراموں کے ذریعے سوچوں پہ یلغار کا یہ سلسلہ اس وقت مکمل عروج پہ ہے۔
    دنیا میں میڈیا جنگ کے ایک مہرے کے طور پہ اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک اس کو ہتھیار کے طور پہ استعمال کررہے ہیں۔