Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • عمران عباس کا مداحوں کو ہر حال میں شکر گزار رہنے کا مشورہ

    عمران عباس کا مداحوں کو ہر حال میں شکر گزار رہنے کا مشورہ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار عمران عباس نے مداحوں کو ہر حال میں اللہ تعالی کا شکرگزار رہنے کا مشورہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی :اداکار عمران عباس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک معنی خیز پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں 2020 میں پیش آنے والے حادثات اور شرح اموات کو یاد کر کے خدا کے ناشکری نہیں کرنی چاہیئے-
    https://www.instagram.com/p/CCJVQ5HnCb0/
    عمران عباس نے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ کیا ہم نے ہر لمحہ ہونے والی رحمتوں کی برسات کا شکر ادا کیا ہے؟ کیا جو ہمارے پاس موجود ہے اس کا شکر ادا کیا ہے؟ کیا جو ہمارے اعمال ہیں اس کے بدلے کیا ہمیں کچھ ملنا بھی چاہئے؟

    اداکار نے لکھا کہ ہمیں ان تمام نعمتوں اور برکتوں کا انداہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ ہم سے لے لی جاتی ہیں-

    عمران عباس نے لکھا کہ ہمیشہ اللہ کے شکرگزار رہیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ زندگی خوبصورت شے ہے اللہ کی رحم دلی اور مہربانی کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں اور اس کے پاس بندے کو دینے کیلئے نعمتوں کی کمی نہیں-

    اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ ہر وقت الحمداللہ کہتے رہا کریں تاکہ اس کی رحمتوں کے سائے میں رہیں۔

  • واہ کیا باؤلنگ ایکشن ہے بچے کا

    واہ کیا باؤلنگ ایکشن ہے بچے کا

    دنیا بھر سمیت پاکستان میں کرکٹ کے شائقین موجود ہیں برے بچے نوجوان سب ہی کرکٹ کے شائقین ہیں اور اپنے پسندیدہ کرکٹر کو فولو کرتے ہوئے ان کی طرح کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : کرکٹ کا کھیل بڑوں بچوں اور خواتین میں یکساں مقبول ہے ہر کوئی کرکٹ کا دیوانہ ہے بچے بڑی اپنے فارغ وقت میں کرکٹ کھیلتے نظر آتےہیں اور اپنے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کاپی کرتے ہوئے ان کی طرح ہی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں اور کرکٹ میچز کے سیزن میں تو سب پاکستانیوں کا شوق قابل دید ہوتا ہے-
    https://twitter.com/ambermughal60/status/1275409432365719558?s=08
    سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر پروفیسر امبر نامی صارف نےایک ویڈیو شئیر کی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چھوٹا سابچہ کس قدر مہارت اور خوبصورتی سے باؤلنگ کرواتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے- ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی ہے اور لوگ اس بچے کی باؤلنگ کے انداز کو خوب سراہ رہے ہیں-

    پروفیسر امبر نامی صارف نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ کیا باؤلنگ ایکشن ہے بچے کا واہ –

  • اجے دیو گن کا چین سے بدلہ لینے کا اعلان ، لداخ میں مرنے والے بیس فوجیوں پر فلم بنائیں گے

    اجے دیو گن کا چین سے بدلہ لینے کا اعلان ، لداخ میں مرنے والے بیس فوجیوں پر فلم بنائیں گے

    بھارتی معروف اداکار اجے دیو گن نے کہا ہے کہ چین سے بدلہ لینےکے لئے لداخ میں مرنے والے بیس فوجیوں پر فلم بنائیں گے-

    باغی ٹی وی : بھارت نے ہمیشہ اپنی ہار کا بدلہ فلموں میں ہی لیتا آیا ہے اور کشمیر کو فتح کرنے اور پاکستانی فوج کو شکست دینے کے خواب اپنی فلموں میں ہی پورے کرتا رہا ہے اپنی وہی روایت برقرار رکھتے ہوئے اجے دیو گن نے چین سے لداخ کا بدلہ لینے کے لئے ایک مرتبہ پھر فلموں کا سہارا لیا ہے اور فلموں میں ہی ہیرو پنتی دکھانے کا ارداہ کیا ہے-

    بھارتی ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اداکار اور فلم پروڈیوسر اجے دیوگن نے گذشتہ ماہ گیلان وادی میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان پرتشدد تصادم پر مبنی فلم کا اعلان کیا ہے۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی جانیں ضائع ہوگئیں۔

    فلمی تجارتی تجزیہ کار ترن آدرش نے اس اعلان کی خبر ٹویٹر پر شیئر کی۔ "یہ سرکاری … … اجے دیوگن ایف فیلمز اور سلیکٹ میڈیا ہولڈنگز ایل ایل پی اس فلم کی تیاری کریں گی۔


    ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اجے نے اپنے اسپورٹس ڈرامہ میدان کا نیا پوسٹر بھی شیئر کیا۔ انہوں نے فلم کی ریلیز کی تاریخ یوم آزادی ہفتہ ، 13 اگست 2021 بتائی ہے ۔ “


    اجے نے لکھا کہ 2021 یوم آزادی ہفتہ۔ ایک ایسی کہانی جو ہر ہندوستانی کو فخر بخشے گی۔ اس فلم میں پریمانی ، گراج راؤ اور معروف بنگالی اداکار رودرانیل گھوش بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ چین نے وادی لداخ ہر قبضہ کرتے ہوئے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوائے 100 سے زائد بھارتی فوجی گرفتار ہوئے اور باقیوں نے بھاگ کر جان نچائی تھی بعد ازاں 15 سے 16 جون کو وادی گیلان میں ایک جھڑپ میں جب 20 ہندوستانی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تب سے بھارت اور چین کی صورتحال کشیدہ ہے۔ ہندوستان اور چین میں گذشتہ ماہ سے تناؤ جاری ہے-

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

  • بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں

    بھارتی اداکارہ دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کو کھری کھری سنا دیں۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ دیا مرزا سماجی رابطے کی ویب سایٹ ٹویٹر پر بی جے پی رہنما کا انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان دیکھ کر برہم ہو گئیں اور کھری کھری سنا دیں کہا کہ کیا آپ میں ہمدردی کا کوئی جذبہ باقی نہیں بچا ہے؟

    دیا مرزا کے اس ٹویٹ ہر بی جے پی رہنما نے لکھا کہ انہیں اپنی فورسز سے ہمدردی ہے، تمام بھارتیوں سے ہمدردی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔


    انہوں نے دیا مرزا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یا د رکھنا میں سیلیکٹڈ پلاک ہولڈر نہیں ہوں میں آپ کا بڑا پرستار ہوں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوگی کہ آپ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں نا کہ مقبوضہ وادی کے مظلوم عوام سے ہمدردی دکھائیں۔

    بی جے پی رہنما کے اس ٹویٹ کے جواب میں اداکارہ نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ ہمدردی کسی خاص لوگوں کیلئے مختص نہیں، یا تو ہم کسی سے ہمدردی کرتے ہیں یا نہیں کرتے-


    دیا مرزا نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ میں ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوپور میں پیش آنے والے واقعے جس میں 3سالہ ننھے بچے کے سامنے اُس کے نانا کو گولیاں مار دی گئیں تھیں، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی بھی بچہ اس دُکھ اور بربریت کو نہیں سہہ سکتا۔

    انہوں نے لکھا کہ آپ ان معاملات میں سیاست ترک کردیں تو پھر ہی میرا تعاون اور حمایت حاصل کرسکیں گے۔

    واضح رہے دو روز قبل ہونے والے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کو جنجھوڑ کر رکھ دیا جس میں ایک چھوٹا، تقریباً 3 سالہ بچہ خون میں لت مت اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے پاس سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں۔

    کشمیر پر بھارتی ظلم و تشدد پر دنیا کی خاموشی کسی صورت قابل قبول نہیں، کشمیریوں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، مہوش حیات

    بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار

    مقبوضہ کشمیر میں پوتے کے سامنے داداکو گولی مار کر بھارتی فوج نے بچے کا بچپن چھین لیا، مشعال ملک

    ننھا کشمیری بچہ تحریک آزادی کا نیا استعارہ، دنیا بھر میں غم کی لہر

    شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت

  • کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ    تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ تحریر:صالح عبداللہ جتوئی

    کشمیر کی لہولہان وادی اور انسانیت کا رویہ

    صالح عبداللہ جتوئی

    گزشتہ سات دہائیوں سے شہ رگ پاکستان پنجہ استبداد میں ہے اور نت نئے طریقوں سے معصوم بچوں نوجوانوں اور بوڑھوں عورتوں پہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے اور ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور وحشیانہ سلوک سے انہیں ذہنی و جسمانی تشدد سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

    لیکن اس تشدد میں مزید اضافہ تب ہوتا ہے جب وہاں بھارت ناجائز قبضہ قائم کرنے میں ناکام ہوتا ہے اور کشمیریوں کی شہریت تک کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ظالم افواج بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 میں سخت کرفیو لگا دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں نے بس و بے یارومددگار کشمیری گھروں میں محصور ہو کے رہ جاتے ہیں اور انٹرنیٹ سروس تک بند کر دی جاتی ہے تاکہ ان کا پوری دنیا سے رابطہ کٹ جاۓ اور اس نتیجے میں نے چارے کشمیری اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور مخلص بہن بھائیوں سے دور ہو جاتے ہیں اور کئی بھوک پیاس سے بلک بلک کے خالق حقیقی سے جا ملے ہوں گے لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔

    تب سے لے کر اب تک تقریباً 11 ماہ بیت چکے ہیں لیکن مودی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی اور دنیا کی کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم یا اقوام متحدہ نے اس پہ ٹھوس ایکشن نہیں لیا اور نہ ہی بھارت پہ پابندیاں لگیں اور نہ ہی انہیں کسی دھمکی کا سامنا ہوا کیا کشمیر میں مرنے والے انسان نہیں ہیں یا پھر انسانیت کے دائرے میں صرف کفار آتے ہیں کیونکہ یورپ میں تو جانور بھی مرے تو اس پہ سوگ منایا جاتا اور ہزاروں لیکچرز دئیے جاتے لیکن یہاں تو کبھی پیلٹ گنوں کا استعمال ہوا اور آنکھوں کی بینائیاں چھین لی گئیں بچوں کا قتل عام کیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور بوڑھوں تک کو پکڑ کے گرفتار اور نظر بند کیا گیا اور آزادی مانگنے پہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے لیکن یہاں نہ اقوام متحدہ کا بس چلا اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں یہاں پہنچ پائیں حالانکہ امریکہ میں نسل پرستی کی وجہ سے ایک کالے کو قتل کر دیا گیا تو پورا امریکہ بند ہو گیا تھا لیکن یہاں تو ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ان پہ کسی قسم کی اقتصادی معاشی پابندی نہیں لگی اور جو بھی پابندیاں ہوتی وہ صرف پاکستان کے لیے رہ گئی ہیں جو بلاوجہ ایف اے ٹی ایف کو بنیاد بنا کے لگا دی گئیں اور دہشتگردی کا الزام دیا جاتا رہا حالانکہ اصل دہشتگرد تو گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا مودی ہے جو شاید اقوام متحدہ کے ساۓ تلے ہی پل رہا ہے۔

    ہمارے معزز وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی سفارتی سطح پہ بہت سی ناکام کوششیں کیں اور پاکستان میں موجود کشمیریوں کے نمائندوں کو پابند سلاسل کر کے یہ منطق دی کہ ہم کشمیر کو آزاد کروائیں گے حالانکہ یہ کشمیر کے حوالے سے تنزلی کی طرف پہلا قدم تھا خیر اس کے بعد انہوں نے پاکستانیوں کو گانے چلا چلا کے دھوپ میں بھی کھڑا کیا اور کانفرنسز بھی منعقد کیں اور جنرل اسمبلی میں بھرپور انداز میں تقریر بھی کی اور اس میں بھارت کو ایکسپوز بھی کیا اور بھارت کو ان ہی کی زبان میں جواب دینے کا بھی عندیہ دیا اور اس موقع پہ نام نہاد اقوام متحدہ نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں اور بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیں گے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور نہ ہی مودی کو اس سے فرق پڑا بلکہ ہو سکتا ہے اس کے ساتھ کئی ممالک کے سفارتی و تجارتی تعلقات بڑھ گئے ہوں اور اس کا ظلم کم ہونے کی بجاۓ مزید بڑھ گیا اور اس نے کئی نہتے کشمیریوں کو خون سے رنگ دیا اور تو اور بھارتی ظالم فوج نے ایک معصوم بچے کے سامنے اس کے دادا کو شہید کر دیا جو کہ دودھ لینے جا رہے تھے اب یہ دنیا کو نظر نہیں آیا کہ ایک بچے کے سامنے یوں گولیاں چلیں گی اور اس کے اپنوں کو قتل کیا جاۓ گا تو اس کے ننھے دماغ پہ کیا بیتے گی کیا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور آج کی دنیا میں کون ہے جو مغلوب ہو کے زندگی گزارے گا کیا کشمیری مسلمانوں کے حقوق نہیں ہیں کیا یہ آزاد نہیں رہنا چاہتے کیا یہ انسان نہیں ہیں؟

    یہی بچہ بڑا ہو کے بندوق اٹھانے پہ مجبور ہو گا لیکن پھر اس کو دہشت گرد کہنے والے سرٹیفائڈ درندے جو بھارتی وردیوں میں ملبوس ہیں سامنے آ جائیں گے اور پوری دنیا ان کے تماشے دیکھ کے مظلوم کو ہی ظالم کہہ گی کہ انہوں نے ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی ہے۔

    بھارت سے اگر کشمیر لینا ہے تو ہمیں بھی چین کی پالیسی اپنانا ہو گی کیونکہ مذاکرات سے کبھی بھی یہ معاملہ حل نہیں ہو گا اور مذمتوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا چاہے نغمے بناۓ جائیں یا سالہا سال دھوپ میں ہی کیوں نہ کھڑے رہیں ایسے کشمیر آزاد نہیں ہو گا اور نہ ہی اس معاملے میں دوسرے ممالک پہ امید لگانی ہو گی کیونکہ بھارت کے ساتھ کئی مسلم دشمن ممالک کا اشتراک ہے اور یہ لوگ مسلمانوں کے ختم کرنے کے درپے ہیں اس لیے وہ کبھی بھی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھائیں گے کیونکہ وہ کبھی بھی مسلمانوں کو ترقی کرتا اور آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے اس لیے کافروں کی تعداد سے گھبرانے کی بجاۓ اللہ کی نصرت پہ یقین بڑھے گا تب ہی سرخروئی عطا ہو گی وگرنہ ہم ہر سطح پہ ناکام و نامراد لوٹیں گے اور غلامی ہمارا مقدر بنے گی۔

    اللہ ملک پاکستان اور تمام عالم کے مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور کشمیر کو جلد از جلد آزادی کی خوشیاں نصیب فرمائیں آمین یا رب العالمین-

  • کرونا……ختم نیئں جے ہونا    تحریر: عظمیٰ ربانی

    کرونا……ختم نیئں جے ہونا تحریر: عظمیٰ ربانی

    کرونا……ختم نیئں جے ہونا
    تحریر: عظمیٰ ربانی

    سوچوں میں گم… بغیر بستر کے بان کی چارپائی پر لیٹے باباجی کو بہو نے آ کر ہلا دیا- اور سودے کی لمبی لسٹ انہیں تھماتے ہوئےبولی.اباجی! کچھ مہمان انے والے ہیں- یہ سامان لا دیں- جو وہ پیسے دے رہی تھی وہ اس لسٹ کے حساب سے دکھائی دے رہے تھے- مہمان جو کبھی رحمت لگتے تھے اب زحمت لگ رہے تھے-
    نہ چاہتے ہوئے بھی بابا جی اٹھے اپنے گھسے ہوئے سیلپر پہن کر دروازے کی طرف بڑھے-
    اور پہنچ کر سب سے پہلے گوشت لینے کی باری آئی- گوشت کتنے کا بھائی!…. 360 روپے….. اتنا مہنگا….. اچھا ادھا کلو کر دو! گوشت ختم ہو گیا ہے دوکاندار نے دور سے ہاتھ ہلایا جبکہ سامنے پڑا ہوا گوشت صاف دکھائی دے رہا تھا- پھر پھرا کے دوکاندار کو ترس آ گیا- جب اس نے باباجی کو چھچھڑے اور چربی ملا کر پکڑایا تو وہ دکھ سے بولے،
    ،کرونا…..ختم نئیں جے ہونا
    پھل لینے کی باری تھی- ایک پھل فروش 40 روپے پاو، آڑو اور دوسرا 60 روپے – اس طرح وہ ایک کلو کی مد میں 80 زائد کما رہا تھا- باباجی کے استفسار پر ڈھٹائی سے کہنے لگا کسی اور سے لے لیں میں نے تو اتنے کے ہی بیچنے ہیں، باباجی پاس سے گزرتے ہوئے بولے،
    "ایتھوں کرونا نئیں مک سکدا”
    پیاز لہسن کی باری تھی- پیاز لہسن پر اپنی پسند کی قمتیں لگائے دوکاندار خوف خدا سے عاری تھے- بلخصوص ٹماٹر کی 250، 300 روپے کے ہوشربا اضافے کے ساتھ- باباجی کے بوڑھے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا – وہ سبزی خریدے بغیر وہاں سے چل دیئےاور کانوں کو ہاتھ لگا کر بولے
    کرونا….. ختم نئیں جے ہونا
    لوگ باباجی کی عمیق سوچ سے بے نیاز حیرانگی، طنز اور غصے سے انہیں دیکھے جا رہے تھے-
    لسٹ کھولی تو 2 کلو آٹا ابھی باقی تھا- آٹے کو ہاتھ ڈالتے ہوئے بھی دل رونے لگا- گزشتہ روز کی نسبت 40 روپے زیادہ دے کر آٹا خریدا اور ساتھ ہی خیال آیا غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھنینے میں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کا اپنا بھی ہاتھ ہے
    "جس کی لاٹھی اس کی بھنیس” کے مصداق ہر کوئی ایک دوسرے کو ہانکے جا رہے ہیں- دل سے آہ نکلی
    کرونا……. کیسے ختم ہوگا؟؟؟
    تھکے ہوئے قدموں سے گھر کی راہ لی – نامکمل سودے پر بہو کی کڑوی کسیلی باتیں بھی سنیں- اپنا دھیان بٹانے کے لیے Tv آون کیا…..
    ، کراچی کے پرائیویٹ ہسپتال میں کرونا سے سات لاکھ لیے گئے-
    , کرونا سے مرنے والے کی لاش 5 لاکھ میں لواحقین کے سپرد-
    ،پلازمی عطیہ کرنے کی بجائے 1 لاکھ میں فروخت-
    باباجی نے ٹھک کر کے ٹی وی بند کیا بستر سے اترے دونوں بازوں اوپر کر کے ہذیانی کیفیت سے بولے-
    کرونا……ختم نئیں جے ہونا-

  • حاکمِ ریاستِ مدینہ، عمران خان صاحب کے نام کھلا خط خان صاحب! کس راہ پر ؟  تحریر: عشاء نعیم

    حاکمِ ریاستِ مدینہ، عمران خان صاحب کے نام کھلا خط خان صاحب! کس راہ پر ؟ تحریر: عشاء نعیم

    حاکمِ ریاستِ مدینہ، عمران خان صاحب کے نام کھلا خط
    خان صاحب! کس راہ پر ؟
    تحریر: عشاء نعیم

    ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہی
    ملک ترقی کر رہا ہے یا تنزلی؟
    اسلام کی راہ پہ چل پڑا ہے یا کفارمکہ کی؟
    بھارت کے ساتھ دوستی ہے یا دشمنی؟
    چائنہ کے ساتھ اندر ہی اندر کچھ طے ہے یا بھارت کے ساتھ ؟
    امریکہ کی نظر میں سرخرو ہو گئے ہیں یا ابھی زیر عتاب ہیں؟
    یو این او ہم سے خوش ہے یا ناراض؟
    ایف اے ٹی ایف والے ہمارے کارناموں پہ ہمیں داد تحسین دے رہے ہیں یا ڈو مور کا مطالبہ جاری ہے ؟
    جی ہاں! 2018 کے الیکشن میں جس پارٹی کی ہر طرف دھوم تھی ،جس سے پوری قوم کی امیدیں تھیں
    جو کرپشن سے پاک (اگرچہ انھیں کرپٹ پارٹیوں کے لوٹوں کی بھرمار ہے اس میں بھی )
    ہے اور کرپشن کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہے ۔
    محب وطن ہے ۔محب وطنوں کی حفاظت کے نعرے لگے ۔
    تو دین اسلام کی حفاظت کی قسمیں کھائی گئیں ۔
    اسلام پسندوں کو ساتھ کا یقین دلایا گیا ،بھارت کو دشمن قرار دیا گیا ۔
    مودی کو کشمیر کا دشمن قرار دیا گیا
    عوام کو سکون دینے ،مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی گئی ۔
    غیروں کی غلامی سے نجات کے مژدے سنائے گئے تو چند ماہ میں کشکول توڑنے کے خواب بھی دکھائے گئے ۔
    ملک کو ایک جدید اسلامی ریاست بنانے کے خواب بھی خوب دکھائے گئے ۔
    پھر یہ پارٹی اقتدار میں آ گئی تو اس کا سب سے خوبصورت نعرہ تھا "پاکستان ثانی مدینہ ہے ”
    اس نعرے نے پاکستان کی چونکہ اکثریت مسلمان اور اسلام پسند ہے سو ہر ایک کا دل جیت لیا ۔
    کیونکہ اس ایک نعرے میں ہر وعدہ سمٹ گیا ،اسلامی ریاست ،ترقی یافتہ ،اقلیتوں کے حقوق کی پاسدار ، عیش و عشرت سے بیزار ،خدمت کے جذبے سے آشنا، انسانی حقوق کی علمبردار غرض کچھ بھی نہ بچتا تھا جو اس نعرے میں نہ سمٹتا ۔
    کیونکہ ریاست مدینہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاست تھی جس میں ذرا نقص تو کیا جتنی پھیلی انسانیت کو سکون ملتا چلا گیا ،ظلم کے اندھیرے چھٹتے چلے گئے۔
    (اور جب سے ریاست مدینہ کو سمیٹ دیا گیا ، راہ بدل دی گئی، گھٹا ٹوپ اندھیرے ہیں ،انسانیت سسک رہی ہے)۔
    پھر وقت گزرتا رہا ،خان صاحب کی مسز نے پردہ کیا، کہیں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا ،کہیں اسلام کی ایسی تصویر دنیا کو دکھائی کہ دنیا گنگ ہوگئی ،کہیں دنیا کو للکارہ کہ تم ہمیں مارو گے تو ہم بھی ماریں گے لڑیں گے چاہے شہید ہو جائیں ۔
    لگنے لگا قائد اعظم اور ضیاء الحق کے بعد پاکستان کو اب مسلمان وزیر اعظم ملا ہے ۔
    پوری قوم دیوانی ہو گئی ۔مخالفین کے منہ بند ہو گئے ۔
    پھر وقت گزرا اور مہنگائی نے طوفان اٹھایا قوم کو کہا گیا کچھ عرصہ وطن کی خاطر سہہ لو ۔
    قوم قربانی کو تیار ہو گئی ۔
    وقت گزرا اور پتہ چلا کسی عورت نے گستاخی رسول کا ارتکاب کیا ہے ۔
    5 جگہ جرم چابت ہونے والی آسیہ مسیح اچانک بے قصور ثابت ہو گئی اور وہ رہا ہو کر فالسے چننے والی کینیڈا پرواز کر گئی ۔
    کشمیریوں کے جذبات کو سلام پیش کیا جاتا تھا ،مودی کو ظالم جابر کہا جاتا تھا کہ
    5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی خان صاحب کی طرف سے بڑی آس تھی شاید فوجیں ہی اتار دیں ۔
    لیکن قوم پورا ایک دن نگاہیں لگا کر بیٹھی رہی کہ خان صاحب کی آنکھ کھلی اور تقریر کر ڈالی کہ اگر آزاد کشمیر کو میلی آنکھ سے دیکھا تو لگا پتہ دیں گے ۔
    گویا جموں کشمیر کی اور بات ہے ۔
    اس پہ چند الفاظ سازی کے سوا کچھ نہ کیا ،اور کرفیو لگے ،نٹ بند کئے مہینوں گزر گئے لیکن خان خاموش ہے ۔
    پھر آئے دن قادیانی سر اٹھانے لگے ۔
    کہیں وزیر بنانے کی کوشش، تو نہیں نصاب سے ختم نبوت کے الفاظ نکال دئیے گئے ۔
    شور مچانے پہ کچھ الفاظ کو پھر سے داخل کیا گیا ۔
    وقت اور گزرا اور ملک کی سب سےزیادہ محب وطن اور امن پسند جماعت ،جس کے سربراہ نے ہمیشہ اپنے کارکنان کو ملک میں امن قائم کرنے کا پابند کیا ،جس نے فتنہ خارج کے خلاف کئی کتابیں لکھیں، جس نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ،جس نے ہمیشہ انسانیت کا درس دیا ، ملک میں تعلیم عام کی اور جگہ جگہ سکول بنائے۔
    اس کے علاوہ ایک فلاحی تنظیم بنائی جو اس قدر تیز رفتار تھی کہ ہر مصیبت میں فوج سے بھی پہلے پہنچ جاتی تھی ۔اور جس کی کاوشوں کا اعتراف یو این نے بھی کیا ۔
    اس شخص کو جو کفار کی آنکھ کا کانٹا ہی اپنی حب الوطنی اور انسانیت پسندی کی بنیاد پہ تھا ،نظر بند کردیا ،علما کی پکڑ دھکڑ شروع کردی ۔
    اور باقاعدہ اس جماعت کو دہشت گردی کے الزامات لگا کر جرمانہ بھی کیا اور گرفتاریاں بھی کیں،جس جماعت کے خلاف دیگر پارٹی میں کوئی بات کرتا تھا تو اسے انتہائی غیر ذمہ دار اور برا سمجھا جاتا تھا ۔
    مزید کچھ دن پہلے اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ۔
    اس بہت بحث ہو رہی ہے ۔( پشاور میں بھی پرانے مندر خو پوجا پاٹ کے لیے کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے)
    اب دیکھا جائے جو مسلمان بتوں کی پوجا کو گناہ کبیرہ قرار دیتا ہے ،جو مسلمان اٹھا ہی بتوں کی پوجا کے خلاف تھا ،جس نے سن سے پہلے نعرہ ہی لا الہ الا اللہ لگایا ۔جو زیر عتاب ہی لا الہ الا اللہ کی وجہ سے ہوا ،جس نے بتایا کہ پتھروں کی غلامی سے نکل کر اللہ واحد کی عبادت کرو جو خالق کائنات ہے ۔
    جس کے پیروکار تپتی دھوپ میں صحرا کی ریت میں اوپر پھر پڑے ہونے پہ بھی
    احد ،احد ‘ کہیں، وہ کس طرح بتوں کی پوجا کے لئے جگہ یا پیسہ مہیا کر سکتا ہے ؟
    مذہب اسلام انسان کو ہر غلامی سے نکال کر صرف رب واحد کے سامنے جھکنے کا درس دیتا ہے ۔
    سو اسلام میں بتوں کی پوجا حرام ہے ۔
    اب حرام کام کے لئے کوئی مسلمان حکمران نہ تو پیسہ دیتا ہے نہ ہی جگہ ۔
    بلکہ مسلمان جہاں جہاں گئے انھوں نے بت کدوں کو مسمار کیا یا مساجد میں تبدیل کردیا ۔تاکہ انسان اپنے ہی ہاتھ کے تراشے گئے پتھروں کے سامنے جھک کر اپنی توہین نہ کرے ۔
    البتہ جہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی وہاں ان کے عبادت خانے محفوظ رہنے دئیے ۔
    مسلمان ملک میں غیر مسلم کو بھی اپنے طریقے سے عبادت کرنے کا حق حاصل ہے لیکن ایک تو وہ سرعام عبادت یا تبلیغ نہیں کر سکتے دوسرا وہ سب اپنے پیسے سے سن کر سکتے ہیں،مسلمانوں کے پیسے خرچ نہیں ہو سکتے ۔
    علما کرام بھی اس پہ فتوی دے چکے ہیں کہ وہ خود کچھ کر سکتے ہیں لیکن مسلمان ملک کا حکمران پیسہ نہیں دے گا ۔
    ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا کہ اسلام آباد میں ہی ایک پچیس سال سے تعمیر شدہ مسجد کو یہ کہہ کر مسمار کرنا شروع کردیا گیا کہ یہ غیر قانونی ہے ۔
    جبکہ مندر کی جگہ کے بارے میں بھی یہ معاملہ ہے کہ وہ جگہ مسلمانوں کی ہے ۔
    جبکہ مسجد کی جگہ کا کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت کی ہے ۔
    کیا حکومت مسجد کے لئے یہ چند کنال جگہ نہیں دے سکتی؟
    جبکہ حکومتی وزراء کے اللے تللے بھی سب کو پتہ ہے کہ کس قدر سن وزراء پہ پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ ایک ایک وزیر کروڑوں روپے میں پڑتا ہے اس غریب عوام کو ۔
    اور مسجد کی تعمیر کے بارے میں مسلمان کے لیے جنت میں محل کی خوش خبری ہے تو کیا اس کی شہادت اپنے ہی ہاتھوں کریں مسلمان تو اس کا عذاب نہ اترے گا ؟
    کیا اللہ واحد کی عبادت کی جگہ جہاں رحمت کے فرشتے اترتے ہیں، جہاں پانچ وقت موذن اذان دے کر لوگوں کو اللہ کی عبادت اور فلاح کی طرف بلاتا ہے ،جہاں پانچ وقت رب کو سجدہ کیا جاتا ہے اور اسی کو پکارا جاتا ہے اس عمارت کو ڈھانا اتنا ہی عام ہے ؟
    جبکہ مندر غیر ضروری بھی ہے کیونکہ چند ہندو آباد ہیں اسلام آباد میں، اور اسلام میں یہ حکومت کے لیے جائز بھی نہیں ہے ۔پھر کیوں یہ حکومت ان کے غم میں گھلی جاتی ہے ؟
    خدارا ! خان صاحب ہوش کے ناخن لیں اور اپنی راہ سیدھی کریں ۔
    شاید آپ گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے سب کر رہے ہیں تو یاد رکھیں جب تک آپ مسلمان ہیں ان کے نزدیک گرے تو کیا بلیک لسٹ ہی رہیں گے ۔
    کیونکہ اللہ نے ہمیں بتادیا کے یہ کبھی تم سے خوش نہ ہوں گے حتی کہ تم ان کا دین اختیار کر لو۔
    اور یہ بھی کہ یہ کفار سب ایک ہیں تمہارے خلاف ۔
    سو اس رب کے سامنے جھکیں جو اقتدار اور ملک دے بھی سکتا ہے چھین بھی سکتا ہے ۔
    اسی کا بتایا ہوا نظام ہے اسلامی نظام
    اسی کے نام پہ ملک بنا ،اسی کے نظام پہ چلائیے ۔اقلیتوں کو ضرور ان کے حقوق دیجئے لیکن اتنے ہی جتنے اس خالق کائنات نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتائے ہیں ۔
    بیرونی آقاوں کو اتنا ہی راضی کیجئے کہ اسلام اور ملک پہ گزند نہ آئے ۔ورنہ وہ سب اکٹھے بھی ہو جائیں تو یاد رکھیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جب تک وہ رب آپ کے ساتھ ہوگا ۔
    مساجد کی شہادت سے باز رہیں، مندر کی تعمیر سے بھی رک جائیے اور علما کو رہا کیجئے۔
    اللہ کی رحمتیں برسیں گی ۔ملک ترقی کرے گا کوئی نہ روک پائے گا ۔اللہ آپ کو بھی عزت دے گا ۔ان شا اللہ
    اللہ رب العزت آپ کو عمر فاروق رضی اللہ کی براہ پہ چلائے ۔
    آمین

  • ماضی میں اقربا پروری سے تنگ آکر اداکاری چھوڑی تھی    سیلینا جیٹلی

    ماضی میں اقربا پروری سے تنگ آکر اداکاری چھوڑی تھی سیلینا جیٹلی

    گذشتہ ماہ 14 جون کو 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سے شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری اور ڈپریشن کے باعث خودکشی پر بحث چل رہی ہے اور ہر اداکار جو اقربا پرور کا شکار ہو چکا ہے اس پر کھل کر بات کر رہا ہے بھارتی سابق اداکارہ 38 سالہ سیلینا جیٹلی کا کہنا ہے کہ بالی وڈ انڈسٹری میں اقربا پروری کے روئیے سے تنگ آ کر انہوں نے فلم انڈسٹری چھوڑ دی تھی۔

    باغی ٹی وی : سابق بھارتی اداکارہ و ماڈل سیلینا جیٹلی نے بھارتی ویب سائٹ ’ ہندوستان ٹائمز ‘ کو حال ہی میں دیئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں اچھے کردار اور اچھی فلمیں معروف اور سینئر فنکاروں کے بچوں کو دے دی جاتی ہیں اس لیے اقربا پروری کے اس رویئے سے تنگ آ کر انہوں نے فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیا ر کر لی تھی-

    سیلینا جیٹلی نے کہا کہ انڈسٹری سے باہر سے ہونے کی وجہ سے اُن کے کیریئر کے آغاز میں انہیں بس سپورٹنگ کردار دیئے گئے اور مرکزی کرادر دینے سے انکار کر دیا گیا تھا –

    انہوں نے کہا کہ وہ سائیڈ رول ادا کر کے تنگ آ چکی تھیں اور مزید سائیڈ رول نہیں کرنا چاہتی تھیں وہ بس اسکرین پر اچھا دکھنا نہیں چاہتی تھیں ، ایک با صلاحیت اداکارہ ہونے کی وجہ سے وہ اداکاری کو ترجیح دیتی ہیں بس اسکرین پر نظر آنا اُن کا مقصد نہیں ہے

    سیلینا نے کہا کہ اس انڈسٹری کا یہ حال ہے کہ اگر آپ پڑھنے کے لیے اسکرپٹ مانگ لیں تو لوگ برا منا جاتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو بہت بڑی اداکارہ سمجھتی ہے-

    واضح رہے کہ سیلینا جیٹلی 2001ء میں مس انڈیا کا ٹائٹل جیت چکی ہیں اور 2001ء ہی میں مِس یونیورس کے مقابلوں میں چوتھی پوزیشن حاصل کر کے رنر اپ قرار پائی تھیں-

    سیلینا کا کہنا ہے کہ وہ ایک آرمی آفیسر کی بیٹی ہیں اُن کے لیے ہار ماننا یا ہمت ہار کر کسی چیز سے بھاگ جانا نا ممکن سی بات ہے وہ ایک اداکارہ ہونے کے ناطے اور بھی بہت کچھ ہیں –

    پریانکا چوپڑا نے بھی نیپوٹزم کے خلاف آواز بُلند کر دی

    بالی وڈ انڈسٹری میں تخلیقی صلاحیتوں کو وہ لوگ کنٹرول کررہے ہیں جنہیں تخلیق کا مطلب بھی نہیں پتہ یا پھر وہ خدا بننے کی کوشش کرررہے ہیں عدنان سمیع خان

    اقربا پروری ہمیشہ ہی رہے گی اور بالی وڈ میں میرا وجود ہی اقربا پروری کو چیلنج ہے منوج باجپائی

  • بہت کم وقت میں  اداکاری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے احد رضا نقل اتارنے میں بھی ماہر نکلے

    بہت کم وقت میں اداکاری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے احد رضا نقل اتارنے میں بھی ماہر نکلے

    پاکستان ٹی وی انڈسٹری کے معروف اداکار احد رضا میر نے بہت کم وقت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے تاہم اداکاری سمیت دوسروں کی نقل اتارنے میں بھی ماہر نکلے-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں احد رضا میر نے ایک ٹا ک شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے سوالات کے جواب دلچسپ دیئے انٹر ویو کے دوران میزبان نے اداکار کو نقل اتارنے کو کہا جو انہوں نے اتنی مہارت نقل اتاری کہ سب حیران رہ گئے-
    https://www.instagram.com/p/CBqeVhBF22s/?igshid=107zcywd83qke
    شو کے میزبان کی جانب سے احد رضا میر سے کہا گیا کہ وہ سجل علی، ہانیہ عامر، حمزہ علی عباسی، اور کبریٰ خان کی طرح بول کر دکھائیں ۔

    احد رضا میر نے حمزہ علی عباسی کی سلجھے ہوئے انداز میں ہو بہو آواز نکال کر سب کو حیران کر دیا ، سجل علی کی نقل اتارتے ہوئے احد رضا نے سلجھا ہوا رویہ اختیا ر کیا ۔

    اسی طرح ہانیہ عامر کی نقل اتارتے ہوئے احد رضا میر نے خوب لہک لہک کر اور پر جوش انداز میں جملے بولے جبکہ کبری کی خان کی نقل اتارت ہوئے احد رضا نے انگریزی لہجہ اختیار کیا اس سب کے دوران شو کا میزبان بھی ہنستے رہے-

    واضح رہے کہ اداکار احد رضا اور اداکارہ سجل علی نے رواں سال مارچ میں لاک ڈاؤن کے دوران شادی ابو ظہبی میں کر لی تھی۔

  • سائرہ یوسف نے ہالی وڈ فلم میں کام کرنے کی آفر کیوں ٹھکرائی؟

    سائرہ یوسف نے ہالی وڈ فلم میں کام کرنے کی آفر کیوں ٹھکرائی؟

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اور پُرکشش اداکارہ و ماڈل 32 سالہ سائرہ یوسف کا کہنا ہے کہ انہوں نےبولڈ سین کی وجہ سے ہالی وڈ کی آفر ٹھکرادی تھی ۔

    باغی ٹی وی : سائرہ یوسف نے پاکستان کے معروف ڈیزائنر ایچ ایس وائے کے ٹاک شو ’ ٹونائٹ ود ایچ ایس وائے‘ میں شرکت کی، اس دوران انہوں نے دلچسپ موضوعات پر بات کی اور اپنی زندگی کے بارے میں باتیں کچھ شئیر کیں-
    https://www.instagram.com/p/CCDl5LSlIce/?igshid=ot90cofqvfuc
    انٹرویو کے دوران ایچ ایس وائے نے سائرہ یوسف سے سوال کیا کہ کیا سچ میں آپ کو ہالی وڈ کی کسی فلم میں کوئی آفر ہوئی تھی اور آپ نے انکار کردیا ؟

    اداکارہ سائرہ یوسف کا جواب میں کہنا تھا کہ اُنہیں ہالی وڈ کی ایک فلم کی آفر آئی تھی اسکرپٹ ملنے پر اُنہیں معلوم ہوا کے اُن کا کردار بولڈ ہے اس لیے اُنہیں یہ آفر ٹھکرانی پڑی ۔

    اداکارہ نے کہا اُنہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی کردار ادا کرنے کے لیے بولڈ ہونا لازمی ہے۔

    واضح رہے کہ سائرہ یوسف کی شادی شہروز سبز واری سے ہوئی تھی ان کی ایک بیٹی ’نورے‘ ہےرواں سال مارچ کے مہینے میں مقبول شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف شادی کے 8 برس بعد علیحدگی اختیار کر لی تھی-

    شہروز ، سائرہ اور صدف کے بیچ اصل کہانی کیا ہے، پڑھیے اس خبر میں

    سائرہ اور شہروز سبزواری نے سوشل میڈیا پراپنی طلاق کی تصدیق کر دی

    شہروز سبزواری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں صدف کنول نے افواہوں کی تردید کر دی

    صدف کنول سے صدف سبزواری تک کا سفر