موبائل فون کے سنگ سفر…!!![طنز و مزاح]
(تحریر:جویریہ بتول)۔
(نوٹ:یہ تحریر حس لطافت کے پیرائے میں مزاح و اصلاح کی ایک کاوش ہے)۔
ایک وقت تھا جب ہم سکول جاتے تھے تو جب ٹیچرز کو گھر میں کسی سے رابطہ کرنے کے لیئے کوئی سورس چاہیئے ہوتا تھا تو محلے کے کسی گھرانے کا نمبر دیا جاتا تھا، وہاں سے پیغام گھر پہنچتا ہے۔
تب کی پیڈ موبائل نئے نئے دیہات تک پہنچنا شروع ہوئے تھے۔
آہستہ آہستہ پاکستان نے ترقی کے مدارج طے کیئے اور سیل فون ہر گھر اور پھر گھر کے ہر فرد کی ضرورت بن گیا،چاہے وہ چھوٹا تھا یا بڑا…
پڑھا لکھا تھا یا اَن پڑھ…
وسیع رابطوں والا تھا کہ محدود…
ہمارے گھر بھی جب کی پیڈ موبائل نے انٹری کی تو پہلے پہل تو اتنا ڈر لگتا تھا کہ پتہ نہیں اس کو ہاتھ لگ گیا تو کچھ غلط نہ ہو جائے،
بلکہ سیل کسی اونچی جگہ رکھا جاتا تھا کہ گھر کے بچے اور بالخصوص بچیاں اس سے دور ہی رہیں…
الحمدللہ ہر کام کو فوراً سمجھ لینے کی صلاحیت کے باوجود مجھے سیل فون کی بہت کم ہی سمجھ آتی تھی۔
شروع شروع میں لوگ مس بیل دینا ایک فیشن سمجھتے تھے،
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شعور نے باور کرایا کہ یہ اولڈ فیشن بن چکا ہے،اب مس کال بھلا کون دیتا ہے؟
جب ایس ایم ایس کا سلسلہ شروع ہوا تو گھر کے سیل پر آئے کمپنی کے میسیجز اوپن کرنا رسک لگتا تھا…
ہم کبھی دیکھتے،کہ کھول کر دیکھیں مگر کس بٹن کو دبانا ہے،اندازہ نہیں ہوتا تھا۔
یوں وہ ایک چھوٹا سا خط جو سکرین پر جھلملاتا رہتا تھا،
کبھی مٹ نہ پاتا کیونکہ جب تک میسیجز پڑھ کر ان بکس میں یا ڈیلیٹ نہ کیئے جاتے،اسے تو بہر حال اپنا دیدار کراتے رہنا تھا۔
وقت گزرتا گیا کہ گھر کے لیئے ایک الگ سیل لایا گیا جو گھر میں ہی رہنا تھا…
اچانک ایک دن کسی ضروری کال کے لیئے ٹرائی کیا گیا تو بیلنس ناکافی تھا…
اب مسئلہ یہ تھا کہ بیلنس ری چارج کیسے کیا جائے؟
کارڈ کیسے اسکریچ کرتے ہیں اور کوڈ کونسا لگانا پڑتا ہے…؟
والدہ کو منایا کہ آپ سیل سمیت دکان پر جائیں اور بیلنس چارج کروا لائیں…
پھر کسی نے معلومات میں اضافہ کیا کہ اب گھر بیٹھے ایزی لوڈ بھی کروا سکتے ہیں…
لیکن دکاندار کو نمبر بتانا پڑے گا…؟
چلیں اس چیز کو رہنے دیا جائے اور خود ہی ری چارج کر لیا جائے…
ہر ایسی کیفیت میں مجھے وہ آنٹی یاد آتیں کہ جن کے بیٹے نے پہلے پہل جب کی پیڈ موبائل لیا تھا،
تو ایک دن کہنے لگیں کہ وہ سیکھنے جاتا ہے کسی کے پاس کہ کیسے کال کرتے اور سنتے ہیں،ایس ایم ایس وغیرہ…
تب ہمارے ہونٹوں پر بے اختیار ہنسی مچلتی اور اندازِ بے نیازی سے دل میں کہتے ارے یہ بھی کوئی سیکھنے والی بات ہے؟
لیکن حالات کی ستم ظریفی نے ہمیں کارڈ اسکریچ کرنا بھی سکھا دیا…
ایک دن ایک سہیلی کو کال کی تو کالر ٹیون اسماء الحسنیٰ کی سیٹ تھی،ہمارے معصوم دل میں بھی خواہش اُبھری کہ ہم بھی یہ کالر ٹیون سیٹ کریں…
لوگ تو انڈین سانگز لگاتے ہیں…
اب مرحلہ ٹیون سیٹنگ کا تھا…
جس کے لیئے بیلنس چاہیئے تھا،ہم نے سو روپے کا اس وقت میں چارج کروا کر جب لوگ بیس کے ایزی لوڈ میں بھی کام چلا لیتے تھے،کالر ٹیون سیٹ کرنا چاہی…
ٹیون کیا سیٹ کی کہ صرف پسند کرتے کرتے ہی کہ کون سی سیٹ کرنی چاہیئے،سنتے سنتے سو روپیہ اُڑ گیا…
جبکہ ٹیون سیٹنگ کے لیئے تو صرف بارہ روپے چاہیئے تھے…
اب تقریباً رونی شکل بنا کر والدہ کی مجلس میں پہنچ کر روداد سنائی تو ماں نے ممتا کا اظہار کرتے ہوئے تسلی دی کہ میں اپنی بیٹی کو اور کارڈ منگوا دیتی ہوں،پریشانی کی کونسی بات ہے…
پھر جب میسیجز ٹائپ کرنے کا طریقہ سیکھ لیا تو سادگی کا یہ عالم تھا کہ سالوں بغیر کسی پیکج کے بیلنس پھونکتے ہوئے سہیلیوں کو جواب دیا جاتا تھا کہ دن کے اینڈ تک بیلنس پھر ریڈ جھنڈی دکھا کر رخصت ہو جاتا…
کُچھ عرصہ بعد یہ عقدہ ہم پر بھی کھلا کہ پیکج کر لینے سے میسیجز زیادہ بھی ہو جاتے ہیں اور خرچ بھی کم…
مگر وہ تو میسیج کرو نہ کرو،
پیکج اپ ڈیٹ ہو کر بیلنس کو چاٹتا ہی جاتا، ہم نے بھلا اتنے میسیجز کہاں کرنے ہیں؟
جبکہ پیکج کے علاوہ دس روپے بھی ہوں تو محفوظ تو رہتے ہیں…
بجٹ اور بچے پر دل میں بحث ہوتی تھی…
کال پہ بات کرنے کی تو ہمت تو خیر آج تک بھی بہت کم آئی ہے…
کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کوئی ان ناؤن نمبر آتا تو ڈیوٹی بڑھ جاتی کہ پہلے ڈائری کی ورق گردانی شروع ہو جاتی کہ آیا یہ نمبر ڈائری میں موجود ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں تو چاہے کوئی قریبی رشتہ دار ہی تڑپ جاتا،کال ریسیو نہیں کرنی…
مطلب احتیاط کی حد تھی…
پھر یہی ہوتا کہ اکثر شکوے آ جاتے کہ کال ریسیو نہیں کی…!!!
بس ضرورت کی بات کو لازمًا ریسپانڈ کرنا ہوتا تھا…!!!
وقت کا پہیہ چلتا رہا…
کانوں میں گونج پڑتی وٹس ایپ،فیس بک…
اب پتہ نہیں یہ کیا بلا اور ترقی کا کوئی بہت ہی اونچا زینہ ہے شاید؟
دل ہی دل میں سوچتے…
اچھا یہ کی پیڈ میں بھی چلتے ہیں؟
جی نہیں اس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری ہے…
اچھا…
ہم معصومیت سے جواب دیتے…
آہستہ آہستہ واٹس ایپ اور فیس بک نے بھی قدم جمانے شروع کیئے اور شہروں سے دیہات تک یہ ایپس پہنچنے لگیں تو…
اب مسئلہ اینڈرائڈ موبائل ہونا ضروری تھا…
ایک دم اتنی بڑی فرمائش ظاہر ہے چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف تھی اور پھر پندرہ سے بیس ہزار کا سیٹ ایک دم سے ممکن ہو بھی سکتا تھا،نہیں بھی…
اور وہ بھی بچوں کے لیئے جن کی تربیت سنجیدگی کے اصولوں پر ہوئی ہو…
جب بھی کہیں لکھنے کے حوالے سے بات ہوتی تو ہر ذمہ دار کی طرف سے یہ مشورہ ضرور سننے کو ملتا کہ آپ لکھ کر واٹس ایپ کر دیں…
اب واٹس ایپ ہماری بلا سے…
لکھنا تو ہے چاہے جیسے بھی ممکن ہو…
طویل عرصہ ہمارا اور ڈاک کا تعلق قائم رہا…
ہم نے اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کر کے رکھنا اور بھائی کو شہر کی طرف جاتے دیکھ کر آہستگی سے نکالنا…
کبھی منتوں ترلوں تک بھی نوبت جاتی تھی لیکن صد شکر کہ فرمائش کبھی مسترد نہیں کی گئی…
اب ہمارے اس شوق کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے گلو خلاصی کروانے کا ایک یہی آپشن باقی تھا کہ اب آپ آرام سے ادب تحریر کر کے بھیج دیا کرو…جس کے لیئے اینڈرائڈ موبائل ہمیں تحفہ میں ملا…
اچھا بھائی اب اس پہ تو واٹس ایپ ہو جائے گی ناں؟
اور فیس بک بھی؟
بھائی پیار و ڈانٹ کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھتے کہ شریف لڑکیوں کے لیئے فیس بک پہ ہونا کوئی ضروری چیز بھی نہیں ہے اب…!!!
اچھا کیوں اگر مثبت استعمال کی جائے تب بھی…؟
ہم آگے سے خاموشی پا کر دل مسوس کر رہ جاتے کہ لگتا ہے گزارہ اب ایک ہی ایپ پہ کرنا پڑے گا…!!!
ارے یہ انسٹا کیا ہے؟
اور IMO اور BOTIM کیا چیز ہیں؟
ایک دن بہت ہی پیاری دوست سے پوچھ ہی لیا…
تب جواب نے مجھے ہنسی کے سمندر میں غوطہ زن کر دیا کہ بہنا یہ ان کے لیئے ہے جو جانو وانو پہ مریں اور دوری کی وجہ سے بآسانی باہر بھی بات کر سکیں…
اچھا یہ تو پھر بالکل ہی غیر اہم ہیں اور میرے شیڈول میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے…!!!
یو ٹیوب پر تو کچھ دیکھ لینا چاہیئے،کیا مشورہ دیتی ہیں آپ؟
ایک فرینڈ سے مشورہ کیا…
ہاں یو ٹیوب پر کافی فائدہ مند مواد اور وڈیوز ہیں، آپ دیکھ لیا کریں…
اچھا کوئی پیکج کا طریقہ بتا دیں…؟
ہم پاکٹ منی کی ایک خطیر رقم خرچ کر کے ابھی پیکج کا طریقہ آنے کے انتظار میں تھے کہ اتنی دیر میں بیلنس ہوا ہو چکا تھا…!!!
دل گھبرایا کہ ایپس کے لنڈا بازار میں گھومنا ہم جیسوں کے بس کی بات نہیں ہے جنہوں نے ہماری زندگی میں داخل ہو کر ہمیں عبادات،رشتوں اور حقیقی کردار سے یقیناً دور کر دیا ہے…
اب ہماری خوشی،غم،پیار اور نفرت بھی فیس بک،اور ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ہی گھومتے ہیں…
نیٹ کی سپیڈ 4G نے آسانیاں بھی بہت کر دی ہیں ہر میدان میں…!!!
آہ…!!!
مگرہم زندگی کی فطری اور حقیقی خوشیوں سے بہت دور صرف تنہائی کا شکار ہو کر سکرین پر محبتیں اور رشتے ڈھونڈتے رہ گئے ہیں؟
گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی اجنبی بن چکے ہیں؟
اک گہرے درد نے انگڑائی لی…
یہ سب بے شک ضروری تو ہے…
مگر اسے ضرورت ہی سمجھیئے…
اس سب کو اپنی زندگی کے حقیقی مقاصد پر کبھی اثر انداز نہ ہونے دیجیئے اور کھوکھلی اور مصنوعی نگوں کی ریزہ کاری کے خول سے کبھی باہر نکل کر قدرت کی ٹھنڈی اور تازہ فضا میں بھی سانس لیتے رہنا چاہیئے…
کہ یہ بھی زندگی کے لیئے بہت ضروری ہے…!!!
،اپنی آنکھوں کے گرد پھیلتے سیاہ حلقوں اور اتری رنگت کا بھی خیال کر لیا کیجیئے…
اپنی پُر سکون نیند کو محض وقت گزاری اور فریب کی نذر نہ کر دیا کیجیئے کہ آج کی نوجوان نسل کے اس رویّے نے بڑے بزرگوں کو ایک سنجیدہ تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے…!!!
مثبت استعمال کیجیئے مگر وہ بھی ایک حد تک…
قانونِ فطرت کے دائرہ میں رہتے ہوئے…
ایک ترتیب اور نظم و ضبط کے ساتھ…
اپنے اہم اور ضروری فرائض کی بجا آوری کے بعد…!!!!
کہ زندگی بہت ہی مختصر اور آگے سفر بڑا طویل ہے…
کہیں ہم ظاہریت کو سجاتے ہوئے باطن کو داغدار اور بے وقعت تو نہیں کر رہے؟
=============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
Author: عائشہ ذوالفقار
-

موبائل فون کے سنگ سفر…!!!طنز و مزاح تحریر:جویریہ بتول
-

ارطغرل غازی میں آپ کو جو کچھ نظر آتا ہے وہ درحقیقت میری اندر کی دُنیا ہے مصنف مہمت بوزداع
ترک سپہ سالار ارطغرل غازی کی زندگی پر مبنی ڈرامہ ’دیریلش ارطغرل‘نے ریلیز ہونے کے بعد ترکی میں تو کامیابی حاصل کی اور نیٹ فلکس کے ذریعے یہ سیریز دنیا بھر میں مقبول ہوئی تاہم جب سے مذکورہ پاکستان میں ریلیز ہونا شروع ہوا ہے اس ڈرامے نے کامیابی کے سارے ریکارڈز توڑ دئیے ہیں۔
باغی ٹی وی : دیریلیس ارطغرل سلطنتِ عثمانیہ (موجودہ ترکی) کی اُس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے، جو سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان اوّل کے والد تھے اور نام ارطغرل تھا۔ انہیں غازی ارطغرل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ تاریخی ڈارما، ترکی میں سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی وَن پر پیش کیے گئے ڈرامے دیریلیس ارطغرل کا اُردو ترجمہ ہے، جس کا پہلا سیزن 2015ء میں پاکستان میں ایک نجی چینل پر پیش کیا جا چُکا ہے۔
تاہم اب وزیرِ اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر نئی اُردو ڈبنگ کے ساتھ یکم رمضان المبار ک 2020ء سے پی ٹی وی سے نشر کیا جارہا ہے اور اس کی کہانی اور کرداروں نے پاکستانیوں کو اپنے سحر میں اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ پاکستانیوں کی اس ڈرامے سے محبت کے چرچے دنیا بھر میں پھیل گئے ہیں۔
گزشتہ دِنوں پاکستانی اخبار جنگ نے اپنے سنڈے میگزین کے معروف ترین سلسلے ’’کہی اَن کہی‘‘ کے لیےڈرامہ سیریل ار طغرل غازی کے پروڈیوسر ،ڈ ائریکٹر اورڈرامانگار، مہمت بوزداع سےخصوصی بات چیت کی-
جنگ کے میزبان سے بات کرتے ہوئے مہمت بوزداع نے بتایا کہ ان کا تعلق ترکی کے ایک علاقے قیصری سے ہے،جہاں ان کا پورابچپن گزرا ان کے دادا حافظِ قرآن اور ایک مسجد کے پیش امام تھے،جب کہ چچا نے بھی دینی علوم کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ نیز، والدہ بھی خاصی مذہبی خاتون ہیں۔جب کہ انہوں نے تعلیم اسکاریہ یونی ورسٹی، ترکی(Sakarya University)سے حاصل کی ۔انہوں نےشعبۂ تاریخ میں گریجویشن کیا ہے۔
تاریخی ڈراموں کے اور دستاویزی فلموں کے سکرپٹ لکھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مہمت بوزداع نے کہا کہ انہیں کم عُمری ہی سے لکھنےلکھانے کا شوق تھا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا رہتے تھے۔ اور پھرانہیں ایک رات صوفی بزرگ، مفکّر و محقّق ابن العربی کو خواب میں دیکھا اور بس اُس خواب کے بعد میری زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔ مَیں باقاعدہ طور پر لکھنے لگا۔ بعد ازاں ،ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک کمپنی قائم کی، جس کے پلیٹ فارم سے دستاویزی فلمیں تیار کرنا شروع کیں اور یوں اس فیلڈ میں آگے بڑھتا چلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم نےیہ ڈرامہ سیریل بنانے کا ارادہ کیا، تو سب کا یہی خیال تھا کہ اِسےضرور پسند کیا جائے گا سے مُلکی ہی نہیں،بین الاقوامی سطح پر بھی پسندکیا جائے گا لیکن اس قدر مختصر مدّت میںیہ اس قدرمقبول ہوجائے گا، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ خاص طور پر پاکستان میں اس ڈرامے کی شہرت و مقبولیت تو ہمارے لیے بہت حیران کُن ہے۔
ڈرامے کے لئے قرآنی آیات اور احادیث کے انتخاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے مہمت نے بتایا کہ مجھے بچپن ہی سے دینی علوم سے شغف ہے۔ چار پانچ سال کی عُمر میں اپنے دادا کے ساتھ مسجد جاتا تھا،جہاں انہیں انہماک سے قرآنِ پاک پڑھتا دیکھتا، ان کی قرأت سُنتا۔ رفتہ رفتہ قرآنی آیات میری روح میرے دِل میں اُترتی چلی گئیں۔ بچپن، جوانی میں بھی مَیں نے کبھی قرانِ پاک کی قرأت نہیں چھوڑی۔ آج بھی ہمہ وقت قرآنی آیات دہراتا رہتا ہوں۔ یہ ڈرامہ ایسے ہی نہیں بن گیا میرے ذہن میں جو خیالات تھے،جس سوچ نے جگہ پائی تھی اسے مَیں نے بہت سوچ سمجھ کرکورے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس ڈرامے میں آپ کو جو کچھ نظر آتا ہے وہ درحقیقت میری اندر کی دُنیا ہے۔چوںکہ مجھےاس موضوع پر مکمل گرفت حاصل تھی تو آیات اور احادیث کے انتخاب کا کام مشکل نہیں لگا۔
انہوں نے تُرک صدر طیب اردوان کی اس ڈرامے میں تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر رجب طیّب اردوان برسرِ اقتدار نہ ہوتے، تو میرے خیال میں اس طرح کے ڈرامے کا نشر ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔ بلاشبہ انہوں نے ہمیں بہت سپورٹ کیا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اُمّتِ مسلمہ کو اس کے عظیم ماضی سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ کس طرح اُس دَور کے مسلمانوں نے مشکلات برداشت کیں،اسلام کا بول بالا کیا اورسخت جدوجہد کی بدولت انہیں کیسی عظمت حاصل ہوئی
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسوس اب بھی چہ مگوئیاں کی جاتی ہیں کہ صدر اردوان اکثر و بیشتر اس ڈرامہ سیریل کی تیاری، پروڈکشن وغیرہ میں دخل اندازی کرتے تھے اور اس میں تبدیلیاں، ترامیم بھی کرواتے تھے۔مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی ہمارے کام میں دخل اندازی کی نہ ہی کسی قسم کی تبدیلی کے لیے مجبور کیا، البتہ ہماری راہ میں حائل ہونےوالی تمام رکاوٹیں دُور کرنے کی کوشش میں ہمارابَھرپور ساتھ دیا۔
ڈرامہ نگار نے ڈرامے کے کرداروں کے بارے بھی بات کی بتایا کہ تمام اداکاروں نے اچھے کردار ادا کیے اورسب ہی نے اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کیا۔جیسے ارطغرل، حلیمہ، ابن العربی، سیلمان شاہ، حائمہ انا، سیلجان اوربامسی وغیرہ۔ اگر ان میں سے ایک کریکٹر کو شہرت ملتی اور باقیوں کو نہیں ملتی تو ناظرین بھی لگاتار دو دوگھنٹے اسکرین کے سامنے اپنی سانس روکےنہ بیٹھے رہتے۔ ویسے مَیں سمجھتا ہوں کہ اس ڈرامے کی کام یابی کی سب سے بڑی وجہ ارطغرل کی جانب سے اپنے ساتھیوں کو یک جہتی اور اتحاد کا درس دینا ہے۔
ہرفن کار نے اپنے کردار سے بھرپور انصاف کیا، جب کہ مجھے ذاتی طور پر ابن العربی کے کردار نے بہت متاثر کیا ۔ڈرامے کی دلکش موسیقی کے بارے سوال کے جواب میں مہمت نے بتایا کہ ہم نےچار پانچ موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، لیکن جس قسم کی موسیقی درکار تھی وہ نہیں ملی جب ڈرامہ سیریز اپنے آخری مرحلے میں پہنچی اور پیک اپ میں صرف تین چار ہفتے باقی رہ گئے، تو مجھے کسی نے معروف موسیقارآلپائے سے رابطے کا مشورہ دیا اور پھر واقعی آلپائے نے کمال کردیا۔ باقی تمام موسیقاروں سے ہٹ کر نئی طرز کی ایک ایسی موسیقی ترتیب دی کہ جس نے سب پر سحر طاری کردیا ۔افسوس کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔برین ہیمرج نے ان کی جان لےلی۔
میزبا ن نے سوال کیا کہ شوٹنگ کے دوران کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ؟ جس پر مصنف نے کہا کہ ان گنت مشکلات کا سامنا کیا۔کئی بار تو ایسا لگا کہ شاید ہم یہ ڈرامہ کبھی تیار ہی نہیں کرپائیں گے جیسے طوفانی بگولے سے خیموں کی بستی اکھڑ گئے خیمہ بستی میں آگ لگ جانے سےتمام کاسٹیومز جل گئے۔ اِسی طرح ’’قریلش عثمان‘‘ ڈرامہ سیریز کی شوٹنگ کے موقعےپر کورونا وائرس نے تباہی مچادی ہے۔اس کے باوجودہم اپنا کام کررہےہیں کہ اتنی مشکلات برداشت کرکے اب ان پر قابو پانے کا فن سیکھ چُکے ہیں۔
ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران کوئی دِل چسپ واقعہ پیش آیا؟ اس پر انہوں نے کہا جی بالکل، جب ہم ریہرسل کررہے تھے،تو فن کاروں کو تاریخی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں تاکہ وہ اُس دَور سے متعلق جان سکیں۔ ہم نے سب ادا کاروں کے لیے مشترکہ کیمپ میں رہنے کا انتظام کیا تھا،جہاں انہیں اُس دور کے مطابق کھانا پینا، چلنا پھرنا، اُٹھنا، بیٹھنا اور بولنا سکھایا جاتا تھا،تو اس دوران متعدّد بار کئی دِل چسپ واقعات پیش آئے۔
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ڈرامے کی ٹیم اور کاسٹ نے لگ بھگ پانچ سال کا عرصہ اکٹھے گزارا بلکہ ایک سال کی ٹریننگ کا دورانیہ بھی شامل کرلیا جائے تو یہ چھے سال بن جاتے ہیں۔ اس دوران ہم نے دن رات کام کیا اور ہم سب کی آپس میں بہت اچھی دوستی بھی ہوگئی،جو بعد ازاں صرف سیٹ تک محدود نہیں رہی اب تک قائم ہےانہوں نے بتایا کہ ۔اِسی دوران اللہ تعالی نے ہمیں بیٹے کی نعمت سےبھی نوازا۔تو سمجھیں، ہمارے بیٹے نےسلطنت عثمانیہ کے دَور کے سیٹ پر آنکھ کھولی-
مہمت بوزداع نے پاکستان سے اپنی محبت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں شاید ہی کوئی ترک ہو،جسے پاکستان سے محبّت نہ ہوبلکہ پاکستان ہمارے دلوں میں بساہواہے۔ پاکستانی بہت ملن سار، مہمان نواز، نیک دِل، مہذب اور محنتی لوگ ہیں۔ جس طرح ہم سب کے دل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، بالکل اِسی طرح پاکستاینوں کے دِل بھی ترکوں کے لیے دھڑکتے ہیں کہ یہ اخوّت اور بھائی چارے کا رشتہ ہے۔لبتہ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فنون لطیفہ کی جانب خاص توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ڈرامے کی مقبولیت کے حوالے سے مصنف اور ڈرامہ نگار کا کہنا تھا کہ الحمدللہ ڈرامے کو ترکی میں بھی خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے لیکن چوں کہ پاکستان کی آبادی ترکی سے کہیں زیادہ ہے تو آبادی کے تناسب کے اعتبار سے پاکستان میں ویورشپ خاصی بڑھ گئی۔ہاں البتہ یہ انداز نہیں تھا کہ پاکستان میں یہ ڈرامہ اس قدر مقبولیت حاصل کرے گا۔ یہ بات میرے لیے زیادہ حیران کُن ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستانی عوام روایتی ڈراموں سے ہٹ کر اس طرح کے تاریخی ڈرامے بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس ڈرامہ سے پہلے سلطنت ِعثمانیہ کے قیام سے متعلق کئی دستاویزی فلموںپر کام کرچُکا ہوں ۔ چھبیس سال کی عُمر میں مَیں نے اپنی فرم قائم کرلی تھی،جس میں تین سال تک مختلف موضوعات پر ڈاکیومنٹریز تیار کرتا رہا۔ جس کے بعد میں نے ایک فلم یونس ایمرے(Younas Emry) بنائی،البتہ جب مَیں نے یہ پراجیکٹ تیار کیا ،تو اُس وقت میری عُمر 29 برس تھی ۔
حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت موصول ہو چُکی ہے جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے ہم پاکستان آئیں گے پھروزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوگی اور وہاں کے مختلف مقامات بھی دیکھیں گے۔بہرکیف، اب وقت آگیا ہے کہ دونوں مُمالک مل جُل کر کام کریں اور کچھ مشترکہ شاہ کار بھی تخلیق کریں۔ جب کہ پاکستانی مداحوں کے لیے بس یہی کہوں گا۔ دل دل پاکستان، جان جان پاکستان، مَیں تم پر قربان پاکستان۔
ارطغرل کو دنیا بھر میں اتنی غیر معمولی کامیابی ملے گی یہ نہیں سوچا تھا انجن التان دوزیتان
ترک سیریز ارطغرل غازی کے بارے میں دلچسپ حقائق
پشاور زلمی سے متعلق ٹویٹ پر حلیمہ سلطان پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ
پشاورزلمی کے شائقین کوجلد خوشخبری سناوں گی ، حلیمہ سلطان کی ٹویٹ
-

شان شاہد کی بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض سے خصوصی درخواست
پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اداکار شان شاہد نے چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین سے بحریہ ٹاؤن کے جانوروں کو آزاد کرنے کی درخواست کی ہے-
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں شان شاہد نے بحریہ ٹاؤن کے چڑیا گھر کے جانوروں کی کچھ تصاویر شیئر کیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چڑیا گھر کے جانور قید اور گرمی کی وجہ سے اداس اور خستہ حال میں ہیں-
ٹوئٹر پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے شان شاہد نے ملک ریاض حسین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میری بحریہ ٹاؤن کے چئیر مین ملک ریاض سے خصوصی درخواست ہے کہ آپ اپنے تمام بحریہ ٹاؤن کے چڑیا گھروں کو بند کردیں کیونکہ وہاں جانوروں کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا جارہا ہے۔
special Request to #MalikRiaz owner Bahria town . Kindly close Down all your ZOOs as animals are being treated very badly. It is a humble request to either take notice or send them back to their natural habitat. As kindness towards animals is a part of our faith as well. #Bkind pic.twitter.com/y45HkEeWlB
— Shaan Shahid (@mshaanshahid) July 5, 2020
شان شاہد نے لکھا کہ میری آپ سے ایک عاجزانہ گزارش ہے ایک عاجزانہ گزارش ہے کہ یا تو نوٹس لیں یا انہیں اپنے قدرتی مسکن پر واپس بھیجیں۔ چونکہ جانوروں کے ساتھ احسان کرنا بھی ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے-علاوہ ازیں شان شاہدنے اپنے ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے صارفین سے گذارش کی لکھا کہ آپ سب میرے اس ٹوئٹ کو زیادہ سے زیادہ ری ٹوئٹ کریں تاکہ اُن حکام اعلی تک ہماری یہ درخواست پہنچ سکے جو ان جانوروں کو قید سے آزاد کروائیں گے۔
شان شاہد کے ٹوئٹ پر ٹوئٹر صارفین نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے شان شاہد کی حمایت کی-
واضح رہے کہ ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن کے چڑیا گھروں میں نایاب قسم کے جانور موجود ہیں جنہیں لوگ دیکھنے بحریہ ٹاؤن کا رُخ کرتے ہیں-
-

فلم محمد دی میسج آف گاڈ پر پابندی کا مطالبہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
حضرت موسی ، حضرت عیسی اور حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگیوں پر فلمیں بنائی گئیں جس پر مسلمانوں نے کافی احتجاج کیا اور آوازیں بلند کی ان پر پابندی کا مطالبہ کیا اس کے باوجود کے یہ سلسلہ روکا جاتا اسلام دشمنوں خاتم المرسلین ،امام الانبیاء اور اللہ تعالی کے آخری رسول نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ پر فلم بنا ڈالی جیسے ہی یہ فلم کی ریلیز کی تاریخ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاہنے والوں امت مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے احتجاجاً اس جارحانہ حرکت اور ناپاک ارادوں کو ملیا میٹ کرنے کے لئے اس ناپاک فلم کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا اور پاکستان میں ٹویٹر پر بائیکاٹ مووی آف پرافٹ کے نام سے ٹاپ ترینڈ بن گیا-
باغی ٹی وی : ایران کے فلم ڈائریکٹر ماجد مجیدی نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ پر ایک فلم محمد دی میسج آف گاڈ 2015 میں بنائی تھی جس میں۔ایران کے مشہور آرٹسٹوں نے حصہ لیا تھا اور اس کی ترتیب اور تیاری کا کام ایران کے مشہور شہر کنبھ اور بعض مناظر ساوتھ افریقہ میں فلمائے گئے ہیں اس فلم کی موسیقی کی دھن ہندوستان کے مشہور موسیقار اے آر رحمن نے دی ہے مزید اس کو ڈبنگ کر کے اب یہ فلم 21جولائی 2020 کو ہندوستان میں ریلیز کرنے کی تیاری ہے
اطلاعات کے مطابق اس فلم کی تشہیر مڈ ڈے اخبار نے کی تھی اس کی خبر پاتے ہی رضا اکیڈمی نے فوری طور پر 21 جولائی 2020 کو ریلیز ہونے والی۔فلم کے خلاف احتجاج کیا اور اس اکیڈمی کے چئیرمین قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے علماء اکرام کی میٹنگ بلوائی۔اور کہا کہ آئے دن اس طرح کے لوگ ناموس رسالت پر حملہ۔آور ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں۔توہین آمیز بیانات دیتے ہیں جس سے مسلمانوں کو۔شدید تکلیف ہوتی ہے انہوں نے کہا ہم اپنی جان قربان کر دیں گے مگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے-
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد سعید نوری نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہند سینسر بورڈ آف انڈیا فوری طور ہر اس فلم۔پر پابندی عائد کرے ورنہ مسلمان سڑکوں پر سرپا احتجاج بنیں گے اور ساتھ ہی انہوں نے حکومت ہند اور وزیر داخلہ سے اس فلم پر فوری پابندی عائد کرنے اور اے آر رحمن پر توہین رسالت پر مدد کرنے کے سلسلے میں مقدمہ۔درج کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں کوئی اس قسم کے جرم کا ارتکاب کوئی ہندوستانی نہ کر سکے اور اس فلم پر پوری دنیا میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا-

رضا اکیڈمی نے اپنے ٹویٹر ہینڈلر سے ٹویٹ کیا کہ رضا اکیڈمی کا مطالبہ ہے کہ فلیم محمد رسول خدا کی اساس پر اسلام کی تقسیم کو روکیں-
https://twitter.com/razaacademyho/status/1279819389248794624?s=20
اس خبر کے بعد سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بائیکاٹ مووی آف پرافٹ تب ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور امت مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اسلام دشمنوں کی اس جارحانہ حرکت پر احتجاج کیا اور اس کو بین کرنےکا مطالبہ کیا-We oppose this movie it should be ban #BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/rxae07uoCX
— Saif🔥 (@Saif7219) July 6, 2020
سیف نامی صارف نے لکھا کہ ہم اس فلم کی مخالفت کرتے ہیں اس پر پابندی لگانی چاہئے-If you want to know about the life of the beloved Prophet, then read the Qur'an
and indeed you (o muhammad) are of a great moral character
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ#BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/HMf9AZhXVD— Sameer Shaikh (@beingsameer3421) July 6, 2020
اگر آپ پیارے نبی کی حیات مبارکہ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو قرآن پڑھیں اور واقعی آپ (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ایک عظیم اخلاقی کردار کے مالک ہیں-i highly condemn the making and broadcasting of any such malicious act that is hurting Muslims. This is not acceptable by any cost or any mean. #BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/5xPe3jiXX2
— Nothing but a human (@vixen_in_vegas1) July 6, 2020
ایک صارف نے لکھا کہ میں اس طرح کے بدنما فعل کو بنانے اور نشر کرنے کی شدید مذمت کرتی ہوں جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہو۔ یہ کسی بھی قیمت یا کسی بھی وسیلہ سے قابل قبول نہیں ہے۔
https://twitter.com/P_A_a_R_i/status/1280018458793607168?s=20
ایک صارف نے لکھا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مجید ماجدی فلم مشکل میں آیا ہے۔ جب لوگوں کو 2015 میں پہلی بار فلم کے بارے میں علم تھا تو انہوں نے اس کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔O Allah please destroy these bastards who trying to defame(nauzbillah) our beloved Prophet (S). #BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/8nYoLj7x84
— Mubeen Fatima Tarar (@ChanDa_FatiMaa) July 6, 2020
مبین فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ اے اللہ براہ کرم ان کمینوں کو ختم کردیں جو ہمارے پیارے نبی (ص) کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔Movie Must Banned
#BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/XQaIc0VYfo— Mansoor Ul Haq (@Mansoor2736) July 6, 2020
منصور الحق نامی صارف نے لکھا کہ فلم پر پابندی لگانی چاہیئے-There is no reality in movies. It's just a business.#BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/nW7D90eqxR
— Tra12 (@76Crylov) July 6, 2020
زاہد خان نامی صارف نے کہا کہ فلموں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ صرف ایک کاروبار ہے۔
https://twitter.com/EmaanF22/status/1280012392299204609?s=20
ایمان نامی صارف نے کہا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم اسلام میں 1.8 بلین مسلمانوں کے دل میں مقیم ہیں۔مسلم دنیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی توہین برداشت نہیں کرے گی-
https://twitter.com/Shaheen_IQBALka/status/1279993200242032641?s=20
رانا کامران نامی صارف نے لکھا کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی بھی قسم کی غلطی برداشت نہیں کرتے ہیں۔ ہم ان کے لئے اپنی زندگی کے آخری قطرہ تک قربانی دیں گے-#BoycottMovieOfProphet
My Eman Prophet
My beloved prophet
Prophet's Prophet
Sahaba's life prophet
For whom this work was made.
Whom Allah has called in Meraj
That prophet 4#BoycottMovieOfProphet pic.twitter.com/1PuTe9sTEL— ᴰⁱᵒⁿʸˢᵘˢ (@ExMemerr) July 6, 2020
https://twitter.com/F_J_ISP/status/1279990676491571205?s=20
ایک صارف ے لکھا کہ ہمیں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھنے کے لئے فلم کی ضرورت نہیں ہے جو کچھ قرآن مجید میں لکھا گیا ہے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔
https://twitter.com/MashoomIK/status/1279988486980894720?s=20
ایک صارف نے لکھا کہ ہمیں کسی بھی قسم کی ضرورت نہیں ہےفلم کو سمجھنے کے لئے ہمارے پیارے کی شخصیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی اس فلم کا بائیکاٹ کریں-
https://twitter.com/Aimamalik786/status/1279987234654093313?s=20واضح رہے کہ ماجد مجید نے 2015میں اس طرح کی غلیظ حرکت کی تھی اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی تھی مزید اب 21 جولائی 2020 کو پریمیر شو کے ذریعے اس فلم کو ریلیز کرنے کی تیاری ہے-اس فلم میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساتھ حصرت آمنہ آپ کے والد گرامی آپ کے دادا جان کی بھی شبہیہ پیش کی گئی ہے جو شریعت اسلامیہ میں ناجائز و حرام ہے اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر بنانا مسلمانوں کے جذبات ایمانی سے کھیلنا ہے-
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے رٹ پیٹیشن نمبر 23306/12 کے تحت انبیا علیہم السلام کی زندگی پر مبنی فلموں ڈراموں کو گستاخانہ اور توہین رسالت قرار دے کر انہیں کیبل پر نشر کرنے اور ان کی سی ڈیز فروخت کرنے پر سضخت پابندی عائد کر رکھی ہے اور توہین رسالت قانون 295C ت پ کے تحت اس سنگین جُرم کو قابل سزا قرار دیا-
دوسری جانب تمام مکاتب فکر نے متفقہ فتوی جاری کیا تھا کہ انبیاء علیہم السلام پر فلمیں توہین رسالت کے مترادف ہیں انہیں خریدنا بیچنا چلانا دیکھنا یا ان کی تشہیر میں کسی قسم کا تعاون گناہ کبیرہ حرام اور اندیشہ کفر ہے-
-

پشاور زلمی سے متعلق ٹویٹ پر حلیمہ سلطان پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ
حلیم سلطان کا اپنی ٹویٹ میں کہنا ہے کہ پشاورزلمی کے شائقین کوجلد خوشخبری سناوں گی -اطلاعات کےمطابق مقبول ترین تُرکش سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں ’حلیمہ سلطان‘ کا مرکزی کردار ادا کرنے والی اسراء بلجیک نے پاکستان آنے کا اعلان کرکے پاکستانیوں کو خوش کردیا ہے
باغی ٹی وی : چند روز قبل پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفریدی نے ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں مداھوں سے سوال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز ارطغرل غازی کے مرکزی کردار ارطغرل کو پشاور زلمی کا برانڈ ایمبیسڈر بنا لیا جائے تو کیسا رہے گا- جاوید آفریدی کی اس ٹویٹ پر پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور بعض نے کہا کہ حلیمہ کو آپ بھول گئے اور حلیمہ کو بھی پشاور ٹیم کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا-
مداحوں کے اس مطالبے کی بعد جاوید آفریدی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں حلیمہ سلطان کو پشاور ٹیم کا حصہ بنانے کا عندیہ دیا-
جاوید آفریدی کی اس ٹویٹ پر رد عمل دیتے ہوئے اسرا بلجیک یعنی حلیمہ سلطان نے بھی اپنے ٹویٹ میں کہا کہ وہ پشاور زلمی کے مداحوں کو جلد ہی خوشخبری سنائیں گی- اسرا بلجیک کی اس ٹویٹ سے پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پشاور زلمی کے مداحوں نے اس پر بھر پور خوشی کا اظہار کیا یہاں تک کہ پشاور زلمی سے متعلق ٹویٹ کرنے پر حلیمہ سلطان پاکستان ٹویٹر پینل پر ٹرینڈ بن گیا ہے-
Thank you #HalimeSultan https://t.co/nLCWRDsBFD
— Javed Afridi (@JAfridi10) July 5, 2020
پشاور زلمی کے چئیرمین جاوید آفریدی نے حلیمہ سلطان کے اس ٹویٹ پر ان کا شکریہ ادا کیا-
https://twitter.com/MohsinM00151730/status/1280010087302561792?s=20
محسن نامی منظور صارف نے لکھا کہ ہمارے ساتھ شامل ہونے کا شکریہ-Thank you #HalimeSultan https://t.co/Fvp2K4nq0a
— kamii (@KamalHu10708332) July 6, 2020
کمال خان نامی صارف نے بھی حلیمہ سلطان کا شکریہ ادا کیا-
https://twitter.com/ahmad_niaxi/status/1280007460623978496?s=20
احمد خان نامی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ حلیمہ پشاور کی برانڈ ایمبیسیڈر بننے والی ہیں-Esra Bilgic @esbilgicreal
Strengthening Pak-Turk Friendship 🇹🇷💕🇵🇰#HalimeSultan https://t.co/tpDXD3ZkfE#HalimeSultan— Muhammad Waqas (@waqas2917) July 6, 2020
محمد صارف نامی صارف نے لکھا کہ اسرا بلجک نے پاک ترک دوستی کو مضبوط بنایا ہے-
https://twitter.com/Pakturke/status/1279994719255363590?s=20
قاسم نامی صارف نے لکھا کہ شکریہ حلیمہ سلطان۔ آپ کی یہ محبت ناقابل فراموش ہوگی۔
https://twitter.com/NumanNumi1994/status/1279992992846065664?s=20
نعمان نومی نامی صارف نے لکھا کہ انشاء اللہ اللہ انھیں لمبی عمر عطا فرمائے ….اگر آپ پاکستان آئیں تو پاکستان میں ہر ایک ان کے آنے پر بہت پرجوش ….
https://twitter.com/All_en_One/status/1279989495820169216?s=20
عظیم خان نامی صارف نے لکھا کہ ارطغرل کی پوری ٹیم میں آنی چاہئے-We wanna see her in #HalimeSultan get up not in any western dress
— Iraj Fatima Mughal (@Iraj_Mughal_) July 6, 2020
ایرج فاطمہ نامی صارف نے لکھا کہ ہم اسرا بلجیک کو حلیمہ سلطان کے حلیے میں دیکھنا چاہتے ہیں کسی مغربی لباس میں نہیں دیکھنا چاہتے ہیں-In sha ALLAH soon will be here in Pakistan.@PeshawarZalmi #HalimeSultan
— Esra Belgic (@belgic_esra) July 6, 2020
اسرا بلجیک نام سے بنے ایک اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا گیا کہ ان شاء اللہ جلد ہی پاکستان میں یہاں موجود ہوں گے۔
https://twitter.com/AitzazAli11/status/1280004467165929472?s=20
اعتزاز علی نامی صارف نے لکھا کہ ہم سب آپ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں آپ کے لئے ساری محبت اور دعائیں یہ پاک-ترک دوستی مماثل ہے-ٹرینڈ میں جہاں پشاعر زلمی کے مداحوں نے حلیمہ کے آنے پر خوشی کا اظہار کیا وہیں دوسری لیگز کوئٹہ اور لاہور قلندر کے مداحوں نے ارطغرل میں اپنے پسندیدہ کرداروں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا-
https://twitter.com/eagleA26239887/status/1280003177413312512?s=20
کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے سپورٹر نے ارطغرل کو کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں شامل ہونے کی درخواست کی-
https://twitter.com/hunain__raza/status/1280008437628309505?s=20
اور لاہور قلندر کے مداح نے کہا کہ لاہور قلند کے مداح بھی ابن العربی کی طرف سے جواب کے منتظر ہیں کہ وہ لاہور قلندر میں شامل ہوں-Now every one will be supporting Peshawar Zalmi as their favourite Franchise of #PSL #HalimeSultan pic.twitter.com/HT0GWcojWW
— Unarmed (@Soldier_Unarmed) July 6, 2020
اسامہ حسن نامی صارف نے لکھا کہ اب ہر ایک پشاور زلمی کو ان کے پسندیدہ فرنچائز کے طور پر سپورٹ کرے گا-
https://twitter.com/Mushtaqjani155/status/1280000839235579906?s=20
مشتاق نامی صارف نے بھی حلیمہ سلطان کو خوش آمدید کہا-
https://twitter.com/Misbah533/status/1279995635740049409?s=20
کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے مداح نے کہا کہ کوئٹہ کو سلطان علاؤالدین اور سلیمان شاہ کو سائن اپ کرنا چاہئےواضح رہے کہ اس سے قبل ڈرامے کی مرکزی اداکارہ حلیمہ سطان جن کا اصل نام اسراء بلجیک نے کہا کہ وہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں آئیں گی۔
اداکارہ کا مزید کہناتھا کہ پاکستان میں ‘ارطغرل غازی‘ کی کامیابی کی اہم وجہ ہمارے سب کے جذبات اور احساسات ایک جیسے ہیں، ہم اسلامی تاریخ جاننا چاہتے ہیں۔‘اپنے کردار ’حلیمہ سلطان‘ کے بارے بات کرتے کہا کہ ’جب مجھے حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے کی پیشکش ہوئی تو میں اس کشمکش میں مبتلا ہوگئی کہ کیا میں تاریخ کے اس کردار کے ساتھ انصاف کرپاؤں گی؟
اکستان آنے کی متعدد بار خواہش کا اظہار کرنے والی اسراء نے ایک بار پھر ناصرف اسی خواہش کا اظہار کیا بلکہ یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ جلد اپنے کیمرے کے ساتھ پاکستان کے پہاڑی علاقوں جیسے بابو سر ٹاپ، آزاد کشمیر اور دیوسائی میں تصویر کشی کرنے اور اپنی ڈاکیومینٹری کے لیے یہاں آئیں گی۔ پاکستانی مداحوں کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ انہیں جلد جھیل سیف الملوک اور وادی ہنزہ میں گھومتے پھرتے دیکھیں گے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد ’ارطغرل‘ کی اسلامی فتوحات پر مبنی سیریز ’ارطغرل غازی‘ سرکاری چینل پر یکم رمضان سے نشر کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہرہ آفاق ترکش سیریز ’ارطغرل غازی‘کو پاکستان میں وہ مقبولیت حاصل ہوئی جو ترکی میں نہ ہوسکی، پاکستان ٹیلی ویژن پر ڈرامہ سیریل ارطغرل غاز ی نے ریکارڈز قائم کردئیے ہیں، پی ٹی وی کے ذریعے دنیا میں سب سے زیادہ دیکھا جانیوالا ڈرامہ بن چکا ہے، ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘میں حلیمہ سلطان کا مرکزی کردار ادا کرنے والی ترک اداکارہ اسراء بلجیک کا اپنے ایک بیان میں کہناتھا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے پاکستان میں ’ارطغرل غازی‘ نشر کرنے کے اعلان پر میری حیرت اور فخر کی ملی جلی کیفیات تھیں۔
اداکارہ نے وزیراعظم عمران خان کے اعلان کو یادگار اعلان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب یہ اعلان سامنے آیا کہ ’دیرلیش ارطغرل‘ کو اُردو زبان میں ڈب کرکے پاکستان میں نشر کیا جائے گا تو اُس وقت مجھے بہت حیرت بھی ہوئی تھی اور فخر بھی محسوس ہوا تھا۔انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ وہ پاکستان کے تین مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرنے والی ہیں اور وہ اس بات کا باقاعدہ اعلان کچھ دن میں ایک پریس ریلیز کے ذریعے کریں گی۔
پشاورزلمی کے شائقین کوجلد خوشخبری سناوں گی ، حلیمہ سلطان کی ٹویٹ
-

مولانا صاحب کا خطبہ سن کر عبارت فصاحت کی شان معلوم ہوئی اور تبلیغ کے صحیح معنی کا احساس ہوا فرحان سعید کا مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین
پاکستان شوبز انڈسٹری کے اداکار اور گلوکار فرحان سعید نے پاکستان کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں پہلی انہوں نے شوبزاور کھیل کی شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا تاہم اب انہوں نے معروف مذہبی سکالر اور عالم دین مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فرحان سعید نے لکھا کہ یونیورسٹی کے دنوں میں ، میں اکثر اپنے دوستوں سے مولانا طارق جمیل کی شان و شوکت کے بارے میں سنتا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے بیانات بہت طاقت ور ہیں ۔ لیکن جب میں نے ذاتی طور پر ان کا خطبہ سنا تو مجھے مولانا صاحب کے عبارت فصاحت کی شان معلوم ہوئی ، اور تبلیغ کے صحیح معنی کا احساس ہوا۔
https://www.instagram.com/p/CCOWHWylGDB/
فرحن سعید نے لکھا کہ مولانا صاحب کے ساتھ ذاتی بات چیت نے مجھے یہ احساس دلادیا ہے کہ اسلام کا جوہر سادگی سے جڑا ہوا ہے۔ تبلیغ کا ان کا مشغول اور تعامل کرنے کا طریقہ ہم سب کے لئے ایک تحفہ ہے۔گلوکار نے کہا مولانا طارق جمیل کو خراج تحسین پیش کرنے اور لِیونگ لیجنڈز کی فہرست میں شامل کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں-
انہوں نے وہ وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ مولانا صاحب کبھی براہ راست ٹیلیوژن پر ظاہر نہیں ہوئے اور اُنہوں نے ہمیشہ سب کا احترام کیا اور اپنے نیک اخلاق سے لوگوں کے دل جیتے اور پھر اپنے پیروکاروں کے کہنے پر اُنہوں نے ٹی وی پر اپنے بیانات دینا شروع کئے جو اس حقیقت کی گواہی ہے کہ ہمارے دین اور دنیا میں ہم آہنگی ہے۔
فرحان سعید نے لکھا کہ مولانا طارق جمیل کی ملک میں جاری خدمات پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے لئے بس ہمارے الفاظ ہی کافی نہیں ہیں ہے-انہوں نے دعائیہ کلمات لکھتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی انہیں ہمیشہ اپنے تمام فضل و کرم سے نوازے۔ آمین-
نہوں نے ہیش ٹیگ LivingLegends #PakistaniHeroes# بھی استعمال کئے-
واضح رہے کہ اس سے قبل فرحان سعید نے ملک کے لیے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دینے والی عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا تھا جن میں اداکار قوی خان، صوفی گلوکارہ عابدہ پروین اور معروف کامیڈین عمر شریف ،سکواش پلئیر جہانگیر خان اور قومی کرکٹر جاوید میاںداد شامل تھے۔
فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین
فرحان سعید کا کھیل کی دنیا کے لیجنڈز کو خراج تحسین
-

صدف کنول کا شادی کے بعد آئٹم نمبر نہ کرنے کا اعلان
ماضی میں نبیل قریشی کی بلاک بسٹر فلم نامعلوم افراد 2 میں کیف و سرور گانے پر شاندار پرفارمنس دینے والی اداکارہ وماڈل صدف کنول کا کہنا ہے کہ اب وہ پہلے کی طرح غیر شادی شدہ نہیں کہ آئٹم گانوں پر پرفارمنس کریں۔
باغی ٹی وی : رواں سال مئی کے اختتام میں اداکارہ و ماڈل صدف کنول نے اداکار شہروز سبزواری کے ساتھ شادی کی تھی جس کے بعد لوگوں نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس طرح رد عمل دیا تھا جیسے کہ یہ شادی ان کا ذاتی مسئلہ نہ ہو بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہو-جس پر شہروز سبز واری نے انسٹا گرام پر اپنی ایک وضاحتی ویڈیو بھی شئیر کی تھی-
انڈیپینڈنٹ اردو کو دئیے گئے انٹرویو میں صدف کنول نے 2017 میں ریلیز ہونے والے اپنے مقبول آئٹم گانے ’کیف و سرور‘ پر بات کرنے سمیت شہروز سبزواری سے شادی پر تنقید کے معاملے پر بھی کھل کر بات کی۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی ’کیف و سرور‘ پر اپنی پرفارمنس کو بہترین پرفارمنس مانتی ہیں اور ان کے مطابق فلم کی کہانی اس موڑ پر آگئی تھی کہ گانا فلم میں لازم ہو گیا تھا اگر یہ گانا فلم میں شامل نہ کیا جاتا تو فلم کی کہانی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اس وجہ سے انہوں نے اس میں کام کیا۔
ایک سوال کے جواب میں صدف کنول نے کہا کہ شہروز سبزواری کو ان کی ’کیف و سرور‘ کی پرفارمنس پر کوئی مسئلہ نہیں ہے اور آج تک انہوں نے اس گانے پر کوئی بات نہیں کی۔
شہروز سبزواری نے بھی صدف کنول کے ’کیف و سرور‘ کو اپنا پسندیدہ گانا بھی قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو لازمی آئٹم نمبرز ہوں اس پر پرفارمنس کی جانی چاہیے۔
شہروز سبز واری نے صدف کنول کو مضبوط دماغ، اعصاب والی لڑکی قرار دیتے ہوئے انہیں بہترین اداکارہ بھی قرار دیا اور کہا کہ وہ ہر لباس اور ادا میں رنگ جاتی ہیں ان کے خاندان میں فن اور فنکار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور صدف کنول کو بھی بطور فنکار ہی دیکھا جاتا ہے۔
صدف کنول نے انٹر ویو کے دوران واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اب آئٹم نمبر کبھی نہیں کریں گے کیونکہ اب ان کی شادی ہوگئی ہے۔
دونوں نے اپنی آنے والی ٹیلی فلم ’گھر کے نہ گھاٹ کے‘ پر بھی بات کی اور کہا کہ مذکورہ فلم میں بھی انہوں نے میاں بیوی کا کردار ادا کیا ہے اور فلم کو عید الاضحی پر نجی ٹی وی چینل اے آر وائے پر ریلیز کیا جائے گا۔
انہوں اپنی شادی پر ہونے والی تنقید پر بھی کھل کر بات کی کہا کہ انہوں نے کہا انہیں اپنی شادی پر ہونے والی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑا جب کہ صدف کنول نے کہا کہ ہم تو سب کی نفرت دیکھ کر ہنستے رہے انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان پر مزید تنقید کی جائے تا کہ ان کے گناہ دھل جائیں۔
صدف کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس ان کے شوہر ہیں اتنا اچھا خاندان ہے اس لیے ان چیزوں سے انہیں فرق بالکل نہیں پڑتا۔
واضح رہے کہ خیال رہے کہ صدف کنول اور شہروز سبزواری نے رواں برس 31 مئی کو سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے اپنی شادی کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں شہروز اور سائرہ کی طلاق کی خبریں سامنے آ نے کے بعد بہروز سبز واری نے ان خبروں کی تردید کرتے یوئے کہا تھا کہ سائرہ ویسے ہی اپنے والد کے گھر رہنے گئیں ہیں ان کے والد کی طبعیت ٹھیک نہیں جبکہ شہروز اور صدف کنول نے بھی اپنے افئیرز کے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم صرف دوست ہیں اور کوئی رشتہ نہیں ہمارے درمیان –
بعد ازاں مارچ 2020 میں سائرہ یوسف اور شہروز سبزواری نے ایک ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی طلاق کی تصدیق کی تھی انسٹا گرام پر دونوں نے ایک جیسے ہی پیغام میں مداحوں کو بتایا تھا کہ اب وہ میاں اور بیوی نہیں رہے اور ان کے درمیان باقاعدہ طور پر طلاق ہوگئی۔
دونوں نے اپنی شادی ختم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا اور مداحوں سے گزارش کی تھی کہ ان کی ذاتی زندگی کا خیال رکھا جائے اور ان کی طلاق پر افواہیں یا غلط معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔دونوں نے کہا تھا کہ شادی کو ختم کرنا دونوں کے لیے مشکل فیصلہ اور مرحلہ تھا تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات ان کی اکلوتی بیٹی پر نہیں پڑیں گے۔
سوشل میڈیا پر افوہیں گردش میں تھیں کہ شہروز سبزواری اور ماڈل صدف کنول کے درمیان تعلقات کی وجہ سے اداکار سے سائرہ یوسف نے علیحدگی اختیار کی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان اختلاف مزید شدید ہوئے تو دونوں میں طلاق ہوگئی۔
خیال رہے کہ سائرہ اور شہزور نے 2012 میں شادی کی تھی اور دونوں کو 6 سالہ بیٹی نورے بھی ہے-
سائرہ یوسف کو طلاق، صدف کنول سے نکاح کرنے پر شہروز سبزواری دونوں پر تنقید جاری
صدف کنول سے صدف سبزواری تک کا سفر
شہروز سبزواری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں صدف کنول نے افواہوں کی تردید کر دی
شہروز ، سائرہ اور صدف کے بیچ اصل کہانی کیا ہے، پڑھیے اس خبر میں
بہروز سبزواری نے سائرہ اور شہروز کی طلاق کی تردید کر دی
سائرہ اور شہروز سبزواری نے سوشل میڈیا پراپنی طلاق کی تصدیق کر دی
میری اور سائرہ کی طلاق کی وجہ صدف کنول نہیں شہروز سبز واری
-

اسلام آباد میں مندر کا کام روکنے پر اُشنا شاہ نے قائد اعظم کا قول شئیر کر دیا
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اُشنا شاہ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی جانب سے اسلام آباد میں مندر کی تعمر کا کام روکنے پر سوشل میڈیا پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا مشہور قول شیئر کر دیاہے۔
باغی ٹی ی : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سی ڈی اے کی جانب سے مندر کی تعمیر کا کام روک دیا گیا ہے اور اس حوالے سے جہاں سوشل میڈیا صارفین اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں وہیں معروف اداکارہ اُشنا شاہ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنا ایک پیغام جاری کیا ہے۔
https://twitter.com/ushnashah/status/1279306021874384896?s=20
اُشنا شاہ نے اپنی ٹویٹ میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی الفاظ پر مبنی وہ مشہور قول لکھا جس میں انہوں نے یکسانیت کا درس دیتے ہوئے اقلیتوں کے بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی آزادی کی بات کی تھی۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ اس ریاست پاکستان میں اپنی مساجد یا کسی اور عبادت گاہوں پر جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ، ذات یا مسلک سے ہوسکتا ہے ، اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محمد علی جناح
اُشنا شاہ سے قبل حمزہ علی عباسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اسلام آباد میں مندر بنائے جانے کے تنازع کےحوالے سے ایک پیغام شیئر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ پاکستان کوئی سلطنت / بادشاہت نہیں ہے۔
انہوں نے لکھا تھا کہ ہم مسلمانوں نے پاکستان کو نہیں مانا ہم ایک مسلم اکثریتی اسٹیٹ ہیں 14 اگست 1947 کو جو مسلم اکثریت والے علاقوں میں مقیم تھا خود بخود پاکستان کا شہری بن گیا مزید منافقت سے پرہیز کریں-
حمزہ علی عباسی نے لکھا تھا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی امتیاز موجود ہے۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مذہبی امتیاز موجود ہے حمزہ علی عباسی
-

بہاولپور کے علاقے روھی میں ہرن کا بچہ روز چرواہے کے آنے کا انتظار کرتا ہے اور بکری کا دودھ اپنی ماں سمجھ کر پیتا ہے
اللہ تعالی نے کائنات میں تمام جانداروں کو ہر حال میں رزق دینے کا وعدہ کر رکھا ہے اللہ تعالی پتھر میں بھی کیڑے کو رزق دیتا ہے اس کا وہ رزق کسی نہ کسی ذریعے سے اُس جاندار تک پہنچا دیتا ہے- ایسے ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں بکری ہرن کے بچے کو دودھ پلا رہی ہے اور اس ویڈیو میں بکری کا ہرن کے بچے کے لئے احساس دیکھ کر ہر کوئی خدا کی اس قدرت پر حیرت کا اظہار کر رہا ہے-
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ملک عون نامی صارف نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہرن کا بچہ بکریوں کا ریوڑ دیکھ کر بھاگ کر آتا ہے اور بکری کو اپنی ماں سمجھ کر دودھ پینا شروع کر دیتا ہے جبکہ دوسری جانب بکری بھی اسے دودھ پلارہی ہے اور مامتا کا لمس دیتی ہے یہ خدا کی قدرت ہی ہے جس نے بکری کے دل میں ماں جیسا جذبہ پیدا کر کے ہرن کے بچے کے رزق کا انتظام کر دیا ہے-
بہاولپور کے علاقے روھی میں یہ ہرن کا بچہ روز چرواہے کے آنے کا انتظار کرتا ہے اور بکری کا دودھ اپنی ماں سمجھ کر پیتا ہے شائد کے اسکی ماں زندہ نہیں ہے دوسری نسل کے بچے کو بکری دودھ پلا رھی ھے اور مامتا کا لمس بھی دے رھی ھے.
اسی چیز کا نام احساس اور انسانیت ہے جو انسان میں نہیں ہے. pic.twitter.com/syzPOaJChP— Malik Aoun Awan (@MalikAounAwan2) July 4, 2020
ویڈیو شئیر کرتے ہوئے ملک عون نامی صارف نے لکھا کہ بہاولپور کے علاقے روھی میں یہ ہرن کا بچہ روز چرواہے کے آنے کا انتظار کرتا ہے اور بکری کا دودھ اپنی ماں سمجھ کر پیتا ہے شائد کے اسکی ماں زندہ نہیں ہے دوسری نسل کے بچے کو بکری دودھ پلا رھی ھے اور مامتا کا لمس بھی دے رھی ھےاسی چیز کا نام احساس اور انسانیت ہے جو انسان میں نہیں ہے.ملک عون نامی صارف کی اس ٹویٹ پر لوگوں نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے تبصرے کئے-
یہ تو چرواہے میں بھی انسانیت ہے کہ اس ہرن کے بچے کو بکری کا دودھ پینے دے رہا ہے۔ اگر اسکی جگہ کوئی وڈیرہ یا جاگیردار یا کوئی اور ہوتا تو اب تک اس ہرن کے بچے کو بھون کے کھا چکا ہوتا۔
— Maqsood Ilahi (@millahi007) July 4, 2020
مقصود الہی نامی صارف نے لکھا کہ یہ تو چرواہے میں بھی انسانیت ہے کہ اس ہرن کے بچے کو بکری کا دودھ پینے دے رہا ہے۔ اگر اسکی جگہ کوئی وڈیرہ یا جاگیردار یا کوئی اور ہوتا تو اب تک اس ہرن کے بچے کو بھون کے کھا چکا ہوتا۔اللہ پاک کی قدرت اس نے بچے کے رزق کا انتظام کر دیا اور بکری کے دل میں ماں جیسا جزبہ پیدا کر دیا
— راحیل صدیقی (@raheelsaddiqui) July 4, 2020
راحیل نامی صارف نے لکھا کہ اللہ پاک کی قدرت اس نے بچے کے رزق کا انتظام کر دیا اور بکری کے دل میں ماں جیسا جزبہ پیدا کر دیااللہ ہر ایک کے رزق کا انتظام کرکے پھر ہی اسے اس دنیا میں بھیجتا ہے۔۔بیشک وہ وہی کارساز ہے
— Iqra Mushtaq🇵🇰 (@iqramushtaaq) July 4, 2020
اقرا نامی صارف نے لکھا کہ اللہ ہر ایک کے رزق کا انتظام کرکے پھر ہی اسے اس دنیا میں بھیجتا ہے۔۔بیشک وہ وہی کارساز ہے -

کبھی بھی خواب دیکھنا بند نہ کریں کیونکہ یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے یمنی زیدی
پاکستان ڈرامہ انڈسٹریکی معروف اداکارہ یمنی زیدی نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے اداکارہ بننے کی خواہشمند تھیں متعدد بار آڈیشنز دیئے جن میں وہ ناکام ہوئیں پرکبھی ہمت نہیں ہاری۔
باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی بہترین اداکاری سے مداحوں کے دلوں میں جگہ کرنے والی اداکارہ یمنی زیدی کی جانب سے اپنے مداحوں کے لیے ایک خصوصی ویڈیو سامنے آئی ہے ویڈیو میں انہوں نے پلے کارڈز اُٹھا رکھے ہیں اور پلے کارڈ کے ذریعے انڈسٹری میں انٹری سے متعلق اپنے مداحوں کو بتایا ہے-
https://twitter.com/yumnazaidiactor/status/1279380733568724992?s=19
اداکارہ نے لکھا کہ وہ مداحوں کو کچھ بتانا چاہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ بچپن میں ایک ایسی بچی تھیں جس میں اعتماد کی کمی تھی لیکن میں خواب بھی دیکھا کرتی تھی۔اداکارہ نے پلے کارڈزکے ذریعے بتایا کہ میں ہمیشہ ٹی وی پراداکاری کرنے کی خواہشمند تھی جس کے لیے مختلف آڈیشنز دیئے جن میں مجھے ناکامی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری اورآج میں انڈسٹری میں اچھا کام کررہی ہوں۔
اداکارہ نے کہا کہ کبھی بھی خواب دیکھنا بند نہ کریں کیونکہ یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔